سعودی شہزادے کا 32 ارب ڈالر خیرات کرنے کا اعلان

سعودی شاہی خاندان کے ارب پتی شہزادے الولید بن طلال نے اپنی تمام 32 ارب ڈالر کی جائیداد خیراتی کاموں کے لیے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے۔
60 سالہ سعودی شہزادے کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔
پرنس طلال کے مطابق انھوں نے مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کے 1997 میں قائم ہونے والے فلاحی ادارے’ بل گیٹس فاؤنڈیشن‘ سے متاثر ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے۔
’رقم ثقافتی طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے کی سرگرمیوں کو بڑھانے، خواتین کو زیادہ بااختیار بنانے اور آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں میں استعمال کی جائے گی۔
خیال رہے کہ پانچ سال قبل ارب پتی کاروباری شخصیت وارن بیفٹ اور مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے فلاحی سرگرمیوں کے لیے اپنی دولت وقف کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا۔
 ارب ڈالر کی رقم شہزادے طلال کے پہلے سے قائم فلاحی ادارے’  یعنی الولید فلاح انسانیت کو جائے گی اور وہ اسے پہلے ہی ساڑھے تین ارب ڈالر کی امداد دے چکے ہیں۔
سعودی شہزادے کے پاس اس وقت کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ ہیں۔
اس کمپنی کے کئی ہوٹلوں سمیت، میڈیا، رئیل سٹیٹ، سٹی گروپ، ٹوئٹر اور اپیل جیسی نمایاں کمپنیوں میں حصہ داری ہے۔
سعودی شہزادے الولید بن طلال نے جائیدار خیرات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذاتی جائیداد خیرات کر رہے ہیں اور یہ رقم کنگڈم ہولڈنگ کمپنی سے الگ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’ فلاحی ادارہ ان کی ذاتی ذمہ داری ہے جو انھوں نے تین دہائیاں پہلے قائم کیا تھا اور یہ میرے اسلامی عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔‘
’امید کرتا ہوں کہ اس تحفے سے ثقافتی طور پر ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی، برادریوں کو ترقی دی جا سکے گی، خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے گا، نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اٰضافہ، آفات کے دوران اشد ضروری امداد فراہم کی جا سکے گی اور ایسی دنیا بنائی جا سکے گی جو پہلے سے زیادہ برداشت اور ایک دوسرے کو قبول کرے۔
انھوں نے کہا ہے کہ خیراتی رقم کئی برسوں کے دوران منتقل کی جائے گی اور اپنی سربراہی میں قائم بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذریعے اس کی نگرانی کی جائے گی۔

An anti-austerity rally in front of the parliament building in Athens, Greece

Protesters attend an anti-austerity rally in front of the parliament building in Athens, Greece.

U.S. soldiers attend to a wounded soldier in Kabul

U.S. soldiers attend to a wounded soldier at the site of a blast in Kabul, Afghanistan. At least 17 people were wounded in a suicide bomb attack on NATO troops as their truck convoy passed down the main road running between Kabul’s airport and the U.S. embassy, police and health ministry officials said. 

قائم علی شاہ کی یاد میں

گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا بیان پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کو ریفریجریٹر میں رکھ دیا جائے‘‘۔ لیکن مجھے ذاتی طور پر اُن کے بیان سے اختلاف ہے کیونکہ سراج الحق صاحب شاید بھول گئے کہ ریفریجریٹر میں وہ چیز رکھی جاتی ہے جس کو دوبارہ استعمال کرنا ہو جبکہ قائم علی شاہ تو ’مکمل طور پر استعمال ہوچکے ہیں‘۔ سندھ کی عوام کے لیے جناب وزیراعلی کی بے تحاشہ خدمات نے آج مجھے مجبور کیا کہ اپنے قارئین کے ساتھ اِس عظیم چٹان شخصیت کے حالات زندگی شئیر کروں۔
تعارف 
قائم علی شاہ رمضان علی شاہ گیلانی کے گھر پیدا ہوئے۔ 1967 میں انھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اب تیسری بار سندھ کے وزیراعلی کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور خدمت خلق میں مصروف ہیں ۔
کچی شراب اور قائم علی شاہ
محترم قائم علی شاہ نے ایک بار کچی شراب پی کر مرنے والوں کی یاد میں فتوی دیا تھا کہ وہ سب شہید ہیں۔ حضرت کا فرمانا تھا کہ وہ سب معصوم لوگ تھے تھوڑا شوق پورا کرنے کے لیے پی کر مرگئے تو وہ بھی شہید کہلائے جا سکتے ہیں۔ حضرت قائم علی شاہ کی دوراندیشی ملاحظہ کیجئے کہ اُنہوں نے اپنے اس ننھے سے فتوی کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے شرابیوں کا پورا مقام وضع کردیا۔ یعنی کچی شراب پینے والا شہید ہوا تو غور کیجئے پکی شراب پینے والے کا رتبہ کتنا بلند ہوگا اور پھر شراب بیچنے والا ثواب کی جن منزلوں پر ہوگا اِس کا اندازہ حضرت قائم علی شاہ کی روحانی بصیرت ہی کرسکتی ورنہ میرے آپ جیسے گناہ گار کی نگاہ ان معرفت کی منزلوں تک کب پہنچ پاتی ہے۔
ذہانت
قائم علی شاہ ذہانت میں بھی اپنی مثال آپ ہیں جس کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جیسی قومی جماعت نے وزارت اعلی کے منصب کے لیے ایک بار نہیں، دو بار نہیں بلکہ تین بار قائم علی شاہ کا انتخاب کیا۔ ظاہر ہے ہیرے کی قدر کوئی جوہری کرسکتا ہے۔ سندھ کی حکومت پیپلزپارٹی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا اِس قدر بڑے منصب کے لیے کوئی نکمہ یا نالائق فرد کا انتخاب تو ناممکن تھا۔ سندھ کی وزرات کے لیے ایسے آدمی کا انتخاب ہونا تھا جو ذہانت اور خداداد انتظامی صلاحیتوں کا مالک ہو اور قائم علی شاہ کی سندھ کی وزارت اعلی پر موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان سے بڑھ کر ذہین و فطین اور انتظامی صلاحیتوں کا آدمی پیپلز پارٹی کے پاس موجود نہیں تھا، اگر ہوتا تو شاید قائم علی شاہ وزیراعلی سندھ نہ ہوتے۔
نیند کا بیان
حضرت سائیں قائم علی شاہ چونکہ دن رات عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں لہذا انہیں سونے کا وقت نہیں ملتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُن کو مجبوراً کانفرنسز اورسرکاری تقریبات میں اپنی نیند پوری کرنا پڑتی ہے۔ اُن کے مخالفین اکثر اس بات کو لے کر بلاوجہ حضرت پرتنقید کرتے رہتے ہیں لیکن حضرت سائیں قائم علی شاہ نے کبھی ایسی تنقید کی پرواہ نہیں کی بلکہ وہ زور و شور سے عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں اور سرکاری تقریبات میں نیند پوری کرلیتے ہیں ۔
نواز شریف کی قائم علی شاہ کو شاباش
قائم علی شاہ کو انکی بے مثال خدمت پر نواز شریف ٹیلی فون کرکے شاباش بھی دے چکے ہیں۔ نواز شریف بذات خود قائم علی شاہ کے بہت بڑے مداح ہیں اور قائم علی شاہ سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے ممنوں حسین کو صدر پاکستان بنایا تھا ۔
ہلاکتوں کی ذمہ دار وفاقی حکومت
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں قطر ہسپتال کے حالیہ دورے پر حضرت سائیں قائم علی شاہ نے فرمایا کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔ اُن سے جب سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بارے میں پوچھا گیا تو جناب نے کہا کہ وہ گرمی سے نہیں بلکہ برین ہیمرج سے ہوئی ہیں۔ خدمت خلق کے سبب جناب کا دماغ کچھ تھکاوٹ کا شکار ہوگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیراعلی صاحب کراچی کی آبادی بھول گئے۔ پہلے اُنہوں نے کہ شہر کی آبادی 20 لاکھ ہے، لیکن فوری طور پر اُن کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور فوراً تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ 20 لاکھ نہیں 20 کروڑ ہے۔ اُن کے اِن بیانات کے سبب ہم یہ اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں کہ جناب پر اِس وقت کام کا کس قدر دباو ہے۔
تھر کے بارے حضرت کا سبق آموز قول
گزشتہ سال تھر میں ہونے والی ہلاکتوں پر حضرت قائم علی شاہ نے فرمایا تھا کہ تھر میں ہلاکتیں قحط سے نہیں بلکہ غربت سے ہوئیں ہیں۔ حضرت سائیں کے اس سبق آموز بیان پر اکثر صاحبان علم نے عش عش کرتے ہوئے یہ تجویز دی کہ سائیں کو تھر میں دبا دیا جائے تاکہ وہاں ایک درخت اُگے اور اس پر بے شمار سائیں قائم علی شاہ اُگ آئیں کیونکہ پاکستان کی ترقی کے لیے ایک قائم علی شاہ کافی نہیں بلکہ پاکستان کو قائم علی شاہ جیسی شخصیات کی پوری لاٹ درکار ہے ۔
اختتامیہ
سائیں قائم علی شاہ کی شخصیت تو ایسی ہے کہ ان پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن اپنی بات کا سراج الحق صاحب کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے یہیں اختتام کروں گا کہ اگر قائم علی شاہ کو ریفریجریٹر میں رکھ دیا گیا تو وہ کبھی نہ کبھی دوبارہ ریفریجریٹر سے باہر نکل آئیں گے لہذا بہتر ہے کہ انکو امریکی خلائی کمپنی ناسا کو بطور عطیہ پیش کردیا جائے کیونکہ ناسا والے مریخ پر انسانی بستی بسانے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ سائیں قائم علی شاہ نے جس طرح سندھ کی خدمت چلائی ہے، جس طرح تھر میں پانی اور خوراک کے چشمے بہائے ہیں اب ضروری ہے کہ مریخ بھی انکی خدمات سے مستفید ہو کیونکہ سنا ہے مریخ پر بھی پانی اور خوراک کی شدید قلت ہے۔ اس لیے سائیں کو فی الفور اُن کی کابینہ سمیت مریخ روانہ کیا جائے کیونکہ ایسی عظیم شخصیت پر صرف پاکستان کا ہی نہیں پوری دنیا کا بھی حق ہے لہذا پاکستانی عوام کو اس نیک مقصد کی خاطر چندہ بھی اکٹھا کرکے ناسا والوں کو دینا پڑے تو اس میں گریز نہیں کرنا چاہیئے ۔
محمد عثمان فاروق

متاثرینِ مغرب

 جون 2015 کو امریکی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد قوس وقزح کے سات رنگوں کا جھنڈا ہاتھوں میں تھامے نیویارک کے رہائشی 50 سالہ ٹام نے اپنی 70 سالہ بوڑھی والدہ ہیلن کو فون کرکے بتایا کہ امی جان مبارک ہو۔ آج تمہارے بیٹے کی زندگی کا سب سے اہم دن ہے۔ بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو اس قدر خوش دیکھ کر کہا کہ صدقے جاواں لیکن پتر یہ بتا کہ ہوا کیا ہے؟ ٹام نے کہا امی جان وہ میرا 60 سالہ دوست پیٹر جو اکثر ہمارے گھر میں راتیں گزارتا تھا۔ وہ نہ صرف میرا دوست ہے بلکہ اب میرا خاوند بھی ہے اور میں آئندہ ہفتے اس کے ساتھ چرچ میں باقاعدہ شادی کروں گا کیونکہ سپریم کورٹ نے سارے ہم جنس پرستوں کو کھلے عام شادی کی اجازت دے دی ہے۔ یہ سن کر اس کی بوڑھی ماں جو عقیدے کے لحاظ سے قدامت پسند رومن کیتھولک ہے، نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ’’لکھ دی لعنت‘‘! اور فون بند کردیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں میں سارے ہم جنس پرست سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور آزادی اور غرور کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔ سارے یورپی میڈیا میں قوس و قزح کے سات رنگوں والے جھنڈے کی تصویریں ہیں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں، انٹی انکلز سمیت عمر رسیدہ ہم جنس پرست مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ امریکی اور یورپی اقوام کی ایک دوسرے کو مبارکباد اورخوشیاں منانے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ جیسے ٹام کو پیٹر جیسا خاوند ملا۔ وہ اب اپنی آخری عمر میں بغیر کسی خوف کے الماری سے نکل کر اپنا گھر بساسکے گا۔ لیکن مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ پرائی شادی میں دیوانے پاکستانی کیوں اتنا خوش ہیں؟
میرا ایک دوست جس نے اپنے فیس بک ڈسپلے پیکچر کو قوس و قزح کے سات رنگوں سے کلرفل کردیا ہے، سے جب میں نے صرف اتنا پوچھا کہ تم بھی؟ اس نے غصہ ہوکر کہا بکواس بند کرو، میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میرا پختہ یقین ہوگیا کہ متاثرین سیلاب، متاثرین زلزلہ، متاثرین آپریشن، متاثرین جنگ کی طرح میرے ملک میں متاثرین مغرب کی بھی کافی تعداد موجود ہے جو توجہ کے لائق ہیں ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں۔
میں نے کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا توخود کو روشن خیال سمجھنے والے اُس دوست نے اُسے میرا تعصب، تنگ نظری اور میری ذہنی تاریکی قرار دیا۔ میں نےعراق کی مثال دی کہ پوری قوم سے جھوٹ بول کر انہوں نے ایک ملک کو تہس نہس کردیا۔ اس کے مطابق اس میں بھی عراق کا اپنا قصور تھا۔ وہ امریکہ کی طرح طاقتور کیوں نہیں تھا اور اس نے امریکہ کی طرح اسلحہ اور ایٹم بم کیوں نہیں بنائے۔
مجھے امریکہ میں دنیا کے خوبصورت ترین اور عیاش ترین شہر میں رہنے کا موقع ملا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں بھی ان کے نقل اتارنے کی کوشش کروں۔ میں وہاں کی نیشنلٹی بھی حاصل کرتا تب بھی میری زیادہ ترعادات پختونوں اور پاکستانیوں سے ہی ملتیں کیونکہ امریکہ میں آج بھی مختلف قومیتوں کے لوگ اپنی قومیتوں پر فخر کرتے ہیں۔ میں اس قوم کی انسانیت کے لئے گراں قدر خدمات کا معترف ہوں۔ میں نہ صرف ان کی سائنس و ٹیکنالوجی میں نت نئے ایجادات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات کی گواہی دیتا ہوں۔ میں اُس قوم کی ڈسپلن سے متاثر ہوں۔ میں نے انہیں تفریحی پارکوں میں ٹوائلٹ کے لئے لمبی لمبی قطاریں بناتے دیکھا ہے۔ اُس قوم میں بہت ساری خوبیاں ایسی ہیں جو دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان کے ان ناجائز کاموں کی بھی حمایت کرنا شروع کردوں جو بہرحال میری سوچ کے مطابق غلط ہیں۔
جس طرح انہوں نے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کارنامے سرانجام دیے اُسی طرح انہوں نے انسانیت کی تذلیل اور بربادی کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ میں نے اُسے کہا کہ امریکہ معاشرہ جس زوال کا شکار ہے، اِن تمام تر خوبیوں کے باوجود بھی یہ دھڑام سے گرجائے گا۔ جب سے یورپ میں مذہب کو ریاست کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کا آزاد خیال اور روشن خیال طبقہ ان کے ساتھ مذاق کرنے میں مصروف ہیں۔ سیکولرازم کے نام پر انہیں دنیا میں جو چاہو کرتے پھرو کے فارمولے پر گامزن کرکے دنیا کو جنت بنانے کے مشن پر تلے ہوئے ہیں۔
 مذہب کے بیوپاریوں سے فراغت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے مذہب کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ اگر چہ اب بھی امریکہ و برطانیہ خود کو عیسائی ریاستیں کہتی ہیں لیکن ان کا مذہب سے رشتہ ایک فارملٹی کے سوا کچھ نہیں۔ آج بھی امریکہ میں صدر کے لئے عیسائی ہونا لازمی ہے۔ آج بھی ان کے ڈالر پر یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ ’’ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ آج بھی صدر بش افغانستان پر چڑھائی کرنے سے پہلے ویٹی کن جاکر پوپ سے آخری کروسیڈ کے لئے آشیرباد لیتا ہے۔ آج بھی یورپ و امریکہ میں کرسمس اور ایسٹر جیسی مذہبی تہواریں جوش وجذبے سے منائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اس لئے معانی نہیں رکھتی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دے رکھا ہے اور ان کے پارلیمان کے فیصلے انہیں انجیل سے زیادہ مقدم ہوتے ہیں اس لئے اگر وہ ان کی مذہبی تعلیمات کے خلاف بھی ہوں، تب بھی وہ مذہب کو بالائے طاق رکھ کر وہی کرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی المیہ ہے جس نے پورے یورپ کو کنفیوز کر رکھا ہے۔
یورپ و امریکہ کے باشندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے عیسائی مولوی انہیں پیسوں کے بدلے جنت بیچتے تھے۔ چرچ سے جان چھڑانے کے بعد یہ بیچارے آسمان سے گرے، کھجور میں اٹکے کی مانند کارپوریشن مافیا کے جال میں پھنس گئے۔ جنہوں نے ان کی طرز معاشرت کو کاروبار بنادیا۔ دین کو ریاست سے الگ کرکے انہوں نے چنگیزی شروع کی اور اسے قومی مفاد کا نام دیا۔ پوری دنیا کے وسائل لوٹے اور اس بڑی چوری اور خیانت کو کالونائزیشن کا نام دیا۔ انہوں نے نئی نئی اختراعات ایجاد کرلیں۔ الفاظ کے معانی تک بدل ڈالے۔
 شادی کے بجائے ناجائز مراسم بنائے اور اسے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کہا۔ شراب و شباب کو آزادی کا نام دیا۔ پراسٹیٹوٹس کو سیکس ورکرز کا خطاب دیا تاکہ دھندا کرتے وقت ان کا عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اُنہوں نے ایسے لوگوں کو ہومو سیکشول یعنی ہم جنس پرست کے لقب سے نوازا اور آج اس پر فخر کرنے کے لئے پریڈز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے جواز ڈھونڈنے شروع کئے لیکن جب کہیں سے کوئی جواز نہیں ملا تو انہوں نے یہ بہانے بنانے شروع کئے کہ بعض لوگ ہم جنس پرستی کی خصوصیات لے کر ہی پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کچھ ریاستوں میں جوئے کو قانونی حیثیت دی تاکہ وہ ٹیکس لے کر حکومت بھی چلا سکیں اور جوابازوں کو اپنی زندگی برباد کرنے کی کھلی چھوٹ بھی دے دی۔ معیشت کی سب سے بڑی لعنت یعنی سود کو، جسے سارے مذاہب نے حرام قرار دیا تھا، نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اس کے لئے بنکوں کے جال بھی بچھادئے۔ الغرض زندگی کے ہر شعبے میں انہوں نے مذہبی تعلمیات کے بالکل برعکس تمام حرام کاموں کو جائز قرار دیا۔
 اچھائی اور بُرائی کے درمیان جو لکیر مذہب نے کھینچی تھی، اسے مٹادیا۔ طاقت کے نشے میں مست اس قوم نے پوری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے نہ صرف اچھے اور بُرے کی تعریف شروع کردی بلکہ جسے انہوں نے اچھا کہا، پوری دنیا نے مان لیا۔
میں نے جس قران مجید کو پڑھا ہے اس میں ایک باب ہم جنس پرستی کے حوالے سے ہے۔ اگر لڑکے کا لڑکے کے ساتھ شادی کرنا ہی ترقی ہے تو پھر اس لحاظ سے لوط علیہ السلام کی قوم آج سے 7 ہزار سال پہلے ترقی یافتہ بنی تھی۔ جس کا حشر یہ ہوا کہ وہ قوم ہی صفحہ ہستی سے برباد ہوگئی۔ میرے دوست نے کہا تمہارا کیا خیال ہے یہ قوم بھی اس طرح برباد ہوگی؟ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کس کو کتنی مہلت دیتا ہے لیکن ایک بات کا میں دل سے قائل ہوں کہ دنیا میں حکومت کرنے کے جتنے اُصول وضع ہیں ان میں ہم جنس پرستی کا عنصر شامل نہیں۔
میں اپنے دوست سے کہ ذرا سوچو کہ کل کو جب اوباما کے بجائے کوئی 60 سال کا امریکی صدر اپنے شوہر کو بھی اپنے ساتھ کسی دورے پر لائے گا تو پاکستانی حکمرانوں کو تو یہ مشکل ضرور درپیش ہوگی کہ ڈکٹیشن کس سے لی جائے۔ اُس نے کہا کہ اِس کے باوجود بھی یہ دنیا پر حکومت کریں گے۔ میں نے اُسے بتایا کہ نہیں اب تم صرف تماشا دیکھنا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب تک ان کا یہ چہرہ دنیا والوں سے پوشیدہ رہا تھا۔ لوگ آج تک انہیں سیدھے لوگ سمجھتے رہے، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں آج تک انہی کا سکہ چلتا ہے۔ ان کی 821 ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پوری دنیا کو اپنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا ہے۔ 
ہم جنس پرست تو ہمارے معاشرے میں بھی ہیں، دوست نے جواب دیا، میں نے اسے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی کے علاوہ بھی تمام بڑی برائیاں موجود ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ان برائیوں کو قانونی حیثیت دیں اور جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ ان برائیوں کو قانونی حیثیت نہیں دیتی تب تک وہ برائی ہی رہے گی۔ میں نے اسے کہا کہ میرے مذہب نے بھی ہر قسم کے گناہ کے امکانات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے اور تبھی تو اس کے لئے سزائیں مقرر کی ہیں۔ لیکن جب ایک شخص اس گناہ کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر مذہب میں اس کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ 
میرے مذہب کا ایک بہترین اصول یہی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کہتا ہے کہ جتنے چاہو گناہ کرلو لیکن دو کام بالکل مت کرنا۔ ایک اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اور دوسری بات یہ کہ گناہ کو ثواب اور ثواب کو گناہ مت کہنا! بس یہی وہ غلطی ہے جو یورپ کے لبرلز اور سیکولرز کر بیٹھے اور یہی وہ بنیادی غلطی ہے جو ان کے معاشرے کو لے ڈوبے گا۔
جہاں تک پاکستان میں موجود متاثرین مغرب اور اپنی ملت پر اقوام مغرب کا قیاس کرنے والے دیسی لبرلز اور خود کو روشن خیال، ترقی پسند اور جدیدیت کے نام پر اچھل کود کرنے والوں کا تعلق ہے تو مجھے اِس بات پر اس لئے حیرت نہیں ہوتی کیونکہ غلام ابن غلام ابن غلام کے پاس نہ اپنے نظریات ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنی سوچ۔ اُنہیں کسی نہ کسی آقا کو فالو کرنا پڑتا ہے اور وہ نہ اس میں فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ خود کو ماڈرن بھی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جواس قوم کو پچھلے 70 سال سے درپیش ہے۔ 
اسلامی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک کے پالیسی ساز ابھی تک یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ وہ اس ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ کوئی روس سے متاثر ہے تو کوئی برطانیہ سے۔ کوئی امریکہ سے متاثر ہے تو کوئی امریکہ کے چاپلوس سعودی عرب سے۔ کوئی اس ملک میں سوشلزم کا حامی ہے تو کوئی جمہوریت کے راگ الاپ رہے ہیں۔ لیکن پچھلے 70 سال سے اس ملک پر مغرب کے متاثرین کا پلڑا بھاری ہے اور ان کی پالیسیاں اور ان کا نظام مضبوط کرنے کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ روس کوافغانستان میں شکست ہونے کے بعد اب سوشلسٹ بھی امریکی صف میں نظر آتے ہیں اور مغربی اقوام کی ان غلطیوں اور کمزوریوں کے لئے بھی حیلے بہانے تراشتے ہیں جن کو وہ قومیں خود غلطیاں تسلیم کرچکی ہیں۔ لیکن شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ لوگ اس قدر اندھی تقلید میں لگے ہیں کہ انہیں علامہ اقبال بھی آئی ایس آئی اور سعودی عرب کا ایجنٹ نظر آتا ہے جس نے سو سال پہلے کہا تھا
میخانہ یورپ کے، دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر
ضیاء اللہ ہمدرد

گرمی سے ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بے گھر تھی

سندھ کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں شدید گرمی کی لہر سے ہلاک ہونے والےدو تہائی لوگ بے گھر تھے۔
ہلاکت خیز گرمی کی لہر سے صرف کراچی میں 1200 سے زائد اموات ہوئیں۔
دو کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سرسبز علاقوں کی شدید کمی ہے ۔ صاف پینے کے پانی اور سائبان تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر زندگی گزارنے والے اس شدید گرمی کے سب سے بڑے متاثرین ثابت ہوئے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت جام مہتاب ڈھر نے اے ایف پی کو بتایا ’ہیٹ سٹروک کے 65 سے 60 فیصد شکار افراد بھکاری ، ہیروئن کے عادی اور سڑکوں پر رہنے والے تھے‘۔
جام مہتاب ڈھر نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے باقی 40سے 35 فیصد تعداد گھریلو بوڑھی خواتین کی تھی جو حبس اور گرمی کی وجہ سے گھروں میں ہلاک ہو گئیں۔
ڈھر کے خیال میں ان ہلاکتوں میں لوڈ شیڈنگ نے بھی اپنا کردار ادا کیا کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پنکھوں اور اے سی تک رسائی ممکن نہ رہی ۔
محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر ظفر اعجاز نے بتایا کہ پیر تک شہر کے ہسپتالوں میں اموات کی تعداد 1299 ریکارڈ کی گئی۔

Saeed Ajmal raises £30000 for Myanmar’s Rohingya Muslims

پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل آج کل پوری توجہ سے انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے میں تو مصروف ہیں ہی، لیکن ساتھ ہی وہ میانمار سے دربدر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کے حوالے سےبھی اپنی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔
ہفتے کوبرطانیہ کے شہر مانچسٹر میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ منعقد کیا گیا، جہاں 37 سالہ سعید اجمل کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا،جو آج کل ووسٹر شائر کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔
مذکورہ تقریب میں موجود پاک پیشن نامی کرکٹ پورٹل کے ایڈیٹر ساج صادق نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا:” سعید اجمل کے تعاون اور کوششوں سے روہنگیا مسلمانون کے چیریٹی ایونٹ کے دوران 30 ہزار برطانوی پاؤنڈز اکھٹے کیے گئے”۔
میانمار میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ظلم کا شکار 9 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان، اپنا گھر بار، مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔
یہ دربدر روہنگیا مسلمان کشتیوں میں سوار ہو کر میانمار سے نکلے اور انھوں نے مختلف ممالک میں عارضی کیمپوں میں پناہ لی، جہاں انھیں زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے سخت تگ و دو کرنی پڑرہی ہے۔