Deadly start to Everest campaign

Three people have died on the world’s tallest mountain in as many days since climbing resumed after last year’s avalanche tragedy at Base Camp.
On 24 August 2015 Nepal re-opened Everest to tourism including mountain climbers. The only climber permit for the autumn season was awarded to Japanese climber Nobukazu Kuriki, who had tried four times previously to summit Everest without success. He made his fifth attempt in October, but was not able to make it and gave up just 700 meters from the summit due to “strong winds and deep snow”. Kurki noted the dangers of climbing Everest, having himself survived being stuck in a freezing snow-hole for two days near the top, which came at the cost of all his finger tips and his thumb, lost to frostbite, which added further difficulty to his climb. Some sections of the trail from Lukla to Everest Base Camp (Nepal) were damaged in the earthquakes earlier in the year and needed repairs to handle trekkers.
On 11 May 2016 nine Sherpas summited Mount Everest. The next day another six people reached the top. For Kenton Cool, this was his 12th Everest summit (the second highest number of Everest summitings for a foreigner). These were the first summitings since 2014, when 106 made it to the top. By 13 May, 42 climbers had reached the summit and by 22 May, good weather had allowed over 400 climbers to reach the summit. However, about 30 climbers developed frostbite or became sick and two climbers died from altitude sickness. Among those that had to turn back, was a science expedition attempting to study the link between hypoxia and cognitive decline. Although it did not run its course it did give some clues into the effects of high-altitude acclimatization on human blood. 
On May 19, 2016 the first people from Myanmar (aka Burma) reached the summit of Mount Everest. Myanmar is relatively nearby to Nepal, it is a south-east Asian country that borders primarily India, China and Thailand.

اسحاق ڈار کی نظر میں ٹیکس گزار کون ہے؟

آج صبح سویرے ایک معاصر کی شہ سرخی پڑھ کر دماغ گھوم گیا۔ گرمی سے پہلے ہی پارہ چڑھا رہتا ہے، ایسی شہ سرخیوں سے پارہ بندے کے دماغ کو آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ شہ سرخی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ایک بیان پر مشتمل تھی،جس میں انہوں نے یہ انوکھی خوشخبری سنائی کہ بجٹ میں ٹیکس گزاروں پر نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ مَیں اُن کی اِس بات کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔ پاکستان میں ٹیکس گزار کن لوگوں کو سمجھا جاتا ہے، پانامہ لیکس کے آنے سے تو یہ عقدہ ہی حل ہو گیا ہے کہ پاکستان میں بڑے لوگ ٹیکس ہی نہیں دیتے، اپنا سرمایہ باہر بھیج دیتے ہیں اور وہاں آف شور کمپنی بنا کے عیش کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار کے اس بیان کا مطلب ہر گز یہ نہیں نکلتا کہ وہ آنے والے بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف دینا چاہتے ہیں۔
انہوں نے صرف ٹیکس گزاروں کو یہ خوشخبری بناتی ہے کہ اُن پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، لیکن جب مَیں ایف بی آر کے اعداد و شمار میں ٹیکس گزاروں کی تعداد دیکھتا ہوں تو وہ صرف آٹھ دس لاکھ کھائی دیتی ہے۔ گویا 20 کروڑ کی آبادی میں اسحاق ڈار صاحب صرف 10 لاکھ لوگوں کو نئے ٹیکسوں سے بچانے کی سخاوت کر رہے ہیں، صاحبو یہ تو نِرا ڈرامہ ہے۔ کیا پاکستان ان دس لاکھ ٹیکس گزاروں کے سہارے چل رہا ہے، جن میں آدھے سے زیادہ تو تنخواہ دار ملازمین ہیں، جن کا سالانہ ٹیکس زیادہ سے زیادہ دو چار لاکھ ہوتا ہے، نہیں صاحب نہیں، کوئی اور بھی ہے جو اِن سارے ٹیکسوں کا بوجھ اُٹھاتا ہے اور اس کا نام عام آدمی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے وزیر خزانہ ٹیکس گزاروں کو ریلیف دینے کی آڑ میں پھر سارا نیا بوجھ اس عام آدمی پر ڈال دیں گے اور اس کی رہی سہی زندگی بھی اجیرن ہو جائے گی۔
پاکستان میں ٹیکسوں کا سب سے بڑا اور ظالمانہ کلہاڑا جنرل سیلز ٹیکس کے نام پر چلایا جاتا ہے۔ یہ وہ کُند چھری ہے، جس سے صرف غریب ذبح ہوتے ہیں سرمایہ دار، دولت کے انبار لگانے والے، کارخانوں کے مالکان اور بڑے بڑے تاجر اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ ٹیکس زیادہ تر ماجھے گامے اور شیدے میدے نے ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ فیکٹری مالکان اور سرمایہ دار اپنے سالانہ گوشواروں میں اس ٹیکس کو ظاہر کر کے جو اصل میں وہ عوام سے واپس لے چکے ہوتے ہیں۔ یہ احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اتنے کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کیا، حالانکہ پلے سے انہوں نے ایک دھیلہ بھی ادا نہیں کیا ہوتا، انکم ٹیکس کے خانوں میں تو اپنی آمدنی کو ٹیکس فری ہی رکھتے ہیں، بلکہ خسارہ دکھا کر مظلوم بھی بن جاتے ہیں۔
بالواسطہ ٹیکس کی اس معیشت میں کوئی ایک شہری بھی ایسا نہیں جو ٹیکس ادا نہ کرتا ہو، ایک ماچس خریدنے والا بھی اُس کی قیمت میں شامل17 فیصد سیلز ٹیکس اپنی جیب سے ادا کرتا ہے، موبائل فون چاہے ارب پتی سرمایہ دار استعمال کرے یا شیدا ریڑھی والا، دونوں کو ٹیکس برابر دینا پڑتا ہے ایسے میں اسحاق ڈار کو بیان تو یہ دینا چاہئے تھا کہ اس بار عوام پر ٹیکسوں کا کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، مگر انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے صرف ٹیکس گزاروں کو ریلیف دینے کا اشارہ دے کر عوام کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ویسے تو ہماری اشرافیہ بہت ظالم ہے وہ عوام کے سینوں پر مونگ دلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ایسے ایسے وار کرتی ہے کہ عقل ان کے کرتوتوں پر دنگ رہ جاتی ہے۔ جب پورے مُلک میں کلرک، ٹیچرز، ڈاکٹرز اور مزدور و کسان معاشی مشکلات کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلچلاتی دھوپ میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ اپنے جسموں پر روٹیاں باندھ کر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس اشرافیہ نے یہ ضروری سمجھا کہ اپنی مراعات و تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کرے۔ قومی اسمبلی کے ارکان پر مراعات کی بارش کر دی گئی ہے، تاکہ وہ ٹھنڈے ایوان میں بیٹھ کے جو مشقت بھرا کام کرتے ہیں، اس کا انہیں خاطر خواہ اجر مل سکے۔ 
اسحاق ڈار بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لئے 10 فیصد اضافے کا اعلان بھی کر دیں تو اسے معجزہ سمجھا جائے گا، لیکن دوسری طرف انہوں نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں 300 فیصد اضافے پر ذرہ بھر اعتراض نہیں کیا۔ یہ نہیں کہا کہ معیشت دباؤ میں ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ قومی خزانہ اتنے بڑے اضافے کی اجازت نہیں دیتا۔ بجٹ سے ایک ماہ پہلے قومی اسمبلی کے ارکان کو یہ ’’رشوت‘‘ دے کر آنے والے بجٹ پر مُنہ بند رکھنے کی ٹیپ لگا دی گئی ہے۔ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ ایسی مراعات پر سب اکٹھے ہو جاتے ہیں کم از کم عمران خان کو تو اس اضافے پر بولنا چاہئے تھا۔ اسے عوام دشمن فیصلہ قرار دے کر مسترد کر دینا چاہئے تھا، مگر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے اور جمہوریت کو بچانے کے نعرہ لگانے والے اس نکتے پر اکٹھے ہو گئے۔ ایسی اسمبلیوں میں جب جمہور کی بات ہو تو سب علیحدہ اینٹ کی مسجد بنا لیتے ہیں، لیکن جب بات اشرافیہ کے مفاد کی ہو تو سب گدھوں کی طرح مردار گوشت پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔  سینٹ میں رضا ربانی نے اس قرار داد کو پیش نہیں ہونے دیا۔ سینٹرز یقیناًپیچ و تاب کھا رہے ہوں گے اور جلد ہی انہیں بھی آسمان سے اترنے والا یہ من و سلویٰ مل جائے گا۔
پاکستان میں بجٹ ہمیشہ ایک خوف کی علامت رہا ہے۔ اس میں عوام کے لئے کبھی اچھی خبر نہیں ہوتی مرے کو مارے شاہ مدار والی سکیم پر عمل کیا جاتا ہے۔ غریب غریب ہو رہا ہے اور امیر امیر تر، مڈل کلاس جو کسی بھی معاشرے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے، اب معدوم ہو چکی ہے۔ ایک طرف انتہا کی امارت ہے اور دوسری طرف انتہا کی غربت، یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ اِس لئے کہ ہم نے اپنے بجٹ کو کبھی زمینی حقیقتوں کے مطابق نہیں بنایا، ہمارا بجٹ ہمیشہ آئی ایم ایف کی شرائط اور قرضوں کی آئندہ ملنے والی قسطوں کو پیش نظر رکھ کر بنایا جاتا رہا ہے۔ ہمارے بجٹ سازوں کو کبھی اِس بات سے کوئی غرض نہیں رہی کہ ہمارے عوام پر کیا گزر رہی ہے، وہ ہر چیز کو سیلز ٹیکس کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں وہ بڑے فخر سے اِس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ مزدور کی کم سے کم اجرت 12ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
اول تو وہ اسے بھی یقینی نہیں بناتے اگر مل بھی جائے تو آج کے دور میں کون عقل کا اندھا ہے جو اِس بات پر یقین کرے کہ اس رقم میں ایک معمولی درجے کی فیملی بھی مہینہ بھر گذارا کر سکتی ہے۔ میری آمدنی ایک مزدور کی آمدنی سے دس گنا زیادہ ہے، مگر یقین کریں مہینے کے آخر میں میری حالت بھی مزدور جیسی ہو چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں جب وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا یہ بیان پڑھنے کو ملتا ہے کہ ٹیکس گزاروں پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، تو میرا دماغ اس لئے گھوم جاتا ہے کہ اسحاق ڈار کن ٹیکس گزاروں کی بات کر رہے ہیں، وہ لوگ جو سیلز ٹیکس کو گوشواروں میں درج کر کے بڑے ٹیکس گزار بن جاتے ہیں یا وہ غریب عوام جو سانس کے سوا ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں، مگر پھر بھی اسحاق ڈار کی نظر میں ٹیکس گزار نہیں بن پاتے، کاش کوئی اِن غریب ٹیکس گزاروں کا بھی سوچے، جو زندہ رہنے کے لئے قدم قدم پر تاوان ادا کر رہے ہیں۔
نسیم شاہد

افغانستان میں امن کی تلاش : جنرل مرزا اسلم بیگ

جنگ کا اصول ہے کہ مقصد پوری طرح واضح ہو اور اس میں کسی بھی مرحلے پر تبدیلی نہ لائی جائے ورنہ شکست مقدر بن جاتی ہے۔ اسے ہم Maintenance of Aim کہتے ہیں۔ اس تناظر میں امریکہ کا افغانستان کیخلاف جنگ کا مقصد 9/11کے حملے کا بدلہ لینا تھا جس کیلئے افغانستان کا انتخاب کیا گیا جو روسیوں کیخلاف جنگ اور آٹھ سالہ خانہ جنگی کے بعد تباہ حال تھا۔ اس کیخلاف امریکہ نے پوری طاقت استعمال کی ‘Shock and Awe’ حکمت عملی کا بدترین مظاہرہ کیا اور امریکی قوم کو یہ پیغام دیا کہ‘‘دیکھو ہم نے بدلہ لے لیاہے۔’’امریکہ نے چند مہینوں میں افغانستان پر قبضہ کر لیا’اپنی مرضی کی حکومت بنائی اور ایک سال کی مدت میں جنگ کا مقصد حاصل کر لیا۔ اسکے بعد امریکہ اور اسکے اتحادی جنگ کے مقصد سے ہٹ کر سازشوں میں الجھ گئے اور یہیں سے انکی شکست کے آثار نمایاں ہوئے جو آج انکی پسپائی اور ناکامی کی عبرتناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسکے برعکس افغان طالبان دوبارہ منظم ہوئے اورآزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ انکی جنگ کا مقصد بڑا واضح تھا جو ملا عمر نے میرے سوال کے جواب میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا تھا ’جسے میں بار بار دہراتا رہا ہوں تاکہ ہم اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں تو افغانستان میں بہت جلدقیام امن ممکن ہوگا۔ مئی 2003 میں جو پیغام مجھے ملا وہ یہ تھا:
’’ہم نے اپنی آزادی کے حصول تک جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اورانشاء اللہ ہم فتحیاب ہونگے۔ جب ہم آزادی حاصل کرلیں گے تو اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے ایسے فیصلے کرینگے جوتمام افغانوں کیلئے قابل قبول ہونگے ’اب ہم ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔‘‘ ہمارے لئے امریکی ایجنڈے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اسلئے کہ ایسا فیصلہ کرنے کا ہماری روایات اور قومی غیرت اجازت نہیں دیتیں۔’’اب ہم امریکہ اور پاکستان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے جیسا انہوں نے 1989-90میں روس کی پسپائی کے بعد کیا تھا۔ مستحکم اور پرامن افغانستان کی خاطرہم شمالی اتحاد کے ساتھ مل کر قیام امن کی راہیں استوار کرینگے اور اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اورتعاون پر مبنی تعلقات قائم کرینگے۔”ہمارے خلاف امریکہ کی جنگ میں پاکستان ہمارے دشمنوں کا شراکت دار رہا ہے لیکن اسکے باوجود وہ ہمارا دشمن نہیں ہے۔ پاکستان ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ہماری سلامتی کے تقاضے اور مفادات مشترک ہیں اور ہماری منزل ایک ہے۔ ” ہمیں مستقبل میں ایک سخت جدوجہد درپیش ہوگی لیکن ہم پرامید ہیں کہ ہم اس سے بخیروخوبی عہدہ برآہوں گے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ : ’’بالآخر تمہارے دشمن پیٹھ پھیرپھیر کر بھاگ جائینگے۔ ‘‘
ملا عمر کے ان الفاظ میں جنگ کا مقصد اور غیر متزلزل عزم بڑا واضح ہے اور آج تک اس میں ذرہ برابربھی کمزوری یا تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان کیخلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سازش یہ ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کافی عرصے سے طالبان کے ساتھ شراکت اقتدار کی کوشش میں ہیں لیکن طالبان کو امریکہ کی سرپرستی میں چلنے والی حکومت میں شریک اقتدار ہونا منظور نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی افغانستان سے مکمل انخلا کریں تو بات ہو سکتی ہے۔ امریکہ بھی اس حقیقت کو جانتا ہے کہ افغانستان میں سب سے زیادہ موثر اورحاوی قوت طالبان ہیں لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنا اپنی ہتک سمجھتا ہے حالانکہ گذشتہ پچیس برسوں سے افغانستان میں یہی طالبان چھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو ’جس میں پاکستان بھی شامل ہے، پہلے ملا عمر اوراب ملا منصور کی قیادت میں شکست دی ہے۔
طالبان ایک مضبوط حکمت عملی کے تحت افغانستان پر اپنے تسلط کو بڑھاتے جارہے ہیں۔ گذشتہ سال بھی میں نے کہا تھا کہ طالبان سردی کے موسم میں بڑے بڑے حملے کرکے اپنی دھاک بٹھائیں گے اور ایساہی ہواہے۔ پاکستان کی جانب سے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں حقانی نیٹ ورک کا امدادی بیس (Support Base) فاٹا سے نکل کر کابل کے شمال میں منتقل ہو چکا ہے اور یہاں انکی قوت میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔ انہیں تاجکستان‘ ازبکستان ترکمانستان اور شرقی ترکستان (سنکیانگ) اور دوسرے ممالک کے جہادیوں کی مدد حاصل ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ طالبان کے اس نئے امدادی بیس تک انکے دشمن ممالک کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ فاٹا میں تو پاکستان کو رسائی حاصل تھی لیکن اب وہ مطمئن ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی نئی حکمت عملی پر عمل پیراہیں۔ امریکہ پاکستان پر دباو ڈال رہا ہے کہ حقانی گروپ کیخلاف کاروائی کی جائے لیکن پاکستان بے بس ہے ’اس لئے کہ حقانی گروپ اور ان کے اہل و عیال یہاں سے جا چکے ہیں۔ امریکہ اور اتحادیوں پر عجب بے بسی کا عالم ہے۔ طالبان کانیا سپورٹ بیس قندوز کا صوبہ ہے جو حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یا ر کا آبائی علاقہ ہے لیکن وہاں حکمت یار کی جماعت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یہ چار ممالک (QCG) جو افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہونا چاہیئے۔ان میں چین کے علاوہ تین تو طالبان کے دشمن ہیں جو ان کیخلاف جنگ لڑتے رہے ہیں۔ ان دشمنوں میں امریکہ اور افغان حکومت نمایاں ہیں۔
طالبان نے جنگ کرکے انہیں شکست دی ہے اور یہی ممالک افغانستان میں امن کی راہوں کی تلاش میں ہیں جو قانون فطرت کیخلاف ہے کیونکہ ناکام اور شکست خوردہ قوتیں مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا کرتیں۔ اشرف غنی کی حکومت امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قیام امن کی کنجی جس قوت کے پاس ہے اسے افغانستان میں اقتدار کی حدود سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔1990 ء کی دہائی میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا کہ جولوگ اقتدار کے اصل وارث تھے ’یعنی افغان مجاہدین‘ انہیں اقتدار نہ ملا اور خانہ جنگی کرائی گئی جس کے نتیجے میں طالبان ابھرے۔اب بھی وہی کہانی دہرانے کی کوشش ہے۔ طالبان ان سازشوں کو سمجھتے ہیں اور وہ اپنے مقصد میں یکسو ہیں۔ان تمام سازشوں سے وہ پوری طرح واقف ہیں اور اب دھوکے میں نہیں آئینگے۔
 زمینی صورت حال یہ ہے کہ طالبان نے چند بڑے شہروں کا رابطہ کابل سے کاٹ دیا ہے۔ مثلاً تاجکستان سے قندوز آنے والی سڑک پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔طالبان اس سڑک کو اپنی ضرورت کے مطابق کھولنے کی اجازت دیتے ہیں۔ یعنی اپنے لیے ہتھیاروں اور خوراک کی ضرورت کے وقت راستے کھولتے ہیں۔ ان کوکمک کون بھیجتا ہے’یہ چار ملکی اتحاد QCG کے سوچنے کی بات ہے۔اسی طرح مزار شریف جو ایک بڑاتجارتی مرکز ہے جہاں سے وسطی ایشیا کو راستے جاتے ہیں۔ یہ راستہ بھی طالبان نے بلاک کر دیا ہے۔ ابھی دو دن پہلے طالبان نے صوبہ بغلان کے مرکزی شہر پل خمری میں افغانستان ملٹری اکیڈمی پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ہے اور ایک درجن سے زیادہ ٹینک اور دیگر جنگی سامان تباہ کر دیا ہے۔
اب حالات کچھ ایسے ہیں جیسے 1994 میں تھے کہ جب طالبان نے پیش قدمی شروع کی تو ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے افغان فوج اور پولیس ہتھیار ڈالتی گئی۔ قندوز‘ مزار شریف اور پل خمری کی جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ افغان فوج اور پولیس میں طالبان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ رہا یہ سوال کہ پاکستان اس چار ملکی اتحاد میں کیوں شامل ہوا تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کایہ فیصلہ 2001 میں جنرل مشرف کے فیصلے سے اخذ کیا گیا ہے جب ہم امریکہ کے ساتھ اسکی نام نہاد جنگ میں شامل ہوئے اوراپنے پڑوسی برادر اسلامی ملک پر امریکہ کو حملے کی اجازت دی۔ طالبان آزادمنش لوگ ہیں وہ آزاد فضا میں ہی فیصلہ کرتے ہیں اور مضبوط فیصلہ کرتے ہیں۔ افغان قوم میں یہ خوبی بھی ہے کہ وہ قوم پرست ہیں۔ اس چھتیس سال کی جنگ میں جبکہ اکثر اوقات نظام حکومت تتر بتر رہا ہے اس دوران افغانستان کے کسی علاقے یا کسی قوم نے بھی الگ ہونے یا تاجکستان’ازبکستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کی کوشش نہیں کی بلکہ دسمبر 2012 میں جب پیرس میں انٹرا افغان مذاکرات ہوئے تو ان کا متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ ’’ہمیں آزاد چھوڑدو’ہم اپنے معاملات خود طے کر لیں گے‘‘ لیکن انکی اس آواز کو دبا دیا گیا۔ پاکستان‘ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ افغانستان میں اسلامی حکومت ناگزیر ہے۔ اگر افغانستان میں طالبان کی حکومت بنے گی تو داعش کا بھی خاتمہ ہوگا۔ ہر حال میں یہی طالبان پورے افغانستان پر قابض ہونگے۔ حالات خراب ہونے سے پہلے بہتر ہے کہ طالبان کے مطالبات مان لیے جائیں اور انکے ساتھ مذاکرات کیے جائیں کیونکہ حالات اور وقت کا یہی تقاضا ہے۔
جنرل مرزا اسلم بیگ
بشکریہ نوائے وقت

Haibatullah Akhundzada

Akhundzada was appointed as the Taliban supreme commander on 25 May 2016. He was named on 25 May 2016 as the replacement for Akhtar Mansour as the Taliban supreme commander. Mansour and a second militant were killed when a drone hit a vehicle in which they were riding. The strike was approved by U.S. President Barack Obama who said he hoped Mansour’s removal from the battlefield would lead to the Taliban joining a peace process. The Afghan government, members of the Taliban, and President Obama all later officially confirmed his death.
The Afghan Taliban has named its new leader as Haibatullah Akhundzada, an influential religious figure, following the death of former commannder Mullah Akhtar Mansour in a US drone strike. “Haibatullah Akhundzada has been appointed as the new leader of the Islamic Emirate (Taliban) after a unanimous agreement in the shura (supreme council), and all the members of shura pledged allegiance to him,” the Islamist group said in a statement. It added that Sirajuddin Haqqani, a sworn enemy of America,  and Mullah Yakoub, the son of Taliban founder Mullah Omar, have been appointed his deputies.

Dadaab :The refugees the world forgot

Dadaab is a semi-arid town in Garissa County, Kenya. It is the site of a large UNHCR base hosting 329,811 refugees in five camps as of October 2015, making it the largest refugee camp complex in the world. Dadaab is located approximately 100 kilometres (60 mi) from the Kenya–Somalia border. The nearest major town is Garissa, which is the headquarters of the North Eastern Province.

Background and creation 

The Dadaab camps Dagahaley, Hagadera and Ifo were constructed in 1992. The more recent Ifo II and Kambioos camps were opened in 2011 after 130,000 new refugees, who fled Somalia due to severe drought, arrived. The Ifo II camp extension was originally constructed in 2007 by the Norwegian Refugee Council, in response to major flooding that destroyed over 2,000 homes in the Ifo refugee camp. However, legal problems with the Kenyan Government prevented Ifo II from fully opening for resettlement until 2011. As of August 2015, Hagadera was the largest of the camps, containing just over 100,000 individuals and 25,000 households. Kambioos, on the other hand, is the smallest camp with fewer than 20,000 refugees. Ifo camp was first settled by refugees from the civil war in Somalia, and later efforts were made by UNHCR to improve the camp. As the population of the Dadaab camps expanded, UNHCR contacted German architect Werner Shellenberg who drew the original design for Dagahaley Camp and Swedish architect Per Iwansson who designed and initiated the creation of Hagadera camp.

Population growth and decline 

In July 2011, it was reported that more than 1,000 people per day were arriving in dire need of assistance, largely due to the drought in East Africa. The influx reportedly placed great strain on the base’s resources, as the capacity of the camps was about 90,000, whereas the camps hosted 439,000 refugees in of July 2011 according to the UNHCR. The number was predicted to increase to 500,000 by the end of 2011 according to estimates from Médecins Sans Frontières. Those population figures ranked Dadaab as the largest refugee camp in the world, which it still is today despite a recent drop in numbers. According to the Lutheran World Federation, military operations in the conflict zones of southern Somalia and a scaling up of relief operations had by early December 2011 greatly reduced the movement of migrants into Dadaab.

 Arriving at Dadaab 

When refugees arrive at the camp, they are registered and fingerprinted by the Kenyan government.  The camps are managed by the UNHCR, but other organizations are directly in charge of specific aspects of the refugees’ lives. CARE oversees social services and the World Food Programme (WFP) helps alleviate the food scarcity issues present at the camps. Until 2003, Médecins Sans Frontières (MSF) provided refugees with access to health care, but now German Technical Cooperation (GTZ) controls this aspect of refugee life in Dadaab. Refugees arriving at Dadaab receive assistance from each of these organizations, but due to overcrowding, aid is often not immediate. Other relief organizations, such as the Red Cross, also provide assistance to refugees in the Dadaab camps. Specifically, the Red Cross gives refugees in the Ifo II camp access to health services, sanitation, and clean water. In an attempt to reduce the spread of disease, they recently installed 8,000 latrines in the camp, as well as hand washing stations in schools.

 Structure of the camps

The Dadaab refugee camp complex is so vast that it has been compared to a city, with urban features such as high population density, economic activity, and concentration of infrastructure. Like a typical urban area, Dadaab contains public service buildings such as schools and hospitals. The Ifo II camp, for example, includes religious spaces, a disability center, police stations, graveyards, a bus station, and more. In addition, it is designed in a grid-like pattern, with the market on one side and a green belt at the center of the many lines of tents. Despite these many amenities, however, the camps are crowded and have few signposts, making them confusing and difficult to navigate for new arrivals.

 Living conditions 

With camps filled to capacity, NGOs have worked to improve camp conditions. However, as most urban planners frequently lack the tools to contend with such complex issues, there have been few innovations to improve Dadaab. Opportunities remain such as upgrading and expansion processes for communications infrastructure, environmental management and design. Some of the factors affecting quality of life for refugees are diet and malnutrition, shelter, health care, education, environmental factors, safety, and their economic and legal status.

 Diet and malnutrition 

Refugees receive food rations containing cereal, legumes, oil, and sugar from the World Food Programme (WFP). Markets at each of the camps have fresh food for sale, but due to limited income opportunities, most refugees are unable to afford them. Some have used innovations such as multi-storey gardens to help overcome food scarcity, which require only basic supplies to construct and less water to maintain than normal gardens. 
One reason refugees arrive at the camps is displacement caused by famine. By the end of 2011, more than 25% of refugees living in the Dadaab camps had arrived as a result of the famine in the Horn of Africa. Individuals arriving under these conditions are already very malnourished, and once at the camps they still experience food scarcity. Although malnutrition contributes to high death rates among children, it has been observed that the longer an individual has already lived in Dadaab, the more their chance of dying from malnutrition decreases. Due to overcrowding and lack of resources, refugees don’t receive their first food rations until 12 days after arrival, on average. Food rations are generally distributed to children under the age of five first, because they are at the greatest risk of malnutrition and starvation. 

کلرکہار : اسلام آباد کے قریب خوب صورت سیاحتی مقام

ضلع چکوال کا قصبہ تحصیل اور ایک خوبصورت تفریحی مقام ۔ چکوال سے سرگودھا جانے والی سڑک پر ۲۶ کلو میٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے سنگم میں لاہور اسلام آباد موٹروے کے اُوپر واقع ہے۔ کلّر کہار ایک ایسے مقام پر واقع ہے، جس کی عسکری اہمیت زمانہ قدیم سے مُسلّمہ رہی ہے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ کے درّوں سے جتنی قومیں اور حملہ آور آئے ان کا گزر مارگلہ سے براستہ ڈھوک پٹھان سلسلۂ کوہستان نمک کے زیرِ سایہ ہی ہوتا۔ ان کا اولین ہدف کلر کہار، بھیرہ کا خوش حال اور قدیم شہر اور نندنہ کا مضبوط قلعہ ہوتا۔ تاریخ کی گواہی کے مطابق یہ حملہ آور سب سے پہلے کلرکہار ہی پہنچے۔
اِس کی قدامت کا اندازہ اس روایت سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق راجہ داہر کے ایک بیٹے جے سنگھ نے محمد بن قاسم سے شکست کھا نے کے بعد کشمیر کے راجہ کے پاس پناہ حاصل کر لی تھی۔ راجہ نے اس کی گزر اوقات کے لیے اپنی ریاست کی جنوبی سرحد پر کچھ جاگیر عطا کر دی جس کا صدر مقام کلّر کہار تھا۔ جے سنگھ نے اس جاگیر کے انتظام کے لئے ایک باغی عرب حمیم بن سامہ کو اپنا مختار کل مقرر کیا چنانچہ حمیم نے یہاں وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اور بعض مساجد تعمیر کیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حمیم کا کلر کہار موجودہ کلرکہار سے کچھ دُور اس مقام پر آباد تھا جو تباہی کے بعد اب بھال کے آثار کی صورت میں باقی رہ گیا ہے۔
جنرل کننگھم کے بقول کلر کہار کا پُرانا نام’’شاکلہا‘‘ تھا۔ اس جگہ کا نام کلوکہّر بھی بتایا گیا ہے، لیکن ۱۵۱۹ء میں برصغیر میں مغل سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر بھیرہ فتح کر نے کے بعد کلر کہار آیا اور یہاں قیام کیا تو اس نے اپنی خودنوشت سوانح عمری ’’تزک بابری‘‘ میں اس کا نام ’’کلدہ کنارـ‘‘ لکھا۔ بابر نے یہاں ایک باغ تیار کرایا جس کا نام باغ صُفار کھا۔ یہ باغ صاف اور ہوادار جگہ پر بنا۔ کلرکہار سطح سمندرسے چار ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ روایت ہے کہ بابر کے کلرکہار میں قیام کے دوران فوج نے ایک چٹان تراش کر اس کے لیے تخت بنایا تھا جواب بھی تخت بابری کے نام سے موجود ہے۔ یہیں پہاڑ کی چوٹی پر ایک مزارہے، جس کا سبز گنبد ہر آتے جاتے کو اپنی جانب متوجہ کرتاہے۔ یہاں حضرت غوث ملوک کے دوپوتے حضرت محمد اسحق اور حضرت محمد یعقوب دفن ہیں، جو مقامی مسلمانوں کی مدد کے لیے اس علاقے میں آئے تھے اور شہادت حاصل کی۔
یہاں ایک خوبصورت جھیل بھی ہے ،جو سیاحوں کی تفریح کا بہترین مقام ہے ۔اس کے اردگرد ہوٹل اور ریسٹ ہائوسز موجود ہیں۔ کلرکہار میں مختلف اقسام کے پھل اور پھول کثرت سے ہوتے ہیں۔ ان میں لوکاٹ اور گلاب خاص طور پر قابل ذکرہیں۔ یہاں کا عرق گلاب، چوعرقہ اور گلقند مشہور ہیں۔ یہاں عصر کے بعد مور آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، اور اذان مغرب سے پہلے جنگل میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ کلرکہار سے قریباً ۹ میل کے فاصلے پر سلسلہ کوہستان نمک میں قلعہ ملوٹ کے آثار ہیں، جس کی بلندی سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار فٹ ہے۔ جنرل کننگھم کے اندازے کے مطابق قصبہ ملوٹ اور قلعہ ملوٹ اپنے زمانہ عروج میں اڑھائی میل کے گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق جنجوعوں راجپوتوں کے ایک مورث اعلیٰ کا نام مل دیویاملوتھا اسی کی نسبت سے اس کا نام ملوٹ پڑا۔ 
جنرل ایبٹ اس کا نام شاہ گڑھ یا شاہی گڑھ بتاتا ہے لیکن جنجوعہ روایات کے مطابق اس کا نام راج گڑھ تھا۔ اس کی تعمیر ۹۸۰ء میں ہوئی۔ یہاں دوقدیم مندر بھی ہیں جو قدیم کشمیری طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔ ان کا تعلق کوہستان نمک کے ہندو شاہیہ سے ہے۔ بابر بادشاہ نے دولت خاں لودھی سے یہیں پر ہتھیار ڈلوائے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے باپ مہان سنگھ نے بھی یہاں ایک چھوٹا سا قلعہ تعمیر کروایا تھا۔ اسے پکی سڑک کے ذریعے کلر کہار چوآسیدن شاہ سڑک کے ساتھ براستہ چھوٹی سڑک ملا دیا گیا ہے۔ ملوٹ سے مشرق کی طرف تقریباً ۳ میل کے فاصلے پر سب گنگا کے مقام پر بودھوں کا ایک مندرہے۔اس جگہ پر میجر ایبٹ کو سکندراعظم کا تراشا ہوا ایک سرملاتھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا ساہندو مندر بھی ہے۔ آجکل اس علاقے کو ملکانہ کہتے ہیں۔
(اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)  

چاہ بہار میں بہار

پیشِ خدمت ہے پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے بعد انڈو ایران افغان اکنامک
کوریڈور۔ جس طرح گوادر کی بندرگاہ اور ٹیکس فری انڈسٹریل زون کا نظام و ترقی چالیس برس کے لیے چین کے حوالے کردی گئی ہے۔ اسی طرح گوادر سے لگ بھگ سو کلومیٹر پرے چاہ بہار کی بندرگاہ کو ترقی دینے کا مرحلہِ اول و دوم کا انتظام بھارت کرے گا۔ جس طرح چینی صدر نے گذشتہ برس اسلام آباد میں پاک چائنا اکنامک کوریڈور سے متعلق حتمی سمجھوتوں پر دستخط کیے اسی طرح پندرہ برس بعد کسی بھارتی وزیرِ اعظم نے تہران میں انڈو ایران افغان کوریڈور کی بنیادی دستاویزات پر ایرانی و افغانی صدور کے ساتھ بیٹھ کے گذشتہ روز دستخط کیے۔

خلیجِ اومان کی جانب کھلنے والی چاہ بہار کھلے سمندر کے دہانے پر واحد ایرانی بندرگاہ ہے۔ باقی بندرگاہیں خلیج ِ فارس کے اندر ہیں جہاں مال بردار جہازوں کو آنے جانے کے لیے بائیس کلو میٹر چوڑی آبنائے ہرمزسے گذرنا پڑتا ہے۔ خلیج کی سب سے مصروف ایرانی پورٹ بندر عباس ہے۔ وہاں سے ایران کی پچاسی فیصد درآمد و برآمد ہوتی ہے۔ مگر چاہ بہار کو یہ قدرتی سہولت حاصل ہے کہ اگر خلیج کی ناکہ بندی ہوجائے یا کسی جنگ یا حادثے کے سبب آبنائے ہرمز کی ٹریفک معطل ہوجائے تب بھی چاہ بہار کی شکل میں ایران کے پاس بیرونی دنیا سے سمندری رابطے کا دروازہ کھلا رہے گا۔ بندر عباس کے برعکس چاہ بہار ڈیپ سی پورٹ میں ایک لاکھ ٹن وزن سے زائد کارگو شپ بھی آ جا سکیں گے۔
بھارت کی اولین ترجیح تو یہ تھی کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کے لیے اسے واہگہ طورخم کوریڈور کی سہولت مل جائے مگر ایسا ہوتا مستقبلِ قریب میں نظر نہیں آ رہا۔ چنانچہ یہ مقصد چاہ بہار کے راستے حاصل کیا جائے گا۔

افغانستان کی بیشتر درآمد و برآمد اب تک کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔مگر افغانستان اس ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے بھارت سے تجارت نہیں کر سکتا۔چنانچہ چاہ بہار کی بندرگاہ سے بذریعہ ریل اور سڑک منسلک ہونے کے بعد افغانستان کی تجارت صرف پاکستان کے رحم و کرم پر نہیں رہے گی۔ چاہ بہار پورٹ کے تعمیراتی پہلے مرحلے میں دو سو ملین ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری سے ایک کنٹینر ٹرمنل اور ایک کثیر المقاصد کارگو ٹرمنل تعمیر ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں بھارت چاہ بہار فری ٹریڈ زون میں بیس ارب ڈالر لگانا چاہتا ہے۔ یعنی بھارتی کمپنی نالکو پانچ لاکھ ٹن سالانہ المونیم پیداوار کا پلانٹ لگائے گی۔ ایک ایل این جی اور ایک گیس کریک پلانٹ تعمیر کیا جائے گا ۔ پٹرو کیمیکلز اور فرٹیلائزر کے کارخانے بھی لگیں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے دہلی کے گذشتہ دورے میں بھارت کو چاہ بہار پورٹ مینجمنٹ کی بھی پیش کش کی ہے۔ایران نے ساحل سے پرے فرزاد گیس فیلڈ کی ترقی کا ٹھیکہ بھی بھارتی کمپنیوں کو دیا ہے۔

چاہ بہار سے افغان شہر زرنج تک براستہ ایرانی شہر دل آرام آٹھ سو اڑتیس کلومیٹر کی ہائی وے کی اپ گریڈنگ بھی جاری ہے۔ زرنج دل آرام ہائی وے کا دو سو اٹھارہ کلومیٹر ٹکڑا بھارت کی بارڈر روڈ آرگنائزیشن نے چھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل کرلیا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل میں ایک سو تیس ورکروں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ بیشتر طالبان حملوں میں مارے گئے۔ بھارت چاہ بہار سے براستہ زاہدان وسطی افغانستان کے صوبے بامیان میں حاجی گک کے مقام تک نو سو کلومیٹر طویل ریلوے لائن بھی تعمیر کرے گا۔ اس منصوبے کی کلیدی پارٹنر بھارتی کمپنی اشوک لے لینڈ ہے۔ حاجی کگ خام لوہے کے چند بڑے عالمی ذخائر میں سے ہے اور اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا کے تحت ایک صنعتی کنسورشیم حاجی گک میں گیارہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں سنجیدہ ہے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے افغان بھارت تجارتی حجم جو اس وقت یکطرفہ اور سات سو ملین ڈالر سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ اگلے پانچ برس میں بڑھ کر تین سے پانچ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کو ریل اور روڈ نیٹ ورک کے ذریعے یورپ براستہ وسطی ایشیا اس نئی ’’ شاہراہ ریشم ’’ کے ذریعے رسائی کے سبب فاصلے اور لاگت میں کمی کی شکل میں کم ازکم ایک تہائی بچت ہوگی۔
فروری میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کابل میں افغان پارلیمنٹ کی عمارت کا تحفہ پیش کیا۔ جب کہ ہرات میں تین سو ملین ڈالر کی بھارتی سرمایہ کاری سے مکمل ہونے والے سلمہ ڈیم ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کا اگلے ماہ افتتاح ہونے والا ہے۔ پاکستان چائنا کوریڈور اگرچہ بہت بڑا اور مثبت منصوبہ ہے لیکن پاکستان کا دارومدار صرف چین پر ہے۔ اس کے برعکس ایران اور افغانستان علاقے میں بھارت چین اقتصادی و اسٹرٹیجک رقابت کو اپنے حق میں چابکدستی سے استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
مثلاً ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین اور پھر بھارت ہے۔ ایران اگر چاہ بہار منصوبے کے ذریعے بھارتی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے تو اس نے چین سے اسٹرٹیجک اور اقتصادی تعلقات کے بڑھاوے کو بھی اتنی ہی اہمیت دی ہے۔ بھارتی مال اگر ایران کے راستے وسطی ایشیا اور یورپ تک جائے گا تو چینی مال وسطی ایشیا ایران ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے مشرقِ وسطی اور افریقہ جائے گا۔ اس کا عملی مظاہرہ گذشتہ مہینوں میں وسطی چین سے براستہ سینٹرل ایشیا پہلی کارگو ٹرین تہران تک پہنچانا ہے۔
چین نے چاہ بہار پورٹ پر آئیل ٹرمنل کی تعمیر  کے لیے پچھتر ملین ڈالر قرضے کی پیش کش پہلے ہی سے کر رکھی ہے۔چینی کمپنیاں ایران میں یاد واران ، جنوبی پارس ، مسجدِ سلیمان اور آزادگان کے آئیل اینڈ گیس فیلڈز میں چودہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ جنوری میں چینی صدر کے دورہِ تہران کے موقع پر دونوں ممالک نے عہد کیا کہ اگلے دس برس میں باہمی تجارت کا حجم موجودہ بتیس ارب ڈالر سے بڑھا کر نو سو ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔ایران سے تجارت کے معاملے میں بھارت اب بھی چین سے پیچھے ہے۔یعنی بھارت ایران تجارت کا حجم اس وقت پندرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے تو امن و امان کے دگرگوں حالات اور غیر یقینی مستقبل کے باوجود کابل حکومت اپنے اقتصادی پتے چابکدستی سے کھیل رہی ہے۔ چاہ بہار کنکشن کے زریعے اس کا پاکستان پر تجارتی دار و مدار بہت حد تک کم ہوجائے گا۔ بھارت اگرچہ افغان معدنیات میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن چینی کمپنیاں بھی پیچھے نہیں ہیں۔
تانبے سے مالا مال عینک کے علاقے میں چین چار ارب ڈالر لگا رہا ہے جو اب تک افغانستان میں ہونے والی سب سے بڑی غیرملکی سرمایہ کاری ہے۔ چائنا میٹالرجیکل گروپ نے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے چار سو میگاواٹ پلانٹ اور ایک ملین ٹن اسٹیل کے سالانہ پیداواری پلانٹ کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایاہے۔ چائنا نیشنل پٹرولیم کارپوریشن کو ساری پل اور فاریاب کے علاقوں میں تیل اور گیس کے زخائر ترقی دینے کا ٹھیکہ بھی مل چکا ہے۔ اس تیل کی صفائی کے لیے افغانستان میں پہلی آئیل ریفائنری بھی تعمیر ہو گی۔ مجموعی طور پر چین نے افغانستان میں اب تک دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جیسے جیسے جیوا سٹرٹیجک حالات مستحکم ہوتے جائیں گے سرمایہ کاری کا حجم اور بھارت چین علاقائی و اقتصادی مسابقت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔
اس نئی گریٹ گیم میں پاکستان اپنے لیے کیا سوچ رہا ہے ؟ کیا واقعی سوچ بھی رہا ہے یا لگ رہا ہے کہ سوچ رہا ہے؟
وسعت اللہ خان

شہید ختم نبوت ۔ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

شہید ختم نبوت، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ان ’’علماء حق‘‘ اور
الوالعزم انسانوں میں سے ہیں کہ جن کی روشن زندگی دین اسلام کی ترویج و اشاعت اور مختلف اسلام دشمن فتنوں کی سرکوبی میں گزرتی ہے اور آخر کار وہ اپنے عظیم مشن کی تکمیل کی خاطر مردانہ وار جدوجہد کرتے ہوئے شہادت کا تاج پہن کر’’ حیاتِ جاوداں‘‘ پالیتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ الحدیث، عظیم محقق و مصنف ، بلندپایہ محدث، اعلیٰ درجہ کے انشاء پرداز ادیب، ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ بینات سمیت کئی علمی و دینی رسائل کے مدیر اورسینکڑوں دینی مدارس کے سرپرست و بانی تھے،

آپؒ 1932ء میں عیسیٰ پور لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد چوہدری اللہ بخشؒ اپنے گاؤں کے نمبر دار لیکن ولی کامل حضرت مولانا شاہ عبدالقادررائپوریؒ کے مرید ہونے کی وجہ سے دیندار اور متقی و پرہیز گار انسان تھے، اسی وجہ سے آپؒ کے والد ؒ نے آپ کو حافظ قرآن اور عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔ آپؒ نے اپنی خداداد ذہانت اور شوق کی وجہ سے بچپن میں ہی قرآن مجید کی تعلیم قاری ولی محمدصاحبؒ سے حاصل کی…… اور پھر دینی تعلیم کے حصول کیلئے مدرسہ جامعہ محمودیہ لدھیانہ میں داخل ہو جاتے ہیں….. دورانِ تعلیم ہی قیام پاکستان کے اعلان کے بعد آپؒ لدھیانہ سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لاتے ہیں اور ملتان کے قریب ایک گاؤں میں سکونت اختیار کرتے ہوئے مدرسہ جامعہ رحمانیہ میں مولانا غلام محمد لدھیانویؒ سے دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں……

اور پھر آپؒ جامعہ قاسم العلوم فقیر والی میں ایک سال کتابیں پڑھنے کے بعد جامعہ خیر المدارس ملتان میں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے داخل ہو جاتے ہیں جہاں حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کی خصوصی توجہ اور زیر شفقت تعلیم مکمل کرتے ہوئے امتیازی حیثیت کے ساتھ ’’دورہ حدیث‘‘ کر کے عالم دین کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آپؒ حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے ’’دستِ حق‘‘ پر بیعت کرتے ہوئے بڑی تیزی کے ساتھ تزکیہ و سلوک کی منازل طے کرتے چلے گئے …… اور پھر اپنے استاذ و مرشد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے حکم پر آپؒ نے فیصل آباد کے ایک دینی مدرسہ میں دینی کتب پڑھانے کا آغاز کر دیا….. اس کے بعد جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں بھی دینی کتب پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے احادیث نبوی ﷺ کی بڑی کتب پڑھانے میں ملک گیر شہرت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں اٹھنے والے اسلام دشمن فتنوں کے خلاف آپؒ نے مختلف دینی رسائل میں مضامین تحریر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس کی وجہ سے آپؒ بڑی تیزی کے ساتھ علمی و ادبی حلقوں میں مقبول ہوتے چلے گئے۔

تحریک تحفظ ختم نبوت کے قائد اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے آپؒ کی صلاحیت اور طرزِ تحریر سے متأثر ہو کر آپ ؒ کو جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے شائع ہونے والے ملک کے ممتاز دینی جریدے ماہنامہ بینات کی ادارت و ذمہ داری سونپ دی اور اس کے ساتھ ہی مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی خواہش پر آپؒ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے مستقل طور پر کراچی منتقل ہوگئے اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن میں درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع کر دیا….. جب حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ عالمی مجلسِ تحفظِ ختم نبوت کے مرکزی امیر منتخب ہوئے تو انہوں نے آپؒ کی علمی و قلمی صلاحیتوں اور اخلاص و للّٰہیت کو دیکھتے ہوئے آپ ؒ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر و اشاعت کا سربراہ بنا دیا….

اس دوران آپؒ نے مختلف دینی رسائل ترتیب دیئے اور فتنہ قادیانیت کو بے نقاب کیا ان رسائل میں،قادیانیت علامہ اقبالؒ کی نظر میں، قادیانیوں کو دعوت اسلام، ربوہ سے تل ابیب تک ، مرزا کا اقرار، مراقی نبی، مرزائی اور تعمیر مسجد ،سر ظفراللہ خان کو دعوت اسلام، قادیانی جنازہ، قادیانی مردہ، قادیانی کلمہ، قادیانی ذبیحہ، مرزا قادیانی اپنی تحریروں کے آئینہ میں ، غدار پاکستان ڈاکٹر عبد السلام قادیانی ،آپ کے مسائل اور ان کا حل (9۔جلدیں) رجم کی شرعی حیثیت ،اصلاحی مواعظ، حسنِ یوسف (3۔ جلدیں) ، رسائل یوسفی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات اور تحفہ قادیانیت کے عنوان پر تین جلدوں میں کتاب آپ نے تحریر فرمائی جو اردو انگریزی ، پشتو سمیت کئی زبانوں میں شائع ہوچکی ہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی وفات کے بعد قطب الاقطاب حضرت مولاناخواجہ خان محمد صاحب ؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر منتخب ہوئے جبکہ آپؒ بدستور ؒ مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کے سربراہ کی حیثیت سے ہی کام کرتے رہے…. اور پھر مرکزی نائب امیر حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن ؒ کی وفات کے بعد آپؒ کو متفقہ طور پر عالمی مجلس تحفظِ ختم نبوت کا نائب امیر مرکزیہ منتخب کر لیا گیا اور جام شہادت نوش کرنے تک آپؒ اسی منصب پر کام کرتے رہے
مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی عالمی دفتر ملتان کے علاوہ کراچی ، لندن کے دفاتر اور چناب نگر کی جامع مسجد و مدرسہ کی تعمیر و ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا، آپؒ نے برطانیہ ، افریقا، انڈونیشیاء اور عرب ممالک سمیت دیگر کئی ممالک کے تبلیغی دورے کر کے لاکھوں لوگوں کو’’ قادیانی فتنہ‘‘ سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔۔۔۔جنوبی افریقہ میں بھی قادیانیوں کو سرکاری طور پرغیر مسلم قرار دلوانے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ۔ چناب نگر میں ہر سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذیر اہتمام آپؒ نے ’’رد قادیانیت ‘‘ پر سینکڑوں علماء کو کورس کراتے ہوئے ’’تحفظ ناموس رسالتﷺ‘‘ کے مبلغ بنا دیا۔ ۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ علمائے حق کی مختلف دینی و مذہبی جماعتوں کی سرپرستی وحمایت کے ساتھ ساتھ ان کے لئے ہر وقت دعا گو رہتے تھے۔
آپ ؒ کی تمام زندگی دعوت و تبلیغ ، تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺو ناموسِ صحابہؓ، درس و تدریس، تحریر و تصنیف اور مختلف فتنوں کے خلاف ’’قلمی جہاد‘‘ میں گزری، آپ کی پاکیزہ زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی بیمثال خدمات ناقابل فراموش اور تاریخ کا سنہری حصہ ہیں۔ آخر کار اسلام دشمن قوتوں نے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت 18مئی 2000 ء کو کراچی میں مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو گھر سے عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت کے دفتر جاتے ہوئے ڈرائیور عبد الرحمن سمیت فائرنگ کر کے شہید اور آپؒ کے بیٹے صاحبزادہ مولانا محمد یحیٰ یوسف کو شدید زخمی کر دیا۔
خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را
مولانہ میجب ارحمان انقلابی