متاثرینِ مغرب

 جون 2015 کو امریکی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد قوس وقزح کے سات رنگوں کا جھنڈا ہاتھوں میں تھامے نیویارک کے رہائشی 50 سالہ ٹام نے اپنی 70 سالہ بوڑھی والدہ ہیلن کو فون کرکے بتایا کہ امی جان مبارک ہو۔ آج تمہارے بیٹے کی زندگی کا سب سے اہم دن ہے۔ بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو اس قدر خوش دیکھ کر کہا کہ صدقے جاواں لیکن پتر یہ بتا کہ ہوا کیا ہے؟ ٹام نے کہا امی جان وہ میرا 60 سالہ دوست پیٹر جو اکثر ہمارے گھر میں راتیں گزارتا تھا۔ وہ نہ صرف میرا دوست ہے بلکہ اب میرا خاوند بھی ہے اور میں آئندہ ہفتے اس کے ساتھ چرچ میں باقاعدہ شادی کروں گا کیونکہ سپریم کورٹ نے سارے ہم جنس پرستوں کو کھلے عام شادی کی اجازت دے دی ہے۔ یہ سن کر اس کی بوڑھی ماں جو عقیدے کے لحاظ سے قدامت پسند رومن کیتھولک ہے، نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ’’لکھ دی لعنت‘‘! اور فون بند کردیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں میں سارے ہم جنس پرست سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور آزادی اور غرور کا جشن منانے میں مصروف ہیں۔ سارے یورپی میڈیا میں قوس و قزح کے سات رنگوں والے جھنڈے کی تصویریں ہیں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں، انٹی انکلز سمیت عمر رسیدہ ہم جنس پرست مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ امریکی اور یورپی اقوام کی ایک دوسرے کو مبارکباد اورخوشیاں منانے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ جیسے ٹام کو پیٹر جیسا خاوند ملا۔ وہ اب اپنی آخری عمر میں بغیر کسی خوف کے الماری سے نکل کر اپنا گھر بساسکے گا۔ لیکن مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ پرائی شادی میں دیوانے پاکستانی کیوں اتنا خوش ہیں؟
میرا ایک دوست جس نے اپنے فیس بک ڈسپلے پیکچر کو قوس و قزح کے سات رنگوں سے کلرفل کردیا ہے، سے جب میں نے صرف اتنا پوچھا کہ تم بھی؟ اس نے غصہ ہوکر کہا بکواس بند کرو، میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ میرا پختہ یقین ہوگیا کہ متاثرین سیلاب، متاثرین زلزلہ، متاثرین آپریشن، متاثرین جنگ کی طرح میرے ملک میں متاثرین مغرب کی بھی کافی تعداد موجود ہے جو توجہ کے لائق ہیں ورنہ حالات بگڑ سکتے ہیں۔
میں نے کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا پر امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا توخود کو روشن خیال سمجھنے والے اُس دوست نے اُسے میرا تعصب، تنگ نظری اور میری ذہنی تاریکی قرار دیا۔ میں نےعراق کی مثال دی کہ پوری قوم سے جھوٹ بول کر انہوں نے ایک ملک کو تہس نہس کردیا۔ اس کے مطابق اس میں بھی عراق کا اپنا قصور تھا۔ وہ امریکہ کی طرح طاقتور کیوں نہیں تھا اور اس نے امریکہ کی طرح اسلحہ اور ایٹم بم کیوں نہیں بنائے۔
مجھے امریکہ میں دنیا کے خوبصورت ترین اور عیاش ترین شہر میں رہنے کا موقع ملا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں بھی ان کے نقل اتارنے کی کوشش کروں۔ میں وہاں کی نیشنلٹی بھی حاصل کرتا تب بھی میری زیادہ ترعادات پختونوں اور پاکستانیوں سے ہی ملتیں کیونکہ امریکہ میں آج بھی مختلف قومیتوں کے لوگ اپنی قومیتوں پر فخر کرتے ہیں۔ میں اس قوم کی انسانیت کے لئے گراں قدر خدمات کا معترف ہوں۔ میں نہ صرف ان کی سائنس و ٹیکنالوجی میں نت نئے ایجادات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی خدمات کی گواہی دیتا ہوں۔ میں اُس قوم کی ڈسپلن سے متاثر ہوں۔ میں نے انہیں تفریحی پارکوں میں ٹوائلٹ کے لئے لمبی لمبی قطاریں بناتے دیکھا ہے۔ اُس قوم میں بہت ساری خوبیاں ایسی ہیں جو دنیا کی کسی قوم کے پاس نہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں ان کے ان ناجائز کاموں کی بھی حمایت کرنا شروع کردوں جو بہرحال میری سوچ کے مطابق غلط ہیں۔
جس طرح انہوں نے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کارنامے سرانجام دیے اُسی طرح انہوں نے انسانیت کی تذلیل اور بربادی کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ میں نے اُسے کہا کہ امریکہ معاشرہ جس زوال کا شکار ہے، اِن تمام تر خوبیوں کے باوجود بھی یہ دھڑام سے گرجائے گا۔ جب سے یورپ میں مذہب کو ریاست کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کا آزاد خیال اور روشن خیال طبقہ ان کے ساتھ مذاق کرنے میں مصروف ہیں۔ سیکولرازم کے نام پر انہیں دنیا میں جو چاہو کرتے پھرو کے فارمولے پر گامزن کرکے دنیا کو جنت بنانے کے مشن پر تلے ہوئے ہیں۔
 مذہب کے بیوپاریوں سے فراغت حاصل کرنے کے لئے انہوں نے مذہب کو بھی خیرباد کہہ دیا۔ اگر چہ اب بھی امریکہ و برطانیہ خود کو عیسائی ریاستیں کہتی ہیں لیکن ان کا مذہب سے رشتہ ایک فارملٹی کے سوا کچھ نہیں۔ آج بھی امریکہ میں صدر کے لئے عیسائی ہونا لازمی ہے۔ آج بھی ان کے ڈالر پر یہ جملہ لکھا ہوا ہے کہ ’’ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ آج بھی صدر بش افغانستان پر چڑھائی کرنے سے پہلے ویٹی کن جاکر پوپ سے آخری کروسیڈ کے لئے آشیرباد لیتا ہے۔ آج بھی یورپ و امریکہ میں کرسمس اور ایسٹر جیسی مذہبی تہواریں جوش وجذبے سے منائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ اس لئے معانی نہیں رکھتی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دے رکھا ہے اور ان کے پارلیمان کے فیصلے انہیں انجیل سے زیادہ مقدم ہوتے ہیں اس لئے اگر وہ ان کی مذہبی تعلیمات کے خلاف بھی ہوں، تب بھی وہ مذہب کو بالائے طاق رکھ کر وہی کرتے ہیں جو انہیں پسند ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی المیہ ہے جس نے پورے یورپ کو کنفیوز کر رکھا ہے۔
یورپ و امریکہ کے باشندوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے عیسائی مولوی انہیں پیسوں کے بدلے جنت بیچتے تھے۔ چرچ سے جان چھڑانے کے بعد یہ بیچارے آسمان سے گرے، کھجور میں اٹکے کی مانند کارپوریشن مافیا کے جال میں پھنس گئے۔ جنہوں نے ان کی طرز معاشرت کو کاروبار بنادیا۔ دین کو ریاست سے الگ کرکے انہوں نے چنگیزی شروع کی اور اسے قومی مفاد کا نام دیا۔ پوری دنیا کے وسائل لوٹے اور اس بڑی چوری اور خیانت کو کالونائزیشن کا نام دیا۔ انہوں نے نئی نئی اختراعات ایجاد کرلیں۔ الفاظ کے معانی تک بدل ڈالے۔
 شادی کے بجائے ناجائز مراسم بنائے اور اسے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کہا۔ شراب و شباب کو آزادی کا نام دیا۔ پراسٹیٹوٹس کو سیکس ورکرز کا خطاب دیا تاکہ دھندا کرتے وقت ان کا عزت نفس مجروح نہ ہو۔ اُنہوں نے ایسے لوگوں کو ہومو سیکشول یعنی ہم جنس پرست کے لقب سے نوازا اور آج اس پر فخر کرنے کے لئے پریڈز کا انعقاد کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے جواز ڈھونڈنے شروع کئے لیکن جب کہیں سے کوئی جواز نہیں ملا تو انہوں نے یہ بہانے بنانے شروع کئے کہ بعض لوگ ہم جنس پرستی کی خصوصیات لے کر ہی پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کچھ ریاستوں میں جوئے کو قانونی حیثیت دی تاکہ وہ ٹیکس لے کر حکومت بھی چلا سکیں اور جوابازوں کو اپنی زندگی برباد کرنے کی کھلی چھوٹ بھی دے دی۔ معیشت کی سب سے بڑی لعنت یعنی سود کو، جسے سارے مذاہب نے حرام قرار دیا تھا، نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اس کے لئے بنکوں کے جال بھی بچھادئے۔ الغرض زندگی کے ہر شعبے میں انہوں نے مذہبی تعلمیات کے بالکل برعکس تمام حرام کاموں کو جائز قرار دیا۔
 اچھائی اور بُرائی کے درمیان جو لکیر مذہب نے کھینچی تھی، اسے مٹادیا۔ طاقت کے نشے میں مست اس قوم نے پوری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لئے نہ صرف اچھے اور بُرے کی تعریف شروع کردی بلکہ جسے انہوں نے اچھا کہا، پوری دنیا نے مان لیا۔
میں نے جس قران مجید کو پڑھا ہے اس میں ایک باب ہم جنس پرستی کے حوالے سے ہے۔ اگر لڑکے کا لڑکے کے ساتھ شادی کرنا ہی ترقی ہے تو پھر اس لحاظ سے لوط علیہ السلام کی قوم آج سے 7 ہزار سال پہلے ترقی یافتہ بنی تھی۔ جس کا حشر یہ ہوا کہ وہ قوم ہی صفحہ ہستی سے برباد ہوگئی۔ میرے دوست نے کہا تمہارا کیا خیال ہے یہ قوم بھی اس طرح برباد ہوگی؟ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کس کو کتنی مہلت دیتا ہے لیکن ایک بات کا میں دل سے قائل ہوں کہ دنیا میں حکومت کرنے کے جتنے اُصول وضع ہیں ان میں ہم جنس پرستی کا عنصر شامل نہیں۔
میں اپنے دوست سے کہ ذرا سوچو کہ کل کو جب اوباما کے بجائے کوئی 60 سال کا امریکی صدر اپنے شوہر کو بھی اپنے ساتھ کسی دورے پر لائے گا تو پاکستانی حکمرانوں کو تو یہ مشکل ضرور درپیش ہوگی کہ ڈکٹیشن کس سے لی جائے۔ اُس نے کہا کہ اِس کے باوجود بھی یہ دنیا پر حکومت کریں گے۔ میں نے اُسے بتایا کہ نہیں اب تم صرف تماشا دیکھنا۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب تک ان کا یہ چہرہ دنیا والوں سے پوشیدہ رہا تھا۔ لوگ آج تک انہیں سیدھے لوگ سمجھتے رہے، یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں آج تک انہی کا سکہ چلتا ہے۔ ان کی 821 ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پوری دنیا کو اپنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا ہے۔ 
ہم جنس پرست تو ہمارے معاشرے میں بھی ہیں، دوست نے جواب دیا، میں نے اسے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی کے علاوہ بھی تمام بڑی برائیاں موجود ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ان برائیوں کو قانونی حیثیت دیں اور جب تک پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ ان برائیوں کو قانونی حیثیت نہیں دیتی تب تک وہ برائی ہی رہے گی۔ میں نے اسے کہا کہ میرے مذہب نے بھی ہر قسم کے گناہ کے امکانات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے اور تبھی تو اس کے لئے سزائیں مقرر کی ہیں۔ لیکن جب ایک شخص اس گناہ کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو پھر مذہب میں اس کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ 
میرے مذہب کا ایک بہترین اصول یہی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو کہتا ہے کہ جتنے چاہو گناہ کرلو لیکن دو کام بالکل مت کرنا۔ ایک اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اور دوسری بات یہ کہ گناہ کو ثواب اور ثواب کو گناہ مت کہنا! بس یہی وہ غلطی ہے جو یورپ کے لبرلز اور سیکولرز کر بیٹھے اور یہی وہ بنیادی غلطی ہے جو ان کے معاشرے کو لے ڈوبے گا۔
جہاں تک پاکستان میں موجود متاثرین مغرب اور اپنی ملت پر اقوام مغرب کا قیاس کرنے والے دیسی لبرلز اور خود کو روشن خیال، ترقی پسند اور جدیدیت کے نام پر اچھل کود کرنے والوں کا تعلق ہے تو مجھے اِس بات پر اس لئے حیرت نہیں ہوتی کیونکہ غلام ابن غلام ابن غلام کے پاس نہ اپنے نظریات ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنی سوچ۔ اُنہیں کسی نہ کسی آقا کو فالو کرنا پڑتا ہے اور وہ نہ اس میں فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ خود کو ماڈرن بھی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جواس قوم کو پچھلے 70 سال سے درپیش ہے۔ 
اسلامی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک کے پالیسی ساز ابھی تک یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ وہ اس ملک کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ کوئی روس سے متاثر ہے تو کوئی برطانیہ سے۔ کوئی امریکہ سے متاثر ہے تو کوئی امریکہ کے چاپلوس سعودی عرب سے۔ کوئی اس ملک میں سوشلزم کا حامی ہے تو کوئی جمہوریت کے راگ الاپ رہے ہیں۔ لیکن پچھلے 70 سال سے اس ملک پر مغرب کے متاثرین کا پلڑا بھاری ہے اور ان کی پالیسیاں اور ان کا نظام مضبوط کرنے کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ روس کوافغانستان میں شکست ہونے کے بعد اب سوشلسٹ بھی امریکی صف میں نظر آتے ہیں اور مغربی اقوام کی ان غلطیوں اور کمزوریوں کے لئے بھی حیلے بہانے تراشتے ہیں جن کو وہ قومیں خود غلطیاں تسلیم کرچکی ہیں۔ لیکن شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ لوگ اس قدر اندھی تقلید میں لگے ہیں کہ انہیں علامہ اقبال بھی آئی ایس آئی اور سعودی عرب کا ایجنٹ نظر آتا ہے جس نے سو سال پہلے کہا تھا
میخانہ یورپ کے، دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر
ضیاء اللہ ہمدرد

گرمی سے ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بے گھر تھی

سندھ کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں شدید گرمی کی لہر سے ہلاک ہونے والےدو تہائی لوگ بے گھر تھے۔
ہلاکت خیز گرمی کی لہر سے صرف کراچی میں 1200 سے زائد اموات ہوئیں۔
دو کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سرسبز علاقوں کی شدید کمی ہے ۔ صاف پینے کے پانی اور سائبان تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شہر کی سڑکوں پر زندگی گزارنے والے اس شدید گرمی کے سب سے بڑے متاثرین ثابت ہوئے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت جام مہتاب ڈھر نے اے ایف پی کو بتایا ’ہیٹ سٹروک کے 65 سے 60 فیصد شکار افراد بھکاری ، ہیروئن کے عادی اور سڑکوں پر رہنے والے تھے‘۔
جام مہتاب ڈھر نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے باقی 40سے 35 فیصد تعداد گھریلو بوڑھی خواتین کی تھی جو حبس اور گرمی کی وجہ سے گھروں میں ہلاک ہو گئیں۔
ڈھر کے خیال میں ان ہلاکتوں میں لوڈ شیڈنگ نے بھی اپنا کردار ادا کیا کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی پنکھوں اور اے سی تک رسائی ممکن نہ رہی ۔
محکمہ صحت کے ایک سینئر افسر ظفر اعجاز نے بتایا کہ پیر تک شہر کے ہسپتالوں میں اموات کی تعداد 1299 ریکارڈ کی گئی۔

Saeed Ajmal raises £30000 for Myanmar’s Rohingya Muslims

پاکستانی آف اسپنر سعید اجمل آج کل پوری توجہ سے انگلش کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے میں تو مصروف ہیں ہی، لیکن ساتھ ہی وہ میانمار سے دربدر ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کے حوالے سےبھی اپنی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔
ہفتے کوبرطانیہ کے شہر مانچسٹر میں روہنگیا مسلمانوں کے لیے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ منعقد کیا گیا، جہاں 37 سالہ سعید اجمل کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا،جو آج کل ووسٹر شائر کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔
مذکورہ تقریب میں موجود پاک پیشن نامی کرکٹ پورٹل کے ایڈیٹر ساج صادق نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا:” سعید اجمل کے تعاون اور کوششوں سے روہنگیا مسلمانون کے چیریٹی ایونٹ کے دوران 30 ہزار برطانوی پاؤنڈز اکھٹے کیے گئے”۔
میانمار میں بدھ مت کے پیروکاروں کے ظلم کا شکار 9 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان، اپنا گھر بار، مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے۔
یہ دربدر روہنگیا مسلمان کشتیوں میں سوار ہو کر میانمار سے نکلے اور انھوں نے مختلف ممالک میں عارضی کیمپوں میں پناہ لی، جہاں انھیں زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے سخت تگ و دو کرنی پڑرہی ہے۔

The ruins of the Feroz Shah Kotla mosque in New Delhi

A Muslim man calls for the evening prayer after having his iftar (breaking of fast) meal during the holy month of Ramadan at the ruins of the Feroz Shah Kotla mosque in New Delhi, India.

برطانوی امریکی استعماری ٹولے کا جاسوسی جال

بڑے میاں (باراک اوباما) تو بڑے میاں چھوٹے میاں (ڈیوڈ کیمرون) سبحان اللہ۔ برطانوی خفیہ ایجنسی یا برطانیہ کے کرائے کے مقامی جاسوس پاکستان کے سرکاری راز چُرا کر اپنی حکومت کو دیتے ہیں۔ اس جاسوسی نظام کا جال پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے یہاں تک کہ پاکستان کے شہریوں کے ٹیلی فون، نجی مراسلات، ای میل اور انٹرنیٹ تک ان کی دسترس میں ہیں۔ گویا پاکستان کے سرکاری راز معلوم کرنے کے لیے برطانیہ اور امریکہ کو کوئی دقت نہیں پیش آتی تاہم یہ استعماری ٹولہ عسکری سے لے کر معیشت، صحافت، جامعات، سائنسی تحقیقات، صنعتی تنصیبات، کان کنی تک پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
البتہ پاکستان کے جوہری اسلحہ خانے اور اس کے دفاعی منصوبوں تک ان شکاری کا گزر نہیں ہے۔ اس ضمن میں اکثر میں اپنے کالموں میں وقتاً فوقتاً دو اہم واردات کا ذکر ضرور کرتا ہوں تا کہ جہاں حکمرانوں کی کوتاہیوں سے استعماری ٹولے کو ریاست کے راز معلوم ہو جاتے ہیں وہاں قارئین کو یہ بھی معلوم ہو کہ قوم کے جوہری منصوبے کی حفاظت ایسے محب وطن حکام کے آہنی ہاتھوں میں ہے کہ وہاں امریکی، برطانوی، فرانسیسی ، جاسوسوں کا گزر تو کجا ان کا سایہ بھی نہیں پڑ سکتا۔
 جنرل ضیاء الحق کے دورحکومت میں فرانسیسی سفیر ’’اسلامی بم‘‘ کی بو سونگھتے ہوئے کہوٹہ کی ایٹمی تجربہ گاہ کے گردو نواح تک پہنچ گئے لیکن جونہی انہوں نے سرخ لکیر پار کی تو انہیں ’’پر اسرار بندوں‘‘ نے پکڑ لیا پھر کیا تھا ان کے دانت توڑ دیئے۔ اس سانحے کو لگ بھگ اڑھائی عشرہ بیت گیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ موصوف افرانسیسی سفیر اب بھی حیات ہیں یا نہیں یا اگر حیات ہیں تو حاضر ملازمت ہیں یا ریٹائر ہو چکے ہیں۔
میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اگر کسی کو اس واردات کی تحقیق کرنی ہے تو ان کے نقلی دانتوں کا معائنہ کرے بشرطیکہ موصوف اپنے جبڑے نہ بھینچ لیں۔ کم از کم ہمارے کمانڈروں (کمانڈوز نہیں کیونکہ اردو میں زنگا کر واحد کو جمع نہیں بنایا جا سکتا جیسا روزنامہ اسلام کے ’’انگریزی داں‘‘ میرے مضامین کی ’’اصلاح‘‘ کرتے وقت تحریف کر دیتے ہیں) نے سفیر موصوف کو ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات 1961ء کی شقوں کو ان کے ذہن نشین کر دیا۔
دوسری واردات بی بی سی کے رپورٹر کرس شرویل کی ہے۔ نہ جانے کیوں بڑی بی (بی بی سی) کو خبر رسانی چھوڑ کر مخبری کی سوجھی کہ اپنے مذکورہ رپورٹر کو جاسوسی کے لیے کہوٹہ بھیج دیا۔ وہاں اس کی ملاقات تجربہ گاہ کے نگران محافظوں سے موت کی طرح برحق تھی۔ شرویل شراب پیئے ہوئے تھا اور ایک بازاری عورت کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اسے اسی حالت میں تھانے لے جایا گیا۔ اس وقت تک اس کا نشہ ہرن ہو چکا تھا۔
ہمارے ملک کے پاسبانوں کے ذریعے ڈاکٹر شکیل آفریدی ایک غیر ملکی مالی امداد پر پلنے والی جعلی تنظیم کی جانب سے پولیو کی مہم کی آڑ میں کاکول اکادمی کی نواحی بستی بلال ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کے خون کے نمونے لینے پہنچ گیا اور اس کی اطلاع اپنی ایجنسی کو نہیں بلکہ اپنے آقا کی ایجنسی کو دے دی جس کے باعث اس مکان پر امریکی قزاقوں نے حملہ کر دیا اور جب عدالت نے اس غدار کو اس کے جرم کی پاداش میں سزا سنائی تو چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد کے مصداق امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے سخت احتجاج کیا۔ خیر چور تو مچاتا ہے شور۔ جب غدار شکیل آفریدی غداری کے الزام میں سزا کاٹ رہا تھا تو جیل کے عملے نے اسے قواعد و ضوابط کے خلاف اپنے آقا سے رابطے کے لیے موبائل فون اور رابطے کی دیگر سہولیات فراہم کی ہوئی تھیں۔
ادھر امریکی صحافی سیمور ہرش نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ پاکستان کا ایک افسراسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں داخل ہوا اور اسامہ بن لادن کی سراغرسانی میں اعلان شدہ انعام کی رقم اپنا حصہ طے کرنے کے بعد ان کی نشاندہی کر دی اور اب واشنگٹن میں امریکی مخبر ایجنسی کے معتبر کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بارے میمو گیٹ سکینڈل کا ذکر ہو جائے۔ آصف زرداری کے نامزد کردہ سفیر برائے امریکہ حسین حقانی سے ایک مراسلہ منسوب کیا جاتا ہے جس میں موصوف نے امریکی جنرل جونس کے توسط سے امریکی فوج کے سربراہ کو تحریر کیا تھا کہ اگر پاکستان کی فوج منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے تو وہ اس کا سدباب کرے۔ اس پر سفیر موصوف کی پیشی بھی ہوئی جس میں انہوں نے عارضی طور پر امریکہ جانے کی اجازت طلب کی تھی اور واپسی پر عدالت میں حاضری دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اسے اجازت دے دی۔ لیکن امریکہ جانے کے بعد وہ واپس ہی نہیں آئے نیز بلال ٹاؤن پر امریکی حملے کی تحقیقات کے لیے ایبٹ آباد کمیشن بھی قائم ہوا لیکن اس کی رپورٹ ہنوز شائع نہیں ہوئی۔ یہ قوم کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ شہری کو اطلاعات تک رسائی ہونی چاہیے۔ اس کے لیے  موجود ہے۔
ابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے کہ میڈیا میں بڑا چرچہ تھا کہ پاکستان کے بعض اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل کے چند صحافیوں کو مبینہ طور پر غیر ملکی ذرائع، رقوم فراہم کرتے ہیں اسی طرح پی ٹی سی ایل کے حصص کی فروخت پر یہ ’’افواہ‘‘ بازگشت کر رہی تھی کہ اس میں جاسوسی آلات نصب کر دیئے گئے ہیں جن کے ذریعے سرکاری راز غیر ملکی ایجنسیوں کو پہنچ جاتا ہے۔
 کچھ عجب نہیں کہ اس بہتی گنگا میں بھارت بھی ہاتھ دھو رہا ہو اور جہاں تک وکی لیکس کا تعلق ہے تو اس نے تو یہ چشم کشا انکشاف کیا تھا کہ اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان میں متعین امریکی سفارتکاروں کو ہدایت کی تھی کہ پاکستان کے وزراء و حکام کی معمول کی نقل و حرکت حتی کہ ان کے اندرون و بیرون ملک دوروں، فضائی سفر، ان کی پروز نمبروں، عارضی قیام اور منزل مقصود تک کی مخبری کریں۔ وہ آئندہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ اس پر ہم صرف اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں؟
پروفیسر شمیم اختر
بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

تپڑ ہو تو بجلی بہت…وسعت اللہ خان

انگوچھے کو یا تو مداری چادر میں بدل سکتا ہے یا پھر کوئی وزیرِ با تدبیر۔
اب بجلی کو ہی لے لیں۔ سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں کم از کم رمضان کے مہینے میں بجلی کی روزانہ ضرورت 20 ہزار میگاواٹ سے کم نہیں ہو سکتی۔
آپ کچھ بھی کر لیں پاکستان میں اس وقت بجلی کی پیداوار 15 ہزار میگاواٹ سے آگے نہیں بڑھ سکتی، پھر بھی خوش امید وزیرِاعظم ہوں کہ دو وزارتوں (وزارتِ دفاع و پانی و بجلی) سے عقد شدہ خواجہ آصف ہوں، یا بڑک سے بجلی پیدا کرنے کے کوشاں وزیرِ مملکت برائے بجلی عابد شیر علی، سب کا خیال ہے کہ 15 ہزار میگاواٹ کو کھینچ کھانچ کے 20 ہزار میگاواٹ بنایا جاسکتا ہے۔
اگر تو بجلی چیونگم ہوتی تو اسے لمبا کرنے سے مسئلہ حل ہو جاتا۔اگر عوام بے صبرے نہ ہوتے تو بھی مسئلہ حل ہو جاتا اور اگر ذمہ دار وزرا تھوک سے پن چکی چلانے کی عادتِ لاحاصل میں مبتلا نہ ہوتے تو بھی مسئلہ حل ہو جاتا، مگر ایسا کچھ بھی نہیں اسی لیے عوام سڑک پر ٹائر جلا کے روشنی پیدا کر رہے ہیں۔
لائن مین ٹائپ لوگ افسروں کی گالیوں سے توانائی کشید کر رہے ہیں اور افسر لوگ وزرا کے سامنے ’یس سریا‘ رہے ہیں اور وزرا خجل ہتھیلیوں کو مل کے چقماق بنانا چاہ رہے ہیں اور چھچھورے میڈیا کے منورنجن کے لیے ’گھبرائیں نہیں بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا کا ورد‘ کر رہے ہیں، اور میڈیا ہے کہ جلتی پر تیل چھڑک کر پاور جنریشن میں لگا ہوا ہے۔
مگر شیدے کا بلب پھر بھی نہیں جل رہا، مودے کا پنکھا پھر بھی نہیں چل رہا، بس دل جل رہا ہے اور جل رہا ہے۔
ضیا الحق کے دور میں کچھ جوشیلے سائنسدان کم از کم جنات سے بجلی پیدا کرنے کی مشق تو کر رہے تھے لیکن اب تو یوں ہے کہ بجلی ہی جِن بن گئی ہے، ہے مگر نہیں ہے۔
لیکن وہ حکومت ہی کیا جو جی ہار دے۔ چنانچہ اب خوابوں سے بجلی پیدا کرنے کے تجربات ہو رہے ہیں۔ یہ منصوبہ اگلے سال مکمل ہوجائے گا، وہ منصوبہ اس سے اگلے سال مکمل ہو جائے گا۔ سورج سے بجلی سنہ 2018 تک مل جائے گی اور ایٹمی بجلی سنہ 2022 میں سسٹم میں داخل ہو جائے گی اور ہوا سے بجلی فلانے فلانے سنہ تک، لیکن اس وقت کا پسینہ کیسے خشک ہو، یہ کوئی نہیں بتا رہا۔ تسلیوں کی گاجر جانے کے برس سے عوام کے آگے لٹکی ہوئی ہے۔ نہ گاجر پہ منھ پڑتا ہے، نہ گدھے کا سفر تمام ہوتا ہے۔
مزید برقی نمک وہ سرکاری اشتہارات چھڑک رہے ہیں جن میں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ بجلی بچائیے کل کام آئے گی، ایئرکنڈیشنڈ 26 درجے پر چلائیے، فالتو روشنیاں گل کر دیجیے، جرمانے سے بچنے کے لیے بل کی ادائیگی بروقت کیجیے، بجلی چوروں کی نشاندھی کے لیے فلاں نمبر پر فون کیجیے یعنی وہ چیز بیچی جا رہی ہے جو ہے ہی نہیں۔
ایک صاحب ہوا کر تے تھے، شہباز شریف جالب۔ اب سے چار برس پہلے ان کا خیال تھا کہ وفاقی حکومت جان بوجھ کر بجلی فراہم نہیں کرتی لہٰذا انھوں نے وفاقی حکومت کے خلاف ’بجلی نافرمانی‘ کی تحریک شروع کر دی اور مینارِ پاکستان کے سائے میں خیمہ دفتر لگا لیا اور ہاتھ میں کھجور کا پنکھا رکھ لیا تاکہ بجلی سے محروم عوام سے اظہار یکجہتی ہو سکے۔ ذرا پتہ تو کریں آج کل وہ کہاں ہیں اور لوڈ شیڈڈ وفاقی حکومت کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں؟
ہاں بجلی کا بحران کل شام تک آدھا ہوسکتا ہے اگر پورے پاکستان میں لازمی اداروں کو چھوڑ کے تمام سرکاری و نجی دفاتر اور بازاروں پر انرجی ایمرجنسی نافذ کر کے پابند کر دیا جائے کہ صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک کام ہو گا اس کے بعد سب بند، ورنہ کاروباری علاقے کی بجلی بند۔
لیکن اس کے لیے ریاستی تپڑ چاہیے۔ اور کوئی طریقہ اگر ہو تو مجھے بھی بتائیے گا کہ 15 ہزار میگاواٹ میں 20 ہزار میگاواٹ کی ضرورت کیسے پوری ہوتی ہے؟
وسعت اللہ خان

غزہ کے لیے امدادی کشتی اسرائیل نے روک دی

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والی ایک کشتی کو روک کر اسے ایک اسرائیلی بندرگاہ کی جانب جانے پر مجبور کر دیا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’غزہ کی پٹی پر لگی بحری پابندی کو توڑنے کی نیت سے آنے والی کشتی‘ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ بحریہ کی جانب سے کشتی کی تلاشی کے دوران کسی قسم کے تشدد کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
اس سے قبل رضاکاروں نے کہا تھا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان غزہ لے جا رہے ہیں۔ ان میں دوائيں اور شمسی تونائی حاصل کرنے کے لیے سولر پینل شامل تھے۔
اس کشتی کو پیر کو غزہ سے پہلے بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا ہے اور اس کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چار کشتیوں کے قافلے کی سربراہی کرنے والی ماریانے نامی کشتی تھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا: ’بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے اس کشتی کو راستہ بدلنے کے لیے کئی بار کہا۔ ان کی جانب سے انکار پر فوج اس کشتی پر گئی اور بین الاقوامی پانیوں میں اس کی تلاشی لی تاکہ اسے غزہ کی پٹی میں قائم بحری پابندی کو توڑنے سے باز رکھے۔‘
اس کشتی کو اب اشدد کی بندرگاہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔
یہ کشتی غزہ پر اسرائیل کی جانب سے عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر لے جائی جانے والی کشتیوں میں تازہ ترین ہے۔ غزہ پر حماس کی حکومت ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2010 ترکی کی اسی قسم کی ایک کشتی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں نو رضاکار مارے گئے تھے۔
اس کی وجہ سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، حالانکہ اس سے قبل دونوں ملک اتحادی تھے۔