دنیا کی نصف آبادی صحت کی سہولیات سے محروم

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس وقت تقریبا دنیا کی نصف آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یوم صحت کے موقع پر جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ دنیا کی 12 فیصد آبادی اپنی کمائی اور گھریلو اخراجات کا 10 فیصد بجٹ اپنے علاج و معالجے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 7 اپریل کو عالمی ادارہ صحت کے بینر تلے یوم صحت منایا جاتا ہے۔ رواں برس اس عالمی دن کی 70 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 1948 میں بننے والے اقوام متحدہ (یو این) کے تحت سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت کو ہی بنایا گیا تھا، کیوں کہ اس وقت جنگ عظیم دوئم کے اختتام کے بعد انسانوں کو سب سے زیادہ علاج و معالجے کی ضرورت تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کے 10 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کے باوجود صحت کی سہولیات کے لیے اپنی آمدن کا بہت سارہ حصہ خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ صحت کی سہولیات کا فقدان صرف غریب اور پسمانندہ خطوں اور ممالک کا مسئلہ نہیں یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپ سے لے کر لاطینی امریکا اور ایشیا سے لے کر افریقہ تک تمام خطوں میں علاج و معالجے کی سہولیات کا فقدان ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ اور پیغام میں دنیا کے تمام ممالک کی حکومتوں اور عوام کو اپیل کی ہے کہ وہ دنیا بھر میں صحت و علاج معالجے کی سہولیات پھیلانے کے لیے ڈبلیو ایچ او کا ساتھ دیں۔

Advertisements

گوگل اور امازون، آپ کے گھر میں آپ کے جاسوس

انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ’گوگل‘ سرچ انجن اور امازون جیسی ویب سائیٹس کی اہمیت کے قائل ہیں مگر درحقیقت یہ دونوں کمپنیاں صارفین کی جاسوسی بھی کرتی ہیں۔ ایمیزون اور گوگل واقعی آپ کی تمام حرکات کو دیکھنا چاہتی ہیں. برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق دونوں کمپنیوں کی طرف سے جمع کردہ پیٹنٹ ایپلی کیشنز کی ایک انٹیلی جنٹ “اسپیکنگ ” کے نظام کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کو مستقل طور پر سننے کے قابل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’گوگل ھوم‘ اور ’ایمیزون ایکو‘ جیسے پروگرامات صارف کے مزاج اور اس کی طبی حالت تک کی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گو کہ ان پروگرامات کی یہ خصوصیات مختلف مصنوعات کے اشتہارات کی ریٹنگ کو بڑھانے کے لیے ہے مگر یہ صارفین کے بارے میں بھی بہت کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔

’گوگل‘ اور ’امازون‘ کی جانب سے صارفین کی جاسوسی کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ کروڑوں صارفین کے ڈیٹا چوری کے اسکینڈل کا سامنا کر رہی ہے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ برطانوی ریسرچ فرم ‘کیبرج اینا لیٹیکا’ کو آٹھ کروڑ 70 لاکھ سے زائد فیس بک صارفین کا ڈیٹا ملا تھا۔ ‘گوگل‘ کی جانب سے تیار کردہ ایپلی کیشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ کس طرح صوتی اور مرئی اشارات کے استعمال سے متکلم کے مزاج تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ اس کی طبی حالت اور دیگر اہم معلومات جمع کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

ساؤنڈ ٹیون
آلہ سماعت ٹیون کی مدد سے صارف کی آواز، اس کی سانس لینے کی رفتار اور رونے کی کیفیت کے بارے میں جان کاری حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح صارف کی چھینک کی بھی نشاندہی کر سکتا ہے۔

کیمرے اور صوتی ریکارڈنگ
گوگل اپنے پروگرام کی مدد سے صارف کے کمرے کے فرش پر پڑی ٹی شرٹ کی شناخت کر سکتا ہے۔ مشہور ماڈل ویل سمیتھ کی گوگل پر تلاش کے دوران صارفین کا ڈیٹا چوری کیے جانے کا واقعہ ایک مثال کی شکل میں موجود ہے۔ ویل سمیتھ کی تلاش کے دوران گوگل صارف کو فلم دیکھنے کی تجویز پیش کرتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ ماڈل ویل سمیتھ کی فلم کو اپنے قریبی علاقے میں موجود سینما میں دیکھ سکتے ہیں۔

والدین کے لیے مشورے
گوگل اپنے ’پیٹنٹ‘ کی مدد سے والدین کو اپنے بچوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف مشورے پیش کرتا ہے۔ مثال کے طورپر شام کے وقت بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذارنے کا مشورہ۔ جب بچے مشروبات کی الماری کے قریب ہوتے یا اپنے والدین کے بیڈ روم میں جاتے ہیں تو یہ جدید نظام ان بچوں کو پہنچنے والی کسی تکلیف کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ یہ اسمارٹ سسٹم والدین کی طرف سے بچوں پر پابندیوں یا موبائل فون کے استعمال سے روکنے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔

آواز کا تجزیہ
گوگل کی طرح امازون بھی صارفین کی جاسوسی کرتی ہے۔ اس کمپنی کی طرف سے پیٹنٹ کی مدد سے الگورتھم نظام کے استعمال سے آواز کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ جب یہ ایپلی کیشن نفرت، محبت اور خواہش کے الفاظ کو سنتی ہے اس سے صارف کی ترجیحات اور افکار کا اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے۔ اس ایپ میں شامل پلان کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے کہ دو دوست کیسے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

ایمیزون کاموقف
ٹیکنالوجی کمپنی امازون کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی پرائیویسی کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور صارفین کی معلومات کو اشتہارات کی ترویج اور اشتہار دینے والی کمپنیوں تک نہیں پہنچاتی۔

صارفین کی جاسوسی
پچھلے سال کے آخر میں یہ انکشاف ہو چکا تھا کہ گوگل اور امازون صوتی اپیس کی مدد سے صارفین کی جاسوسی کرتی ہیں۔ صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سانٹا مونیکا کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں بھی اس کا انکشاف ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’برآت ایجاد‘ یاپیٹنٹ مختلف آلات کی مدد سے وسیع پیمانے پر صارفین کی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ – جمال نازی

برطانیہ آگ سے کھیل رہا ہے، پچھتائے گا : روس کا انتباہ

روسی سفیر نے اپنے 30 منٹ طویل خطاب میں کہا کہ انہوں نے اپنے برطانوی دوستوں کو بتادیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں جس پر وہ پچھتائیں گے۔ روس نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے ایک شہری اور سابق روسی جاسوس کو زہر دینے کا الزام ماسکو کے سر دھر کر “آگ سے کھیل رہا ہے جس پر اسے پچھتانا پڑے گا۔” اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران عالمی ادارے میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نے اپنے خطاب میں برطانیہ کے الزام کو “جھوٹ اور بے سروپا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک برطانوی شہری کو زہر دینے کے معاملے میں ملوث نہیں۔

برطانیہ میں مقیم سابق روسی جاسوس سرگئی اسکری پال پر زہریلی گیس کے حملے کے بعد سے روس اور برطانیہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک اپنے ہاں تعینات ایک دوسرے کے درجنوں سفارت کاروں کو بے دخل کر چکے ہیں۔ برطانیہ کی ایما اور درخواست پر اس کے اتحادی امریکہ اور یورپی یونین کے کئی ملک بھی اپنے ہاں تعینات 100 سے زائد روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کر چکے ہیں جس پر روس نے سخت جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
برطانوی حکومت کے مطابق سرگئی اسکری پال اور ان کی صاحبزادی یولیا پر چار مارچ کو ایک برطانوی قصبے سالسبری میں زہریلی گیس کا حملہ کیا گیا تھا جس سے وہ دونوں شدید متاثر ہوئے تھے۔

دونوں افراد ایک برطانوی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جہاں سرگئی اسکری پال کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ سرگئی اسکری پال روسی فوج میں انٹیلی جنس افسر تھے جو برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے ڈبل ایجنٹ کا کردار ادا کرتے رہے تھے۔ وہ 2010ء میں روس اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے جاسوسوں کے تبادلے کے نتیجے میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ برطانوی حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں جو گیس استعمال کی گئی وہ سوویت دور میں روسی فوج کے زیرِ استعمال رہی ہے۔ روس حملے میں ملوث ہونے کا الزام سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “جھوٹ، بہتان اور افسانہ” قرار دے چکا ہے۔ اس معاملے پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران روسی سفیر کا کہنا تھا کہ جو شخص بھی برطانوی کرائم ڈرامے دیکھتا ہے اسے کسی کو قتل کرنے کے سیکڑوں طریقے معلوم ہوں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پھر آخر کیوں روس کسی کے قتل کے لیے اتنا پیچیدہ اور خطرناک طریقہ اختیار کرے گا جب کہ اس کام کے درجنوں آسان طریقے موجود ہیں؟

روسی سفیر نے اپنے 30 منٹ طویل خطاب میں کہا کہ انہوں نے اپنے برطانوی دوستوں کو بتا دیا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں جس پر وہ پچھتائیں گے۔
روسی سفیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر معروف انگریزی ناول ‘ایلس ان ونڈر لینڈ’ کا ایک اقتباس بھی پڑھ کر سنایا جس میں ملکہ پہلے سزا دینے اور بعد میں مقدمے کی کارروائی چلانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ اقتباس پڑھنے کے بعد روسی سفیر نے اجلاس سے سوال کیا کہ “کیا آپ کو یہ سن کر کچھ یاد آیا؟ ” برطانیہ اور روس کے درمیان جاری اس حالیہ تنازع پر سلامتی کونسل کا یہ دوسرا اجلاس تھا جسے ماسکو کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اس معاملے پر 15 رکنی کونسل کا پہلا اجلاس برطانیہ کی درخواست پر ہوا تھا۔ اس سے قبل دنیا میں کیمیائی ہتھیاروں کے نگران عالمی ادارے کے ہونے والے اجلاس کے دوران روس نے سابق جاسوس کو زہر دینے کے معاملے کی مشترکہ تحقیقات کرانے کی قرارداد پیش کی تھی جو صرف ایک ووٹ سے مسترد ہو گئی تھی۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

معاف کیجیے کمانڈر، میں گولی نہیں چلا سکتا

اسرائیل میں انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں اس نے اسرائیلی فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ غیر مسلح فلسطینیوں کو گولی مارنے سے انکار کر دیں۔ یہ مہم اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم بی ٹسلیم نامی غیر سرکاری تنظیم نے شروع کی ہے۔ اس مہم کے دوران تنظیم نے اسرائیلی اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کیے ہیں جس کے بعد اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر نے اس گروپ سے ’بغاوت پر اکسانے‘ کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ اس تنظیم کی جانب سے یہ مطالبہ گذشتہ جمعے کو غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان تصادم میں 17 فلسطینی مارے گئے تھے۔

جمعے کو یعنی کل ایک اور بڑے مظاہرے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم بی ٹسلیم کی جانب سے شائع ہونے والے اشتہار میں لکھا گیا ہے: ’معاف کیجیے کمانڈر، میں گولی نہیں چلا سکتا۔‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ ’سپاہیو، ایسا تصادم جس سے ان عام شہریوں کی جان جائے جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ نہ ہوں غیر قانونی ہے۔‘ اسرائیل کے وزیر دفاع ایوگدر لیئبرمین نے رواں ہفتے ایک اور وارننگ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’جو کوئی بھی سرحدی باڑ کے قریب پہنچے گا وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالے گا۔‘ پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاڈ ایرڈن نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ انھوں نے اٹارنی جنرل سے پوچھا ہے کہ کیا بی ٹسلیم سے ’بغاوت پر اکسانے‘ کی تحقیقات کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’تصادم کے اصولوں کے مطابق، اسرائیل کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے والی ہر سرگرمی کو فوجی دہشت گردی کے طور پر دیکھیں گے۔‘ خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ہفتے براہ راست فائرنگ پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی، جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سربراہ نے آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

کشمیر کے حوالے سے اپنے بیان پر قائم ہوں, آئی پی ایل کھیلنے پر لعنت بھیجتا ہوں، آفریدی

پاکستان کرکٹ کےسابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ میں کشمیر کے حوالے سے اپنے بیان پر قائم ہوں، بھارتی میڈیا منفی کردار ادا کر رہا ہے، یہ میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے، آئی پی ایل کھیلنے پر لعنت بھیجتا ہوں۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے کشمیر سے متعلق شاہد آفریدی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد شاہد آفریدی نے کہا کہ بھارتی عوام پاکستانیوں اور پاکستانی کرکٹرز سے پیار کرتی ہے لیکن میڈیا ہمیشہ کی طرح منفی کردار ادا کر رہا ہے، میں نے بھارت کے خلاف اس لیے بیان دیا تھا کہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ہو رہے ہیں حالیہ دنوں میں بھارتی فوج نے درجنوں بے گناہ کشمیریوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے، میں اپنی فاؤنڈیشن بھی انسانیت کی خدمت کے لئے چلا رہا ہوں، کشمیر ہو یا کوئی اور ملک جہاں بھی ظلم ہو گا میں آواز اٹھاؤں گا۔

Erdogan poses with Rouhani of Iran and Putin of Russia

Turkish President Tayyip Erdogan poses with his counterparts Hassan Rouhani of Iran and Vladimir Putin of Russia before their meeting in Ankara, Turkey.

 

 

 

 

 

بارودی سرنگوں سے پاک دنیا کا خواب

تقریباً 13 سال قبل، آٹھ دسمبر 2005ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے چار اپریل کو ’’عالمی دن برائے آگاہی بارودی سرنگ‘‘ قرار دیا۔ اس دن کا مقصد بارودی سرنگوں کے نقصانات اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔ نیز بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے عام شہریوں کی بہت بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہو جاتی ہے۔ 1997ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے بارودی سرنگوں پر پابندی کا معاہدہ ہوا۔ اس کا مقصد انسانوں کو نشانہ بنانے والی بارودی سرنگوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ معاہدہ بارودی سرنگوں کے لیے دھماکا خیز مواد کی پیداوار، اسے ذخیرہ اور استعمال کرنے سے منع کرتا ہے۔

اب تک 164 ممالک اور پارٹیز اس معاہدے کو تسلیم کر چکی ہیں۔ تاہم 32 ممالک جن میں امریکا، روس، چین اور بھارت شامل ہیں، نے اس پر دستخط نہیں کیے۔ عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں کی وجہ سے بارودی سرنگوں کے استعمال میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم یہ مسئلہ اب بھی بہت بڑا ہے۔ 64 سے زائد ممالک میں بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ ان کی وجہ سے لاکھوں افراد کی زندگی، زراعت، رہن سہن وغیرہ کو خطرات ہیں۔ انسانوں کو نشانہ بنانے والی بارودی سرنگوں کو عام طور پر زمین میں دبا کر چھپایا جاتا ہے۔ ان میں موجود بارودی مواد دباؤ پڑنے پر پھٹ جاتا ہے۔ اس کے باعث انسانی جان یا اس کا کوئی عضو ضائع ہو سکتا ہے۔ جان بچ جانے کی صورت میں اس کا شکار ہونے والے عموماً ساری عمر معذور رہتے ہیں۔

چونکہ بارودی سرنگوں کو زیادہ تر دور دراز علاقوں میں بچھایا جاتا ہے اس لیے اس کا شکار ہونے والوں کو فوری طبی امداد ملنے کے امکانات کم ہوتے ہیں جو ان کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ انسانوں کے علاوہ بارودی سرنگیں گاڑیوں، ٹینکوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے کام بھی آتی ہیں۔ بارودی سرنگوں کا سب سے پہلے استعمال امریکی خانہ جنگی میں ہوا۔ اس کے بعد عالمی جنگ میں ان کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ جنگ ویت نام، جزیرہ نما کوریا کی جنگ اور پہلی خلیجی جنگ میں بھی بارودی سرنگوں کو وسیع پیمانے پر بچھایا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار افراد ان کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں 42 فیصد بچے ہیں۔ یونیسف کے مطابق اس وقت بارودی سرنگوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں مصر، عراق اور افغانستان شامل ہیں۔ بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا عمل مشکل اور مہنگا ہے۔ لیکن انسانی جان کے مقابلے میں یہ قیمت کچھ بھی نہیں۔

جسنتا مارسلیس

جنگ ویت نام جو امریکہ کی شکست پر ختم ہوئی

جنگ ویت نام 1955ء سے 30 اپریل 1975ء تک جاری رہنے والا ایک عسکری تنازع تھا ۔ کہنے کو یہ جنگ شمالی ویت نام اور جنوبی ویت نام کے مابین لڑی گئی لیکن اس جنگ میں متعدد قوتوں نے حصہ لیا۔ اس جنگ کو کئی ناموں سے پکارا جاتا ہے جنگ ویت نام کے علاوہ اسے دوسری انڈوچائنا جنگ اور امریکا کے خلاف مزاحمتی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ شمالی ویت نام کو سوویت یونین، چین اور دیگر کمیونسٹ اتحادیوں کی حمایت حاصل تھی۔ جنوبی ویت نام کی فوج کو امریکا، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور کمیونسٹ مخالف ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ اس لیے اس جنگ کو ’’سرد جنگ‘‘ یا پراکسی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔

اس جنگ میں ویت کانگ جسے قومی محاذ آزادی بھی کہا جاتا تھا جنوبی ویت نام سمیت علاقے میں کمیونسٹ مخالف قوتوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کرتا رہا۔ اسی دوران شمالی ویت نام کی فوج جسے ویت نام عوامی فوج بھی کہا جاتا تھا روایتی مخالفین سے روایتی جنگ لڑتی رہی جس میں بڑی تعداد میں افواج آمنے سامنے لڑتی ہیں۔ جنوبی ویت نام کی افواج کو امریکی مدد کے سبب فضائی برتری حاصل رہی۔ اس دوران امریکا نے شمالی ویت نام میں بڑے پیمانے پر بمباری کی۔ شمالی ویت نام اور اس کے اتحادیوں نے بالخصوص امریکا کے خلاف ایک کامیاب جنگ لڑی اور ویت نام کو ایک متحدہ ریاست کے طور پر قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

جنگ میں شمولیت کے بعد امریکا نے بڑی تعداد میں اپنے فوجی ویت نام میں اتارے۔ امریکی عسکری مشیر پہلی بار 1950ء کی دہائی میں ویت نام میں ملوث ہوئے جب انہوں نے فرانسیسی نو آبادیاتی افواج کی مدد کا آغاز کیا۔ 1956ء میں ان مشیران نے جمہوریہ ویت نام کی افواج کی تربیت کی مکمل ذمہ داری لے لی۔ 1965ء میں امریکی جنگی دستے بڑی تعداد میں ویت نام پہنچے اور 1973ء تک موجود رہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکا نے اس جنگ میں اپنے ساڑھے 5 لاکھ فوجی ویت نام میں اتارے۔ اس خونریز جنگ میں سب سے زیادہ نقصان شمالی ویت نام اور ویت کانگ کا ہوا جن کی کل ہلاکتوں و گمشدگیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق گیارہ لاکھ سے زائد ہے۔ جبکہ ان کے 6 لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

دوسری جانب اتحادیوں کی جانب سے زیادہ جانی نقصان جنوبی ویت نام کا ہوا،ان کا جانی نقصان 2 لاکھ کے لگ بھگ تھا جبکہ گیارہ لاکھ سے زائد فوجی زخمی ہوئے۔ اس جنگ میں جنوبی ویت نام کی حمایت کرنے والے امریکہ کے 58 ہزار سے زائد فوجی مارے گئے۔ امریکا میں اس جنگ کے خلاف شہریوں کی جانب سے بڑی مزاحمتی تحریک شروع ہوئی۔ 30 اپریل 1975ء کو جنوبی ویت نام کے دارالحکومت سائیگون پر شمالی ویت نام کے سپاہیوں نے قبضہ کر لیا جس کے بعد جنگ ختم ہو گئی اور بعدازاں ویت نام ایک متحدہ ملک بن گیا۔ یہ سرد جنگ کے دوران امریکا کی ایک بڑی عسکری و سیاسی شکست تھی۔

وقار احمد

امریکا کو تاریخ میں دوسری مرتبہ شدید معاشی بحران کا سامنا

امریکا میں اسٹاک مارکیٹس کو شدید بحران کا سامنا ہے اور صرف اپریل میں انڈیکس میں 2.2؍ فیصد دیکھنے کو ملی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی جنگ کی وجہ سے ملک کو دوسری مرتبہ ’’عظیم کساد‘‘ جیسے خطرات کا سامنا ہے، 500؍ انڈیکس میں رواں ہفتے کے دوران 2.2؍ فیصد کمی دیکھنے کو ملی، ڈالر شدید دبائو کا شکار رہا۔ رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے اپنی درآمدی اشیاء پر بھاری ڈیوٹیاں عائد کیے جانے کے بعد سے امریکا کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری سہ ماہی کے دوران، ایس اینڈ پی انڈیکس کی کارکردگی پہلے تجارتی سیشن کے دوران مایوس کن رہی۔ ایسی صورتحال 89؍ سال قبل بھی پیش آئی تھی جب یہ انڈیکس 2.5؍ فیصد تک گر گیا تھا۔ اس وقت اثاثوں کی فروخت (سیل آف) کی وجہ سے یہ بحران آیا تھا اور اسے امریکی تاریخ کا بدترین بحران قرار دیا گیا تھا۔

ڈائو جونز انڈسٹریل ایوریج 1.9؍ فیصد زوال کا شکار نظر آیا جبکہ ٹیکنالوجی سے لیس نسدق کمپوزٹ انڈیکس 2.74؍ فیصد تک گر گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملوں کی وجہ سے نسدق کی لسٹ پر موجود سب سے بڑی کمپنی، امیزون، کے نقصانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا اور اس کے شیئرز کی قیمت میں 5؍ فیصد کمی ہوئی۔ یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم سے قبل عظیم کساد (انگریزی میں دی گریٹ ڈپریشن) ایک عالمی اقتصادی بحران تھا، مختلف ملکوں کو مختلف برسوں کے دوران اس بحران کا سامنا کرنا پڑا لیکن زیادہ تر ملکوں میں یہ بحران 1929ء سے لے کر 1940ء کی دہائی کے اوائل تک رہا۔ گریٹ ڈپریشن کو 20ویں صدی کا بدترین بحران قرار دیا جاتا ہے، اس بحران کا آغاز امریکا میں 29؍ اکتوبر 1929ء کو اسٹاک مارکیٹ کریش ہونے سے ہوا تھا، اس دن کو امریکی تاریخ میں بلیک ٹیوزڈے (سیاہ منگل) کہا جاتا ہے۔

اس واقعے کے بعد بحران پوری دنیا میں پھیل گیا تھا۔ شکاگو میں پرفارمنس ٹرسٹ کیپیٹل پارٹنرز نامی کمپنی کے ڈائریکٹر ٹریڈنگ برائن بیٹل کا کہنا تھا کہ صورتحال بہت پیچیدہ ہے کیونکہ معاملہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثاثوں کی فروخت کا نہیں رہا، صورتحال ایسی بنتی جا رہی ہے کہ فروخت کرنے والے اثاثے بیچنے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور انہیں بنیادی اصولوں کا علم ہی نہیں۔ جنوری میں ایس اینڈ پی 500؍ انڈیکس 10؍ فیصد پر ٹریڈ کر رہا تھا اور اس کے بعد سے صورتحال کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ چین نے امریکا کی 128؍ مصنوعات پر اضافی 25؍ فیصد ڈیوٹی عائد کر دی تھی جن میں گوشت، شراب، پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔ یہ اقدامات امریکا کی جانب سے چین کی ایلومینم اور دیگر اشیا پر درآمدی ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد کیے گئے تھے۔

امریکا کی جانب سے مزید ڈیوٹی عائد کیے جانے کی صورت میں چین نے بھی ’’متوازن‘‘ رد عمل دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکا میں معاشی سیکورٹی کے متعلق مشورے دینے والی کمپنی اسپراٹ ہولڈنگز رک رول کا کہنا ہے کہ اگر معاشی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو ایک دہائی بعد سونے کی قیمتوں میں اعلیٰ ترین سطح تک اضافہ ہو سکتا ہے اور قیمتیں 1400؍ ڈالر فی اونس (28.34؍ گرام) تک جا سکتی ہیں۔ چین اور امریکا کی معاشی جنگ کی وجہ سے سرمایہ کار پریشانی کا شکار ہیں۔ رواں ہفتے امریکی حکومت کی جانب سے چین کیخلاف مزید اقدامات کیے جانے کا امکان ہے۔ تنازع بڑھنے کی صورت میں توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی اشیا کی طلب کم ہو سکتی ہے اور اس سے نہ صرف بجٹ خسارہ بڑھے گا بلکہ ڈالر کی قیمتوں کو بھی دھچکا لگ سکتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ اردو