Migrants rescue on the high seas

Migrants on a rubber dinghy wait to be rescued by the Migrant Offshore Aid Station (MOAS) ship MV Phoenix, some 20 miles (32 kilometers) off the coast of Libya. Some 118 migrants were rescued from a rubber dinghy off Libya on Monday morning. The Phoenix, manned by personnel from international non-governmental organizations Medecins san Frontiere (MSF) and MOAS, is the first privately funded vessel to operate in the Mediterranean. 

ظالمو بلڈوزر آ رہا ہے…وسعت اللہ خان

یہ تو نہیں معلوم کہ شریف حکومت کی ترجیحاتی فہرست میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ  اقتصادی بحالی ، پاک چائنا اکنامک کاریڈور ، ٹیکس اصلاحات ، عدلیہ کی استرکاری اور سالانہ دریائی سیلابوں سے نجات کے منصوبوں کی ترتیب کیا ہے۔مگر خوش آیند بات یہ ہے کہ اب غیر قانونی بستیوں اور تعمیرات کی مسماری بھی ترجیحاتی فہرست میں شامل ہوچکی ہے۔اس کا آغاز گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے آئی الیون سیکٹر پر قائم غیر قانونی بستی ڈھانے سے ہو چکا۔امید ہے کہ یہ سلسلہ اسلام آباد سے شروع ہو کے وہیں پے ختم تک نہیں ہوگا بلکہ اس شکنجے میں پورا ملک کسا جائے گا۔
اس تناظر میں یہ بات افسوسناک ہے کہ حزبِ اختلاف کی چند جماعتوں اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے غیر قانونی بستیوں اور تعمیرات کے خلاف حکومت کی مخلصانہ مہم کا ساتھ دینے کے بجائے قابض عناصر کے حق میں لیڈری لشکانے اور ذمے دار قومی اور غیر ذمے دار سوشل میڈیا میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے تصویری و بیانیہ جنگ چھیڑ دی۔
بہانہ یہ تراشا گیا کہ ان بے چاروں میں اتنی مالی سکت نہیں کہ وہ کہیں بھی اپنا گھر بنا سکیں۔مگر اس بات سے ہم جیسوں کو کچھ حوصلہ ملا کہ حکومت اس سوچی سمجھی موقع پرست پیشہ ور مظلومیت کے جھانسے میں نہیں آئی اور اس نے بلا مصلحت قانون کی عمل داری کے قیام کی روشن مثال قائم کرتے ہوئے آئی الیون کی بستی کا مسماری منصوبہ کامیابی سے مکمل کر لیا۔
اب مجھ ایسے لوگوں کاقومی فرض بنتا ہے کہ ایسی غیر قانونی آبادیوں اور تعمیرات کی نشاندھی کریں تاکہ حکومت نے جو کام شروع کیا ہے وہ قومی سطح پر جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچے۔تاکہ اس سے فراغت پا کے حکومت اتنے ہی ضروری دیگر کاموں پر بھی توجہ دے سکے۔
مثلاً اسی اسلام آباد کے مکینوں کی  سبزیوں اور پھلوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت عرصے پہلے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے صاحبِ وسیلہ باثروت و بااثر رضاکاروں کو چک شہزاد میں فارمنگ کے لیے بڑے بڑے قطعاتِ اراضی الاٹ کیے۔مگر چک شہزاد کے کھیتوں میں گاجر ، مولی ، سلاد سے پہلے پہلے عالیشان محلات اگنے کا معجزہ ہو گیا۔کچھ عرصے قبل عدالت نے فارم ہاؤسز کی زمین  کے غلط اور ناجائز استعمال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی ڈی اے سے کہا کہ وہ زراعت کے نام پر دیے گئے ان قطعات کی الاٹمنٹ منسوخ کردے مگر سی ڈی اے کی روایتی حیلہ سازی آڑے آگئی۔
اب کہیں جا کے امید بندھی ہے کہ جس حکومت نے آئی الیون کی کچی بستی میں بلڈوزر بھیجے ، انھی بلڈوزروں کا اگلا رخ چک شہزاد کے فارم ہاؤسز کی جانب کسی بھی وقت ہونے والا ہے تاکہ اس غیر قانونی آبادی کو ڈھا کے سرکاری انصاف کی دھاک ہر خاص و عام کے دل میں بیٹھ سکے۔آپ بچشمِ خود ملاحظہ کریں گے کہ جب ایاز کے ساتھ محمود بھی ایک ہی صف میں کھڑا کردیا جائے گا اور محمود کو لگ پتہ جائے گا۔۔۔۔
اسی پاکستان میں جن سرکاری اداروں کی زمین پر یار لوگوں نے سب سے زیادہ ہاتھ صاف کیا ان میں سرِ فہرست محکمہ ریلوے بتایا جاتا ہے۔ ریلوے کی اندازاً اٹھارہ ہزار ایکڑ زمین پر گالف کورسز اور ہوٹلوں سے لے کر شادی ہالوں، اسکولوں ، تھانوں ، کثیر المنزلہ کمرشل اور رہائشی پلازوں اور غریب غربا کی جھونپڑیوں تک بھانت بھانت کی ناجائز آبادی پائی جاتی ہے۔مگر اب یہ دھندہ زیادہ دن نہیں چلنے کا۔کوئی دن جاتا ہے کہ حکومتی بلڈوزر ان سب تجاوزات کی بھٹہ سی گردن اڑا دیں گے۔ انشااللہ۔
کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ کی بیسیوں ایکڑ زمین پر لگ بھگ پندرہ برس پہلے اچانک ایک شاندار بستی اس دور میں ابھرنی شروع ہوئی جب حسنِ اتفاق سے عزت مآب توقیر ضیا بورڈ کے سربراہ تھے۔ یہ زمین بورڈ کے ہاتھوں سے نکل کے بڑے بڑے پلاٹوں میں کیونکر بٹ گئی اور پھر ان پر بیسیوں محلات بنا چراغ رگڑے کیسے نمودار ہو گئے۔آج تک یہ کہانی ’’ نہ بتاؤ نہ پوچھو ‘‘ کی چادر تلے محوِ خراٹا ہے۔امید ہے کہ ناجائز و مشکوک تعمیرات اور بستیوں  کے پیچھے لٹھ لے کر گھومنے والی سرکار نہ صرف اس پراسرار کہانی کہ تہہ تک پہنچے گی بلکہ یہ ثابت ہوگیا کہ قانون کے پردے میں سوراخ کرکے دراصل یہ زمین غصب ہوئی ہے تو سمجھو کہ اگلا ہدف یہی بستی ہے۔بالکل آئی الیون مسماری ماڈل کی طرح…
اور اب وہ با اثر افراد اور ادارے بھی خیر منائیں کہ جنہوں نے بڑی بڑی سرکاری زمینیں اور پلاٹ لیز پر لیے اور لیز ختم ہونے کے باوجود اس پر قابض ہیں اور کسی متعلقہ افسر کی ہمت نہیں کہ ان قابضین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتا سکے کہ حضور اٹھئے کھیل ختم پیسہ ہضم زمانہ بدل چکا۔موجودہ حکومت اس بارے میں بالکل ضدی جٹ ہے۔اس نے آئی الیون والوں کو اتنے واویلے پے بھی نہ چھوڑا تو ملی بھگت کرنے والے افسروں اور لیز ایکسپائری کے باوجود بیٹھے رہنے والوں کو کیوں چھوڑے گی ؟
ساتھ ہی ساتھ ہم اس بااصول و قانون پسند حکومت کے نوٹس میں یہ بھی لانا چاہتے ہیں کہ کسی بھی جگہ راتوں رات چار دیواری اٹھا کر وہاں چند بچوں کو بطور دینی طلبا بٹھا دیا جاتا ہے کہ آج سے یہ مدرسہ ہے۔یا پھر بانس پر لاؤڈ اسپیکر ٹانگ کے کہا جاتا ہے کہ اب یہ خالی پلاٹ نہیں مسجد ہے۔یا پھر اچانک ایک روز کسی بھی قیمتی کارنر پلاٹ پر ایک قبر نمودار ہوجاتی ہے اور پھر اس پر ایک مجاور بیٹھ جاتا ہے اور پھر مزار کمپلیکس کے نام پر اردگرد کی دیگر زمینوں پر بھی جھنڈے گڑ جاتے ہیں اور پھر بابا کھڑک شاہ کا عرس بھی شروع ہوجاتا ہے۔
اور پھر عرس و مزار کے اخراجات پورے کرنے اور لنگر جاری رکھنے کے لیے اسی زمین پر بادلِ نخواستہ دکانیں بھی بنانی پڑ جاتی ہیں اور جب اس دعویِٰ ملکیت کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اسے دینی و روحانی مسئلہ بنا کر عام لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش  کی جاتی ہے۔ یوں حکومت ڈر کے مارے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔مگر موجودہ حکومت چونکہ قانون کی ہر قیمت پر بالا دستی چاہتی ہے لہذا اب یہ من مانی نہیں چلے گی اور حکومت غصب شدہ زمین پر قائم مساجد ، مدارس اور مزارات قائم کرنے والوں سے ویسے ہی نمٹے گی جیسے آئی الیون کی بستی کے ہٹ دھرم مکینوں سے نمٹا گیا۔
اسی طرح جو فراڈ سماجی و سیاسی تنظیمیں پارکوں ، فلاحی زمینوں اور گرین بیلٹس کو حلوائی کی دکان سمجھ کر دادا جی کی فاتحہ دلواتی آئی ہیں ان کے بھی دن گنے جا چکے۔اچھا ہوگا کہ وہ ازخود باعزت طریقے سے ان فلاحی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات گرا کر ان کی اصل حیثیت  بحال کردیں۔ورنہ جس حکومت نے آئی الیون کی بستی نہ بخشی وہ بھلا ان غاصبوں کو کیسے چھوڑ دے گی۔بس اب کسی بھی ساعت یہ غاصب بلڈوزروں کی گڑگڑاہٹ سننے والے ہیں۔
خدا خدا کرکے پاکستان کو ایک عرصے بعد ایسی حکومت نصیب ہوئی جو مصلحتوں سے پاک اور قانون کی راہ میں رکاوٹ بننے والے کسی کمزور یا طاقتور کو خاطر میں نہ لانے کے عزم سے سرشار ہے۔ ثبوت کے لیے آئی الیون اسلام آباد میں ملبے کا ڈھیر حاضر ہے۔یہاں کے مکین صرف ایک ہفتے پہلے تک زمین پر اترا اترا کے چلتے تھے اور ریاست کے اندر ریاست بنے بیٹھے تھے۔لیکن
یہ وقت کس کی رعونت پے خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
مجھے یقین ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدتِ اقتدار پوری ہونے سے پہلے پہلے اس ارضِ خدا کے کعبے سے وہ سب بت اٹھوا دے گی جو اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم آئی الیون کی بستی نہیں کہ کوئی ہمیں ترنوالہ بنا لے۔ چٹان سے زیادہ مضبوط اس شاہین صفت سرکار کو یہ کارِ خیر پورے ملک میں پھیلانے سے پہلے پہلے میں پیشگی مبارکباد دینا چاہتا ہوں کیونکہ کل کس نے دیکھا ؟
اور کوئی اس زعم میں بھی نہ رہے کہ اس مدتِ اقتدار میں خدانخواستہ کسی سبب حکومت یہ کام مکمل نہ کرسکی تو جان چھوٹ جائے گی۔انشااللہ اگلی مدتِ اقتدار میں یہ ادھورا کام اولین ترجیح بنے گا۔اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو روزِ قیامت شریف حکومت ان تمام غاصبوں کا گریبان ضرور پکڑے گی۔جان کسی کی نہیں چھوٹنے والی۔۔۔۔
وسعت اللہ خان

بھارت کی آبادی کا بڑا حصہ شدید غربت کا شکار ہے، سروے

بھارت میں معاشی ، معاشرتی اور ذاتوں سے متعلق کئے گئے تازہ سروے  سے ثابت ہوا ہے کہ بھارتیوں کی اکثریت اس وقت شدید غربت کی شکار ہے ۔
مردم شماری میں بھارت کے طول وعرض میں 30 کروڑ گھرانوں کا سروے کیا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ 73 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے جن میں سے صرف 5 فیصد ٹیکس دینے کی سکت رکھتی ہے صرف ڈھائی فیصد چار پہیوں کی سواری رکھتے ہیں اور 10 فیصد تنخواہ والی ملازمت کے حامل ہیں۔
 اس کے علاوہ ان دیہاتوں میں صرف ساڑھے تین فیصد افراد گریجویٹ ہیں جب کہ 35 فیصد آبادی لکھنے یا پڑھنے سے قاصر ہے۔
اگرچہ بھارت میں غربت کی تعریف پر ہمیشہ بحث ہوتی رہی ہے لیکن 2014 میں پلاننگ کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی قریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے جن کی تعداد 36 کروڑ30 لاکھ سے زائد ہے جب کہ دیہاتوں میں 57 فیصد اور شہروں میں 47 فیصد افراد اپنی آمدنی صرف خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر 73 فیصد آبادی کی ماہانہ آمدنی 5 ہزاربھارتی روپے سے بھی کم ہے۔

جب ہم پڑھتے ہیں تو ہرچیز بدل جاتی ہے

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی اچھی کتاب میں غرق ہوجانے سے لوگ ایک دوسرے کی صلاحیت سے خود کو جوڑتے ہیں اور ان کی احساس ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
دا ریڈینگ ایجنسی کی تحقیق کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے بچوں اور بالغوں دونوں میں خوشی کے لیے مطالعے کرنے سے تعلیمی نتائج سے کہیں زیادہ حاصل ہوتا ہے۔
برطانیہ کے چار ہزار بالغوں پر مبنی اس حالیہ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ خوشی، سرور، حظ یا لطف حاصل کرنے کے لیے کتابوں کا مطالعہ کرنے والے سماجی تقریبات سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے بچوں میں جذبات و احساسات کی سمجھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر اس تحقیق میں یہ پایا گيا ہے کہ مطالعے کا تعلق، سرور حاصل کرنے، سکون پانے یا راہ فرار اختیار کرنے سے ہے۔
اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ لڑکیوں کے مقابلے لڑکے کسی لفظ کے پوشیدہ معانی سے زیادہ مثبت طور پر متاثر ہوئے
تحقیق میں اس بات پر نظر رکھی گئی ہے کہ ذوق و شوق سے کیا جانے والا مطالعہ کس طرح ذہنی اور جسمانی صحت کو تقویت پہنچاتا ہے۔
اس میں کہا گیا ہے جو لوگ عموما لطف اندوز ہونے کے لیے پڑھتے ہیں
ان میں تناؤ اور پژمردگی (ڈپریشن) پیدا ہونے کے امکان کم ہوتا ہے
ان میں زیادہ خودداری یا خود پسندی ہوتی ہے
وہ مشکل حالات سے نمٹنے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں
ان کی نیند کا معمول بہتر ہوتا ہے۔
اس میں سات سے نو سال کے بچوں پر مبنی جرمنی میں ہونے والے ایک مطالعے کا بھی ذکر ہے جس میں خواندگی اور جذبات و احساسات کی سمجھ کے درمیان ممکنہ رشتوں پر نظر ڈالی گئی ہے۔
مطالعے سے خودپسندی اور راہ فرار اختیار کرنا بھی منسلک ہے
اس رپورٹ میں سکول کے بعد بچوں کو جذباتی موضوعات والی بچوں کی کتابیں پڑھ کرسنائی گئیں اور پھر ان پر بات کی گئي۔
اس میں یہ پایا گیا کہ اس سے بچوں کی جذباتی لفظیات، معلومات اور فہم و ادراک میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں کہا گيا: ’ہمیں اپنی شناخت کی فہم و ادراک میں اضافے سے مطالعے کا قریبی تعلق ہے اور یہ دوسروں کے نظریات کو سمجھنے میں بھی بہت اہم رول ادا کر سکتا ہے۔
دا ریڈینگ ایجنسی کے چیف ایگزیکٹیو سو ولکنسن نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ’جب ہم پڑھتے ہیں تو ہرچیز بدل جاتی ہے۔  

مودی کا طرز سیاست، بھارت کے لوگوں کیلئے ایک چیلنج…

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نہ صرف ایک انتہا پسند مذہبی جماعت کے نمائندہ ہیں بلکہ انہوں نے اپنی سیاست کو بھی صرف اور صرف نفرت کی بنیاد پر آگے بڑھایا ہے ۔ان کی سیاست محض پاکستان دشمنی پر مبنی ہے ۔اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے ملک کے لئے کوئی بڑا پروگرام نہیں ہے اور وہ صرف لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر اپنی پارلیمانی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں ۔وہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔
شیخ حسینہ واجد بھی صرف پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکاکر اپنی حکومت چلارہی ہیں ۔اگلے روز بھارت میں یعقوب میمن نامی ایک مسلمان باشندے کو پھانسی دے دی گئی ۔ان پر الزام تھا کہ وہ 1993ء کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث تھے ۔ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ یعقوب میمن کے کیس کا فیصلہ بھارتی عدالتوں نے میرٹ کی بنیاد پر کیا یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یعقوب میمن کی پھانسی سے اس طرح سیاسی فائدہ اٹھایا، جس طرح شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے بعض رہنماؤں کو پھانسی دے کر سیاسی فائدہ حاصل کر رہی ہیں ۔
ممبئی بم دھماکوں کو 22 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ 22 سال تک بھارت کے ریاستی ادارے اس کیس کو حل نہیں کرسکے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی کے دور میں یہ کیس فوری طور پر حل ہوگیا ہے اور اس میں پھانسی کی سزا پر عملدرآمد بھی ہوچکا ہے ۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مودی حکومت کے سوچنے کا انداز کیا ہے ۔بھارت نہ صرف اس خطے کا بڑا ملک ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوے دار بھی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جو طرز سیاست اختیار کررکھا ہے، وہ ان کے ملک کو زیب نہیں دیتا۔ پاکستان دشمنی کے جذبات بھڑکا کر بھارت کے ایک حلقے کی سیاسی حمایت تو حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر حلقوں کی مخالفت کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ۔
نریندر مودی اپنے اس طرز سیاست سے نہ صرف سیکولر بھارت کا چہرہ مسخ کررہے ہیں بلکہ وہ بھارت کو مذہبی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم بھی کررہے ہیں ۔نریندر مودی اور ان کے نظریاتی پیشواؤں کا یہ اندازہ غلط ہے کہ بھارت کے اکثر لوگ پاکستان مخالف جذبات رکھتے ہیں ۔یعقوب میمن کی سزا معاف کرنے کے لئے ہندو سیاسی اور سماجی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات کی طرف سے سب سے زیادہ رحم کی اپیلیں کی گئیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رائے عامہ کو متاثر کرنے والی اہم بھارتی شخصیات نریندر مودی اور ان کے حواریوں کے نقطہ نظر کی حامی نہیں ہیں ۔ نریندر مودی نے بھارت کے عام انتخابات میں بھی نفرت اور تعصب پر مبنی سیاسی نعرے دیئے اور انتخابات جیتنے کے بعد بھی ان کا طرز سیاست نہیں بدلا ہے۔
بھارت جیسے ملک کے وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے ان کے شایان شان یہ بات نہیں ہے کہ وہ شیخ حسینہ واجد کی پیروی کریں۔
اس وقت پوری دنیا کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ بھارت پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں نہ صرف مداخلت کرتا ہے بلکہ ان ممالک کے داخلی استحکام کے لئے بھی اس نے سنگین خطرات پیدا کردیئے ہیں ۔ پاکستان میں بھارت کی مداخلت کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ کئی رپورٹس شائع کرچکے ہیں ۔جبکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک سابق سربراہ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اس مداخلت کا اعتراف کیا ہے ۔
 پاکستان نے بھارتی مداخلت کے ثبوت اکٹھے کرلئے ہیں اور بھارت کو اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان یہ ثبوت لے کر عالمی اداروں سے رجوع کرنے والا ہے اور بھارت کے پاس دفاع کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔کراچی ،بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد حاصل کرلئے گئے ہیں ۔بھارت اپنے ڈراموں اور لابنگ پر مبنی سفارت کاری کے ذریعہ ہمیشہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن اب بھارت ایسے ہتھکنڈوں سے عالمی سفارت کاری میں ناکام رہے گا کیونکہ پاکستان کی طرف سے عالمی اداروں کو ثبوت مہیا کرنے سے پہلے ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارتی جارحیت اور مداخلت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔
ان ذرائع ابلاغ نے دنیا کو یہ بتادیا ہے کہ ایک بڑا ملک اور دنیا کی بڑی جمہوریت ہونے کے ناتے بھارت ایک ذمہ دار ملک نہیں ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت نے پیش بندی کے طور پر یعقوب میمن کو پھانسی دے دی ہے حالانکہ یعقوب میمن یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ ممبئی بم دھماکوں میں ملوث نہیں ہیں اور انہیں ایک مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔بھارتی میڈیاکے مطابق بھارت کے مسلمانوں میں بھی اس پھانسی پر شدید ردعمل پایا گیا ہے۔عہد نو میں انتہا پسندی کی سیاست بھی ختم ہو رہی ہے، دنیا میں علاقائی سطح پر نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں اور عالمی سطح پر نئی صف بندی ہورہی ہے ۔دنیا بہت آگے نکل چکی ہے ۔پاکستان اور بھارت کے عوام نے دونوں ملکوں کی روایتی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے اپنے طور پر بہت کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں عوامی آگاہی کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں ۔نریندر مودی کا طرز سیاست اب زیادہ موثر نہیں رہے گا ۔
اگر انہوں نے یہ طرز سیاست نہ چھوڑا تو نہ صرف علاقائی اتحادوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس خطے کی ترقی اور خوشحالی کے عمل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی ۔ بھارت کو اس خطے میں ایک بڑے بھائی اور لیڈر کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن نریندر مودی جیسے سیاستدانوں کی موجودگی میں بھارت اس کردار سے محروم رہے گا۔ بھارت کو اب پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات استوار کرنا ہوں گے ۔ بھارت پڑوسی ملکوں میں اپنے کارندوں کے ذریعہ بدامنی اور دہشت گردی کو فروغ دے کر اپنے لئے بھی کچھ اچھا کام نہیں کر رہا ہے ۔
 بھارت کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس طرز سیاست کے بارے میں سوچیں کیونکہ نفرت اور دشمنی کا انجام تباہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
نریندر مودی اس خطے کو تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔بھارت کی سول سوسائٹی کو پہلے سے زیادہ موثرکردار ادا کرنا ہوگا ۔بھارت کی سول سوسائٹی نے پہلے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔بھارت میں انتہا پسند حکمرانی کے خلاف اب اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔بھارت کی حکومت پاکستان میں مداخلت کے ٹھوس شواہد کا جس طرح جواب دے رہی ہے، یہ اس خطے کی بہتری کے لئے موزوں نہیں ہے ۔
عباس مہکری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

Exodus to Turkey

Kurdish Syrian refugees and Turkish protesters pull down a part of the Turkish-Syrian border fence, near the southeastern town of Suruc in Sanliurfa province. 

Welcome to the Dolomite Mountains

The Dolomites are a mountain range located in northeastern Italy. They form a part of the Southern Limestone Alps and extend from the River Adige in the west to the Piave Valley (Pieve di Cadore) in the east. The northern and southern borders are defined by the Puster Valley and the Sugana Valley (Italian: Valsugana). The Dolomites are nearly equally shared between the provinces of Belluno, South Tyrol and Trentino.
The name “Dolomites” is derived from the famous French mineralogist Déodat Gratet de Dolomieu who was the first to describe the rock, dolomite, a type of carbonate rock which is responsible for the characteristic shapes and colour of these mountains; previously they were called the “pale mountains,” and it was only in the early 19th century that the name was Gallicized.
During the First World War, the line between the Italian and Austro-Hungarian forces ran through the Dolomites. There are now open-air war museums at Cinque Torri (Five Towers) and Mount Lagazuoi. Many people visit the Dolomites to climb the vie ferrate, protected paths created during the First World War. A number of long distance footpaths run across the Dolomites, which are called “alte vie” (i.e., high paths). Such long trails, which are numbered from 1 to 8, require at least a week to be walked through and are served by numerous “Rifugi” (huts). The first and, perhaps, most renowned is the Alta Via 1.

The region is commonly divided into the Western and Eastern Dolomites, separated by a line following the Val Badia – Campolongo Pass – Cordevole Valley (Agordino) axis.

Munawwar Shakeel : A Shoe Maker Who is The Author Of 5 Books

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے نواحی قصبے روڈالا کے مین بازار میں سڑک کنارے بیٹھا منور شکیل پچھلی 3 دہائیوں سے دیہاتیوں کے پھٹے پْرانے جوتے مرمت کرنے میں مصروف ہے۔لیکن حالیہ برسوں میں منور کی عارضی دکان پر جوتے مرمت کروانے والے گاہکوں سے زیادہ اْن کی تلخ اور شریں حقیقتوں پر مبنی شاعری سْننے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔

منور پنجابی شاعری کی 5 کتابوں کے مصنف ہیں اور اپنی شاعری کی وجہ سے شہر کے مضافاتی علاقوں کی رہتل اور لوگوں کی زندگیوں کی حقیقتوں کا ترجمان مانے جاتے ہیں۔ 1969ء میں پیدا ہونے والے منور شکیل نے ہوش سے پہلے ہی اپنے باپ کو کھو دینے اور رسمی تعلیم سے یکسر محروم رہنے کے باوجود 13 سال کی کم عمری میں شاعری کا آغاز کیا اور اْن کی پہلی کتاب ‘سوچ سمندر’ 2004ء میں منظرِ عام پر آئی۔ منور شکیل کہتے ہیں کہ ’’میں سارا دن جوتوں کی مرمت اور صبح سویرے قصبے کی دکانوں پر اخبار فروشی کرکے اڑھائی سے 3 سو روپے کماتا ہوں جن میں سے روزانہ 10 روپے اپنی کتابیں شائع کروانے کے لیے جمع کرتا رہتا ہوں‘‘۔

منور کی دوسری کتاب ‘پردیس دی سنگت’ 2005ء، تیسری کتاب ‘صدیاں دے بھیت’ 2009ء چوتھی ‘جھورا دْھپ گواچی دا’ 2011ء اور پانچویں ‘آکھاں مٹی ہو گیئاں 2013ء میں شائع ہوئی۔اْن کی اب تک شائع ہونے والی تمام کتابیں ایوارڈ یافتہ ہیں۔ وہ رویل ادبی اکیڈمی جڑانوالہ اور پنجابی تنظیم نقیبی کاروان ادب کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ آشنائے ساندل بار، پاکستان رائٹرز گلڈ اور پنجابی سیوک جیسی ادبی تنظیموں سے اب تک کئی ایوارڈز اپنے نام کر چْکے ہیں۔

 اپنی شاعری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اْن کا کہنا تھا کہ مختلف طبقات میں تقسیم ہمارے معاشرے میں نچلے طبقے کے لوگوں کو درمیانے اور اعلیٰ طبقے کے لوگوں کی طرف سے روزمرہ زندگی میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کمزور لوگوں کے ساتھ کیے جانے والے اس سلوک کے خلاف آواز اْٹھانے والا کوئی نہیں۔میں اپنی شاعری کے ذریعے نچلے طبقے کی آواز بننا چاہتا ہوں اور جو باتیں براہ راست نہیں کیں جا سکتیں اْنھیں اپنی شاعری کے ذریعے دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’بچپن میں میری خواہش تھی کہ میں پڑھ لکھ کر نام کماؤں لیکن ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی والد کی وفات اور مالی وسائل کی کمی کے پیش نظر ایسا ممکن نہ ہو سکا تو میں نے خود کتابیں خرید کر مطالعہ شروع کیا اور اب کام سے واپس جا کر 3 سے 4 گھنٹے کتاب نہ پڑھوں تو نیند نہیں آتی۔

وہ کہتے ہیں کہ اپنی ماں بولی پنجابی اور اْن کا تعلق وہی ہے جو ایک بیٹے کا اپنی ماں کے ساتھ ہوتا ہے۔پنجابی، پنجاب میں رہنے والے لوگوں کی مادری زبان ہے اور یہ اْن کا بنیادی حق ہے کہ انھیں اس زبان میں تعلیم دی جائے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پنجابی سمیت تمام علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔اْن کا ماننا ہے کہ ایک اچھے شاعر کے لیے لازمی ہے کہ اس کے دل میں انسانیت کے لیے درد ہو جسے محسوس کرتے ہوئے وہ اپنے الفاظ کو شاعری میں ترتیب دے سکے۔انھوں نے بتایا کہ اْن کی 112 غزلوں پر مشتمل چھٹی کتاب ‘تانگھاں’ رواں سال کے آخر تک شائع ہو جائے گی۔

محنت میں عظمت ہوتی ہے۔ مجھے جوتے مرمت کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگوں میں شعور پیدا ہو اور وہ کتابوں کا مطالعہ شروع کریں تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو سکیں۔ منور شکیل کے ادبی استاد غلام مصطفیٰ آزاد نقیبی کہتے ہیں کہ منور نے اپنی شاعری کمزور لوگوں کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کی ہے جو عشق، صحبت حْسن، زلف اور رخسار وغیرہ کے قصوں سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی ضروریات، خواہشات اور مشکلات سے نتھی ہے۔ 

  اْن کا کہنا ہے کہ مضافات میں رہنے والے لوگوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہوتی لیکن مالی وسائل کی کمی کے باعث وہ دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔