اسرائیل : فلسطینی کے قتل کی سزا پتھراؤ کی سزا سے بھی کم

اسرائیل میں عدالت نے منگل کے روز ایک فوجی اہل کار ایلور ازاریا کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ فوجی نے تقریبا ایک برس پہلے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں زخمی 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایلور کا دعوی تھا کہ فلسطینی نوجوان کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ درحقیقت نہتّا عبدالفتاح زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس دوران ایلور نے عبدالفتاح کے سر میں گولی مار کر اسے قتل کر ڈالا۔

پتھراؤ .. اور قتل

فلسطینی نوجوان کے گھرانے نے اس تخفیف شُدہ سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ایلور کو دی جانے والی سزا.. پتھراؤ کرنے والے فلسطینی بچے کو دی جانے والی سزا سے بھی کم ہے۔ اداروں کا برتاؤ چِیخ چِیخ کر کہہ رہا ہے کہ سب لوگ اس فوجی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ایک طاقت ور نظام قانونی ادارے پر دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ ہر چیز فلسطینیوں کے خلاف اُلٹی صورت میں سامنے آ رہی ہے”۔ ادھر وزارت اطلاعات کے سکریٹری محمود خليفہ نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی عدالت کی جانب سے شہید عبدالفتاح کے قاتل کو 18 ماہ کی تخفیف شدہ سزا اس امر کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کے تمام تر اداروں کو اُس دہشت گردی اور شدت پسندی کی خدمت کرنے کے لیے بھرتی کر لیا گیا ہے جو غاصب ریاستی حکام فلسطین ، اس کے اداروں اور عوام کے خلاف عمل میں لا رہے ہیں”۔

قاتل کا استقبال تالیوں کے ساتھ

محمود خلیفہ کے مطابق قاتل ایلور ازاریا کا عدالت میں تالیوں اور نسل پرستی پر مبنی نعروں کے بیچ استقبال کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام کی عدالتیں جنگی جرائم کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں”۔ دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسی نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ “اسرائیل کا یہ فیصلہ اسرائیلی فوجداری قانون کے تحت لاگو اقدامات کی مخالفت ہے۔ یہ قانون دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قتل کے کسی بھی جرم کی سزا تین برس یا اس سے زیادہ مدت کی قید کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے کی پیروی میں فوجداری قانون کے متعین کردہ اقدامات کی پابندی بھی نہیں کی اور چند منٹوں میں سماعت مکمل کر دی”۔

اسرائیل نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی غلطیوں پر بین الاقوامی قانون کے مطابق محاسبہ کرتا ہے۔ تاہم عملی طور پر اس نے قاتل فوجی کو بین الاقوامی تحقیق یا عالمی عدالتِ جرائم میں پیش ہونے سے بچا لیا۔ اس لیے کہ عالمی عدالت ان جرائم پر نظر نہیں کرتی جن کا فیصلہ اُن ممالک میں دیا جا چکا ہوتا ہے جہاں ان جرائم کا ارتکاب ہوا۔ عدالتی فیصلے کے بعد شدت پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایلور کو فوری طور پر آزاد کیا جائے کیوں کہ وہ ایک قومی ہیرو ہے۔

چینی خاکروب نے تعلیم کے لیے اعلیٰ مثال قائم کر دی

چین کا ایک خاکروب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنی سخاوت اور رحم دلی کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کرچکا ہے کیونکہ اس نے گزشتہ 30 برس میں اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ درجنوں نادار طالب علموں کو تعلیم دلوانے میں خرچ کیا ہے۔ 56 سالہ ژاؤ ینگ جیو نامی شخص گزشتہ 30 برس سے چین کی سڑکوں سے کُوڑا کرکٹ اٹھا رہا ہے اور اب تک اس نے اپنی ماہانہ تنخواہ سے 37 غریب بچوں کو بہترین اسکولوں میں تعلیم دلوائی ہے۔ وہ صبح سویرے سورج نکلنے سے بھی پہلے اٹھتا ہے اور رات کے اوقات گھر واپس آتا ہے جب کہ اس کی تنخواہ 350 ڈالر یعنی پاکستانی 35 ہزار روپے ہے جو خود اس کے لیے بھی کم ہے۔

ژاؤ ینگ جیو کا جذبہ سخاوت سب پر حاوی ہے وہ ہر ماہ اس میں سے ایک بڑا حصہ غریب بچوں کو اسکول پہنچانے میں خرچ کر رہا ہے۔ اب تک وہ 37 غریب بچوں کو اسکول میں داخل کرا چکا ہے اور وہ اس کام کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ژاؤ ینگ کے مطابق وہ 3 عشروں میں 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بچوں پر خرچ کرچکا ہے۔ ایک مرتبہ اسے بہت سے بچوں کی تعلیم کے لیے رقم درکار تھی تو اس نے فوری طور پر اپنا مکان فروخت کیا اور خود کرائے کے مکان میں منتقل ہوگیا۔ چینی سوشل میڈیا پر اس شخص کی قربانیوں اور غریب بچوں سے محبت کو بہت سراہا جا رہا ہے جب کہ لوگ اسے حقیقی ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔

کیا ایران اور امریکہ کشیدگی کے نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے جب انھوں نے ایران کو ’دنیا کی درجہِ اوّل کی دہشتگرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کے نئے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں؟

امریکہ سے تعلقات یا روابط رکھنے والے ایرانیوں کے لیے یہ پریشانی کا دور ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آنے والوں پر سفری پابندی والے سات ممالک میں ایران بھی شامل ہے جبکہ بڑی تعداد میں ایرانی نژاد لوگ امریکہ میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں غیر ملکی طلبہ میں ایرانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وزٹ ویزے پر امریکہ آنے والوں میں بھی ایرانی سب سے آگے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کو فی الحال عدالت نے معطل کر دیا ہے۔ پابندی کے اعلان کے بعد بی بی سی فارسی کو ایسے سینکڑوں ایرانیوں کے پیغامات موصول ہوئے جن کی زندگیاں بے یقینی کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے تھا، محققین، طلبہ، ہم جنس پرست تارکینِ وطن، خاندانوں سے ملنے آئے بزرگ۔ اور بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مگر صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے اب تک صرف ایرانی ہی پریشان نہیں۔ امریکہ بھر میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’پھاڑ پھینکنے‘ اور ایران کے خلاف پابندیوں کو ’تین گنا‘ کر دینے کا اپنا وعدہ پورا کر بھی سکیں گے یا نہیں۔

اور اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیان بازی جاری رہی تو آئندہ مئی میں ہونے والے ایرانی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا ؟ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دیا تھا مگر ایرانی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا بہترین پیمانہ ان کے وزیرِ دفاع جیمز میتھس کا بیان ہے۔ جنوری میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے جیمز میتھس کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ نامکمل معاہدہ ہے۔ مگر جب امریکہ زبان دیتا ہے تو اسے ہمیں پورا کرنا ہے۔‘ اوباما انتظامیہ میں ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کورڈینیٹر گیری سامور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو مزید سخت کرنے کی کوشش کرے۔

’مگر انھیں جلد ہی احساس ہوگا کہ کسی قسم کے بھی مذاکرات دوبارہ کرنے سے امریکہ کو پابندیوں میں مزید نرمی کرنی پڑے گی۔‘ بہت سے لوگ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس معاہدے پر صرف امریکہ کے دستخط نہیں ہیں۔ اگر ٹرمپ اس معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اور روس سے دوری کا خطرہ مول لیں گے جس کی وجہ سے کسی قسم کی نئی پابندیوں پر عمل کروانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے نادر ہاشمی کہتے ہیں کہ معاہدے کو ناکام بنانے کے دیگر طریقے بھی ہیں۔

’میرے خیال میں ٹرمپ اس معاہدے کا انتہائی سختی سے نفاذ کریں گے اور امید کریں گے کہ ایران کہیں تو غلطی کرے اور پھر معاہدہ توڑنے کا الزام اس پر لگے۔‘ ادھر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے قدامت پسند حامی صدر ٹرمپ کے جواب میں اب تک قدرے خاموش ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جھگڑالو صدر ان لوگوں کے لیے فائدے کی بات ہو سکتی ہے۔ ’بڑے شیطان‘ کے خلاف شعلہ بیانی کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے والے آیت اللہ خامنہ ای امریکہ سے سخت لہجے میں بیان بازی کرنا خوب جانتے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم ٹرمپ کی ستائش کرتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر کے ہمارا زیادہ تر کام کر دیا۔‘ جنوبی فلوریڈا کی یونیورسٹی میں امورِ ایران کے ماہر محسن ملانی کہتے ہیں کہ کچھ قدامت پسند عناصر صدر ٹرمپ کو ایسا شخص سمجھتے ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر سکتے ہیں۔ ’ان کا ماننا ہے کہ وہ عملیت پسند غیر نظریاتی تاجر اور اچھے معاہدہ ساز ہیں جو کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے کو راضی ہوں گے۔‘

جس شخص کے لیے صدر ٹرمپ کا برسرِاقتدار آنا زیادہ خوش آئند نہیں ہے وہ ہیں موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی۔ انھیں مئی میں دوبارہ انتخاب لڑنا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ان کی دو بڑی کامیابیوں، جوہری معاہدہ اور امریکہ سے تعلقات میں بہتری، پر تاریک سایہ ڈال سکتی ہے۔ جیسے ہی انتخابی مہم شروع ہوگی صدر روحانی کے مخالفیں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو حسن روحانی کے خلاف استعمال کریں گے۔ قومی ایرانی امریکی کونسل کی ترتا پارسی کہتی ہیں کہ ’اگر سفری پابندی ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اشارہ ہے تو اس سب سے ایرانی انتخابات پر ضرور اثر پڑ سکتا ہے۔‘

مگر کیا قدامت پسند کامیاب ہو سکیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ پابندیوں کے خاتمے کے ٹھوس فوائد ایران میں بڑے پیمانے پر دیکھے جانا باقی ہیں۔ ایران کی عالمی سطح پر واپسی اور کاروبار کی توقع سے لاکھوں عام لوگوں کی امیدیں بڑھی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو واپس جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

کشمیر ڈائری : ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے‘

محمد حسین فاضلی کے گھر کے پچھلے حصے میں کئی چیزیں بکھری پڑی ہیں، ویسے ہی جیسے حسین اور ان کے خاندان کی زندگی اور سکون گزشتہ 12 برسوں سے بِکھرا ہوا تھا۔ 43 سالہ حسین سری نگر میں اپنے گھر میں کمبل اوڑھے بیٹھے ہیں اور ارد گرد بیٹھے لوگوں کو جیل میں گزارے وقت کی کہانی سنا رہے ہیں۔ جو بھی آتا ہے حسین کھڑے ہوکر اسے گلے لگاتے ہیں۔ اتنا عرصہ گزر چکا ہے کہ وہ یہاں آنے والے کئی لوگوں اور اپنے خاندان کی نئی نسل میں سے کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ حسین کو گذشتہ دنوں ایک عدالت نے 2005 میں دلی میں ہونے والے سلسلے وار بم دھماکوں کے الزامات سے بری کیا ہے۔ ان دھماکوں میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حسین کو رہا ہونے کی خوشی تو ہے، لیکن وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ جیل میں 12 برس قید کے دوران ان کے ماں باپ کی صحت خراب گئی ہے۔ حسین کے بقول ’اب گھر پہنچ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں نے کیا کھویا، گھر پہنچا تو ماں کو بستر پر لیٹا پایا، باپ کی آنکھوں کی روشنی بھی ختم ہو گئی ہے.‘ محمد حسین فاضلی اپنے گھر کے جس کمرے میں بیٹھے ہیں، وہاں کونے میں ایک سیاہ رنگ کا پرانا ٹیلی فون رکھا ہوا ہے۔ جب وہ جیل میں تھے تو حسین کا اپنے ماں باپ سے رابطے کا واحد ذریعہ یہ فون ہی تھا۔ گذشتہ 12 برس میں حسین کے ماں باپ کبھی اپنے بیٹے کو ملنے نہیں جا سکے، کیوں کہ وہ دلی آنے جانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

حسین بار بار ایک ہی سوال پوچھتے ہیں، ’میرے 12 سال کون واپس لوٹائے گا؟‘ شادی کی عمر، بیگناہ ہونے کے باوجود بارہ سال جیل میں گزارنے پر حسین سوال کرتے ہیں کہ ’جس طرح مجھے 12 سال کے بعد جیل سے بری کر دیا گیا، کیا بارہ سال پہلے ایسا نہیں ہو سکتا تھا؟ میری زندگی تو تباہ ہو گئی. جب گرفتار کیا گیا تو میری شادی کی عمر تھی۔‘ یہ پوچھنے پر کہ کیا جن لوگوں نے آپ کو گرفتار کیا تھا، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے یا پھر آپ کو معاوضہ ملنا چاہیے، تو ان کا کہنا تھا کہ’ میرا مطالبہ ہے کہ جن پولیس والوں نے مجھے اٹھایا تھا، ان سے یہ پوچھا جائے کہ میرے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا؟‘

جب حسین کو گرفتار کیا گیا اس وقت ان کی عمر 31 برس تھی اور گھر میں شادی کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اب حسین کے والد کو یہ خدشہ ہے کہ بیٹے پر جو داغ لگا ہے وہ اتنی جلدی نہیں مٹے گا۔ حسین کے والد کا کہنا تھا ’کس کس کو سمجھائیں کہ ہمارا بیٹا بے گناہ ہے.‘ تاہم انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ انہوں نے مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیا ’بس یہ ایک خواب تھا کی مرنے سے پہلے بیٹے کو دیکھ لیں، جو مکمل ہو گیا.‘

چند منٹ کی پوچھ گچھ

حسین کو اپنے گھر سے یہ کہہ کر گرفتار کیا گیا تھا کہ چند منٹ کی پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ حسین کو یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا اور کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ انہیں کئی دنوں کے بعد ایک صحافی سے پتہ چلا کہ وہ دلی میں ہیں۔ دلی دھماکوں کے الزامات میں انہیں دلی لے جایا گیا اور پھر انہیں 12 سال جیل میں کاٹنے پڑے. اپنی رہائی کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدا پر بھروسہ تھا کہ انصاف کی جیت ہو گی۔ حسین کے بقول انھیں صرف اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ وہ کشمیری ہیں ’ مجھے اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ میں کشمیری مسلمان ہوں‘۔

ماجد جہانگير

بی بی سی، سرینگر

ناصر اورچ , بوسنیا جنگ کے دوران مسلمانوں کی حفاظت کرنیوالا

جب بوسنیا ہرزے گوینا میں جگہ جگہ مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام شروع ہوا تو بیس کے پیٹے میں ایک جوان بوشنیک مجاہد ناصر اورچ نے کوئی دو تین سو دیگر ساتھیوں کے ساتھ مشرقی بوسنیا کے علاقے میں مسلمانوں کا دفاع کرنا شروع کر دیا رفتہ رفتہ لگ بھگ آٹھ سو میل کا علاقہ ناصر اورچ کے کنٹرول میں آ چکا تھا۔ کبھی کبھی یہ جنگجو سربوں کے علاقوں میں گھس کر بھی کارروائیاں کرتے تھے۔ مشرقی بوسنیا کے جنگلوں اور پہاڑوں میں سربوں کے خلاف ناصر اورچ واحد جنگی مخالف تھا جو اسی درندگی سے جوابی کارروائیاں کرتا تھا جیسی ان کی جانب سے کی جاتی تھی۔ جب یوگو سلاویہ ٹوٹا تو یوگو سلاویہ کی قومی فوج جو دنیا کی چھٹی بڑی فوج تھی، وہ بھی نسلی گروہوں میں بٹ گئی اور جس گروہ کے ہاتھ جو اسلحہ لگا‘ وہ اسے بعد میں خانہ جنگی میں استعمال کرتا رہا۔

سب سے زیادہ اسلحہ سربوں کے ہتھے چڑھا جو شروع میں دونوں مسلمانوں اور کروٹس عیسائیوں پر اور بعد میں صرف مسلمانوں پر استعمال ہوتا رہا۔ خانہ جنگی کے دوران مسلمان اورکروٹس عیسائی دونوں سربوں کے نشانے پر تھے اور مشرقی بوسنیا سے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کو مغرب کی جانب دھکیل دیا گیا۔ دراصل سرب آرتھوڈوکس اس طرح ایک عظیم سربیہ کی ریاست کے خواب دیکھتے ہیں جس طرح شدت پسند ہندو تنظیم اور اکھنڈ بھارت کی سلطنت برصغیر تا مشرق و مغرب تک چاہتے ہیں۔ یوگو سلاویہ کی یہ خانہ جنگی جب موستار تک پہنچی تو مسلمان اورکروٹس عیسائی مل کر سربوں کے خلاف لڑتے رہے مگر کہتے ہیں کہ کروٹس کیتھولک عیسائیوں اور سرب آرتھوڈوکس عیسائیوں کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ طے پایا کہ اگر اس علاقے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا جائے تو تمام مغربی بوسنیا کو کروشیا میں شامل کر دیا جائے گا اور موستار کو کروٹس کا دارالحکومت بنا دیا جائے گا اور مشرقی بوسنیا سربیہ کی ریاست میں ضم کر دیا جائے گا۔

مگر اس معاہدہ کی آج تک کھل کر تصدیق نہیں ہو سکی۔ لیکن یہ بات مصدقہ ہے کہ خانہ جنگی کے اوائل میں مسلمان اور کروٹس کیتھولک دونوں سربوں کے خلاف اکٹھے تھے اور بعد میں صرف مسلمان ہی ہر طرف قتل عام کا شکار ہوئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ناصر اورچ بوشنیک قوم کے ہیرو بن کر ابھرے اور ان پر کئی کتابیں بھی لکھی گئیں۔ کچھ سال پہلے سوئٹزر لینڈ (Switzerland) میں دوران سفر انہیں سربیہ کے دبائو کے زیر اثر بطور جنگی مجرم گرفتار کر لیا گیا ، لیکن14 دنوں کے بعد ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بری کر دیا گیا۔ ناصر اورچ آج بھی بوسنیا ہرزے گووینا میں مقیم ہیں اور سربیہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ جیسے جنگ کے دوران سربوں کے جنگی لیڈرز راتکو ملاڈچ (Ratko Mladic) اور اڈون کاراجچ (Radovan Karadzic) پر ہیگ Hague میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا گیا اسی طرح ناصر اورچ پر بھی جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جائے۔

ناصر اورچ سابقہ یوگوسلاویہ کی فوج میں اسی کی دہائی میں رہے ۔ فوج کی ملازمت سے فراغت کے بعد پولیس ٹریننگ کو جوائن کیا۔ کوسووو میں بھی رہے ۔ بلغراد میں وہ ایک کلب میں رہے۔ سرب کے فوجیوں کے ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد پورے بوسنیا میں مشہور ہے ۔ گزشتہ سال بھی جنگی جرائم سے متعلقہ عدالت میں ان کا کیس چلتا رہا۔ جنگ کے بعد وہ پولیس سے بچنے کے لئے بوسنیا کے دوردراز علاقہ میں قیام پذیر رہے لیکن بعد میں منظر عام پر آ گئے۔

(ایک آوارہ گرد کی نظر سے اقتباس)

سہون کے بعد بھی ثابت قدم رہنا ہے

ذہن کو سن کر دینے والے اور روح کو تڑپا دینے والے سانحہ سہون نے کئی افراد کو نڈھال اور غمگین کر دیا ہے کہ اب غم و غصے کے اظہار کی بھی ہمت نہیں بچی ہے۔ لال شہباز قلندر کے مزار کو محبت اور عقیدت میں آنے والے زائرین کے خون نے سرخ رنگ سے رنگ دیا۔ ایسا تو نہیں ہونا تھا۔ مگر ہمارے محبوب مگر مرجھائے دیس میں یہ سب ایک حملے کو دعوت دینے کے لیے کافی تھا۔ میں اس حملے میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والوں کے درد کا تصور کرنے کی بھی ہمت نہیں کر سکتا۔

اب جبکہ میں نے بیٹھ کر ہفتہ وار کالم لکھنے کی رسم ادا کرنے کی کوشش کی تو میرا بھی بہت ہی سادہ سا رد عمل تھا۔ لکھنے سے فائدہ کیا ہو گا؟ ہاں، آخر اس موضوع کو بار بار دہرانے سے کیا فائدہ جب کوئی بھی سن ہی نہ رہا ہو، جب آپ کی تجاویز پر کوئی غور کرنے والا ہی نہ ہو؟ یقین کریں، صرف میں ہی ایسا نہیں ہوں جس کے ذہن میں پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حقیقی محرکات کے خلاف اقدامات میں ہچکچاہٹ دیکھ کر اس طرح کے سوال اٹھتے ہیں۔ میڈیا میں نظر آنے والا ذاتی مفاد اور حقائق کو مسخ کرنا، چاہے وہ حب الوطنی یا پھر عقیدے، یا دونوں کے نام پر ہو، میں بھی آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اصل خطرے سے خبردار کرنے والی اور تفصیلات بتانے والی آوازوں کی میڈیا میں کمی رہی ہے۔

جو لوگ غیر مقبول، کڑوا سچ بیان کر رہے ہیں ان پر اپنے پسندیدہ القاب یا لیبل چاہے وہ ‘غدار’، ‘گستاخ’، یا پھر ‘حقیقت سے فرار پسند سرپھرا’ کا لقب ہو لگانے کے بجائے کیا ہی بہتر ہو گا کہ ایک بار صرف ایک بار اس بات پر غور کر لیا جائے کہ آخر ان کی جانب سے کہا کیا جا رہا ہے۔ حقیقی علم تو کہیں اور موجود ہے، ہم میں سے کسی کے پاس موجود نہیں، پھر آپ کیوں پورا ہفتہ دیوانہ وار شور مچاتے ہیں؟ یہی وہ پیغام ہے جو لگتا ہے کہ ہمیں دیا جا رہا ہے۔ میں بھی چپ ہو جاتا اگر اس ٹائٹینک، چاہے اس کے راستے میں جو کچھ بھی حائل ہو، پر کوئی بھی سوار نہ ہوتا۔

آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں کیوں خاموش نہیں ہو سکتا اور کیوں کہنے کا ابھی بھی کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔ سہون سانحے کے بعد میرا دل پوری طرح سے غم میں ڈوب گیا اور جس وقت میڈیا (اور اسی جتنا زہریلا سوشل میڈیا بھی) دہشتگردوں کے سوائے ہر کسی پر الزام تراشی پر توجہ مرکوز کیے ہوا تھا، اس وقت میں نے ایسی بھی تصاویر دیکھیں جنہوں نے میرا ذہن کو ہی بدل دیا۔ کسی نے ان افراد کی تصاویر ٹوئیٹ کیں جو خون کے عطیات کی اپیلیں نشر ہونے کے بعد خون عطیہ کر رہے تھے۔ خون کا عطیہ کرنے والے سندھ کے ہسپتالوں میں بینچوں اور کرسیوں کو ساتھ ملا کر ان پر لیٹے ہوئے تھے اور کچھ افراد ویٹنگ رومز میں بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ان کے بازؤں میں ٹیوب لگی ہوئی تھے اور بوتل ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ لوگ وہاں ہجوم کی صورت میں پہنچے ہوئے تھے۔ دھمال کے دوران دھماکے کے نتیجے میں 100 کے قریب ہلاک شدگان اور سینکڑوں زخمیوں کے لیے خون کا عطیہ دینے کے لیے آنے والوں کو ہسپتالوں میں لالچ یا غصہ یا نفرت نہیں کھینچ لائی تھی، بلکہ وہ محبت تھی جو انہیں وہاں لے آئی تھی۔ وہ ایک خالص انسانیت کا جذبہ تھا۔

پھر میں نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تصویریں دیکھیں جن میں وہ لاہور میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پنجاب پولیس کے کانسٹیبلز کے لواحقین کو خود چیکس دینے کے لیے آئے تھے۔ ایک تصویر میں ایک نوجوان ماں اپنی بانہوں میں ایک بچے کو تھامے ہوئے تھی اور اس کے چہرے پر آنسو بہہ رہے تھے۔ اگلی تصویر میں وزیر اعلیٰ ایک غمگین باپ کے ساتھ موجود تھے، ان کی سفید ہلکی داڑھی تھی، اور وہ غم سے جھکے ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر نے بھی تصاویر جاری کیں جس میں آرمی چیف لاہور ڈی آئی جی ٹریفک کے اہل خانہ کے پاس آئے تھے اور ان کی والدہ اور چھوٹی بیٹی سے اظہار تعزیت کر رہے تھے۔ ان کے غم کی برابری صرف ان کی صابرانہ عظمت ہی کر سکتی تھی۔

پھر کسی نے مجھے رواں ہفتے مہمند ایجنسی میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے تین خاصہ داروں کے بارے میں لکھ بھیجا اور مجھے بتایا کہ یہ لوگ، دہشتگردوں کے خلاف اگلی صفوں پر کھڑے یہ بہادر لوگ تھوڑی سی تنخواہ پر کام کرتے ہیں؛ انہیں کسی قسم کی پینشن یا مراعات بھی حاصل نہیں ہیں۔ ان کے گھر والوں کو کم از کم مالی معاوضہ تو ادا کیا جانا چاہیے۔ بم ناکارہ بنانے کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں مارے جانے والے دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک کوئٹہ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) کے ‘کمانڈر’ عبدالرزاق بھی تھے۔ ‘کمانڈر’ کے بارے میں حقیقت ایکسپریس ٹربیون کی ایک خبر سے افشا ہوئی.

وہ درحقیقت ہیڈ کانسٹیبل تھے جنہیں ایک بار اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، پھر کچھ وجوہات کی بنا پر جو کہ منظر عام پر نہ آسکیں، ان کی تنزلی کر دی گئی۔ خبر کے مطابق وہ اپنے 23 سالہ کریئر کے دوران کوئٹہ اور آس پاس کے علاقوں میں 500 کے قریب بم ناکارہ بنا چکے تھے۔ “ان کی دلیری اور بہادری پر انہیں 2007 میں پاکستان پولیس میڈل اور 2010 میں قائد اعظم میڈل سے نوازا گیا تھا۔ ان کے ایک پڑوسی ایڈووکیٹ زاہد ملک نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ بی ڈی ایس انتہائی حساس شعبہ ہے مگر رزاق کو جدید آلات فراہم نہیں کیے گئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے پاس وردی تک نہیں تھی۔” ایسے کئی دیگر اور بھی ہیں۔ میں دہشتگردی سے متاثر ہونے والے 50 ہزار سے زائد افراد کا حساب بھی نہیں لگا سکتا؛ میں ان ہزاروں فوجیوں، فوج کے افسران، نیم عسکری افواج اور پولیس اہلکاروں میں سے چند کے علاوہ نام بھی نہیں بتا سکتا جو سہون جیسے واقعوں سے ہمیں محفوظ رکھنے کی کوشش میں اپنی زندگی کھو چکے ہیں۔

ان کے پیارے جس کرب سے گزرے اور ابھی تک گزر رہے ہیں ان کے درد اور اس خلا کا تصور کرنا بھی مشکل ہے جو ایسے دہشتگردی کے واقعات سے ان کی زندگیوں میں پیدا ہوا ہے — اس چھوٹے بچے کا سوچیں جس نے لاہور میں اپنے والد کو کھو دیا، وہ کبھی یہ جان نہیں پائے گا کہ اس کے والد کیسے تھے اور نہ ہی وہ کبھی ان کی محبت اور شفقت کو محسوس نہیں کر پائے گا۔ ان ڈی آئی جی کے پیاروں کا کیا ہو گا کہ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے ٹریفک وارڈنز پر جتنی زیادہ سختی کرتے تھے اتنا ہی ان کا والد کی طرح خیال بھی رکھتے تھے؛ بی ڈی ایس کے اس کمانڈر کے بہن بھائیوں اور بھانجے بھانجیوں کا سوچا ہے جن کے ساتھی انہیں “استاد” کہہ کر پکارتے تھے۔ انہوں نے شادی بھی اسی لیے نہیں کی تھی کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ کبھی بم ناکارہ بناتے ہوئے ان کی جان بھی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوا۔

عباس ناصر

یہ مضمون ڈان اخبار میں 18 فروری 2017 میں شائع ہوا۔