Russia on the border

Men wearing military uniforms stand next to self-propelled howitzers and armored personnel carrier during a training session at the Kuzminsky military training ground near the Russian-Ukrainian border in Rostov region, Russia. The weapons being delivered to the region included Uragan multiple rocket launchers, tanks and self-propelled howitzers — all weapon types that have been used in the conflict in eastern Ukraine between Kiev’s forces and separatists.

 

Most valuable brands

Microsoft is valued at $116 billion, up 28%

IBM’s brand is valued at $94 billion, down 13% since last year.

Visa is valued at $92 billion, up 16%.

AT&T is valued at $89 billion, up 15%.

Verizon is valued at $86 billion, up 36%.

Coca-Cola is valued at $84 billion, up 4%.

Facebook is valued at $71 billion, up 99%.

Amazon is valued at $62 billion, down 3%

UPS is valued at $52 billion, up 9%.

MasterCard is valued at $40 billion, up 2%.

Toyota is valued at $30 billion, down 2%.

اجتماعی قبروں کے پناہ گزین

بے زمین، بے شناخت، روہنگیا مسلمانوں کو جائے امان ملی بھی تو کب؟ زندگی سے محرومی کے بعد۔ کوئی جائے پناہ ملی بھی تو کہاں؟ سطح زمین پر نہیں۔ دھرتی کی آغوش میں، بہت گہرائی میں، اجتماعی قبروں کے اندر۔ ایسی حرماں نصیب کمیونٹی ۔ اولاد آدم کا ایسا سیہ بخت گروہ شاید روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہوگا۔ جیسے یہ بے نوا، پناہ گزین جن کی زندگی مسلسل فرار کے سوا کچھ بھی نہیں۔ فرار یا یقینی موت۔ آپشن تو بس دو ہی ہیں۔
روہنگیا مسلمانوں کی داستان الم تو بہت پرانی ہے۔ 19ویں صدی سے آج تک، ہر دور میں، ہر حکومت کے زیر اثر۔ کوئی ایسا موسم، ایسی رت نہیں جب ان پر مقامی اکثریتی مذہبی گروپ نے تشدد اور ظلم کے کوہ گراں نہ توڑے ہوں۔ مہاتما بدھ کے صلح کل اور پرامن مذہب کے ماننے والے بدھ ایزا رسانی کے تمام جدید اور قدیم طریقوں سے واقف ہیں۔ بندوق، پستول، نیزے، بھالے اور خم دار تلواریں۔ کون سا ہتھیار ایسا ہے جس کے استعمال میں ان کو کمال حاصل نہ ہو۔ نشانہ بازی اور مشق کے لئے ٹارگٹ وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ یہ سطور لکھتے ہوئے سمجھ نہیں آتی کہ کہاں سے شروع کروں، کہاں پر ختم کروں۔ پھر آنگ سان سوچی کی یاد آتی ہے۔
کبھی جو خود بھی فوجی جنتا کی اسیر رہی۔ قید تنہائی کی اذیت ناکیوں کو جسم و جاں پر جھیلا۔ شوہر کی پرتشدد موت کا عذاب سہا۔ کبھی دھان، پان سوچی کی تصویر عزبراز جاں سرمایہ حیات سمجھ کر کتابوں، کاپیوں کی جلد پر چپکائے رکھی۔ تب سوچی کی آواز آمریت کے خلاف، ظلم کی نفی میں، سات براعظموں میں گونجتی تھی۔ اس کو امن کا عالمی نوبل انعام ملا تو یوں لگا کہ جدوجہد کو کچھ تو صلہ ملا۔ کچھ تو اشک شوئی ہوئی۔ ہم، سب وہ جن کی آنکھوں میں سبز اور سرخ انقلاب کے خواب سجے تھے۔ ان سب کے لئے۔ آنگ سان سوچی ایک تحرک، جذبہ توانا کا نام تھا۔ اب شائد حالات بدل گئے۔ بہت عرصہ دراز سے کبھی نہیں سنا کہ انسانی حقوق کی سپہ سالار نے کبھی صدائے احتجاج بلند کی ہو۔ کبھی کلمہ حق کہا ہو۔ وہ ہیروئن اب خاموش ہے۔
اس نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ اس کی زبان جو ہر حال میں بولتی تھی۔ اس پر مصلحت کا تالا لگ گیا ہے۔ کبھی کسی تقریب میں کوئی رپورٹر ہمت کر کے سوال کر بیٹھے۔ آنگ سان سوچی جواب نہیں دیتی۔ مجبور ہو جائے تو گول مول جواب دے کر بات بدل دیتی ہے۔ اس کا ایک بیان صورت حال کو زیادہ نہ سہی تھوڑا بہت تبدیل کر سکتا ہے۔ لیکن وہ ایسا کیوں کرے؟ عام انتخابات اب زیادہ دور نہیں۔ ایک طویل عرصہ بعد اس کی جماعت کی کامیابی کے امکانات روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی کیوں مارے۔ نوے فیصد اکثریتی ووٹروں کو کیوں ناراض کرے۔ اب ایسے مصلحت کوش، سابق انقلابی سے کیا امید رکھی جائے۔
تو پھر کیا برادر ہمسایہ ممالک سے کچھ امید؟ بالکل نہیں۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم، ایک تنظیم کے کارکن نے عجیب سی مثال دی۔ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ شخص مذکورہ کہتا ہے کہ روہنگیا مسلمان، پنگ پانگ کی گیند کی مانند ہیں۔ بنگلہ دیش، برما، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشا اس انسانی گیند کے ساتھ ٹیبل ٹینس کا کھیل، کھیل رہے ہیں۔ وہ بھی گہرے سمندروں میں۔ جونہی خلیج بنگال اور اس سے ملحقہ سمندروں میں پناہ گزینوں کی کوئی کشتی ہمسایہ ممالک کے ساحلوں تک پہنچتی ہے۔ کوسٹ گارڈ ان کھچا کھچ بھری کشتیوں کو زور دار “Smash” لگاتی ہیں۔ پوائنٹ بھی مل جاتا ہے اور کشتی بھی کھلے سمندروں میں دھکیل دی جاتی ہے۔ کسی دوسرے ملک کی جانب سے زور دار شارٹ کھانے کیلئے۔
تیس ہزار روہنگیا پناہ گزین بے رحم، سمندر کی سفاک ڈالتی لہروں پر چپو والی عام سی کشتیوں پر سرگرداں ہیں۔ سو سے ڈیڑھ فٹ طویل ایک ایک کشتی میں، سیکڑوں پناہ کے متلاشی، بے خانماں، برباد، کوئی منزل، نہ نشان منزل۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل صاحب نے ایک مرتبہ ازراہ رحم دلی۔ ان کو دنیا کا سب سے زیادہ ’’ستم گزیدہ‘‘ نسلی گروہ قرار دیا۔ اس بیان کے بعد سے وہ بھی خاموش ہیں۔ شائد ان کی ذمہ داری اتنی ہی تھی۔ خطے کی سب سے بڑی تنظیم آسیان ہے۔ اس تنظیم کا کردار بھی خاموش تماشائی ہے۔ چند لاکھ، بے شناخت، انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ آخر کتنا اہم ہے۔ جو اتنی بڑی تنظیم اپنا وقت ضائع کرے۔ او آئی سی تو ویسے ہی ہومیوپیتھک تنظیم ہے۔ اب یاد آتا ہے کہ شائد اس کے کسی عہدیدار نے میانمار کا دورہ کیا تھا۔ میانمار، جو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے لئے سفاک قاتلوں کا ’’ہوم گراؤنڈ‘‘ ہے۔
پاکستان، بنگالی نژاد جو برمی مسلمانوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ رہا ہے۔ یہ پناہ گزین سمندری راستوں سے کراچی پہنچتے ہیں۔ ان میں سے کچھ معمولی رقم خرچ کر کے، آخرکار ’’شناخت‘‘ حاصل کر لیتے ہیں۔ باقی ماندہ کے شب و روز حیات اتنے ہی مشکل اور کٹھن ہوتے ہیں جتنے کسی بھی اجنبی سرزمین پر غیر قانونی شہری کے ہو سکتے ہیں۔ برمی فوجی سامراج سے آزادی کے بعد چند سال،برما جو آج میانمار بن چکا ہے۔ میں کوئی نسلی، مذہبی تفرقہ نہ تھا۔ 1962ء میں فوجی حکمران نے طول اقتدار کے لئے نسل پرستی کے بیج بوئے۔ دنیا کے بھوکے آمر نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے یہی آزمودہ ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہیں۔ اقتدار کو دوام کا سراب آج تک حقیقت نہیں بن سکا۔
جابر، آمر تو رخصت ہو جاتے ہیں۔ اپنے پیچھے نفرتوں کی زہریلی کھیتیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ 1982ء میں فوجی حکومت نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو عمرانی تاریخ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ایک فیصلے کے تحت روہنگیا مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ اس روز سیاہ کے بعد اب ریاست کی نظر میں وہ غیر ملکی ہیں جو غیر قانونی طور پر میانمار کی سرزمین پر بستے ہیں۔ ان کا اصل ملک بنگلہ دیش ان کو پناہ دینے سے انکاری ہے۔ میانمار ان کا مقتل۔ دنیا بھر کے انسانی سمگلروں کے لئے وہ سونے چاندی کی کان ہیں۔ ان کو بھیڑ بکریوں کی طرح کشتیوں میں لاد کر تھائی لینڈ، فلپائن، ملائیشیا، انڈونیشیا کے کھلے سمندروں میں بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔
صرف دو روز قبل انسانی لاشوں سے اٹی 30 اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ لاشوں کا شمار تو محال ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ لاشیں روہنگیا پناہ گزینوں کی ہیں۔ بدھ قاتلوں، انسانی سمگلروں اور سیاحت کاری کے ہاتھوں پستے یہ مظلوم اب زیادہ تعداد میں باقی نہیں۔ عالمی برادری بھی شائد یہ سوچ کر خاموش ہے کہ باقی بچ جانے والے تعداد میں زیادہ نہیں۔ جلد یا بدیر سمندر برد ہو جائیں گے یا کسی اجتماعی قبر کے پناہ گزین۔ ان کے لئے سوچ بچار میں وقت کو کیا ضائع کرنا
طارق محمود چوہدری
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Resettling the Rohingya

Rohingya migrants who arrived recently by boat receive their breakfast at temporary shelter in Kuala Langsa, in Indonesia’s Aceh Province

Migrant dinghy crossing

Syrian refugees overcrowd a dinghy on the Aegean Sea as they try to cross from Turkey to Greece.

یہ ہے شائننگ انڈیا

دنیا کی سب سے بڑی انگلش سپیکنگ جمہوریہ کے سب سے بڑے قانون ساز ادارے راجیہ سبھا کی دہلیز پر گجندر سنگھ کی لٹکتی لاش اب کسے یاد ہوگی؟ راجستھان کے اس بے بس، کسان کی آتما ہتیا کا لائیو منظر تو اب مہان بھارت میں بھی کسی کو یاد نہیں۔ پاکستان میں کس کو معلوم ہوگا کہ خون رائیگاں کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عام آدمی پارٹی کے مکھ منتری اروند کجریوال جلسہ عام سے خطاب فرما رہے تھے۔ کسانوں کے حقوق کیلئے جاری یہ جلسہ کسان کی موت پر بھی نہ رکا۔
جب قرضوں کے بوجھ تلے دبے، فاقوں کے مارے، سرکاری بینک اور ساہوکار کے ہاتھوں ذلیل و خواب کاشتکار کی موت خبر بن کر بھولا بسرا آرکائیو بن چکی تو لال سنگھ کی بپتا کون سنتا۔ مدھیہ پردیش کا لال سنگھ جس نے 60 ہزار روپے کا قرض اتارنے کے لئے دو بیٹے گڈریئے کے پاس گروی رکھ دیئے۔ تو یہ ہے مہان بھارت، شائننگ انڈیا۔ فلمی دنیا کی چکاچوند سے بھرپور ہندوستان۔ اک عالم جس کے طلسم کا شکار ہے۔ وہ انڈیا جس میں اب کوئی فلم اربوں روپے سے کم کی لاگت میں تیار نہیں ہو پاتی۔ اداکاروں، فی میل آرٹسٹوں کی ذات پر اربوں روپے انویسٹ ہوتے ہیں۔
ان آرٹسٹوں کو چھینک بھی آ جائے تو سیٹھوں کے دل دھڑکنا بھول جاتے ہیں۔ اس بھارت میں آئی پی ایل کا میلا سجتا ہے تو دنیا بھر کی چیئر لیڈرز اپنے خزانہ حسن کے تمام جاں لیوا عشوے، غمزے اور اداؤں کے ہتھیار لیکر بھارتی سرزمین پر لینڈ کرتی ہیں۔ آئی پی ایل میں کھلاڑی لاکھوں ڈالر میں بکتا ہے۔ سیزن آف ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک رن، ایک وکٹ، ایک کیچ ہزاروں ڈالر میں پڑا۔ دنیائے کرکٹ کے مہان بلے باز، فاسٹ باؤلر، سپن بالنگ کے جادو گر اور برق رفتار وکٹ کیپر دعائیں مانگتے ہیں کہ کاش ان کی بھی بولی لگے۔ مقدر کا دھنی ہر کوئی تو نہیں ہوتا۔ اسی چمکتے دمکتے بھارت میں 1995ء سے لیکر 2015ء کے آغاز تک 3 لاکھ کسانوں نے موت اور ذلت کی زندگی میں سے ’’خودکشی‘‘ کی تھرڈ آپشن کا انتخاب کیا۔
مدھیہ پردیش کا لال سنگھ کو جگر گوشوں کو ظالم گڈریئے کے حوالے کر کے خود نشے کی فریبی دنیا میں پناہ لے چکا۔ موسم بہار کے آغاز میں گجندر سنگھ نے احتجاجی مظاہروں کے لئے معروف جنتر منتر میں احتجاجاً لائیو خودکشی کی۔ بھارت جو منی سپر پاور بن چکا۔ وہ سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خواب بھی دیکھتا ہے۔ اس بھارت میں موت کسان کا مقدر ہے۔ بھارتی نیتا سمجھتے ہیں کہ زرعی زمینیں کسانوں سے چھین کر بڑے صنعتی گروپوں کے حوالے کر دی جائے تاکہ مینوفیکچرنگ کے میدان میں بالادستی قائم ہو۔ اس مقصد کے لئے حصول اراضی بل کی منظوری کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کسانوں کا معاملہ صرف یہی نہیں۔ مودی سرکار یہ بل پاس کرا کے ہی رہے گی۔
منی سپر پاور کی دھرتی پر سانس لیتا کسان کئی طرح سے مجبور محض ہے۔ وہ بینکوں کے قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ بیجوں، زرعی آلات خریدنے کے لئے مہاجن کا محتاج ہے۔ بیٹی کی شادی بھی ادھار لیکر کرتا ہے۔ سیکولر بھارت میں بیٹی بھاری بھر کم جہیز کے بغیر رخصت نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا اس کے پاس موت کو گلے لگا لینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
اعداد و شمار نہ صرف شرمناک بلکہ لرزہ خیز بھی ہیں۔ بھارتی میڈیا کو کھنگالنے کے بعد معلوم ہوا ماہ مارچ کے دوران 67 بھارتی کسانوں نے حالات کے آگے سپر ڈالتے ہوئے موت کو گلے سے لگا لیا۔ ان میں سے 54 کا تعلق ایک ہی علاقے بندھیل کھنڈ سے تھا۔ یکم جنوری سے مارچ 2015ء تک مہاراشٹرا میں 135 کسانوں نے خودکشی کی۔ مہاراشٹرا بی جے پی کا مضبوط ترین علاقہ ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ 2012ء میں تصدیق شدہ ایک لاکھ سینتیس ہزار سات سو ستاون اور 2013ء میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کسان چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایک اور رپورٹ بتاتی ہے کہ نامساعد حالات، خشک سالی، قرض اور فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے پر روزانہ 4 افراد اوسطاً آتما ہتیا کرتے ہیں۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ خودکشیوں کا مرکز وہ ریاستیں ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کی خوشحالی کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔
کیرالہ، جسے دیوتاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ تامل ناڈو جو کہ علاقائی زبانوں کی فلمی صنعت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آندھرا پردیش، جس کا دارالحکومت حیدر آباد ایسا آئی ٹی کا مرکز شہر ہے۔ کرناٹک، ٹیپو سلطان کی جنم بھومی، جہاں بنگلور واقعہ ہے جسے بھارتی سیلی کون ویلی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام وہ ریاستیں ہیں۔ جہاں معاشی ترقی کے بلندو بانگ دعوے کئے جاتے ہیں۔ لیکن سوا سو کروڑ آبادی کو خوراک فراہم کرنے کے ذمہ دار کسان اجتماعی خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی معاشرہ گلیمر اور غربت کی دو انتہاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ اسی معاشرہ میں نیو ائیر نائٹ پر صرف 4 منٹ کی ڈانس پرفارمنس پر پریانیکا چوپڑہ کو 5 کروڑ معاوضہ ادا کیا گیا۔ عالمی فرم ’’ویلتھ انسائٹ‘‘ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگلے چند سالوں میں امیر خاندانوں کی دولت میں 44 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس دولت کی کل مالیت دو ہزار ارب ڈالر تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ پرائیویٹ جیٹ جہازوں کی ملکیت میں بھارت کا حصہ بارہ فیصد ہے۔ اگلے چند سالوں میں بھارتی باشندوں کے پاس 1215 لگژری نجی طیارے ہوں گے۔
بھارت میں سیٹھوں کی ملکیت لگژری بوٹس کی کل مالیت پندرہ ارب ڈالر تک ہے۔ دنیا کی پرتعیش کشتیوں میں سے ایک انڈین ایمپریس ہے جس کی مالیت 9 ملین ڈالر ہے یہ 312 فٹ لمبی کشتی وجے مالیا کی ملکیت ہے۔ 66 فیصد، کروڑ اور ارب پتی سال میں تین مرتبہ نجی پرتعیش دوروں پر جاتے ہیں۔ ان کے خاندانوں کا ہر فرد چالیس ہزار ڈالر فی دورہ خرچ کرتا ہے۔ مہنگی شرابیں، ذاتی جہاز، گھوڑوں کے فارم، سیون سٹار ہوٹل ان بھارتیوں کا لائف سٹائل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مہنگی ذاتی رہائش گاہ بھی امبانی خاندان کی ملکیت ہے۔
شائننگ انڈیا کی یہ تصویر بہت بھیانک ہے۔ ایک رپورٹ تو ایسی دل دہلا دینے والی ہے کہ اس پر یقین نہیں آتا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ خودکشی کرنے والے شخص کے ورثا کو ایک لاکھ روپیہ بطور زرتلافی ادا کرتی ہے۔ عزت نفس کے مارے صرف ایک لاکھ کیلئے پھندے سے جھول جاتے ہیں۔ ایک لاکھ روپیہ کا چیک ملے گا تو ساہوکار کا قرض ادا ہو جائے گا۔ کوئی یتیم بچوں کے گلے میں قرض کا طوق تو نہیں ڈالے گا۔
بہ شکریہ روزنامہ نئی بات

Mass graves of Rohingya Muslim migrants found in abandoned jungle camps in Malaysia

Clothes are photographed near an abandoned human trafficking camp in the jungle close the Thailand border at Bukit Wang Burma in northern Malaysia. Malaysian police forensic teams, digging with hoes and shovels, began the grim task of exhuming the bodies of dozens of suspected victims of human traffickers found buried around jungle camps near the Thai border.

 

Nepal – A month of devastation

An earthquake victim cuts wood from the debris of her house in Barpak village in Gorkha district, Nepal. A second quake of 7.3 magnitude struck on May 12, worsening the situation and further hampering efforts to get aid to survivors in remote regions. Over 8,600 people have died.

Inside Turkmenistan

Turkmenistan is one of the Turkic states in Central Asia. Turkmenistan is bordered by Kazakhstan to the northwest, Uzbekistan to the north and east, Afghanistan to the southeast, Iran to the south and southwest, and the Caspian Sea to the west. Present-day Turkmenistan covers territory that has been at the crossroads of civilizations for centuries. In medieval times Merv(today known as Mary) was one of the great cities of the Islamic world, and an important stop on the Silk Road, a caravan route used for trade with China until the mid-15th century. Annexed by the Russian Empire in 1881, Turkmenistan later figured prominently in the anti-Bolshevik movement in Central Asia. In 1924, Turkmenistan became a constituent republic of the Soviet Union, Turkmen Soviet Socialist Republic (Turkmen SSR); it became independent upon the dissolution of the Soviet Union in 1991.