فاروق ستار الطاف حسین سمیت سب ڈبل گیم کر رہے ہیں

الطاف حسین اب ایک غدار ہے۔ وہ ملک کا غدار ہے، لیکن فاروق ستار انہیں بانی اور قائد ہی بیان کر رہے ہیں۔ فاروق ستار یہ کہہ رہے ہیں کہ بس اتنے پر ہی گزارا کر لیا جائے کہ ان کے قائد اور بانی کا اب ان سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا فاروق ستار خود اتنے معصوم ہیں یا پورے ملک کو اتنا معصوم سمجھ رہے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کون کس کو بیوقوف بنا رہا ہے۔ کون کس کو دھوکہ دے رہا ہے۔ کیا فاروق ستار اور ان کے ساتھی خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا وہ مُلک کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا وہ اپنے دیگر ساتھیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا وہ الطاف حسین کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا وہ پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا وہ بیرونی سیکیورٹی ایجنسیوں کو دھوکہ دے رہے ہیں؟

ایک صورتحال یہ بھی ہے کہ رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جہاں فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رہا کر دیا گیا۔ وہاں کچھ لوگوں کو رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ یہ دو عملی پالیسی کیوں ہے۔ کیا تفریق ہے کہ کس کو رہا کیا جائے گا۔ اور کس کو رہا نہیں کیا جا ئے گا۔ رہائی اور گرفتاری کے کیا پیمانے ہیں۔ کیا جو فاروق ستار کے ساتھی ہیں۔ انہیں رہا کیا جا رہا ہے اور جو بدستور الطاف حسین کے حامی ہیں انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کیا جو لندن کے احکامات ماننے پر بضد ہیں انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے اور جو پاکستان کے احکامات ماننے پر تیار ہیں انہیں رہا کیا جا رہا ہے۔ کیا گرفتار اور رہا کرنے کے حوالہ سے دو مختلف لسٹیں ہیں۔ یہ ایک مبہم پالیسی ہے۔ جو انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔ اس ضمن میں اداروں کو انصاف پر مبنی اور ایک واضح پالیسی بنانی چاہئے، جس میں کوئی ابہام نہ ہو۔

الطاف حسین کی تصاویر اور تصاویر والے بڑے بڑے بورڈ ان کے دفاتر اور سڑکوں سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان تصاویر کے ہٹانے پر ایم کیو ایم نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ورنہ اگر پہلے والے حالات ہوتے تو ان تصاویر اور بورڈز کو ہٹانے پر کراچی میں ہنگامے و فساد ہو جاتے۔ آسمان سر پراٹھا لیا جاتا۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر فاروق ستار اور ان کے ساتھی یہ تصاویر اور بل بورڈز نہیں ہٹا رہے۔ تو ان کی مرضی سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ اِسی لئے ان کے ہٹائے جانے پر سکون ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایم کیو ایم خود یہ بورڈ نہیں ہٹا رہی۔ ایم کیو ایم ان بورڈز کو ہٹانے کا کریڈٹ لینے کو بھی تیار نہیں ہے، بلکہ وہ ان بورڈز کے ہٹائے جانے کے معاملے سے خود کو فاصلہ پر رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ کراچی کے لوگ بار بار الطاف حسین کو ووٹ دیتے ہیں۔ حساس اداروں کی جانب سے الطاف حسین کے بارے میں حقائق منظر عام پر لانے کے باوجود لوگ الطاف حسین کو کیوں ووٹ دیتے ہیں۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ کراچی کے لوگ حساس اداروں اور سیکیورٹی اداروں کی کہانی کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے الزامات ابھی تک عدالتوں میں ثابت نہیں کئے۔ اس حوالے سے نظام انصاف کی کوتاہیاں بھی حائل ہیں، لیکن اس کا ملک و قوم کو نقصان ہو رہا ہے۔ سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا الطاف حسین کا ووٹ بنک قائم ہے۔ کیا پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے کے بعد بھی کراچی کے عوام الطاف حسین کو ووٹ دینے کے لئے تیار ہیں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ الطاف حسین کا ووٹ بنک اب بھی قائم ہے۔ تو کیا کرنا چاہئے۔ یہ ایک مشکل سوال ہے، جس کا جواب شاید اس وقت کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔

شاید فاروق ستار بھی اِسی لئے محتاط ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ الطاف حسین سے بغاوت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کا حال بھی انہی جیسا ہو گا، جنہوں نے اس سے پہلے الطاف حسین سے بغاوت کی ہے۔ کیا فاروق ستار اس وقت ڈبل ایجنٹ ہیں۔ کیا وہ بیک وقت الطاف حسین کی بھی مجبوری ہیں اور پاکستان کی اسٹبلشمنٹ کے پاس بھی ان کے ساتھ چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ پلان صرف یہ ہے کہ فاروق ستار کو چلایا جائے ۔ کہ وہ اتنے مضبوط ہو جائیں اور دوسری طرف الطاف حسین کی بھی خواہش ہو گی کہ فاروق ستار اس بحران کو سمیٹ لیں۔ پھر بادشاہت دوبارہ مجھے دے دیں۔

الطاف حسین نے دوبارہ وہی خطاب امریکہ میں کیا ہے، جس کی و جہ سے ان کو پاکستان میں مشکلات ہیں۔ ان کے دوبارہ خطاب سے ظاہر ہو تا ہے کہ ان کے نزدیک ان کا پہلا خطاب کوئی غلطی نہیں تھا ۔ یہ الطاف حسین کی سوچی سمجھی پالیسی ہے اور وہ اس پالیسی پر قائم ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کیا پالیسی ہے۔ اس ضمن میں مختلف تھیوریاں ہیں۔ ایک تھیوری یہ ہے کہ کراچی سے بھتہ جانا بند ہو گیا ہے۔ اِس لئے اس وقت الطاف حسین کا صرف را کے فنڈز پر گزارا ہے۔ اور اس وقت را نے انہیں جارحا نہ موڈ میں جانے پر مجبور کیا ہے۔ اور وہ را کی ماننے پر مجبور ہیں، لیکن جہاں الطاف حسین راء کی زبان بولنا چاہتے ہیں تا کہ وہ ایک گریٹ گیم کا حصہ رہیں۔ وہاں وہ کراچی میں اپنا انفرا سٹرکچر بھی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ اِس لئے انہوں نے اپنی پاکستان اور عالمی پالیسی کو الگ الگ کر دیا ہے، لیکن شاید الطاف حسین کی بھی یہ ڈبل گیم نہ چل سکی اور وہ دوبارہ کراچی کا انتظام سنبھال کر فساد کروانے پر مجبور ہو جائیں۔ اِس لئے شاید فاروق ستار پر ایک حد سے زیادہ اعتبار نہیں کیا جا رہا ہے۔ دفاتر کو سیل کرنے کا عمل جاری ہے۔ گرفتاریاں جاری ہیں۔ آپریشن کلین اپ جاری ہے اور فاروق ستار کو یہ آپریشن کلین اب چپ کر کے برداشت کرنا ہے۔ فاروق ستار کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے۔ اسی لئے وہ گھر میں نہیں رہ رہے۔ ہوٹل میں رہ رہے ہیں، کیونکہ انہیں

پتہ ہے وہ مسافر ہیں۔

مزمل سہروردی

جماعت اسلامی کا یوم تاسیس،کیاکھویا کیاپایا؟

جماعت اسلامی منصئہ ظہورپر تو 26اگست 1941ء میں آئی مگر یہ اس تحریک کا آغاز نہیں تھا ،جماعت اسلامی اسی تحریک کا تسلسل ہے جو مکہ کے غاروں طائف کے بازاروں ، مدینہ کی گلیوں،ہجرت کی سختیوں اور بدر و حنین کے معرکوں سے نبرد آزما ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے ۔ یہ تحریک انسانیت کی رہنمائی کافریضہ انجام دے رہی ہے اور قیامت تک اپنی یہ ذمہ داری نبھاتی رہے گی ،اس تحریک کا آغاز خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ نے ساڑھے14 سوسال قبل کیا،پھر یہی تحریک خلافت راشدہ ،صحابہ کرامؓ ،تبع تابعین ، آئمہ کرام اورمشائخ عظام کی محنتوں سے ہم تک پہنچی ہے،اس تحریک کی قیادت امام ابو حنیفہؒ ؒامام شافعی ؒ ،امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ ؒنے کی ،یہی تحریک لیکر امام ابن تیمیہ ؒ آگے بڑھے ،پھر یہ تحریک سیدعبد القادر جیلانی ؒ،سیدمجدد الف ثانی ؒ سے ہوتی ہوئی سید علی ہجویر یؒ ،بابا بلھے شاہؒ ،سید حسن البنا شہیدؒ اور سید مودودی ؒ تک پہنچی اور آج یہ تحریک دنیا بھر میں جماعت اسلامی کے نام سے آگے بڑھ رہی ہے ۔

بقول علامہ محمد اقبال ؒ بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ! جماعت اسلامی وطن عزیز کی واحد دینی جماعت ہے جو ہر قسم کے مسلکی ،علاقائی اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہے ۔اس کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں ،جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے جس میں کارکنان کی مشاورت کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ جماعت اسی منہج پر کاربند ہے جس کی تعلیم حضور ﷺ نے اپنی سنت مبارک سے دی تھی ۔حضورﷺ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب اور فرستادہ ہونے اور براہ راست اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے امین ہونے کے باوجود صحابہ کرام ؓ سے ہر معاملے میں مشاورت کرتے حالانکہ ان پر وحی الٰہی نازل ہوتی تھی اور وہ انسانی مشوروں سے بے نیاز تھے مگر انہوں نے کبھی بھی صحابہ کرام ؓ کی آراء کو نظر انداز نہیں کیا اور ان کا پورا پورا احترام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے پیغمبر ﷺ کو حکم دیا کہ ’’ اپنے معاملات میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کرو‘‘۔ ملک کو اس کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ کرنے اور عام آدمی کے حقوق کے تحفظ کیلئے جماعت اسلامی کی جدوجہد کااعتراف اس کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔

قرار داد مقاصد ،تحریک نظام مصطفیٰﷺ ، تحریک ختم نبوت،بنگلا دیش نامنظور اور دیگر قومی تحریکوں میں جماعت اسلامی نے ہمیشہ صف اول میں رہتے ہوئے اپنا شاندار کردار نبھایا ہے ۔ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی شائبہ تک نہیں ،یہاں ہر کارکن قائد اور قائد کارکن ہے ۔ کوئی کارکن بھی قیادت کے منصب تک پہنچ سکتاہے۔ دیگر جماعتوں خواہ وہ سیاسی ہوں یا دینی،ان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، موروثیت نے پارٹیوں پر قبضہ جما کر انہیں خاندانی پراپرٹی بنا رکھا ہے ،باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد پوتا پارٹی قیادت پر قابض ہوجاتا ہے اور اگر بیٹا یا پوتا اس قابل نہ ہو تو بیٹی نواسی یا پوتی اس منصب جلیلہ پر فائز ہوجاتی ہے اور کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں ہوتی۔ ایک طبقہ اشرافیہ نے ان پارٹیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ، کہیں جاگیردار ہیں کہیں  وڈیر ے اور سرمایہ دار اور کہیں قومیت و مسلک کے علمبردار ! جبکہ جماعت اسلامی نے ان موروثی خرابیوں اور خاندانی تسلط سے پاک ایک آئینی و جمہوری راستے پر چلتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے ۔ بانیٔ جماعت اسلامی سید مودودیؒ ،میاں طفیل محمد ؒ ،قاضی حسین احمد ؒ اور سید منور حسن کے کسی بیٹے  بیٹی ، پوتے یا نواسے نے کبھی خواب میں بھی جماعت اسلامی کا امیر بننے کے متعلق نہیں سوچا ۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا مرکزو محور ہی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔ اس کی دعوت کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ ــ’’اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیا ں جمع نہ کرو‘‘ہم کسی کو اپنے امیر کی طرف نہیں بلاتے اور نہ کسی خاص شخصیت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکن اپنے امیر کی اطاعت بھی معروف میں کرتے ہیں ،مجہول اور منکر کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے ۔ ( سید مودودی ؒ )۔

جماعت اسلامی عالمی اسلامی تحریکوں کی سرخیل کا کردار ادا کررہی ہے۔ اندرون ملک جماعت اسلامی کے شاندا رماضی نے اس کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کردی ہے۔ آج ایک زمانہ جماعت اسلامی کی خدمات، خواہ وہ خدمت خلق کے حوالے سے ہوں ، دفاع وطن کے حوالے سے ہوں، جمہوریت کی بحالی اور اسلامی نظام حکومت کے قیام اور آئین پاکستان کی تدوین کے لئے ہوں یا ملک میں سیکولرزم اور فاشزم کا راستہ روکنے کے حوالے سے ہوں کا معترف ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیم ’طریقہ کار‘اپنے کاز سے کمٹمنٹ ، خدمت و اخلاص اور صلاحیتوں کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں۔ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں جماعت اسلامی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت اور جدوجہد کا بین ثبوت ہے کہ آج بھی مسئلہ کشمیر کو ایک قومی مسئلہ کی حیثیت حاصل ہے اور حکمران تمام تر عالمی دبائو کے باوجود اس سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتے ۔ جماعت اسلامی کی تنظیم ہمیشہ قابل رشک رہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کے نظم و ضبط کی مثالیں دی جاتی ہیں ،جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کے سامنے ایک واضح نصب العین ہے جس کو وہ کسی بھی صورت نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے ۔ جماعت اسلامی کے سینکڑوں ارکان و کارکنان سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے ممبر رہے مگر کسی کے دامن پر کرپشن  کمیشن ،اقربا پروری کا کوئی داغ نہیں ،یہ محض اللہ تعالیٰ کی کرم نواز ی اوراس کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے ،ورنہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں سیاستدان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی مظلوم طبقہ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہم اقتدار کے ایوانوں کے دروازے عام آدمی پر کھولنے کی جدوجہد کررہے ہیں تا کہ غریب مزدور ،ہاری اور کسان کے بیٹے کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جن سے وزیروں مشیروں اور حکمرانوں کے بیٹے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کی سیاست کا بنیادی مقصد ملک میں شریعت کا نفاذہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم مقصد جس کیلئے ہمارے بڑوں نے بے انتہا قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ یہاں مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی حکومت قائم نہیں ہوجاتی ۔ایک ایسی حکومت جس کے پیش نظر معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی فلاح و بہبود ہو ،جس میں یتیموں ،بیوائوں مسکینوں اور غریبوں کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں اور ریاست ان کی کفالت کی ذمہ داری پوری کرے ۔ یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کہ عوام اس کے حصول کیلئے ایک بڑی جدوجہد کیلئے تیار نہ ہوں ۔ مفہوم آیت، ’’خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔ نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا‘‘ گزشتہ سال نومبر میں جماعت نے مینار پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں کل پاکستان اجتماع منعقد کیا ،اور ملک بھر سے عوام کو اسی میدان میں اکٹھا کیا جس میں کھڑے ہوکر ہمارے آبائو اجداد نے ایک اسلامی ریاست کے حصول کا عہد کیا تھا ۔ ہم نے قوم کو ’’اسلامی پاکستان ۔۔خوشحال پاکستان‘‘ کا ایجنڈا دیا ۔

جس میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو اقتدار دیا اور عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو ہم پاکستان کو مدینہ کی اسلامی و فلاحی ریاست کا نمونہ بنا ئیں گے ۔ سودی معیشت کا خاتمہ کیا جائے گا ،عورتوں اور طالبعلموں کو غیر سودی قرضے مہیا کئے جائیں گے ۔عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کریں گے  مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دلائیں گے ۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار مقر ر کریں گے اور غریبوں کو پانچ بنیادی ضروریات زندگی ،چاول چینی آٹا گھی اور دالیں ارزاں نرخوں پر مہیا کریں گے اور پانچ بڑی بیماریوں دل گردے ہیپاٹائٹس، کینسر اور تھیلیسمیا کا تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوگا۔غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کرے گا ۔ مدارس کو بھی وہی سہولتیں دیں گے جو بڑے تعلیمی اداروں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو حاصل ہیں ۔ تمام تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب تعلیم ہوگا۔ آئمہ کرام اور خطباء کو سرکاری خزانے سے تنخواہ دی جائے گی تاکہ وہ ملک میں اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم کریں اور مسلکی ،علاقائی اور قومیتوں کے تعصبات کو ختم کرکے ایک قوم کی حیثیت سے آگے بڑھا جاسکے ۔ ہمیں امید ہے کہ قوم اسلامی پاکستان ۔۔۔خوشحال پاکستان کے ایجنڈے پر ہمارا ساتھ دے گی اور پاکستان دنیا میں اپنا کھویا ہوا عزت و وقار دوبارہ حاصل کرسکے گا۔

سینیٹرسراج الحق امیر

جماعت اسلامی پاکستان

الطاف حسین کے خلاف بغاوت کا آغاز ہو چکا

انصار عباسی

 

الطاف حسین اورایم کیوایم کا مستقبل

Read saleem-saafi Column qaaed-e-tahreek-ka-mustaqbil published on 2016-08-27 in Daily JangAkhbar

 

سلیم صافی

 

ایم کیو ایم کو طبعی موت مرنے دیں

محمد بلال غوری

 

ترکی کے ایک درجن ٹینک شام میں داخل

 

قفل زدہ نائن زیرو کی ویران گلیاں

کراچی کے علاقے عزیز آباد میں ایم کیو ایم کا سیکریٹریٹ باہر سے تو بند ہے، لیکن عمارت کے اندر لائٹس اور پنکھے چل رہے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رینجرز کے چھاپے کے وقت یہاں انھیں بند کرنے بھی مہلت نہیں دی گئی۔ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی والدہ خورشید بیگم کے نام سے منسوب اس طویل عمارت میں رابطہ کمیٹی کے علاوہ دیگر شعبوں کے دفاتر بھی واقع ہیں جبکہ پریس کانفرنس کے لیے بھی اس کا ہال استعمال کیا جاتا تھا۔

ایم کیو ایم کے اس سیاسی قلعے میں تین داخلی دروازے ہیں اور اب تینوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ آس پاس کی دیواروں پر الطاف حسین کی جو دیو قد آمت تصاویر موجود تھیں وہ پھاڑ دی گئیں تھیں جبکہ ایم کیو ایم کے متعلق خبروں کے تراشے زمین پر پھیلے ہوئے تھے۔ دروازے کے ساتھ ہی کچھ کتابیں موجود تھیں جن میں انڈیا اور دنیا سے الطاف حسین کی اہم تقریر، انھیں پتھروں پر چل کر، سہمے ہوئے لوگ، سیاستدانوں اور جنرلوں میں اقتدار کی کشمکش جیسی کتب شامل تھیں۔ خورشید بیگم سیکریٹریٹ کے سامنے ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کی ایک ایمبولینس دوپہر تک موجود تھی جس کے ڈرائیور کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا جبکہ سامنے ہی ایک پولیس موبائل تعینات تھی۔ گذشتہ کئی سالوں میں یہ پہلی بار ہوا کہ پولیس اس عمارت کے اتنا قریب آئی ہو۔

نائن زیرو اور آس پاس کی سکیورٹی کے معاملات ایم کیو ایم کے کارکن خود سنبھالتے آئے ہیں، جو جدید مواصلاتی نظام سے لیس تھے اور نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، جبکہ اندر آنے والی ہر گلی پر لوہے کے بیئریر موجود ہیں۔ لیکن آج ان پر ڈیوٹی دینے والے کارکن کہیں نظر نہیں آئے۔ گذشتہ جمعرات کو خورشید میموریل سیکریٹریٹ میں ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات ہوئی تھی اور وہاں تک پہنچنے کے لیے تین جگہ ان چوکیوں سے گذرنا پڑا تھا لیکن آج یہاں آنے جانے والے کسی بھی فرد سے کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ یہاں کی گلیوں میں گھنٹوں کی مہلت پر خواتین اور مرد کارکن جمع ہوجاتے تھے، جہاں دن رات کی پرواہ کیے بغیر الطاف حسین خطاب کرتے تھے لیکن آج یہ گلیاں ویران تھیں۔

اسی علاقے میں الطاف حسین کی رہائش گاہ نائن زیرو بھی واقع ہے، جس کے دونوں داخلی راستوں پر بھی تالے پڑے تھے۔ گذشتہ تین دہائیوں سے یہ ایم کیو ایم کا سیاسی قبلہ رہا ہے جہاں بینظیر بھٹو، نواز شریف ، آصف علی زرداری سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات حکومت سازی اور حکومت مخالف تحریکوں کا حصہ بننے کی دعوت دینے کے لیے آتی رہے ہیں لیکن اب یہ نو گو ایریا ہے۔ ایک 50 سالہ شخص موبائیل فون کی کیمرے سے اس بند گھر کی تصویر بناتا نظر آیا اور ہمارے قریب آ کر پوچھا کہ کیا یہ بھائی کا گھر ہے؟ میں نے پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں انھوں نے بتایا وہ بھنگوریا گوٹھ میں رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع اس آبادی کا رہائشی پہلی بار یہاں آیا تھا۔

گذشتہ روز رینجرز نے ایم کیو ایم مرکز سمیت تمام دفتر کو سیل کر دیا تھا نائن زیرو کے قریب چند بچے موجود تھے جو گذشتہ شب ڈاکٹر فاروق ستار اور رینجرز حکام میں ہونے والے مکالمے کو دہرا رہے تھے، جس کے بعد رینجرز افسر ڈاکٹر فاروق ستار کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ رینجرز کے چھاپے کے بعد سے ان کی ٹی وی کیبل منقطع ہے جس کی وجہ سے انھیں تازہ صورتحال کے بارے میں آگاہی نہیں جبکہ کیبل آپریٹرز بھی لائن مرمت کرنے کی ہمت نہیں کر رہے ہیں۔ رکن الدین 1992 سے نائن زیرو پر ملازمت کر رہے ہیں تالہ بندی کے باوجود وہ اپنی فرائص کی انجام دہی کے لیے باہر موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ رات رینجرز آئی اور کچھ سامان اپنے ساتھ لے گئی۔ بقول ان کے یہ تو 1992 سے ہو رہا ہے ان کے لیے نئی بات نہیں تھی۔

’ہم نے پاکستان بنایا تھا میرا خود کا آدھا کنبہ کوئی بیس پچیس لوگ کٹ گئے، بس یہ ہی چل رہا ہے تعصب بازی۔‘ رکن الدین کے ساتھ محمد صدیق اختر موجود تھے جن کا دعویٰ تھا کہ انھوں نے فوج میں بھی ملازمت کی ہے۔ انھوں نے موجودہ صورتحال یہ مثال دیکر بیان کرنے کی کوشش کی کہ ایک طاقت ور مچھلی کمزور کو نگل جاتی ہے کیونکہ وہ اس کو ابھرتے نہیں دیکھ سکتی۔ گذشتہ ڈیرہ سال کے عرصے میں نائن زیرو پر رینجرز کا یہ تیسرا چھاپہ تھا لیکن اس بار ایم کیو ایم کے سیاسی، انتظامی اور اطلاعات کے شعبوں کو غیر فعال کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس سے پہلے تک پارٹی قیادت گرفتار تھی یا زیر زمین جاچکی تھی۔

گذشتہ ڈیرہ سال کے عرصے میں نائن زیرو پر رینجرز کا یہ تیسرا چھاپہ تھا متحدہ قومی موومنٹ کی تمام اہم پریس کانفرنسیں نائن زیرو یا خورشید میموریل سیکریٹریٹ میں ہوتی رہی ہیں جہاں بعض اوقات صحافیوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار بھی کرنا پڑتا تھا۔ دونوں عمارتوں کی تالہ بندی کی وجہ سے ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کی جس میں مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر سمیت دیگر دفاتر کو کھول دیا جائے۔ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار کو صحافیوں کے سخت سوالات کا نہیں بلکہ سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافی فاروق ستار کے صحافتی کارکنوں پر حملے پر معذرت اور حملہ آورں سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے باوجود، نعرے بازی کرتے رہے۔

ریاض سہیل

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

الطاف حسین کا آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے لڑنے کے لیے اسرائیل سے مدد کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی پاکستان میں موجود رابطہ کمیٹی نے الطاف حسین کے امریکا میں کارکنان سے حالیہ خطاب میں اسرائیل سے مدد مانگنے اور  پاک فوج سے لڑنے کے بیان سے بھی اعلان لاتعلقی کر دیا۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئر فاروق ستار اور نسرین جلیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر رہنما عامر خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر الطاف حسین کے آڈیو کلپس چل رہے ہیں، یہ تقریر کراچی میں کارکنان سے کیے گئے خطاب سے ملتی جلتی ہے۔ عامر خان نے مزید کہا کہ کراچی میں کی گئی تقریر سے ایم کیو ایم نے اعلان لا تعلقی کیا تھا، اسی طرح امریکا میں کی گئی تقریر سے بھی رابطہ کمیٹی پاکستان اعلان لاتعلقی کرتی ہے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر الطاف حسین نے کہا ہے کہ ‘امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا’۔ الطاف حسین نے امریکا اور برطانیہ میں مقیم کارکنان کو ہدایت کی کہ ہر کسی سے مدد مانگی جائے، اسرائیل، ایران، افغانستان، ہندوستان سے بات کی جائے کہ وہ ہماری مدد کریں۔ برطانیہ میں مقیم متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہم سے غلطی اور گناہ ہوگیا، اے ہندوؤں! ہم اس سازش کو نہیں سمجھے جو انگریز نے بنائی تھی، ہم اس کا حصہ بن گئے اور جو اس کا حصہ نہیں بنے وہ عیش کر رہے ہیں’۔ الطاف حسین نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر ندیم نصرت پر بھی زور دیا کہ وہ ’کھل کر بولیں‘۔

اس موقع پر وہاں موجود افراد الطاف حسین کی تائید کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنائی دیئے کہ پاکستان کا تقسیم در تقسیم ہونا لکھ دیا گیا ہے، اس دوران انھوں نے ‘لے کر رہیں گے آزادی’ کے نعرے بھی لگائے۔ خیال رہے کہ 22 اگست کو بھی الطاف حسین نے کراچی میں پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے جبکہ کارکنان کو مختلف ٹی وی چینلز پر حملوں کے لیے اکسایا تھا۔ الطاف حسین کے اس خطاب کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئی تھیں جبکہ ایک روز بعد ہی کراچی میں موجود رابطہ کمیٹی کے فیصلے سے فاروق ستار نے الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان سے اعلان لاتعلقی کردیا اور ایم کیو ایم کو پاکستان سے چلانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔

اس نئے آڈیو کلپ کے حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما عامرخان نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ الطاف حسین کی یہ تقریر بھی 2 روز پرانی ہی ہے، امید ہے اب ایسی کوئی تقریر اور بات نہیں ہوگی، ایم کیو ایم کراچی کی رابطہ کمیٹی الطاف حسین کے امریکا میں کارکنوں سے خطاب کے بیان سے بھی اعلان لاتعلقی کرتی ہے۔

کراچی اور حیدر آباد میں الطاف حسین کی تصاویر ہٹادی گئیں

قائد ایم کیوایم الطاف حسین  کی پاکستان مخالف تقریر  کے  بعد شہر قائد سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کے دفاتر سیل کئے جانے کے بعد اب  متحدہ کے قائد کی تصاویر بھی نہ صرف نائن زیرو بلکہ شہر سمیت حیدرآباد سے بھی ہٹادی گئی ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق  ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے پاکستان سے متعلق نفرت انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر پر حملوں کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری علاقوں میں جماعت کے دفاتر سیل کردیئے گئے تھے تاہم اب کراچی سمیت حیدرآباد میں  ایم کیو ایم کے قائد کی تصاویر بھی ہٹادی گئی ہیں۔

 کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو اور مکا چورنگی کے اطراف کے علاقوں عائشہ منزل، حسین آباد، لیاقت آباد اور فیڈرل بی ایریا  سے بانی قائد کی تصاویر ہٹادی گئی ہیں اور جو تصاویر چسپاں تھیں انہیں پھاڑ دیا گیا ہے۔ دوسری جانب کراچی کے علاوہ حیدر آباد کےعلاقے لطیف آباد سے بھی ایم کیو ایم کے قائد کی تصاویر ہٹادی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ 22 اگست کوقائد ایم کیوایم نے کراچی پریس کلب کے باہرمتحدہ کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی اوراس دوران پاکستان کے خلاف نعرے بھی لگوائے تھے۔