سام سنگ گلیکسی نوٹ 7 کی بیٹریاں کیوں پھٹ رہی تھیں؟

کورین اسمارٹ فون کمپنی سام سنگ کا کہنا ہے کہ دو سپلائرز کی جانب سے خراب بیٹریاں فراہم کرنے کی وجہ سے نوٹ 7 پھٹنے کے واقعات پیش آئے۔ سام سنگ کی جانب سے یہ بیان مہینوں سے جاری تحقیقات کے مکمل ہونے کے بعد جاری کیا گیا، بیان کے مطابق ‘کمپنی اپنی مصنوعات کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جس کہ وجہ سے گلیکسی ایس کے نئے فون کی لانچنگ میں بھی تاخیر کا امکان ہے’۔ گزشہ برس لانچ ہونے والے نوٹ 7 کی بیٹریاں پھٹنے کے واقعات کے بعد سام سانگ نے اکتوبر 2016 میں باضابطہ طور پر اس فون کو ختم کرنے کا اعلان کیا تا کہ کئی ماہ سے اس ڈیوائس کی خطرناک بیٹریوں سے پیدا ہونے والے بحران سے خود کو باہر نکال سکے۔

نوٹ سیون کو ختم کرنے کی وجہ سے سام سنگ کو 5.3 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سام سنگ موبائل کے چیف کوہ ڈانگ جن کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ بیٹرویوں کو پھٹنے سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کمپنی صارفین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرے گی۔ ڈانگ جن نے گلیکسی ایس 8 کو آئندہ ماہ موبائل ورلڈ کانگریس میں متعارف کرانے کا اعلان کیا تا ہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فون صارفین کو کب سے دستیاب ہو گا۔ بیٹریاں پھٹنے کے واقعات سے قبل ماہرین نے اسے موجودہ دور کا سب سے بہترین اسمارٹ فون قرار دیا تھا تا ہم بیٹری مسائل کے بعد کمپنی نے صارفین کو فروخت ہونے والے 96 فیصد یعنی 30 لاکھ سے زائد فون واپس منگوائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سام سنگ، نوٹ 7 کے ری فربشڈ فون فروخت کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

طیبہ ہمارا زنگ آلود آئینہ ہے

ان دنوں چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں ایک دس سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا کیس زیرِ سماعت ہے۔ چونکہ ہمارے تفتیشی و عدالتی نظام کو ہر طرح کی دیمک لگی پڑی ہے لہذا چیف جسٹس کو ایک ایسے کیس میں بھی از خود نوٹس لینا پڑا جسے مہذب معاشروں میں نچلی عدالتیں ہی تسلی بخش انداز میں نمٹانے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہیں۔ فرض کریں چیف جسٹس کمال مہربانی سے کام لیتے ہوئے طیبہ کیس کا ازخود نوٹس نہ لیتے تو کیا ہوتا ؟ اس کیس کے مرکزی کردار اسلام آباد کے معطل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ محترمہ ماہین ظفر آج بھی ایک معزز قانون پسند شہری کہلاتے۔ سوشل میڈیا پر جب پہلے پہل طیبہ کی تشدد زدہ تصاویر کسی نے پوسٹ کیں تو عزت ماآب خرم علی خان نے ایف ائی اے کے سائبر کرائم ونگ سے تحریری مطالبہ کیا کہ اس جھوٹی بے بنیاد کردار کشی کے ذمے داروں کا پتہ چلا کر انھیں ’’ قانون ’’کی گرفت میں لایا جائے۔

شائد کسی ہمسائے کی رپورٹ پر پولیس نے طیبہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اسسٹنٹ کمشنر پھوٹوہار نیشہ اشتیاق کے روبرو بچی نے اپنے  بیان میں کہا کہ جھاڑو گم ہونے پر باجی نے اس کے ہاتھ چولہے پر رکھ دیے اور اس کے چہرے اور جسم پر جو نشانات ہیں وہ تشدد  کے ہیں۔ اس بیان کی میڈیا میں تشہیر کے ایک آدھ دن بعد پولیس کو بھی شائد اندازہ ہو گیا کہ اس نے کسی ’’طاقتور مچھلی‘‘ پر کانٹا ڈال دیا ہے۔ چنانچہ اگلے بیان میں وہی طیبہ  ایک نئے روپ میں سامنے آئی اور کہا کہ ہاتھوں پر زخم کے نشانات چولہے پر رکھنے سے نہیں بلکہ گرم چائے کا برتن  الٹنے سے پڑے۔ چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر جو نشانات ہیں وہ دراصل پٹائی کے نہیں بلکہ سیڑھیوں پر سے گرنے کے سبب ہیں۔ اس دوران پولیس نے میڈیکو لیگل رپورٹ بھی حاصل کر لی جس میں تصدیق کی گئی کہ گرم چائے اور سیڑھی  سے گرنے کے سبب ہی طیبہ کو چوٹیں لگی ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاع آ گئی کہ طیبہ کے والد محمد اعظم نے جج صاحب اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا ہے۔ چنانچہ بریت کا پرفیکٹ کیس تیار ہوگیا۔

پولیس نے اپنی رپورٹ، میڈیکل رپورٹ اور راضی نامے سمیت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پیش کی۔ جج صاحب نے پولیس و میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں اس راضی نامے کو منظور فرمایا۔ برادر جج خرم علی خان کی اہلیہ کی بعوض تیس ہزار روپے ضمانت منظور فرمائی اور طیبہ کو بھی باپ کے حوالے کردیا۔ یوں سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ کاش معافی نامہ قبول کرنے اور ملزم جج صاحب کی اہلیہ کی ضمانت منظور فرمانے کے دوران جج عطا ربانی نے کسی فریق سے یہ بھی پوچھ لیا ہوتا کہ طیبہ کو ایک ہی کیس میں دو بیانات کیوں بدلنے پڑے ؟ ان دونوں بیانات میں زمین آسمان کا فرق کیوں ہے ؟ اگر طیبہ کے ہاتھ چولہے کے بجائے گرم چائے سے جلے اور اس کی آنکھوں کے اردگرد سیاہ حلقے اور دھڑ پر نیلے نشانات تشدد سے نہیں بلکہ سیڑھیوں پر سے گرنے کے سبب ہیں تو پھر طیبہ کے والد نے جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کو آخر کس خطا پر معاف کر دیا ؟

یہاں سے آنر ایبل سپریم کورٹ منظر میں داخل ہوتی ہے اور تمام متعلقہ ریکارڈ اور فریقوں کو بشمول طیبہ طلب فرماتی ہے۔ اور پھر پتہ چلتا ہے کہ طیبہ اور اس کا باپ لاپتہ ہیں۔ سپریم کورٹ جب ان کی بازیابی کا حکم دیتی ہے تو بھاگ دوڑ کے بعد پولیس بالاخر دونوں کو برآمد کر لیتی ہے۔ حالانکہ اتنے ٹوپی ڈرامے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پولیس کی آنکھ سے تو دراصل دونوں ایک لمحے کے لیے بھی اوجھل نہ ہوئے تھے۔ اور پھر حقیقت پیاز کے چھلکوں کی طرح کھلتی چلی جاتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے روبرو طیبہ کا والد بیان دیتا ہے کہ اس کی بچی کو ایک عورت نے دو برس پہلے فیصل آباد میں کام دلانے کے وعدے پر ساتھ لیا اور چلی گئی۔ تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور اٹھارہ ہزار روپے ایڈوانس طے ہوئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ بچی کو فیصل آباد نہیں اسلام آباد لے گئی ہے۔ دو برس میں میری طیبہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی بس دو بار فون پر بات ہوئی۔ جب طیبہ پر تشدد کی خبریں میڈیا پر آئیں تو ایک دن ایک وکیل صاحب گاڑی میں آئے اور مجھے طیبہ سے ملوانے کے وعدے پر اسلام آباد لے گئے۔

یہاں انھوں نے کہا کہ اگر طیبہ کی واپسی اور کچھ پیسے چاہتے ہو تو اس کاغذ پر انگوٹھا لگا دو ورنہ تم طیبہ کی شکل نہ دیکھ سکو گے۔ میں ان پڑھ آدمی ، میں نے انگوٹھا لگا دیا۔ پھر وکیل مجھے عدالت میں لے گیا اور وہاں جج صاحب نے کاغذ دیکھ کر بچی میرے حوالے کردی۔ اس کے بعد وکیل صاحب ہمیں ایک گھر میں لائے جہاں ایک باوردی شخص بھی تھا۔ اس نے میرے فون سے سم نکالی اور چلا گیا۔ معطل جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ نے یہ بیان دیا کہ طیبہ ان کے بچوں جیسی ہے ہم تو تشدد کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہم اس سے کوئی اضافی کام نہیں لیتے تھے۔ وہ صرف ہمارے چھوٹے بیٹے کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ جس عورت نے طیبہ کو ہمارے ہاں رکھوایا اسے ہم نے بیالیس ہزار روپے بطور ایڈوانس دیے تھے۔ ایک دن طیبہ باہر گئی اور پھر ہمیں پتہ چلا کہ اسے پولیس لے گئی اور پھر ہماری کردار کشی شروع ہوگئی۔ یہ ہمسائیوں کی سازش ہے جنہوں نے ہمیں اس جھوٹے کیس میں پھنسوا دیا۔

عدالتِ عظمی کے حکم پر طیبہ کا پمز کے ڈاکٹروں پر مشتمل جس خصوصی ٹیم نے دوبارہ معائنہ کیا اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ طیبہ کے جسم پر تشدد کے بائیس نشانات ہیں اور ان کی نوعیت حادثاتی نہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن نے عدالتِ عظمی کے حکم پر جو انکوائری رپورٹ تیار کی اس میں معطل جج کی اہلیہ کو تشدد کا ذمے دار اور جج صاحب کو بلاواسطہ ذمے دار ٹھہرایا گیا۔ نیز ایک کمسن بچی کو ملازمت دے کر بچوں سے مشقت نہ لینے کے قانون کو بھی پامال کیا گیا۔ اس پامالی کے دائرے میں طیبہ کے والدین کو بھی شامل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق طیبہ کے ناخواندہ باپ سے صلح نامے کے نام پر جعلسازی کی گئی۔

اس کیس کا جو بھی فیصلہ ہو۔ کچھ باتیں فیصلے سے قطع نظر آئینے کی طرح شفاف ہیں۔ اول یہ کہ ایک عام آدمی سے زیادہ ایک جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی معاملات اور پیشہ ورانہ ذمے داریاں ہر ممکن دیانت سے نبھائے گا۔مگر جج خرم علی خان نے جو کچھ بھی کیا یا کہا اس سے ایک شفاف تاثر کی مکمل نفی ہوتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جب موصوف عدالت لگاتے ہوں گے تو ان کے روبرو کٹہرے میں کھڑے ملزموں کو کس معیار کا انصاف ملتا ہو گا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیریں عدالت کے ایک جج نے دوسرے جج کو بچانے کے لیے مختصر سماعت میں ہی  راستہ نکال لیا۔ بعد میں اس فیصلے کے بارے میں عدالت عظمیٰ نے یہ رائے دی کہ مذکورہ جج نے کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے عمل میں دستیاب حقائق کی مکمل چھان پھٹک کے بجائے جلد بازی سے کام لیا۔

اس کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سے وکلا  اپنے پیشے کی حرمت کو بلند رکھنے کے بجائے دلالی و دھوکا دہی کو بھی شائد قانونی پریکٹس کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ کالے کوٹ میں کالی بھیڑیں ہیں۔ یہ کالی بھیڑیں سفید بھیڑوں کے ریوڑ میں بھی شامل ہیں۔ حالانکہ سفید بھیڑیں بظاہر کلر بلائنڈ نہیں ہیں۔ اس کیس نے ایک بار پھر آشکار کر دیا کہ ’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی ’’ کا عملی مطلب  ہے ’’ پولیس کا ہے فرض مدد طاقت کی ’’۔ اگر سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو سوچئے طیبہ پر تشدد کے بارے میں دوسری بار شفاف تحقیقات یا دوسری بار ایک شفاف میڈیکل رپورٹ کا سامنے آنا کتنا ممکن تھا ؟ اس کیس نے یہ بھی بتا دیا کہ صرف غربت بنیادی سبب نہیں بلکہ ایک پوری مافیا ہے جو اس غربت کو ایکسپلائٹ کر کے کم عمر گھریلو ملازموں کی سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کنٹرول کرتی ہے اور اس مافیا کے بے اثر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔کون ہے جو سستے اور بے زبان غلام نہیں چاہتا ؟

اس کیس نے یہ بھی بتا دیا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ بچوں سے مہربانی اور پیار سے پیش آؤ تو اس سے مراد ذاتی بچے ہیں۔ بھلے ہم اس بابت کتنے ہی نیک بھاشن دے لیں۔ میں گھریلو ملازموں اور جبری مشقت کے شکار بچوں کے اعداد و شمار کے جنگل میں نہیں گھسنا چاہتا۔ بس اپنا ٹیسٹ خود لے لیجیے۔ کیا آپ کے گھر میں جو نو عمر بچہ یا بچی کام کرتی ہے اسے وقت پر وہی کھانا ملتا ہے جو آپ کے شہزادے اور  شہزادی کو ؟ کیا آپ کو کبھی خیال آیا کہ اس بچی کو بھی پڑھنے لکھنے کے لیے کام سے تھوڑا سا وقت ، فیس ، یونیفارم اور کتابیں ملنی چاہئیں؟ کیا جو بچی آپ کے گول مٹول شہزادے یا شہزادی کو گود میں اٹھا کر یا اس کی پرام کھینچ کر کسی ریسٹورنٹ میں جاتی ہے۔ اسے روزانہ نہیں تو ہر دوسری یا تیسری آؤٹنگ میں وہی برگر دلوایا جو آپ کا شہزادہ روزانہ اس کے سامنے بیٹھ کر کھاتا ہے ؟ کبھی سوچا اگر آپ کا  شہزادہ کسی گھر میں سولہ سولہ گھنٹے کام کرے اور پھر گھر کے اسٹور میں جا کر بوری پر گر کے سو جائے؟ ایسا نہیں ہوا نا؟ خدا کرے ایسا ہو بھی نا۔ تو پھر اس نعمت کا شکر ادا

کرنے کا درست طریقہ کیا ہے؟

تشدد صرف جسمانی تھوڑا ہوتا ہے؟

وسعت اللہ خان

میری ڈیجیٹل زندگی اور موت

سوچا ہی نہ تھا کہ پچھلے تیس برس میں زندگی کتنی آسان ہو جائے گی۔ میری نسل آخری پری ڈیجیٹل ایج نسل ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دو ہزار چالیس یا پچاس کے کسی ایک دن آپ کی کلائی پر بندھے گھڑی کے سائز کی ایک ہزار ٹیٹرا بائٹ طاقت والی کمپیوٹر اسکرین پر یہ خبر ضرور چمکے گی کہ آج پری ڈیجیٹل دور کے آخری انسان جان سنو کا بفلو میں انتقال ہوگیا۔عین ممکن ہے کوئی عجائب گھر جان سنو کے جسد کو حنوط کر کے کانچ کے شو کیس میں رکھ دے۔ بالکل ویسے جیسے قاہرہ کے عجائب گھر میں نو فراعینِ مصر کی لاشیں مصالحہ لگا کر رکھی گئی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے کوہ الپس کی اونچائیوں میں برف تلے دبے پتھر کے زمانے کے انسان کی محفوظ لاش کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ تا کہ آج کی نسل اپنے پرکھوں کے بارے میں مزید جان سکے۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ سوچا ہی نہ تھا کہ پچھلے تیس برس میں زندگی کتنی آسان ہو جائے گی۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ ہو گا اگر میں کہوں کہ کتنی بدل جائے گی۔زندگی بدلتی ہے تو اقدار بھی بدل جاتی ہیں۔ جیسے میری نسل ڈیجیٹل دور کی جزوی اور میرے بچے کلی تبدیلی کے دور میں جی رہے ہیں۔ مثلاً جب پری ڈیجیٹل ایج میں اگر کوئی رشتے دار مر جاتا تو ہمیں چل کے جانا پڑتا۔ انتظامات میں ہاتھ بٹانا پڑتا تھا۔ رونے والوں کو اور پھر میت کو کاندھا پیش کرنا پڑتا۔ قبرستان سے واپسی پر دعائے مغفرت کے بعد نیاز چکھنے کے بعد کہیں سرگوشی میں رخصت طلب کی جاتی۔ اب کتنا آسان ہوگیا ہے۔ فیس بک یا ایس ایم ایس یا وٹس ایپ کے ذریعے کسی کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو ہم رئیل ٹائم میں اناللہ ٹائپ کر کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہو جاتے ہیں۔ مگر اناللہ تو ہم جیسے بڈھے توتے لکھتے ہیں۔ آج کل ریسٹ ان پیس زیادہ ٹرینڈی اور آر آئی پی تو بہت ہی کول اور ڈینڈی ہے۔

ہم پری ڈیجیٹل ایج والوں کو سالگرہ میں چل کے جانا پڑتا تھا اور وہ بھی تحفہ لے کر۔عید پر کارڈ خرید کے پوسٹ کرنا پڑتا تھا اور یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔عید سے پہلے سجنے والے بیسیوں اسٹالز پر جا کے کارڈ پسند کر کے انھیں لفافے میں ڈال کر گیلے لبوں سے گوند سے آلودہ لفافے بند کر کے سپردِ ڈاک کرنا پڑتا۔ یہ رسم بھی تھی اور سماجی مجبوری بھی۔ اب کتنا آسان ہے۔ سالگرہ کا ڈیجیٹل کیک، کھلوے اور ہیپی برتھ ڈے کا جگل سب کچھ ایک کلک میں یہاں سے وہاں۔ نہ بھیجنے والے کو کوئی خلش نہ وصول کرنے والے کے دل میں میل۔

پری ڈیجیٹل ایج میں تازہ اور فحش لطیفے تب نصیب ہوتے تھے جب بے تکلف دوست آپس میں مل بیٹھتے تھے۔ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ قہقہوں کے درمیان کب دوپہر سے شام ہوگئی۔ آج چونکہ ’’ٹائم از منی‘‘ ہے لہذا کسی بھی اچھے جملے یا لطیفے پر کھل کے قہقہہ لگانا بھی وقت ضایع کرنے جیسا لگتا ہے۔ اتنے وقت میں آدمی چار پیسے اور کمانے کے بارے میں کیوں نہ سوچے۔ اب ایل او ایل (لول) کا زمانہ ہے۔ بلکہ لول لکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ایک ہنستے مسکراتے کارٹونی چہرے کا ٹمپلٹ جواباً بھیج دینا کافی ہے۔ آپ بھی خوش لطیفہ بھیجنے والا بھی شاداں۔

پری ڈیجیٹل ایج میں کوئی کالم یا مضمون یا تبصرہ پڑھ کے ہم جیسے کھوسٹ اسے پسند یا مسترد کرتے تھے۔ پڑھنے اور پھر اسے سمجھنے اور پھر لطف اندوز یا جز بز ہونے میں کچھ وقت لگتا تھا۔ مگر ڈیجیٹل ایج میں ہر آدمی کی رفتارِ پڑھت روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز ہے۔ ادھر میرا کالم فیس بک پر لگا نہیں اور صرف تین سیکنڈ بعد پہلا لائیک آیا نہیں۔ میں حیران ہو جاتا ہوں کہ لائک کرنے والا کتنا لائق ہے کہ تین سیکنڈ میں پڑھا سمجھا اور رائے بھی دے دی۔ میری نسل کے لوگ دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیں کہ کیا ہم ایسا کر سکتے تھے؟ پھر بھی ہم ڈیجیٹل نسل کو کوسنے سے باز نہیں آتے کہ کم بخت پڑھتے نہیں۔

پری ڈیجیٹل ایج  میں سے ہر ایک کے محض چار پانچ ہی قریبی دوست اور دس بارہ جاننے والے ہوا کرتے تھے۔ کوئی پچاس اجنبی ایسے بھی تھے جو ہمارے اور ہم ان کے چہرہ شناس ہوتے تھے۔ راہ چلتے یا بس میں مل گئے تو مسکرا کے دیکھ لیا۔ اب اتنا کشٹ اٹھانے اور بھلمنساہٹ دکھانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس کسی بھی سوشل سائٹ پر ایک اکاؤنٹ بنانا ہے۔ دو چار مہینے میں چار لاکھ دوست بن جائیں گے۔ جو ڈیجیٹلی وفادار ہوں گے، ڈیجیٹلی محبت کریں گے اور ان میں سے ہزاروں تو وقت پڑنے پر آپ کے ساتھ کھڑے ہونے حتی کہ جان نچھاور کرنے کا بھی وچن دیں گے۔ لیکن جب سے پرویز مشرف کے ساتھ ڈیجیٹل دوستوں نے ہاتھ کیا ہے اس کے بعد کم ازکم ہم جیسے تو خاصے محتاط ہو گئے ہیں۔ غالبؔ ہم سے بھی زیادہ سیانا نکلا۔ اس نے پونے دو سو برس پہلے ہی سوشل میڈیا کی دوستیوں پے تین حرف بھیج دیے تھے۔

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی  نہ زیاں تھا نہ سود تھا

پری ڈیجیٹل ایج میں ہمیں بھیس یا بہروپ بدلنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے تھے۔ اب کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ نذیر صاحب جب بیمار پڑے اور انھوں نے فیس بک پر لکھا کہ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں تو پورے چوبیس گھنٹے میں صرف تین لوگوں نے لکھا ارے کیا ہوا؟ اپنا خیال رکھئے، گیٹ ویل سون وغیرہ۔ نذیر صاحب کا دل ٹوٹ گیا۔ انھوں نے اسی وقت نیلوفر زیرو زیرو سیون کے نام سے ایک ٹویٹ اور ایک فیس بک اکاؤنٹ بنایا اور اس پر لکھا آج میری طبیعت ٹھیک نہیں۔ صرف تین گھنٹے میں دو سو بہتر لائکس، ایک سو نو عیادتی ون لائنرز اور پانچ سو اکیس ٹویٹس آئے اور وہ بھی ہیش ٹیگ نیلوفر از ناٹ ویل کے ساتھ۔ کون کہتا ہے ہمارے معاشرے میں عورت کی قدر نہیں؟ اب نذیر صاحب کو جب بھی بیمار ہونا ہو نیلوفر کے نام سے ہی ہوتے ہیں۔

پری ڈیجیٹل ایج میں ہمیں فزیکلی منہ در منہ لڑائی کرنا پڑتی تھی۔ ہاتھوں سے طرح طرح کے ناقابلِ بیان اشارے کرتے ہوئے گالیاں دینا پڑتی تھی اور اس کے نتیجے میں مار کٹائی اور زخما زخمی ہونے اور تھانے کچہری کی بھی نوبت آ جاتی تھی۔ آج کتنی سہولت ہے آپ کسی بھی فرضی نام مثلاً راکٹ چار سو بیس رکھ کے بغیر سامنے آئے جس کو جو گالی دینا چاہیں ڈیجیٹلی دے سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ قتل بھی کروا سکتے ہیں۔

دامن پے کوئی چھینٹ نہ خنجر پے کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بس اب کچھ ایسا ہوجائے کہ بھوک لگے تو آدمی ڈیجیٹل بریانی و برگر کھا کے نچنت ہو جائے اور پیاس لگے تو گوگل سے ڈرنک ڈاؤن لوڈ کر لے۔ جیسے آپ کتابیں ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں۔ ارے ہاں۔ ہماری وفات پر آر آئی پی لکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کیجیے گا کہ گوگل پر قبرستان کا نام اور ہماری قبر کا نمبر ٹائپ کیجیے گا۔ جب سامنے آجائے تو ویب پیج پر دائیں جانب اوپر سے دوسرا خانہ جس پر دو پھیلے ہوئے ہاتھوں کا  نشان ہیں اس پر ماؤس کا کرسر لا کے کی بورڈ پر ایف دبا دیجیے گا۔ ایف فار فاتحہ۔۔۔۔ایک کلک سے آپ کا کیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے اوپر والا آپ کے طفیل ہماری مغفرت کر دے۔

وسعت اللہ خان

بش کی صلیبی جنگوں کے بعد ٹرمپ کا اسلامی دہشت گردی کاطعنہ

بش نے نائن الیون کے بعد نئی صلیبی جنگوں کا بگل بجایا تھا، اب ٹرمپ نے اسلامی دہشت گردی کے انسداد کا اعلان کیا ہے، ذرا پیچھے جائیں تو ریگن نے نئے ورلڈ آرڈر کو مسلط کیا تھا۔ وہ دن اورا ٓج کا دن امریکہ اور اہل مغرب عالم اسلام کے درپے ہیں اور ایک کے بعد ایک اسلامی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ دنیا بیوقوف ہے۔ اس وقت ٹرمپ کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں مگر کیا مجال کسی ایک جلوس میں ٹرمپ کی اسلام دشمنی کے خلاف نعرہ بلند کیا گیا ہو۔ یا اس کی مذمت میں کسی نے لب کشائی کی ہو۔

عالم ا سلام کو اچھی طرح احساس ہے کہ امریکہ نام بدل بدل کر ، ایک ہی پالیسی پر گامزن ہے اور اور وہ ہے مسلم ہولو کاسٹ۔ تاریخ جانتی ہو گی کہ ہٹلر نے کتنے یہودیوں کو ہولوکاسٹ کی بھینٹ چڑھایا تھا مگر آج لوگ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم دنیا میں ہر روز ایک نیا ہولو کاسٹ برپا کیا جارہا ہے۔ اور دنیا یہ بھی دیکھ چکی ہے کہ صرف اسرائیل نے کتنے لاکھ فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام سے ہاتھ رنگے ہیں۔

 

لیبیا میں کرنل قذافی کو نیٹو طیارے سے چلائے جانے والے میزائل سے ڈھیر کیا گیا، عراق میں صدام حسین کوپھانسی پر لہرا دیا گیا اور لاکھوں کی تعداد میں عراقی مسلمانوں کو کروز اور ڈرٹی بموں سے تہہ تیغ کر دیا گیا، افغانستان تو ہمارے ہمسائے میں ہے، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس ملک میں کتنے لاکھ مسلمانوں کو کارپٹ بموں سے شہید کیا جا چکا ہے اور تورا بورا کا کس طرح فلوجہ بنا دیا گیا۔ شام کے مسلمانوں کے قتل عام کو دیکھ کر چشم عالم بھی نمناک ہے ۔ پاکستان میں ایک لاکھ کے قریب بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی جن میں صرف ڈیڑھ سو مصوم بچے تو پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے تھے۔ اور ہمارے ہی ہمسائے میں کشمیریوں کی زندگی کس طرح جہنم بنا دی گئی ہے۔

یہ سب کس کی دہشت گردی ہے، کیا یہ مسلم دہشت گردی ہے۔ یا امریکی بی باون کی دہشت گردی۔ امریکی کروز میزائلوں کی دہشت گردی، امریکی ڈرون طیاروں کی دہشت گردی اور مسلمانوں کے بھیس میں دہشت گردوں کی نان اسٹیٹ ایکٹرز کی شکل میں جو نئی فوج ظفر موج کھڑی کر دی گئی ہے، اس کی دہشت گردی۔ ٹرمپ کیا نیا کام کیا کرے گا، کچھ بھی نہیں ، وہی قتل و غارت کا پرانا، آزمودہ کھیل جو امریکہ ایک زمانے میں ویت نام میں کھیل چکا ہے ، اس سے پہلے اس نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے دو جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا کر ہلاکو خانی کا مظاہرہ کیا تھا، ٹرمپ یہی کرتا رہے گا، امریکہ کو یہی ایک فن آتا ہے، ہر امریکی صدر یہی کچھ کرتا چلا آیا ہے، سینئر بش، جونیئر بش، اوبامہ اور اب ٹرمپ کی باری ہے۔

مگر امریکی عوام کا ایک حصہ ٹرمپ کے گناہوں کی پردہ پوشی کے لئے اس کےخلاف نعرے لگاتا رہے گا، سی آئی اے کا چیف جو کئی اسلامی ملکوں پر ڈرون طیارے مارتا رہا ہے، وہ ٹرمپ کے خلاف بول کر کلمہ حق کہنے کا کریڈیٹ لینا   چاہتا ہے، صرف اس لئے کہ ا سے علم ہے کہ ایک تو وہ ٹرمپ کے مسلم کشی کے احکامات کی سر جھکا کر تابع داری کرتا رہے گا، دوسری طرف وہ مطمئن ہے کہ اس کی آئینی ٹرم کے دوران ٹرمپ اس کو تبدیل کرنے کی مجال نہیں رکھتا، اس لئے مسلمانوں کو احمق اور الو بنانے کے لئے اس طرح کے کلمہ حق کہنے والے بہت سے امریکی سا منے آئیں گے۔ مگر ٹرمپ کے دست قاتل کو روکنے کے لئے کوئی بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔

عالم اسلام کی بدقسمتی ہے کہ ا سی طرح مار کھاتا رہے گا،ا س لئے کہ اس میں انتشار ہے، عدم اتحاد ہے، نفاق ہے، کہاں ایک مسلم خلافت ہوتی تھی، کہاں اغیار نے سازشوں سے ہمیں چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹا، پھر صوبائیت، علا قائیت، فرقہ واریت، لسانیت کے فتنے جگائے، ایک زمانے میں ترک خلافت کے حصے بخرے کرنے کو بالکنائزیشن کا نام دیا گیا، پھر مزید ٹکڑے کرنے کے لئے ہالبر و کنائزیشن کا عمل شروع ہوا، ہال بروک اس دنیا سے چلا گیا مگر اس کی بد روح ہمارا پیچھا کرر ہی ہے۔ ہمیں عرب و عجم کی تفریق سے نہیں نکلنے دیا جاتا۔ سعودی عرب اگر کوئی فوجی اتحاد بناتا ہے ہے تو ہمارے بکاﺅ دانشور اسے سنی اتحاد کی گالی دیتے ہیں اور مغرب اسے اسلامی نیٹو کی گالی دیتا ہے، مگر یورپی نیٹو پر کسی کو اعتراض کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔

جنرل راحیل نے ا س اتحاد کو جوائن کیا یا نہیں مگر انہیں ہمارے ہی میڈیا نے مغلظات سے نوازا، انہیں راحیل صلاح الدین ایوبی شریف کہا گیا، کسی نے انہیں ریال شریف کا نام دیا اور یہ جو ترکی کی فوج نیٹو کا مال کھا رہی ہے اور ہم بھی نیٹو کے سامنے کھسیانی بلی بنے بیٹھے ہیں، اور نان نیٹو اسٹیٹس پر ناز کرتے ہیں ، ہمیں بھی تو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے، نان نیٹو اسٹیٹس سے ہمارے برا ٓمد کنندگان نے کتنے یورو کمائے، ان کو بھی تو کسی لقب سے نوازا جانا چاہیئے۔، اکیلے راحیل شریف فائر کی زد میں کیوں ہیں۔

ہماری کوئی ایک بدقسمتی ہو تو اس کا رونا روئیں۔ ایک اسلامی کانفرنس بنی تھی جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔ عرب لیگ غیر فعال ہے، خلیجی تعاون کونسل بھی عضو معطل ہے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا کہیں اتہ پتہ نہیں ملتا۔ سارک کو بھارت نے ڈس لیا ہے ۔ کیا بتائیں کہ کس حال میں ہیں یاران وطن۔ امریکہ اور اہل مغرب ،عالم اسلام کی ان کمزوریوں کا فائدہ کیوں نہ اٹھائیں گے، پاکستان سے توقعات وابستہ تھیں ، یہ واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے مگرا سے داخلی سر پھٹول کا شکار بنا دیا گیا ہے،اس صورت حال میں ٹرمپ تو کھل کھیلے گا ہی، اس کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ عالم اسلام کی پٹائی کے لئے اغیار متحد ہیں۔ ادھر ہمارا شیرازہ بکھر چکا ہے ۔ ٹرمپ کا دور مسلمانوں کے لئے بد تریں ثابت ہو گا۔ اللہ پناہ میں رکھے مگر خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

  اسد اللہ غالب

متنازع معاملات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک مؤقف

اب جبکہ امریکی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے عہدہ سنبھالنے والے ہیں تو دنیا اپنی سانسیں روکے ہوئے ہے۔ ان کے قابلِ بھروسہ ہونے کے حوالے سے اٹھتے سوالات کی وجہ سے واشنگٹن بے حد غیر یقینی کا شکار ہے۔ ان کے انتخاب نے ملک کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تقسیم کا شکار بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کے بطور 45 ویں امریکی صدر حلف اٹھانے کے ایک دن بعد سینکڑوں اور ہزاروں خواتین کی جانب سے واشنگٹن مارچ متوقع ہے۔ دنیا کا مضبوط ترین عہدہ سنبھالنے والے شخص کے لیے یہ سازگار شروعات نہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پال کرگمین لکھتے ہیں کہ “امریکا میں واضح طور پر حکمرانی نااہل ترین شخص کے ہاتھ میں آئی ہے۔” پال مزید لکھتے ہیں کہ “چوں کہ ٹرمپ صدر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں، صرف اس بناء پر ان کا احترام نہیں کیا جانا چاہیے.”

نئے آنے والے صدر کی مشکوک اخلاقی اور سیاسی ساکھ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکا غیر یقینی حالات کی جانب گامزن نظر آ رہا ہے۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی انہیں قابو میں رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں. ان کا اپنے ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں سے تنازع چل رہا ہے، جن کا موازنہ وہ نازیوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی تعریف، اور یہ الزام کہ صدارتی انتخابات کے نتائج میں روس کا اثر شامل تھا، نے نئے صدر پر عدم اعتمادی کو مزید بڑھایا ہے۔ چند دن قبل لیک ہونے والی ایک غیر تصدیق شدہ انٹیلیجنس معلومات میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ماسکو کے ایک ہوٹل میں ٹرمپ کو سیکس ورکرز کے ساتھ فلما کر روس ٹرمپ کو بلیک میل کر چکا ہے؛ اس طرح نئے صدر کئی امریکی افسران کی نظر میں ایک ‘سیکیورٹی رسک’ بن چکے ہیں۔

اس شک پر اسرائیلی اخبارات میں شائع ایک خبر میں مزید روشنی ڈالی گئی ہے جس کے مطابق امریکی افسران نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے وقت ’خیال رکھا جائے’، کیوں کہ اس طرح معلومات روس تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اگر ایک رہنما کی ساکھ اس قدر مشکوک و مشتبہ ہو، تو اس کے بارے میں کوئی سوچنے پر مجبور کیوں نہ ہو؟ اس سے پہلے کسی بھی امریکی صدر کی اہم قومی سلامتی کے معاملات سنبھالنے کی اہلیت کی اس قدر سخت جانچ پڑتال نہیں کی گئی ہے. خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کے عجیب و غریب خیالات عالمی رہنماؤں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ وہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے اور اس دیوار کی قیمت بھی میکسیکو سے وصول کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مگر سب سے زیادہ تشویش ناک بات امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کا فیصلہ ہے. یہ واشنگٹن کی طویل عرصے سے قائم پالیسی سے انحراف ہوگا. امریکا میں جو بھی شخص صدر منتخب ہو، روایت ہے کہ وہ حلف اٹھانے سے قبل موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں پر تبصرہ نہیں کیا کرتا. ڈونلڈ ٹرمپ نے اس روایت کو توڑتے ہوئے فلسطینی زمین پر نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی روک تھام کے لیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی قراداد کو ویٹو نہ کرنے کے اوباما کے فیصلے کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی بستیوں کے حامی وکیل ڈیوڈ فرائیڈمین کو اسرائیل میں سفیر تعینات کرنے کے ارادے کو امریکی اتحادیوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو اس اقدام کو ایک بڑی تباہی کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے مشرق وسطیٰ میں صرف مزید آگ پھیلے گی۔ ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے ٹرمپ نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے داماد جیرڈ کشنر کو مشرق وسطیٰ میں امن سمجھوتہ کروانے کا ٹاسک دیں گے. اس نامعقولی نے نہ صرف فلسطین بلکہ امریکا کے مغربی اتحادیوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ چین بھی ٹرمپ کی سرکش خارجہ پالیسی کی حرارت محسوس کر رہا ہے۔ بطور منتخب صدر، عالمی رہنماؤں کو کی جانے والی ٹیلی فون کالز میں سے ایک تائیوان کے صدر کو بھی کی گئی تھی۔ گزشتہ تمام سابقہ امریکی حکومتیں، چاہے وہ ری پبلکن ہوں یا ڈیموکریٹس، 1979 سے ’ون چائنہ‘ کی پالیسی پر قائم رہی ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران کئی تلخیوں کے باوجود بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی مضبوط ہوئے ہیں۔

ٹرمپ کے تائیوان کی جانب پرتپاک رویوں اور اشاروں سے ایک بار پھر ’ٹو چائناز’ کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یہ بات بیجنگ کے لیے بھی شدید غصے کا باعث بنی ہے اور اس کے یقینی طور پر زبردست علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہوں گے۔ چین نے منتخب صدر پر آگ سے کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ بیجنگ کے پاس پھر اپنی طاقت دکھانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ٹرمپ کی بریگزٹ کے لیے عوامی سطح پر حمایت اور اپنے بیانات میں دیگر یورپی ملکوں کو بھی برطانیہ کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دینے کی وجہ سے انہیں یورپی ملکوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے. ایک انٹرویو میں وہ یورپی یونین کو توڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو جرمنی آنے کی اجازت پر انہوں نے جرمن چانسلر اینگلا مرکل پر عوامی سطح پر تنقید کی، جس پر جرمنی سے شدید ردعمل ابھرا۔ ٹرمپ کے انتخاب نے ایک شدید قوم پرستانہ لہر کو ہوا دی ہے جو کہ یورپی اتحاد کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

ایک دوسرا حساس مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر نظرِثانی کی کوشش میں ہیں۔ یہ معاہدہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں پی 5 پلس ون نے 2015 میں کیا تھا جس کے تحت ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی ایران کی صلاحیت ختم کرتے ہوئے اس پر عائد معاشی پابندیاں ہٹائی گئی ہیں۔ یقیناً واشنگٹن تنہا اس معاہدے کو واپس نہیں لے سکتا مگر اس طرح ایران کے لیے بین الاقوامی دھارے میں دوبارہ آنے کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اب جبکہ وہ صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے ہی ہیں، مگر اب بھی ان کے مسلم مخالف مؤقف میں نرمی کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ اس طرح دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسے اسلامی انتہا پسند گروپس کو مزید تقویت ملے گی۔

مگر افغانستان پر ٹرمپ کی پالیسی کافی حد مبہم نظر آتی ہے جہاں قریب 10 ہزار امریکی فوجی اب بھی دہشتگردوں سے لڑنے میں مصروف ہیں۔ افغان مسئلے پر ان کا مؤقف نہ انتخابی مہم کے دوران اور نہ اس کے بعد دیے جانے والے انٹرویوز میں واضح ہوا۔ مشیر قومی سلامتی کے عہدے کے لیے ان کے نامزد کردہ جنرل مائیکل فلن اور دفاعی سیکریٹری ریٹائرڈ جنرل جیمز میٹس افغان جنگ میں شریک رہے ہیں اور صورتحال سے واقف ہیں، مگر اس وقت ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا جس سے پتہ چلتا ہو کہ آیا نئی انتظامیہ فوجیوں کو وہاں اسی تعداد میں وہاں تعینات رکھے گی یا پھر مزید بڑھائے گی۔ 15 سالہ طویل افغان جنگ کے خاتمے کے کسی سیاسی حل پر بھی کوئی وضاحت نظر نہیں آ رہی ہے۔

ان تمام باتوں میں یقیناً پاکستان کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ کئی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر افغانستان میں صورتحال بگڑتی ہے تو وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مشہور زمانہ ٹیلیفونک گفتگو کے باوجود بھی پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔ سینیٹ اجلاس کے موقع پر جنرل میٹس نے اپنے بیان میں پاکستان سے تعلقات پر ملا جلا پیغام بھیجا۔ جہاں انہوں نے تعلقات مضبوط کرنے کا عہد کیا، وہاں انہوں نے پاکستان کو خبردار کیا کہ وہ اپنی زمین سے دہشتگردی کرنے والے انتہا پسند گروپس کے خلاف کارروائی کرے۔ ٹرمپ کے بارے میں صرف ایک بات متوقع ہے اور وہ ہے ان کا غیر متوقع مزاج۔ اس بڑے عہدے پر ان کی موجودگی سے امریکا اور دنیا میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کانگریس اور مضبوط امریکی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ انہیں قابو میں رکھ سکتی ہیں یا نہیں، اور اگر ہاں، تو کیسے۔

زاہد حسین

کنگڈم آف ہیون

12 ویں صدی کی صلیبی جنگوں کا احاطہ کرتی یہ فلم 2005ء میں ریلیز ہوئی، جس کے ہدایت کار، رزمیہ فلمیں بنانے والے رڈلے سکاٹ ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی اور صلیبی بادشاہوں کے درمیان تاریخی کشمکش کی داستان بیان کرتی اس فلم میں چند تاریخی مناظر کو کمال مہارت سے فلمایاں گیا ہے ،جیسا کہ جنگ حطین اور فتح بیت المقدس کے مناظر اپنی مثال آپ ہیں۔ میں نے رڈلے سکا ٹ کی بہت زیادہ فلمیں نہیں دیکھیں، پھر بھی مجھے کنگڈم آف ہیون اور 2008ء میں ریلیز ہوئی باڈی آف لائیز دیکھنے کے بعد اس بات کا اندازہ ہوا کہ رڈلے دو مذاہب کے اختلاف کو غیر جانبدارانہ طریقے سے پیش کرنے کی کسی حد تک قدرت رکھتے ہیں۔

اس فلم کی کہانی مجموعی طور پر ایک لوہار بیلین (اورلینڈو بلوم) کے گرد گھومتی ہے، جو اپنی بیوی کی موت کے بعد اتفاقی طور پر اپنے گمشدہ باپ بیرون گاڈ فرے (لیام نیسن) سے مل جاتا ہے۔ اطالیہ کے شہر مسینا میں گاڈفرے اپنی موت سے قبل بیلین کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ القدس یعنی یروشلم چلا جائے اور وہاں کے بادشاہ کی خدمت اور مجبوروں و محتاجوں کی حفاظت کرے، لیکن یہاں پہنچ کر بیلین کو ایک نئی سیاسی کشمکش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یروشلم کا بادشاہ بالڈوین چہارم (ایڈورڈ نارٹن) جو جذام کا مریض ہے حالانکہ صلاح الدین ایوبی کا مخالف ہے، اس کے باوجود وہ اس کے خلاف جنگی اقدام کرنے سے گریز کرتا ہے جبکہ دوسری طرف بادشاہ کی بہن و ملکہ یروشلم آئزابیلا (ایوا گرین) ملکہ کا شوہر گائے دی لوزینیان(مارٹن سوکاس) مشترکہ طور پر مسلمانوں کے خلاف محاذ تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

افسانوی اور رومانوی آمیزش کو چھوڑ کر فلم کی کہانی قریباً تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ اگر آپ تاریخی موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور خاص طور پر 11 ویں اور 12 ویں صدی کی دنیا اور اس زمانے کی جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو کنگڈم آف ہیون بہت اچھا انتخاب ہوگا۔ فلم کے جنگی مناظر کو دیکھ کر سنیما ٹوگرافر جان ماتھی سن کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ میرے خیال میں انہوں نے 12 ویں صدی کے جنگ کا نقشہ عین ویسا ہی کھینچ دیا ہے، جیسا اس زمانے کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں نقش ہے۔ فلم کے بیشتر منظرکشی مراکش کے علاقے ورززات میں فلمائے گئے۔

حیران کن طور پرمغربی ممالک میں یہ فلم اتنی پذیرائی حاصل نہیں کرپائی ،جس کی یہ حقدار تھی۔ خصوصاً امریکا و کینیڈا میں تو یہ فلم بری طرح فلاپ ہو گئی، جس کی بظاہر بڑی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ کے متعلق مغربی مورخین نے اس قدر زہر گھولا ہے کہ عام لوگ حقیقی تاریخ کو قبول ہی نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ فلم کے حوالے سے مغرب میں عوامی ردعمل سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے عوام میں مسلمانوں کے حوالے سے یہ تاثر اندر تک راسخ ہو چکا کہ یہ ہمیشہ سے غیر تہذیب یافتہ اور اجڈ قوم رہی ہے اور ان سے یہ بات ہضم ہی نہیں ہوئی کہ محض آٹھ صدیاں قبل یہ بات بالکل الٹ تھی اور مسلمان علم کی شمعیں روشن کیے ہوئے تھے۔

عثمان احمد

امریکی غروب کا آغاز ؟

71 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر کے طور پر حلف اٹھا کر اپنی تیسری اہلیہ کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں براجمان ہو چکے ہیں۔ باراک حسین اوباما اب سابق ہیں۔ اگرچہ کہلائیں گے وہ صدر ہی، امریکی روایت میں عہدے پر فائز نہ رہنے والے صدر کو بھی سابق نہیں کہا جاتا، صدر کہہ کر ہی پکارا جاتا ہے۔ صدر اوباما اور صدر ٹرمپ میں پس منظر، مزاج اور اہداف کے حوالے سے بُعد المشرفین ہے۔ اوباما شکاگو یونیورسٹی میں دستوری قانون (کانسٹی ٹیوشنل لاء) کے پروفیسر رہے۔ پریکٹس بھی کی، بہت کچھ لکھا بھی۔ گریجوایشن کولمبیا یونیورسٹی سے کی تھی، جبکہ قانون کی ڈگری ہارورڈ لاء سکول سے حاصل کی۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے سیاست کے میدان میں ان کا وسیع تجربہ تھا، تین سال (2005-08ء) سینٹ کے رکن رہے۔ 2004ء میں اپنی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے قومی کنونشن میں کلیدی خطاب کیا۔ اس سے پہلے سات سال تک الی نوائس (Illinois) کی سٹیٹ سینٹ کے رکن رہے۔

ایک ہی شادی (مشعل اوباما سے) کی اور ان کی دو بیٹیاں ہیں، جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ ٹرمپ ہوٹلز اینڈ کسینوریزارٹس کے چیئرمین، ٹرمپ آرگنائزیشن کے بانی، چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو ، کاروبار کئی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں۔ وہ کبھی کسی ایوان کے رکن منتخب نہیں ہوئے۔ نہ ہی کسی منصب پر فائز رہے۔ وارٹن سکول آف فنانس سے اکنامکس اور رئیل اسٹیٹ میں گریجوایشن کی اور انہی شعبوں میں کمال دکھایا۔ 2000ء میں ریفارم پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی، لیکن پھر ارادہ بدل لیا۔ 2012 ء میں صدارت کے لئے ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کا خیال آیا، لیکن اسے عملی جامہ نہ پہنا پائے اور اکھاڑے سے باہر ہی رہے۔ تین بار شادی کر چکے ہیں، پہلی دو بیویوں کے ساتھ طلاق کی نوبت آئی۔ تیسری اہلیہ کو وائٹ ہاؤس میں قدم رکھنا نصیب ہوا ہے۔ پانچ بچوں کے والد ہیں۔ 1998ء میں ان کا تعارف موجودہ بیگم میلانیا، جو کہ ایک ماڈل تھیں، سے ہوا، جنوری 2005ء میں ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ ڈونلڈٹرمپ ٹیلی ویژن کی سکرین پر البتہ جوہر دکھاتے رہے اور ان کی فنکارانہ صلاحیتوں نے خود کو منوا رکھا ہے۔

ٹرمپ جب ری پبلکن پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لئے میدان میں اترے تو اسے ایک مذاق سمجھا گیا۔ میڈیا ان کی حمایت کر رہا تھا، نہ کسی پول میں وہ نمایاں تھے، لیکن انہوں نے میدان مار کر ایک عالم کو حیران کر دیا۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے ہیلری کلنٹن مقابل تھیں اور سمجھا یہ جا رہا تھا کہ وہ امریکی تاریخ میں پہلی خاتون صدر کے طور پر اپنا نام لکھوا چکی ہیں۔ ایک بڑے امریکی نیوز میگزین نے تو نتائج کے اعلان سے پہلے ہی سرورق پر ان کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ چھاپ ڈالی تھی۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان تین روایتی مباحثوں کے بعد بھی ہیلری کا پلا بھاری بتایا جا رہا تھا۔ رائے عامہ کا جائزہ لینے والے اداروں کے پولز کے مطابق ہر مباحثہ ہیلری نے جیتا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایک موقع پر بھی اپنی حریف پر بھاری ثابت نہ ہو پائے تھے، لیکن جب نتیجہ نکلا تو ہیلری کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ٹرمپ کے حامی خوشی سے چلاّ رہے تھے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے مہم چلائی اور امریکی میڈیا کو چاروں شانے چت گرا دیا۔

ان کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے لے کر وائٹ ہاؤس میں داخلے تک میڈیا سے ان کی بن نہیں پا رہی۔ سی آئی اے کے سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر تو انہیں کھلم کھلا زبان قابو میں رکھنے کا مشورہ دے چکے ہیں۔ سی آئی اے اور دوسری خفیہ ایجنسیوں پر ٹرمپ بھی علی الاعلان تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے لئے تو بہت کچھ کیا ہے، لیکن عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی اولین ترجیح امریکہ ہے۔ اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور اقتدار عوام تک منتقل کریں گے۔ جب وہ حلف اٹھا رہے تھے تو امریکی تاریخ میں پہلی بار واشنگٹن کی سڑکوں پر احتجاجی نعرے لگ رہے تھے۔ بڑی تعداد میں مظاہرین توڑ پھوڑ میں مصروف تھے۔ 2 سو سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ واشنگٹن سے باہر کئی شہروں، بلکہ کئی ملکوں میں یہی منظر تھا۔

یورپ میں کئی مقامات پر آہ و فغاں جاری تھی اور فلسطین میں بھی ماتم برپا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ صرف روس اور اسرائیل میں مسرت اور اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا کہ روس کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات امریکی ایجنسیوں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایک دورے کے دوران مبینہ طور پر ان کی حرکات وسکنات کی فلمیں تیار کرکے پیوٹن ان کو مٹھی میں بند کرنے کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں۔ اس الزام کی ایک خصوصی کمیٹی باقاعدہ تحقیقات بھی کر رہی ہے کہ روس نے ہیلری کلنٹن کو نقصان پہنچانے کے لئے باقاعدہ مہم چلائی اور ایسی معلومات افشا کیں، جن سے بالواسطہ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا۔ اگرچہ روس اور ٹرمپ کے درمیان کسی ساز باز کی بات تو سامنے نہیں آتی، لیکن روسی مہم جوئی سے ان کو فائدہ پہنچنے کی بات پورے شد و مد سے بیان کی جا رہی ہے۔

ڈونلڈٹرمپ نے امریکہ کے اندر بہت سے حلقوں، خواتین، اقلیتوں اور تارکین وطن کو خوف میں مبتلا کیا ہے اور امریکہ سے باہر بھی روایتی حلیفوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دنیا سے توجہ ہٹا کر اپنے داخل پر مرکوز کرنی چاہیے۔ نیٹو کے حلیفوں کو بھی وہ دھمکاتے اور یورپی یونین کو بھی آنکھیں دکھاتے رہتے ہیں۔ انہیں ’’اکانومک نیشنلزم‘‘ کا علمبردار قرار دیا جا رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کے نتیجے میں امریکی درآمدات اور ’’آؤٹ سورسنگ‘‘ نے امریکہ کے اندر بے روزگاری میں جو اضافہ کیا ہے، وہ اس کو سرمایہ بنائے ہوئے ہیں۔ تارکین وطن ان کو کھٹک رہے ہیں اورمیکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے اعلان نے بھی بہت سوں کو ڈرا رکھا ہے۔ نیٹو کو وہ امریکہ پر بوجھ قرار دے رہے ہیں کہ وہ اس کے اخراجات میں شیرکا سا حصہ ڈال رہا ہے۔

نیٹو حکام اس کی تردید کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نیٹو میں شامل 28 ممالک اپنی آمدنی (گراس نیشنل انکم) کے مطابق اس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس میں امریکہ کا حصہ 22 فیصد جبکہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کا علی الترتیب 14.5 فیصد،11 فیصد اور 10.5 فیصد ہے۔ یروشلم میں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کے اعلان نے اسلامی دنیا تو کیا یورپ کو بھی مضطرب کر رکھا ہے کہ اس کے بعد فلسطین کے مسئلے کے ’’دو ریاستی حل‘‘ کے راستے میں رکاوٹ شدید ہو جائے گی۔ یہ متنازعہ علاقے پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا اور سینوں میں نئی آگ دہکا دے گا۔

پاکستان کو زیادہ پریشانی کی ضرورت یوں نہیں کہ ہمارا انحصار امریکی امداد پر نہیں ہے۔ اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ درست ہے کہ امریکہ کو دشمن بنانا (یا سمجھنا) ہمارے مفاد میں نہیں، اس سے تعلقات کا ر بہر صورت برقرار ہی نہیں ہموار بھی رہنے چاہئیں، لیکن اب ہماری گردن پر وہ انگوٹھا نہیں رکھ سکتا۔ چین کی ویٹو پاور کی موجودگی میں پاکستان کے خلاف کسی کارروائی کو عالمی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگر اپنی روش برقرار رکھیں گے تو ان سے بڑا خطرہ خود امریکہ کو ہوگا کہ اس کے اندر محاذ آرائی بڑھے گی۔ مختلف عناصر ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور یوں سماج تہہ و بالا ہونے کا خطرہ سنگین ہو گا۔ کینسر جسم کے اندر ہی پیدا ہوتا اور اسے لقمہ بنا لیتا ہے۔

امریکہ اگر اپنی عالمی ’’ذمہ داریوں‘‘ کو بوجھ سمجھ کر اٹھانے سے انکار کرے گا تو اس کا اثر و رسوخ بھی محدود ہو گا۔ یہ کئی ترقی پذیر ممالک کے لئے خوشی کی خبر ہو سکتی ہے، لیکن امریکہ کا آفتاب غروب کا سفر تیز کر دے گا۔ آٹھ سال پہلے باراک حسین اوباما پہلی بار صدر منتخب ہوئے تھے تو پوری دنیا میں امریکہ کا سر اونچا ہوا تھا۔ ہر امریکی اپنا سر فخر سے بلند کر سکتا تھا کہ گوروں کی اکثریت کے ملک میں ایک کالے امریکی اور مسلمان باپ کے ایسے بیٹے کو صدر چن لیا گیا ہے جس کے نام میں حسین کا لاحقہ اب تک لگا ہوا ہے۔ امریکی معاشرے کے انسانی چہرے کی اس سے اچھی تصویر اور کیا ہو سکتی تھی۔ دنیا بھر میں اوباما کے زیر قیادت ایک نئے امریکہ کو طلوع ہوتے دیکھا جا رہا تھا اور اس سے امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں۔ اس سے قطع نظر کہ یہ کہاں تک پوری ہوئیں اور کہاں تک نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں تو منظر یکسر بدل گیا ہے۔ خود امریکہ کے اندر انصاف اور انسانیت کا قحط پڑنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ امریکہ کے اندر رہنے والے مختلف طبقات گھبرا رہے ہیں اور اپنے ہی ملک میں اپنے آپ کو غیر محفوظ پا رہے ہیں۔ ڈونلڈٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی ملک کو تقسیم کرکے اسے عظیم بنانے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مجیب الرحمٰن شامی

امریکہ ہار گیا، قوم پرست جیت گئے

وہ بے چین تھے کبھی ٹیلی ویژن کی طرف دیکھتے، کبھی دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو دبانے لگتے، کبھی ٹانگیں سمیٹ کر صوفے پر رکھ لیتے، کبھی اُٹھ کر چلنے لگتے کبھی سگریٹ کے کش لگاتے، کبھی جلدی جلدی کافی کے سپ لیتے، کبھی لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جھک کر کچھ ٹائپ کرنے لگتے۔ اضطراب کی یہ کیفیت کچھ دیر جاری رہی اور پھر اچانک وہ میری طرف مُڑے، مجھے مخاطب کیا اور چیخنے لگے، اُن کی آنکھوں میں غصہ، چہرے پر نفرت اور پیشانی پر تناو کے تاثرات واضح تھے۔ میں نے ٹیلی ویژن بند کیا اُنہیں دونوں بازووں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور میز پر پڑے گلاس سے پانی پینے کا اشارہ کیا۔ اُنہوں نے دو گھونٹ پانی پیا اور پھر سے چلانے لگے

Is this mad Trump will lead the Americans? How Muslims will survive? How our children lives will be safe there

 یہ سوالات میرے پاکستانی دوست سلیمان بشیر صاحب کے تھے جو امریکی شہری بھی ہیں، یہی وجہ تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر کا حلف اٹھانے سے پریشان تھے۔ 20 جنوری 2017ء کی شام یہ سوالات پوری دنیا کے مسلمانوں اور لبرل لوگوں کی زبان پر تھے اور شاید میری طرح کسی کے پاس بھی اِن سوالات کے جوابات نہیں تھے۔ امریکہ سمیت پوری دنیا ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے پریشان کیوں ہے؟ اِس بات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے امریکہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اِس کی کُل آبادی 32,342,5550 ہے جہاں 70.6 فیصد عیسائی، 1.9 فیصد یہودی، 0.9 فیصد مسلمان، 0.7 فیصد ہندو، 0.7 فیصد بدھ مت، 22 فیصد غیر مذہب اور 3.2 فیصد دیگر مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ امریکہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تقریباً دنیا کے ہر رنگ، نسل، ذات اور ثقافت کے لوگ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ یہاں امریکہ کی تاریخ کا مختصر جائزہ امریکہ میں مختلف قوموں اور مذاہب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ آپ نے یقیناً سنا ہوگا کہ امریکا کو 1492ء میں کولمبس نے دریافت کیا تھا مگر یہ تصور مکمل طور پر غلط ثابت ہوچکا ہے۔

امریکی محقق اور لکھاری S.Frederick Star کی تحقیقات کے مطابق کولمبس کی پیدائش سے 490 سال قبل 1003ء میں مسلمان عالم و مفکر البیرونی نے امریکہ دریافت کیا تھا جبکہ 1492ء میں کولمبس یورپ سے وہاں پہنچا۔ 1507ء سے پہلے دنیا اِسے New World کے نام سے جانتی تھی۔ 1507ء میں جرمن جیوگرافر Wald Seemuller نے اِسے پہلی مرتبہ امریکہ کا نام دیا۔ 1607ء میں برطانیہ، فرانس اور اسپین نے عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو ملا کر 13 انگلش کالونیاں آباد کیں اور برطانوی راج قائم کر دیا۔ 1776ء میں وقت نے کروٹ لی اور اِن 13 کالونیوں نے برطانوی ظلم و ستم کیخلاف علمِ بغاوت بلند کر کے 4 جولائی 1776ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور آزاد ریاست قائم کردی جس کا نام ’’United States of America‘‘ رکھا گیا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اُس وقت 5 لاکھ افریقی سیاہ فام اِن کالونیوں میں آباد تھے اور اُن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ 9 ہزار مسلمان امریکی فوج میں شامل تھے اور امریکہ کی جنگِ آزادی کا حصہ تھے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد اگلا مرحلہ امریکہ کیلئے قانون بنانا تھا۔ جارج واشنگٹن نے امریکہ میں تمام مذاہب اور فرقوں سے بالاتر ہوکر قوانین تشکیل دیے جن میں فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہو گا اور تمام امریکیوں کو رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اپنے عقائد، رسم و رواج اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا اور کسی کاروبار، سرکاری نوکری اور یہاں تک کہ ملک کی صدارت کیلئے بھی مذہب کی کوئی بندش نہیں ہو گی۔

 

مزے کی بات یہ کہ 240 سال گزرنے کے بعد بھی یہ قوانین اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جس کا واضح ثبوت 44 واں امریکی صدر سیاہ فام مسلمان باراک حسین اباما ہے۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں کہ جس ملک کو دریافت ایک مسلمان نے کیا ہو، جس کا نام ایک جرمن شہری نے رکھا ہو، جسے برطانیہ و اسپین سے آنے والے عیسائیوں اور مسلمانوں نے آباد کیا ہو جس کی آزادی کیلئے عیسائیوں، مسلمانوں اور یہودیوں نے مذہب سے بالاتر ہوکر اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہوں، جہاں جارج واشنگٹن مسلمانوں کو فوج کی کمان سونپ دیتا ہو، اُس امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو گالیاں دے اور اُن کیخلاف نفرت کے نعرے لگائے، اُنہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دے، اُن کے حقوق کو سلب کرنے کیلئے قانون لانے اور اُنہیں سخت سزائیں دینے کے وعدے کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی عوام ایسے شخص کو واضح برتری کے ساتھ اپنا صدر منتخب کرلیں تو یہ قوم پرستی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ یہ تعصب نظری نہیں ہے تو کیا ہے؟ جمہوری رویوں کا قتل نہیں ہے تو کیا ہے؟

 

آپ وقت کی ستم ظریفی ملاحظہ کریں کہ امریکہ کی قوم پرست ریاستوں میں ٹیکساس، مسی سپی، جارجیا، الاباما، نارتھ کیرولینا، ٹینیسی، آرکنساس، فلوریڈا، لوزیانا، ویسٹ ورجینیا شامل ہیں اور یہاں پر بالترتیب صرف 25.5 فیصد، 19.6 فیصد، 27.5 فیصد، 22 فیصد، 26.5 فیصد، 23 فیصد، 18.9 فیصد، 21.4 فیصد،25.3 فیصد، 17.3 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اِن تمام ریاستوں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح برتری حاصل کی تھی، جو کہ اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ امریکہ کے اَن پڑھ ،اُجڈ، بدمعاش، منشیات فروش اور سب سے بڑھ کر قوم پرست لوگوں نے دیا ہے اور ایسا کر کے تمام امریکی مسلمانوں اور اقلیتوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ اب جارج واشنگٹن کا امریکہ نہیں رہا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے قوم پرستوں اور تعصب کا شکار عیسائیوں کا امریکہ بن گیا ہے۔

جس امریکہ کو دنیا Land of Opportunities (مواقعوں کی زمین) کے نام سے جانتی تھی آج وہ امریکہ ٹرمپ کی بدولت Land of Racist (قوم پرستوں کی زمین) کے نام سے مشہور و معروف ہوتا جا رہا ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب امریکہ کے تابوت میں پہلا کیل ثابت ہو گا اور جو غلطیاں ٹرمپ کرے گا اُس کا خمیازہ امریکہ کو 50 ریاستوں کی بجائے 50 آزاد ملکوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا اور Independent California کا نعرہ اِس کا نقطہ آغاز ہے۔

عمران احمد

شور صرف چند گمشدگیوں پر کیوں؟

وطنِ عزیز میں ماورائے عدالت قتل یعنی پولیس مقابلوں کی ابتدا نواز شریف کے دوسرے دور میں ہوئی، جن میں مارے جانے والے لوگوں کی اکثریت مذہبی کارکنوں کی تھی۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا اور پھر پولیس مقابلوں میں ’افق کے اس پار‘ بھیج دیا جاتا۔ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ جنرل پرویز مشرف کے عہدِ آمریت میں بلوچستان میں تیزی کے ساتھ شروع ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں سامنے آئیں مگر معاملہ سلجھ کر نہ دیا اور طول پکڑتا گیا۔ بالآخر جب یہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو عدالت نے سیکیورٹی اداروں کو اس مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کچھ لوگوں کو بازیاب بھی کروایا گیا۔

پولیس مقابلوں کا سلسلہ مشرف دور میں کسی حد تک جاری رہا۔ پنجاب میں ڈکیتی و قتل و غارت جیسے جرائم میں ملوث افراد کو بھی گزشتہ دورِ حکومت میں ٹارگٹ کیا جاتا رہا۔ نواز شریف کے اس عہدِ اقتدار میں باالخصوص نیشنل ایکشن پلان کے بعد ایک بار پھر جبری گمشدگیوں اور پولیس مقابلوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ شاید ‘سی ٹی ڈی’ کاواحد مقصد ہی یہی ہے اور پالیسی بھی، کہ وہ خود ہی مدعی،منصف اور جلاد ہیں۔ اس مرتبہ ٹارگٹ پھر مذہبی کارکن ہیں جن میں افغان جنگ میں شرکت کرنے والے ماضی کے منظورِ نظر ’مجاہد‘ اوردیگر تنظیموں سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ پولیس مقابلوں میں دیگر جرائم پیشہ افراد کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، مگر اب بھی لاپتہ افراد میں سب سے بڑی تعداد مذہبی رہنماؤں اور کارکنوں کی ہے، جبکہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے قوم پرست کارکنان الگ ہیں۔

اب چند ہفتوں سے جبری گمشدگیوں کی ایک نئی لہر شروع ہوئی ہے۔ اس مرتبہ معاملہ کچھ الگ ہے کہ غائب ہونے والے افراد سوشل میڈیا پر متحرک افراد اور بلاگرز ہیں، جن میں سرِ فہرست سلمان حیدر ہیں جو فاطمہ جناح یونیورسٹی کے استاد بھی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور باالخصوص سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے کہ علم و انسانیت دوست طبقے کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شور شرابے میں مذہبی و لبرل سب لوگوں کی آوازیں شامل ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر کچھ متنازع پیجز کی اشتعال پوسٹس بھی پھیلائی جا رہی ہیں جو لاپتا ہونے والے کچھ بلاگرز سے منسوب کی جا رہی ہیں، مگر اس سب کے باوجود ’تنگ نظروں‘ کا رویہ دیکھیے، کہ بہت سے مذہبی لوگ اس معاملے میں سلمان حیدر و دیگر بلاگرز کے ہمدردوں کی صف میں ہیں کہ اس طرح کے ماورائے آئین اقدامات غلط ہیں۔ اگر ان پیجز یا کسی بھی فورم سے وہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں بھی تو اس کے لیے قوانین موجود ہیں، انہیں قانونی طور پر گرفتار کر کے تحقیقات بھی ہو سکتی ہیں۔

اس وقت ایک طرف سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بلاگرز کے حق میں مظاہرے کر رہی ہیں تو دوسری طرف مذہبی تنظیمیوں نے بھی اپنے سینکڑوں لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لیے مرحلہ وار احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے۔ مطالبہ دونوں کا ایک ہی ہے، ‘لاپتہ افراد کی بازیابی!’ یقیناََ مذہبی تنظیموں کے ان لاپتہ کارکنان پر شدت پسندی اور دہشتگرد تنظیموں سے روابط کے الزامات ہیں، مگر کسی کو شکوک و شبہات کی بناء پر اٹھا کر غائب کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟

معاملہ پولیس مقابلوں کا ہو یا جبری گمشدگیوں کا، دونوں صورتیں ہی ماورائے آئین و قانون ہیں۔ ان کے پیچھے عسکری ادارے ہوں یا پھر سول حکومت کے زیرِ اثر سیکیورٹی ادارے، یہ بہرحال ملک کے نظامِ عدل پر سوالیہ نشان ہیں۔ گزشتہ برسوں کے کچھ اہم پولیس مقابلوں کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح ہوتی ہے کہ مارے جانے والے لوگ فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث رہے۔ اسی طرح ایک ملزم کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کیا گیا مگر بعد میں وہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔

کیا فوجی عدالتیں انہی لوگوں کے لیے نہیں بنائی گئی تھیں جن کے خلاف گواہی دینے سے لوگ خوفزدہ ہوتے یا ججز فیصلہ نہ کر پاتے تھے؟ تو پھر ان کے قیام کے باوجود قانون کے بجائے ایک متنازع طریقہ اختیار کرنے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ ملک میں انتہاپسندی و فرقہ واریت کا فروغ یا پھر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، مگر ان جرائم کے مرتکب افراد کو قانونی طور پر سزا بھی دی جا سکتی ہے تا کہ حکومت یا اداروں پر انسانی حقوق کے حوالے سے کسی قسم کا الزام نہ آئے۔ مگر نجانے کن ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملک کے نظام پر بدنما داغ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک گزارش غیر آئینی کارروائیوں کی زد میں آنے والے لوگوں سے بھی ہے کہ اگر وہ مشترکہ جُد وجہد کریں تو ہوسکتا ہے ان کی کوششیں بار آور ہوسکیں۔ ایک ہی مقصد کے لیے الگ الگ جدوجہد اور پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی اپنے مخالفین میں اضافے کا سبب بھی ہے اور ناکامی کا بھی، اس لیے کچھ وقت کے لیے ہی سہی، ایک دوسرے کے درد کو، جس کی وجہ بھی ایک ہی ہو، محسوس کیا جانا چاہیے۔

یہاں میرا شکوہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی ہے۔ کیا بلوچستان کے لاپتہ افراد کا معاملہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھانے والی ان تنظیموں اور لبرل حلقوں کو چند لوگوں کی گمشدگی یا غیر قانونی حراست سے اس لیے فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ان کا تعلق مذہبی جماعتوں سے ہوتا ہے؟ کیا ہمیں بحیثیتِ معاشرہ کسی شخص کے ساتھ ہونے والی زیادتی اس لیے چھوٹی لگتی ہے کہ وہ شخص ہمارے مذہب و مسلک و مکتبہءِ فکر سے تعلق نہیں رکھتا ؟ یہی بات ان مذہبی حلقوں کے لیے بھی کہوں گا جو اپنے گمشدگان کی بازیابی کے لیے تو بھرپور انداز میں آواز اٹھاتے ہیں، مگر سلمان حیدر کی گمشدگی پر ان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں اور اسے ریاست کا جائز اقدام قرار دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کو کسی بھی قسم کی تفریق کے بغیر تمام لاپتہ افراد کامعاملہ اٹھانا چاہیے۔ صرف یکطرفہ طور پر مخصوص نظریات رکھنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کرنا چاہیے بلکہ بلاتفریق ہر اس انسان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے جس کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہو۔ مذہبی لوگ زیادہ تعداد میں اس طرح کے جبر کا شکار ماضی میں بھی رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ چند لوگوں کی گمشدگی پر جس طرح طوفان برپا کیا جارہا ہے، اس کا کم از کم حصہ بھی مذہبی کارکنوں کے حق کے لیے بھی مختص کیا جانا چاہیے۔

اداروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ کسی شخص کی کسی بھی سرگرمی سے ان کا ‘وقار’ مجروح ہوتا ہے یا پھر ملک کی ‘سلامتی’ داؤ پر لگتی ہے تو قانونی طریقہءِ کار سے اس سے تفتیش کی جائے۔ اس طرح کسی کو بھی غائب کر دینے سے جہاں ان کے اہلِ خانہ شدید کرب و الم کا شکار رہتے ہیں، وہاں عوامی شخصیات کے چاہنے والے بھی مضطرب رہتے ہیں۔ پھر ‘مذہبی انتہاپسندی’، ‘اداروں کے وقار’ اور ‘ملکی سلامتی’ جیسی اصطلاحوں کی بھی تشریح کی جانی چاہیے۔ کیا چیز تنقید ہے اور کیا چیز پروپیگنڈا، اس بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں، جس کی بناء پر کسی کو بھی قصوروار ٹھہرا دینا نہایت آسان ہے۔ چند لغزشوں کے سبب کسی کی زبان گنگ کر دینا ،کسی کے قلم توڑ دینا اور کسی کو ‘وہاں سے ہٹ کرنا جہاں سے پتہ بھی نہ چلے’ جیسے سفاک اقدام کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ اس بات کا تجربہ ہم بار بار کر چکے ہیں۔ اس طرح کرنے سے ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر کچھ لوگ ’گستاخیوں‘ سے باز آجائیں مگر مسائل کے پائیدار حل کے لیے قانون کی بالا دستی ضروری ہے۔

محمد عمار احمد