شعبہ صحافت کے لیے : جاوید چوہدری

ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں اس وقت صحافت کے شعبے قائم ہیں، ہم اگر کسی دن طالب علموں کا ڈیٹا جمع کریں تو تعداد لاکھ تک ضرور پہنچ جائے گی گویا ملک میں ہر دو تین سال بعد لاکھ نئے ’’صحافی‘‘پیدا ہو رہے ہیں لیکن کیا یہ نوجوان واقعی صحافی ہیں؟  یہ دس کروڑ روپے کا سوال ہے! میرے پاس یونیورسٹیوں کے ٹورز آتے رہتے ہیں، مجھے شروع میں تیس چالیس طالب علموں کی میزبانی میں دقت ہوتی تھی لیکن پھر ہم نے گھر میں بیس تیس لوگوں کی مہمان نوازی کا مستقل انتظام کر لیا یوں اب میرے پاس مختلف یونیورسٹیوں کے شعبہ صحافت کے طالب علم آتے رہتے ہیں اور میں ان سے سیکھتا رہتا ہوں، میں نے ان چند ’’انٹریکشنز‘‘ کی بنیاد پر چند نتائج اخذ کیے ہیں، میں یہ نتائج یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور شعبہ صحافت کے چیئرمینوں تک پہنچانا چاہتا ہوں، میری خواہش ہے میری رائے کو صحافت کے ایک کارکن کا مشورہ سمجھ کر سنجیدگی سے لیا جائے، صحافت کے وہ طالب علم جو میڈیا انڈسٹری کو جوائن کرنا چاہتے ہیں وہ بھی میری رائے کو سینئر کی تجویز سمجھ کر چند لمحوں کے لیے توجہ ضرور دیں مجھے یقین ہے، یہ توجہ ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کرے گی۔

میں دس مختلف یونیورسٹیوں کے بارہ ٹورز کی خدمت کر چکا ہوں، یہ خدمت ایک ہولناک تجربہ تھی، مثلاً مجھے ان بارہ ٹورز کے زیادہ تر نوجوان کتاب سے دور ملے اور اگر کسی سے زندگی میں کتاب پڑھنے کی غلطی سرزد ہو چکی تھی تو وہ کتاب کے نام سے ناواقف نکلا اور اگر اسے کتاب کا نام یاد تھا تو مصنف کا نام اس کے ذہن سے محو ہو چکا تھا اور اگر اسے مصنف اور کتاب دونوں کے نام یاد تھے تو وہ موضوع اور کرداروں کے نام ضرور بھول چکا تھا، مثلاً مجھے ان بارہ ٹورز کے طالب علم اخبار سے بھی دور ملے اور یہ ٹیلی ویژن بھی نہیں دیکھتے تھے۔ میں ایک وفد سے دو گھنٹے گفتگو کرتا رہا آخر میں پتہ چلا، یہ مجھے کامران خان سمجھ رہے ہیں اور یہ میرے جیو چھوڑنے پر حیران ہیں، زیادہ تر طالب علموں کو یہ معلوم نہیں تھا، میرے کالم اور میرے شو کا نام کیا ہے، میں شروع میں اسے اپنی غیر مقبولیت سمجھتا رہا اور یہ سوچتا رہا لوگ اب مجھے پڑھ اور دیکھ نہیں رہے لیکن جب میں نے دوسرے صحافیوں اور دوسرے پروگراموں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا یہ انھیں بھی نہیں جانتے لہٰذا میں نے اطمینان کا سانس لیا۔

مجھے یہ جان کر بھی خوشی ہوئی یہ لوگ صدر پاکستان، چاروں گورنرز، تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں، یہ لوگ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی تعداد بھی نہیں جانتے، یہ آج بھی بل کلنٹن کو امریکا کا صدر اور ٹونی بلیئر کو برطانیہ کا وزیراعظم سمجھتے ہیں، یہ عمران خان کے فین ہیں لیکن عمران خان نے کس کس حلقے سے الیکشن لڑا اور یہ قومی اسمبلی کی کس نشست سے ایوان کے رکن ہیں، ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں اس وقت حیران رہ گیا جب ایک نوجوان نے قذافی کا نام لیا اور میں نے اس سے قذافی کا پورا نام پوچھ لیا، وہ نہیں جانتا تھا، میں نے اس سے قذافی کے ملک کا نام پوچھا وہ بالکل نہیں جانتا تھا، میں نے صدام حسین اور حسنی مبارک کے بارے میں پوچھا، وہ ان دونوں سے بھی ناواقف تھا، میں نے باقی طالب علموں سے پوچھا وہ بھی نابلد تھے، آپ بھی یہ جان کر حیران ہوں گے یہ نوجوان قائداعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں بھی دو دو منٹ نہیں بول سکتے تھے۔

یہ نہیں جانتے تھے مشرقی پاکستان کو مشرقی پاکستان کیوں کہا جاتا تھا اور یہ نائین الیون کی تفصیل سے بھی واقف نہیں تھے، آپ کمال دیکھئے جنوبی پنجاب کی ایک یونیورسٹی کے دو طالب علموں نے مجھ سے آٹو گراف لیے باقی کلاس نے حیرت سے پوچھا ’’یہ آپ کیا کر رہے ہیں‘‘ میں نے بتایا ’’آٹو گراف دے رہا ہوں‘‘ ان کا اگلا سوال تھا ’’آٹو گراف کیا ہوتا ہے‘‘ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، میں شروع میں طالب علموں کو اس جہالت کا ذمے دار سمجھتا تھا لیکن جب تحقیق کی تو پتہ چلا اس علمی گراوٹ کی ذمے دار یونیورسٹیاں اور صحافت کے شعبے ہیں۔

یونیورسٹیاں طالب علموں کی ذہنی نشوونما پر توجہ نہیں دے رہیں، کتاب، فلم اور سفر سیکھنے کے تین بڑے ذرائع ہیں، یونیورسٹیاں ان تینوں کو حرف غلط کی طرح مٹا چکی ہیں، تقریریں، مباحثے اور مشاہیر کے ساتھ سیشن علم پھیلانے کے بڑے ٹولز ہوتے ہیں، یونیورسٹیاں ان سے بھی فارغ ہو چکی ہیں، پیچھے صرف سلیبس بچتا ہے اور یہ بھی 70 سال پرانا ہے اور طالب علم اسے بھی پڑھنا پسند نہیں کرتے،یہ پچاس سال پرانے نوٹس کی فوٹو اسٹیٹس کرواتے ہیں، رٹا لگاتے ہیں، امتحان دیتے ہیں اور باقی وقت موبائل فون چیٹنگ پر خرچ کر دیتے ہیں اور یوں علم و عرفان کے عظیم ادارے جہالت کی خوفناک فیکٹریاں بن چکے ہیں۔

یہ چند خوفناک حقائق ہیں ،میں اب یونیورسٹیوں کے ارباب اختیار کے سامنے چند تجاویز رکھنا چاہتا ہوں، ہمارے وائس چانسلرز تھوڑی سی توجہ دے کر صورتحال تبدیل کر سکتے ہیں، ہمارے تحریری اور زبانی الفاظ پھل کی طرح ہوتے ہیں اگر درخت نہیں ہو گا تو پھل بھی نہیں ہو گا، ہمارے طالب علموں کے دماغ خالی ہیں، اگر ان کے ذہن میں کچھ نہیں ہو گا تو پھر یہ کیا بولیں گے، یہ کیا لکھیں گے لہٰذا یونیورسٹیاں اور شعبہ صحافت سب سے پہلے طالب علموں کی دماغی ٹینکیاں فل کرنے کا بندوبست کریں۔

یہ ان کے ذہن کو درخت بنا دیں، پھل خود بخود آ جائے گا، آپ شعبہ صحافت کے سلیبس کو دو حصوں میں تقسیم کرد یں، ایک حصہ تکنیکی تعلیم پر مشتمل ہو اور دوسرا انٹلیکچول ایجوکیشن پر مبنی ہو۔ 100 کتابوں، 50 فلموں اور 25 مقامات کی فہرستیں بنائیں، یہ تینوں صحافت کے طالب علموں کے لیے لازمی قرار دے دی جائیں، کتابوں میں 50 کلاسیکل بکس، 25 دو سال کی بیسٹ سیلرز اور 25 تازہ ترین کتابیں شامل ہوں، یہ کتابیں اساتذہ اور طالب علم دونوں کے لیے لازم ہوں۔

فلموں میں 25 آل دی ٹائم فیورٹ،15 دس سال کی اکیڈمی ایوارڈ یافتہ فلمیں اور باقی 10 اُس سال کی بہترین فلمیں ہوں جب کہ 25 مقامات میں قومی اسمبلی اور سینٹ، چاروں صوبوں کی صوبائی اسمبلیاں، گورنر ہاؤس اور وزراء اعلیٰ ہاؤسز، دنیا کے پانچ بڑے ملکوں کے سفارتخانے، آثار قدیمہ کے پانچ بڑے پاکستانی مراکز، جی ایچ کیو، آئی جی آفسز اور میڈیا ہاؤسز شامل ہونے چاہئیں، آپ ان کے ساتھ ساتھ نائین الیون سے لے کر ترکی کی تازہ ترین ناکام فوجی بغاوت تک دنیا کے دس بڑے ایشوز کو بھی سلیبس میں شامل کر دیں۔

یہ ایشوز طالب علموں کو ازبر ہونے چاہئیں، آپ ملک کے بیس بڑے ایشوز کو دو طالب علموں میں تقسیم کر دیں مثلاً دو طالب علموں کو بجلی کا بحران دے دیا جائے، دو کے حوالے گیس کا ایشو کر دیا جائے اور باقی دو دو میں پٹرول، پانی، سیلاب، دہشت گردی، صنعت، بے روزگاری، صحت، تعلیم، ٹریفک، منشیات، انسانی اسمگلنگ، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، پراپرٹی مافیا، ٹیکس اصلاحات، آبادی کا پھیلاؤ، بے ہنری، سیاحت، ماحولیاتی آلودگی، خوراک کی کمی اور بے راہ روی جیسے ایشوز تقسیم کر دیے جائیں۔ یہ طالب علم پورا سال ان ایشوز پر ریسرچ کرتے رہیں، یہ ہر ماہ دوسرے طالب علموں کو ان ایشوز پر ایک ایک گھنٹے کی پریذنٹیشن بھی دیں یوں یہ طالب علم ان ایشوز کے ایکسپرٹس بن جائیں گے اور باقی طالب علم ان کی پریذنٹیشن دیکھ اور سن کر ان ایشوز سے واقفیت پا لیں گے اور آپ طالب علموں کے لیے اخبار، ٹیلی ویژن اور ریڈیو بھی لازمی قرار دے دیں، طالب علموں کے گروپ بنائیں، ہر گروپ روزانہ دو اخبار پڑھے، ٹی وی کا کوئی ایک شو مسلسل فالو کرے اور کوئی ایک ریڈیو روزانہ سنے۔

یہ گروپ ان دونوں اخبارات، اس شو اور اس ریڈیو کا ایکسپرٹ ہونا چاہیے، ان سے متعلق تمام انفارمیشن ان کی فنگر ٹپس پر ہونی چاہیے، یہ گروپ انٹرن شپ بھی ان ہی اداروں میں کرے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے یونیورسٹیوں کے پاس وسائل کہاں سے آئیں گے؟ یہ بھی بہت آسان ہے، آپ ڈیپارٹمنٹس کی کمپیوٹر لیبس فوراً بند کر دیں، ملک میں تھری جی اور فور جی آنے سے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس متروک ہو چکے ہیں، آپ اب کمپیوٹر لیبس پر بلاوجہ رقم خرچ کر رہے ہیں، ملک میں اب موبائل فون کمپیوٹر لیب ہیں، آپ ڈیپارٹمنٹس میں تگڑا وائی فائی لگائیں اور طالب علموں کو موبائل فون کے مثبت استعمال کی عادت ڈال دیں۔

آپ ہر ماہ لاکھوں روپے بچا لیں گے، آپ طالب علموں کو بتائیں اخبار، ٹیلی ویژن، ریڈیو، کتابیں، فلمیں اور تحقیقی مواد یہ تمام چیزیں موبائل فون پر دستیاب ہیں، آپ یہ سہولتیں فون سے حاصل کرسکتے ہیں یوں یونیورسٹی کے پیسے بھی بچیں گے اور طالب علم پڑھ، سن، دیکھ اور سیکھ بھی لیں گے اور پیچھے رہ گئے صحافت کے طالب علم تو میرا مشورہ ہے آپ اگر صحافی بننا چاہتے ہیں تو آپ ان تمام تجاویز کو تین سے ضرب دیں اور آج سے کام شروع کر دیں، میں آپ کو کامیابی کی گارنٹی دیتا ہوں، آپ ہم سب سے آگے نکل جائیں گے۔

جاوید چوہدری

نائن زیرو سمیت ایم کیو ایم کے مرکزی دفاترسیل

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے نجی چینل اے آر وائی کے دفتر پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو اور سے ملحقہ دفاتر کو سیل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ رینجرز نے ایم کیو ایم کے تین رہنماؤں کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا ہے۔ پیر کے روز کراچی میں نجی چینل اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔

 پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس واقعے کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے خلاف بولنے والوں کو ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہو گا۔ اس واقعے کے بعد رینجرز اہلکاروں کا ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو اور اس کے اطراف میں واقع عمارتوں میں تقریباً چار گھنٹے تک آپریشن جاری رہا اور بعد میں رینجرز کے کمانڈر بریگیڈئیر خرم شہزاد نے میڈیا کو بتایا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نائن زیرو، خورشید بیگم سیکریٹریٹ، شعبہ اطلاعات کے دفتر اور ایم پی اے ہاسٹل کو سیل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ریاست مخالف پرنٹ اور الیکٹرانک مواد کے علاوہ اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔  بریگیڈئیر خرم شہزاد کے مطابق اس آپریشن میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار اور رہنما خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز حکام کراچی پریس کلب کے باہر سے پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔ سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر نے اے آر وائی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے ٹی وی چینل پر حملے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے بعد رینجرز حکام نے ٹی وی میزبان اور ایم کیو ایم کے رہنما عامر لیاقت کو بھی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ان کے دفترسے تحویل میں لے لیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خواجہ اظہارالحسن کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچے تھے، جہاں وہ میڈیا سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن رینجرز حکام نے انہیں روک دیا تھا اور بعد میں انھیں پوچھ کچھ کے لیے پانے ساتھ لے گئے۔ اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں امن و امان کے حوالے سے ایک اعلیٰ کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ڈی جی رینجرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس سے پہلے ڈی جی رینجز میجر جنرل بلال اکبر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے انہیں کہا ہے کہ جنھوں نے بھی یہ ہنگامہ آرائی کی ہے، ان کو گرفت میں لایا جائے اور وہ ہر صورت میں پکڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف پولیس اور رینجرز آپریشن کر رہی ہے اور رات تک وہ پکڑے جائیں گے۔ پولیس کے ڈی ایس پی قمر آصف کے مطابق سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے قریب کارکنوں نے مدینہ مال میں واقع اے آر وائی کے دفتر اور زینب مارکیٹ میں واقع دوکانوں پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ڈی ایس پی صدر کنور آصف، ایس ایچ او پیر شبیر، پولیس کانسٹیبل راشد علی، نیو ٹی وی کے ملازم نعمان اور ریحان، سماء کے سفیر احمد اور چینل 24 کے ملازم عثمان شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عارف سعید کے نام سے کی گئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس وقت تک 12 افراد کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

 ڈی ایس پی قمر آصف کے مطابق یہ ایم کیو ایم کارکن اپنی جماعت کے قائد الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد مشتعل ہوگئے اور جس میں انھوں نے کہا کہ طے ہوا ہے کہ آپ اے آر وائی اور سما ٹی وی چینل کے دفتر کا رخ کر لیا۔ خیال رہے کہ پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی جا رہی تھی۔ اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پریس کلب کے قریب مدینہ شاپنگ مال کی چھٹی منزل واقع ان کے چینل کے دفتر میں ایم کیو ایم کے کارکنان نے گھس کر فائرنگ اور توڑ پھوڑ کی۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا احتجاج ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ’الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے پر پابندی کسی چینل نے نہیں بلکہ عدالت نے لگائی ہے اور اگر انھیں کوئی شکایت ہے تو پیمرا سے بات کریں۔ غریب اور بےقصور کارکنان کو نشانہ بنانا کسی طور بھی جائز نہیں کہا جا سکتا اور یہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ سلمان اقبال نے مزید کہا کہ ان کے غریب اور بےقصور کارکنان کو نشانہ بنانا کسی طور بھی جائز نہیں کہا جا سکتا اور یہ قابلِ مذمت عمل ہے۔ دوسری جانب رینجرز کی بھاری نفری نے پریس کلب اور اس کے آس پاس کے علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پریس کلب کے باہر لگا ہوا ایم کیو ایم کا احتجاجی کیمپ بھی اکھاڑ دیا ہے۔

الطاف حسین کی تقریر: ’پاکستانی سالمیت کے خلاف برطانوی سرزمین کا استعمال قابلِ مذمت‘

 

اپنی پاکستان مخالف تقریر میں الطاف حسین نے کیا کہا

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی جانب سے گذشتہ روز کی جانے والی پاکستان مخالف تقریر کے بعد ہر کسی کو ہی اس بات کا یقین تھا کہ الطاف حسین کی یہ تقریر ایم کیو ایم کارکنان کے خلاف ریاستی ادارے کی کارروائیوں کے لیے ایک مضبوط جواز بن سکتی ہے۔ شہر قائد کے جنوبی اضلاع میں پر تشدد واقعات اور جلاؤ گھیراؤ کے کچھ ہی دیر بعد الطاف حسین کی تقریر کے کچھ حصے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے، جن میں دیکھا گیا کہ پریس کلب کے باہر ‘کارکنوں کی گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل’ کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ایم کیو ایم کارکنوں سے بذریعہ ٹیلی فون خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے نہ صرف پاکستان مخالف نعرے لگائے بلکہ ملک کو پوری دنیا کے لیے ایک ‘ناسور’ بھی قرار دیا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا، ‘پاکستان پوری دنیا کے لیے ایک ناسور ہے، پاکستان پوری دنیا کے لیے ایک عذاب ہے، پاکستان پوری دنیا کے لیے دہشت گردی کا مرکز ہے، اس پاکستان کا خاتمہ عین عبادت ہے، کون کہتا ہے پاکستان زندہ باد، پاکستان مردہ باد’۔ لندن میں جلاوطنی کاٹنے والے الطاف حسین نے بعد ازاں اپنے کارکنوں سے بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کرنے کے بعد ان کے اگلے ‘اقدام’ کے بارے میں پوچھا، جن سے پر تشدد واقعات کی جانب اشارہ مل رہا تھا۔ الطاف حسین نے پوچھا، ‘تو کیا تم لوگ یہاں سے اے آر وائی اور سماء (کے دفاتر) جارہے ہو؟ جس پر حاضرین نے یک زبان ہوکر باآواز بلند اثبات میں جواب دیا۔ متحدہ قائد نے مزید کہا ، ‘تو آج تم لوگ سماء اور اے آروائی جارہے ہو اور پھر کل اپنے آپ کو رینجرز ہیڈکوارٹرز جانے کے لیے تیار کرو، کل ہم سندھ سیکریٹریٹ کی عمارت کو تالا لگوا دیں گے’۔

ان ہدایات نے کارکنوں خصوصاً خواتین کو اُکسایا، جن کی آوازیں واضح طور پر مائیکروفون پر سنی جاسکتی ہیں، جو نعرے لگارہی تھیں، ‘بھائی کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا’۔ مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اے آر وائی کے دفتر پر حملے اور توڑ پھوڑ سے قبل کارکنوں نے الطاف حسین سے بذریعہ ٹیلی فون براہ راست بات چیت بھی کی۔

ایک خاتون کو کہتے ہوئے سنا گیا، ‘بھائی ہمیں بس آپ کا اشارہ چاہیے اور کچھ نہیں’، جس پر انھیں الطاف حسین کی جانب سے جواب ملا، ‘بسم اللہ، بسم اللہ، بسم اللہ’۔ الطاف حسین کے اس جواب کے بعد سیکنڈوں میں مظاہرین کھڑے ہوئے اور اپنے قائد اور پارٹی کی حمایت میں نعرے لگاتے ہوئے بھوک ہڑتالی کیمپ سے روانہ ہوگئے، اس موقع پر مختلف خواتین کی جانب سے الطاف حسین کو مائیکروفون پر اپنے اقدام کے حوالے سے بتایا جاتا رہا۔ ایک خاتون نے کہا، ‘بھائی ہم یہاں سے اے آر وائی اور سماء جارہے ہیں، آپ فکر نہ کریں ہم خود انصاف حاصل کرلیں گے’.

یہ خبر 23 اگست 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ایم کیو ایم نے الطاف حسین نے لا تعلقی کا اعلان کر دیا

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی قائد سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جماعت ہے اور یہیں سے چلائی جانی چاہیئے جب کہ کل جو باتیں ہوئیں وہ کسی صورت نہیں ہونی چاہیئیں تھیں اس لئے پاکستان مخالف بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کل جو صورت حال پیدا ہوئی وہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کارکن ایسا عمل کریں یا قائد کسی بھی کیفیت میں ایسے عمل کو دہرائیں اسے نہ دہرانے کی ذمہ داری ایم کیو ایم لیتی ہے جب کہ قائد ایم کیو ایم نے اپنے بیان پر ندامت کا اظہار کیا اور اس کی وجہ ذہنی تناؤ کو قرار دیا گیا لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے ذہنی تناؤ کے مسئلے کو حل کیا جائے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے جو پاکستان کے آئین کو مانتی ہے اور اس کی بالادستی چاہتی ہے، ہماری جماعت پاکستان اور پاکستانی سیاست کر رہی ہے اس لئے اس تناظر میں اگر کل پاکستان مخالف نعرے لگے تو اس کی مذمت کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم لندن رابطہ کمیٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ  ایم کیو ایم کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے اور ہم کریں گے، یہ پیغام وہاں کے لئے بھی ہے اور یہاں کے لئے بھی ہے، جس ایم کیوایم کا حلف اٹھایا ہے اس میں کل والی بات اور نعرے نہیں ہیں اگرایم کیوایم نےایسے نعرے لگانے ہیں تو پھر ہم دوسری جماعت بنا لیتے ہیں، فیصلےاب ہم کریں گے اور ایسی صورتحال کو دہرانے نہیں دیں گے، صلح مشورہ کریں گے دنیا میں جہاں سے رائے آئے گی اسے بھی دیکھیں گے، وثوق سے کہتاہوں کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ ایم کیوایم کی پالیسی ہے۔

ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے موقف کو کل لوگوں کے سامنے آنا چاہئے تھا لیکن ہماری پریس کانفرنس نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا موقف نہیں آسکا لیکن جو بات کل کرنا چاہتے تھے وہی آج کریں گے لیکن آج ایسا تاثر جائے گا کسی کی ڈکٹیشن پر یہ بات کہی جارہی ہے۔ کل ریاست کے خلاف ایسے نعرے لگے جو قطعی نہیں لگنے چاہیئے تھے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں رجسٹرڈ ہے جو پاکستان کے آئین کو مانتی ہے اور اس کی بالادستی چاہتی ہے، ہماری جماعت پاکستان اور پاکستانی سیاست کر رہی ہے اس لئے کل جو کچھ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز فاروق ستار کو رینجرز نے ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں سمیت حراست میں لے لیا تھا تاہم انہیں اور خواجہ اظہار الحسن کو رہا کردیا گیا ۔

الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر سوشل میڈیا کا شدید رد عمل

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی چینل اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائیوں کی خبریں نہ صرف مقامی میڈیا پر بلکہ سوشل میڈیا پر بھی چھائی ہوئی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ٹوئٹرز پر پہلے دس ٹرینڈز کا تعلق بھی کراچی کے واقعات سے ہے جس میں سب سے مقبول #BanMQM ایم کیو ایم پر پابندی سے متعلق ہے۔ اس کے بعد دوسرا مقبول ٹرینڈ #Pakistan Zindabad ہے۔

 یہ دونوں ٹرینڈ پاکستان کے علاوہ عالمی سطح پر بھی پہلے دس ٹرینڈز میں شامل ہیں۔ #BanMQM میں رینجرز کے اس اہلکار کی تصویر سب سے زیادہ شیئر کی جا رہی ہے جسے مقامی میڈیا میں کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو اپنے ساتھ رینجرز ہیڈ کواٹر لیجاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ٹرینڈ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پر پابندی عائد کیے جانے کے بیانات کو شیئر کیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے ایم کیو ایم کے خلاف کریک ڈاؤن کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ آج پاکستان کی کرکٹ ٹیم رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر آئی تو اس کے بعد سے کسی اور اچھی خبر کا انتظار تھا۔

 ایم کیو ایم رہنما کو کراچی پریس کلب کے باہر سے تحویل میں لینے والے اہلکاروں میں شامل اس اہلکار کو خوب ٹوئٹ کیا جا رہا ہے. اس کے ساتھ ساتھ اس ٹرینڈ پر ایم کیو ایم کے منحرف رہنما اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی تصویر کو شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ ایم کیو ایم پر پابندی کے ٹرینڈ پر خوشی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تصویر کے ساتھ ایک صارف نے لکھا:’اس وقت دنیا کے خوش ترین انسان۔‘ اس ٹرینڈ پر ایم کیو ایم اور اس کے قائد کے خلاف ٹوئٹس کی بھرمار ہے لیکن چند صارفین نے الطاف حسین کے بغیر یا مائنس اطلاف حسین کے بارے میں ٹوئٹس کی ہیں۔ ٹوئٹر پر دوسرا مقبول ترین ٹرینڈ Pakistan Zindabad ہے۔ اس ٹرینڈ میں بھی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی پاکستان مخالف بیانات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کے حق میں بیانات دیے جا رہے ہیں۔  اس ٹرینڈ پر ایک صارف ویک اپ پاکستان نے لکھا کہ’ پاکستان زندہ آباد، فوج کی طرف سے آزادی کا بہترین تحفہ۔‘

اس کے علاوہ ایک صارف Deeh Aay نے لکھا کہ’میں مہاجر ہوں اور پاکستان سے پیار کرتا ہوں اور الطاف حسین سے نفرت کرتا ہوں، پاکستان زندہ آباد۔ مقامی میڈیا کے بعد جیسے ہی سوشل میڈیا پر الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر پر سخت تنقید شروع ہوئی تو ایم کیو ایم کے متعدد رہنماؤں نے پاکستان کے حق میں ٹوئٹس کرنا شروع کر دی۔ اس پر ایک صارف علی قاسم نے لکھا کہ اب ایم کیو ایم کے رہنما پاکستان زندہ آباد کی ٹوئٹس کر رہے ہیں۔ اس بیان کے اوپر کی ایم کیو ایم کے رہنما سینیٹر طاہر مشہدی کی ٹوئٹ تھی جس میں انھوں نے کہا کہ وہ پیارے ملک پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے اور انھیں اس پر فخر ہے۔ انھوں نے پاکستان زندہ آباد لکھتے ہوئے کہا کہ کسی کو اس عظیم قوم کو نقصان نہیں پہچانے دیں گے۔

ریاض سہیل، حسن کاظمی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’بیٹے کے شہید ہونے کی خوشی ہے‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ جولائی میں ایک تصادم میں مارے گئے مشتبہ شدت پسند برہان وانی کے والدین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے کی ہلاکت کا کوئی غم نہیں ہے۔ انڈین سیکورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ برہان وانی شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر تھے اور انھیں کافی عرصے سے ان کی تلاش تھی۔ لیکن سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

 بدھ کے روز وادی کشمیر میں کرفیو کے مستقل 40 دن پورے ہو گئے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تقریباً 60 لوگوں کی جان جا چکی ہے اور کئی ہزار لوگ بندوق کے چھرے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ چھرّے لگنے کے سبب بہت سے لوگوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ مظاہروں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ سیکورٹی فورسز کے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ برہان کی ماں میمونہ وانی اور والد مظفر وانی کہتے ہیں: ’ہمیں اپنے بیٹے کے شہید ہونے کی خوشی ہے۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں میمونہ نے کہا: ’بیٹے کی ہلاکت کا دکھ تو ہے لیکن سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے اور میرے بیٹے نے کشمیر کی آزادی کے لیے قدم اٹھایا۔ وہ بہت ہینڈسم لڑکا تھا۔ بہت ہی شریف اور نرم دل قتل وغارت گری میں تو یقین ہی نہیں کرتا تھا۔‘  انڈیا نے کشمیر میں فوج اور نیم فوجی دستوں کی پوری طاقت لگا رکھی ہے لیکن کرفیو کے باوجود گذشتہ 40 روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے. میمونہ وانی کہتی ہیں: ’جہاد کی طرف جانے کے بارے میں اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ جہاد تو ہم پر فرض ہے۔ جب دنیا سے جائیں گے تو اللہ پوچھے گا کہ میرے لیے کیا کیا؟ جب بیٹا جوان ہوا تو ہم نے اللہ کی راہ پر جانے دیا۔ برہان جب اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا تو بتائے گا کہ جب میں 15 برس کا تھا تب گھر سے نکلا۔ میں نے اپنی جان دی۔‘

برہان کے والدین کا خیال ہے کہ اگر ان کا بیٹا غلط ہوتا تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ حمایت میں سڑکوں پر نہ نکلتے۔ ان کی والدہ کہتی ہیں: ’ایک بیٹا چلا گیا تھا، اب دوسرا بھی چلا گیا۔ لیکن پکّا مسلمان تو وہی ہے جو اللہ سے محبت کرتا ہے جو ایسا نہیں کرتا وہ مکمل مسلمان نہیں۔ وہ مومن نہیں ہوتا۔‘  وہ رندھے گلے سے کہتی ہیں: ’ہم نے بیٹا کھو دیا، لیکن اللہ ساتھ ہے۔ ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے۔ جب 2010 میں وادی میں مظاہرے ہو رہے تھے تو بیٹے کا فون آیا۔ اس وقت میں نماز کے لیے کھڑی ہو رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ اللہ سے میرے لیے کیا دعا کرو گی؟ میں نے کہا یہی کہ اللہ میرے بیٹے کو بہترین ڈاکٹر انجینیئر بنانے میں مدد کرے۔ تب اس نے کہا، اللہ سے دعا کرنا کہ میرا بیٹا مجاہد بنے۔‘

میمونہ کہتی ہیں: ’کسی نے کسی کو نہیں کہا کہ گھر سے نکلو، لیکن جب برہان گیا تو لوگ گھروں سے نکل پڑے۔ بس یہ اللہ تعالی کا کرم ہے۔‘ برہان وانی کے والد مظفر وانی کہتے ہیں: ’میرا بیٹا شہید ہوا تو میں بہت خوش ہوں اور لوگوں نے جو محبت دکھائی وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنا پیار کرتے تھے۔ اس نے جس مسئلے کے لیے اپنی جان دی، اس کے لیے ہر کوئی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔‘  مظفر وانی کا خیال ہے کہ کشمیری عوام اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

میمونہ وانی کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایسا کوئی نوجوان نہیں ہے جسے انڈین فوج نے مارا پیٹا نہ ہو۔ بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں، ان کے شوہر شہید ہو گئے۔ جب یہ سب اتنا بڑھ گیا تو ہم سب لوگ جمع ہو کر آزادی کے لیے گھر سے باہر نکل آئے۔‘’

جسٹن رولٹ

بی بی سی نامہ نگار برائے جنوبی ایش