اسرائیلی وزیراعظم کا قریبی ساتھی ہی ان کے خلاف گواہی پر تیار

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا ایک قریبی ساتھی ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہو گیا ہے۔ یہ بات اسرائیلی میڈیا کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف بد عنوانی کے متعدد معاملات کے حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو کا ایک معتمد خاص ان معاملات میں سے ایک میں ان کے خلاف ریاستی گواہ بننے پر تیار ہو گیا ہے۔ بدعنوانی کے یہ کیسز اسرائیلی وزیراعظم کے سیاسی کیریئر کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ شلومو فِلبرز کی طرف سے اپنے سابق باس کے خلاف ریاستی گواہ بننا نیتین یاہو کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی ایک اہم سیاسی شخصیت 68 سالہ بینجمن نیتو یاہو 2009ء سے مسلسل اسرائیل کے وزیر اعظم چلے آ رہے ہیں جبکہ 1996ء سے اب تک وہ مجموعی طور پر 12 برس اسرائیل پر حکمرانی کر چکے ہیں۔ نیتن یاہو اپنے خلاف لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 2019 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پانچویں مدت کے لیے ملکی وزیر اعظم بننے کے لیے پرعزم ہیں۔ شلومو فِلبرز کو جنہیں نیتن یاہو نے کمیونیکیشن منسٹری کا سربراہ مقرر کیا تھا، رواں ہفتے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اسرائیل کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی Bezeq ٹیلی کام کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فِلبرز اس بات پر راضی ہو گئے ہیں کہ وہ اس مقدمے میں ریاست کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوں گے جس میں پولیس نے Bezeq ٹیلی کام کے مالکان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری مراعات کے بدلے میں نیتن یاہو کی حمایت میں کوریج کرنے کی حامی بھری تھی۔ تاہم اس کمپنی کے مالکان اور عہدیدار ان الزامات کو رد کر چکے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتین یاہو کے خلاف عوام سطح پر احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف حال ہی میں بدعنوانی کے دو نئے الزامات کے تحت تفتیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اسرائیل میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس نئی پیش رفت کے بعد قبل از وقت انتخابات یا پھر بینجمن نیتن یاہو کے مستعفی ہونے کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

بشکریہ DW اردو

Advertisements

کیا سابق جرنیلوں کا احتساب واقعی ہو سکے گا ؟

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کی جانب سے ایک ایسے وقت فوج کے تین سابق جرنیلوں کے خلاف بدعنوانی کے برسوں پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے جب اس پر صرف سیاست دانوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ نیب نے جن فوج کے سابق اعلیٰ افسروں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اشرف قاضی، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سعید ظفر، اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) حسن بٹ شامل ہیں۔ ان جرنیلوں پر الزام ہے کہ فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2001 میں ان افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لاہور میں ریلوے کی ایک سو چالیس کنال سے زائد اراضی لاہور کے ایک نجی کلب کو کم داموں فروخت کر دی تھی۔

اس معاہدے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات 2007 میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے جس کے بعد سے ملک کے مختلف تحقیقاتی اداروں نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی جبکہ نومبر 2012 کو قومی احستاب بیورو نے ان تین جرنیلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے طلب کیا۔ یہ معاملہ نیب تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ان سابق جرنیلوں کو اپنا جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان ہی دنوں فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے این ایل سی میں بدعنوانی کے حوالے سے تین جرنیلوں کے بارے میں تحقیقات جاری تھیں اور 2012 میں فوج نے این ایل سی سکینڈل میں ملوث تین ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کی غرض سے ملازمت پر بحال کرنے کا اعلان کا کیا تھا اور یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا جب مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں اور تبصرے شائع اور نشر ہو رہے تھے کہ تینوں اعلیٰ فوجی افسران کو بچانے کے لیے انہیں ملازمت پر بحال کیا گیا ہے۔

اُس وقت فوج کے سابق اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی گونج جب میڈیا پر زیادہ سنائی دینے لگی تو جنرل کیانی کو بیان دینا پڑا تھا کہ ماضی میں ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں بہتر یہی ہے کہ تمام فیصلے قانون پر چھوڑ دیں اور ہمیں یہ بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہیے کہ ملزم صرف اس صورت میں ہی مجرم قرار پاتا ہے جب مجرم ثابت ہو جائے۔ دوسری جانب لاہور میں ریلوے کی اراضی کی لیز میں بدعنوانی کا دبا ہوا معاملہ دوبارہ خبروں میں اس وقت آیا جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی اور 2016 میں وفاقی وزیر ریلوے نے 2001 میں طے پانے والے لیز کے معاہدے کے نتیجے میں قائم ہونے والے رائل پام کنٹری کلب کو ریلوے کی تحویل میں لینے کا حکم صادر کر دیا۔

کلب انتظامیہ نے اس حکم کے خلاف احتجاج کیا اور معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا جہاں فیصلہ کلب انتظامیہ کے حق میں آیا تاہم اس معاملے سے جڑے کرپشن کے الزامات پر بات نہیں ہوئی تاہم جولائی 2017 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکاؤنٹس میں یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا تھا جس میں متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کی گئی۔ کیا قائمہ کمیٹی میں اس معاملے پر مزید پیش رفت ہو سکی؟ اس پر مسلم لیگ نون کے رہنما اور کمیٹی کے رکن میاں عبدالمنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا تاہم ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس معاملہ زیر بحث آیا تھا تاہم اس کے بعد بدھ کو اس پر اجلاس تھا جو منعقد نہیں ہو سکا۔

’آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے، نیب اور ریلوے حکام کو بلایا جائے گا اور کوشش ہو گی کہ اس اجلاس میں کمیٹی اپنا فیصلہ سنا دے۔‘ کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی اب نیب اس معاملے پر کارروائی کا اعلان کر چکی ہے لیکن نیب کی جانب سے تقریباً 15 برس پرانے کیس کو اچانک دوبارہ کھولنے کی نوبت کیوں آئی؟ اس پر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ نیب کی جانب سے یہ توازن قائم کرنے کے حوالے سے ایک قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ’ احتساب تو سب کا ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جرنیلوں اور ججوں کا احتساب نہیں ہوتا ہے، اور میرے خیال میں جب متعلقہ ادارے پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو توازن قائم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔‘

فوجی حکمراں مشرف کے دور میں ریلوے کی اراضی کا متنازع معاہدہ کیا گیا تھا
ماضی میں بھی جرنیلوں کے خلاف کیسز کھولنے اور تحقیقات کی خبریں سامنے آئیں لیکن معاملات کسی منطقی انجام تک نہیں پنچ سکے۔ اس پر سہیل وڑائچ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ’ایسے اقدامات پہلے بھی کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس میں کوئی ٹھوس یا حقیقی چیز نظر نہیں آتی۔ وقتی طور پر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن پھر ان پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔ ‘ کیا حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کی جانب سے نیب پر یہ الزامات عائد کیے جانے کہ وہ صرف سیاست دانوں کو احتساب کے نام پر ہدف بنا رہا ہے تو اس وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے؟

اس پر سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیب نے سابق جرنیلوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر کے اس تاثر میں توازن لانے کی کوشش کی ہے۔
اس کیس میں نامزد جرنیل کون ہیں؟ بدعنوانی کے معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی 1993 سے 1995 تک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں وزیر مواصلات و ریلوے اور بعد میں وزیر 2004 سے 2007 تک وزیر ریلوے کے عہدے پر رہے۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید ظفر ریلوے کے سیکریٹری جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ حسن بٹ ریلوے کے چیئرمین تھے۔ ان دونوں جرنیلوں کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ذیشان ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

جب خلافت عثمانیہ کا سورج غروب ہو گیا

خلافتِ عثمانیہ (خلافتِ راشدہ، خلافت امویّہ اور خلافتِ عباسیہ کے بعد) اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت تھی۔ اس میں تقریباً 642 سال از 1282ء تا 1924ء تک 37 حکمران مسند آرائے خلافت ہوئے۔ پہلے 8 حکمران سلطان تھے۔ خلیفۃ المسلمین نہ تھے۔ انہیں اسلامی سلطنت کی سربراہی کا اعزاز تو حاصل تھا، خلافت کا روحانی منصب حاصل نہ تھا۔ 9 ویں حکمران سلطان سلیم اوّل سے لے کر 36 ویں حکمران سلطان وحید الدین محمد سادس تک 30 حضرات سلطان بھی تھے اور خلیفہ بھی، کیونکہ خلافتِ عباسیہ کے آخری حکمران نے سلطان سلیم کو منصب و اعزاز خلافت کی سپردگی کے ساتھ وہ تبرکاتِ نبویہ بھی بطور سند و یادگار دے دیے تھے جو کہ خلفائے بنو عباس کے پاس نسل در نسل محفوظ چلے آرہے تھے۔

یکم نومبر 1922ء کو چونکہ مصطفی کمال پاشا نے مغربی طاقتوں اور ’’برادری‘‘ کی ایما پر ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کی قرارداد منظور کر کے خلیفہ اسلام، عثمانی سلطان محمد وحید الدین ششم کی اٹلی کی طرف ملک بدری کے احکامات جاری کر دیے تھے، اس لیے اس نامبارک دن سلطنت ختم ہو گئی، البتہ خلافت اب بھی باقی تھی۔ سلطان وحید الدین ششم کی جلا وطنی کے بعد ان کے پہلے قریبی رشتہ دار عبدالمجید آفندی کو آخری عثمانی خلیفہ بنایا گیا، مگر 3 مارچ 1924ء کو ترکی کی قومی اسمبلی نے ایک مرتبہ پھراسلام دشمنی اور مغرب پروروں کا ثبوت دیتے ہوئے اتاترک کی قیادت میں اسلامی خلافت کے خاتمے کا قانون بھی منظور کر لیا۔ اس طرح آخری خلیفہ جو سلطان نہ تھے، خلیفہ عبدالمجید دوم کی اپنے محل سے رخصتی اور پہلے سوئٹزرلینڈ پھر فرانس جلاوطنی کے ساتھ ہی سلطنت عثمانیہ کے بعد خلافتِ عثمانیہ کے سقوط کا المناک سانحہ بھی پیش آگیا۔

ابولبابہ شاہ منصور

Kenya extracts gold from colonial-era mines

Needy Kenyan villagers struggle to extract gold today with their limited means at the mine from which the English mining company Rosterman exploited gold between the years 1930 and 1950 in the Kakamega province of Kenya. Poor workers sell the pure gold they extract for $30 to $40 to foreign companies.

 

 

 

 

 

 

 

Eastern Ghouta is another Srebrenica, we are looking away again

With every child who dies, with every act of brutality that goes unpunished, eastern Ghouta more closely resembles what Kofi Annan once called the worst crime committed on European soil since 1945. Eastern Ghouta is turning into Syria’s Srebrenica. Like the Bosnian Muslim enclave in 1995, eastern Ghouta, on the outskirts of Damascus, has been besieged by regime forces since the early stages of the Syrian war. Years of attrition have failed to dislodge rebel factions that control it. As was the case in Srebrenica, food supplies, aid and medical assistance have been cut off. In 1993, the UN designated Srebrenica a “safe area”. Last year, as part of Moscow’s abortive Astana peace process, the Russians declared eastern Ghouta a “de-escalation zone”.
To no avail. As in Bosnia, nobody attempted to protect the civilian population when a regime offensive began there in December after negotiations failed. The airstrikes and bombardments are carried out with impunity by Syrian forces and their Russian backers. The UN has almost begged the pro-Assad coalition, which includes Iranian-led militias, to agree to an immediate humanitarian ceasefire. Its appeals have been ignored. Relief agencies’ pleas for access have also gone unanswered.
But for the residents of eastern Ghouta, it is about survival. Record numbers have died in the past 36 hours in an area where the overall death toll since 2011, when the war began, runs into uncounted thousands. And there is no escape. More than 100 dead, over 500 wounded and five hospitals bombed. The violence is relentless and unbearably cruel.
In Srebrenica, about 8,000 Muslim men and boys were massacred in a few days. Between 25,000 and 30,000 Bosniak women, children and elderly people were subject to forcible displacement and abuse. The international criminal tribunal for the former Yugoslavia later decreed that these crimes constituted genocide.
 At the time, the world stood back and watched as Gen Ratko Mladic’s Bosnian Serb army and Scorpion paramilitaries closed in, overrunning Dutch peacekeepers. The international community knew full well what Mladic might do, that a massacre was imminent. It looked the other way. The agony of eastern Ghouta, already infamous as the scene of a 2013 chemical weapons attack using sarin gas, is slower but similarly ignored. Once again civilians, including large numbers of children, are being killed. Once again, the western powers, with forces deployed in the country, refuse to intervene. Once again, the UN is helpless, the security council rendered impotent by Russian vetoes.
“This could be one of the worst attacks in Syrian history, even worse than the siege on Aleppo … To systematically target and kill civilians amounts to a war crime and the international community must act to stop it,” said Zaidoun al-Zoabi of the independent Union of Medical Care and Relief Organisations. But for now at least, Syria’s president, Bashar al-Assad – like Mladic in 1995 – appears to be impervious to reason or outside pressure. The evidence implicating Assad in war crimes and crimes against humanity is plentiful. So far no charges have been brought, and he carries on regardless. Today, in eastern Ghouta, like Srebrenica in 1995, vile crimes that could constitute genocide are being committed. In November, Mladic was finally convicted of genocide in The Hague. That took 22 years. How many more children will die before justice is served in Syria?

 

 

 

 

ایف اے ٹی ایف : پاکستان کے خلاف امریکی قرارداد منظور نہ ہو سکی

پیرس میں جاری فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام یا عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ پر ڈالنے کی قرارداد منظور نہیں ہو سکی ہے۔ اس بات کا اعلان پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں کیا۔ یہ قرارداد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ان کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور امریکی قیادت میں پاکستان کو واچ لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔

خواجہ آصف کے پیغام میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے تین ماہ کی مہلت تجویز کی جا رہی ہے اور جون میں اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے اس حوالے سے پاکستان کی حمایت کرنے والے ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یاد رہے کہ منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ہے۔ 18 سے 23 فروری تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے سینکڑوں عالمی مندوبین کے علاوہ اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ اس سے قبل پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو شدید معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔
اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک ‘پالیسی ساز ادارہ’ ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

  بشکریہ بی بی سی اردو

کوئی الفاظ ان بچوں کو انصاف نہیں دلا سکتے

اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے شام میں بچوں کی ہلاکتوں پر ایک خالی اعلامیہ جاری کر دیا جس کے نیچے لکھا تھا کہ ’کوئی الفاظ ان بچوں کو انصاف نہیں دلا سکتے‘۔ واضح رہے کہ یونیسیف کی جانب سے یہ اعلامیہ شام میں جاری جنگ میں باغیوں کے مقبوضہ علاقے مشرقی غوطۃ میں بمباری کے نتیجے میں 39 بچوں سمیت 250 افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کیا گیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا کہنا تھا کہ ’الفاظ مرنے والے بچوں ان کے ماں، باپ اور پیاروں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے‘۔

ان الفاظ کے ساتھ اعلامیے میں ایک خالی صفحہ شامل تھا۔ یونیسیف نے ’شام میں بچوں پر جنگ، مشرقی غوطۃ اور دمشق میں بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی رپورٹ‘ پر پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیسیف کی جانب سے یہ ایک خالی اعلامیہ جاری کیا جا رہا ہے، ہمارے پاس اُن بچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو اس گھناؤنے کام میں ملوث ہیں ان کے پاس اس کی وضاحت کے لیے اب بھی کوئی الفاظ ہیں؟ خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ روز بھی شام میں شہریوں کی ہلاکت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم آج شامی نگہداشت برائے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق تقریباً 13 بچوں سمیت 50 شہریوں کو مشرقی غوطۃ کے قریب فضائی بمباری میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ 2012 سے باغیوں کے قبضے میں رہنے والا مشرقی غوطۃ کا علاقہ باغیوں کے زیر اثر آخری جگہ ہے جسے شامی صدر بشار الاسد واپس لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔

چین بلوچستانی میں جاری بدامنی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے

برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ چین اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے درمیان پانچ سال سے خفیہ مذاکرات جاری ہیں۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین 5 سال سے بھی زائد عرصے سے بلوچ باغیوں کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ فنانشل ٹائمز کو تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ چینی حکومت بلوچستان میں باغیوں سے براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔ ایک پاکستانی افسر نے بتایا کہ چین نے اس حوالے سے خاموشی سے بہت پیش رفت کر لی ہے، بلوچ علیحدگی پسند کبھی کبھار حملے کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاہم ان کی جانب سے کوئی بھرپور اور بڑی کارروائی نہیں کی جا رہی۔

پاکستانی حکام ان مذاکرات کی تفصیلات سے لاعلم ہیں لیکن انہوں نے چینی سفارتکاروں اور بلوچ باغیوں کے درمیان بات چیت کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک افسر نے کہا کہ آخرکار بلوچستان میں امن قائم ہونے کا فائدہ دونوں کو ہی ہو گا۔ ایک اور افسر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد معطل ہونے کی وجہ سے حکام بالا اس نتیجے میں پہنچے ہیں کہ چین زیادہ قابل بھروسہ ساتھی ہے۔ چینی ہمارے مدد کے لیے یہاں موجود ہیں جب کہ امریکا ناقابل بھروسہ ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا پاکستان کشیدگی کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا اسے چین پر کر رہا ہے۔ پاکستان، نیپال، میانمار اور سری لنکا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھارت تشویش کا شکار ہے۔ سی پیک کے تحت چین پاکستان میں انفراسٹرکچر منصوبوں میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور زیادہ تر سی پیک پروجیکٹس صوبہ بلوچستان میں ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اگرچہ چین نے پاکستان میں فوج تعینات نہ کرنے کے وعدے کیے ہیں لیکن بھاری سرمایہ کاری کے نتیجے میں ممکن ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ ماتحت ریاست جیسا سلوک شروع کر دے۔ چینی حکام نے مذاکرات پر موقف دینے سے انکار کر دیا تاہم پاکستان میں چینی سفیر نے حال ہی میں بی بی سی کو انٹرویو میں یہ بات کہی تھی کہ بلوچ جنگجو سی پیک کے لیے اب خطرہ نہیں رہے۔ ایک قبائلی سربراہ نے بتایا کہ بہت سے نوجوانوں کو مالی مراعات دے کر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، اب علیحدگی پسند تحریک میں شمولیت کی 10 سال پہلے جیسی کشش نہیں رہی، بہت سے لوگ سی پیک کو خوشحالی کا زینہ سمجھنے لگے ہیں۔

پاکستانی حکومت چین سے ڈرونز کے پرزہ جات اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی خریدنے پر غور کر رہی ہے جنہیں افغان سرحد پر نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
چین نے اربوں ڈالر کی لاگت سے ’ایک پٹی ایک شاہراہ منصوبہ‘ شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ دنیا بھر سے گزرے گا جس کی وجہ سے عدم مداخلت کی پالیسی اب تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ معیشت کو ترقی دینے کے منصوبے کے تحت چین کو دنیا کے چند انتہائی متنازع خطوں میں بھی کام کرنا پڑ رہا ہے۔ جنوبی سوڈان میں بھی چینی امن فوج تعینات ہے جہاں بیجنگ حکومت تیل کے شعبے اور ریلوے لائن کی تعمیر میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ افریقی ملک مالی میں بھی چین کی امن فوج تعینات ہے اور اس نے عراق میں داعش کے خلاف آپریشن کا بھی عندیہ دیا ہے۔ عراق میں تیل کے شعبہ میں چین سب سے بڑا غیر ملکی سرمایہ کار ملک ہے۔

طیب اردوان : خلافت عثمانیہ کا جدید نمائندہ

آج دنیا جس افراتفری میں مبتلا ہے یہ سب ایک بڑے سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے اگر ہم ماضی قریب میں دیکھیں تو 1970ء سے پہلے کا دور اور آج کے دور کا فرق ہمیں واضح نظر آجائے گا پچاس برس قبل تک تمام مسلم ممالک جو بھی تھے جتنے بھی تھے ان میں امن و امان کی صورت حال آج کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی۔ دراصل تمام غیر مسلم قوتیں خصوصاََ کلیسا اب تک اس بیس سالہ دور کو نہیں بھولا جس میں صلیبی جنگیں ہوتی رہیں جب کلیسائی ممالک کو شدید ہزیمت کا اور بے شمار جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس پر ان تمام غیر مسلم قوتوں نے کلیسا کے زیر اہتمام انتظام میں اپنے انتقام کے لئے پہلی جنگ عظیم چھیڑی، اس وقت مسلمانوں کی ایک بڑی قوت سلطنت عثمانیہ کے تحت قائم تھی.

عثمانی حکومت جو تقریباََ تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی، کے ساتھ تمام دنیا میں پھیلے مسلمان خود کو سلطنت عثمانیہ کے تابعدار سمجھتے تھے کلیسا نے ایک سازش تیار کی کیونکہ وہ مسلمانوں کے اقتدار اور قوت کا بخوبی اندازہ کر چکے تھے اس لئے انفرادی کی جگہ اجتماعی طور پر مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے عزم سے انہوں نے پہلی جنگ عظیم کا میدان سجایا اس میں وہ کامیاب رہے اور سلطنت عثمانیہ کو فتح کر کے ختم کر دیا۔ یورپ اور تمام غیر مسلم قوتوں نے خلافت عثمانیہ کے آخری سلطان خلیفہ سلطان محمد وحید الدین کو شکست فاش دے کر قید کر لیا اور بالجبر اس سے ایک سو سالہ معاہدہ 1923ء میں کیا جس کے تحت سلطان کو تمام سلطنت میں پھیلی املاک سے بے دخل کر کے قبضہ کر لیا گیا اور ترکی کا اقتدار چھین لیا۔

سلطان کی جگہ ایک سوشل نظریات کے شخص کمال اتاترک کو ترکی کا حکمران بنا دیا ۔ اس نے تمام ترکی میں اسلامی اقدار اور مذہبی رسوم و رواج اور اعمال پر پابندی لگا دی، عورتوں کو بے حجاب کر دیا۔ آج اس معاہدے کی خبر مسلم عوام کو تو کیا مسلم حکمرانوں تک کو شاید ہی ہو کلیسا اس لئے بے چین اور متفکر ہے کہ اس کے ہاتھ سے مسلم امت کا اہم مرکز اور قوت نکلنے جا رہی ہے طیب اردوان کو خلافت عثمانیہ کا جدید نمائندہ سمجھا جا رہا ہے اس لئے اس کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ آج جبکہ اس معاہدے کی تکمیل میں صرف پانچ سال باقی رہ گئے ہیں یعنی 2023ء میں اس سو سالہ معاہدے کی مدت پوری ہو رہی ہے۔ کلیسا نے اس معاہدے کی وجہ سے نہ صرف ترکی کا اقتدار چھینا اور سلطنت عثمانیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا وہ تمام ریاستیں جو عثمانی اقتدار کے زیر سایہ تھیں انہیں اپنے قبضے میں لے کر بتدریج مجبوراََ آزاد کیا جو تقریباََ 23 ریاستیں تھیں۔

برطانیہ جو کلیسا کا سب سے اہم اور بڑا مرکز ہے عثمانی سلطنت کا انتظام برطانیہ کے قبضے میں تھا اس نے بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہی مسلم علاقے فلسطین کو دو لخت کر کے اسرائیل کے ناسور کو جنم دیا اور اب تقریباََ پچاس برسوں سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہا ہے اسی لئے تمام غیر مسلم قوتوں کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح مسلمانوں کو متحد نہ ہونے دیا جائے وہ اپنی ناپاک سازشوں کے ذریعے مسلم ممالک میں دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں تمام تر ہنگامہ آرائی تمام تر خون خرابہ صرف مسلم ممالک میں ہی کیوں ہو رہا ہے ہر آفت اور ہر مصیبت کا مسلمان ہی کیوں شکار ہو رہے ہیں ان تمام کلیسائی قوتوں نے عثمانی حکمران سے جو سو سالہ معاہدہ کیا تھا وہ لمحہ لمحہ ختم ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے جیسے جیسے اس معاہدے کا وقت ختم ہو رہا ہے ویسے ویسے مسلمانوں میں بے چینی بے کلی بڑھا کر انہیں منتشر کرنے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے.

کلیسا مسلمانوں سے خوف زدہ ہے کہ کہیں پھر یہ اگر متحد ہو گئے تو کلیسا کا دنیا سے نام و نشان مٹ سکتا ہے اس لئے وہ اس خوف سے نکلنے کے لئے مسلم ممالک و ریاستوں میں اپنی پوری منصوبہ بندی کے ساتھ دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق خود ہی ساری کارروائیوں کی سرپرستی کرنے کے باوجود ان ممالک کو ہر طرح کی دھمکیوں سے ڈرایا دھمکایا بھی جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی اطمینان سے حکمرانی نہ کر سکے اور اپنے زخموں کو ہی چاٹتا رہے ظالم مارے اور کمزور کو رونے بھی نہ دے۔ اللہ کا نظام اٹل ہے اور اس کی لاٹھی بے آواز ہے یہود و نصاریٰ چاہے جتنی ہوشیاری جتنی چالاکی کر لیں جتنی سازشیں کریں۔

اللہ نے مسلمانوں کیخلاف ہونیوالی تمام سازشوں کے سد باب کے لئے ایک عثمانی ترک کو کھڑا کر دیا ہے ترک صدر طیب اردوان جس کیخلاف امریکہ اور اسکے حواریوں نے فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنا چاہا تھا اسے ناکام بنا دیا طیب اردوان کو اللہ نے وہ حوصلہ و ہمت دی ہے کہ وہ اپنے سے بڑی سپر طاقتوں سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے تمام عالم کے مسلمانوں کی حمایت کرتا ہے معاہدے کا وقت ختم ہونے سے قبل ایک ایسی شخصیت سامنے آچکی ہے جو نہ صرف ترکی بلکہ تمام غیر مسلم صہیونی اور کلیسائی قوت کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

سی آئی اے، موساد، را اور اسرائیلی ایجنسیوں کا کام ہی صرف یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو کہیں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیں چاہے وہ مملکت خداداد پاکستان ہو ایران ہو افغانستان ہو عراق، شام، لبنان، یمن، سعودی عرب، کویت، قطر اور دیگر افریقی ریاستیں جہاں جہاں مسلم اکثریت ہے وہاں وہاں ہنگامے قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا ہے مسلمانوں کو کہیں بھی چین سے نہیں بیٹھنے دیا جا رہا خواہ یورپی ممالک ہوں یا افریقی ممالک ہوں یا امریکی اور روسی ممالک وہاں کے مسلمان شہریوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا دراصل تمام غیر مسلم دنیا اور کلیسائی دنیا خوف کا شکار ہے کہ 2023ء کے بعد کیا ہو گا حالانکہ خود یہی قوتیں جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کو پارہ پارہ کیا ہے چورانوے پچانویں سالوں میں بھی اپنی سی کوشش کرتے رہے ہیں.

لیکن جوں جوں وقت قریب آرہا ہے ان کے خوف میں اضافہ ہو رہا ہے اور بد حواسی کا شکار ہو کر مسلمانوں کو ہرطرح ہر طریقے سے نقصان در نقصان پہنچا رہے ہیں اب دیکھنا اور سمجھنا یہ ہے کہ 2023ء تک یا اس سال میں کیا گل کھلاتے ہیں مبصرین کا گمان ہے کہ کہیں تیسری عالمی جنگ نہ چھیڑ دی جائے اور اسکی آڑ میں مسلمانوں کو پھر ایک بار خاک و خون میں نہلا دیا جائے اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی حفاظت کے لئے ترک صدر طیب اردوان کو منتخب کر لیا ہے اگر کلیسا نے کسی طرح اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو اب مسلمانوں کو بے دست و پا نہیں پائے گا اللہ اسلام دشمنوں کو نیست و نابود کرے گا، ان شاء اللہ۔

مشتاق احمد قریشی

انڈیا جسٹن ٹروڈو کو کیوں نظر انداز کر رہا ہے؟

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سات روزہ سرکاری دورے پر انڈیا گئے ہوئے ہیں لیکن بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ان کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دے رہی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔ تاثر یہ ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے اب تک نظر انداز کیا ہے اور قیاس آرائی یہ ہے کہ اس کی وجہ ان کی کابینہ میں شامل وہ چار سکھ وزرا ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں انڈیا میں بعض لوگوں کا الزام ہے کہ ان کی ہمدردی خالصتان کی علیحدگی پسند تحریک کے ساتھ رہی ہے۔

جب مسٹر ٹروڈو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ دلی پہنچے تو ان کا استقبال کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر وفاقی حکومت کے ایک جونیئر وزیر موجود تھے، لیکن گذشتہ ماہ جب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس سے پہلے متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور جاپان کے وزیر اعظم انڈیا آئے تھے تو نریندر مودی ان کا استقبال کرنے خود ائیر پورٹ پہنچے تھے اور نیتن یاہو اور شنزو آبے کو خود گجرات لے کر گئے تھے۔ بنیامین نیتن یاہو آگرہ میں تاج محل دیکھنے گئے تو خود اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ان کے ساتھ موجود رہے۔ جسٹس ٹروڈو گئے تو انہیں ضلع میجسٹریٹ سے ہی کام چلانا پڑا۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی مسٹر ٹروڈو کو دانستہ طور پر نظر انداز کر رہی ہے اور اگر ہاں، تو کیوں؟

کالم نگار وویک دہیجیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہہ مسٹر ٹروڈو کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک جونیئر وزیر کو ان کے استقبال کے لیے بھیجا گیا۔ ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کی کابینہ کے کئی سینیئر وزیر پنجاب میں علیحدگی کی تحریک سے مبینہ طور پر وابستہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے گذشتہ برس کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت سجن انڈیا آئے تھے تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن کینیڈا میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر وشنو پرکاش کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹروڈو کے استقبال میں پروٹوکال کی پاسداری کی گئی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر غیرملکی رہنما کا استقبال وزیر اعظم خود کریں۔

سابق سفارتکار کنول سبل کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹروڈو کے دورے کو خالصتان کی تحریک کے بارے میں انڈیا کے خدشات کینیڈا کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے اور خالصتان کی تحریک کا سایہ اگر اس دورے پر شروع سے ہی اثر انداز ہوتا ہے تو سیاسی اعتبار سے یہ غلط ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دورے کو جسٹن ٹروڈو سے یہ وعدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کینیڈا میں سرگرم خالصتان کے ہمدردوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مسٹر سبل کے خیال میں بھی یہ تاثر غلط ہے کہ جسٹن ٹروڈو کے دورے کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جتنی کہ ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 2015 میں جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد باہمی رشتوں میں ڈرامائی انداز میں بہتری آئی ہے۔

کینیڈا کے ایک وزیر ہرجیت سوہی نے چند روز قبل کہا تھا کہ نہ تو وہ خالصتان کی تحریک کے حق میں ہیں اور نہ خلاف اور اگر کینیڈا میں ایک چھوٹا سا حلقہ پرامن انداز میں علیحدگی کی تحریک کی بات کرتا ہے، تو ایسا کرنا ان کا حق ہے۔
لیکن کینیڈا کے اخبار ٹورونٹو سن کی کالم نگار میلکم کینڈس کا کہنا ہے کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کینیڈا میں آکر بسنے والوں کو شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرنے کا حق حاصل ہے؟ ان کے مطابق جسٹن ٹروڈو اور ان کے وزیر جگمیت سنگھ کو خالصتانی شدت پسندوں کی مذمت کرنی چاہیے۔ لیکن جسٹن ٹروڈو ابھی صرف سیاحت کر رہے ہیں، جب سیاست شروع ہوگی تو واضح ہو گا کہ انہیں نظرانداز کیا گیا ہے یا نہیں۔

عائشہ پریرا
بی بی سی نیوز, دہلی