سورج سے متعلق دلچسپ حقائق

سورج کے گرد نواں میں اہم سیارے گردش کرتے ہیں : عطارد ، زہرہ ، زمین ، مریخ ، مشتری ، زحل ،Uranus ، نیپچون ، اور پلوٹو (جدید تحقیق کی بنا پر پلوٹو کو 2006 میں ہمارے نظامِ شمسی سے خارج قرار دیا گیا ہے)۔

2:سورج نظام شمسی کی 99،85 ÷ کمیت پر مشتمل ہے۔

3:سائز، حرارت اور کیمیائی ساخت کی بناء پر dwarf G2 کے طور پر ایک درجہ بندی کیا گیا سورج، ایک درمیانے سائز کا ستارہ ہے۔ ایک G star تھوڑا ٹھنڈا ہوتا ہے (تقریباً 5000،6000کیلِون کے درمیان درجہ حرارت) اور پیچیدہ کیمیسٹری کا حامل ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے یہ ہیلیم سے بھاری کیمیکلز پر مشتمل ہے۔

4: ایک star G2 کی اوسط زندگی کی بنیاد پر ، سورج کی موجودہ عمر اندازے کے مطابق 4.6 ارب سال ہے.

5: ہر سیکنڈ میں سورج چار ملین ٹن ہائیڈروجن خرچ کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ سورج 75 فیصد ہائیڈروجن، 23 فیصد ہیلئم اور 2 فیصد بھاری عناصر پر مشتمل ہے۔

6: سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ سورج اپنی کور میں جمع شدہ ہائیڈروجن کو اگلے پانچ ارب سال تک جلانا جاری رکھے گا اور اس کے بعد ہیلئم سورج کا پرائمری ایندھن بن جائے گا۔ 7: تقریباً 109 زمین جیسے سیارے سورج کی سطح پر فٹ آسکتے ہیں جبکہ زمین جیسے دس لاکھ سے زیادہ سیارے سورج کے اندر فٹ آ سکتے ہیں۔

8: تقریبا ہر 11 سال بعد سورج مجموعی طور پر اپنی مقناطیسی polarity اْلٹتا ہے اس کا شمالی مقناطیسی قطب جنوبی قطب بن جاتا ہے جبکہ جنوبی قطب شمالی قطب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

9: سورج زمین سے ستارہ قریب ترین ستارہ ہے تقریباً 149.60 ملین کلومیٹر اور 92.96 ملین میل دورہے.

10: اس کی کور پر، سورج کا درجہ حرارت تقریباً 15 ملین ڈگری سیلسئس ہوتا ہے(تقریباً 27 ملین ڈگری فارن ہائٹ)۔

11: سورج اپنے محور پر ہر 25.38 (زمین کے) دنوں یا 609،12 گھنٹوں میں ایک چکر لگاتا ہے۔

12: 100.000.000.000  ٹن بارود سے ہر سیکنڈ میں دھماکہ کیا جائے تو سورج سے پیدا کی گئی توانائی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

13: زمین پر کسی 150 پونڈ وزنی شخص کا وزن سورج پر 4.200 پاؤنڈ ہو گا کیونکہ سورج کی کشش ثقل زمین سے28 گْنا زیادہ ہے۔

14: سورج حرارت اور چارج ذرّات کی ایک اسٹریم خارج کرتا ہے جسے شمسی ہوا کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کہ 280 میل ( 450 کلومیٹر) فی سیکنڈ کی رفتار سے نظامِ شمسی میں سفر کرتی ہیں۔

15: flares Solar (جیٹ کی صورت میں) شمسی ذرّات ہوتے ہیں جو کہ دھماکے سے سورج سے خارج ہوتے ہیں یہ مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ 16: تمام سیارے اپنے اپنے مدار سورج کے گرد گھومتے ہیں اور ایک ہی سمت میں۔۔۔اینٹی کلاک وائز، اور ایک ہی plane پر جسے ecliptic کہا جاتا ہے۔ 17: مصر ، بھارت اور یورپی ، اورMeso امریکی ثقافت، ان تمام خطوں میں جو مذاہب پائے جاتے تھے ان سب سورج کی عبادت کی جاتی تھی۔

18: قدیم مصر میں ، سورج خدا ’’را‘‘ اعلی معبودوں میں سے اہم شخصیت تھا۔ اس نے اعلیٰ درجہ حاصل کیا کیونکہ یہ مانا جاتا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اور آٹھ دوسرے خداؤں کو پیدا کیا ہے۔

19: ztec مذہب میں ، سورج دیوتاؤں Tezcatlipoca اور Huitzilopochtli کی طرف سے وسیع پیمانے پر انسانی قربانی کا مطالبہ تھا۔

20: جاپان میں ، سورج دیوی Amaterasu ، کو کافی اہمیت دی جاتی تھی اور اسے دنیا کی عظیم حکمران سمجھا جاتا تھا۔

21: حروف جن سے مل کر جاپان کا نام بنتا ہے، کا مطلب ہے سورج کو اصل اور اس کے پرچم میں چڑھتے سورج کو دکھایا گیا ہے۔

22: لیبیا میں ، دونوں نر اور مادہ mummies پر ٹیٹوز دریافت ہوئے ہیں جن سے سورج کی عبادت ظاہر ہوتی ہے۔

23: سولہویں صدی میں ، نیکولس کوپرنیکس کا کہنا تھا کہ یہ زمین ہے جو کہ سورج کے اردگرد گھومتی ہے۔ تاہم نظامِ شمسی کے بارے میں کوپرنیکس کے نظرئیے کو کئی سال تک قبول نہیں کیا گیا ، یہاں تک کہ نیوٹن نے حرکت کے قوانین پیش کیے جس سے کوپرنیکس کے نظرئے کو تقویت ملی۔

24: یونانی فلسفی ارسترکھس وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے۔

25: موجودہ ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمسی سرگرمیوں میں اتار چڑھاو زمین پر آب و ہوا میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ، آب و ہوا کے سائنسدانوں اور astrophysicists کی اکثریت پر اس بات پر متفق ہے کہ قدیم اور موجودہ دور میں عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کے لئے سورج ذمہ دار نہیں ہے بلکہ انسانی نسل اس کے لیے زیادہ قصور وار ہے۔

26: ایک دہائی کے دوران سورج کی کرنوں کی پیداوار میں بہت معمولی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ایک فیصد کے دسویں حصّے کے برابر ہو گئی، جو کہ اتنی بڑی تبدیلی بھی نہیں ہے کہ زمین پر درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ناپے جانے کے قابل سگنل فراہم کر سکے۔

حماد انصاری

ملازمت میں ترقی نماز کی ادائیگی سے مشروط

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کے لیے کارکردگی کے علاوہ پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے مشروط ہو گی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا سے سینیچر کے روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے ملازمین کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گی۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفر آباد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں درج ہے کہ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کا کہنا تھا کہ ‘آج کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات ہر کوئی آفیسر و اہلکار نماز کا پابند ہو گا۔ سالانہ ترقی نماز کی باقاعدگی سے مشروط ہو گی۔ دو گروپ بنائیں ایک گروپ کی امامت خود کرواؤں گا جبکہ دوسرے گروپ کی امامت امام مسجد کروائیں گے۔’ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ طور پر چیک بھی کیا جائے گا کہ کون ملازم نماز کی پابندی نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ ‘سرکاری ملازمین اپنے فرائض منصبی پوری محنت، دیانت، خلوص نیت، لگن اور ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر سر انجام دیں علاقائی، لسانی اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کی جانب سے سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کارکردگی کے علاوہ نماز کے ساتھ مشروط کرنے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عام لوگوں کی رائے بھی تقسیم ہے۔

مظفرآباد سنڑل بار کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر احمد ایڈوکیٹ نے اس بیان پر اپنے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے عقیدے کے مطابق نماز فرض ہے اگر کوئی ملازم نماز جیسے فرض کو ادا کرنے میں کوتائی کرتا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ ملازم فرائضں منصبی بھی درست انداز میں ادا کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس نے ملازمین کو فرض پر عمل کرنے کو کہا ہے تو اس میں کوئی عار نہیں کیونکہ بحثیت مسلمان ہم ا س سے انکار نہیں کر سکتے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے امرالدین کا کہنا ہے ‘نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ملازم کی ترقی کارکردگی اور ایمانداری سے مشروط ہونی چاہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازم نماز پڑھے مگر وہ اپنے فرائضی منصبی دیانتداری سے ادا نہ کرے تو کیا وہ ترقی کا مستحق ہو گا۔’ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ نے اس طرح کے احکامات جاری کیے ہیں جس میں سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کارکردگی کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی سے ادائیگی کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل : فلسطینی کے قتل کی سزا پتھراؤ کی سزا سے بھی کم

اسرائیل میں عدالت نے منگل کے روز ایک فوجی اہل کار ایلور ازاریا کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ فوجی نے تقریبا ایک برس پہلے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں زخمی 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایلور کا دعوی تھا کہ فلسطینی نوجوان کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ درحقیقت نہتّا عبدالفتاح زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس دوران ایلور نے عبدالفتاح کے سر میں گولی مار کر اسے قتل کر ڈالا۔

پتھراؤ .. اور قتل

فلسطینی نوجوان کے گھرانے نے اس تخفیف شُدہ سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ایلور کو دی جانے والی سزا.. پتھراؤ کرنے والے فلسطینی بچے کو دی جانے والی سزا سے بھی کم ہے۔ اداروں کا برتاؤ چِیخ چِیخ کر کہہ رہا ہے کہ سب لوگ اس فوجی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ایک طاقت ور نظام قانونی ادارے پر دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ ہر چیز فلسطینیوں کے خلاف اُلٹی صورت میں سامنے آ رہی ہے”۔ ادھر وزارت اطلاعات کے سکریٹری محمود خليفہ نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی عدالت کی جانب سے شہید عبدالفتاح کے قاتل کو 18 ماہ کی تخفیف شدہ سزا اس امر کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کے تمام تر اداروں کو اُس دہشت گردی اور شدت پسندی کی خدمت کرنے کے لیے بھرتی کر لیا گیا ہے جو غاصب ریاستی حکام فلسطین ، اس کے اداروں اور عوام کے خلاف عمل میں لا رہے ہیں”۔

قاتل کا استقبال تالیوں کے ساتھ

محمود خلیفہ کے مطابق قاتل ایلور ازاریا کا عدالت میں تالیوں اور نسل پرستی پر مبنی نعروں کے بیچ استقبال کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام کی عدالتیں جنگی جرائم کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں”۔ دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسی نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ “اسرائیل کا یہ فیصلہ اسرائیلی فوجداری قانون کے تحت لاگو اقدامات کی مخالفت ہے۔ یہ قانون دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قتل کے کسی بھی جرم کی سزا تین برس یا اس سے زیادہ مدت کی قید کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے کی پیروی میں فوجداری قانون کے متعین کردہ اقدامات کی پابندی بھی نہیں کی اور چند منٹوں میں سماعت مکمل کر دی”۔

اسرائیل نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی غلطیوں پر بین الاقوامی قانون کے مطابق محاسبہ کرتا ہے۔ تاہم عملی طور پر اس نے قاتل فوجی کو بین الاقوامی تحقیق یا عالمی عدالتِ جرائم میں پیش ہونے سے بچا لیا۔ اس لیے کہ عالمی عدالت ان جرائم پر نظر نہیں کرتی جن کا فیصلہ اُن ممالک میں دیا جا چکا ہوتا ہے جہاں ان جرائم کا ارتکاب ہوا۔ عدالتی فیصلے کے بعد شدت پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایلور کو فوری طور پر آزاد کیا جائے کیوں کہ وہ ایک قومی ہیرو ہے۔

چینی خاکروب نے تعلیم کے لیے اعلیٰ مثال قائم کر دی

چین کا ایک خاکروب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنی سخاوت اور رحم دلی کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کرچکا ہے کیونکہ اس نے گزشتہ 30 برس میں اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ درجنوں نادار طالب علموں کو تعلیم دلوانے میں خرچ کیا ہے۔ 56 سالہ ژاؤ ینگ جیو نامی شخص گزشتہ 30 برس سے چین کی سڑکوں سے کُوڑا کرکٹ اٹھا رہا ہے اور اب تک اس نے اپنی ماہانہ تنخواہ سے 37 غریب بچوں کو بہترین اسکولوں میں تعلیم دلوائی ہے۔ وہ صبح سویرے سورج نکلنے سے بھی پہلے اٹھتا ہے اور رات کے اوقات گھر واپس آتا ہے جب کہ اس کی تنخواہ 350 ڈالر یعنی پاکستانی 35 ہزار روپے ہے جو خود اس کے لیے بھی کم ہے۔

ژاؤ ینگ جیو کا جذبہ سخاوت سب پر حاوی ہے وہ ہر ماہ اس میں سے ایک بڑا حصہ غریب بچوں کو اسکول پہنچانے میں خرچ کر رہا ہے۔ اب تک وہ 37 غریب بچوں کو اسکول میں داخل کرا چکا ہے اور وہ اس کام کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ژاؤ ینگ کے مطابق وہ 3 عشروں میں 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بچوں پر خرچ کرچکا ہے۔ ایک مرتبہ اسے بہت سے بچوں کی تعلیم کے لیے رقم درکار تھی تو اس نے فوری طور پر اپنا مکان فروخت کیا اور خود کرائے کے مکان میں منتقل ہوگیا۔ چینی سوشل میڈیا پر اس شخص کی قربانیوں اور غریب بچوں سے محبت کو بہت سراہا جا رہا ہے جب کہ لوگ اسے حقیقی ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

کیا ایران اور امریکہ کشیدگی کے نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے جب انھوں نے ایران کو ’دنیا کی درجہِ اوّل کی دہشتگرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کے نئے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

امریکہ سے تعلقات یا روابط رکھنے والے ایرانیوں کے لیے یہ پریشانی کا دور ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آنے والوں پر سفری پابندی والے سات ممالک میں ایران بھی شامل ہے جبکہ بڑی تعداد میں ایرانی نژاد لوگ امریکہ میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں غیر ملکی طلبہ میں ایرانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وزٹ ویزے پر امریکہ آنے والوں میں بھی ایرانی سب سے آگے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کو فی الحال عدالت نے معطل کر دیا ہے۔ پابندی کے اعلان کے بعد بی بی سی فارسی کو ایسے سینکڑوں ایرانیوں کے پیغامات موصول ہوئے جن کی زندگیاں بے یقینی کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے تھا، محققین، طلبہ، ہم جنس پرست تارکینِ وطن، خاندانوں سے ملنے آئے بزرگ۔ اور بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مگر صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے اب تک صرف ایرانی ہی پریشان نہیں۔ امریکہ بھر میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’پھاڑ پھینکنے‘ اور ایران کے خلاف پابندیوں کو ’تین گنا‘ کر دینے کا اپنا وعدہ پورا کر بھی سکیں گے یا نہیں۔

اور اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیان بازی جاری رہی تو آئندہ مئی میں ہونے والے ایرانی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا ؟ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دیا تھا مگر ایرانی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا بہترین پیمانہ ان کے وزیرِ دفاع جیمز میتھس کا بیان ہے۔ جنوری میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے جیمز میتھس کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ نامکمل معاہدہ ہے۔ مگر جب امریکہ زبان دیتا ہے تو اسے ہمیں پورا کرنا ہے۔‘ اوباما انتظامیہ میں ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کورڈینیٹر گیری سامور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو مزید سخت کرنے کی کوشش کرے۔

’مگر انھیں جلد ہی احساس ہوگا کہ کسی قسم کے بھی مذاکرات دوبارہ کرنے سے امریکہ کو پابندیوں میں مزید نرمی کرنی پڑے گی۔‘ بہت سے لوگ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس معاہدے پر صرف امریکہ کے دستخط نہیں ہیں۔ اگر ٹرمپ اس معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اور روس سے دوری کا خطرہ مول لیں گے جس کی وجہ سے کسی قسم کی نئی پابندیوں پر عمل کروانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے نادر ہاشمی کہتے ہیں کہ معاہدے کو ناکام بنانے کے دیگر طریقے بھی ہیں۔

’میرے خیال میں ٹرمپ اس معاہدے کا انتہائی سختی سے نفاذ کریں گے اور امید کریں گے کہ ایران کہیں تو غلطی کرے اور پھر معاہدہ توڑنے کا الزام اس پر لگے۔‘ ادھر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے قدامت پسند حامی صدر ٹرمپ کے جواب میں اب تک قدرے خاموش ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جھگڑالو صدر ان لوگوں کے لیے فائدے کی بات ہو سکتی ہے۔ ’بڑے شیطان‘ کے خلاف شعلہ بیانی کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے والے آیت اللہ خامنہ ای امریکہ سے سخت لہجے میں بیان بازی کرنا خوب جانتے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم ٹرمپ کی ستائش کرتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر کے ہمارا زیادہ تر کام کر دیا۔‘ جنوبی فلوریڈا کی یونیورسٹی میں امورِ ایران کے ماہر محسن ملانی کہتے ہیں کہ کچھ قدامت پسند عناصر صدر ٹرمپ کو ایسا شخص سمجھتے ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر سکتے ہیں۔ ’ان کا ماننا ہے کہ وہ عملیت پسند غیر نظریاتی تاجر اور اچھے معاہدہ ساز ہیں جو کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے کو راضی ہوں گے۔‘

جس شخص کے لیے صدر ٹرمپ کا برسرِاقتدار آنا زیادہ خوش آئند نہیں ہے وہ ہیں موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی۔ انھیں مئی میں دوبارہ انتخاب لڑنا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ان کی دو بڑی کامیابیوں، جوہری معاہدہ اور امریکہ سے تعلقات میں بہتری، پر تاریک سایہ ڈال سکتی ہے۔ جیسے ہی انتخابی مہم شروع ہوگی صدر روحانی کے مخالفیں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو حسن روحانی کے خلاف استعمال کریں گے۔ قومی ایرانی امریکی کونسل کی ترتا پارسی کہتی ہیں کہ ’اگر سفری پابندی ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اشارہ ہے تو اس سب سے ایرانی انتخابات پر ضرور اثر پڑ سکتا ہے۔‘

مگر کیا قدامت پسند کامیاب ہو سکیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ پابندیوں کے خاتمے کے ٹھوس فوائد ایران میں بڑے پیمانے پر دیکھے جانا باقی ہیں۔ ایران کی عالمی سطح پر واپسی اور کاروبار کی توقع سے لاکھوں عام لوگوں کی امیدیں بڑھی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو واپس جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کشمیر ڈائری : ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے‘

محمد حسین فاضلی کے گھر کے پچھلے حصے میں کئی چیزیں بکھری پڑی ہیں، ویسے ہی جیسے حسین اور ان کے خاندان کی زندگی اور سکون گزشتہ 12 برسوں سے بِکھرا ہوا تھا۔ 43 سالہ حسین سری نگر میں اپنے گھر میں کمبل اوڑھے بیٹھے ہیں اور ارد گرد بیٹھے لوگوں کو جیل میں گزارے وقت کی کہانی سنا رہے ہیں۔ جو بھی آتا ہے حسین کھڑے ہوکر اسے گلے لگاتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ یہاں آنے والے کئی لوگوں اور اپنے خاندان کی نئی نسل میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ حسین کو گذشتہ دنوں ایک عدالت نے 2005 میں دلی میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں کے الزامات سے بری کیا ہے۔ ان دھماکوں میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسین کو رہا ہونے کی خوشی تو ہے، لیکن وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ جیل میں 12 برس قید کے دوران ان کے ماں باپ کی صحت خراب گئی ہے۔ حسین کے بقول ’اب گھر پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے کیا کھویا، گھر پہنچا تو ماں کو بستر پر لیٹا پایا، باپ کی آنکھوں کی روشنی بھی ختم ہو گئی ہے.‘ محمد حسین فاضلی اپنے گھر کے جس کمرے میں بیٹھے ہیں، وہاں کونے میں ایک سیاہ رنگ کا پرانا ٹیلی فون رکھا ہوا ہے۔ جب وہ جیل میں تھے تو حسین کا اپنے ماں باپ سے رابطے کا واحد ذریعہ یہ فون ہی تھا۔ گذشتہ 12 برس میں حسین کے ماں باپ کبھی اپنے بیٹے کو ملنے نہیں جا سکے، کیوں کہ وہ دلی آنے جانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

حسین بار بار ایک ہی سوال پوچھتے ہیں، ’میرے 12 سال کون واپس لوٹائے گا؟‘ شادی کی عمر، بیگناہ ہونے کے باوجود بارہ سال جیل میں گزارنے پر حسین سوال کرتے ہیں کہ ’جس طرح مجھے 12 سال کے بعد جیل سے بری کر دیا گیا، کیا بارہ سال پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا؟ میری زندگی تو تباہ ہو گئی. جب گرفتار کیا گیا تو میری شادی کی عمر تھی۔‘ یہ پوچھنے پر کہ کیا جن لوگوں نے آپ کو گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا پھر آپ کو معاوضہ ملنا چاہیے، تو ان کا کہنا تھا کہ’ میرا مطالبہ ہے کہ جن پولیس والوں نے مجھے اٹھایا تھا، ان سے یہ پوچھا جائے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟‘

جب حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی اور گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اب حسین کے والد کو یہ خدشہ ہے کہ بیٹے پر جو داغ لگا ہے وہ اتنی جلدی نہیں مٹے گا۔ حسین کے والد کا کہنا تھا ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے.‘ تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیا ’بس یہ ایک خواب تھا کی مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیں، جو مکمل ہو گیا.‘

چند منٹ کی پوچھ گچھ

حسین کو اپنے گھر سے یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا تھا کہ چند منٹ کی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ حسین کو یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ انہیں کئی دنوں کے بعد ایک صحافی سے پتہ چلا کہ وہ دلی میں ہیں۔ دلی دھماکوں کے الزامات میں انہیں دلی لے جایا گیا اور پھر انہیں 12 سال جیل میں کاٹنے پڑے. اپنی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدا پر بھروسہ تھا کہ انصاف کی جیت ہو گی۔ حسین کے بقول انھیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ کشمیری ہیں ’ مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ میں کشمیری مسلمان ہوں‘۔

ماجد جہانگير

بی بی سی، سرینگر

ناصر اورچ , بوسنیا جنگ کے دوران مسلمانوں کی حفاظت کرنیوالا

جب بوسنیا ہرزے گوینا میں جگہ جگہ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام شروع ہوا تو بیس کے پیٹے میں ایک جوان بوشنیک مجاہد ناصر اورچ نے کوئی دو تین سو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مشرقی بوسنیا کے علاقے میں مسلمانوں کا دفاع کرنا شروع کر دیا رفتہ رفتہ لگ بھگ آٹھ سو میل کا علاقہ ناصر اورچ کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ کبھی کبھی یہ جنگجو سربوں کے علاقوں میں گھس کر بھی کارروائیاں کرتے تھے۔ مشرقی بوسنیا کے جنگلوں اور پہاڑوں میں سربوں کے خلاف ناصر اورچ واحد جنگی مخالف تھا جو اسی درندگی سے جوابی کارروائیاں کرتا تھا جیسی ان کی جانب سے کی جاتی تھی۔ جب یوگو سلاویہ ٹوٹا تو یوگو سلاویہ کی قومی فوج جو دنیا کی چھٹی بڑی فوج تھی، وہ بھی نسلی گروہوں میں بٹ گئی اور جس گروہ کے ہاتھ جو اسلحہ لگا‘ وہ اسے بعد میں خانہ جنگی میں استعمال کرتا رہا۔

سب سے زیادہ اسلحہ سربوں کے ہتھے چڑھا جو شروع میں دونوں مسلمانوں اور کروٹس عیسائیوں پر اور بعد میں صرف مسلمانوں پر استعمال ہوتا رہا۔ خانہ جنگی کے دوران مسلمان اورکروٹس عیسائی دونوں سربوں کے نشانے پر تھے اور مشرقی بوسنیا سے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کو مغرب کی جانب دھکیل دیا گیا۔ دراصل سرب آرتھوڈوکس اس طرح ایک عظیم سربیہ کی ریاست کے خواب دیکھتے ہیں جس طرح شدت پسند ہندو تنظیم اور اکھنڈ بھارت کی سلطنت برصغیر تا مشرق و مغرب تک چاہتے ہیں۔ یوگو سلاویہ کی یہ خانہ جنگی جب موستار تک پہنچی تو مسلمان اورکروٹس عیسائی مل کر سربوں کے خلاف لڑتے رہے مگر کہتے ہیں کہ کروٹس کیتھولک عیسائیوں اور سرب آرتھوڈوکس عیسائیوں کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا کہ اگر اس علاقے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا جائے تو تمام مغربی بوسنیا کو کروشیا میں شامل کر دیا جائے گا اور موستار کو کروٹس کا دارالحکومت بنا دیا جائے گا اور مشرقی بوسنیا سربیہ کی ریاست میں ضم کر دیا جائے گا۔

مگر اس معاہدہ کی آج تک کھل کر تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن یہ بات مصدقہ ہے کہ خانہ جنگی کے اوائل میں مسلمان اور کروٹس کیتھولک دونوں سربوں کے خلاف اکٹھے تھے اور بعد میں صرف مسلمان ہی ہر طرف قتل عام کا شکار ہوئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ناصر اورچ بوشنیک قوم کے ہیرو بن کر ابھرے اور ان پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں۔ کچھ سال پہلے سوئٹزر لینڈ (Switzerland) میں دوران سفر انہیں سربیہ کے دبائو کے زیر اثر بطور جنگی مجرم گرفتار کر لیا گیا ، لیکن14 دنوں کے بعد ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا گیا۔ ناصر اورچ آج بھی بوسنیا ہرزے گووینا میں مقیم ہیں اور سربیہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ جیسے جنگ کے دوران سربوں کے جنگی لیڈرز راتکو ملاڈچ (Ratko Mladic) اور اڈون کاراجچ (Radovan Karadzic) پر ہیگ Hague میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا گیا اسی طرح ناصر اورچ پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

ناصر اورچ سابقہ یوگوسلاویہ کی فوج میں اسی کی دہائی میں رہے ۔ فوج کی ملازمت سے فراغت کے بعد پولیس ٹریننگ کو جوائن کیا۔ کوسووو میں بھی رہے ۔ بلغراد میں وہ ایک کلب میں رہے۔ سرب کے فوجیوں کے ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد پورے بوسنیا میں مشہور ہے ۔ گزشتہ سال بھی جنگی جرائم سے متعلقہ عدالت میں ان کا کیس چلتا رہا۔ جنگ کے بعد وہ پولیس سے بچنے کے لئے بوسنیا کے دوردراز علاقہ میں قیام پذیر رہے لیکن بعد میں منظر عام پر آ گئے۔

(ایک آوارہ گرد کی نظر سے اقتباس)