Beijing 2022 Olympic gold

Thomas Bach President of the International Olympic Committee (IOC) announces Beijing as the city to host the the 2022 Winter Olympics during the 128th International Olympic Committee Session, in Malaysia’s capital city of Kuala Lumpur.

ملاعمر، افغان منظر نامہ کا طلسماتی کردار

افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کی ہلاکت کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔ گزشتہ روز طالبان شوریٰ نے ملا محمد اختر منصور کو نیا امیر منتخب کر لیا ہے‘ سراج حقانی کو نائب امیر شمالی افغانستان جب کہ  ہیبت اللہ اخونزادہ کو نائب امیر جنوبی افغانستان بنایا گیا ہے‘ یوں ملا عمر کے مرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے‘ طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات بھی معطل کر دیے ہیں تاہم یہ عندیہ دیا ہے کہ طالبان شوریٰ مذاکرات کے حق میں ہے۔
ملا عمر نے روسی جارحیت کے خلاف افغانستان میں لڑائی لڑی اور پھر طالبان کے ذریعے افغانستان کی حکومت حاصل کی‘ وہ افغان جنگ کا اہم کردار رہے۔ ان کی حیات و موت کی پراسراریت مغربی میڈیا سمیت ملکی اہل سیاست و صحافت کے لیے حیرت ناک ہے کیونکہ اطلاعات کے ناقابل یقین عصری انقلاب اور ذرائع ابلاغ کی غیر معمولی سرعت اور خبروں تک رسائی کے متعدد وسائل کے باوجود اسامہ بن لادن کے بعد اب ملا عمر کی موت بھی معمہ بن گئی ہے، افغان حکومت نے ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ ملا عمر کی موت کی اطلاعات قابل اعتبار ہیں۔ بی بی سی نے بدھ کو افغان حکومت میں موجود ذرائع کے حوالے سے ملا محمد عمر کے انتقال کا دعویٰ کیا ہے۔ کابل کے صدارتی محل سے بدھ کی شب جاری ہونیوالے بیان میں کہا گیا کہ افغان حکومت مصدقہ معلومات کی بنیاد پر تصدیق کر رہی ہے کہ ملا عمر اپریل 2013ء میں پاکستان میں انتقال کر گئے تھے۔پاکستان میں انتقال کی خبر دے کر دراصل افغان حکومت نے شرارت کی ہے۔
دوسری جانب پاکستانی سرکاری ذرائع نے ملا عمر کی کراچی میں موت کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔1979-1989ء کے دوران ملاعمر اسامہ بن لادن سے منسلک رہے، روسی جارحیت کے خلاف دیگر متحارب قبائل کے ہمراہ لڑتے رہے۔ چار بار زخمی ہوئے، ایک حملہ میں ان کی دائیں آنکھ ضایع ہو گئی،1994ء میں افغان کمیونسٹ حکومت کے زوال کے بعد انہیں افغانستان میں حکمرانی قائم کرنے کا موقع ملا، 1996ء میں سپریم کمانڈر اور امیرالمومنین بنے۔
 نائن الیون سانحہ کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت ختم کر دی۔ ملا عمر مختلف مقامات پر روپوش ہوتے رہے۔ انھوں نے کسی مغربی صحافی سے ملاقات نہیں کی۔ان کے بارے میں ماضی میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
امریکا نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین (ایک کروڑ) ڈالر مقرر کی۔ بہر کیف طالبان شوریٰ کی جانب سے ملاعمر کے انتقال کے بعدنائن الیون کے بعد شروع ہونے والے معرکہ کے دو اہم ترین کردار اسامہ اور ملا عمر ختم ہو گئے۔
مگر اس حقیقت کو دنیا فراموش نہیں کر سکتی کہ ملا عمر نے روسی جارحیت، امریکی سامراج اور مغربی قوتوں کے خلاف غیر معمولی جدوجہد کی۔جب بھی افغانستان کی تاریخ لکھی جائے گی ملا عمر کا کردار اس کا لازمی حصہ ہوگا۔اب یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان جو مذاکراتی عمل شروع ہوا تھا ‘وہ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

کیا اس امیر شہر میں ہمارے لیے کوئی جگہ ہے؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت آئی الیون سیکٹر کی کچی آبادی کے 100 سے زائد گھر مسمار کر دیے گئے ہیں جبکہ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکومت نے ہزاروں افراد پر کارِ سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور کئی رہائشیوں اور ان کی حامیوں کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں۔
ڈیویلپمنٹ اتھارٹی یعنی سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کی مہم گذشتہ کئی ماہ سے چل رہی ہے۔
اس مہم کی سربراہی کرنے والے سی ڈی اے کے اہلکار حمزہ شفقات نے بی بی سی کو بتایا کہ سروے کے مطابق اسلام آباد میں 43 غیر قانونی کچی آبادیاں ہیں اور ان میں سے دس کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کی ہائی کورٹ کے حکم کے تحت یہ سب سے بڑی اور سب سے اہم کچی آبادی ہے جہاں جرائم بھی ہیں اور ان لوگوں کے پلاٹس پر قبضہ کیا گیا ہے جنھوں نے زمینیں 1985 میں خریدی تھیں۔
اس سیکٹر میں تقریباً 20 ہزار افراد 800 کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔
سی ڈی اے کے مطابق یہاں 230 ایسے پلاٹ ہیں جن پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا گیا ہے۔ تاہم آئی الیون کی کچی بستی، جسے افغان بستی بھی کہا جاتا ہے کے مکین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اس علاقے میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور وہ یہاں سے تب تک نہیں ہٹیں گے جب تک انہیں متبادل جگہ نہیں دی جاتی۔
جمعرات کو ہونے والے اس آپریشن کی کچی آبادی کے رہائشیوں نے مزاحمت بھی کی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔
اس کے علاوہ مظاہرین نے کچے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ کر بلڈوزرز کو روکنے کی کوشش کی جبکہ پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان واقعات میں بعض افراد زخمی بھی ہوئے۔
مزاحمت کرنے والوں میں 35 سالہ ناصر خان ہیں۔ یہ قریب واقع سبزی منڈی میں دہاڑی کے مزدور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اپنے علاقے کے خانوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ان کا خاندان یہاں30 سال پہلے منتقل ہوا تھا۔
اسلام آباد میں 43 غیر قانونی کچی آبادیاں ہیں اور ان میں سے دس کو گرا دیا گیا ہے: سی ڈی اے
اس آپریشن سے ایک روز قبل ناصر خان نے اپنے گھر کے لیے جان دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ’بلڈوزر لائیں گے تو ہم بلڈوزر کے نیچے گریں گے۔ ماریں، کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہم دو والدین اور چھ بھائیوں اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اتنے بڑے خاندان کو کوئی گھر کرائے پر کہاں دیتا ہے۔ ہم کہاں جائیں؟
دوسری جانب ریٹائرڈ بینک اہلکار راجہ منظور حسین ہیں جنہوں نے 14دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد کے ہائی کورٹ میں اپنے پلاٹ کے حصول کے لیے درخواست دائر کی۔ اسی کیس کے سلسلے میں ہائی کورٹ نے افغان بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا۔
راجہ منظور سی ڈی اے کو اس معاملے کے لیے قصور وار ٹھراتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے1993 آئی الیون میں اپنے نام پلاٹ کرایا اور اپنا گھر بنانے کی چاہ میں بوڑھے ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے افغان بستی کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا
’اِدھر اُدھر سے رشتہ داروں سے پیسے پکڑ کر ہم نے یہ پلاٹ خریدا۔ سوچا تھا کہ گھر بنائیں گے اور عزت سے زندگی گزاریں گے۔ لیکن 30 سال ہو گئے ہیں در بدر کی ٹھوکریں کھا کر کرائے کے مکانوں میں رہ رہے ہیں، ظلم کی انتہا ہے۔‘
تاہم کچی آبادیوں کے لیے آواز اٹھانے والی سیاسی جماعت عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عاصم سجاد اختر کہتے ہیں کہ سی ڈی اے کی جانب سے یہ کارروائی بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔
 
ؤسنگ پالیسی بنی تھی جس کے تحت حکومت اگر کوئی کچی آبادی خالی کرانا چاہے تو انہیں کوئی متبادل اور مناسب جگہ دے کر کرے گی۔ آخر یہ انسان ہیں، لوگ ہیں، انہیں سڑک پر تو نہیں پھینک سکتے۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو چھت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
گذشتہ کئ برسوں سے اسلام آباد کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کئی نجی ہاؤسنگ سکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں۔ تاہم مڈل کلاس اور مزدور رہائشی پوچھتے ہیں کیا اس امیر شہر میں ان کے لیے کوئی جگہ ہے؟
 ہاؤسنگ پالیسی کے مطابق کچی بستی گرانے پر حکومت مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی پابند ہوگی
عنبر شمسی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

Froome wins Tour de France

 Team Sky rider Chris Froome of Britain (R), the overall leader’s yellow jersey holder, cycles in the Gorges du Tarn during the 14th stage of the 102nd Tour de France cycling race from Rodez to Mende.

تم آج کچھ بھی نہ پوچھو، کہ دل اُداس بہت ہے

جمعرات کی صبح ممبئی بم دھماکوں کے لیے مالی تعاون فراہم کرنے کے جرم میں یعقوب میمن کو پھانسی دیدی گئی لیکن بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں یہ معمول کی صبح تھی۔
ہڑتال یا مظاہرے تو نہیں کیے گئے لیکن رائے عامہ پر گویا گھٹن کے بادل منڈلا رہے تھے۔اسی لیے لوگوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پر دعمل ظاہر کیا۔ یہ ردعمل کہیں کہیں برملا مگر اکثر محتاط تھا۔
واضح رہے 9 فروری 2013 کو جب بھارتی پارلیمان پر حملے کی سازش کے لیے کشمیری قیدی افضل گورو کو خفیہ پھانسی کے بعد تہاڑ جیل میں دفنایا گیا، تو کشمیر میں کئی ہفتوں تک پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔
اس باراکثر علیحدگی پسندوں نے یعقوب میمن کے معاملے پر خاموشی کو ہی ترجیح دی۔ تاہم 86 سالہ رہنما سید علی گیلانی نے محتاط ردعمل میں بھارت کے ان سماجی حلقوں کا حوالہ دیا جو سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں قانونی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
انھوں نے ایک بیان میں بتایا کہ ’یعقوب کو محض اس لیے تختہ دار پر لٹکایا گیا کیونکہ وہ مسلمان تھے۔
سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ حساس معاملات پر بھی ٹویٹ کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ ٹوٹر پر دس لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے مسٹر عبداللہ نے اس بار کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ چند سال قبل جب تمل ناڈو کی اسمبلی نے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے مبینہ قاتلوں کو سنائی پھانسی کی سزا پر روک لگوانے کے لیے قرار داد منظور کی، تو عمرعبداللہ نے پوچھا تھا کہ اگر ایسا کشمیری افضل گورو کے معاملے میں کرتے تو ملک میں ہنگامہ برپا ہوجاتا۔ جس پر انھیں بی جے پی کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاسی گروپوں نے تو یعقوب میمن کی پھانسی کو ایک غیر اہم معاملہ سمجھ کر خاموشی اختیار کرلی لیکن سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کشمیری نوجوانوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
اکثر نے اس واقعہ کو ایک ’عدالتی قتل‘ قرار دیا۔ چین سے تعلیم یافتہ رضاکار پیر جی این سہیل لکھتے ہیں: ’اس عدالتی قتل سے جناح صحیح ثابت ہوگیا۔ بھارت مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔
اکثر ٹویٹس اور فیس بک پوسٹوں پر اس پھانسی سے قبل ہوئی عدالتی کارروائی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ میڈیا کے کردار کو بھی ہدفِ تنقید بنایا گیا۔
معروف صحافی مزمل جلیل نے حیرت کا اظہار کیا کہ ٹی وی چینلز پر اچھی سماعت کے لیے ججوں کی تعریف کی اور کہا گیا کہ یہ ہندوستان کے لئے عظیم دن ہے۔ کیا ان کی تعریف یعقوب کو لٹکانے کے لیے کی گئی۔
اکثر لوگوں نے فیس بک پر براہ راست ردعمل سے گریز کرتے ہوئے یاس کے رنجیدہ لہجے کے اشعار کو پوسٹ کیا۔
پھانسی کے چند منٹ بعد ہی صحافی نصیر اے گنائی کے وال پر فیض احمد فیض کا یہ شعر پوسٹ ہوچکا تھا: ’امید یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ۔۔۔۔۔۔تم آج کچھ بھی نہ پوچھو، کہ دل اُداس بہت ہے۔
دلچسپ بات ہے کہ ایک کشمیری پنڈت خاتون ریتو کول نے یعقوب کی روح کے لیے امان کی خواہش کا اظہار کیا۔
دریں اثنا سابق مسلح شدت پسند عثمان مجید، جو بعد میں بھارتی فوج کے لیے انسداد تشدد کی ٹیم میں شامل ہوئے تھے، نے یعقوب میمن کو بھارت لانے میں کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے۔
واضح رہے ممبئی دھماکوں سے متعلق حسین زیدی کی کتاب ’بلیک فرائڈے‘ میں دعوی کیا گیا تھا کہ مسٹر عثمان نے ہی بھارتی خفیہ اداروں کو کراچی میں یعقوب کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ عثمان مجید اب بانڈی پورہ سے منتخب رکن اسمبلی ہیں اور کانگریس پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’بھارتی حکومت کا تو پاکستان میں اپنا سیٹ اپ ہے۔ انہِیں معلوم ہے ٹائیگر میمن کا گھر کہا پر ہے۔ پاکستان میں حکومت ہند کی موجودگی گہرائی تک ہے۔‘
واضح رہے یعقوب کو بھارتی ریاست مہارشٹر کے شہر ناگپور کی جیل میں جمعرات کو علی الصبح پھانسی دی گئی۔اس سے قبل بھارت کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف یعقوب میمن کی اپیل مسترد کر دی ہے جبکہ بھارتی صدر بھی ان کی رحم کی درخواست مسترد کر دی تھی
۔یعقوب میمن کو1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً سات سو زخمی ہوئے تھے۔
ریاض مسرور
بی بی سی اُردو ڈاٹ کام

Death of the Dead Sea

The Dead Sea also called the Salt Sea, is a salt lake bordered by Jordan to the east, and Palestine and Israel to the west. Its surface and shores are 429 metres (1,407 ft) below sea level, Earth’s lowest elevation on land. The Dead Sea is 304 m (997 ft) deep, the deepest hypersaline lake in the world. With 34.2% salinity (in 2011), it is also one of the world’s saltiest bodies of water, though Lake Vanda in Antarctica (35%), Lake Assal in Djibouti (34.8%), Lagoon Garabogazköl in the Caspian Sea (up to 35%) and some hypersaline ponds and lakes of the McMurdo Dry Valleys in Antarctica (such as Don Juan Pond (44%)) have reported higher salinities. It is 9.6 times as salty as the ocean.This salinity makes for a harsh environment in which animals cannot flourish, hence its name. The Dead Sea is 50 kilometres (31 mi) long and 15 kilometres (9 mi) wide at its widest point. It lies in the Jordan Rift Valley and its main tributary is the Jordan River.

 The Dead Sea is an endorheic lake located in the Jordan Rift Valley, a geographic feature formed by the Dead Sea Transform (DST). This left lateral-moving transform fault lies along the tectonic plate boundary between the African Plate and the Arabian Plate. It runs between the East Anatolian Fault zone in Turkey and the northern end of the Red Sea Rift offshore of the southern tip of Sinai. It is here that the Upper Jordan River/Sea of Galilee/Lower Jordan River water system comes to an end.
The Jordan River is the only major water source flowing into the Dead Sea, although there are small perennial springs under and around the Dead Sea, forming pools and quicksand pits along the edges. There are no outlet streams.
Rainfall is scarcely 100 mm (4 in) per year in the northern part of the Dead Sea and barely 50 mm (2 in) in the southern part. The Dead Sea zone’s aridity is due to the rainshadow effect of the Judaean Mountains. The highlands east of the Dead Sea receive more rainfall than the Dead Sea itself. To the west of the Dead Sea, the Judaean mountains rise less steeply and are much lower than the mountains to the east. Along the southwestern side of the lake is a 210 m (700 ft) tall halite formation called “Mount Sodom”.

ترکی دودھاری تلوار کی زد میں

پاکستان کا دہشت گردی سے واسطہ مشرف دور میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد پڑا تھا لیکن ترکی اسی کی دہائی ہی سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے۔ ترکی میں 1984ء میں کردستان ورکرز پارٹی جسے’’پی کے کے‘‘ نام سے یاد کیا جاتا ہے نے دہشت گردی کا آغاز کیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کی جانب سے اب تک پینتالیس ہزار سے زائدا فراد کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم سے ترکی کبھی بھی چھٹکارا حاصل نہیں کرسکا ہے۔ 
اگرچہ دہشت گرد تنظیم نے کبھی یک طرفہ طور پر اور کبھی حکومت کے ساتھ طے پانے والے فائر بندی کے سمجھوتے کے بعد کچھ عرصے ہی کے لیے کنارہ کشی اختیارکی لیکن ترک عوام کبھی بھی مستقل طور پر اس سے جان نہ چھڑا سکے۔ترکی کی یہ دہشت گرد تنظیم اس لحاظ سے دیگر دہشت گرد تنظیموں سے مختلف ہے کہ اس تنظیم کو اس کے قیام ہی سے کئی ایک یورپی ممالک جن میں جرمنی اور فرانس شامل ہیں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل رہی ہے۔
ان ممالک نے نہ صرف ان دہشت گردوں کو اپنے ہاں پناہ دی بلکہ ان کی ٹریننگ میں بھی کسی نہ کسی طرح ملوث رہے اور ان دہشت گردوں کو دنیا بھر میں حریت پسندوں کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں اور اس طرح یہ ممالک ان دہشت گردوں اور مذہب کو استعمال کرنے والے دہشت گردوں کے درمیان فرق رکھتے ہوئے ترک عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا سلسلہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی کی اس دہشت گرد تنظیم ” پی کے کے” کو پروان چڑھانے میں ترکی کے ہمسایہ ملک شام نے بڑا اہم کردار ادا کیا اور اس تنظیم کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کو اپنے ہاں طویل عرصے نہ صرف پناہ دئیے رکھی بلکہ وادی بقا میں قائم کیمپوں میں کرد باشندوں کو جنگ کرنے کی ٹریننگ دی جاتی رہی۔

اب ترکی کے پاس شام کو اس کے کئے کی سزا دینے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار باقی نہ بچا تھا، اس لئے ترکی نے شام پر فوج کشی کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی فوجوں کو شام کی سرحدوں پر لاکھڑا کیاتھا تاہم مصر کے اُس وقت کے صدر حسنی مبارک نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کو روکنے کے لئے ثالث کا کردار ادا کیا اور ترکی کے شام پر حملے کو آخری وقت میں رکوادیا اور اس کے بدلے عبداللہ اوجالان کو شام سے نکلنے پر مجبور کیا۔ تاہم ترکی کی خفیہ سروس نے عبداللہ اوجالان کا تعاقب جاری رکھا اور متحدہ امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں عبداللہ اوجالان کو کینیا کے ہوائی اڈے سے گرفتار کرتے ہوئے ترکی پہنچا دیا گیا۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں اُس دور میں ترکی اور شام کے تعلقات بڑے کشیدہ تھے لیکن صدر حافظ الاسد کی وفات کے بعد ان تعلقات نے نیا رخ اختیار کیا اور حافظ الاسد کے صاحبزادے بشار الاسد کے اقتدار میں آنے سے دونوں ممالک شیر و شکر ہو گئے اور ان میں اتنی گرم جوشی دیکھی گئی کہ دونوں ممالک کی کابینہ کے مشترکہ اجلاس منعقد ہونے لگے ۔
اسی طرح دونوں ممالک کی مشترکہ کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران تعاون کے باون مختلف سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے ۔ اُس دور میں دونوں ممالک کے رہنمائوں کے درمیان ذاتی مراسم اس قدر مضبوط ہوچکے تھے کہ دونوں رہنمائوں کے اہلِ خانہ اکٹھے ہی تعطیلات منانے لگے تاہم مصر، مراکش اور تیونس جیسے عرب ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے ” بہار عرب” کے نام سے شروع ہونے والی تحریک نے جہاں تمام عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا وہاں شام بھی اس تحریک سے بُری طرح متاثر ہوا اور تحریک کی وجہ سے ترکی اور شام کے تعلقات بھی سرد مہری کا شکار ہوتے چلے گئے اور پھر شام خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔
 شام کی خانہ جنگی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ” دولتِ اسلامیہ ‘‘ یا پھر ” داعش‘‘ نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی۔ ترکی نے ابتدا میں اس دہشت گرد تنظیم کے بارے میں جان بوجھ کر خاموشی اختیار کئے رکھی ( ترکی کے مختلف حلقے اور چند ایک مغربی ممالک ترکی پر دہشت گرد تنظیم داعش کی پشت پناہی کرنے کا الزام بھی لگا رہے ہیں) جیسے پاکستان نے ابتدا میں طالبان کے وجود سے انکار کیا تھا بالکل اسی طرح حکومت ترکی بھی داعش کے بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے تھی لیکن داعش نے اس دوران جنوب مشرقی اناطولیہ (ترکی کے شام کے ساتھ ملنے والے سرحدی علاقے ) میں اپنی موجودگی کا احساس سب کو دلوا دیا بلکہ یہاں تک کہا جانے لگا کہ اس پورے علاقے کو داعش نے اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے ۔
اس پورے علاقے میں آویزاں سائن بورڈز اور ٹریفک بورڈز تک بدل گئے اور ترکی زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بھی یہ سائن بورڈز آویزاں کئے جانے لگے۔ ترکی داعش کے سحر سے اس وقت نکلا جب د اعش نے ترکی پر ہی حملہ کردیا اور اس کے صوبے شانلی عرفہ کے علاقے سورچ میں 32 افراد کوخود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا اور اس طرح پہلی بار حکومت کی سطح پر خطرے کی گھنٹی سنی گئی۔ علاقے کے عوام جو پہلے عسکریت پسندوں کے علاج معالجہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے نے اتنا شدید ردِ عمل دکھایا کہ حکومت کے لئےفوری طور پر ان دہشت گردوں کے خلاف اقدامات اٹھانے پڑے۔ترکی کے ایف سولہ طیاروں نے شام کی ترکی کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر جہاں داعش کےٹھکانے موجود تھے کئی روز تک مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رکھا اور اس علاقے میں موجود داعش کے تمام ٹھکانوں کر تباہ کردیا گیا ۔
ترکی جو اس سے قبل متحدہ امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود داعش کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے کترا رہا تھا اس کے صدر باراک اوباما اور صدر ایردوان کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد اتحادی کے طور پر متحدہ امریکہ کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی میں حصہ لینے کی یقین دہانی کروائی اور متحدہ امریکہ نے داعش سے خالی کروائے جانے والے علاقوں کوترکی کے مطالبے پر بفرزون بنانے کی حامی بھر لی ہے۔ 
ترکی اور متحدہ امریکہ کے درمیان شام کے بارےمیں طویل عرصے سے اختلافات چلے آرہے تھے ترکی علاقے میں بفر زون قائم کرنے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بارے میں اصرار کرتا رہا تو متحدہ امریکہ، ترکی سے علاقے میں داعش کے خاتمے اور اتحادی ملک ہونے کے ناتے کولیشن قوتوں میں مؤثر کردار ادا کرنے پر زور دیتا رہا ہے لیکن اب امریکہ کی جانب سے بفر زون قائم کرنے کی یقین دہانی کروائے جانے کے بعد ترکی نے کولیشن قوتوں کی کارروائی میں حصہ لینے کی حامی بھر لی ہے اور حکومتِ ترکی نے قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے علاوہ داعش اور کرد باغیوں کے خلاف کارروائی پر تبادلہ خیال کے لئے نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس میں نیٹو کو جہادیوں اور کرد باغیوں کے خلاف جاری عسکری کارروائی کے بارے میں تفصیلات بتائی جائیں گی۔
ترکی نے عراق میں دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ترکی نے دہشت گرد تنظیم ” پی کے کے” کے خلاف 2011ء میں آخری بار بمباری کی تھی اور بعد میں کرد رہنماؤں اور حکومت ترکی کے درمیان ” مسئلہ کرد” کو حل کرنے کےلئے طے پانے والے سمجھوتے کے ذریعے فائر بندی قائم ہو گئی تھی اور اس وقت سے اس فائر بندی پر عمل درآمد ہو رہا تھا لیکن اب حکومت ترکی کی جانب سے شمالی عراق میں ” پی کے کے” کے ٹھکانوں پر کی جانے والے بمباری سے یہ فائر بندی اپنے اختتام کو پہنچ گئی اور ” پی کے کے‘‘ نے بھی حکومت ترکی کی اس کارروائی کے بعد نئے سرے سے دہشت گردی کے حملے شروع کردئیے ہیں جس کے نتیجے میں کئی ایک پولیس اور فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔
ترکی نے اس وقت نہ صرف داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے خلاف بھی فوجی آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے۔ حکومتِ ترکی اس فوجی آپریشن کے ذریعے ترک قومیت پسندوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے جو ’’مسئلہ کرد کے حل‘‘ کی وجہ سے کرد رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی وجہ سے کھو بیٹھی تھی۔ اس طرح بر سر اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ترک قومیت پسندوں کی حمایت حاصل کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات ہونے کی صورت میں دوبارہ سے تنہا اقتدار حاصل کرنے کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر فرقان حمید
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

New Jersey Festival of Ballooning

A hot air balloon comes to rest amid trees, as seen from a flying balloon just after sunrise on day one of the 2015 New Jersey Festival of Ballooning in Readington, New Jersey. More than 100 hot air balloons are taking part in the three-day festival, one of the largest of its kind in North America, according to organizers.