دو سفری دستاویز کی کہانی

بھارت کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی نے پارلیمنٹ کو تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے معاملے کو اٹھاتی ہیں‘ جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتا اور اسے کھینچ تان کر پارلیمنٹ میں بحث شروع کرا دیتی ہیں۔
یہ درست ہے کہ پوری قوم کی توجہ اس پر منعطف ہو جاتی ہے لیکن لوگ اس سب سے اعلیٰ منتخب ادارے کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سنکی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ 
مثال کے طور پر سید علی گیلانی کو سفری دستاویز جاری کرنے کا معاملہ لیں جو ریاست جموں کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈر ہیں اور للت مودی کا معاملہ جو انڈین پریمیئر لیگ کرکٹ کے میچ فکسنگ اور جوا لگانے کے سکینڈلوں میں ملوث ہیں۔ یہ دونوں معاملات کم و بیش مماثل نوعیت کے ہیں۔
پہلے معاملے میں گیلانی اپنی علیل بیٹی کی تیمار داری کے لیے جدہ جانا چاہتے تھے‘ دوسرے معاملے میں للت مودی اپنی بیوی کی خبر گیری کے لیے پرتگال جانا چاہتے ہیں جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وزارت خارجہ نے، جو پاسپورٹ جاری کرتی ہے، کہا ہے کہ گیلانی کی درخواست موجودہ شکل میں منظور نہیں کی جا سکتی کیونکہ انھوں نے اپنے پاسپورٹ میں اپنی قومیت کا ذکر نہیں کیا بلکہ لکھا ہے کہ وہ جموں کشمیر کے شہری ہیں جو ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ بی جے پی اور جموں کشمیر میں اس کی اتحادی جماعت پی ڈی پی دونوں اس مسئلے پر مختلف رائے رکھتی ہیں۔
پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے یہ موقف پیش کیا ہے کہ گیلانی کو انسانی ہمدردی کی بنا پر سفری دستاویز جاری کر دی جانی چاہئیں، جب کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ انھیں اس وقت تک سفری دستاویز نہیں ملیں گی جب تک کہ وہ اپنی ملک دشمن سرگرمیوں پر معافی نہیں مانگتے نیز سید علی گیلانی کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ بھارتی شہری ہیں اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونگے تب ہی بھارتی حکومت ان کی سفری دستاویز جاری کرنے کی درخواست پر غور کر سکتی ہے۔
دوسری طرف جموں کشمیر کے لیے بی جے پی کے ترجمان خالد جہانگیر نے اپنی مخالفانہ رائے دیتے ہوئے الزام عاید کیا ہے کہ سید علی گیلانی وادی کشمیر میں کشیدگی پیدا کرنے کے ذمے دار ہیں۔ کشمیر کے بارے میں ان کے نظریات کا سب کو علم ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان کو پاسپورٹ جاری کرنا ہمارے قومی مفاد میں ہو گا۔
سید علی گیلانی نے مئی میں سفری دستاویز کے لیے درخواست دی تھی۔ انھیں حکومت نے اب پاسپورٹ جاری کر دیا ہے جو نو مہینے تک قابل استعمال رہے گا۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ سشما سوراج نے للت مودی کی مدد کرنے کے لیے اسے برطانوی حکومت سے سفری دستاویز حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سشما نے ذاتی طور پر برطانوی وزیر کو لکھا ہے کہ وہ اپنے ملک کے قانون کے مطابق للت کی مدد کریں۔ بعد ازاں سشما نے کہا کہ انھوں نے للت مودی کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ہے۔ حالانکہ یہ واضح طور پر ایک بے موقع حرکت ہے، جس کے لیے انھیں معافی مانگنی چاہیے۔ اس کے بجائے کانگریس نے سشما سوراج سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ پارٹی پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کی کوشش بھی کرتی ہے۔ جب وزیر خزانہ ارون جیٹلے نے لوک سبھا کے ایوان میں اعلان کیا کہ سشما سوراج کو بیان جاری کرنا چاہیے جس پر بعد میں بحث کی جائے۔
چنانچہ یہ معاملہ وہیں ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن کانگریس کا مطالبہ ہے کہ سشما سوراج پہلے استعفیٰ دیں اور بعد میں اس معاملے پر بحث ہو۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اور کوئی معقول ایشو نہیں ہیں۔ حالانکہ اس وقت تک سشما سے استعفیٰ طلب نہیں کیا جا سکتا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ان کی طرف سے للت مودی کو سفر کی اجازت دینے کے پیچھے ان کے اپنے کوئی مخصوص مفادات تھے۔
یہ درست ہے کہ سشما سوراج کے شوہر مودی کے وکیل ہیں۔ لیکن یہ وہ پوزیشن ہے جس پر وہ کئی سال سے فائز ہیں۔ نیز اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ سشما سوراج کو خصوصی مفادات پہنچائے گئے ہیں جس کی وجہ سے انھوں نے سفری دستاویز جاری کرنے کی بات کی ہے۔
ویسے بھی کانگریس کو بغیر ثبوت کے الزامات عائد نہیں کرنے چاہئیں۔ تاہم وزیر خارجہ کو یہ نصیحت بھی کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے صوابدیدی اختیارات اس انداز میں استعمال نہ کریں کہ ان پر تنقید کا جواز پیدا ہو سکے۔ موصوفہ بی جے پی کی ایک قابل احترام لیڈر ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ اپنے سوشلسٹ پس منظر کے باعث اپنے نظریات اور عمل میں اسقدر آزاد خیال ہوں۔
آر ایس ایس جو اپنے کٹر ہندوتوا نظریات کے حوالے سے جانی جاتی ہے، وہ سشما سے خوش نہیں۔ لیکن بی جے پی کی قیادت کو اس بات کا احساس ہے کہ سشما کے آزاد خیال تاثر کے باعث انھیں ان لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے جو پارٹی سے قدرے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ انھی کا ووٹ پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا باعث بن سکتا ہے۔
اور آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مرکز میں اقتدار میں آنے کے لیے مسلمانوں کا ووٹ اس قدر لازمی نہیں رہا جیسا کہ قبل ازیں ہوتا رہا ہے۔ یہ ملک کے لیے ایک افسوسناک سبق ہے جسے اپنی اجتماعیت کی پالیسی پر فخر تھا جب کہ ایک طرف مسلم لیگ کے مذہبی وعظ تھے تو دوسری طرف ہندو مہاسبھا کے متعصبانہ نظریات تھے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کی حالت قابل رحم ہے جو بھارت کے سیکولر نظریات کے لیے ایک افسوس ناک تبصرہ ہے۔
اس صورت حال کا مداوا صرف اسی طرح ہو سکتا کہ وہ لوگ جو سیکولر نظریات پر یقین رکھتے ہیں انھیں میدان میں جا کر عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنی چاہیے۔ اگرچہ یہ کام آسان نہیں ہے لیکن اس کے سوا اور کوئی راستہ بھی تو نہیں۔ اگرچہ تقسیم سے قبل مسلم لیگ نے اپنے حامیوں پر ایک سحر سا طاری کر دیا تھا اس کے باوجود کانگریس نے برطانوی دور حکومت میں اپنی سیکولر ازم کی سیاست سے انحراف نہیں کیا تھا۔ لیکن 6عشروں تک کانگریس نے جس بری طرح سے حکمرانی کی اس نے ہندو مسلم خلیج میں اضافہ کر دیا اور اس کے مضمرات ہم سب بھگت رہے ہیں۔
پارلیمنٹ کی کارکردگی میں کانگریس کی طرف سے رخنہ اندازی کے ایشو پر واپس آتے ہوئے ہمارے خیال میں یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس کے لیڈر کپل سبل نے اپنی رخنہ اندازی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ یہ ان کی پارلیمانی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کی مثال ماضی میں خود بی جے پی نے قائم کی تھی۔
آل پارٹیز اجلاس میں راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کانگریس ایوان کو کارروائی جاری نہیں رکھنے دیگی جب تک کہ سشما کے استعفیٰ کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا۔ تاہم کانگریس کا ہی ایک دھڑا اس مطالبے کے خلاف ہے جس کو خدشہ ہے کہ اس طرح ان کی پارٹی پارلیمنٹ میں الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گی۔
یہ معاملات جس انداز سے چل رہے ہیں اس روش کو صحت مند نہیں کہا جا سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ مون سون کا پورا عرصہ ہی اس سیاسی سیلاب میں نہ بہہ جائے جس سے بھارت کی توانائیوں کا ضیاع ہو گا اور ملک کی تعمیر و ترقی متاثر ہو گی۔ جیسا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا اگر ذرایع ناجائز ہوں تو نتیجہ بھی جائز نہیں نکلے گا۔ اور ایک ایسے ملک کے لیے بدشگونی کی بات ہے جو پارلیمانی جمہوریت کا دعویدار ہو۔
بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس 

Distant planets

An illustration compares Earth (L) to a planet beyond the solar system that is a close match to Earth, called Kepler-452b. The planet, which is about 60 percent bigger than Earth, is located about 1,400 light years away in the constellation Cygnus.
Kepler-186f is seen in a NASA artist’s concept released April 17, 2014. The planet is the first validated Earth-size planet to orbit a distant star in the habitable zone which is a range of distance from a star where liquid water might pool on the planet’s surface. The discovery is the closest scientists have come so far to finding a true Earth twin. The star, known as Kepler-186 and located about 500 light years away in the constellation Cygnus, is smaller and redder than the sun.
A newly discovered planet-like object, dubbed “Sedna” is seen in this artist’s concept released by NASA March 26, 2014. Astronomers have found a small icy body far beyond Pluto and the Kuiper Belt, a discovery that calls into question exactly what was going on during the early days of the solar system.
Dwarf planet Ceres is seen in the main asteroid belt between the orbits of Mars and Jupiter. Ceres, one of the most intriguing objects in the solar system, is gushing water vapor from its frigid surface into space, in a finding that raises questions about whether it might be hospitable to life. 
An artist’s impression shows a sunset seen from the super-Earth Gliese 667 Cc. Astronomers have estimated there are tens of billions of such rocky worlds orbiting faint red dwarf stars in the Milky Way alone. 
A view of a Saturn-sized planet orbiting 79 Ceti.
An artist’s depiction of Kepler-62e. The super Earth-size planet is in the habitable zone of a star smaller and cooler than the sun, located about 1,200 light-years from Earth in the constellation Lyra.
An artist’s impression shows the planet orbiting the star Alpha Centauri B, a member of the triple star system that is the closest to Earth. Our own Sun is visible to the upper right.
A baffling planet, known as HAT-P-1, that is much larger than theory predicts. The planet has a radius about 1.38 times Jupiter’s but contains only half Jupiter’s mass.
A rich starry sky fills the view from an ancient gas-giant planet in the core of the globular star cluster M4. The 13-billion-year-old planet orbits a helium white-dwarf star and the millisecond pulsar B1620-26, seen at lower left. The globular cluster is deficient in heavier elements for making planets, so the existence of such a world implies that planet formation may have been quite efficient in the early universe. 
Planet 2003UB313, the most distant object ever detected orbiting the sun, at the lonely outer fringes of our solar system. Our sun can be seen in the distance. The planet is at least as big as Pluto and about three times farther away from the Sun than Pluto. 
A Jupiter-sized planet passing in front of its parent star. Such events are called transits. When the planet transits the star, the star’s apparent brightness drops by a few percent for a short period.
A fledgling solar system containing deep within it enough water vapor to fill all the oceans on Earth five times, located in our Milky Way galaxy about 1,000 light years from Earth in the constellation Perseus. 

Protest against Obama’s Iran deal

 An image of Iranian leaders is projected on a giant screen in front of demonstrators during a rally opposing the nuclear deal with Iran in Times Square.

امریکہ کیوبا سفارتی تعلقات کا مستقبل

عالمی سرمایہ داری کا بحران چین سے لے کر یورپ اور امریکہ تک ، مختلف شکلوں میں اپنا اظہار کر رہا ہے۔ کہیں سٹاک مارکیٹ کریش ہو رہی ہے تو کہیں ملک دیوالیہ ہیں اور فلاحی ریاست کو رفتہ رفتہ ختم کیا جارہا ہے۔ مظاہرے اور ہڑتالیں یورپ کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ داری کی اپنی ناؤ میں چھید در چھید ہو رہے ہیں لیکن دیوار برلن کے انہدام کے 25 سال بعد میں سوشلزم کی ناکامی کی گردان اس نظام کے دانشور طوطے کی طرح دہراتے ہیں۔ امریکہ کیوبا سفارتی تعلقات کی بحالی کو بھی کارپوریٹ میڈیا پر آخری سوشلسٹ ملک کی شکست سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
پاکستان کے ایک مین سٹریم انگریزی جریدے کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کے چند گھنٹے بعد ہی واشنگٹن میں کیوبا کا پرچم بلند کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ںکیوبا کے وزیر خارجہ نے شرکت کی۔ 1958ء کے بعد برونو روڈ ریگیوز کیوبا کے پہلے وزیر خارجہ ہیں جنہوں نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں قدم رکھا ہے۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہسپانوی زبان میں کہا کہ 20 جولائی کو دوطرفہ تعلقات کی بحالی کا آغاز ہوا ہے۔ کیری نے مزید بتایا کہ وہ کیوبا کا سرکاری دورہ کریں گے اور وہاں 14 اگست کو امریکی سفارتخانے میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ روڈریگیوز نے کیوبا پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرنے کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر باراک اوباما کا شکریہ ادا کیا اور امریکی کانگریس سے معاشی ناکہ بندی ختم کرنے کی اپیل کی۔
دونوں ممالک کے سفارت تعلقات کی بحالی کا باقاعدہ اعلان راؤل کاسترو اور اوباما کے درمیان کئی مہینوں نے خفیہ مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔ خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کیوبا نے دو امریکی جاسوس رہا کئے ہیں۔ امریکہ نے بھی کیوبن 5 میں شامل کیوبا کے تین خفیہ ایجنٹ رہا کر دیئے ہیں، دو اہلکار پہلے ہی رہا کئے جا چکے تھے ۔
یکم جنوری 1959ء کو چے گویرا اور فیڈل کاسترو کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب کے ذریعے کیوبا پر سے امریکہ کے کٹھ پتلی جرنیل فلگینسیو بیٹسٹا کی آمریت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔ کیوبا کے خلاف امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کا آغاز انقلاب کے فورا بعد ہی ہو گیا تھا۔ امریکہ نے نومولود انقلابی حکومت کو کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مسلح گروہوں کے ذریعے کیوبا کے ساحلی علاقوں پر حملے کروائے گئے ، انتشار پھیلانے کیلئے دہشت گردی کی ان گنت وارداتیں کی گئیں، عالمی سظح پر پروپیگنڈا کی یلغار کی گئی ، فیڈل کاسترو سمیت ملک کی اعلی قیادت کو قتل کروانے کی کوشش درجنوں بار کی گئی، بدترین معاشی پابندیاں نافذ کی گئیں، جو آج تک قائم ہیں۔ کیوبا کی حکومت کے مطابق ان معاشی پابندیوں سے ملک کو ہر سال 685 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
دو طرفہ سفارتی تعلقات جنوری 1961ء میں امریکہ نے ہی منقطع کئے تھے۔ اس سے قبل کیوبا نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث مریکہ کے سفارتی عملے کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ کیوبا پر معاشی پابندیاں 1960ء میں ہی عائد کی جا چکی تھیں۔ ان پابندیوں کا جواز انقلابی حکومت کی جانب سے امریکی کمپنیوں کی نیشنلائزیشن کو بنایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ انقلاب سے قبل کیوبا کا درجہ امریکہ کی کالونی سے زیادہ نہیں تھا اور ملک کی زمین اور صنعت کا 70 فیصد سے بھی زائد امریکی کارپوریٹ اجارہ داریوں کے تسلط میں تھا۔ یہ کمپنیاں کیوبا کے وسائل کو بڑے پیمانے پر لوٹ رہی تھیں جبکہ عوام بدترین غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
 
انقلابی حکومت نے کیوبا میں بڑے پیمانے پر نیشنلائزیشن کی اور سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے منصوبہ بند معیشت رائج کی گئی۔ منڈی کی لوٹ مار کے خاتمے سے تعلیم اور علاج کے شعبوں میں تیز ترقی ہوئی۔ روزگار اور گھر کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دیا گیا۔ ہنگامی پلان کے تحت چند سالوں میں ناخواندگی کا مکمل خاتمہ کیا گیا۔ غذائی قلت کا نام و نشان مٹا دیا گیا اور دنیا کا بہتر نظام صحت قائم کیا گیا۔
اس عہد میں سوویت یونین کے ساتھ کیوبا کے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے اور امریکہ کی معاشی پابندیوں کا ازالہ سوویت یونین کی امداد اور تجارتی سبسڈی کے ذریعے ہوتا رہا۔ ان تعلقات کا منفی پہلو یہ تھا کہ اس وقت کے سوویت یونین کی طرز پر کیوبا میں بھی ریاستی افسر شاہی پروان چڑھنے لگی۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد کیوبا دنیا میں بالکل تنہا رہ گیا اور عالمی منڈی کی جکڑ میں معیشت کا دم گھٹنے لگا۔ لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود عوام نے قربانیاں دے کر انقلاب اور اسکی حاصلات کا دفاع بڑی جرات اور حوصلے سے کیا۔ نہ صرف معاشی جکڑ بندی بلکہ امریکی سامراج کی جانب سے کئے جانے والے سوشلزم کے خاتمے کے سیاسی پروپیگنڈا کا مقابلہ بھی کیوبا کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے بخوبی کیا اور جھکنے سے انکار کر دیا۔ 
اسی تاریک عہد میں ونزویلا میں بولیوارین انقلاب کا آغاز 1998ء میں ہوا جس نے کیوبا کے عوام کو نئی ہمت اور طاقت دی۔ ہوگو شاویز دنیا بھر میں امریکی سامراج اور سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد کی علامت بن کر ابھرا اور ونزویلا کے ساتھ کیوبا کے دوستانہ تعلقات استوار ہوئے جس سے کیوبا کی تنہائی کسی حد تک ختم ہوئی۔
کیوبا کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسکی منصوبہ بند معیشت ایک چھوٹے سے جزیرے کی مانند ہے جسے ہر طرف سے عالمی سرمایہ دارانہ معیشت کے سمندر نے گھیر رکھا ہے۔ عالمی منڈی کے تمام قوانین کیوبا کی معیشت کے منافی ہیں۔ تجارت کے لئے ہارڈ کرنسی بڑی مشکل سے سیاحت ، طبی سہولیات اور نکل وغیرہ کی فروخت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ کرنسی بعد اذاں مںڈی کی بلند قیمتوں پر بھارتی مشینری اور خوراک وغیرہ کی خریداری کی نذر ہوجاتی ہے۔ کسی بھی ترقی پذیر ملک کی طرح صنعت کی کم پیداواریت اور پرانئی مشینری کے پیش نظر عالمی منڈی میں تجارت معیشت کو نچوڑ لیتی ہے۔ انہی حالات کے تحت حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ایک دھڑے میں چینی ماڈل سے متعلق خوش فہمیاں جنم لے رہی ہیں؛ یعنی معیشت کے کچھ حصوں میں منڈی کے قوانین متعارف کروائے جائیں جبکہ اہم حصے ریاستی ملکیت میں رہیں۔
 لیکن اس منصوبے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ چین ہی کی طرح کچھ معاشی شعبوں میں منڈی کی بحالی کا ناگزیر نتیجہ سرمایہ داری کی مکمل بحالی کی شکل میں برآمد ہوگا اور انقلاب کی اہم حاصلات چھن جائیں گی۔ علاوہ ازیں چین کے مقابلے میں کیوبا، محدود وسائل رکھنے والا چھوٹا سا جزیرہ ہے اور عالمی سرمایہ داری کے مقابلے مین انتہائی کمزور پوزیشن رکھتا ہے۔
امریکی ریاست کا ایک حصہ بھی پچھلے کچھ عرصے سے بزور طاقت انقلاب کو کچلنے کی ناکام پالیسی پر تنقید کر رہا ہے ۔ علاوہ ازین انہیں ادراک ہے کہ کیوبا اگر معیشت کے کچھ حصے بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھولتا ہے تو امریکی کمپنیوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے اور کینڈا یا یورپ کے سرمایہ دار ہی اسکا فائدہ اٹھائیں گے۔ اوباما حکومت درحقیقت کیوبا میں سرمایہ داری کی بحالی کے پلان بی پر عمل پیرا ہے جسکے تحت زور زبردستی کی بجائے دوستانہ انداز میں سرمائے کی مداخلت کروائی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے کیوبا میں نومولود سرمایہ داروں کی مالی اور سیاسی مدد کی جائے گی اور مارکس کے الفاظ میں سستی اجناس کی گولہ باری سے انقلاب کو تباہ کیا جائے گا۔
 نیو یارک ٹائمز لکھتا ہے کہ واشنگٹن کو چاہئے کہ کیوبا کے کاروباری طبقے کو مالی امداد اور تربیت دے کر کمیونسٹ پارٹی کے اصلاح پسند دھڑے کو مضبوط کرے۔ دوستی اور تعلقات کی بحالی کی تمام تر لفاظی کے باوجود امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے نام پر کیوبا کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتا رہے گا۔
عالمی سطح پر سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے جنم لینے والے حالات کیوبا کے حق میں ہیں۔ پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ لیکن سوویت یونین اور چین کی مثالیں یہ تاریخی سبق بھی دیتی ہیں کہ وسیع افرادی قوت اور وسائل کے باوجود بھی ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ دیوانے کا خواب اور مارکسزم سے کھلی غداری ہے۔ سیاسی اور معاشی تنہائی کے شکار انقلاب کیوبا کے مستقبل کا فیصلہ بھی آخری تجزیئے میں عالمی سطح پر طبقاتی جدوجہد اور انقلابی تحریکوں سے ہوگا۔ یہ عالمی منظر نامہ ہی کیوبا کے اندر برسرپیکار انقلابی اور رد انقلابی قوتوں کے توازن پر فیصؒہ کن اثرات مرتب کرے گا
لال خان
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا

سپر پاورکے صدر کے والد کی خستہ حال مرقد کا نوحہ

سپرپاور امریکا کے سیاہ فام صدر براک اوباما نے اپنے ملک اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے نہ معلوم کیا کچھ کیا ہوگا مگر وہ  اپنے آنجہانی والد اور خاندان کو کچھ ایسے فراموش کر بیٹھے ہیں کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے مسلمان غریب والد کی کینیا میں موجود قبر کی ‘رکھوالی ان دنوں کتے، بلیاں اور مرغیاں’ کر رہی ہیں۔ صدر اوباما کو اپنے والد کی ٹوٹی پھوٹی قبر کا خیال نہیں آیا مگر بھلا ہو کینیا کی حکومت کا جس نے اپنی غربت کے باوجود امریکی صدر کے والد کی آخری آرام گاہ کی مرمت کے لیے 10 لاکھ شلنگ یعنی 10 ہزار امریکی ڈالر کے مساوی رقم مختص کی ہے۔
کینیا میں موجود امریکی صدر کے والد کی قبر کی خستہ حالی پر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک ایسے وقت میں روشنی ڈالی ہے جب صدر اوباما آج جمعہ کو کینا کا دورہ کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بیٹے کی آمد پر والد باراک حسین اوباما کی روح قبرپرانتظار کرے لیکن امکان یہ ہے کہ صدر اوباما کینیا کے حکام سے ساتھ عالمی اور علاقائی اموربات چیت میں کچھ ایسے مصروف ہوں کہ اُنہیں والد کی قبر کو سلام کہنے کی فرصت نہ ملے کیوںکہ انہیں آخر عالمی مسائل کی گتھیاں سلجھانے کے لیے کل ہفتے کو ایتھوپیا بھی پہنچنا ہے۔
براک حسین اوباما کی قبر کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے 400 کلو میٹر دور افریقی ملک یوگنڈا کی سرحد سے متصل “کوغیلو” قصبے میں ہے۔ قبر کیا ہے؟ محض ایک گڑھا ہے۔ اگر کوئی اجنبی دیکھے تو اسے یقین نہیں آئے گا کہ یہ دنیا کی سپرپاور امریکا کے حاضر سروس صدر باراک اوباما کے والد کی آخری آرام گاہ ہے۔
اگرچہ صدر اوباما ارب پتی نہیں لیکن ان کا شمار امریکا کے متمول لوگوں میں ہوتا ہے۔ ان کی دولت کے اور کئی مصرف ہوں گے۔ اس لیے وہ آج تک والد کی قبر کی خستہ حالی دور کرنے کے لیے ایک دھیلہ تک صرف نہیں کرپائے ہیں۔ دو ماہ قبل کینیا کے محکمہ سیاحت نے اوباما کے والد کی آخری آرام گاہ کی مرمت کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے 1 ملین کینی شلن مختص کیے ہیں۔
کینیا کی حکومت کی جانب سے باراک حسین اوباما کی صرف قبر کی مرمت کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ حکومت اسے ایک سیاحتی مرکزبنانے کےلیے کوشاں ہے کیونکہ قبر کی زیارت کرنے روزانہ دنیا بھر سے کم سے کم 30 افراد وہاں آتے ہیں۔
کینیا کے ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر اوباما پہلی بار سنہ 1987ء میں والد کی قبرپرآئے۔ جہاں انہوں نے ایک خاتون عزیزہ “ماما سارہ” سے ملاقات کی۔ ماما سارہ رشتے میں صدر اوباما کی دادی ہیں جو ان کے دادا حسین اونیانگو کی تیسری اہلیہ ہیں۔ اوباما کے دادا کی قبر بھی والد کی قبرکے قریب ہے۔ باراک اوباما کے والد جن کا پورا نام باراک حسین اوباما تھا سنہ 1982ء میں نشے کی حالت میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ تب 21 سالہ باراک اوباما امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھے۔
والد زمین میں والدہ سمندر میں
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق باراک اوباما نے 28 سال قبل اپنے والد کی قبر کی زیارت کی۔ کسی کویہ معلوم نہیں کہ والد کی قبر پرانہوں نے ایک مسلمان کے طورپر فاتحہ خوانی کی تھی یا نہیں۔ وہ کتنی دیر کھڑے رہے۔ یا یہ کہ انہوں نے عیسائی مذہب کے مطابق والد کی قبر پرکچھ دیر تعزیتی کلمات کہے۔ “کوغیلو” قصبے کی مقامی آبادی کے 3700 نفوس میں کوئی نہیں جانتا کہ اوباما کے نزدیک ان کے والد کی قبر کی کتنی حیثیت ہے کیونکہ مقامی لوگوں نے تو ان کی قبر کے آس پاس ہروقت کتے، بلیاں اور مرغیاں ہی پھرتی دیکھی ہیں۔
صدر اوباما دوسری مرتبہ سنہ 2006ء میں کینیا کے دورے پرآئے۔ تب وہ امریکی کانگریس میں سینٹر تھے۔ان کے اس دورے میں ان کی اہلیہ مشل اوباما اور دونوں بیٹیاں بھی ہمراہ تھیں۔ نیوز ویب پورٹل news 24 کے مطابق کینیا آمد پروہ اپنے والد کی قبر پرحاضری دینے آئے لیکن انہوں نے قبر کی خستہ حالی پرکوئی توجہ نہیں دی۔
مقامی اخبارات نے اوباما کے والد کے انتقال کے بارے میں مختلف کہانیاں شائع کی ہیں۔ زیادہ مشہور روایت کے مطابق باراک حسین اوباما کو جب کینیا کی ایک آئل کمپنی نے نوکری سے نکال دیا تو وہ ذہنی اور نفسیاتی طورپر بری طرح متاثر ہوئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے شراب نوشی شروع کردی تھی۔ 45 سال کی عمرمیں باراک حسین نیروبی کے قریب ایک شاہراہ عام پر نشے کی حالت میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ پسماندگان میں انہوں نے آٹھ بیٹے اور پانچ بیگمات چھوڑیں۔ ان میں ایک یہودی بیوی بھی تھی جس سے ایک بیٹا ہوا۔ صدر اوباما کا یہودی سوتیلی ماں سے ہونے والے سوتیلے بھائی کا نام “مارک اوباما نڈیسانگو ہے اور وہ اس وقت چین میں ہے۔
اوباما کی والدہ “آن ڈونھام” کی کوئی قبر نہیں۔ وہ سرطان میں مبتلا ہوئیں۔ سنہ 1995ء میں اپنی وفات سے قبل انہوں نے وصیت کی انتقال کے بعد ان کی میت کو جلا دیا جائے اور راکھ سمندر میں بہا دی جائے۔ سنہ 2008ء میں ان کی وفات کے بعد وصیت پرعمل کرتے ہوئے ہوائی کے سمندر میں بہا دی تھی۔
لندن ۔ کمال قبیسی

On the U.S.-Mexico border

Members of Mexican immigrant welfare agency Grupo Beta search in the mountains between Mexico and the U.S. for potential border crossers during a patrol on the outskirts of Ciudad Juarez July 29, 2014. Grupo Beta is a Mexican federal entity founded to provide rescue, guidance and humanitarian aid to migrants and to help them get back home. 
A Salvadoran father (R) carries his son while running next to another immigrant as they try to board a train heading to the Mexican-U.S. border, in Huehuetoca, near Mexico City.
People hoping to reach the U.S. ride atop the wagon of a freight train, known as La Bestia (The Beast) in Ixtepec, in the Mexican state of Oaxaca.
A Central American migrant walks on the train tracks in Arriaga.
A handmade sign to deter trespassers hangs in the front yard of Fernando Rivera Jr.’s house in Brownsville, Texas. According to Rivera Jr, there is an open gate in the U.S.-Mexico border fence which immigrants would stroll through and onto the Rivera’s property.
Immigrants hide from a border patrol vehicle while waiting a chance to cross into the United States at the border fence on the outskirts of Tijuana, Mexico.
People are taken into custody by the U.S. Border Patrol near Falfurrias, Texas.
The unidentified graves of people whose remains were found in the desert are seen in Falfurrias, Texas.
The Arizona-Mexico border fence near Naco, Arizona.
A boy tries to touch the sand on the other side of a the wall separating Mexico and the United States in Imperial Beach, California.

Turkey’s war on ISIS

Ambulances leave from the Dag military post, which was attacked by Islamic State militants a day earlier, on the Turkish-Syrian border near Kilis, Turkey. Turkish warplanes pounded Islamic State targets in Syria and police detained hundreds of suspected militants across Turkey, a sign that Ankara may have shed its hesitancy in taking a front-line role against jihadist fighters.
A Turkish Air Force A400M tactical transport aircraft is parked at Incirlik airbase in the southern city of Adana, Turkey. Turkey has agreed to allow U.S. planes to launch air strikes against Islamic State militants from the U.S. air base at Incirlik, close to the Syrian border, U.S. defense officials said.
Turkish soldiers pray for their comrade Mehmet Yalcin Nane who was killed by Islamic State militants, during a ceremony at a military base in Gaziantep, Turkey.
Seher Nane (C), widow of Turkish Army officer Mehmet Yalcin Nane who was killed by Islamic State militants on Thursday, mourns over her husband’s coffin during a funeral ceremony in Gaziantep, Turkey.
Relatives and friends carry the coffins of the victims of this week’s bomb attack in Suruc, during a funeral ceremony in Istanbul, Turkey. A suspected Islamic State suicide bomber killed at least 30 people, mostly young students, in an attack on the Turkish town of Suruc near the Syrian border.
eople prepare graves for the victims who were killed in Monday’s bomb attack, at a cemetery in Suruc, Turkey.
A Turkish soldier shares a bottle of water with his comrade as they stand guard near the Mursitpinar border gate in Suruc, bordering with Syrian town of Kobani, Sanliurfa province, Turkey.
Smoke rises in the Syrian town of Kobani as it is seen from the Turkish border town of Suruc in Sanliurfa province, Turkey.
Turkish soldiers and an army tank take position at the new site of the Suleyman Shah tomb near the northern Syrian village of Esme, on the Syrian-Turkish border.
A Turkish soldier carries a Syrian Kurdish refugee baby from the Syrian border town Kobani, near the southeastern Turkish town of Suruc in Sanliurfa province.
Turkish soldiers help Syrian refugees as they cross into Turkey on the Turkish-Syrian border, near the southeastern town of Akcakale in Sanliurfa province, Turkey.

کیا اسرائیل جوہری معاہدہ روک سکے گا؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیاں طے پانے والے جوہری معاہدے کی توثیق کردی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ سلامتی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے جن میں سے پانچ مستقل اور ویٹو پاور کے مالک ممالک بھی شامل ہیں، متفقہ طور پر اس معاہدے کی منظوری دی ہے۔ صدر اوباما نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے امریکی کانگرس کے لیے ایک اہم پیغام قرار دیا اور کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ معاہدے کو عالمی برادری کی متفقہ حمایت حاصل ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے باوجود اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ وہ ہر قیمت پر اس معاہدے کا راستہ روکیں گے کیونکہ بقول انکے یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت میں شامل دیگر دائیں بازو کے سیاستدان اس معاہدے کی ایک دوسرے سے بڑھ کر مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن اسرائیل سے باہر کسی ملک یا کسی شخصیت کی طرف سے اسرائیل کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی گئی۔ بلکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حیثیت سے برطانیہ ، فرانس اور روس کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق ثابت کرتی ہے کہ یورپ، اسرائیل کے موقف سے متفق نہیں۔
 انکے ساتھ جرمنی کی شرکت نے یورپ میں اسرائیل کی پوزیشن کو اور بھی کمزور کر دیا ہے۔ 1948ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک اسرائیل کو بین الاقوامی برادری میں اس حد تک الگ تھلگ نہیں ہونا پڑا تھا۔ خصوصا یورپ کی طرف سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر کامیاب بات چیت اور اسکی حمایت، اسرائیل کے ایک ایک ایسا دھچکا ہے جسکا اثر نہ صرف اسکی علاقائی پالیسی بلکہ اسکی اندرونی سیاست پر بھی پڑے گا، کیونکہ اس معاہدے کے بعد اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے اور حزب مخالف کی طرف سے ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ 
اسرائیل میں حکومت مخالف سیاستدانوں اور میڈیا کی طرف سے نتین یاہو پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے اپنا تمام سیاسی کیریر اس داؤ پر لگایا تھا کہ وہ اس معاہدے کو روک سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے گزشتہ مارچ میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اپنی تقریر پر امریکہ کی دونوں پارٹیوں یعنی ری پبلکن اور ڈیموکریٹک کی طرف سے بھرپور داد حاصل کر کے اسرائیلی ووٹرز کو یقین دلیا تھا کہ وہ واقعی اس معاہدے کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن یہ معاہدہ نہ صرف طے پایا گیا ، بلکہ امریکی کانگریس میں نظر ثانی سے قبل ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسکی منظوری دے کر ایران پر عائد پابندیوں کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
اب نتین یاہو کی تمام کوششوں کا مرکز امریکی کانگرس ہے جہاں اسرائیلی وزیر اعظم کا ساتھ دینے والے متعدد ارکان موجود ہیں۔ کانگرس میں اس وقت صدر اوباما کی مخالف پارٹی ری پبلکن کو اکثریت حاصل ہے لیکن اکی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان بھی اسرائیل کے موقف کے حامی ہیں، اس لیے صدر اوباما نے کانگرس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے معاہدے کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔ کانگریس کے پاس اس معاہدے کو منظور یا مسترد کرنے کے لیے 60 دن ہیں ۔
امریکی آئین کے مطابق خارجہ پالیسی چونکہ صدر کے اختیارات میں شامل ہے اس لیے اگر کانگرس صدر کے کسی فیصؒے کو مسترد کرتی ہے تو صدر اپنا خصوصی اختیار یعنی ویٹو استعمال کر کے کانگرس کے فیصلے کو غیر موثر بنا سکتا ہے۔ تاہم اگر کانگرس کے دونوں ایوان، یعنی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کرتی ہے تو اس صورت میں صدر اپنا حق استراد یعنی ویٹو استعمال نہیں کر سکتا۔
اگرچہ امریکی کانگرس میں اسرائیل کے حامی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ صدر اوباما کو یقینا ٹف ٹائم دیں گے؛ تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ امریکی کانگرس دو تہائی اکثریت سے یہ معاہدہ مسترد کر دے گی۔ اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہےْ امریکی وزیر خارجہ نے امریکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی کانگرس کی طرف سے اس معاہدے کو مسترد کر دیا گیا تو یہ نہ صرف بہت بڑی تباہی ہوگی بلکہ عالمی برادری کا بھی امریکہ سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ 
جان کیری نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں بلکہ اس میں امریکہ کے یورپی اتحادی ممالک یعنی برطانیہ ، فرانس اور جرمنی بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے نہ صرف اس معاہدے کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا بلکہ اسکی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ جان کیری نے بالکل درست کہا ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے کی پابندی میں ناکام رہتا ہے تو اسکے یورپی اتحادی اسکا ساتھ چھوڑ دیں گے اور وہ اپنے طور پر ایران کے خلاف عائد شدہ پابندیوں کو ختم کر کے تہران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کر لیں گے۔ 
یاد رہے کہ جرمنی کے وزیر برائے اقتصادی امور سگمر جریل ، جرمن تاجروں اور کاروباری لوگوں پر مشتمل ایک وفد تہران بھیج چکے ہیں اور اطلاعاات کے مطابق دیگر یورپی ممالک بھی اپنے وفود بھیجنے کیلئے تیار ہیںتاکہ اقتصادی تعلقات استوار کر لیں گے۔
اسکے علاوہ دنیا بھر میں اس معاہدے کا جس طرح خیر مقدم کیا گیا ہے، اسکے پیش نظر امریکی کانگرس کے لیے اس معاہدے کو مسترد کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس معاہدے کو ممکن بنانے میں جہاں ایران، یورپی ممالک اور امریکہ کے نمائندوں کی شب و روز محنت کو نمایاں دخل ہے، وہاں روس اور چین کا مثبت کردار بھی کم اہمیت کا حمل نہیں۔
مشرق وسطیٰ جیسے اہم خطے میں حالات جس تیزی سے کروٹ لے رہے ہیں، انکے پیش نظر کوئی ملک خصوصا بڑی طاقتوں میں سے کوئی بھی اس معاہدے کو مسترد کر کے خطے میں حالات کو مزید تشویشناک بنانے پر تیار نہیں۔ اس لیے امید ہے کہ صدر اوباما اسرائیل کے شدید ردعمل کے باوجود اس معاہدے کو امریکی کانگرس سے اگر منظور کروانے میں کامیاب نہ سہی لیکن دو تہائی اکثریت سے مسترد ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں صدر اوباما نے پہلی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اسرائیل کے چند پکے حامی کانگرسی ارکان نے صدر اوباما سے مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ابھی اس معاہدے کی توثیق نہ کروائی جائے اور اس سلسلے میں کانگرس کے فیصلے کا انتظار کیا جائے۔ لیکن صدر اوباما نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ کہہ کر بھجوا دیا کہ اس معاہدے کو کانگرس کا یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔ سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاہدے کی متفقہ توثیق کے بعد امریکی کانگرس کے لیے اس مسترد دکرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 
دوسرے طرف اوباما نے کانگرسی ارکان کو بھی اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کانگرس پر سب سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں تاکہ معاہدے کے مخالفین دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل نہ کر سکیں۔ اسکے ساتھ ہی امریکی وزیر دفاع اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے اسرائیلی خدشات دور کرنے کیلئے بیان دیا تھا کہ معاہدے کے باوجود امریکہ ایران کے خلاف ملٹری آپریشن برقرار رہے گا۔ سلامتی کونسل میں بھی امریکی مندوب نے اپنی تقریر میں اسرائیل کو راضی کرنے کے لیے کہا ہے کہ معاہدے کی رو اگر ایران کی طرف سے خلاف ورزی ہوئی تو اقتصادی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر رشید احمد خان
بہ شکریہ روزنامہ دنیا
 

Barack Obama’s ancestral African homeland

Seven-year-old Barack Obama Okoth, named after President Obama, sits inside an empty classroom as he speaks with Reuters at the Senator Obama primary school in Nyangoma village in Kogelo, west of Kenya’s capital Nairobi. When Obama visits Africa this month, he will be welcomed by a continent that had expected closer attention from a man they claim as their son, a sentiment felt acutely in the Kenyan village where the 44th U.S. president’s father is buried.
Sarah Hussein Onyango Obama, also known as Mama Sarah, step-grandmother of President Obama, talks during an interview with Reuters at their ancestral home in Nyangoma village in Kogelo west of Kenya’s capital Nairobi.
Seven-year-old Barack Obama Okoth, named after President Obama, reaches for his book inside a classroom at the Senator Obama primary school in Nyangoma village in Kogelo, west of Kenya’s capital Nairobi.
Students attend a class session at the Senator Obama primary school near ancestral home of President Obama in Nyangoma village in Kogelo, west of Kenya’s capital Nairobi.
President Obama’s relatives walk from the grave of his father, Barack Hussein Obama Sr, after family prayers for the U.S. presidential election at Obama’s ancestral home of Nyangoma Kogelo.
Motorcycle taxi operators wash their bikes in Kogelo village, the ancestral home of President Obama, at Nyangoma Kogelo shopping center.
Villagers push their bicycles past the signboard of Senator Obama Primary School at the Nyangoma Kogelo shopping center.