انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں انڈین فوج پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ انڈین حکومت نے 65 سال پرانے اُس معاہدے کو توڑنے کا اشارہ دیا ہے، جس کے تحت کشمیری علاقوں سے بہہ کر مشرقی اور مغربی پنجاب کے میدانوں کو سیراب کرنے والے چھ دریاؤں کے استعمال کے حقوق دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں۔ 1960 میں ورلڈ بینک اور کئی مغربی ممالک نے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے درمیان اس معاہدے کی ثالثی کی اور یہ معاہدہ سندھ طاس معاہدہ یا انڈس واٹر ٹریٹی کے نام سے مشہور ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے دریائے سندھ، ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم بہتے ہیں۔ معاہدے میں ستلج، بیاس اور راوی پر انڈیا کے قدرتی حق کو تسلیم کیا گیا جبکہ پاکستان کو چناب، سندھ اور جہلم پر حقوق دیے گئے۔ اوڑی حملے کے بعد پہلے تو انڈیا میں پاکستان پر فوجی کارروائی کی باتیں ہوئیں اور بعد میں اسلام آباد کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے مشن کا آغاز ہوا۔ مسلح تصادم کی دھمکیوں یا سفارتی مورچہ بندی اپنی جگہ، لیکن اب انڈیا میں پاکستان کے خلاف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مصنف اور کالم نویس پی جی رسول کہتے ہیں کہ یہ ’غیر ضروری اور غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستان کو خصوصی رعایت نہیں دی گئی تھی بلکہ دریاؤں کے رُخ اور جغرافیائی حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ’اگر پانی کو جنگی ہتھیار بنا کر انڈیا نے پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روکا تو کشمیر میں ہر لمحہ سیلاب آئے گا اور پھر اگر چین نے یہی حربہ استعمال کر کے تبت سے آنے والے برہم پترا دریا کا رُخ موڑا تو بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں برباد ہو جائیں گی۔

پی جی رسول کہتے ہیں کہ انڈین حکومت نے انڈس واٹر ٹریٹی پر سوال اُٹھا کر پاکستان کے اُس موقف کو خود ہی تقویت دے دی ہے جس کے تحت وہ کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا رہا ہے۔ ’اس کے علاوہ کشمیریوں کو انڈیا کے اس اقدام سے بقا کا خطرہ لاحق ہوگا اور انڈیا مخالف تحریک مزید زور پکڑے گی۔ پانی کی یہ جنگ کشمیریوں کو ہی نہیں انڈیا کو بھی مہنگی پڑے گی۔‘ آبی وسائل کے سابق انڈین وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی باتیں کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت سیاسی موقف کی خاطر ملک کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ ’یہ مہذب بات نہیں مگر میں مجبور ہوں۔ اس معاہدے کو توڑا گیا تو انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ چین کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ ہفتوں کے اندر برہم پترا کا رُخ موڑ سکتا ہے، پھر تو پنجاب، ہریانہ، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں اندھیرا چھا جائے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک نے اس معاہدے کی ثالثی کر کے بھارت اور پاکستان کو ایک رحمت عطا کی ہے، جس کی قدر کرنی چاہیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر، لبنان، عراق اور ترکی جیسے عرب ممالک کے درمیان بھی دریاؤں کے پانی کی شراکت کے معاہدے ہیں۔ ناراضی اور کشیدہ تعلقات کے باوجود وہاں پانی کو جنگی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر کی حکومت نریندر مودی کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کرے گی۔

 واضح رہے حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے کشمیر کو ہر سال ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ جہلم، چناب اور سندھ کے دریاؤں پر انڈیا کو بند تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم اکثر اوقات کشمیر میں انڈین کنٹرول والے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کو لے کر پاکستان اعتراض کرتا ہے، اور بعد میں ان اعتراضات کی سماعت انڈس واٹر کمیشن میں ہوتی ہے۔ قابل ذکر یہ بات ہے کہ جموں کشمیر حکومت نے چناب اور جہلم پر بجلی کی پیداوار کے درجنوں منصوبوں کا خاکہ تیار کیا ہے لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔ حکومت کا کشمیر کو ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کے سالانہ نقصان کا دعویٰ اس بنا پر کیا جاتا ہے کیونکہ بھارت یہاں کے دریاؤں پر بڑے پن بجلی کے منصوبے تعمیر نہیں کر سکتا۔ تاہم سماجی کارکن شکیل قلندر کہتے ہیں کہ کشمیر میں موجودہ بجلی کے منصوبوں پر انڈین حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اور 20 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے باوجود کشمیریوں کو کئی سال سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے۔

ریاض مسرور

بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

جب ترک صدر نے پرویز مشرف کو کھری کھری سنا دیں

دنیا بھر میں جہاں جمہوریت کو پذیرائی دی جاتی ہے وہیں جمہوری حکمرانوں کے تختے الٹنے والوں پر کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ایسی تنقید پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرل مشرف کو بھی سہنا پڑی۔ کرامت اللہ غوری اپنی کتاب بارشناسائی میں لکھتے ہیں، منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پرویز مشرف نے ترکی جانے کی ٹھانی۔ اتفاق سے اس وقت ترکی کے صدر اور وزیر اعظم دونوں اپنی فوج کے ہاتھوں ڈسے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں ترک صدر سلیمان دیمرل نے پرویزمشرف کو کھری کھری سنائیں۔  نوک جوک نامی ایک بلاگ کے مطابق اس وقت کے ترک صدر سلیمان دیمرل نے مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،”جنرل! مجھے عملی سیاست میں پچاس برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس طویل عرصے میں جس عمل نے میرے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، وہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔

ہمارے جرنیلوں کے دماغ میں بھی یہ خناس تھا کہ وہ ملک کو سدھار سکتے ہیں لیکن ہر بار وہ جب اپنا تماشہ دکھا کے واپس بیرکوں میں گئے تو حالات پہلے کی نسبت اور خراب کر گئے۔ جنرل !دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں سنوار سکتی۔ یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور تمہیں میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں۔ لہٰذا بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنی جلد ہو سکے، اقتدار سیاست دانوں کو واپس کرو اور اپنی بیرکوں کو لوٹ جاو۔“ ترک وزیراعظم نے بھی پرویز مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان تمام نقصانات کی فہرست گنوائی جو سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت سے ترکی میں پیدا ہوئے اور دنیا کے ہر اس ملک میں ہو سکتے تھے جہاں فوج زبردستی اپنی حکمرانی مسلط کرتی ہو۔

مسئلہ کشمیر، پاکستان کے مضبوط موقف پر بھارت کی تلملاہٹ

وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تاریخی خطاب کی بازگشت عالمی سطح پر ابھی سُنائی دے رہی ہے اور دیر تک سُنائی دیتی رہے گی جبکہ جس انداز میں اقوام عالم میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر اُجاگر کیا ہے اور دنیا کے سامنے بھارت کے دہشت گردی اور خطے کو بد امنی سے دوچار کرنے کے شواہد فراہم کرکے جس طرح اس کے نام نہاد سیکولرازم اور جمہوریت کاپردہ چاک کیا اس سے بھارت تلملا اُٹھا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے بعد بھارت میں توصف ماتم بچھی ہوئی ہے اور بھارتی سرکاراوربھارتی میڈیا پاگل پن و جنونیت کا شکار ہے۔ اسی پاگل پن و جنونیت کے خبط میں مبتلا انتہاء پسندانہ سوچ کے حامل بھارتی پردھان منتری نریندر مودی اخلاقی اور ذہنی طور پر اس قدر مفلوج ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے منصب و عہدے کے تقدس کی بھی دھجیاں اڑانا شروع ہوگئے ہیں اور سانحہ گجرات و پٹھان کوٹ کی طرح سانحہ اُڑی کا آرکیٹیکٹ بھی خود بھارت ہے۔

سانحہ اُڑی کے حوالے سے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات کو عالمی برادری کی جانب سے سنجیدہ نہ لئے جانے کے بعد بھارت پہلے محدود جنگ کی گیدڑ بھبھکیاں دیتا رہا اور عالمی سطح پر اس بارے بھی بھارت کو ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اور اب اس کے بعد آبی دہشت گردی پر اتر آیا ہے اور سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی اور پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے کر پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہندو بنیا یہ خوب جانتا ہے کہ وہ کھل کر اور سامنے آکر کبھی بھی پاکستانی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا جس کے باعث چھُپ کر اور پیچھے سے وار کرنے کا روایتی انداز اختیار کر رہا ہے جس کیلئے کافی عرصے سے بھارت اپنے نام نہاد آقاوں اوردُم چھلوں کے ہمراہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُن رہا ہے جس میں اسے ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا ہے ۔ اب تک آبی دہشت گردی کی مد میں بھارت کی جانب سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے ایسے مواقع پر پانی چھوڑا جاتا ہے جب پاکستان میں اہم فصلیں تیار ہوتی ہیں اور بھارت پانی چھوڑ کر ان فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

سیلاب کی مد میں جانی و مالی نقصانات کے بارے میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس دنیا کے سامنے ہیں۔ اب شنید یہ ہے کہ بھارت تْلبل منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے جو پاکستان کے اعتراضات کے بعد 2007 میں روک دیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بگلیہار ڈیم کی تعمیر سمیت دیگر متنازعہ منصوبے شروع کرکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا مسلسل مرتکب ہو رہا ہے۔ اب تک بھارت پاکستان آنے والے دریاؤں پر 30 سے 35 بند بنا چکا ہے اور ابھی بھی رتلے اورکُشن گنگا ڈیم پر مذاکرات کی ناکامی اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی پر پاکستان عالمی عدالت سے رجوع کرنے جا رہا ہے۔

سفارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی سرکار پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کے معاملات میں الجھا کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت بڑھانا چاہتی ہے ۔ پاکستانی قیادت مکار دشمن کی چالوں سے کسی طور بھی غافل نہیں ہے جس کا اظہار ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کرچکی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے دو روزقبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ضرروی نہیں بھارت صرف حملہ کرے وہ کوئی بھی روپ اختیار کرسکتا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم کے بیانات سے ظاہر ہوگیا کہ خطے میں کون جنگ اور کون امن چاہتا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں کے واقعات کے حوالے سے چند مثبت پہلو سامنے آئے ہیں، قوم اور تمام سیاسی قیادت دشمن کے خلاف متحد ہے، ہمیں دشمن کے خفیہ وار کے لیے چوکس رہنا ہوگا، ضروری نہیں کہ دشمن گولہ باری ہی کرے وہ چھپ کربھی وار کرسکتا ہے، اس کا حملہ کسی بھی شکل میں ہوسکتا ہے لہٰذا ہمیں گلی کوچوں میں بھی دہشت گردی روکنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔ وفاقی وزیرداخلہ نے عالمی برادری سے نریندر مودی کے بیانات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے جس طرح کی زبان استعمال کی میں نے آج تک کسی ملک کے سربراہ کو اس طرح کی زبان استعمال کرتے نہیں دیکھا۔

ارشاد انصاری

کشمیر میں مظالم : بھارت دنیا میں تنہا ہو گیا

بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانیت سوزظلم کے بعد دنیا بھی اس کے اوچھے ہتھکنڈوں سے واقف ہوچکی ہے جب  کہ ان ہی کہ ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے دنیا میں تنہا ہونے کا خطرہ ہے۔ بی جے پی کی اتحادی شیوسینا نے جریدے سامانا کے اداریئے میں بھارتی حکومت پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے انتخابی مہم میں کہا تھا 56 انچ سینہ ملک کے مسائل حل کرسکتا ہے جب کہ اب وزیراعظم نوازشریف 56 انچ سینہ دکھا رہے ہیں۔

شیوسینا کی جانب سے کہا گیا کہ اڑی حملے کے معاملے پردنیا کا کوئی ملک بھارت کے ساتھ نہیں ، چین نے حملے کی مذمت کی اورنہ ہی 1971 میں بھارت کا ساتھ دینے والے روس نے پاکستان کے ساتھ جنگی مشقیں منسوخ کیں جس کے بعد بھارت کے دنیا میں تنہا ہونے کا خطرہ ہے اوربھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کوتنہا کرنے کی سازشیں لاحاصل ہورہی ہیں۔ شیوسینا نے کہا کہ مسلم ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، انڈونیشیا کی بھارت کے ساتھ پرانی دوستی اس کے باوجود وہ بھی پاکستان کو دفاعی ہتھیاروں کی پیشکش کررہا ہے جب کہ نیپال بھی پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

Muslim Day Parade in New York : Marching As One Ummah

People carry flags of countries during the annual Muslim Day Parade in Manhattan.

 

 

 

 

 

 

 

ہم اپنے مُلک کے چپے چپے کا دفاع کریں گے

اوڑی پر فدائین کے حملے کے بعد پاکستانی میڈیا پر یہ تجزیہ تواتر سے آ رہا ہے کہ بھارت کے میڈیا نے اپنے عوام کو جنگی جنون میں مبتلا کر دیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی لمحے جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ 1999ء میں کارگل کی لڑائی کے بعد پاک بھارت جنگ کا آغاز اُس انداز میں نہیں ہو گا جس طرح کارگل سے پہلے کی جنگوں میں ہوتا رہا ہے۔ بالخصوص 1965ء اور 1971ء کی جنگیں قابلِ ذکر ہیں، جن میں شروعات فضائی جنگ سے ہوئی تھیں۔ لیکن کارگل کے بعد دونوں ممالک کے عسکری ترکش مقدار اور معیار کے اعتبار سے ویسے ہلکے اور خالی نہیں رہے جیسے پہلے تھے۔

1971ء کی جنگ تو تھی ہی یکطرفہ۔۔۔ اس میں مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) میں محدود پیمانے کی فضائی اور زمینی لڑائیاں ہوتی رہیں جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں اور 16 دسمبر 1971ء کو جنگ بند ہو گئی۔ تاہم 1965ء کی جنگ وہ واحد جنگ تھی جو دونوں ممالک کے درمیان بھرپور انداز سے لڑی گئی اور جس میں دونوں ممالک کی تینوں افواج (گراؤنڈ، ائر اور نیول) نے حصہ لیا۔ چنانچہ اگر کسی پاکستانی یا بھارتی باشندے کے ذہن میں یہ بات آئی ہے کہ آئندہ جنگ میں 1965ء کی کاپی ہو گی تو یہ نہایت غلط، بلکہ لغو بات ہو گی۔ دونوں ممالک نے جب مئی1998ء میں اپنی جوہری قوت کو بے نقاب کر دیا تھا تو پاکستان پہلا مُلک تھا جس نے میزائل سازی کی شروعات کیں۔ 1999ء سے لے کرآج تک نہ صرف دونوں ممالک کی جوہری تجوریاں بھرتی چلی جا رہی ہیں بلکہ میزائلی ترکش بھی خاصے وزنی ہوتے جا رہے ہیں۔ بنا بریں اب یا آئندہ کسی پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو وہ ماضی سے مختلف ہو گا۔ جس طرح پہلی اور دوسری عراقی وار میں اور پھر حالیہ افغان وار میں امریکہ نے میزائل حملوں سے جنگ کی ابتدا کی تھی اِسی طرح پاک بھارت افواج بھی اپنے طیاروں کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے میزائلوں سے آغاز کریں گی۔ ان میزائلوں کے اہداف 1965ء کی جنگ کے برعکس صرف گرم محاذوں پر مرتکز نہیں ہیں گے بلکہ غیر فوجی لیکن سٹرٹیجک اہمیت کے اہداف بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنیں گے۔

اگر پاکستان کی بات پہلے کریں تو پاکستان کی مشرقی سرحد پر جو بڑے بڑے اور گنجان آباد شہر ہیں وہ دشمن کا مرغوب ٹارگٹ ہوں گے۔ ان کے بعد ہماری جوہری تنصیبات، سٹرٹیجک اہمیت کے عسکری ادارے، ڈیم، بیراج، ریلوے سٹیشن، فضائی مستقر (Bases) اور عسکری ہیڈ کوارٹر ہوں گے۔ ان اہداف کے نام لکھنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ چونکہ انڈیا کا سائز ہم سے چار پانچ گنا بڑا ہے اِس لئے انڈیا کے مماثل اہداف کی تعداد بھی ہمارے مقابلے میں چار پانچ گنا زیادہ ہو گی۔ ان میزائلوں کے نشانے گراؤنڈ فورسز کے اجتماعات بھی ہو سکتے ہیں، یعنی جو کام فضائیہ کی کلوز سپورٹ سے نکالے جاتے تھے، ان کے استعمال کے امکامات میزائلی جنگ و جدل کے اولین مرحلے میں بھی فراہم ہوں گے۔ ان کے ساتھ ہی بیک وقت فضائی، زمینی اور بحری جنگ شروع ہو جائے گی۔ جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر میں تینوں فورسز کے مشتر کہ آپریشنوں کی تفصیلات اور نقشے آپریشن روم میں آویزاں ہیں۔۔۔۔ جنگ کی صورتِ حال کا اندازہ لگانا ہو تو عراق اور شام کی حالیہ جنگیں جو ابھی تک لڑی جا رہی ہیں، ان کا احوال پڑھ اور دیکھ لینا چاہئے۔ افغانستان، لیبیا اور یمن کو بھی زیر نگاہ رکھیں۔ ان جنگوں کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر ایک اہم بات آپ نے ضرور محسوس کی ہو گی کہ ان ممالک میں میڈیا کے لئے جنگ کی جو تصاویر اَپ لوڈ کی جاتی ہیں اُن میں بالعموم شہری آبادیوں کی رہائش گاہوں کی تباہی دکھائی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ملبے کا ڈھیر بنا ہوتا ہے جس کو دیکھ کر یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انسانی جانوں کا ضیاع کس نوعیت اور کس کثرتِ تعداد کا ہو گا۔

ایک اور یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان بدقسمت اسلامی ممالک کی تباہ کاریوں کی جو تصاویر آپ میڈیا پر دیکھتے ہیں، وہ سب کی سب ایک تو ’’سرکاری‘‘ (Embedded) ہوتی ہیں اور دوسرے ان میں سویلین شہریوں کا قتل اور غارت گری بالکل نہیں دکھائی جاتی۔ اور یہ سب کچھ عمداً کیا جاتا ہے تا کہ ناظرین و سامعین و قارئین کو اُن لرزہ خیز مناظر کی خبر نہ ہونے دی جائے، جو خشت و سنگ کی اِن برباد شدہ عمارتوں کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہوئے تھے۔ البتہ یمن کی جنگ میں کولیشن فورسز کی بمباری نے جو رقت انگیز انسانی مناظر تخلیق کئے تھے، ان کی دلدوزی کی جھلکیاں کچھ دیر تک میڈیا پر آتی رہیں۔ آج کل وہ بھی بند ہو چکی ہیں۔ صرف تباہ شدہ محلے، عمارتیں، سڑکیں اور پلازے دکھائے جاتے ہیں جن سے فضائی بمباری کے ’’اثرات‘‘ کا صرف ’’مکانی‘‘ منظر دیکھا جا سکتا ہے، ’’انسانی‘‘ نہیں! انڈین میڈیا کو اِس بات کی خبر نہیں کہ یہ جنگ اگر ایک بار شروع ہو گئی تو اس کا انجام کیا ہو گا۔ وہ گزشتہ اتوار سے ایک ہی راگنی الاپے جا رہے ہیں کہ ’’پاکستان کو سبق سکھایا جائے‘‘۔۔۔ نجانے ان کو یہ احساس کیوں نہیں ہو رہا ہے کہ پاکستان اس سبق سکھانے کی ایکسر سائز کے بعد جو سبق بھارت کو سکھائے گا اس کا مالہ و ما علیہ کیا ہو گا، اس کا کیف و کم کیا ہو گا اور اس کے مابعدی اثرات کیا ہوں گے۔

بھارت کو معلوم ہونا چاہئے کہ اِس جنگ کو چھیڑنے کا سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہے جو بھارت کے رہنماؤں کو اُکسا رہا ہے کہ وہ ’’بھگوان‘‘ کا نام لے کر جنگ کی بھٹی میں کود جائیں۔۔۔ رام بھلی کرے گا۔۔۔ اُن کو سوچنا چاہئے کہ ’’رام‘‘ تو بھلی کرے گا لیکن پاکستان کا بھی ایک ’’رحیم‘‘ ہے جو سب ’’راموں‘‘ کا خالق ہے۔ کیا وہ بھلی نہیں کرے گا؟۔۔۔ وہ ضرور کرے گا اور وزیراعظم بھارت نے اوڑی حملے کا سنتے ہی جو فرما دیا تھا کہ ’’حملہ آور سزا سے نہیں سچ سکیں گے‘‘ تو وہ رحیم و کریم ان حقیقی قاتل اور اصل مجرم حملہ آوروں کو ضرور سزا دے گا، جنہوں نے سینکڑوں نہتے کشمیریوں کو شہید کر دیا اور سینکڑوں کو نابینا اور گھائل کر دیا ہے۔

امریکہ اور اس کے مغربی حواریوں کو مودی کی طرف سے پاکستان پر حملے کا جس شدت سے انتظار ہے، ایسی شدت شائد بھارتی جنتا کے بدترین جنونیوں میں بھی نہیں پائی جاتی ہو گی۔۔۔۔ اس کی وجوہات بڑی واضح ہیں۔ اس جنگ سے امریکہ اور اس کے حواریوں کے درج ذیل تین بڑے مقاصد اور مفادات وابستہ ہیں:

(1) مسلم دُنیا کی واحد نیو کلیئر پاور پاکستان سے یہ اعزاز چھین لیا جائے تاکہ مستقبل میں وہ نہ صرف پوری طرح بے دست و پا ہو جائے، بلکہ مشرق وسطیٰ اور اور جنوبی ایشیاء (بشمول بھارت) میں امریکی آؤٹ پوسٹ نیو کلیئر اسرائیل کا کوئی حریف باقی نہ بچے۔

(2) دوسرا فائدہ جو امریکہ کو اس جنگ سے حاصل ہوگا وہ سی پیک CPEC منصوبے کا پیک اپ کیا جانا ہے۔ CPEC کی اہمیت، پاکستان کی خوشحالی میں اس منصوبے کی شراکت اور بحیرہ عرب (اور بحر ہند) کے پانیوں تک چین اور روس کی رسائی، امریکی عسکری مدبروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی راتوں کی نیندیں حرام کر چکی ہے اور وہ بڑی بے صبری سے انڈیا جیسے حواریوں سے سوال کر رہے ہیں:

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟

(3) تیسرا فائدہ جو نہ صرف امریکہ کو بلکہ سارے مغربی یورپ کو حاصل ہوگا وہ دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) کو ضائع شدہ اسلحہ جات اور گولہ بارود کی ری سپلائی ہے۔ پاکستان کا وار سٹیمنا اگر (روائتی جنگ میں) دو ہفتوں سے بڑھ کر چار ہفتوں کا بھی ہو گیا ہو تو بھی جس تیزی سے موجودہ جنگ و جدل کا لاجسٹک سٹاک ختم اور ضائع ہوتا ہے اس کے مد نظر یہ سٹیمنا شائد دو ہفتوں سے بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس کی وار مشین کی زبوں حالی ایک الگ موضوع ہے۔ عسکری تجزیہ نگاروں کے علاوہ انڈیا کے آرمی چیف تک اِس کا رونا رو چکے ہیں۔

میں قارئین کا دھیان ایک اور طرف بھی مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ مغربی ممالک کے گدھ، مشرق وسطیٰ کے ممالک کی لاشوں کے اِردگرد کیوں منڈلاتے رہتے ہیں اور آج بھی کیوں منڈلا رہے ہیں۔ یہ موضوع ایک الگ کالم کا متقاضی ہے۔ گزشتہ ایک عشرے میں مشرق وسطیٰ کے تین چار ممالک جن میں خصوصاً سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت شامل ہیں انہوں نے اربوں ڈالر کا اسلحہ اور گولہ بارود مغربی ملکوں سے خریدا ہے۔ عراق پر حملے میں برطانیہ کے اس وقت کے وزیر اعظم، ٹونی بلیئر نے امریکی صدر بش کا جو ساتھ دیا تھا اس کا کچا چٹھا آپ نے سر چلکوٹ کی رپورٹ میں پڑھ لیا ہوگا۔ ان مغربی ممالک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کا انحصار مشرق وسطیٰ کے تیل پر ہے۔ اگر امریکہ (یا برطانیہ یا فرانس یا جرمنی) ایک ماہ کے تیل کے بدلے عرب ممالک کو ایک آدھ ماہ کا گولہ بارود بھیج دیں اور ساتھ ہی جنگ کے تسلسل کا بندوبست بھی کر لیں تو نہ تو امریکی اسلحہ ساز کارخانے بند ہوں گے اور نہ ان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی گاڑی کی باڈی میں کوئی ڈنٹ (Dent) پڑے گا۔

پچھلے دنوں شائد آپ کی نظر سے یہ خبر گزری ہے کہ نہیں،کہ برطانیہ نے یمن کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور جنگ میں زخمی ہونے والوں کی دیکھ بھال کے لئے 100 ملین پاؤنڈ کا ’’عطیہ‘‘ سعودی عرب کو دیا ہے تاکہ وہ اِس جنگ میں ہلاکت و بربادی کی دیکھ بھال کے لئے اپنے حمائتیوں کی اس ’’خطیر‘‘ رقم سے مدد کرے اور ساتھ ہی یہ خبر بھی تھی کہ برطانیہ نے سعودیوں کو تین ارب پاؤنڈ کا اسلحہ بھی پچھلے دِنوں فروخت کیا ہے۔۔۔ تین ارب پاؤنڈ کا مطلب ہے تین ہزار ملین پاؤنڈ!۔۔۔ اگر برطانیہ تین ہزار ملین پاؤنڈ کا اسلحہ بیچ کر جنگ میں زخمی ہونے والوں کے لئے یا تباہ شدہ عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر نو کے لئے ایک سو ملین پاؤنڈ ’’عطا‘‘ کر دے تو حساب لگا لیں کہ ’’ شرح خیرات‘‘ کیا نکلے گی!

میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ بھارت کا جنونی میڈیا بے شک اپنی قومی چادر سے باہر جتنے چاہے پاؤں پھیلا لے،ہم پاکستانیو ں کو اِس کا جواب دینے کے لئے ویسے ہی جنون کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے جو ہمارے آرمی چیف نے صرف ایک فقرے میں کہہ دیا ہے : ’’ہم اپنے مُلک کے چپے چپے کا دفاع کریں گے!‘‘ ہمارے میڈیا کو بھارتی میڈیا کی بڑھکوں کا ساشور نہیں مچانا چاہئے۔ تھوتھا چنا ہمیشہ گھنا باجتا ہے، اسے ’’باجنے‘‘ دیجئے۔ پاکستانی میڈیا کو تحمل، بردباری، دور اندیشی اور توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور اب تو خود انڈیا کا میڈیا بھی گویا اپنا تھوکا چاٹ رہا ہے۔ اس کے بعض تبصرہ نگار اپنی جنتا کو ماضی یاد دلا رہے ہیں۔۔۔ وہ ماضی کہ جب بھارت نے اپنی 90 ,85 فیصد نفری پاکستانی سرحدوں پر لا کر ڈال دی تھی۔۔۔ اس کے بعد کیا ہوا تھا، اس کا احوال ایک بھارتی تجزیہ نگار کے الفاظ میں انشاء اللہ اگلے کالم میں!

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

فیس بک نے فلسطینیوں کے خلاف کس طرح “تعصب” برتا ؟

انٹرنیٹ پر فلسطینی کارکنان اور بلاگروں نے اتوار کی صبح مشہور ترین سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر پوسٹنگ روک دینے کی مہم کا آغاز کر دیا۔ اس کا سبب فیس بک کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اشتعال کو بنیاد بنا کر فسلطینیوں کے نشر و اشاعت کی آزادی پر حملہ بتایا گیا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے رات دس بجے تک جاری رہنے والی مہم FBCensorsPalestine# کے نام سے متعارف کرائی گئی۔ مہم کے منتظمین نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ “فیس بک” کی انتظامیہ کا رواں ماہ ستمبر میں قابض اسرائیلی حکام کے ساتھ اس امر پر اتفاق ہوا ہے کہ اشتعال کو بنیاد بنا کر فیس بک پر فلسطینی شخصیات اور فلسطینی ویب سائٹوں کے صفحات کو ختم کر دیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے اسرائیلی وزیر انصاف کے حوالے سے بتایا ہے کہ فیس بک نے فلسطینی شخصیات اور ویب سائٹوں کے صفحات کو ختم کرنے کے حوالے سے اکثر مطالبات کا جواب دیا ہے۔ پیشگی اطلاع یا انتباہ کے بغیر حذف کیے جانے والے صفحات میں شہاب نیوز ایجنسی اور القدس نیوز نیٹ ورک کے صفحات شامل ہیں۔ اس سلسلے میں ایک کارکن اور بلاگر محمود حريبات نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ فیس بک کے خلاف مہم ان افراد یا صحافیوں نے شروع کی ہے جن کو خود یا وہ جن ویب سائٹوں کے لیے کام کرتے ہیں ان کو.. فیس بک کی پالیسیوں کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اب یہ مکمل طور پر فلسطینی مہم بن چکی ہے اور بین الاقوامی سطح کی جانب گامزن ہے ۔ حریبات کے مطابق فیس بک نے جو کیا ہے وہ “آزادی اظہار کے معیار کے خلاف ہے جب کہ یہاں دُہرا معیار بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ ایسے بہت سے صفحات ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف اشتعال پھیلا رہے ہیں تاہم ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا جا رہا ہے”۔

مہم کے منتظمین نے فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے سے فوری طور پر رجوع کرے۔ ساتھ ہی بھی کہا گیا ہے کہ فیس بک “قابض اسرائیلی حکام کی غیر قانونی پالیسیوں اور کارروائیوں کی حمایت بند کرے اور اسرائیلی حکام کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے انٹرنیٹ صارفین کو اعلانیہ طور پر آگاہ کرے۔ واضح رہے کہ فیس بک نے 1910 میں پیدا ہونے والی ایک فلسطینی خاتون کے شناختی کارڈ کی کاپی کو یہ کہہ کر حذف کر دیا تھا کہ یہ پوسٹ نسل پرستی کے مواد پر مشتمل ہے۔

سوشل میڈیا پر مقبوضہ بیت المقدس کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہونے والی مذکورہ خاتون کی تصویر بڑے پیمانے پر پھیلائی گئی۔ بعض کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ فوت ہوچکی ہے اور بعض تبصروں میں کہا گیا کہ “خاتون کی عمر اسرائیلی قبضے سے زیادہ ہے”۔

ام الله – امجد سمحان