پاکستان اور سعودی عرب کی خصوصی افواج مشترکہ عسکری مشقوں کی تیاری میں

پاکستان اور سعودی عرب کی خصوصی افواج مشترکہ عسکری مشقیں ’شہاب 2‘ کی تیاری کر رہی ہیں جو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوں گی۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی افواج کے کمانڈر نے کہا کہ ان مشترکہ مشقوں کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی کے لیے پیشہ ورانہ مہارت کا تبادلہ ہو گا اور کارکردگی بہتر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ان مشقوں سے دونوں ملکوں کی افواج کی مہارت بڑھے گی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گہرے دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کی افواج اکثر مشترکہ فوجی مشقیں کرتی رہتی ہیں۔

دونوں ملکوں کے مابین خصوصی افواج کی عسکری مشقوں کا اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سعودی کمان میں 41 اسلامی ممالک کی اتحادی افواج کے وزائے دفاع کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
اسلامی ممالک کی اتحادی افواج کے وزرائے دفاع کا اجلاس آئندہ ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہو گا۔ پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ راحیل شریف اسلامی ممالک کی اتحادی افواج کے سربراہ ہیں۔ یہ عسکری اتحاد سنہ 2015 میں بنا تھا جس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہے۔ اس سے پہلے اسلامی اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دیرینہ دفاعی مراسم ہیں۔ گذشتہ ماہ پاکستان کی فوج اور سعودی شاہی افواج نے مشترکہ عسکری مشقیں کی تھیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Advertisements

رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر

گناہگار تو شاید سب ہیں لیکن میں تو بہت ہی زیادہ گناہگار ہوں۔ مغفرت کی امید ہے تو اپنے عمل کے سہارے نہیں بلکہ غفورالرحیم کی صفت رحمت اور رحمت اللعالمین ﷺ کے جذبہ رحمت کو دیکھ کر بخشش کی توقع لگائے بیٹھا ہوں۔ تاہم حیرت زدہ ہوں کہ وہ لوگ روز قیامت اللہ کو کیا جواب دیں گے جو اس کے نبی پاکﷺ کے پاک نام اور مقدس دین کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور اس کی آڑ میں آپﷺ کی امت کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی مسلمان ہوکر نبی آخرالزمان ﷺ کے خاتم النبین ﷺ ہونے میں رتی برابر بھی شک کرے ۔ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کرختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قوانین میں تبدیلی یا ان سے متعلق سوال اٹھانے کا سوچ سکتا ہے۔

ذہن نہیں مانتا کہ مسلمان ہو کر بھی کوئی دانستہ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قانون کو متنازع بنانے کا خیال ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہوا وہ کوئی سازش تھی یا پھر حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی حماقت ممبران پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو غیرضروری حماقت کی گئی، اس کے اگر ذمہ دار ہیں بھی تو حکمران ہیں یا پھر ان کے اتحادی۔ بنیادی ذمہ داری بلاشبہ وزیر قانون زاہد حامد کی بنتی ہے، پھر کابینہ اور پارلیمنٹ کی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال میرے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں آن ریکارڈ دعویٰ کر چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی جس کمیٹی نے حلف نامے میں تبدیلی کے قانون کی منظوری دی اس میں جے یو آئی کے ممبر بھی موجود تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان صاحب کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ اجتماعی گناہ کی مرتکب ہوئی ہے۔

اب اگرچہ قانون واپس لے لیا گیا لیکن بہرحال جو جرم سرزد ہوا، اس کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو حکومت یا پھر بقول مولانا فضل الرحمٰن پوری پارلیمنٹ، لیکن اس میں راولپنڈی میں رہنے والے رحمۃ للعالمین ﷺ کے امتی اس مزدور کا تو ہرگز کوئی قصور نہیں کہ جو روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسلام آباد میں دیہاڑی لگانے جاتا ہے اور رستہ بند ہونے کی وجہ سے وہ گزشتہ ایک ہفتے سے مزدوری نہیں کر سکا۔ اسی طرح رحمۃ للعالمین ﷺ کے اس امتی کا بھی کوئی قصور نہیں کہ جو ذاتی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور پنڈی کے مابین آنے جانے کے لئے میٹرو استعمال کرتا تھا لیکن اس کی بندش کی وجہ سے اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا میٹرو کے کھلنے کا انتظار کر رہا ہے ۔

اسی طرح گوجر خان سے تعلق رکھنے والے رحمۃ للعالمینﷺ کے اس امتی کا تو قانون بدلنے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اپنی بیمار والدہ کو شفا اسپتال لا رہا تھا لیکن رستہ بند ہونے کی وجہ سے اسے بلک بلک کر روتے ہوئے اپنی والدہ کواسپتال پہنچائے بغیر ان کی لاش کے ساتھ واپس جانا پڑا۔ وہ باپ تو وزیر ہے اور نہ کابینہ کا رکن بلکہ شاید موجودہ حکومت سے خادم حسین رضوی سے بھی زیادہ نالاں ہیں کہ جو اپنے جگر گوشے کو سڑکوں کی بندش کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچا سکا۔ اسی طرح پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ان سینکڑوں اساتذہ کرام کا تو مجھے کوئی قصور نظر نہیں آیا، جو دھرنے کی وجہ سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے متعلقہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے سے قاصر ہیں۔

کیا فیض آباد، کنہ پل ، آئی ایٹ اور گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اس رحمۃللعالمین ﷺ کے امتی نہیں کہ جس کے نام کی آڑ لے کر گزشتہ ایک ہفتے سے ان سب کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے اور کیا روز قیامت ان لوگوں کے ہاتھ ، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گریبانوں پر نہیں ہوں گے کہ جنہوں نے دھرنے کے ذریعے ان کا جینا حرام کر دیا ۔ کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کے دلوں میں رحمۃللعالمین ﷺ کی محبت کسی دھرنا دینے والوں سے کم ہے۔ جس رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر اس کی امت کو تکلیف دی جا رہی ہے، اس نبیﷺ نے تو مسلمان کی شان یہ بتائی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں ۔

آپﷺ نے رستہ کھلا رکھنے کے لئے مسجد تک کو ڈھانے کا رستہ دکھایا ہے۔ آپﷺ نے تو بندئہ مومن کی حرمت کعبۃ اللہ سے زیادہ بیان فرمائی ہے۔ بات صرف زاہد حامد اور احسن اقبال کی ذات تک محدود ہوتی تو ہم جیسے گناہگار پھر بھی خاموش رہتے لیکن اب تو عاشق رسولﷺ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی فیصلے کی صورت میں بول اٹھے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ماضی کے بعض اقدامات اور فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ ان کے ماضی کے بعض فیصلوں اور کمنٹس پر لبرل حلقوں کی طرف سے اس بنیاد پر اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ شاید ان سے خادم حسین رضوی جیسے لوگوں کو شہ ملتی ہے لیکن اب کی بار تو جسٹس صاحب بھی خاموش نہیں رہ سکے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، علمی میدان میں اس نعیم صدیقی کے جانشین اور پیروکار ہیں جنہوں نے محسن انسانیت ﷺ جیسی شہرہ آفاق کتاب تصنیف کی۔ جسٹس صاحب کسی کو تحفہ دیتے وقت کوئی اور چیز نہیں بلکہ سیرت النبیﷺ پر مبنی اس کتاب یعنی محسن انسانیت ﷺ کا تحفہ دیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر شان رسول ﷺ میں گستاخی سے متعلق کیس میں ان کا تفصیلی اور علمی فیصلہ نبی رحمت ﷺ سے ان کی محبت اور اس موضوع کے علمی نزاکتوں پر ان کے عبور کا بین ثبوت ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی مصلحت یا خوف کا شکار تو ہو سکتے ہیں لیکن اس موضوع پر وہ کسی مصلحت یا خوف کا شکار ہوں گے ، میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ اب جب اس جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی فیصلہ دینا پڑا کہ لبیک تحریک والوں کو اپنا دھرنا ختم کر دینا چاہئے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ حد سے نکل گیا ہے ۔ جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میں کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے رستے سے کانٹے اٹھائے اور آپ لوگوں نے راستے بند کر دئے ہیں ۔ ان کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ نہ صرف دھرنا غیرقانونی ہے بلکہ رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی دھرنے کے منتظمین دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں ۔

دلیل ان کی یہ ہے کہ احتجاج کرنا اور دھرنا دینا ان کا قانونی حق ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے خلاف قانون قرار دلوائے جانے کے بعد بھی وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کر رہے ۔ عدالت عالیہ کا حکم آ گیا کہ معصوم عوام کے رستے بند کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لیکن دھرنا دینے والے پھر بھی اپنی عدالت لگائے بیٹھے ہیں ۔ اندیشہ ہے کہ دھرنا کے منتظمین خود یا کسی کے ایماء پر ایک اور سانحہ لال مسجد برپا کرنے کے مشن پر آئے ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر اور صاحبزادہ فضل کریم وغیرہ بھی خاموش ہیں۔ وہ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور خادم حسین رضوی کی طرح اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ میدان میں کیوں نہیں آتے ۔ اگر حکومت غلط کر رہی ہے تو اس کو سمجھا دیں یا پھر اس سے الگ ہو جائیں اور اگر دھرنا دینے والے غلط کر رہے ہیں تو ان کو سمجھا دیں یا پھر فتویٰ دے دیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے ۔ کیا یہ حضرات بھی ایک اور سانحہ لال مسجد کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ بعد ازاں ان لاشوں پر اپنی سیاست چمکا سکیں ۔

افتخار عارف صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
رحمت سید لولاک ﷺ پہ کامل ایمان
امت سید لولاکﷺ سے خوف آتا ہے

سلیم صافی

انتہائی ابتر صورتحال میں رہنے پر مجبور تارکین وطن کو طبی مدد پہنچائی جائے، آسٹریلوی ڈاکٹرز

آسٹریلوی میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پاپوا نیو گنی میں موجود تارکین وطن کے آزادانہ طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔ پاپوا نیو گنی کے جزیرے مانوس پر سینکڑوں مہاجرین انتہائی ابتر صورتحال میں رہنے پر مجبور ہیں۔ خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے بتایا کہ آسٹریلوی میڈیکل ایسوسی ایشن نے مانوس جزیرے میں موجود سینکڑوں تارکین وطن اور مہاجرین کی طبی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کینبرا میں منعقد ہونے والے اس میڈیکل ایسوسی ایشن کی وفاقی کونسل کے ایک اجلاس میں متقفہ طور پر زور دیا گیا کہ مانوس میں موجود مہاجرین کو پہنچائی جانے والی طبی مدد پر آزادانہ رپورٹنگ کو ممکن بنایا جائے۔

پاپوا نیو گنی کے جزیرہ مانوس میں قائم اس مہاجر مرکز کا انتظام آسٹریلیا کے پاس ہی ہے۔ پاپوا نیو گنی کی حکومت نے اس حراستی مرکز کو بند کر دیا ہے تاہم اب بھی کم از کم تین سو مہاجرین اس کیمپ کو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہیں۔
آسٹریلوی حکومت نے پاپوا نیو گنی کی مدد سے مانوس میں تین دیگر مہاجر مراکز تعمیر کیے ہیں لیکن مہاجرین کو خوف ہے کہ اگر وہ وہاں منتقل ہوئے تو مقامی آبادی انہیں تشدد کا نشانہ بنا سکتی ہے۔ تین ہفتے قبل مانوس کے مرکزی حراستی مرکز کو بند کرتے ہوئے وہاں بجلی، پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ خبر رساں اداروں نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس صورتحال میں اس کیمپ میں موجود سینکڑوں مہاجرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں سے متعدد بیمار بھی ہیں، جنہیں مناسب طبی مدد کی فراہمی میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

آسٹریلوی میڈیکل ایسوسی ایشن پہلے بھی مانوس جزیرے میں موجود مہاجرین کی ابتر صورتحال پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے تاہم حالیہ عرصے کے دوران اس جزیرے میں صورتحال مزید ابتر ہونے کی خبروں کے نتیجے میں اس طبی تنظیم کی وفاقی کونسل نے کہا ہے کہ مانوس میں مہاجرین کی حالت زار کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات دینا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ آسٹریلوی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مائیکل گانن نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ انسانی حقوق کا بہترین ریکارڈ رکھنے والی قوم کے حوالے سے یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان (تارکین وطن) افراد کی صحت کا خیال رکھیں اور ان کو حفظان صحت کی سہولیات فراہم کریں۔‘‘ دوسری طرف ہفتے کے دن ہی سڈنی میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں شامل شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مانوس جزیرے میں موجود مہاجرین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر

گناہگار تو شاید سب ہیں لیکن میں تو بہت ہی زیادہ گناہگار ہوں۔ مغفرت کی امید ہے تو اپنے عمل کے سہارے نہیں بلکہ غفورالرحیم کی صفت رحمت اور رحمت اللعالمین ﷺ کے جذبہ رحمت کو دیکھ کر بخشش کی توقع لگائے بیٹھا ہوں۔ تاہم حیرت زدہ ہوں کہ وہ لوگ روز قیامت اللہ کو کیا جواب دیں گے جو اس کے نبی پاکﷺ کے پاک نام اور مقدس دین کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور اس کی آڑ میں آپﷺ کی امت کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی مسلمان ہوکر نبی آخرالزمان ﷺ کے خاتم النبین ﷺ ہونے میں رتی برابر بھی شک کرے ۔ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کرختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قوانین میں تبدیلی یا ان سے متعلق سوال اٹھانے کا سوچ سکتا ہے۔

ذہن نہیں مانتا کہ مسلمان ہو کر بھی کوئی دانستہ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قانون کو متنازع بنانے کا خیال ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہوا وہ کوئی سازش تھی یا پھر حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی حماقت ممبران پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو غیرضروری حماقت کی گئی، اس کے اگر ذمہ دار ہیں بھی تو حکمران ہیں یا پھر ان کے اتحادی۔ بنیادی ذمہ داری بلاشبہ وزیر قانون زاہد حامد کی بنتی ہے، پھر کابینہ اور پارلیمنٹ کی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال میرے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں آن ریکارڈ دعویٰ کر چکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی جس کمیٹی نے حلف نامے میں تبدیلی کے قانون کی منظوری دی اس میں جے یو آئی کے ممبر بھی موجود تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان صاحب کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ اجتماعی گناہ کی مرتکب ہوئی ہے۔

اب اگرچہ قانون واپس لے لیا گیا لیکن بہرحال جو جرم سرزد ہوا، اس کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو حکومت یا پھر بقول مولانا فضل الرحمٰن پوری پارلیمنٹ، لیکن اس میں راولپنڈی میں رہنے والے رحمۃ للعالمین ﷺ کے امتی اس مزدور کا تو ہرگز کوئی قصور نہیں کہ جو روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسلام آباد میں دیہاڑی لگانے جاتا ہے اور رستہ بند ہونے کی وجہ سے وہ گزشتہ ایک ہفتے سے مزدوری نہیں کر سکا۔ اسی طرح رحمۃ للعالمین ﷺ کے اس امتی کا بھی کوئی قصور نہیں کہ جو ذاتی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور پنڈی کے مابین آنے جانے کے لئے میٹرو استعمال کرتا تھا لیکن اس کی بندش کی وجہ سے اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا میٹرو کے کھلنے کا انتظار کر رہا ہے ۔

اسی طرح گوجر خان سے تعلق رکھنے والے رحمۃ للعالمینﷺ کے اس امتی کا تو قانون بدلنے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اپنی بیمار والدہ کو شفا اسپتال لا رہا تھا لیکن رستہ بند ہونے کی وجہ سے اسے بلک بلک کر روتے ہوئے اپنی والدہ کواسپتال پہنچائے بغیر ان کی لاش کے ساتھ واپس جانا پڑا۔ وہ باپ تو وزیر ہے اور نہ کابینہ کا رکن بلکہ شاید موجودہ حکومت سے خادم حسین رضوی سے بھی زیادہ نالاں ہیں کہ جو اپنے جگر گوشے کو سڑکوں کی بندش کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچا سکا۔ اسی طرح پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ان سینکڑوں اساتذہ کرام کا تو مجھے کوئی قصور نظر نہیں آیا، جو دھرنے کی وجہ سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے متعلقہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے سے قاصر ہیں۔

کیا فیض آباد، کنہ پل ، آئی ایٹ اور گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اس رحمۃللعالمین ﷺ کے امتی نہیں کہ جس کے نام کی آڑ لے کر گزشتہ ایک ہفتے سے ان سب کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے اور کیا روز قیامت ان لوگوں کے ہاتھ ، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گریبانوں پر نہیں ہوں گے کہ جنہوں نے دھرنے کے ذریعے ان کا جینا حرام کر دیا ۔ کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کے دلوں میں رحمۃللعالمین ﷺ کی محبت کسی دھرنا دینے والوں سے کم ہے۔ جس رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر اس کی امت کو تکلیف دی جا رہی ہے، اس نبیﷺ نے تو مسلمان کی شان یہ بتائی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں ۔

آپﷺ نے رستہ کھلا رکھنے کے لئے مسجد تک کو ڈھانے کا رستہ دکھایا ہے۔ آپﷺ نے تو بندئہ مومن کی حرمت کعبۃ اللہ سے زیادہ بیان فرمائی ہے۔ بات صرف زاہد حامد اور احسن اقبال کی ذات تک محدود ہوتی تو ہم جیسے گناہگار پھر بھی خاموش رہتے لیکن اب تو عاشق رسولﷺ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی فیصلے کی صورت میں بول اٹھے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ماضی کے بعض اقدامات اور فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ ان کے ماضی کے بعض فیصلوں اور کمنٹس پر لبرل حلقوں کی طرف سے اس بنیاد پر اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ شاید ان سے خادم حسین رضوی جیسے لوگوں کو شہ ملتی ہے لیکن اب کی بار تو جسٹس صاحب بھی خاموش نہیں رہ سکے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، علمی میدان میں اس نعیم صدیقی کے جانشین اور پیروکار ہیں جنہوں نے محسن انسانیت ﷺ جیسی شہرہ آفاق کتاب تصنیف کی۔ جسٹس صاحب کسی کو تحفہ دیتے وقت کوئی اور چیز نہیں بلکہ سیرت النبیﷺ پر مبنی اس کتاب یعنی محسن انسانیت ﷺ کا تحفہ دیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر شان رسول ﷺ میں گستاخی سے متعلق کیس میں ان کا تفصیلی اور علمی فیصلہ نبی رحمت ﷺ سے ان کی محبت اور اس موضوع کے علمی نزاکتوں پر ان کے عبور کا بین ثبوت ہے ۔

مجھے یقین ہے کہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی مصلحت یا خوف کا شکار تو ہو سکتے ہیں لیکن اس موضوع پر وہ کسی مصلحت یا خوف کا شکار ہوں گے ، میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ اب جب اس جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی فیصلہ دینا پڑا کہ لبیک تحریک والوں کو اپنا دھرنا ختم کر دینا چاہئے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ حد سے نکل گیا ہے ۔ جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میں کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے رستے سے کانٹے اٹھائے اور آپ لوگوں نے راستے بند کر دئے ہیں ۔ ان کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا کہ نہ صرف دھرنا غیرقانونی ہے بلکہ رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی دھرنے کے منتظمین دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں ۔

دلیل ان کی یہ ہے کہ احتجاج کرنا اور دھرنا دینا ان کا قانونی حق ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے خلاف قانون قرار دلوائے جانے کے بعد بھی وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کر رہے ۔ عدالت عالیہ کا حکم آ گیا کہ معصوم عوام کے رستے بند کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لیکن دھرنا دینے والے پھر بھی اپنی عدالت لگائے بیٹھے ہیں ۔ اندیشہ ہے کہ دھرنا کے منتظمین خود یا کسی کے ایماء پر ایک اور سانحہ لال مسجد برپا کرنے کے مشن پر آئے ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر اور صاحبزادہ فضل کریم وغیرہ بھی خاموش ہیں۔ وہ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور خادم حسین رضوی کی طرح اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ میدان میں کیوں نہیں آتے ۔ اگر حکومت غلط کر رہی ہے تو اس کو سمجھا دیں یا پھر اس سے الگ ہو جائیں اور اگر دھرنا دینے والے غلط کر رہے ہیں تو ان کو سمجھا دیں یا پھر فتویٰ دے دیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے ۔ کیا یہ حضرات بھی ایک اور سانحہ لال مسجد کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ بعد ازاں ان لاشوں پر اپنی سیاست چمکا سکیں ۔

افتخار عارف صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
رحمت سید لولاک ﷺ پہ کامل ایمان
امت سید لولاکﷺ سے خوف آتا ہے

سلیم صافی

ٹرمپ نے ایٹمی حملے کا حکم دیا تو انکار کردوں گا، امریکی کمانڈر

امریکی اسٹریٹجک کمانڈر جنرل جان ہائیٹن کا کہنا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ایٹمی حملے کا حکم دیا تو وہ انکار کر دیں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ جنرل جان ہائیٹن نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں غیر قانونی ایٹمی حملے کا حکم دیا تو وہ انکار کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکار نازک حالات سےمتعلق شعور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایٹمی حملہ کتنی تباہی مچا سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ہائیٹن کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید فوجی احمق ہوتے ہیں لیکن درحقیقت فوجی بھی نازک حالات سے متعلق شعور رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایٹمی حملہ کتنی تباہی مچا سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بطور کمانڈر میرا کام صدر کو مشورہ دینا ہے لیکن اگرمجھے غیرقانونی کام کا حکم ملا تو میں انکار کردوں گا۔

فوجی مشقوں میں ’دشمن‘ اتاترک، ایردوآن : نیٹو نے معافی مانگ لی

نیٹونے اتاترک، اردوگان کو دشمن ظاہر کرنے پر ترکی سے معذرت کر لی، ترک میڈیا کے مطابق نیٹو سیکریٹری جنرل اسٹولن برگ نے تنازع کھڑا ہونے پر ترکی سے معذرت کی ہے۔ ا ن کا کہنا ہے کہ ناروے واقعہ انفرادی عمل کا نتیجہ تھا جس کا اتحاد کے نقطہ نظرسے کوئی تعلق نہیں، ناروے میں جس شخص نے ترک مخالف اقدام کیا، وہ نیٹو کاملازم نہیں، ترکی نیٹو کے فوجی اتحاد کا اہم حصہ ہے۔ ناروے میں فوجی مشق کے دوران دشمن کی تصویرکے طور پر ترکی کے بانی قائد مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصویر استعمال کی گئی، جس کے ردعمل میں ترکی نے مشقوں میں شریک اپنے 40 فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ترک صدر طیب رجب اردوگان کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ سے نیٹو مخالف پیغامات بھی بھیجے گئے اور ناروے میں فوجی مشقوں کے دوران مصطفیٰ کمال اتاترک اور صدر رجب طیب اردوگان کو مبینہ طور پر بطور دشمن ظاہر کیا گیا۔

کھوپڑیاں اور چوہے : بھارتی کسان سراپا احتجاج

گذشتہ ہفتے انڈیا میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج
ریکارڈ کروایا۔ 65 سالہ چناگو ڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے دہلی کے قریب جنتر منتر کے علاقے میں ایک خیمے میں مجھے بتایا : ‘میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔’ پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تمل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے انڈیا نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہروں کی مانگ بھی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں اور وہ انسانی کھوپڑیاں لہرا رہے ہیں جو ان کے بقول مردہ کسانوں کی ہیں۔ انھوں نے آدھے سر منڈوا رکھے ہیں اور منھ میں زندہ چوہے پکڑ رکھے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ہاتھ کاٹ کر ‘احتجاجی خون’ بہا رہے ہیں، جب کہ کچھ گرم بجری پر لوٹ رہے ہیں۔ کچھ لوگ فرضی جنازوں کی رسمیں بھی ادا کر رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ مطالبے تسلیم نہ ہونے تک دہلی میں ڈٹے رہیں گے. جب ان لوگوں کو وزیرِ اعظم سے ملنے کی اجازت نہیں ملی تو انھوں نے ایوانِ وزیرِ اعظم کے قریب اپنے کپڑے اتار لیے۔ جب ان میں سے ایک احتجاجی نے چوہا منھ میں پکڑ کر خود کو ایک درخت سے لٹک کر پھانسی دینے کی کوشش کی تو آگ بجھانے والے عملے کو بلانا پڑا۔ ان میں سے کئی افراد کو علاج کے لیے ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔ انھیں میڈیا کی جانب سے توجہ تو ملی ہے لیکن بعض مظاہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کا میڈیا انھیں کرتب باز سمجھتا ہے اور ان کے احتجاج کے پیچھے درد و کرب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک مبصر نے لکھا کہ یہ احتجاج ‘مضحکہ خیز حد تک بڑھ گیا ہے جہاں اس کا مقصد احتجاج سے زیادہ پرفارمنس بن کر رہ گیا ہے۔’ تمل ناڈو کے 40 فیصد سے زیادہ لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ وہاں خشک سالی، فصلوں کی کم قیمتوں اور زرعی قرضے حاصل کرنے میں مشکلات نے اس ریاست میں کئی عشروں کا بدترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہو گا یا نہیں۔ انڈیا میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انڈیا میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ‘یہ میری زندگی کا بدترین زرعی بحران ہے۔ میں نے ایسا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا۔’ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تمل ناڈو کے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک 58 کسان خودکشیاں کر چکے ہیں۔ تاہم ایک مقامی تنظیم کے مطابق اصل تعداد ڈھائی سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ جنتر منتر میں موجود یہ کسان اپنی بنجر زمینوں اور مردہ درختوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جب کہ درجۂ حرارت بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ پالانیسامی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر اپنی ڈائری میں کچھ تحریر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے حال میں کچھ شاعری بھی کی ہے جس میں وہ اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔

مر چکی ہے، مر چکی ہے، زراعت مر چکی ہے

اذیت ہے، اذیت ہے، زراعت کی موت

جل رہے ہیں، جل رہے ہیں

کسانوں کے دل اور پیٹ

روکو، اسے روکو

کسانوں کی موت کو

سوتک بسواس

بی بی سی نیوز، انڈیا

یہاں استعفیٰ دیا نہیں لیا جاتا ہے

پاکستان میں جب کوئی جماعت حزبِ اختلاف ہوتی ہے تو اسے فوراً سیاسی اخلاقیات کا بھولا ہوا سبق یاد آنے لگتا ہے اور وہ کرپشن، نااہلی اور بد عنوانی کے خلاف سینہ سپر ہو جاتی ہے۔ حزبِ اختلاف بات بات پر صدر سے تھانے دار تک ہر ایک سے استعفی مانگتی پھرتی ہے اور جب خود اقتدار میں آتی ہے تو سیاسی اخلاقیات بھول بھال کر ہر بد انتظامی اور کرپشن کے بارے میں وہی تاویلات پیش کرنا شروع کر دیتی ہے جو اس کی پیشرو حکومت پیش کرتی تھی اور پیشرو حکومت حزبِ اختلاف میں آ کر اسی سیاسی اخلاقیات کے منبر پر بیٹھ جاتی ہے جو گذشتہ حزبِ اختلاف کے حزبِ اقتدار بننے سے خالی ہوا تھا۔

یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہوتا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے۔ اگر بہت دور چلے گئے تو بات بھی بہت دور نکل جائے گی۔ فوری یادداشت کا سہارا لیا جائے تو سابق وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کا دور یاد آتا ہے جب وزیرِ مواصلات پرنس محی الدین، وزیرِ بلدیات انور عزیز چوہدری اور پیداوار کے وزیرِ مملکت اسلام الدین شیخ کو بدعنوانی، غفلت یا خورد برد کے الزامات لگتے ہی وزیرِ اعظم نے خود برطرف کیا۔ وہ الگ بات کہ چھان بین کے نتیجے میں بعد ازاں صرف اسلام الدین شیخ پر ہی باضابطہ فردِ جرم عائد اور ثابت ہوئی مگر جونیجو کی اصول پسندی خود ان کے کسی کام نہ آ سکی۔

سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چلتا کیا۔ مگر سنہ 2010 میں خود یوسف رضا گیلانی کو اپنے تین وزرا بدعنوانی یا ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برطرف کرنا پڑے۔ وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن اور پھر اس کرپشن میں حصہ داری نہ ملنے کا شکوہ کیا لہذا انھیں جانا ہی تھا۔ وزیرِ سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنے ہی ہم کابینہ وزیرِ مذہبی امور حامد سعید کاظمی پر حاجیوں کو لوٹنے اور حج کوٹے کی فروخت کا الزام لگایا تو یوسف رضا گیلانی نے دونوں وزرا کو کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا۔

اعظم سواتی جمیعت علماِ اسلام کے کوٹے پر وزیر تھے لہذا ان کی برطرفی پر مولانا فضل الرحمان احتجاجاً حکومت سے الگ ہو گئے۔ حامد سعید کاظمی کو کرپشن ثابت ہونے پر جیل جانا پڑا جہاں سے وہ ابھی پچھلے ماہ ہی رہا ہوئے ہیں۔ جہاں تک شریف دور کا معاملہ ہے توسنہ 2014 میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے دس حامیوں کی ہلاکت کے بعد غم و غصہ روکنے کے لیے وزیرِ اعلی شہباز شریف نے کچھ عرصے کے لیے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سے قلمدان واپس لے لیا اور پھر موقع محل دیکھ کر واپس بھی کر دیا۔

جب وزیرِ تعلیم و سیاحت و امورِ نوجوانان رانا مشہود احمد خان کی ایک وڈیو سامنے آئی جس میں وہ رشوت لے رہے ہیں اور اسی دوران 20 ارب روپے کے ایک سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبہے میں نیب نے رانا صاحب کے خلاف چھان بین شروع کردی تو وزیرِ اعلی شہباز شریف اور پارٹی کے ‘اخلاقی دباؤ’ کا احترام کرتے ہوئے رانا مشہود نے امورِ نوجوانان اور سیاحت کا قلمدان تو چھوڑ دیا مگر تعلیم کی وزارت پھر بھی رکھی۔ کچھ عرصے بعد رانا صاحب کو چھان بین کے نتیجے میں کلین چٹ مل گئی اورایک بار پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔ سنہ 2015 میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کو جب تک الیکشن کمیشن نے انتخابی بے قاعدگیوں کے الزامات کے نتیجے میں نشست سے محروم نہیں کر دیا تب تک انھوں نے بھی اخلاقاً پہل نہیں کی۔ اس کے بعد بھاری اکثریت سے دوبارہ انتخاب جیت کر دوبارہ اسپیکر کی کرسی سنبھال لی اور دوبارہ عمران خان کو غصہ دلایا۔

جب بھی ملک میں دہشت گردی کی بڑی واردات کے بعد حزبِ اختلاف سدا بہار وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے تو چوہدری صاحب اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اتنے جوابی وار کرتے ہیں کہ حزبِ اختلاف اگلے ایک ہفتے تک اپنے زخم سہلاتی رہتی ہے۔ چوہدری صاحب نے تو امن و امان کی ابتری اور کوئٹہ سول سپتال میں 50 سے زائد وکلا کی ہلاکت کے اسباب کی چھان بین کے لیے قائم سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن کی سفارشات کو ‘لیرو لیر’ کر دیا تو حزبِ اختلاف کیا بیچتی ہے۔ سنا ہے ایک آدھ بار چوہدری صاحب نے وزیرِ اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کی بھی پیش کش کی مگر میاں صاحب نے ان کی یہ درخواست سختی سے مسترد کر دی۔ میاں صاحب گرم و سرد چشیدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ کابینہ میں اس طرح کی بدعت اگر شروع ہو گئی تو بات جانے کہاں تک پہنچے۔

خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت نے نومبر سنہ 2013 میں گڈ گورننس اور شفاف سیاست کی خاطر دو صوبائی وزرا کو بدعنوانی اور ہیرا پھیری کے الزام میں کابینہ سے چلتا کر دیا مگر دونوں کا تعلق اتفاق سے اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے تھا۔ خود پی ٹی آئی کے وزیرِ مواصلات یوسف ایوب تب تک برطرف نہیں ہوئے جب تک وہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم کورٹ میں آخری اپیل نہیں ہار گئے۔ البتہ خود تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انتخابی دھاندلی چھان بین کمیشن میں سنہ 2013 کے انتخابات میں 35 پنکچر کیس ہارنے کے باوجود قومی اسمبلی کی نشست پر نئے عزم اور دلائل کے ساتھ براجمان رہے اور تقریریاتی کنٹینر بھی ساتھ میں رکھا۔

جعلی ڈگری سے یاد آیا کہ جب سنہ 2008 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی بننے والے جمشید دستی کو جعلی ڈگری رکھنے کی پاداش میں نا اہل قرار دے کر نشست سے محروم کر دیا گیا تو ضمنی انتخاب میں وہ پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی موجودہ نو سالہ حکومت کے دوران جہاں بہت کچھ ہوا وہاں یہ بھی ہوا کہ ایک وزیرِ باتدبیر شرجیل انعام میمن جب اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سے گھبرا کر دوبئی ہجرت کر گئے تو وزارتی قلمدان بھی ساتھ لے گئے اور کئی ہفتوں بعد واپس کرنے پر رضامند ہوئے۔ پچھلے ماہ جب وہ اپنے خلاف ‘جھوٹے مقدمات’ کا سامنا کرنے کے لیے ہائی کورٹ کی پیشگی ضمانت سے مسلح ہو کر اسلام آباد اترے اور پھر فاتحانہ حیدر آباد لوٹے تو جیالوں نے صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے شرجیل میمن کی بے لوث خدمات پر گولڈن تاجپوشی کی۔

مگر ایسا نہیں کہ کوئی ضمیر کی آواز ہی نہیں سنتا۔ سنہ 1983 میں جب ضیا حکومت کے وزیرِ بلدیات سید فخر امام ضیا حکومت کے ہی ایک حامی یوسف رضا گیلانی سے ڈسٹرکٹ کونسل ملتان کی چیئر مین شپ کا انتخاب ہار گئے تو انھوں نے وفاقی وزارت سے استعفی دے دیا۔ فخر امام کے اس قدم کو سب ہی نے سراہا اور بعد ازاں غیر جماعتی قومی اسمبلی کے پہلے سپیکر منتخب ہوئے۔ اسی طرح اگست سنہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ عندیہ ملنے پر کہ وہ دوسرا صدارتی انتخاب بھی وردی میں لڑیں گے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیرِ مملکت اسحاق خاکوانی نے اپنے ضمیر کی سنتے ہوئے وزارت سے استعفی دے دیا۔ عدلیہ میں ایسے کئی جج ہیں جنھوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم ناموں کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور گھر بیٹھ گئے۔ مگر اب تک ایک ہی ایسی مثال سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ عدالت کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کا ریفرنس دائر ہو اور وہ سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا عہدہ چھوڑ دے۔

یہ واقعہ اس سال فروری میں پیش آیا جب لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظہر اقبال سندھو نے سماعت کا سامنا کرنے سے پہلے ہی جج کی کرسی سے استعفی دے دیا۔ جہاں تک فوج کا معاملہ ہے تو میجر جنرل سکندر مرزا نے عہدہِ صدارت سے تب رضاکارانہ استعفی دیا جب جنرل ایوب خان کے ساتھی جنرلوں نے ان کے سامنے ایک ٹائپ شدہ کاغذ اور اس پر ایک پستول بھی بطور پیپر ویٹ رکھ دیا۔

ایوب خان نے بھی 25 مارچ 1969 کو عہدۂ صدارت رضاکارانہ طور پر چھوڑا جب ان کے سپہ سالار جنرل یحییٰ خان نے آہستگی سے کہا ‘سر ہم آپ کو بہت مس کریں گے۔’ انہی یحییٰ خان نے 20 دسمبر سنہ 1971 کو ملک ٹوٹنے کے چار دن بعد اپنی مرضی سے استعفی دیا کیونکہ انھیں بتا دیا گیا تھا کہ بطور صدر اپنی مرضی استعمال کرنے کا یہ آخری موقع ہے۔

18 اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد مطمئن رخصت ہوئے حالانکہ انھوں نے اپنے پیشرو رفیق تارڑ کو یہ اعزاز نہیں بخشا تھا۔ فوج میں صرف ایک مثال ایسی ہے جب بری فوج کے ایک سربراہ نے دھڑن تختہ کیے بغیر اپنے عہدے سے قبل از اختتامِ مدت استعفی دیا ہو۔ وہ تھے جنرل جہانگیر کرامت ۔ جب ان کی نواز شریف کی دوسری حکومت سے نہیں بنی تو پنجہ آزمائی کے بجائے کنارہ کش ہو گئے۔ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو شاید 12 اکتوبر سنہ 1999 بھی نہ ہوتا۔

اگست سنہ 2008 دو ہزار آٹھ کو جنرل پرویز مشرف نے بھی پارلیمنٹ کی جانب سے مواخذہ شروع ہونے سے پہلے پہلے رضاکارانہ طور پر استعفی دے دیا. جہاں تک کرپشن کا معاملہ ہے تو فوج میں کسی نے ازخود استعفی نہیں دیا جب تک برطرف نہیں کیا گیا یا آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلا۔ بھلے وہ این ایل سی سکینڈل میں ماخوز لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل مظفر اور میجر جنرل خالد طاہر اختر ہوں یا ایف سی بلوچستان کے سابق کمانڈنٹ لیفٹیننٹ جنرل عبید اللہ خٹک، میجر جنرل اعجاز شاہد بریگیڈئیر اسد شہزاد، سیف اللہ، عامر اور کرنل حیدر ہوں یا پھر بحریہ کے سابق سربراہ ایڈ مرل منصور الحق ہوں جو گرفتاری کے بعد پلی بارگین کے تحت 7.5 ملین ڈالر نیب میں جمع کرا کے بری ہوئے۔

واپڈا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے گذشتہ برس خود پاکستان آ کر پلی بارگین کے تحت کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے 200 ملین روپے واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر جمہوریتوں میں گڈ گورننس ہر شخص اور ادارہ چاہتا ہے مگر ضمیر کی گورنننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے علاوہ سب کا احتساب جاری رہے گا۔

وسعت اللہ خان

تجزیہ کار

پانامہ کیس : ’تحقیقاتی ٹیموں کا راستہ ایک بند گلی‘

’نواز شریف ایک جائز طور پر منتخب وزیر اعظم ہیں لیکن اب تک وہ قوم کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے خاندان نے جو دولت جمع کی ہے وہ جائز طریقے سے کمائی ہوئی ہے۔‘ پاکستان کے سب سے مقتدر اخبار روزنامہ ڈان نے پاناما پیپرز پر سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے پر اداریے کا اختتام مندرجہ بالا سطروں پر کیا ہے۔ پاناما پیپرز کے فیصلے پر جمعے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے ادارتی صفحات پر عدالت عالیہ کے اس ‘تاریخی فیصلے’ پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے ایک اور اخبار ‘ڈیلی ایکسپریس’ نے اس موضوع پر اپنے اداریے کی ابتدائی سطروں میں کہا ہے کہ شریف فیملی کے علاوہ شاید چند ہی ایسے لوگ ہوں گے جو سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر شاد ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ایک اور اخبار ’دی نیشن‘ نے اپنے اداریے کی ابتدا ہی میں یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک ایسا فیصلہ نہیں تھا جو 20 برس تک یاد رکھا جائے اور نہ ہی اس فیصلے نے وزیر اعظم کو الزامات سے بری کیا ہے۔ انگریزی زبان کے لاہور سے شائع ہونے والے اخبار ‘پاکستان ٹوڈے’ نے ‘منقسم فیصلے کے مضمرات’ کے عنوان سے اپنے ادارے کی پہلی سطر میں لکھا کہ جو فیصلہ تاریخی کہہ کر پیش کیا گیا اس نے بہت سے لوگوں کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔ تمام بڑے اخبارات اس بات پر متفق ہیں کہ یہ فیصلہ حکمران خاندان کے لیے خوشیاں منانے کا کوئی جواز فراہم نہیں کرتا اور ان پانچ ججوں نے وزیر اعظم کو کرپشن کے سنگین الزامات سے مکمل طور پر پاک نہیں کیا ہے۔

روزنامہ ڈان نے مشترکہ تحقیقاتی کمیشن میں فوج کے نمائندوں کو شامل کرنے کے اہم نکتے پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس اور پاکستان فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے نمائندوں کو اس مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا جانا ایک لحاظ سے سویلین اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے سویلین امور میں فوج کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ سویلین امور سویلین ادارے ہی حل کریں۔

’مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل میں فوج کے نمائندوں کو شامل کیا جانا خاص طور پر ایک وزیر اعظم کے خلاف مالی اور قانونی امور کی تحقیقات کے لیے ایک غیر معمولی قدم ہے اور ایک ایسی مثال ہے جو کہ قائم نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘ اخبار کہتا ہے کہ ماضی میں سیاسی طور پر کشیدہ ماحول میں بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کا خاص طور پر ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اور یہ راستہ ایک بند گلی میں ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان کا روزنامہ جنگ اپنے اداریے کے آخر میں لکھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس اعتبار سے یقیناً تاریخ ساز ہے کہ پاکستان میں بھی ملک کے سب سے بااختیار منصب پر فائز شخصیت کو ملک کے تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا جس سے عدل و انصاف کی بالادستی کی نئی اور شاندار روایت قائم ہو گی۔ روزنامہ ڈیلی ایکسپریس نے اپنے اداریے کا اختتام بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خزانے کے اصل ماخذ کا پتا چلنا ابھی باقی ہے لیکن اس ڈارمے کے ڈراپ سین کے لیے شاید فیوڈر ڈسٹووسکی کے مشہور ناول ’کرائم اینڈ پنشمنٹ‘ سے کچھ نکالنا پڑے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

رجب طیب اردوآن : خوابوں کا صورت گر

حال ہی میں ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے ترک قوم نے اپنے سیاسی نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کیا، اب وہ پارلیمانی کے بجائے صدارتی نظام کے سائے تلے زندگی بسر کرے گی۔ اگرچہ مغربی حکمرانوں نے ترک قوم کو صدر رجب طیب اردوآن کی حمایت سے باز رکھنے کی ہزار ہا کوششیں کیں لیکن قوم اپنے رہنما کے ساتھ کھڑی ہے۔ آخر اس شخص میں کیا ہے جو قوم اس کی محبت میں مبتلا ہے، اُس نے کیسے دیوالیہ ہوجانے والے ترکی کو بلندوبالا مقام عطا کیا، اس کا جواب صدر اردوآن کے زیر نظر خاکہ سے بخوبی ملتا ہے، جو ممتاز صحافی اور مصنف محمد فاروق عادل کی زیرطبع کتاب’’ جو صورت نظرآئی‘‘ کا حصہ ہے۔ (ادارہ)

شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے سارا سامان فروخت ہوچکا تھا، میں نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ میری دن بھر کی آمدنی بھی ہمارے ایک دن کے اخراجات کے لیے ناکافی ہے، میں دکھی ہو گیا اور میں نے سوچا:

’’محنت کش کو اس کی محنت کا حق ملے گا کبھی ؟‘‘

میں نے یہ سوچا پھر میری آنکھیں بھر آئیں۔ میری آنکھوں کے سامنے پہلے میرے والد کی تصویر ابھری پھر کچھ دوسرے چہرے۔ میرے والد نے اپنی زندگی دفتر کو دے ڈالی تھی اور اب ان کے بال سفید اور جسم کمزور ہو چلا تھا لیکن ان کی زندگی بھر کی کمائی ہمارے لیے ناکافی تھی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے محمت کی شبیہ ابھری، قاسم پاشا کا نان بائی، زندہ دل اور یار باش لیکن رات کوگھر جانے سے پہلے اس کی ساری شوخی ہوا ہوجاتی کیوں کہ کام ختم کرنے کے بعد جب وہ غلے سے نکال کر لیرے گنتا تو سوچتا کہ اتنے تھوڑے پیسوں سے گھر کاخرچہ کیسے چلے گا؟

میری آنکھوں کے سامنے اس روز گلی صاف کرنے والے چپ چو (çöpçüبہ معنی خاکروب)، گاؤں میں غلہ اگانے والے چٹ چی (çiftçi بہ معنی کسان)، اسکول میں پڑھانے والے اورٹ من (ögretmen بہ معنی استاد) اور جانے کن کن لوگوں کی تصاویر ابھریں اور میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی قسمت شاید کبھی نہ بدلے پھر ایک جذبہ میرے دل کے نہاں خانے سے ابھرا اور میں نے سوچا کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھٹکنا کیسا؟ یہ جھنڈا کیوں نہ میں خودہی اٹھا لوں۔ میں نے یہ سوچا اور میری تھکن دور ہو گئی۔ اس روز رات کا کھانا میں نے بے دھیانی سے کھایا کیوں کہ قسمت بدلنے کے کئی منصوبے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔ اس کیفیت کو آنے (anne یعنی ماں) نے میری لاپروائی جانا اور گوشمالی کی۔ کہا کہ یہ لڑکا جانے کن خیالوں میں کھویا رہتا ہے؟ کبھی سدھرے گا نہیں۔ میں خاموش رہا اور سوچا کہ جو بات میرے دل میں ہے، اسے میں زبان پہ کیسے لاؤں؟

لیکن بابا نے اس قضئے پر ہمیشہ کی طرح در گزر سے کام لیا اور میں نے سوچا کہ مردوں کو اسی طرح متحمل اور مستقل مزاج ہونا چاہئے پھر سوچا: ’’ جو عزم میں نے کیا ہے، مستقل مزاجی اس کے لیے ضروری ہوگی‘‘۔ میرے ذہن میں ایک اور خیال نے جگہ بنائی۔ اپنے معمول کی طرح میں اب بھی اوکل (Okul یعنی اسکول) جاتا اور ہر شام ساحل پر مزدوری بھی کرتا لیکن میرا ذہن ہمیشہ ایک ہی بات سوچتا کہ کب بدلے گی یہ دنیا؟‘‘۔ یہ طیب کی کہانی ہے جو استنبول کے غریب خاندان میں پیدا ہوا اور محنت مزدوری کے دوران اس نے ایک بڑا خواب دیکھا، آنے والے برسوں میں جس کی تعبیر اس نے اپنے ہاتھوں سے تراشنی تھی۔ لڑکپن میں معصوم خواب دیکھنے والے اس بچے کو میں نے لاہور میں اس زمانے میں دیکھا جب اپنے خوابوں کی بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرنے کی طاقت وہ بڑی حد تک حاصل کر چکا تھا اور دنیا اسے استنبول کے مئیر رجب طیب ایردوآن کے نام سے جاننے لگی تھی۔ اْس روز وہ لاہور میں تھا اور پرشکوہ مینار پاکستان کے سائے میں اسے خطاب کرنا تھا، وہ نسبتاً سبک روی سے چلتا ہوا چبوترے پر پہنچا، آسمان کو چھوتے ہوئے مینار کی عظمت پر ایک نگاہ ڈالی اور مسکرایا:

’’خواب کیسے حقیقت بنتے ہیں اور کیسے ان کی عظمت کو جلا بخشنے کے لیے عمارتیں وجود میں آتی ہیں‘‘۔ مسکراہٹ نے اس کے دل کا حال بیان کر دیا۔ ممکن ہے، اس روز اس شخص نے سوچا ہو کہ اپنے وطن کی لولی لنگڑی معیشت کو توانا کرنے کے لیے مجھے بھی اسی عزم سے کام کرنا ہے جس عزم کی کہانی یہ عظیم الشان مینار بیان کرتا ہے۔ اس روز جب اس شخص نے زباں کھولی تو اس کا طرز بیاں اپنی شہرہ آفاق شعلہ بیانی سے کوسوں دور تھا، اس دن اس مقرر نے اپنے دل کا حال ایسے بیاں کیا جیسے کوئی کیفیت اس پہ طاری ہو، اس نے کہا:

’’ ہماری جو بھی کوشش ہو، عوام کی خاطر ہو، یہ کرلیا تو سمجھو وہ کر لیا جس کے لیے یہ امت صدیوں سے بھٹکتی پھر رہی ہے’’۔

مینار پاکستان کے سائے میں اس روز بہت تقریریں ہوئیں لیکن یہ تقریر لوگوں کے دلوں کو چھو گئی اسلام کے بارے میں مغرب کے تعصبات اور افغانستان کا جہاد اس زمانے کا محبوب موضوع تھا لیکن اس شخص نے زمانے کے چلن سے ہٹ کر ایک نیا خیال پیش کیا کہ طاقت محض بندوق اور اس کی گولی میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں ہے جس کی مددسے لوگوں کی زندگی آسان بنائی جا سکے۔

رجب طیب ایردوان استنبول کے مئیر بنے تو یہ شہر ہمارے کراچی کی طرح بے یار و مدد گار اور اہل اقتدار کی عدم توجہی کا شاہکار تھا، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے رہتے جو آتے جاتوں کو منہ لپیٹ کر چلنے پر مجبور کرتے اور ان کے جسم و جاں کے لیے مسائل پیدا کرتے۔ مشہور تھا کہ سفید قمیص پہن کر شہر میں جاؤ تو اپنی ضمانت پر جاؤ۔ بیکریوں کے سامنے لوگوں کی قطاریں لگی رہتیں مگر وہ روٹی سے محروم رہتے اور بیمار دواخانوں پر ہجوم کیے رکھتے مگر صحت ان کی قسمت میں کم ہی ہوتی۔ کہیں جانے کے لیے لوگ وقت سے کہیں پہلے گھروں سے نکلتے مگر اکثر تاخیر سے بھی منزل پر پہنچ نہ پاتے۔ برس ہا برس سے استنبول کے ایسے ہی شب و روز تھے، شہر کے حکمراں بدلتے ضرور مگر شہر والوں کی قسمت کبھی نہ بدلتی۔ کچھ اس طرح کے حالات تھے جن میں رجب طیب ایردوآن مئیر منتخب ہوئے اور دہائیوں سے ناسور کی طرح بدبو دیتے ہوئے مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہو گئے۔

مسائل پرانے بھی تھے اور پیچیدہ بھی مگر ان کے اندازِ کار سے پتہ چلا کہ بہت سوچ سمجھ کر انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کی ہو گی اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے وہ پہلے سے ہی تیار تھے۔ یہ طرز عمل آگے چل کر ان کے بہت کام آیا۔ میئر بننے کے بعد وہ دفتر کے ہو کر ہی نہیں رہ گئے، ان کا بیشتر وقت دفتر سے باہر گزرتا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ وہ گھر سے نکل کر کسی ایسی جگہ جا پہنچتے جو کسی کے سان گمان میں بھی نہ ہوتی۔ اپنے اسی معمول کے تحت ایک روز وہ ایوپ سلطان ( حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار کا علاقہ) کی طرف جا نکلے جس کے قریب ہی ایک مقام پر گندگی کے بڑے بڑے ڈھیر پڑے رہتے تھے۔ میئر کو اس طرف جاتا دیکھ کر عملے کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، کسی نے کہا:

اے فندم! گٹ مک اچن یاشک تر(Efendim, oraya gitmek yasaktir

یعنی سر!اس طرف جانا مناسب نہیں)

’’اسی لیے تو میں وہاں جانا چاہتا ہوں‘‘

میئر نے بلا تامل جواب دیا۔

’’سر، گندگی اور بدبوکے سبب وہاں ذرا سی دیر رکنا بھی مشکل ہو گا‘‘

’’لیکن ہزاروں لوگ وہاں رہتے ہیں‘‘

مشورہ دینے والا لاجواب ہو گیا۔ اس روز شام سے پہلے پہلے یہ جگہ صاف ہو گئی اس کے بعد شہرکے بہت سے دوسرے علاقے بھی آئینے کی طرح چمکنے لگے۔ اپنی اس کامیابی پر وہ مسرور تھے اور شہر والے بھی:

’’بو ہا ریکا ‘‘(bu harika یعنی یہ تو کمال ہو گیا)۔

لوگ عام طور پر کہا کرتے لیکن انکے ذہن میں ابھی ایک منصوبہ اور بھی تھا۔ ایک روز büyüksehir belediyesi (یعنی میٹرو پولیٹن میونسپلٹی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے دکھ کے ساتھ انھوں نے کہا: ’’لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں کہ شہر صاف ہو گیا مگر خرابی کی ایک جڑ تو اب بھی موجود ہے‘‘۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کا مقصد شہر کو آلودگی سے پاک کرنا تھا۔ انھوں نے کہا: ’’ میں چاہتا ہوں، دنیا کے جدید شہروں کی طرح میرا شہر بھی پھول پودوں کی خوشبو سے مہکنے لگے‘‘۔

استنبول میں صدیوں پرانے بڑے خوب صورت درخت پائے جاتے ہیں لیکن آلودگی کے سبب ان درختوں کا حسن ماند پڑ چکا تھا اور دن پر دن وہ کمزور ہوئے جاتے تھے لہٰذا ایک جامع منصوبے کے تحت پرانے درختوں کو تحفظ دیا گیا اور ایک خیال (Theme) کے تحت نئے درخت لگائے گئے۔ اگلے چند ہی برسوں میں شہر کا حلیہ بدل گیا، فٹ پاتھ پرچلنے والے لوگوں کو سایہ بھی میسر آ گیا اورصاف ستھرا ماحول بھی لیکن مئیر صاحب شاید اب بھی مطمئن نہ تھے۔ ایک روز ائیر پورٹ کے راستے میں ایک ایسے موڑ پر انھوں نے گاڑی رکوا دی جہاں سامنے سے ڈھلوان کی طرح اترتی ہوئی ایک پہاڑی پراگا ہوا گھاس پھوس راہ چلتوں کو متوجہ کرتا تھا۔ مئیر صاحب کچھ دیر وہاں کھڑے یہ منظر دیکھتے اور کچھ سوچتے رہے پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

یہ ایک نئی مہم کی ابتدا تھی جس کے نتیجے میں یہ جگہ ایک نیا اور دل خوش کن منظر پیش کرنے لگی۔ مٹی اور پتھرکی اس دیو ہیکل چٹان پر اس ترتیب سے پھول پودے لگائے گئے کہ لوگوں کو دور ہی سے مولانا روم کا درویش محو رقص نظر آتا۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں ثقافتی مظاہر کی نمائش کے لیے ہورڈنگ اور بل بورڈ لگائے جاتے ہیں مگر یہاں یہ کام پھول بوٹوں سے لیا گیا جس سے شہر والوں کی خوش ذوقی کا اظہار ہوا، ترک شناخت نمایاں ہوئی اور ماحول دوستی کا حق بھی ادا ہو گیا۔ آئندہ چند برسوں کے دوران یہ شہر جس میں کبھی خاک اڑا کرتی تھی، اس طرح کے دل کو موہ لینے والے مناظر سے بھر گیا۔ یہ مرحلہ طے ہوا تو ایک روز مئیر نے کہا:

’’یہ جوشہر کی سڑکوں اور ان کے بیچ خالی قطعوں (Dividers) میں خاک اڑتی نظر آتی ہے،مجھے پسند نہیں‘‘

’’پھر؟‘‘

کئی سوالیہ آوازیں ایک ساتھ ابھریں تو مئیر نے کہا:

’’انھیں پھولوں سے بھر دیا جائے‘‘۔

’’مگر کس پھول سے؟‘‘

یہ سوال اٹھا تو بحث کا دروازہ کھل گیا لیکن ایردوآن نے چند لفظوں میں موضوع سمیٹ دیا، انھوں نے کہا:

’’تمھارا خیال لالے(lale یعنی ٹیولپ کے پھول) کی طرف کیوں نہیں جاتا؟‘‘

’’لالے؟‘‘

کسی نے حیرت سے کہا تو انھوں نے کہا کہ ہاں لالے جو ہماری تہذیب کا نمائندہ، آبا واجداد کی نشانی اور مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافت کا سفیر ہے۔ ایردوآن کے فیصلوں میں تاریخ، ثقافت اور تہذیبی شعور کی جھلکیاں ہمیشہ ایسے نظر آتیں جیسے انگشتری میں نگینہ۔ آج جب کوئی اجنبی استنبول میں داخل ہوتا ہے تو لالے یعنی ٹیولپ کے رنگا رنگ حسن میں ڈوب ڈوب جاتا ہے۔ پروفیسر نجم الدین اربکان کی حکومت کے خاتمے کے بعد رفاہ پارٹی سخت آزمائش میں تھی، کارکن پریشان تھے اور کسی قدر بے حوصلہ، اس موقع پر طیب ایردوآن نتائج کی پروا نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں کودے۔ یہ بالکل اسی زمانے کی بات ہے جب انھوں نے اپنی تقریر میں ایک نظم پڑھی جس میں انھوں نے مساجد کو چھاونی، گنبدوں کو خود (Helmet) اور میناروں کو اسلحہ قرار دیا تھا۔ اس نظم نے گویا بھس کو چنگاری دکھا دی اور ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کر کے عمر بھر کے لیے انھیں کسی سرکاری منصب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ ’’اب یہ شخص کبھی کسی قصبے کا مئیر بھی بن سکے تو جانیں!‘‘

طیب ایردوآن کے مستقبل کے بارے میں یہ بات زبان زدعام تھی لیکن اس شخص کے ذہن میں تو ایک اور ہی منصوبہ تھا۔ انھوں نے اپنی متنازع تقریر میں مسجدوں اور میناروں کی بات کر کے صرف سلطنت عثمانیہ کی یاد تازہ نہ کی تھی بلکہ نظریاتی طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کے سامنے ایک نیا نظریہ بھی پیش کیا تھا تا کہ مذہب اورسیکیولرزم کی بحث سے آگے بڑھ کر ملک کو ترقی کی منزل کی جانب گامزن کیا جاسکے مگر یہ بات ایسی ہے جسے ان کے ناقدوں نے نظر انداز کر دیا۔ طیب ایردوآن کا یہ نظریہ ترکی کے مخصوص سیاسی پس منظر سے ہی مختلف نہ تھا بلکہ یہ زاویہ نگاہ ان کے اپنے قائد اور استاد پروفیسر نجم الدین اربکان کی سیاسی حکمت عملی سے بھی ایک جرات مندانہ اختلاف تھا۔اس نئے سیاسی تصور کوسمجھنے کے لیے اسلامی تحریکوں کے ذہن کو سمجھنا ضروری ہے ۔

جس کے تحت مغرب کو مسائل کی جڑ قرار دے کر اس کے خلاف توپوں کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں جس کے سبب اسلام اور مغرب کے درمیان کشیدگی کا ایسا شور اٹھ جاتا ہے جس میں اعتدال کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔ ایردوآن نے فرد کے لیے عقیدے،عبادت اور رسم و رواج (ترکی کے پس منظر میں حجاب یعنی اسکارف پابندی) کی آزادی کے مغربی تصورات کی تحسین کی اور کہا کہ اپنی قومی ترقی کے لیے کیوں نہ ہم بھی یہی حکمت عملی اختیار کریں۔ ترکی کے دائیں بازو یا یوں کہیے کہ خود ان کی اپنی جماعت (رفاہ پارٹی) نے اس تصور کو مسترد کر دیا لیکن ان کا ساتھ دینے والے بھی کم نہ تھے جن میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیر اعظم احمت داؤد اولو موجودہ رکن پارلیمنٹ برہان کیاترک سمیت کئی اہم قائدین شامل تھے۔

اسلام اور سیکیولرزم کے حوالے سے ترکی کے مخصوص ماحول میں یہ اعتدال کی راہ تھی جسے بھرپور پزیرائی ملی کیوں کہ ماضی میں مغربی سیکیولرزم کو مثالی قراردینے کے باوجود فرد کی رائے اور خواہش کو نظر انداز کردیا جاتا تھا لیکن ایردوآن نے اسی مغربی تصور کو کامیابی کے ساتھ عام آدمی کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا دیا۔ گویا طیب ایردوآن ایک کامیاب سیاست دان ہی نہیں ذہین نظریہ ساز بھی ہیں جس کے سبب ان کی نوزائدہ جماعت اقتدار کے ایوانوں میں ہی نہیں جا پہنچی بلکہ عوامی حمایت کے زور پر ان کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں بھی دم توڑ گئیں اور عوام نے ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹ دے کر انھیں منتخب کیا۔ یہاں تک کہ ریفرنڈم میں ان کی حمایت کر کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بھی بدل دیا۔

نظریاتی سیاست میں اکثر ہوتا ہے کہ کسی سیاست داں نے کوئی نیا تصور پیش کیا اور اقتدار کے دروازے اس پر کھل گئے لیکن اس مقبولیت کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا، طیب ایردوآن نے یہ مشکل کام بھی آسانی کے ساتھ کر دکھایا۔ اقتدار میں آنے کے بعد طیب ایردوآن نے نہایت منظم طریقے سے کام کا آغاز کیا۔ اپنی پرانی عادت کے مطابق ایک روز وہ دفتر جانے کی بہ جائے شہر کے مضافات میں جا نکلے اور ایک نشیبی علاقے کی پسماندہ بستی میں پہنچ کر لوگوں سے پوچھا:

’’بو یور دستنی اولان؟‘‘(Bu yor distiny olan یعنی کیا یہی تمھاری قسمت ہے؟)

پھر کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ غریب آبادیوں کے حالات بدلیں اور ایسے علاقوں کے لوگ بھی پرآسائش زندگی بسر کریں۔ ان کے ذہن میں مضافات میں عظیم الشان رہائشی عمارتوں کا ایک منصوبہ جنم لے چکا تھا۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں قبضہ مافیا اسی طرح غریب آبادیوں پر قبضہ کرکے انھیں بے دخل کیا کرتی ہے، اس منصوبے پر بھی شک و شبہے کا اظہار کیا گیا لیکن ایردوآن کی ساکھ یہاں بھی کام آئی ہے۔ پہلے ایک رہائشی منصوبہ پروان چڑھا پھر دوسرا، اس کے بعد ایسے کامیاب منصوبوں کی قطار لگ گئی،غریب ترکوں کو اعلیٰ معیار کی رہائش ہی میسر نہیں آئی بلکہ ایسے علاقوں کے باسیوں کو روزگار کے بہتر مواقع بھی میسر آگئے۔

اسی طرح ایک جامع حکمت عملی کے تحت انھوں نے ملک کے دور دراز علاقوں میں تعلیم، صحت اور روز گار کی فراہمی کے منصوبوں کا جال بچھا دیا۔ قومی سیاست میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ اس سے قبل قومی وسائل سے بڑے بڑے شہروں اور ان میں بھی مراعات یافتہ طبقہ ہی مستفید ہوا کرتا تھا۔ ایردوآن کی پالیسی نے قومی سیاست کارخ ہی بدل دیا،یوں ان کی مقبولیت میں اضافے کی ایسی تاریخ رقم ہوئی جس کی مثال نہیں ملتی۔

جولائی 2016ء کی ناکام فوجی بغاوت کے پس منظر میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ طیب ایردوآن اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آکھڑے ہوئے تھے لیکن ایک متوازی خیال یہ بھی ہے کہ فوج اور طیب ایردوآن تو شانہ بہ شانہ کھڑے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا وہ جیل میں نہ ہوتے؟ جدید ترکی میں پہلی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ عوام، حکومت اور فوج کے مفادات میں یکسانیت پیدا ہوئی جس کے سبب فوج نے بھی باغیوں کو مسترد کیا اور عوام نے بھی۔ اس کارنامے کا کریڈٹ اسی شخص کو جاتا ہے جس نے ایک شام آبنائے باسفورس سے لوٹتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کا خواب دیکھا تھا۔