Riche Benaud – A big loss to cricket

The game of cricket is passing through a critical period as it has been losing many star players and commentators, of late. Legendary cricket commentator and player Riche Benaud died last week after a long illness. He had been receiving treatment for skin cancer. Benaud was perhaps the most influential cricket personality after Sir Donald Bradman. 
Benaud, who has written several books on cricket, owed his fame mainly to his unique style of commentary. Benaud started his career as a spin bowler and eventually became captain of the Australian cricket team. He was the first player to reach 200 wickets and 2,000 runs in Test cricket, arriving at that milestone in 1963. As a captain, he never lost a series against any cricket playing nation. 
After his retirement in cricket, he pursued a career in journalism and broadcasting. He was an integral part of BBC and Channel Nine commentary team.
Khawaja Umer Farooq

The Mediterranean Sea – Watery graveyard for illegal migrants

More than 700 migrants have lost their lives when their overcrowded boat capsized off Libya in a major tragedy this week. The Mediterranean Sea has become a vast watery graveyard for illegal migrants. 
Italy accuses other countries of not doing enough to stop the flood of illegal immigrants. European Union (EU) countries seem to have decided not to take part in any rescue operations in the Mediterranean Sea to save the lives of illegal immigrants. EU fears that rescue operations will encourage more people to opt for the dangerous sea journey in search of a better life and future in its member countries. 
Because of wars, poverty and political uncertainty, thousands of people in the Middle East and Africa are trying to reach Europe by sea. According to an estimate, 140,000 people have tried to reach Italy and other European countries this year alone. More than 3,500 people have lost their lives during the perilous sea journey to Europe. 
The UN and the world community are not doing enough to stop the flow of illegal immigrants. Without solving the basic causes, we will not be able to stop illegal immigration.
Khawaja Umer Farooq

Political Unrest and Democracy in Bangladesh

According to media reports the Bangladesh opposition has announced a two-day strike after the hanging of a prominent leader of the Jamat-e-Islami party. Qamar uz Zaman, secretary-general of Jamat-e-Islami, who was hanged in Dhaka prison. He was elected a member of parliament and was a well-known political figure in the country. Zaman also ran an orphanage for poor children. Several Jamat-e-Islami leaders are facing harsh sentences after the formation of a war crimes tribunal. 
Human rights organizations, Amnesty International and Human Rights Watch, have expressed serious concerns over the recent verdict of the Bangladesh war crimes tribunal. Last year 500 people lost their lives after the hanging of another prominent Jamat-e-Islami leader, Abdu Qadir Mullah. The recent sentences on Jamat-e-Islami leaders and house arrest of major opposition leader Khalida Zia have fueled further anger and the opposition has called for a country-wide general strike. 
Now the European Union has expressed serious concern over poor safety standards in the Bangladeshi textile industry, which is the backbone of the country’s economy. Due to political uncertainty, daily strikes and reduced business activity, poor people find it hard to provide the daily necessities of life for their families. 
Khawaja Umer Farooq
Jeddah  

A perilous journey : The story of sad illegal immigrants

Rescue workers stand next to bodies of migrants who drowned on the beach in the Sicilian village of Sampieri. At least 13 people on a migrant boat arriving in Sicily drowned close to the coast near the eastern city of Ragusa, apparently after trying to disembark from their stranded vessel, Italian authorities said. Officials said the boat was carrying around 250 people but there was no immediate word on where they came from. REUTERS/Gianni Mania

Vladimir Putin : Live

Vladimir Vladimirovich has been the President of Russia since 7 May 2012. Putin previously served as President from 2000 to 2008, and as Prime Minister of Russia from 1999 to 2000 and again from 2008 to 2012. During his last term as Prime Minister, he was also the Chairman of United Russia, the ruling party. 

For 16 years Putin was an officer in the KGB, rising to the rank of Lieutenant Colonel before he retired to enter politics in his nativeSaint Petersburg in 1991. He moved to Moscow in 1996 and joined President Boris Yeltsin’s administration where he rose quickly, becoming Acting President on 31 December 1999 when Yeltsin unexpectedly resigned. Putin won the subsequent 2000 presidential election, despite widespread accusations of vote-rigging, and was reelected in 2004. Because of constitutionally mandated term limits, Putin was ineligible to run for a third consecutive presidential term in 2008. Dmitry Medvedev won the 2008 presidential election and appointed Putin as Prime Minister, beginning a period of so-called “tandemocracy”. In September 2011, following a change in the law extending the presidential term from four years to six, Putin announced that he would seek a third, non-consecutive term as President in the 2012 presidential election, an announcement which led to large-scale protests in many Russian cities. In March 2012 he won the election, which was criticized for procedural irregularities, and is serving a six-year term.

اسرائیلیوں کے سامنے ڈٹ جانے والا 5 سالہ بچہ…..

اسکول جانے کی عمر کا یعنی پانچ سالہ یہ بچہ ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران چھ مسلح پولیس اہلکاروں کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی نہیں ڈرا اور اکیلا ہی ان پر پتھراﺅ کرنے لگا۔
یہ منظر فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں نظر آیا جہاں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران یہ چھوٹا سا بچہ مکمل فوجی لباس میں اسرائیلی اہلکاروں پر پتھراﺅ کرتا نظر آیا۔
اسرائیلی اہلکار ہیلمٹوں اور حفاظتی جیکٹیں پہنے ہوئے تھے اور حیرت زدہ انداز میں بچے کو خود پر پتھر مارتے دیکھتے رہے۔
وہ بچہ کچھ دیر تک اہلکاروں پر پتھراﺅ کرتا رہا اور پھر بھاگ کر واپس چلا گیا۔
یہ احتجاجی مظاہرہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے قیدیوں کے قومی دن کے موقع پر ہورہا تھا جس کے دوران اسرائیلیوں نے آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیوں سے احتجاجی ہجوم کو منتشر کردیا۔
اس مظاہرے کے دوران تشد کے نتیجے میں کم از کم ایک فلسطینی شہری زخمی بھی ہوا۔
خیال رہے کہ قیدیوں کا دن اسرائیلی جیلوں میں قید چھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ہر سال منایا جاتا ہے۔

الطاف بھائی اور کراچی….

ایم کیو ایم سیاسی طور پر مشکل میں ہے، الطاف بھائی ذاتی طور پر بھی مشکل میں ہیں، لندن میں منی لانڈرنگ کے کیس میں ان سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، الطاف بھائی کی یہ مشکل کسی طور پر بھی سیاسی ہر گز نہیں یہ خالصتاً ذاتی مشکل ہے یہ معاملہ لندن کے ایک شہری اور حکومت کا ہے، جس کا فیصلہ لندن نے کرنا ہے۔ الطاف بھائی کو ایک مزید مشکل کا سامنا بھی ہے۔ یہ مشکل بھی ان کی ذاتی مشکل ہے ان کے ایک دیرینہ ساتھی کو لندن میں قتل کر دیا گیا۔ لندن پولیس کو ان قاتلوں کی تلاش ہے، اتفاق کی بات ہے کہ ابھی تک جن ملزمان کو پکڑا گیا ہے ان کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ عمران فاروق کے قاتلوں کی گرفتاری پاکستان سے ہوئی ہے ان ملزمان کا معاملہ زیر تفتیش ہے۔ 
ایک سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا عمران فاروق کے قاتلوں کی پاکستان میں گرفتاری سے الطاف بھائی کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے؟ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ ان ملزمان کے کسی بھی طرح کے بیان کی پاکستان میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے بیان کی وجہ سے الطاف بھائی ملزم ثابت ہو سکتے ہیں، البتہ یہاں تفتیش مکمل ہونے کے بعد اگر ان لوگوں کو لندن کے حوالے کر دیا جائے اور پھر وہاں پر کسی بھی سطح پر تفتیش کے دوران یہ لوگ الطاف بھائی کے حوالے سے کوئی بیان ریکارڈ پر لاتے ہیں تو پھر الطاف بھائی کے لئے مشکل ہو سکتی ہے۔
فی الحال الطاف بھائی کی ان مشکلات کو پاکستان میں صرف سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، قانونی طور پرانہیں ملزم یا مجرم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ پاکستان میں ان پر جو مختلف کیس درج ہیں ان کا معاملہ دوسرا ہے، مگر یہاں ایک بات یہ بھی لکھ کر رکھنے والی ہے کہ الطاف بھائی کسی بھی قیمت پر واپس پاکستان نہیں آئیں گے، اس حوالے سے بھی بات یہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر بہت سے امراض کا شکار ہیں اور ان امراض کی وجہ سے کراچی کا ماحول اور آب و ہوا ان کے لئے راس نہیں ہے۔ وہ طویل عرصے سے لندن کے ایک ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں، جہاں کی آب و ہوا ان کے لئے بہت راس ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم پر اب ان کی گرفت کمزور ہو چکی ہے وہ ایک طویل عرصے تک ایم کیو ایم کو فردِ واحد کے طور پر چلاتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کو ایک تنظیمی شکل دینے کے باوجود تنظیم کا کوئی عہدیدار ان کے حکم کے آگے سر نہیں اُٹھا سکتا اور پھر انہوں ن کبھی بھی ایسی کوشش نہیں کی کہ جس کے ذریعے یہ پتہ چلے کہ الطاف بھائی کی موجودگی میں بھی فلاں فلاں شخص قیادت کے منصب پر موجود ہے۔
مثال کے طور پر رابطہ کمیٹی کے نام سے جو لوگ ایک عرصے سے کراچی کی تنظیم چلاتے رہے ہیں وہ ’’لوکل‘‘ سطح کے فیصلے کرنے کا بھی اختیار نہیں رکھتے اور ان لوگوں میں سے اگر بعض لوگوں نے پاکستان کی سیاست میں خود کو منوانے کی کوشش کی ہے تو الطاف بھائی کے ایک ’’حکم‘‘ نے انہیں زمین بوس کر دیا ،ان لوگوں کو میڈیا کے سامنے ایک کھلے اجلاس میں ایک عام سطح کے کارکن نے اچھا خاصا ذلیل کر کے رکھ دیا، حتیٰ کہ بعض دفعہ تو ہاتھ اٹھانے کی بھی نوبت آ گئی اب اگر عام نظر سے دیکھا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ ایم کیو ایم میں ایم این اے یا ایم پی اے ایک عام ورکر کے برابر ہیں، مگر حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی قابل تعریف بات نہیں ہے، مثال کے طور پر ایک ایم این اے جس نے قومی اسمبلی کے فلور پر قومی ایشو پر بات کرتی ہے۔ ایک ایم پی اے جس نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے سیاسی مفادات کی بات کرتی ہے اور پھر مختلف ایشوز پر حکومت اور حکومت سے باہر اپنی جماعت کی ترجمانی کرتی ہے ایسے شخص کو اگر ایک عام کارکن کھلے عام ڈانٹ ڈپٹ کرتا نظر آئے تو پارٹی کے عہدیدار کی کیا عزت ہو گی؟اور باقاعدہ جوتا مار دے توکیا ہو؟
بظاہر اس سے ثابت ہوتا ہے یا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ الطاف بھائی ہی ایم کیو ایم کے اول بھی ہیں اور آخر بھی، مگر اس سے نقصان یہ ہوتا ہے یا ہو رہا ہے کہ الطاف بھائی کے بغیر ایم کیو ایم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ ایم کیو ایم کا دوسرا نام الطاف حسین ہے اور اگر الطاف حسین کے ساتھ کوئی سنگین معاملہ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر لندن میں منی لانڈرنگ کے کیس میں اگر الطاف بھائی کو سزا ہو جاتی ہے تو کیا ایم کیو ایم ختم ہو جائے گی، بطور ایک سیاسی جماعت کے ایم کیو ایم کا خاتمہ بعض سیاسی جماعتوں کے لئے نیک شگون ہو سکتا ہے، مگر ایم کیو ایم کا بطور جماعت خاتمہ پاکستان کے لئے نیک شگون نہیں ہو سکتا، ایم کیو ایم میں ہزاروں ایسے کارکن موجود ہیں، جنہیں بہترین سیاسی تربیت حاصل ہے۔ 
ایک سیاسی کارکن کے طور پر ان لوگوں نے اپنی تنظیم کے لئے بہت خدمات سرانجام دی ہیں اور اس طرح کے کارکن دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے بھی قابل قبول ہیں، مگر ایم کیو ایم میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے لاٹھی اور گولی کی سیاست کو فروغ دیا اور یہی لوگ ایم کیو ایم کے لئے بدنامی کا باعث بھی ہیں۔
ایم کیو ایم میں یہ لوگ کہاں سے آئے، کن لوگوں نے ان کی تربیت کی اس حوالے سے تو کسی بھی سوال کا جواب الطاف بھائی ہی دے سکتے ہیں، مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب ایسے لوگ خود الطاف بھائی کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ کراچی کے اپریشن کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپریشن کے حوالے سے الطاف بھائی بہت مطمئن ہیں اور ان کے بیانات کی حیثیت محض سیاسی ہے بعض لوگوں کی طرف سے اس ’’انکشاف‘‘ کے بعد الطاف بھائی پر لازم ہے کہ اپنے ’’محض سیاسی بیانات‘‘ سے بھی گریز کریں اور مُلک کے حساس ادارے یا صوبائی حکومت کراچی کے امن و امان کو اپس لانے کے لئے کوشیں کر رہی ہے تو پھر الطاف بھائی کھلے الفاظ میں ان اداروں کی حوصلہ افزائی کریں، انہیں تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہئے کہ وقت بدل چکا ہے اور بدلے ہوئے حالات میں بطور قائد ایم کیو ایم انہیں اب اپنی بعض سیاسی پالیسیاں ترک کر دینا چاہئیں، اب انہیں محض ’’قومیت‘‘ کے نام پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، بلکہ ’’قوم‘‘ کے مسائل کے حل کے لئے آگے بڑھنا چاہئے وہ بے شک مہاجر قوم کے نعرے کے ساتھ میدان میں آئیں، مگر ’’اہلِ زبان‘‘ کے کھوئے ہوئے کلچر کو بھی واپس لانے کی کوشش کریں، اس وقت، جبکہ کراچی کے ایک ضمنی الیکشن کی مہم جاری ہے انہیں درست طور پر اپنی قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے۔
کسی بھی تحریک یا الیکشن کی کامیابی کے لئے ضروری نہیں ہے کہ لاشیں بھی گریں گھیراؤ جلاؤ بھی ہو، مار دھاڑ بھی کی جائے، تحریک کے مقاصد اور الیکشن میں کامیابی کے لئے کئی مثبت پیغام بھی دیئے جا سکتے ہیں اور پھر الطاف بھائی کا کراچی کے ضمنی الیکشن کے لئے یہ بیان درست ہے کہ کراچی میں ’’مقابلہ نہیں مقابلی‘‘ ہو گی۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف ایم کیو ایم کے مقابل ہیں اور ایم کیو ایم کی کامیابی کے لئے یہی کافی ہے کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں ہی اپنی حیثیت میں موجود ہیں۔ عمران خان نے 19اپریل کو کراچی میں جلسہ عام کا اعلان کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق بھی وہاں جلسہ کر چکے ہیں، تحریک انصاف کے امیدوار روزانہ کی بنیاد پر جلسے کر رہے ہیں، مگر ان کے لب و لہجے میں وہ چاشنی نہیں ہے جو کراچی کے ’’اہلِ زبان‘‘ کے دل نرم کر سکے۔ الطاف حسین کا خیال ہے کہ ان دونوں جماعتوں نے کراچی پر ’’یلغار‘‘ کر رکھی ہے، مگر یہ لوگ کراچی میں اپنے قدم نہیں جما سکیں گے۔ آخری بات یہ ہے کہ کراچی کے ’’اہلِ زبان‘‘ کو اس وقت ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو کراچی میں ان کے درمیان ہر وقت موجود ہو، وہ کسی ایسے لیڈر کے ساتھ نہیں چل سکتے، ’’جو پل میں تولہ اور پل میں ماشا‘‘ بن جائے، بدقسمتی سے عمران خان کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کب ’’گولی‘‘ داغ دیں اور کب پستول پھینک دیں یا پھر گالی پر اُتر آئیں

محمد افضل عاجز

Malaysia – The Jewel of Asia

Malaysia is a federal constitutional monarchy located in Southeast Asia. It consists of thirteen states and three federal territories and has a total landmass of 329,847 square kilometres (127,350 sq mi) separated by the South China Sea into two similarly sized regions, Peninsular Malaysia and East Malaysia (Malaysian Borneo). Peninsular Malaysia shares a land and maritime border with Thailand and maritime borders with Singapore, Vietnam, and Indonesia. East Malaysia shares land and maritime borders with Brunei andIndonesia and a maritime border with the Philippines. The capital city is Kuala Lumpur, while Putrajaya is the seat of the federal government. By 2015, with a population of over 30 million, Malaysia became the 43rd most populous country in the world. The southernmost point of continental Eurasia, Tanjung Piai, is in Malaysia, located in the tropics. It is one of 17 megadiverse countries on earth, with large numbers of endemic species.

Malaysia has its origins in the Malay kingdoms present in the area which, from the 18th century, became subject to the British Empire. The first British territories were known as the Straits Settlements, whose establishment was followed by the Malay kingdoms becoming British protectorates. The territories on Peninsular Malaysia were first unified as the Malayan Union in 1946. Malaya was restructured as the Federation of Malaya in 1948, and achieved independence on 31 August 1957. Malaya united with North Borneo, Sarawak, and Singapore on 16 September 1963, with si being added to give the new country the name Malaysia. Less than two years later in 1965, Singapore was expelled from the federation.
The country is multi-ethnic and multi-cultural, which plays a large role in politics. The constitution declares Islam the state religionwhile allowing freedom of religion for non-Muslims. The government system is closely modelled on the Westminster parliamentary system and the legal system is based on common law. The head of state is the king, known as the Yang di-Pertuan Agong. He is an elected monarch chosen from the hereditary rulers of the nine Malay states every five years. The head of government is the prime minister.