Tears, fears and a resignation as Britain exits EU

As over 52 per cent of Britons voted to leave the European Union. British Prime Minister David Cameron, who had campaigned against the Brexit, announced his resignation on Friday following the ‘Leave’ vote even as he promised to try to “steady the ship” before he formally steps down in October. Following the vote, the Pound sterling crashed to a 31-year low as the KSE-100 index fell 2 per cent on the back of volatility in international currency markets. The UK now has two years to negotiate terms of exit from the bloc.

یورپی یونین سے انخلاء کے بعد کا برطانیہ

گزشتہ چند مہینوں سے صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ تجسس پایا جا
رہا تھا کہ برطانیہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کرنے جا رہا ہے؟ لیکن اب جبکہ ریفرنڈم ہوچکا اور اب بیشتر لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ 44 سالہ اس تعلق کے خاتمے پر برطانیہ کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یا یہ کہ رکنیت کی بحالی یا منسوخی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔

برطانیہ جو کہ دنیا بھر میں روایتی بادشاہات کی تاریخ رکھتا ہے، حقیقتاً آج بھی یہ روایات اور احساس برتری ایک مخصوص طبقہ فکر کے ذہنوں سے ختم نہیں ہوسکی اور یہی سوچ ریفرنڈم کی اصل وجہ بھی تھی۔ یوں وہ طبقہ جو یونین سے انخلا کا حامی تھا وہ کامیاب ہوگیا اور برطانیہ 28 ممالک کی رکنیت سے علیحدہ ہوگیا۔ یونین میں برطانیہ دوسرے ممالک کی طرح ایک یورپی یونین ممبر کی حیثیت رکھتا تھا لیکن وہ باقی ممبر ممالک پر بالا دستی بھی قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اگر برطانیہ یونین کا حصہ بنا رہتا تو اسے یونین کے مشترکہ قوانین کی پاسداری کرنی پڑتی، چاہے وہ بات ایمیگریشن کی ہو یا انسانی حقوق کی۔
انفرادی طور پر برطانیہ میں ان معاملات کیلئے رائج علیحدہ قوانین تھے لیکن یورپی رکنیت کی وجہ سے تمام یورپی ممالک کے باشندے بناء ویزہ کے نہ صرف برطانیہ میں قیام اور روزگار حاصل کرسکتے تھے بلکہ انہیں بھی برطانوی شہریوں کی طرح دیگر مراعات اور سہولیات میسر تھیں اور یہی بات انخلاء کی حامی جماعت کی طبیعت پر گراں گزرتی تھی کہ ہماری نوکریاں اور ٹیکس کا دیا گیا پیسہ ہمارے بجائے غیر برطانوی پاشندوں پر صرف کیا جارہا ہے، لیکن یورپی یونین میں رہنے کی وجہ سے ملنے والے کاروبار اور معیشت کی مضبوطی کے عنصر کو وہ یکسر بھول جاتے تھے۔ ان کے مطابق اپنے وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کا حق مقامی باشندوں کا زیادہ ہے۔ اس تحریک کی بنیاد نے تب زور پکڑا جب چند سال پہلے یونانی معیشت تقریباً دیوالیہ ہونے کو تھی، چونکہ قانوناً یونان کو بحران سے نکالنے کے لیے باقی ممبر ممالک کو بھی اسے مخصوص حد تک امداد کی فراہمی یقینی بنانی تھی یہاں سے وہ بحث شروع ہوئی جو آج ریفرنڈم اور یونین سے حتمی انخلاء پر آکر ختم ہوئی ہے۔

اب آتے ہیں اُس سوال کی طرف کہ یورپی یونین سے نکل جانے سے برطانیہ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جہاں ایک طرف انخلاء کا جشن ہے تو دوسری جانب بہت سارے قوانین میں تبدیلی اور تشکیل نو جیسے مسائل کا سامنا بھی رہے گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق یورپی یونین چھوڑنے کے بعد برطانیہ کو معاشی ترقی پر منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق برطانیہ کو ایک طویل عرصہ غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا رہے گا اور اِس غیر یقینی صورت حال کے باعث مالیاتی مارکیٹس میں سرمایہ کاری زیادہ دیر نہیں رہے گی جبکہ معاشی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ آئی ایم ایف نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین چھوڑنے سے کسی حد تک لندن خود عالمی مالیاتی مرکز کا درجہ بھی کھو بیٹھے گا۔ یہی نہیں یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے خدشات نے حالیہ مہینوں میں برطانوی مارکیٹوں پر ممکنہ طور پر بُرا اثر ڈالا ہے اور آج پاؤنڈ کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح تک گرگئی ہے۔

جہاں تک بات ہے تجارت کی تو انخلاء اور یونین سے پرانے معاہدوں کی منسوخی کے بعد جب تک کوئی نئے تجارتی معاہدے طے نہیں پاتے تب تک برطانیہ کو عالمی تجارتی تنظیم کے اصول و ضوابط کے تحت ہی محدود پیمانے پر تجارت کرنی پڑے گی یعنی دنیا کی جس مارکیٹ میں کبھی برطانیہ کو بالکل آزادانہ رسائی حاصل تھی، اب وہاں تجارت کیلئے چین اور امریکہ کی طرح شرائط و ضوابط پر کاربند رہ کر چلنا پڑے گا۔
دوسری طرف یورپی ممالک سے بہتر روزگار کی تلاش میں برطانیہ آنے والے تارکین وطن بھی اب باقاعدہ قانونی ضابطہ کار کا سامنا کریں گے اور اس طرح ان کی تعداد کو محدود کیا جانا برطانیہ کے لیے اب ممکن ہوسکے گا بلکہ اب صرف ہنر مند طبقہ کو ہی رسائی دی جائے گی اور جو 20 لاکھ کی تعداد پر مشتمل دیگر یورپی ممالک کے لوگ پہلے سے موجود ہے، انہیں اب واپس جانا پڑے گا کیونکہ اب قانونی طور پر وہ برطانیہ میں سکونت رکھنے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔ مختصر یہ کہ ریفرنڈم کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ وسائل کی مناسب تقسیم مقامی باشندوں تک محدود رکھی جائے اور یورپی باشندوں کی تعداد کو محدود کیا جائے۔ بہرحال انخلاء کے بعد برطانوی معیشت کیسی ہوگی، اور کس طرح کے نتائج برآمد ہوں ہوگے؟ کیا پھر مقامی لوگ ماضی سے بہتر مستقبل دیکھیں گے؟ ان سب کے جوابات کیلئے اب 2 سال تک کا عرصہ درکار ہے، جب تک نئی پالیسیوں اور قانون پر عملدرآمد شروع نہیں ہوجاتا۔
عابد ملک

پاکستان اور چین کے خلاف امریکا ۔ بھارت کا گٹھ جوڑ

آج (پیر 20 جون 2016ء) کے انگریزی روزنامے The News نے پہلے صفحے پر بڑی نمایاں شہ سرخی لگائی ہے کہ عوامی جمہوریہ چین نے بھارت کو ٹکا سا جواب دیا ہے کہ وہ NSG میں اس کی رکنیت کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ بھارت جس طرح سے اس تنظیم میں رکنیت کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اس سے اس کی بدنیتی صاف عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ NSG میں داخلے کی کوئی شرط پوری نہیں کرتا لیکن امریکہ کے بل بوتے پر وہ اپنا مقصد ناجائز طریقے سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
یاد رہے اس کے لئے اس نے 2005ء سے امریکہ پر ڈورے ڈالنے شروع کردیئے تھے اور یہ وعدہ لے لیا تھا کہ وہ بھارت کو غیرفوجی مقاصد کے لئے جوہری مواد، ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ اس پر کچھ عرصہ دونوں ممالک میں بھارت کی جوہری منصوبے کی نگرانی پر بات چیت ہوتی رہی۔ امریکہ چاہتا تھا کہ جب وہ بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی دے رہا ہے تو اسے اختیار ہونا چاہئے کہ وہ اس کے استعمال کی نگرانی کرے تاکہ وہ فوجی مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ اس ضمن میں امریکہ نے اسے اپنے ملکی قانون HYDEAU کی پابندی کی تجویز دی جسے بھارت نے یکسر مسترد کر دیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بھارت کے انکار پر امریکہ اسے مذکورہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیتا لیکن بھارت نے ایران گیس پائپ لائن معاہدے سے الگ ہو کر اور ایران کے جوہری منصوبے کی مخالفت میں ووٹ دے کر امریکہ کی خوشنودی حاصل کر لی۔
ادھر امریکہ نے جارج بش کے زمانے سے چین کے محاصرے Containment کی سرد جنگ کے دور کی فرسودہ استعماری پالیسی جسے اس نے ترک تو نہیں کیا تھا اس میں بھارت کو شمولیت کی دعوت دے دی جسے صدر اوباما نے امریکی حکمت حربی کا اہم عنصر قرار دیتے ہوئے ایشیائی بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کو روکنے کے لئے بھارت کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ گو بھارت بحرہند کی علاقائی طاقت ہے لیکن اوباما نے اس کے کاندھوں پر بحرالکاہل میں چین کے خلاف محاذ آرائی کی ذمہ داری ڈال دی۔ یہی نہیں اس نے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تنظیم APEC میں چین کو تنہا کرنے کے لئے اس کی دس ریاستوں کو توڑ کر ان پر مشتمل آزاد تجارتی خطہ بنا لیا جس میں سے چین کو خارج کر دیا۔
اس سلسلے میں اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ شمالی بحیرہ چین اور جنوبی بحیرہ چین میں واقع جزائر پر ایک طرف چین اور جاپان تو دوسری طرف چین اور فلپائن، ویتنام، ملیشیا، تائیوان کے مابین تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے جنہیں چین علاقائی سطح پر طے کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں امریکہ کود پڑا اور جاپان اور فلپائن سے پچاس کے عشرے میں کئے گئے فرسودہ فوجی معاہدات کا احیاء کر کے جنوبی بحیرہ چین کے جزیرے SPRATLY کے سمندری علاقے سے چین کو اطلاع دیئے بغیر جنگی جہاز بھیج دیئے جبکہ تائیوان سے بھارت کی طرح لڑاکا F16 طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ لیکن جاپان میں امریکی جنگجو صدر نے بڑا خطرناک کھیل شروع کر دیا۔ اس نے جاپان کو اپنے سابقہ آئین میں ترمیم کر کے بیرون ملک جنگ میں امریکی افواج کی کمک کے لئے اپنی فوج بھیجنے کا اختیار دے دیا جس سے جنوبی کوریا، چین اور فلپائن، تائیوان میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی کیونکہ دوسری عالمی جنگ میں یہ ممالک جاپان کی جارحیت کے شکار رہ چکے ہیں۔ ان پر جاپان پانچ سال تک قابض رہا تھا جس کے دوران اس کی قابض فوج اور انتظامیہ نے مقامی آبادی پر بڑے مظالم ڈھائے تھے۔ 
اس کا ردعمل جنوبی کوریا پر بڑا شدید تھا۔ جاپان کے خلاف جنوبی کوریا کی ان خواتین نے مظاہرہ کیا جنہیں جاپان کی قابض فوج نے اپنے سپاہیوں کی ہوس کی تسکین کے لئے محبوس کیا ہوا تھا۔ جاپان کی قابض انتظامیہ انہیں Comfort Women کے نام سے موسوم کیاکرتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر تو مرکھپ گئی تھیں لیکن جو بچ گئی تھیں وہ جاپان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایسے ہی مظالم جاپان نے چین میں بھی کئے تھے۔ اس کا ذکر شہرۂ آفاق نوبل انعام یافتہ امریکی خاتون ناول نگار Perlbuck نے اپنے ناولوں Dragon Seed، Good Earth، Women’s Pavilion وغیرہ میں کیا ہے۔
مندرجہ بالا سطور میں جاپان کی عسکریت پسند پالیسی سے خطے کی ریاستوں کو اپنی بقاء کو لاحق خطرے کا شدید احساس ہو رہاہے۔ اگر اس خطے میں جنگ ہوئی تو وہ دوسری عالمی جنگ سے بھی زیادہ مہلک ہو گی۔ اس آگ میں امریکہ، بھارت کو شامل کر چکا ہے اور اس نے (بھارت) اپنی سرزمین پر نقل و حمل کی آزادی (Logistics) اور رسل و رسائل کے استعمال کا اختیار بھی دے دیا۔ اس پر بھارت کی حزب اختلاف نے بڑی تشویش کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کو یہ مراعات دے کر نریندر مودی نے نہ صرف بھارت کی روایتی ناوابستہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ بھارت کو امریکہ کی ممکنہ جنگ میں جھونک دیا ہے۔ لیکن بھارت کی انتہاپسند ہندو حکومت عوامی جمہوریہ چین سے 1962ء کی جنگ میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے اندھی ہو گئی ہے۔ اب امریکہ نے اسے F16 اور F18 لڑاکا طیارے بنانے کی بھی اجازت دے دی ہے جبکہ پاکستان کو درکار F16 کی فراہمی میں لیت و لعل کر رہا ہے۔
بھارت میزائل شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے چین اور پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے میں کوشاں ہے اور چین کو اشتعال دے کر اس سے نبردآزمائی کرنا چاہتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے عوامی جمہوریہ چین پر الزام لگایا ہے کہ اس کے فوجی کنٹرول لائن عبور کر کے بھارت کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس کا چین نے منہ توڑ جواب دیا کہ جب سرحدوں کا تعین ہی نہیں ہوا تو ان کی خلاف ورزی کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ فی الحال تو یہ صورت حال ہے کہ جس کے پاس جو علاقہ ہے وہ اس کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے اس تنازعے پر فریقین میں مذاکرات کے 19 ادوار ہو چکے ہیں جو بھارت پاکستان مذاکرات کی طرح لاحاصل رہے۔
اس تناظر میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ دراصل عوامی جمہوریہ چین کے خلاف ہے جبکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اوباما نے اسے پاکستان کے خلاف کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ جیسا میں نے کالم کے آغاز میں لکھا ہے کہ The News اخبار نے صاف لکھا ہے کہ چین نے 24 جون کو NSG میں رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت سے صاف انکار کر دیا ہے لیکن روزنامہ ڈان نے اس کی بجائے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس بیان کی شہ سرخی لگائی ہے کہ بھارت نے NSG میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ اسے اس تنظیم کے اراکین پر چھوڑ دیا ہے جو حقائق کا جائزہ لے کر ہی فیصلہ کریں گے۔ شریمتی جی نے بڑے وثوق سے کہا کہ چین نے بھارت کی مخالفت نہیں کی البتہ طریق کار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم بھارت سال رواں میں NSG کا رکن بن جائے گا (ڈان 20 جون 2016ء) لیکن روزنامہ اسلام نے یہ سرخی لگائی ہے کہ چین NSG میں بھارت کی شمولیت کا مخالف نہیں (اسلام پیر 20 جون 2016ء) اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اس تنظیم میں بھارت کے داخلے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ ڈان نے جو سرخی لگائی ہے اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ چین بھارت کی مخالفت نہیں کرے گا البتہ اس نے خبر کے متن میں اس کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال میں The News کی رپورٹ غیر مبہم اور واضح ہے اس سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ چین کا رویہ مبہم ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اسے بھارت اور پاکستان کے دنگل کے طور پر پیش کر رہا ہے جو درست نہیں ہے۔ بھارت امریکہ کی مدد سے عوامی جمہوریہ چین سے نپٹنا چاہتا ہے اس کے بعد وہ پاکستان پر وار کرے گا۔ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے وہ چین کو پاکستان سے الگ کرنے کے لئے پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ چین پاکستان کی خاطر بھارت کی رکنیت کی مخالف نہیں کرے گا لیکن اس سفلی چال میں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو گا کیونکہ چین کے خلاف امریکہ سے گٹھ جوڑ کر کے اب بھارت، چین کا حریف بن گیا ہے۔ نریندر مودی نے اوباما کے ساتھ مشترکہ بیان میں جنوبی بحیرہ چین میں جہاز رانی کا اعلان کر کے دراصل اس عظیم طاقت کو للکارا ہے جس سے وہ اقتصادی، عسکری، سیاسی میدانوں میں پے در پے مار کھاتا رہا ہے۔ کچھ اناڑی قلمکار چین اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی حجم سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اب اس کا جھکاؤ پاکستان کے بجائے بھارت کی طرف ہو گا۔ احساس کمتری کے مارے یہ لکھاری بھول جاتے ہیں کہ چین نے پاکستان میں شروع سے ہی جتنی سرمایہ کاری کی ہے اس کے بعد حالیہ چین پاک اقتصادی راہداری پر کی گئی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، کیا اس کے باوجود وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے سکتا ہے۔ نیز گوادرجیسی بندرگاہ سے وہ اپنا مال خلیج، سری لنکا، افریقہ تک بآسانی پہنچا سکتا ہے جبکہ وسط ایشیا کی شاہراہوں سے اس کی برآمدات یورپ کی منڈیوں تک پہنچ جائیں گی۔
آخر اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف کیوں ہو گا جب وہ (بھارت) اس کے مقابلے میں چاہ بہار پرسرمایہ کاری کر رہا ہے، اس طرح بھارت چین کا نہ صرف تزویراتی بلکہ تجارتی حریف بھی ہے۔ اگر بھارت پاکستان پر خدانخواستہ قبضہ کر لیتا ہے تو اس ملک پر اس کی (چین) تنصیبات اور سرمایہ پر بھی وہ قابض ہو جائے گا۔ اس لئے پاکستان پر کوئی حملہ عوامی جمہوریہ چین پر حملہ تصور ہو گا۔
پروفیسر شمیم اختر
روزنامہ “نئی بات”

برطانوی عوام کا یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں تاریخی فیصلہ

برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا علیحدہ ہونے کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق برطانوی عوام نے یورپی یونین پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یورپی اشتراک سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا علیحدہ ہونے کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج سامنے آ چکے ہیں جس کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین چھوڑنے جب کہ 48 فیصد نے یورپی یونین کا حصہ رہنے کی حمایت میں ووٹ ڈالے۔ برطانیہ کے الیکشن الیکٹرورل کے مطابق ایک کروڑ 74 لاکھ 10 ہزار 742 افراد نے یورپی یونین کی مخالفت میں جب کہ ایک کروڑ 61 لاکھ 41 ہزار 241 افراد نے یورپی یونین کے حق میں فیصلہ دیا، ووٹ ڈالنے کی شرح 72 فیصد رہی جو برطانیہ میں 1992 کے ہونے والے کسی بھی انتخابات میں سب سے زیادہ ہے۔
برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے سے ایشین اور پاکستانی اسٹاک ایکسچینج میں بھی شدید مندی دیکھی گئی جب کہ ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 11 فیصد کمی دیکھی گئی، پاؤنڈ 31 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے کچھ دیر بعد ہی برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اپنے حالیہ دورہ لندن میں خبردار کیا تھا کہ اگر برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ دیا تو برطانیہ کو امریکا کے ساتھ ہونے والے آزاد تجارت کے معاہدے سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

امریکی مساوات : نیویارک میں داڑھی چھوٹی نہ کرنے پر پولیس افسر معطل

امریکہ کے شہر نیو یارک کے محکمۂ پولیس نے ایک مسلم پولیس افسر کو اپنی
داڑھی چھوٹی نہ کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا ہے۔ مذکورہ پولیس افسر نے عدالت میں محمکہ پولیس اور نیویارک شہر کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ پولیس افسر مسعود سید سے جب ان کے افسر نے داڑھی چھوٹی کرنے کو کہا تو سید نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا۔ 

لیکن مسعود سید ایک ملی میٹر کے بجائے ایک انچ تک لمبی داڑھی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کو وہ اپنی مذہبی آزادی مانتے ہیں۔ نیویارک کے محکمہ پولیس میں کام کرنے والوں کو داڑھی رکھنے کی ممانعت ہے لیکن مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے رعایت کے طور پر ایک ملی میٹر تک لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت ہے. ان کے وکیل نے بدھ کو مرکزی عدالت میں بتایا تھا کہ منگل کو مسعود سیّد کو اس وقت معطل کیا گیا جب انھوں نے باس کے کہنے کے باوجود اپنی داڑھی کو تراش کر چھوٹی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے میں عدالت نے محکمہ پولیس کو حکم دیا ہے کہ جب تک مقدمے کا فیصلہ نہ آ جائے تب تک مسعود سید کی تنخواہ جاری رکھی جائے۔

مسعود سید عدالت کے اس فیصلے سے خوش ہیں اور طویل قانونی جنگ کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میں جج کے فیصلے سے بہت خوش ہوں۔ یہ ایک درست فیصلہ ہے۔ اور مجھے لگتا ہے ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں لیکن اب آگے ایک طویل قانونی راستہ طے کرنا ہے۔ مسعود سید کہتے ہیں کہ انہیں محکمہ پولیس میں سے بہت سے ساتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہے. مسعود ایک وکیل بھی ہیں اور وہ محکمہ پولیس میں گذشتہ 10 برسوں سے کام کر رہے ہیں اور اس وقت وہ لاء کلرک کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ اس سے قبل مسعود نے ایک ملی میٹر تک لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت محکمہ پولیس سے حاصل کر لی تھی اور انھیں گذشتہ برس دسمبر تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔

لیکن جب ان کی داڑھی ایک ملی میٹر کی حد سے بڑھ گئی تو ان سے داڑھی چھوٹی کرنے کو کہا گیا۔ اس کے بعد سے ہی وہ محکمہ پولیس سے لمبی داڑھی رکھنے کی رعایت حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرتے رہے لیکن کامیابی نہیں ملی۔ مسعود سید دیگر مذاہب کے ماننے والے پولیس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ محکمے میں بہت سے افسر تو ایک ملی میٹر سے لمبی داڑھی رکھتے ہیں۔ سن 2013 میں مینہیٹن کی ایک عدالت کے جج نے ایک یہودی پولیس افسر کی لمبی داڑھی کے معاملے میں نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ’نو بيئرڈ‘ یا ’داڑھی نہیں‘ کی پالیسی کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت پولیس افسر کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت ہر شخص کو امریکہ میں اظہار کی اور مذہبی آزادی کا حق ہے۔ مسعود سید کا دعویٰ ہے کہ نیویارک کے محکمۂ پولیس میں کم از کم 100 ایسے پولیس افسر موجود ہیں جنھیں لمبی داڑھی رکھنے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسعود سید کے وکیل جوشوا مسكاوٹز کہتے ہیں ’ہم نے مقدمہ اس لیے دائر کیا ہے کہ اس سے داڑھی لمبی ہونے کی وجہ سے محمکہ پولیس میں پریشانی کا سامنا کرنے والے تمام افسروں کو فائدہ مل سکے۔ ہم داڑھی کے سلسلے میں محکمہ پولیس کی پالیسیوں میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
نیویارک شہر کی انتظامیہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ مسعود سید کی داڑھی محکمہ پولیس کے قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ ایک ملی میٹر کی جو حد نافذ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران چہرے پر گیس ماسک صحیح طریقے سے پہن سکیں۔ 32 سالہ مسعود سید کو 30 دنوں کے لیے بغیر تنخواہ کے معطل کیا گیا تھا۔ اور اگر وہ داڑھی چھوٹی کرنے سے انکار کرتے رہیں گے تو انھیں محکمہ پولیس کے قانون کے تحت ملازمت سے برخاست بھی کیا جا سکتا ہے۔ اب عدالت میں اس کیس کی اگلی پیشی 8 جولائی کو ہوگی جس میں جج یہ طے کر سکتے ہیں کہ کیا مسعود سید محکمہ پولیس کے کام میں لمبی داڑھی کے ساتھ واپس جا سکتے ہیں یا نہیں۔

برطانوی ریفرینڈم : سٹے بازوں کا فیورٹ کون؟

برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے معاملے پر برطانوی عوام، سیاست دان
اور رائے عامہ کے جائزے تک تو منقسم ہیں لیکن سیاسی سٹے باز یورپی یونین سے نکلنے کی حامی مہم کو فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ’پولیٹیکل بیٹنگ‘ یا سیاسی سٹے بازی میں فیورٹ امیدوار یا پارٹی کا تعین کیسے ہوتا ہے؟ اور پھر مختلف شرطوں کے ریٹ یا بھاؤ کیسے طے کیے جاتے ہیں۔ مائیک سمتھسن بی بی سی سے منسلک رہ چکے ہیں، وہ اب ایک سیاست دان اور پولیٹیکل بیٹنگ کے ماہر ہیں اور اپنی کتاب ’دی پولیٹیکل پنٹر‘ میں انھوں نے ان لوگوں کے لیے سیاسی سٹے بازی کے گْر تحریر کیے ہیں جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ پولیٹیکل بیٹنگ یا سیاسی سٹہ بازی میں ’آڈز‘ یا بھاؤ طے ہونے کا دار و مدار اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ کس امیدوار یا پارٹی پر زیادہ پیسہ لگاتے ہیں۔ یعنی اگر زیادہ لوگ برطانیہ کے یورپ چھوڑنے پر پیسے لگائیں تو یہی مہم سٹے بازوں کی فیورٹ قرار پائے گی۔ اس وقت اگر بیٹنگ یا سٹے بازی کی مارکیٹ پر نظر ڈالی جائے تو یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ سٹے باز کمپنی پیڈی پاور کی ویب سائٹ پر اگر برطانیہ کے یورپ میں رہنے پر شرط لگائی جائے تو جیت کی صورت میں تین سو پاؤنڈ کے بدلے چار سو پاؤنڈ ملیں گے۔ لیکن اگر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے پر شرط لگائی جائے تو جیت کی صورت میں تین سو کے بدلے نو سو پاؤنڈ مل رہے ہیں۔

یعنی جس کی جیت پر کم پیسے ملیں، وہی فیورٹ۔

مائیک کا کہنا تھا کہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں میں تو یورپی یونین میں رہنے اور اسے چھوڑنے کی مہم کے درمیان فرق کم ہے لیکن سٹے بازی کی مارکیٹ میں فرق خاصا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین میں رہنے کی مہم پر بہت بڑی بڑی شرطیں اور پیسے لگائے جا رہے ہیں۔
مغربی ممالک میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ سیاسی رپورٹنگ سے وابستہ صحافی اپنے تـجزیوں میں رائے عامہ کے جائزوں کے علاوہ بیٹنگ مارکیٹ کے بھاؤ کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔
ہیرلڈ سکاٹ لینڈ سے وابستہ صحافی پیٹر سوینڈن بھی ان صحافیوں میں شامل ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے لیے سیاسی سٹہ بازی کی مارکیٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی رپورٹنگ میں سیاسی بیٹنگ کے بھاؤ پر نظر رکھنے سے آپ کی سٹوریز میں زیادہ گہرائی نظر آئے گی، آپ کو مختلف شرطوں کے بھاؤ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ سیاسی منظر نامہ کون سی کروٹ بدل سکتا ہے۔‘پیٹر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا اگلا وزیر اعظم کون ہو گا، اس پر بورس جانسن تو سٹے بازوں کے فیورٹ ہیں لیکن انھوں نے اس شرط میں امبر روڈ کا نام بھی دیا ہوا ہے، جس سے بطور صحافی مجھے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امبر روڈ پر بھی میں نظر رکھوں۔
سیاسی سٹے بازی کا موضوع دلچسپ اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس میں کبھی کبھار بڑے بڑے اپ سیٹس بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بھی اسی تیزی سے آتا ہے جس تیزی سے سیاسی صورت حال بدلتی ہے۔ برطانیہ کی حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کے سربراہ نے جب اپنی جماعت کی سربراہی کے لیے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو سٹے بازوں نے ان کی جیت کا بھاؤ ’ایک پر سو‘ یعنی ایک کے بدلے سو پاؤنڈ رکھا تھا، لیکن جیسے جیسے جیریمی کوربن اپنی کامیاب مہم کے باعث جیت کے قریب ہوتے گئے، سٹے باز مارکیٹ میں ان کی جیت پر ملنے والے پیسے بھی کم ہوتے گئے۔
مائیک سمتھسن سے دوران گفتگو ازرائے مذاق پوچھا کہ ویسے تو آپ فیس لے کر پولیٹیکل بیٹنگ کے مشورے دیتے ہیں لیکن بتا ہی دیں کہ یورپی ریفرینڈم میں فیورٹ کون ہے؟ مائیک نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ’ابھی صبر کریں، ایک اور دن انتظار کر لیں۔‘
عادل شاہ زیب
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

امجد صابری : ایک عہد جو ہم میں نہ رہا

 امجد صابری کا شمار پاکستان کے مایہ ناز قوالوں میں ہوتا ہے۔ وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے تھے۔

 کراچی کے علاقے لیاقت آباد دس نمبر فلائی اوور کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا