براہمداغ بگٹی ۔ لازم ہے احتیاط

نواب اکبر بگٹی کے بڑے بھائی عبدالرحمن بگٹی باپ سے ناراض ہو گئے۔ اپنے والد نواب محراب خان بگٹی کے خلاف ایک کتاب ’’محراب گردی‘‘ تحریر کی جس میں انھیں انگریزوں کا وفادار اور بلوچ عوام کا مخالف ثابت کیا۔ وڈیرہ خان محمد کلپر اس وقت جوان تھا۔ اس نے عبدالرحمن بگٹی کا ساتھ دیا۔ ایک قبائلی جنگ شروع ہوئی۔ عبدالرحمن بگٹی کو حالات اپنے لیے مناسب معلوم نہ ہوئے تو وہ افغانستان بھاگ گئے۔ اب محراب خان بگٹی کو فکر لاحق ہوئی، اس لیے کہ اپنے علاقے اور اپنے قبیلے کے درمیان انسان کا پتہ چلتا رہتا ہے کہ وہ کس قدر مضبوط ہے، کہاں سے وار کر سکتا ہے لیکن ایک دوسرے ملک میں بیٹھ کر تو وہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
محراب خان بگٹی نے فوراً ڈپٹی کمشنر سبی کو درخواست کی کہ ان کے بیٹے کو افغانستان سے کسی نہ کسی طور پر واپس بلایا جائے چونکہ قبائلی علاقوں میں ریاستی رٹ قبائل کے ذریعے ہی قائم کی جاتی تھی اس لیے ان کا یکجا، پرامن اور ایک نظام کے تحت متحد ہونا ضروری تھا۔ اس لیے فوراً ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو تحریر کیا گیا کہ ناراض عبدالرحمن بگٹی کو واپس لایا جائے کیونکہ وہ ایک دن صرف بگٹی قبیلہ ہی نہیں بلکہ انگریز سرکار کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے اپنی تحصیل گلستان میں افغان سرحد کے قریب آباد محمود خان اچکزئی کے والد عبدالصمد اچکزئی سے رابطہ کیا اور وہ عبدالرحمن بگٹی کو منا کر افغانستان سے واپس لائے۔ اب یہاں اس قبائلی جھگڑے کی کوکھ سے ایک انقلابی بننے والے عبدالرحمن کو مستقل طور پر پر امن بنانے کا مرحلہ تھا۔ انگریز سرکار نے انھیں فوری طور پر تحصیلدار کی نوکری کا پروانہ تھمایا اور نوشکی میں تعیناتی بھی کر دی۔ چونکہ نواب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اس لیے گھریلو سامان وغیرہ خریدنے کے لیے پانچ سو روپے بھی دیے جو اس زمانے میں لاکھوں کے برابر تھے۔
اس وقت سے لے کر آج تک عبدالرحمن بگٹی اور ان کا خاندان ایک پر امن اور قانون پسند شہری کے طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ البتہ خان محمد کلپر ایک طویل صلح کے وقفے کے بعد دوبارہ نواب اکبر بگٹی سے لڑائی پر آمادہ ہو گیا۔ اس لڑائی کو کسی نے سلجھانے کی کوشش نہ کی بلکہ الٹا اس آگ کو ہوا دینے میں ریاستی اداروں اور پس پردہ طاقتوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ ایک جانب نواب اکبر بگٹی تھا جس نے ریاستی طاقتوں کا اس وقت ساتھ دیا جب پورا بلوچستان ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا۔ عطا اللہ مینگل کی حکومت اس وقت ختم کی گئی جب وہ میزان چوک کوئٹہ میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کر رہے تھے اور کسی کو یقین تک نہ تھا کہ نواب اکبر بگٹی کو گورنر لگا دیا جائے گا۔ آج تبصرہ نگار ہزاروں افسانے تراشتے ہیں کہ اس وقت ایران کا دباؤ تھا، امریکی نہیں چاہتے تھے کہ روس کی جانب اچھے رویے رکھنے والے بلوچ برسراقتدار رہیں۔
یہ افسانے صرف اور صرف ذوالفقار علی بھٹو کی آمرانہ سوچ کو چھپانے کے لیے تراشے گئے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نواب بگٹی نے اپنی قبائلی عصبیت کی بنیاد پر بھٹو کی آمرانہ سوچ کا ساتھ دیا۔ اس دوران ریاستی رٹ قائم کرنے والے نواب اکبر بگٹی اور خان محمد کلپر میں جب جھگڑا شروع ہوا تو حکومتی اہلکاروں اور پس پردہ کام کرنے والوں کو سو طرح کے خیال سوجھنے لگے۔
نواب اکبر بگٹی اگر کمزور ہوتا ہے تو وہ ہماری بات آسانی سے مانے گا۔ خان محمد کلپر کو اگر ہم سپورٹ کرتے ہیں تو کل کو وہ ہمارے لیے ایک سرمایہ ثابت ہو گا۔ اس دوغلی پالیسی نے بگٹی قبیلے کو آگ اور خون میں نہلا دیا۔ کسی نے عبدالرحمن بگٹی والے معاملے کی طرح اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہ کی۔ شاید امن اس وقت کی انتظامیہ کی خواہش نہ تھی۔ قتل و غارت کا سلسلہ جو خان محمد کلپر کے بیٹے کے قتل سے شروع ہوا، نواب اکبر بگٹی کے بیٹے سلال بگٹی کے قتل پر اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ حکومتی افراد نواب اکبر بگٹی سے مسلسل رابطے میں رہتے، ان سے اپنے تعلقات مستحکم رکھتے اور ساتھ ساتھ خان محمد کلپر اور اس کے قبیلے کی مدد بھی مستقل جاری رکھتے۔ سلال بگٹی کے بعد یوں لگتا تھا، نواب اکبر بگٹی کی کمر ٹوٹ گئی ہو۔ وہ سلال بگٹی کو قبیلے کا مستقبل سمجھتے تھے اور وہ ان کی ذاتی تربیت میں تھا۔ سلال کی موت کے بعد براہمداغ کو نواب بگٹی نے اپنی تربیت میں لے لیا۔
میری نواب اکبر بگٹی سے آخری گفتگو اس وقت ہوئی جب وہ اپنے بگٹی قبیلے کی سرزمین چھوڑ کر مری قبیلے کے علاقے میں موجود ایک غار میں پناہ لینے جا رہے تھے۔ یہ غار اور گوریلا جنگ پر لکھی ہوئی فرانسیسی ادیب کی کتاب  مکھی کی جنگ‘‘ جنگ نواب بگٹی کے دلچسپ موضوعات تھے۔
میرے سوالات بہت تھے لیکن ان کا جواب ایک ہی تھا کہ میرے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں بچا۔ نواب اکبر بگٹی اپنے تمام معاملات پر گفتگو اور ان کے حل کے لیے پرویز مشرف سے ملاقات پر راضی ہو گئے تھے۔ وہ اپنے قبیلے سے مشورے کے بعد ڈیرہ بگٹی سے سوئی روانہ ہوئے جہاں ایک بہت بڑا قافلہ انھیں چھوڑنے آیا۔ سوئی ایئرپورٹ پر کئی گھنٹے انتظار کے بعد بھی طیارہ نہ آیا اور کئی بہانے تراشے گئے۔ یہ راز اب بلوچستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ وہ لوگ کون تھے جو یہ صلح اور امن نہیں چاہتے تھے۔ ایک مایوس، ناکام نواب اکبر بگٹی کے لیے قبیلے میں اپنی عزت و ناموس بچانے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ ایک دوسرے قبیلے کی جانب کوچ کرے اور ان کے علاقے میں موجود غار میں پناہ لے لے۔ اس کے بعد کی کہانی انتہائی خونچکاں ہے۔
پرویز مشرف کے پر غرور فقرے کہ ’’اب وہ زمانہ نہیں رہا، اب انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہم نے کدھر سے ان کو ’’ہِٹ‘‘ کیا‘‘ نے جس طرح جلتی پر تیل کا کام کیا اور پھر نواب بگٹی کی موت کے سانحے نے جس طرح بلوچستان کو ایک الاؤ کی شکل دے دی۔ اسے اس قوم نے دس سال بھگتا۔ جو الاؤ ہم نے خود روشن کیا تھا اور جس کی آگ کی تپش سے بھی ہم جلتے تھے۔ اس پر تیل تو پھر Raw نے بھی ڈالنا تھا۔ خاد نے بھی اور سی آئی اے نے بھی۔ وہ جنھیں اپنے خطے میں امن کی فکر ہوتی تھی ایک عبدالرحمن بگٹی کے افغانستان جانے پر ایک دم پریشان ہو جاتے تھے۔
ہم عجیب تھے 1948ء میں پرنس عبدالکریم اپنے بھائی خان آف قلات سے ناراض ہو کر افغانستان چلا گیا اور ایک انقلابی کی صورت جلوہ گر ہوا، ہمیں کوئی فکر لاحق نہ ہوئی۔ 1974ء میں کتنے پشتون اور بلوچ قبائل افغانستان گئے، وہاں روس اور افغانستان سے مدد لیتے رہے، ہم نے آرمی ایکشن سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، مسئلہ الجھتا گیا، کیا کوئی تاریخ کا یہ سبق نکال کر بغیر کسی تعصب سے پڑھ سکتا ہے کہ بلوچستان میں 1977ء سے 2005ء تک 28 سال کس وجہ سے امن قائم ہوا اور قائم رہا۔
یہ وہ دور تھا جب ہم افغان جنگ لڑرہے تھے لیکن بلوچستان پر امن تھا۔ اس لیے کہ ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتقمانہ روش چھوڑ کر سب سے پہلے حیدر آباد غداری کیس ختم کیا اور پھر پورے بلوچستان میں عام معافی کا اعلان کر دیا۔ افغانستان میں بیٹھے کسی بلوچ یا پشتون کو واپس آنے کے لیے کوئی ’’را‘‘، کوئی ’’خاد‘‘ یا کوئی ’’ کے جی بی‘‘ نہ روک سکی۔ سب واپس اپنے گھروں میں لوٹ آئے۔ میں اس وقت بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا، وہاں اکثریت ایسے طلبہ کی تھی جو افغانستان سے لوٹے تھے اور وہ آج بلوچستان کی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ آپ اپنے لوگوں کو سینے سے لگائیں تو کوئی ان کو آپ سے دور نہیں کر سکتا۔ بلوچستان کا بلوچ اور اس کی لیڈر شپ اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستان کے سوا ان کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں۔ ایران میں اتنے ہی بلوچ ہیں جتنے پاکستان میں لیکن وہ تو وہاں انتہائی غربت و افلاس میں ہیں، سیاست میں ان کا حصہ صفر ہے اور انتظامیہ میں نہ ہونے کے برابر یہاں تک کہ وہ اپنے مسلک کے مطابق نماز بھی ادا نہیں کر سکتے۔ افغانستان کے پشتون ان پر چڑھ دوڑیں گے، عرب ریاستیں انھیں اپنا باجگزار بنا لیں گی۔ انھیں علم ہے کہ پاکستان ہی ان کی پناہ گاہ اور ان کا مستقبل ہے۔ لیکن اگر پناہ گاہ کے لوگ ہی ان پر بندوق تان لیں تو وہ کہاں جائیں۔
مدتوں کے بعد موجودہ عسکری و سیاسی قیادت نے ضیاء الحق ہی کی اس پالیسی کو دوبارہ زندہ کیا۔ عام معافی کا اعلان کیا گیا اور آج اس کے ثمرات پورے بلوچستان میں نظر آ رہے ہیں۔ میں چند ہفتے قبل کوئٹہ گیا تو مجھے کوئٹہ ویسا تو نہیں لیکن بہت بہتر نظر آیا۔ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ براہمداغ بگٹی واپس آنا چاہتا ہے۔ یہاں احتیاط لازم ہے۔ جو لوگ بلوچ نفسیات سے واقف ہیں وہ اسے کبھی بھی اپنی فتح نہیں کہیں گے بلکہ ناراض بھائی کی واپسی کہیں گے اور دوسری احتیاط یہ ہے کہ اب اسے واپس لے آئیں کہ یہی امن کا راستہ ہو گا۔
 بہت سے مشورہ دینے والے موجود ہیں، ایسے دانشور جن کا بلوچستان سے رابطہ ہے پریس کلب کے صحافیوں اور اعلیٰ پولیس افسروں سے زیادہ نہیں رہا۔ وہ طرح طرح کے مشورے دے رہے ہیں، قبائلی مخالف اپنی فتح چاہتے ہیں لیکن براہمداغ کی واپسی امن کی ضمانت ہو گی۔ قبائلی زندگی میں قبیلہ ایک اکائی ہوتا ہے کوئی ٹکری وڈیرے کی، وڈیرہ سردار کی اور سردار نواب کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ خاندان بدلے جا سکتے ہیں۔ انگریز نے مری اور مینگل قبیلے میں ایسا کرنا چاہا، منہ کی کھائی۔
احتیاط لازم ہے۔ ایسا نہ ہو کہ براہمداغ بھی نواب اکبر بگٹی کی طرح ایئرپورٹ پر طیارے کا انتظار کرتا رہے اور پھر بلوچستان ایک بار پھر امن کو ترس جائے۔
اوریا مقبول جان
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس 

پیپلز پارٹی کو کرپشن پارٹی بنانے والے

پاکستان پیپلز پارٹی تبا ہ و برباد ہو چکی مگر اب بھی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ کہتے ہیں کہ پارٹی کو مفاہمت کی پالیسی نے تباہ کیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو مفاہمت نے نہیں بلکہ کرپشن نے تباہ کیا۔ ایک زرداری سب پہ بھاری دراصل پیپلز پارٹی پر ہی بھاری ثابت ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی کو اُن کے پانچ سالہ دور میں دیکھا تو اُس کا بھی مقصد کرپشن کو بچانا اور کرپٹ کا تحفظ کرنا۔ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ لوٹ مار کی وجہ سے ے الیکشن ہارے۔ کہتے ہیں کہ پی پی پی کو تو   نے ہرایا۔
گزشتہ انتخابات میں ایک وقت میں پاکستان کی سب سے مقبول ترین پی پی پی کا سندھ کے علاوہ تمام صوبوں سے نام و نشان مٹ گیا۔ پنجاب، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہ جیتی۔ لیکن سبق پھر بھی نہ حاصل کیا۔ سندھ میں حکومت ملی تو وہی لوٹ مار، وہی کرپشن، وہی اقرباپروری، حکومتی زمینوں کی کوڑیوں کے بھائو اپنے من پسند افراد کو فروخت، حکومتی سودوں میں وہی کمیشن وہی کک بیکس۔
 وزیر اعظم چن کر ایسوں کو بنایا جنہوں نے کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیئے اور دنیا کو یہ بھی سننا پڑا کہ پی پی پی دور کے وزیر اعظم نے ترکی صدر کی اہلیہ کی طرف سے سیلاب زدگان کے لیے دیا گیا اپنا شادی کاگلے کا ہار چپکے سے جیب میں ڈالا اور وزیر اعظم ہائوس سے سپریم کورٹ کی طرف سے نکالے جانے پر چپکے سے گھر لے گئے جیسے اپنا ذاتی مال ہو۔ جب پکڑے گئے نہ شرمندگی کا اظہار نہ ہی کوئی پشیمانی۔
پی پی پی کی طرف سے اور نہ ہی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی مذمت کی گئی۔ کرپشن پر خیر مذمت یا تادیبی کارروائی کا موجودہ پیپلز پارٹی میں کوئی رواج ہی نہیں۔ ہم نے تو دیکھا کہ کرپشن کے الزامات لگنے پر تو زرداری صاحب نے لوگوں کو ترقیاں دیں۔ یوسف رضا گیلانی جب مبینہ کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کے ریکارڈ قائم کرنے پر سپریم کورٹ کے حکم پر گھر بھجوایا گیا تو راجہ پرویز اشرف کو وزر اعظم بنایا گیا باوجود اس کے کہ اُس وقت بجلی کے شعبہ میں مبینہ بدعنوانی کے میگا اسکینڈل کی وجہ سے اُن کا نام راجہ رینٹل پڑ چکا تھا۔ 2008ء کے الیکشن کے نتیجہ میں جب پی پی پی کی حکومت قائم ہوئی تو آصف علی زرداری صاحب نے جو پہلی تین اہم ترین تعیناتیاں کیں وہ تینوں ایسے سابق اعلیٰ افسران تھے جن کو کرپشن کے مقدمات کی وجہ سے 1998-99ء میں ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ تینوں افسران کو گزشتہ پی پی پی دور میں اہم ترین عہدے پیش کئے گئے باوجود اس کے کہ انہیں سرکاری نوکریوں سے نکالنے کے ساتھ ساتھ عدالتی سزائیں بھی دی جا چکی تھی۔ ماضی سے سیکھنے کی بجائے پی پی پی کے گزشتہ دور میں کرپشن کو مزید فروغ دینے کے لیے نیب اور ایف آئی اے کو بھی لوٹ مار کرنے والوں کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی اصل بیماری کا پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کے علاوہ سب کو ادراک ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب سندھ حکومت کی کرپشن کے خلاف نیب اور ایف آئی اے کوئی ایکشن لیتی ہے تو کہا جاتا کہ وفاق صوبائی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔ عجیب ذہنیت ہے۔ یعنی خود بھی کرپشن ختم نہیں کرنی نہ ہی کسی دوسرے کو کرپشن کے خلاف اقدامات اٹھانے کی اجازت دینی ہے۔ یہ کیسی سیاست ہے جس میں کرپشن کے خلاف اقدامات پر جنگ لڑنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں لیکن اپنے آپ کو سدھارنے کی کوئی کوشش نہیں کی جاتی۔
 اس وقت جو رویہ پیپلز پارٹی نے روا رکھا ہوا ہے اگر اسے تبدیل نہ کیا گیا تو باقی پاکستان کے طرح سندھ میں بھی بھٹو کی پارٹی کو زوال کا سامنا ہو گا۔ بلاول بھٹو زرداری کو ایک بار پھر فعال کر کے پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو نے سندھ سے نکل کر پنجاب اور اسلام آباد کا رخ اختیار کر لیا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ پی پی پی اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت کو بلاول کی وجہ سے دوبارہ حاصل کر لے گی۔
اگر کا مقصد لوگوں کو بھٹو اور بے نظیر کے نام اور بلاول کے ذریعے دھوکہ دینے کی کوشش ہے تو اس سب سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ پیپلز پارٹی کو اگر دوبارہ اُس کی کھوئی ہوئی مقبولیت کو حاصل کرنا ہے تو سندھ میں جاری کرپشن اور لوٹ مارکے خلاف بلاول بھٹو کو خود ایکشن لینا پڑے گا۔ بدعنوان اور نااہل وزیروں کی چھٹی کرنے پڑے گی اور سندھ میں ایک ایسی کابینہ کو ذمہ داریاں سونپنی پڑیں گی جو ایمانداری کے ساتھ رات دن ایک کر کے عوام کی خدمت کریں اور سندھ کو دوسرے صوبوں میں رہنے والوں کے لیے ایک مثال بنا کر پیش کریں۔ اس سلسلے میں بلاول کو اپنے والد کی سیاست کو خیر آباد کہنا ہو گا 
    
ابھی تک تو بلاول کی طرف سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے۔ آج بھی بلاول کے ارد گرد ایسے  موجود ہیں جنہوں نے اس پارٹی اور سیاست کو اپنا مال بنانے کے لیےہی استعمال کیا۔ مجھے ذاتی طور پر بلاول بھٹو زرداری سے کوئی زیادہ امیدیں نہیں لیکن میرے لیے یہ خوشگوار تعجب ہو گا اگر پی پی پی چئیرمین اپنی سیاست کا آغاز پیپلز پارٹی کی صفائی سے شروع کریںجس کے بغیر اس پارٹی کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا۔ اصل چیلنج پی پی پی اور کرپشن کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا ہے۔
 
انصار عباسی
بشکریہ روزنامہ جنگ 

Migrants Crisis – Where is OIC ?

Europe is facing its worst migration crisis since World War II with no sign to an early resolution to the problem. More than 2,000 people have already died trying to cross the Mediterranean to Europe this year. The perils of crossing the Mediterranean have been reinforced by news from  international relief officials that dozens of  people had drowned off western Libya after their boats sank on Thursday.
The exact toll is still unclear but potentially it is among the highest this summer for the desperate families trying to reach European shores. In another tragic incident, more than 80 migrants suffocated to death in a container where they hid themselves while trying to enter Austria the other day. The tragedy happened just kilometres away from where EU leaders were meeting to discuss the refugee crisis. 
The Mediterranean has become a “cemetery” for desperate migrants who come from world’s poorest and war-affected countries.  Italy and Greece accuse other countries of not doing enough to stop the flood of illegal immigrants. Britain, Italy and other European Union countries still have serious differences about how to tackle the refugee crisis. Only days ago some countries had decided not to  take part in any rescue operations in the Mediterranean Sea to save the lives of illegal immigrants. These countries fear that rescue operations will encourage more people to opt for the dangerous sea journey in search of  a better life in European countries. 
According to statistics, 140,000 people have tried to reach Greece and other European countries this year alone. Those lucky to have reached their destination are waiting desperately for any good news about their future  in detention centres. Because of financial difficulties, Greece, Italy and some other EU countries find it hard to deal with such a large number of illegal immigrants. Thousands of people are confined in illegal detention centres in inhuman conditions. 
The flow of illegal migrants can never be stopped without solving  the fundamental  causes that have originally sparked it. Parts of the Mediterranean region have been under the grips of unrest and violence with the world community turning a blind eye to them. It is despair and insufferable living conditions that are forcing  thousands of people to flee their home countries.
As the majority of migrants belong to Syria, Afghanistan, Somalia, Iraq, Pakistan and Iran, all Muslim-majority countries, forums like the Organisation of Islamic Co-operation (OIC) and Arab League should come forward and prepare a strategy to help solve the migrant crisis.
Khawaja Umer Farooq
Jeddah, Saudi Arabia

قلم فروخت کرنے والے شامی مہاجر کے لیے منٹوں میں ہزاروں ڈالر کا ڈھیر لگ گیا

سڑکوں پر قلم فروخت کرنے والے شام کے مہاجر شخص کے لیے انٹرنیٹ پر کراؤڈ فنڈنگ کے بعد صرف 30 منٹ میں 5 ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوگئی۔
ناروے میں انسانی خدمت کے لیے کام کرنے والے گیسور سائمنرسن نے انٹرنیٹ پر بیروت میں شام سے ہجرت کرکے آنے والے عبدل نامی شخص کی کی تصاویر دیکھیں جن میں وہ اپنی بیٹی کو کندھے پر سلائے لوگوں کو پین فروخت کرتا نظر آرہا ہے اس سے متاثر ہوکر گیسور نے انٹرنیٹ پر موجود کراؤڈ فنڈنگ کی ویب سائٹ انڈی گو گو پر’’پین خریدو‘‘ کے نام سے ایک اکاؤنٹ تیار کیا اور لوگوں سے مدد کی درخواست کی۔
اس تصویر کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگوں نے شیئر کیا اور گیسور نے وعدہ کیا کہ وہ اس شخص کو تلاش کرکے رقم اس کے حوالے کریں گے اور نصف گھنٹے بعد ہی انہیں اس شخص کے اپنے گھر کے قریب ہی رہنے کی خبر ملی۔
گیسور کی کوشش سے اگلے 24 گھنٹے میں عبدل کی شناخت ہوگئی جس کے 2 بچے ہیں اوراس کی بیٹی ریم کی عمر 4 برس ہے۔ عبدل کے لیے کراؤڈ فنڈنگ کی ویب سائٹ پر 5 ہزار ڈالر کا ہدف رکھا گیا تھا جو آدھے گھنٹے میں حاصل ہوگیا اور 24 گھنٹے تک یہ رقم بڑھتے بڑھتے 40 ہزار ڈالر تک جاپہنچی جسے ایک ریکارڈ قرار دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ عبدل نامی شخص کا ایک بیٹا بھی ہے اور وہ ایک فلسطینی مہاجر ہے جو دمشق میں یرموک کے پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھتا ہے۔

فلسطینی بچے کو پکڑنے والے صہیونی فوجی کی دُرگت

فلسطین کے علاقوں میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کی گرفتاری اور شہریوں کا احتجاج روز کا معمول ہے۔ فلسطینی خواتین اور بچے روزمرہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوجیوں کی وحشیانہ کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
 مگر دو روز قبل مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں النبی صالح کے مقام پر فلسطینی بچے کو پکڑنے والے ایک اسرائیلی فوجی کو فلسطینی خواتین اور بچوں نے گھیرائو کے بعد اس کی خوب درگت بنائی اور بچے کی گرفتاری ناکام بنا دی۔

فلسطینی شہری النبی صالح کے مقام پر یہودی توسیع پسندی کے خلاف ہفتہ احتجاج کررہے تھے کہ اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے ان پر حملہ کردیا۔ ایک فوجی نے مظاہرین میں شامل ایک کم سن بچے کو وحشیانہ طریقے سے دبوچ کر گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی۔ بچے نے چیخ پکار شروع کردی۔ اس کی آواز سن کر مظاہرے میں شریک خواتین بھاگتی ہوئی اس کے پاس پہنچ گئیں اور چاروں طرف سے صہیونی فوجی کو پکڑ لیا۔ وحشیانہ انداز میں بچے کی گرفتاری کی کوشش کے دوران اس کا ایک بازو بھی توڑ ڈالا گیا تھا تاہم خواتین نے اس کی گرفتاری ناکام بنا دی اور صہیونی فوجی کی طبیعت درست کرنے کے بعد اسے وہاں سے واپس بھیج دیا گیا۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ اپنے ساتھی کو مشکل میں دیکھ کر دوسرے فوجیوں نے مداخلت کی اور بچے کو چھوڑنے کی شرط پر فلسطینی خواتین سے سے فوجی پر تشدد نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ النبی صالح، بلعین اور نعلین کے مقامات پر ہر جمعہ کی نماز کے بعد مقامی فلسطینی صہیونی فوج کی غنڈہ گردی، یہودی توسیع پسندی اور وہاں پر بنائی گئی دیوار فاصل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ فلسطینیوں کے مظاہروں میں انسانی حقوق کی غیر ملکی تنظیموں کے مندوبین بھی شرکت کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی فوجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کے خول میں لپٹی دھاتی گولیوں کا کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔ زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ سے کئی فلسطینی شدید زخمی ہوچکے ہیں۔ بعض اوقات آنسو گیس کے شیل جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔

کیا پاکستان تیسری بڑی عالمی ایٹمی قوت بننے والا ہے؟

پاکستان کا جوہری پروگرام اہل مغرب کے ہاں کسی نہ کسی شکل میں زیربحث رہتا ہے۔ کبھی پاکستان کے جوہری اثاثوں کو لاحق مزعومہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور کبھی پاکستان پر جوہری میزائل ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے نکلنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔
حال ہی میں امریکا کے دو تھینک ٹینکس “کارنیگی” اور “اسٹمسن” کی جانب سے پاکستان کی جوہری صلاحیت اور وار ہیڈ تیار کرنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دونوں اداروں کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان سالانہ 20 ایٹمی وار ہیڈ تیار کرتا ہے تو اگلے ایک عشرے میں وہ امریکا اور روس کے بعد دنیا کی تیسری بڑی جوہری قوت بن سکتا ہے۔
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اپنے جوہری پروگرام پر تسلسل کے ساتھ کام کرنے کا اس لیے دفاع کررہا ہے کہ اس کے پڑوس میں بھارت بھی ایک ایٹمی قوت ہے اور پاکستان کو بھارت سے ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت سے کسی بھی خطرے کے پیش نظر پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں میں دو قدم آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور حصول میں بھارت بھی دن رات مصروف عمل ہے مگر پاکستان کے پاس بھارت کےمقابلے میں ایٹمی وار ہیڈ کی تعداد زیادہ ہے۔ بھارت کے پاس اس وقت ممکنہ طور پر 100 ایٹمی وار ہیڈ ہو سکتے ہیں جب کہ پاکستان کے پاس یہ تعداد 120 ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس اعلیٰ معیار کے افزودہ شدہ یورینیم کی غیر معمولی مقدار موجود ہے جس کی مدد سے اسلام آباد اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد جس رفتار سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے، اس لحاظ سے 2025ء تک پاکستان کم سے کم 350 ایٹمی وار ہیڈ تیار کرلے گا اور یوں امریکا اور روس کے بعد تیسری عالمی جوہری طاقت بن سکتا ہے۔

The winner takes the fall – Usain Bolt struck down

A television cameraman and his Segway knock Usain Bolt off his stride, and his feet, during his lap of honor.

اکیسویں صدی عیسوی کا غلام داری نظام

برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی‘‘ نے اکتوبر 2013ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا میں اس وقت بھی تقریباً تین کروڑ انسان باقاعدہ غلاموں کی سی زندگی گزار رہے ہیں جن میں سے ایک کروڑ چالیس لاکھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں۔ نسل انسانی اپنے ارتقائی مراحل میں غلام داری نظام سے گزر چکی ہے اس غلام داری نظام کے دوران دیوار چین سے اہرام مصر تک کے عجائبات زمانہ تعمیر کئے گئے اس نظام کے پیداواری شعبہ کا مقصد انسانی ضروریات کے مطابق پیداوار حاصل کرنا تھا آج کے ہوس زر کے دور کی طرح زیادہ سے زیادہ نفع کمانا نہیں تھا۔
یہ پیداواری ضروریات امیر طبقے اور حکمرانوں کے لئے مختلف ضرور ہوتی تھیں لیکن ضروریات سے زیادہ وافر مقدار میں نہیں ہوتی تھیں۔ غلام داری کا یہ نظام لا تعداد انقلابی تحریکوں کے ذریعے قانونی طریقے سے ختم ہوا۔ آج عالمی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ غلام داری ختم ہو چکی ہے اور دنیا جمہوری طریقوں اور بنیادی تقاضوں کے تحت استوار ہو چکی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔ غلام داری نظام بیشتر باقیات پیداواری شعبہ میں اب بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ غلام داری نظام سے نجات حاصل کرنے کے باوصف انسان غلامی کی بیڑیوں سے آزادی حاصل نہیں کر سکا۔ آج کے دور میں کرئہ ارض پر موجود سات ارب انسانوں کی غالب اکثریت سرمائے کی جکڑ بندیوں میں الجھی ہوئی ہے اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسے انسان بھی واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں جن کی زندگیاں غلام کی زندگیوں سے مختلف اور بہتر نہیں ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی زندگی موت سے بدتر ہے۔
وطن عزیز میں اگر ہم بھٹہ مزدوروں کی زندگی کے اندر جھانکنے کی ہمت کریں تو وہ غلاموں کی سی زندگی سے بہتر دکھائی نہیں دے گی۔ نسل در نسل جبری مشقت اور بیگار کی مزدوری میں جکڑے ہوئے لوگوں کو ہم غلاموں سے بہتر کیسے شمار کر سکتے ہیں۔ صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہو گا مگر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ چین ہندوستان، پاکستان، نائیجریا اور بہت سے دوسرے ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں آزاد غلام موجود ہیں جو کہنے کو آزاد ہیں مگر عملی طور پر غلام ہیں۔ چین میں تیس لاکھ، پاکستان میں سات لاکھ ہندوستان میں ڈیڑھ کروڑ، نائجریا سات لاکھ لوگ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان ملکوں میں ایتھوپیا، روس، تھائی لینڈ، کانگو برما اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔
امریکی نظریاتی ادارہ ’’سی این این‘‘ کی اکیس جولائی 2015ء کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ قدیم زمانہ میں افریقہ کے سیاہ فام غلاموں کی تجارت کرنے والا امریکہ آج بھی انسانی سمگلنگ کے ڈیڑھ سو ارب ڈالروں کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان تھا ’’جنسی مقاصد کے لئے انسانی سمگلنگ امریکہ کی نئی غلامی‘‘ ایک اور اندازے کے مطابق انسانی سمگلنگ کے ذریعے غلام بنائے جانے والے تین کروڑ انسانوں میں 78 فیصد جبری مشقت کی ذلت میں دھکیل دیئے جاتے ہیں جو غلامی کی بدترین شکل ہے اور انسانی ترقی کے دور کی اکیسویں صدی عیسوی کو شرمانے کا موقع دے رہی ہے 
مگر یہ حقیقت اس سے بھی زیادہ غارت گرے ناموس ہے کہ سمگل ہونے والے تین کروڑ انسانوں میں سے 78 فیصد اگر جبری مشقت کے بیگار کیمپوں میں جاتے ہیں تو باقی بائیس فیصد جنسی مقاصد کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں غلاموں کی اکثریت جنگوں کے مفتوحہ علاقوں سے آتی تھی لیکن آج بغیر جنگوں کے ہی شکست خوردہ ملکوں اور معیشتوں سے کروڑوں لوگ غلام بن کر امیر اور ترقی یافتہ معیشتوں میں غلاموں کی سی زندگی گزارنے کی کوششوں میں بے قرار پائے جاتے ہیں۔ –
منو بھائی
بشکریہ روزنامہ “جنگ

I am fleeing my home, Syria

A Syrian refugee woman crosses into Turkey with her children at the Akcakale border gate in Sanliurfa province, Turkey.
Syrian refugees onboard an overcrowded dinghy approach a beach on the Greek island of Kos, after crossing a part of the Aegean sea from Turkey. 
Syrian refugee Mohamed from Idlib kisses his 2-month-old daughter Malak as a group of Syrian refugees arrive on a beach on the Greek island of Kos, after crossing a part of the Aegean sea from Turkey. 
A Syrian refugee holds her child in her arms as she sits in the port of the Greek island of Kos waiting to be registered and move with her family to the “Eleftherios Venizelos” vessel.
Syrian refugees walk through a field near the village of Idomeni at the Greek-Macedonian border.
A Syrian refugee prays on a rail track at the Greek-Macedonian border, near the village of Idomeni.
Syrian refugee children scream as they are siting in front of Macedonian riot police at the Greek-Macedonian border, near the village of Idomeni.
Seven year-old Ariana, a Kurdish-Syrian immigrant, rests before crossing into Macedonia along with another 45 Syrian immigrants near the border Greek village of Idomeni in Kilkis prefecture.
Syrian migrants walk through a field to cross the Serbian border with Hungary near the village of Horgos.
Syrian migrants cross under a fence as they enter Hungary at the border with Serbia, near Roszke.