اے شہر مکہ

اے شہرِ مکّہ …. تُو شہرِ عتیق ہے کہ تیرے اندر بیت العتیق ہے۔ اے شہرِ مکّہ‘ تُوشہرِ قدیم ہے کہ تیرے اندر بیت ِ ذاتِ قدیم ہے ۔ اے شہرِ مکّہ….تُو اُمّ القریٰ ہے تُو اُس مشفق ماں کی طرح ہے جو ہر قرئیے ‘ہر شہر سے آنے والوں کو اپنی محبت بھری آغوش میں سمیٹ لیتی ہے ۔ اے شہرِ مکّہ….تُو بَلَدُ الامین ہے ‘ تومخلوقاتِ عالم کی پناہ گاہ ہے‘ جو تیرے پاس پہنچا‘ اُس نے اَمن پایا …. خوف اور بھوک سے نجات حاصل کی۔ 
جس نے اس شہرِپُرسکوں کا سکون برباد کیا ‘وہ خود برباد ہوا زمانے میں اُس کا نشان تک نہ رہا…. اگر کوئی نشان رہا بھی تو عبرت کا نشان بن کررہا۔کتنے ہی زمانے تیرے آگے پیچھے اوردائیں بائیں گُم ہوگئے مگرتُو زمانے میں کبھی گُم نہ ہوا ‘ زمانے کا ہر نشان مٹ جائےگا مگر تیرانشان باقی رہے گا کہ تیرے اندر اُس خدائے حیّ و قیّوم کا گھر ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ وہ ایسا قائم ہے کہ ہر زمانہ ‘ اُس کا زمانہ ہے…. بلکہ وہ کہتاہے کہ زمانہ وہ خود ہے۔ آدم ؑ تا ایں دم کتنے ہی انسانوں نے تیری گود میں سانس لیااور اپنی روح اور جسم دونوں کاسامان لیا۔ تیرے اندر محبت کاایک نہ ختم ہونیوالازم زم ہے ‘ جوکبھی نہیںٹھہرتا  یہ زم زمہ کا فیض تیری فضاﺅں اور نداﺅں میں چاروں اور بہہ رہاہے ۔
اے شہرِ مکہ ! تیری عظمت کا سکّہ دوسرے شہروں پر اس طرح قائم ہے جس طرح قرآن کی عظمت دوسری کتابوں پر !! تیری عظمت کا ڈنکا چار دانگِ عالم میں بج رہا ہے۔ تیری فضیلت دنیاکے ہر شہر پر کیسے قائم نہ ہو….کہ دنیائے عالم میں جہاں بھی بندگان ِ خداہیں ‘ اُن کی جبینِ نیاز تیری ہی زمینِ ناز کی جانب جھکی ہوئی نظرآتی ہے۔ تو مرکز البلاد ہے ۔دنیاکے ہر شہر کی مسجد تیری ہی جانب قبلہ رُو ہے۔ اطرافِ عالم سے تیری طرف سفر کرنے کا قصد کرنا عبادت ہے۔اِس متناہی دنیا میں تُو لامتناہیت سے عبارت ہے۔ اے شہرِ مکّہ! تجھ میں کعبتہ اللہ ہے‘ بادشاہوں کے اُٹھائے ہوئے محلات اورفلک بوس عمارتیں عظمتِ کعبہ کے سامنے زمین بوس ہو جاتی ہیں مگر بیت اللہ کی عمارت ہے کہ اسکی ہیبت و جلالت بدستور بڑھتی ہی چلی جاتی ہے ۔
اللہ اکبر! کعبہ کی عمارت ”اللّٰہ اکبر“کی ایک تفسیر ہے۔ فانی انسانوں کی تعمیر کردہ عمارتوں اور اَمارتوں کو وقت کی دیمک کھا جاتی ہے۔ جب وقت کا پہ یہ چلتا ہے تو بلندو بالاعمارتیں اپنے ہی بوجھ سے گرنے لگتی ہیں مگر سیاہ پتھروں کی ایک سیاہ پوش عمارت ہے ‘جو سادگی سے کچھ اس طرح عبارت ہے کہ عظمت میں سب عمارتوں سے بلند ہے۔ جلالت میں ہرعمارت سے بالا ہے ….آخر ایساکیوں نہ ہوکہ کعبہ کی دیواریں اینٹ‘ چونے ‘پتھر سے نہیں بلکہ خونِ وفا سے تعمیر کی گئی ہیں۔ اے شہرِ مکہ ‘تجھے زمانے میں ثبات کیونکر نہ حاصل ہو کہ تیرے یہاں ہی تو اللہ کے دوست کا پائے ثبات ثبت ہے ۔ مقامِ ابراہیم ؑ‘ نشانِ قَدم بھی ہے اور نشانِ قِدم بھی
اے رب کعبہ ! تیری شانِ قِدم کا جلوہ اِس عمارت کی صورت میں اُس مخلوق کے سامنے عیاں ہے جو قدم قدم پر حَدث کاشکارہے۔اے معبودِقدیم! بے شک تیرا قِدم ہی تیری بڑائی ہے ‘اوربندے کا حَدث ہی اس کی عاجزی ہے۔ اے معبودِ مطلق‘ تجھے نیند آتی ہے نہ اونگھ…. اور نہ تجھے تھکن ہی لاحق ہوتی ہے مگر یہ کہ مخلوق بندگی کرتے کرتے تھک جاتی ہے۔ طواف کرتے کرتے قدم تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا کہ ا نسان کا دل بھی تو تیراہی گھر ہے 
اے معبودِ برحق ! یہ حق ہے کہ تُو بے نیاز ہے مخلوق کی سب عبادتوں سے …. ریاضتوں سے ….تُو چاہے تو محبت سے بھری اُس ایک نظر کو قبول کرلے جو بار بارتیرے گھرکی طرف لوٹ کر جاتی ہے …. نظر نہ ٹکتی ہے ، نہ تھکتی ہے….تُو چاہے تو صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے والے کا دل صدق وصفا سے بھر دے …. تُو چاہے تو اِسکی آنکھوں میں مروّت و مودّت کی جوت جگا دے‘ یہ ہوتو سعی بھی قبول ہو ‘یہ نہ ہو تو ہر سعی …. ایک سعی لاحاصل 
اے حرم ِکعبہ ! تیری عظمت کا ستارہ اس سمے کس اوج پر ہوگا‘ جب تیرے رب کا محبوب رسول تیرے گرد محوِ طواف ہوتا ہوگا۔ اے مطاف ِحرم ! ایک کلمہ گو کے نزدیک تیری حرمت کیلئے یہی کافی ہے کہ تُوسرکارِ دوعالم کی اونٹنی کے تلووں تلے لوٹ پوٹ ہوئی۔ اے سرزمینِ مکہ! تیری عظمت کیلئے یہی کافی ہے کہ تو مسلسل ترپن (۳۵) برس آقائے دوجہاں کے نعلین کو چومتی رہی۔ دیکھ !نقش ِکف ِ پائے محمدﷺکے صدقے تیری عمر حشر تک دراز کر دی گئی ….تُو اب کبھی پائمال نہ ہوپائے گی۔
 اپنی بلند نصیبی پر ناز کر…. تجھے ایسے فاتح ِعالم نے بغیر جنگ کئے فتح کر لیاکہ اب تُوکبھی مفتوح نہ ہوگی۔ اَے فضائے مکہ! تجھ میں کبھی اُس مشام ِ جاں نے سانس لیا تھا …. جو کُل کائنات کی رُوح ِ حیات ہے۔پس اُسی کے دَم قدم سے تُوہمیشہ کیلئے ایسے معطر ہوگئی کہ اب تیری ہوائیں تاقیامت ہر زائر کو معطر بھی کرتی رہیںگی اور مطہر بھی 
اے شہر ِمکہ! ….آخر تُو عالم کو محبوب کیوں نہ ہوگا‘ جب تو محبوبِ ربّ العالمین کو محبوب ہے 
  اظہر وحید
“بشکریہ روزنامہ “نوائے وقت

کیا آپ بھی خوش رہنے کے لیے ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیں گے؟

پُراعتماد انداز میں زندگی گزارنے والے افراد دنیا کے حوالے سے اپنا منفرد اور خاص نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ اُن کی ہمیشہ خوش رہنے کی وجہ صرف یہ نہیں کہ خوش قسمتی مسلسل ان کے ساتھ ہے بلکہ اس کی وجہ کچھ مختلف ہے کہ وہ اپنی عادات اس انداز میں ڈھال لیتے ہیں کہ مشکلات اور پریشانیاں ان کے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بنتیں اور کبھی ایسا ہو بھی جائے تو وہ اسے خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے۔
خوش رہنے والے کبھی شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتے
زبردستی شکریہ ادا کرنے سے وہ تاثر نہیں آتا جو آنا چاہیے، کامیاب لوگ شکریہ کہنا اپنی عادت بنا لیتے ہیں اور جب بھی ممکن ہو دوسروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کی توجہ ان چیزوں پر نہیں ہوتی جو ان کے پاس نہیں ہیں بلکہ یہ ان چیزوں، صلاحیتوں اور خوبیوں پر نظر رکھتے ہیں جو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو مثبت طرز عمل زندگی میں مثبت مستقبل کا ضامن ہوتا ہے۔
خوشیاں پس پشت نہیں ڈالتے
خوشی کے لمحات مستقبل کی کامیابیوں کے حصول میں معاون ہوتے ہیں لہذا خوشی کے ان لمحات کو بار بار یاد کرتے ہیں اور ان کو ہر پہلو سے سوچ کر مزے لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے گنے کا رس نکالنے والا مختلف انداز میں گنے کو مشین میں ڈال ڈال کر ایک ایک قطرہ رس نچوڑ لیتا ہے یا آپ کبھی چیونگم کو تصور کریں کہ جب آپ اسے تھوکتے ہیں تو اس میں ذرہ برابر مٹھاس بھی باقی نہیں ہوتی۔
خود کو مسئلے کا حصہ نہیں سمجھتے
خوش لوگ یہ بات کبھی نہیں بھولتے کہ کامیابی اور ناکامیاں بالکل واضح نہیں ہوتیں۔ اس لیے وہ غیر جانبدار رہنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں، ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ کسی بھی مسئلے یا پریشانی کا شکار ہوتے ہوئے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معاملے سے خود کو الگ کرکے اسے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ناکامیوں پر خود کو ملامت نہیں کرتے
دوستی کا ختم ہونا، ہاتھ سے موقع نکل جانا، امتحان میں اوسط نتیجہ، ہم سب کا ایسی صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے اور ہم پچھتاتے بھی ہیں لیکن پچھتانے سے حاصل کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کیفیت میں جو بھی کام کیا جائے وہ مطلوبہ نتائج نہیں پاتے کیونکہ ذہن مایوسی میں ڈوبا ہوتا ہے۔
پرواہ نہیں کرتے کہ لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؛
جو لوگ خوش رہتے ہیں اور خوش رہنا چاہتے ہیں وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دیتے کہ لوگوں کی ان کے بارے کیا رائے ہے۔ ان کی رائے جو بھی ہو لیکن اُس سے اُن سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ اُن پاس تو اِن فالتو لوگوں کے بارے میں سوچنے کا بالکل بھی وقت نہیں ہے۔
موازنہ نہیں کرتے؛
جہاں ایک جیسی دو چیزیں سامنے آئیں موازنہ شروع اور اپنی کامیابی کا جائزہ دوسرے کی کامیابی سے لینا شروع کردیا، آگے بڑھنے کے لئے مسابقت اچھی چیز ہے لیکن اگر موازنہ کرنے سے مایوسی کے بادل چھانے لگیں تو بہتر ہے کہ موازنہ کرنے سے دور ہی رہا جائے۔ خدا نے ہر انسان کو مختلف مواقع اور صلاحتیں دیں ہیں لہذا اپنا کسی سے موازنہ کرنا اور اس پر اُداس یا پریشان ہونا انتہائی بیوقوفانہ فعل ہے۔ آپ اپنا موازنہ دنیا میں صرف ایک ہستی سے کرسکتے ہیں اور وہ ہے گذرے ہوئے کل کے آپ۔
خود پر بھی ہنس لیتے ہیں؛
اپنی غلطی پر ہنسنے کی عادت زندہ دلی اور خوش مزاجی کا مظہر ہوتی ہے، روشن خیالی ان کے ذہنوں کا اس انداز میں احاطہ کئے ہوتی ہے کہ وہ ہر بات میں خوش ہونے یا مسکرانے کا پہلو نکال لیتے ہیں خواہ وہ حقیقت میں ان کی کوئی کمزوری ہی کیوں نہ ہو۔
بے دھیانی میں دوست نہیں بناتے؛
زندگی میں دوست بناتے وقت یہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ وہ کون ہیں جن کو آپ کی ضرورت رہتی ہے اور دوسرے جو آپ کے کسی کام آسکتے ہیں۔ اب ذرا سمجھ لیں کہ ایسے لوگ بھی اطراف میں موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف شکوے، شکایتیں اور رونا ہوتا ہے وہ ہر بات کا منفی پہلو سوچتے ہیں، اِس لیے ایسے لوگوں کو حلقہ احباب میں شامل نہ کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ اگر آپ کے دوست ہوئے تو یہ آپ کی خوشیاں کھا جائیں گے۔
سیکھنا نہیں چھوڑتے؛
کتابیں، سفر، نئے مشاغل، غیر ملکی زبانیں، دنیا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا یہ سب کبھی بھی نہیں رکنا چاہیے خواہ آپ کی عمر 9 سال ہو یا 90 برس۔ ان مشاغل میں خود کو مصروف رکھنے والے ہمہ وقت اپنی اہمیت سے آگاہ رہتے ہیں اور ہر روز اپنی قدر میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
ماضی اور مستقبل میں نہیں جیتے؛
ماضی کی غلطیوں اور منفی تجربات اور مستقبل میں ناکامی کا خوف اگر مسلسل دماغ پر سوار رہے تو انسان آج کی خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ خوش اور کامیاب لوگ کوئی بھی خوف خود پر طاری نہیں ہونے دیتے وہ اچھی طرح جانتے ہیں گزرا ہو کل کبھی واپس نہیں آئے گا، مستقبل کے بارے میں فکر کی جائے تو آج کھل کر نہیں جی سکیں گے۔
کیا آپ بھی خوش رہنے کے لیے ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیں گے؟
عبدالولی خان

مسلمان ہیں تو کیا، یہ انسان بھی تو ہیں

کبھی کبھی کچھ تصاویر ایسے مناظر اور لمحات کی شاہد ہوتی ہیں جو دیکھنے والے کو نہ بھی جھنجھوڑیں مگر ذہن میں پیوست ہوکر ضرور رہ جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایسی ہی اک تصویر نظر سے گزری۔ سبز رنگ کی ایک سمندری کشتی جس کی لکڑی سے بنی سطح پانی میں رہ رہ کر پھسلن زدہ محسوس ہورہی تھی۔ دو ربڑ کے ٹائر اس سے لٹک رہے تھے شاید ایمرجنسی بوٹس کے طور پر لٹکا رکھے ہوں گے۔ کشتی پر عمر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے انسان نما چیزیں سوار تھیں۔ ادھ ننگے جسم، ہڈیاں یوں جیسے ابھی چمڑی پھاڑ کر باہر کو آئیں گی۔ چہروں پر خوف اور پریشانی عیاں تھا۔ اُن میں سے کچھ کشتی کے ساتھ لٹکتے ان ٹائروں سے لٹکے ہوئے تھے اور اُن میں سے ایک نیچے اس ہیبت ناک، سیاہ اور آلودہ پانی میں۔
تصویر کے نیچے درج تھا روہنگیا مسلمانوں کی کشتی جسے ملائشیا نے اپنے ساحلوں پر اترنے کی اجازت نہ دی تفصیل پڑھی تو معلوم ہوا کہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کی یہ کشتی کئی دنوں سے بحیرہ انڈمان میں بھٹک رہی ہے کیونکہ قریبی ممالک جن میں ملائشیا انڈونیشیا بھی شامل ہیں، کوئی بھی انہیں اپنے ممالک میں رکھنے کو تیار نہیں۔
تفصیل جاننے کے بعد محسوس ہوا کہ جس نے بھی یہ تصویر کھینچی کیا خوب کھینچی، ایک ایک احساس بھرپور واہ صاحب! تالیاں!! ۔۔۔۔۔ کیا ہوا کسی کے دکھ پر تالیاں بجانا بُری بات ہے؟ بے حسی ہے؟ ظلم کی فلاں فلاں قسم ہے؟ اچھا چلو، کیا لکھوں؟ کہ بہت ظلم ہو رہا ہے؟ انسانیت شرمندہ ہے؟ سب فضول! یقین جانئے ان خالی خولی لفظوں سے میں بے زار ہوں۔ مگر پھر بھی چند انقلابی چیخیں مار لیتے ہیں تاکہ فرض پورا ہو۔
ذکر ہے روہنگیا کے چیزوں نما انسانوں کا۔ روہنگیا برما کی مسلم اقلیتی برادری ہے۔ تعداد میں تقریباً 13 لاکھ کے قریب اور مغربی برما کی راخین ریاست کے باشندے ہیں۔ برما میں 1982 میں شہریت کا قانون نافذ کیا گیا جس کے تحت 
روہنگیا مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ تب سے لے کر اب تک یہ پُرامن مسلم آبادی اپنی شناخت کے حق کے لئے کوشاں ہے۔ حال ہی میں برما کے صدر تھائین سین نے اپنے عجیب مگر ٹارگٹڈ بیان میں روہنگیا آبادی کو غیر قانونی طور پر آباد بنگالی قرار دے کر برمی حکومت کی روہنگیا مسلمانوں کی جانب پالیسی واضح کردی ہے اور یہ بے چارے انسان نما چیزیں یہ سمجھنے میں مصرف ہیں کہ انکی نسلیں تو یہاں پچھلے پانچ سو سالوں سے آباد ہیں یکدم غیر قانونی اور پھر بنگالی بھی؟
سنہ 2012 سے بدھ مت کے پیروکار بھکشوؤں کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ جس میں اب تک سینکڑوں جیتے جاگتے انسان ذبح کردئے گئے، جلا دئے گئے یا ڈبو دئے گئے جبکہ انکی املاک نذر آتش کردیں گئیں۔ مثال کے طور پر جنوری 2014 میں بودھ بھکشوؤں کے ایک حملے میں 40 روہنگیا ذبح کر دئے گئے جبکہ 70 سے زائد مکانوں کو آگ لگا دی گئی۔ ستم ظریفی یہ کہ اس قتل عام کو مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔ زمیں تنگ ہوئی تو یہ اپنی جانیں بچانے کے لیے پڑوسی ممالک کی طرف رُخ کیا۔ انسانی سمگلروں کے ذریعے کشتیوں میں سوار ہوکر جب یہ قریبی ممالک کے ساحلوں پر پہنچے تو انکے ساتھ کیا ہوا؟
بنگلہ دیش نے پناہ گزینوں کو مالی وسائل کی کمی کا عذر پیش کرکے پناہ دینے سے انکار کردیا۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے پہلے تو ان کے لئے اپنے دروازے کھولے مگر امریکہ کی جانب سے انسانی سمگلنگ کی روک تھام میں اپنی ریٹنگ بہتر کرنے کی فکر میں تھائی لینڈ نے بھی انہیں خدا حافظ کہا۔ ملائشیا نے اپنے اندرونی سخت قوانین کے باعث کشتیوں کو واپس موڑ دیا، جبکہ انڈونیشیا نے بھی ملائشیا کی پیروی کی۔
انسانیت کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کی بیان بازی بھی جاری ہے جس نے اس ساری صورتحال کو انسانی المیہ کی جانب گامزن قرار دیا ہے۔ اس دوران سمندر میں بھٹکتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ انسانی سمگلرز بحری آپریشنز کے ڈر سے انہیں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں جس کے بعد تو الامان الحفیظ!
لیکن اگر انسانی اسمگلرز کے پاس ہوں تو نہ کھانے کو کچھ ملے گا اور نہ ہی پینے کو۔ کوئی شدید بیمار ہوجائے تو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے جو بچ جائیں، مرد ہوں تو غلام اور عورتیں ہوں تو جسم فروشی کے ریکٹ میں شامل کردی جاتیں ہیں۔ بچوں کو جہاں چاہا استعمال کیا۔ مگر اِس سب کے باوجود دیگر ملک کو کیا فرق پڑتا ہے؟ اِس بے گھر اقلیت سے کسی خود دار، باوقار اور خودمختار اقوام اور ممالک سے کیا موازنہ؟ ان بیماریوں اور غربت کے ڈھیروں کو کوئی کیوں قبول کرے؟
 چلئے ممالک کے تو اپنے قوانین ہوا کرتے ہیں تو انسانیت کی ٹھیکیدار اقوام متحدہ کو مختلف ممالک پر پابندیاں لگانے اور اٹھانے سے فرصت ہی کہاں ہے؟ اور ویسے بھی یہ روہنگیئے کیا چیز ہیں؟ اُن کے پاس تیل کے کنوئیں ہیں؟ یا انہوں نے ایٹم بم بنانے کی کوشش کی ہے؟ یا معاشی قوت بننے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ نہیں نا؟ تو پھر اب کیا اقوام متحدہ کے پاس ان غریبوں کو دیکھنے کا کام باقی رہ گیا ہے؟ اور تو اور آسٹریلوی وزیراعظم نے اپنے ایک بیان میں روہنگیا مسلمانوں کے حوالے سے شاید پوری دنیا کی ترجمانی کردی ہے۔
کہتے ہیں نہیں، نہیں نہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ یوں کشتیاں بھر کر (ہمارے ساحلوں پر) لے آئیں گے اور ہم وہ آپ کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دے دیں گے؟ کبھی نہیں!
تو پھر کیوں ایسا نہ کیا جائے کہ اِن سب روہنگیا چیزوں کو ایک جگہ پر بند کردیا جائے اور انہیں ایٹم بم سے اڑا دیں۔ ان کی اذیت ختم اور مرسی کلنگ کا سہرہ بھی آپ کے سر! ہاں ایک تصویر ضرور لے لیجئے گا جو اِس منظرکی شاہد ہو کہ جو دیکھنے والے کو جھنجھوڑے نہ بھی مگر ذہن میں پیوست ضررو ہو جائے۔
رضا ہاشمی

سیکولر قومی ریاستیں اور مظلوم انسان

انسانی تہذیب کی ارتقاء اور معاشرتی ترقی کی داستان بیان کرنے والے دانش ور، موجودہ سیکولر قومی ریاستوں کو ترقی کی معراج سمجھتے ہیں۔ یہ قومی ریاستیں پہلی جنگِ عظیم کے آس پاس دنیا کے نقشے پر اس طرح ابھریں جیسے جھیل کا پانی خشک ہو جائے تو مٹی کی تہہ میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم سے پہلے کی دو تین صدیاں پانچ قوموں کی دنیا بھر پر یلغار کی صدیاں ہیں۔
ان میں تین اقوام، برطانیہ، فرانس اور اسپین تو وسیع علاقوں پر قابض رہیں جب کہ ہالینڈ اور پرتگال نے نسبتاً کم علاقے اپنے زیر نگیں کیے۔ ان تمام اقوام نے آسٹریلیا سے لے کر امریکا کے مغربی ساحلوں تک ہر جگہ کبھی تجارت اور کبھی براہِ راست جنگ کے ذریعے علاقوں پر قبضہ کیا، ان کے وسائل کو لوٹا، وہاں سے انسانوں کی کثیر تعداد کو غلام بنا کر اپنے ملکوں میں لے جایا گیا اور اس لوٹ مار سے اپنے چھوٹے چھوٹے مغربی ممالک کو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تبدیل کر لیا ۔
جب یورپ کے یہ چھوٹے چھوٹے ملک دنیا بھر کی لوٹ مار سے ترقی کی منازل طے کر گئے تو پھر ایک خاص منصوبے کے تحت انسانوں کو سیکولر قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے زمین پر مصنوعی لکیریں کھینچ دی گئیں۔ یہ لکیریں آج بھی مصنوعی ہیں، اگر ان لکیروں کے دونوں جانب چاک و چوبند افواج کے مسلح دستے نہ کھڑے ہوں اور ایک جانب سے دوسری جانب جانے والوں کو زبردستی نہ روکیں۔جنگِ عظیم اوّل ختم ہوئی تو ان تمام سیکولر قومی ریاستوں کی ایک انجمن بنائی گئی جسے لیگ آف نیشنز کہتے تھے۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد ان مصنوعی لکیروں کے تقدس، حرمت اور قانونی حیثیت کو ایک مسلمہ اصول کی حیثیت سے تسلیم کروانا تھا۔ اسی اصول کے تحت 1920ء میں پاسپورٹ کا ڈیزائن، لیگ آف نیشنز میں پیش ہوا۔ 1924ء تک ویزا ریگولیشن بنائے گئے اور پھر بارڈر سیکیورٹی فورسز نے ہر سیکولر قومی ریاست کی لکیریں جنھیں عالمی سرحدیں کہا گیا تھا، ان کے تحفظ کے لیے بندوقیں تان لیں۔ پوری دنیا انسانوں کے ایک بڑے چڑیا گھر میں تبدیل کر دی گئی۔ ہر ملک ایک بہت بڑا پنجرہ تھا، جس میں قید انسان اگر بغیر اجازت دوسرے پنجرے کی طرف گئے، تو قید کر دیے گئے، واپس دھکیل دیے گئے یا گولیوں سے بھون دیے گئے۔
ان پنجروں کو سیکولر بنیادوں پر اس لیے استوار کیاگیا، یا پھر یہ حدود سیکولر بنیادوں پر اس لیے زمین پر کھینچی گئیں، تاکہ انسانوں میں موجود نسل، رنگ ، زبان اور علاقے کا نفرت انگیز تعصب ابھر کر سامنے آئے اور وہ اپنے ساتھ بسنے والے انسانوں سے اس قدر نفرت کریں کہ ان کو قتل کرنے، ان کے گھر اجاڑنے، کھیتوں کو آگ لگانے اور شہر برباد کرنے میں بھی سکون حاصل کریں۔ سیکولر قومی ریاستوں کے اس جذبہ نفرت و تعصب کا اظہار پہلی دفعہ جنگ عظیم اوّل میں ہوا۔
کروڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ سرحدوں کی حرمت اور تقدس کی قسمیں کھائی گئیں، لیکن صرف تیس سال بعد جنگِ عظیم دوم میں ایک بار پھر کروڑوں انسانوں کا خون بہایا گیا، ہزاروں شہر راکھ کا ڈھیر بنا دیے گئے، کروڑوں بے گھر اور خانماں برباد ہوگئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قومی ریاستوں کو سیکولر کیوں رکھا گیا۔ اس لیے کہ اگر کہیں بھی انسانی اقدار، انسانی جان کا احترام اور انسانیت کی مدد کے اصول دستیاب ہیں تو وہ مذاہب میں ملتے تھے۔
عسیائیت ہو یا یہودیت، بدھ ہو یا جین مت، ہندو ازم ہو یا اسلام، ان سب کی کتابوں اور ان کی صدیوں کی تعلیمات میں انسانوں کی مدد اور خیر خواہی کا درس ضرور موجود ہے۔ کم ازکم اپنے ہم مذہب بھائی کے لیے تو ہر مذہب میں ہمدردی پائی جاتی ہے۔ لیکن سیکولر قومی ریاست کا کمال یہ تھا کہ جرمن اور فرانس دونوں ایک کا کیشئن نسل سے تھے، ایک مذہب کے پیر وکار تھے، مدتوں ایک ہی رومی سلطنت کا حصہ تھے، لیکن سرحدوں کے تحفظ نے انھیں درندہ بنا دیا۔
سرحدوں کے تقدس اور سیکولر قومی ریاستوں کے تحفظ سے جنم لینے والی درندگی کی مثال اس وقت بحرہند کے سمندروں میں برما سے بھاگے ہوئے روہنگا مسلمانوں کی بھٹکتی ہوئی کشتی میں سوار عورتیں، مرد اور بچے ہیں۔ تھائی لینڈ کے ساحلوں سے گذرتے ہوئے یہ لوگ بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے تھے، جب بی بی سی کے ایک صحافی نے ان کی فلم بندی کی ۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھیں برما اپنا شہری تصور نہیں کرتا۔ بنگلہ دیش جن پر اپنے دروازے بند کر چکا۔ پیاس میں تڑپتے ہوئے بچے، بھوک سے نڈھال مرد اور عورتیں، جزائر انڈیمان کے نزدیک چودہ مئی کو انھیں دیکھا گیا۔
انڈونیشیا کی حکومت نے کہا کہ ان کو ساحل پر اترنے میں مدد دینے والے کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ ایک کشتی تھی جس میں 370 مرد اور بچے سوار تھے۔ اس وقت تقریباً اس طرح کی تیس کشتیاں جن میں دس ہزار لوگ سوار ہیں، سمندر میں سرگرداں ہیں کہ کسی ملک کی سرزمین انھیں پناہ دے۔ سات دن بعد اس ایک کشتی کے تین سو ستر مسافروں کو ملائیشیا نے اس شرط پر اترنے دیا کہ انھیں واپس ان کے ملک برما بھیجا جائے گا۔
وہ برما جو انھیں اپنا شہری ہی تسلیم نہیں کرتا اور جہاں ان کا قتل عام ہو رہا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب برما کے ان روہنگا مسلمانوں کو ملائیشیا کے ساحل پر اتارا گیا تو اس میں بنگلہ دیش کے لوگ بھی شامل تھے۔ وہ بنگلہ دیش جسے ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کے عظیم دانش ور یہ کہتے تھے کہ مغربی پاکستان ان کے وسائل کو لوٹ رہا ہے۔
 
آزادی کے بعد اس بنگلہ دیش کی حالت یہ ہوئی کہ تقریباً نوے لاکھ بنگالی بھارت میں معمولی نوکری کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر آباد ہیں اور دس لاکھ بنگالی عورتیں دنیا کے بازاروں میں بیچی جا چکی ہے۔ ان بھٹکتی ہوئی کشتیوں میں نامعلوم کتنے بنگلہ دیشی ہوں گے جو خوف اورمعاشی مجبوری کے ہاتھوں پناہ ڈھونڈ رہے ہوں گے۔
دوسرا تماشہ اس سمندر میں لگا ہوا ہے جو مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر، شام اور مراکش کو ایک جانب سے چھوتا ہے اور دوسری جانب اسپین، اٹلی، یونان اور یورپ کے ساحلوں پر ختم ہوتا ہے۔ یہ وہ سمندر جس کے ساتھ آباد ممالک سے کبھی امریکا اور یورپ کے سفاک انسانی اسمگلر افریقی غلاموں کو زنجیروں میں جکڑ کرلے جایا کرتے تھے اور اپنے ملکوں میں بیچ دیتے تھے۔ آج یورپی یونین نے اقوام متحدہ سے اجازت مانگی ہے کہ افریقہ اور مشرقِ وسطی سے آنے والی کشتیوں پر فوجی طاقت استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
اس سال اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ساٹھ ہزار افراد نے اس سمندر کو عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کی جن میں سے تیس ہزار کے قریب افراد سمندر کی لہروں کی نذر ہوگئے۔ 
 
  مطابق 2014ء میں تین ہزار دو سو اناسی (3279) افراد یہ سمندر عبور کرتے ہوئے لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ سب لوگ شام ،لیبیا، صومالیہ، اوسیٹریا، نائیجریا اور دیگر ممالک سے ہیں۔ یہ وہ تمام ممالک ہیں جنھیں سیکولر قومی ریاستوں کے نام پر تقسیم کیا گیا۔ افریقہ کے نقشے کو ایسے کاٹا گیا جیسے میز پر کیک رکھ کر کاٹا جاتا ہے۔
پھر ان ممالک پر خانہ جنگی مسلط کی گئی۔ انھیں معاشی طور پر لوٹ کر قحط کا شکار کیا گیا اور آج وہاں کے عوام اپنے ملکوں سے خوف ، بدامنی اور بھوک کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ان ممالک سے انسانوں کو ایسے پکڑا جاتا تھا جیسے جنگلوں میں جانوروں کو جال لگا کر پکڑا جاتا ہے۔ پھر ان کو زنجیروں سے باندھ کر غلام بنا کر لے جایا جاتا تھا۔ ان لوگوں کی محنت سے امریکا کے مسس سپی کی زمینیں آباد ہوئیں اور یورپ کے شہروں کی رونقیں ان کے خون پسینے کی بدولت ہیں۔ آج یہ لوگ اسی یورپ کی جانب جاتے ہیں تو انھیں سمندر کی لہروں میں غرق کر دیا جاتا ہے۔ سیکولر قومی ریاستوں کا یہ خوفناک منظر، انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔
لیکن کیا ستاون اسلامی ملکوں میں بسنے والے مسلمانوں کو اندازہ ہے کہ اگر روز حشر اللہ نے یہ سوال کر لیا کہ جس دن ہزاروں روہنگا مسلمان بھوک اور پیاس سے مجبور ہو کر سمندر میں دم توڑ رہے تھے اور تم آرام دہ کمروں میں بیٹھے، شاندار مرغن کھانوں سے لطف انداز ہو رہے تھے۔ جب ان کے بچے بھوک سے بلک رہے تھے اور تم اپنے بچوں کو زندگی کو آسائشوں سے بہرہ مند کر رہے تھے۔ ایسے میں حشر کی گرمی اور میزان عدل کی موجودگی میں ہم ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے پاس کوئی جواب ہوگا۔ سوچئے تو شاید اس بات کا جواب بھی مل جائے کہ ہم پر عذاب کیوں نازل ہوتے ہیں۔
اوریا مقبول جان
بشکریہ روزنامہ “ایکسپریس

Ancient oasis city of Palmyra

Palmyra is located 215 km (134 mi) to the northeast of the Syrian capital Damascus, in an oasis,surrounded by palms of which twenty varieties were reported. A small Wadinamed al-Qubur, crosses the area, it flows from the hills in the west and passes the city, before disappearing in the eastern gardens of the oasis. To the south of the Wadi, a spring named Efqa is located. Pliny the Elder described the town in the 70s AD,[note 1] as famous for its location, the richness of its soil, and the water springs that surrounded it, making the agricultural and herding activities possible.
“Tadmor” is the Semitic and earliest attested native name of the city, it appeared in the first half of the second millennium BC. The etymology of “Tadmor” is vague, Albert Schultens considered it to be derived from the Semitic word for dates (“Tamar”), in reference to the Palm trees that surround the city. The name “Palmyra” appeared during the early first century AD, in the works of Pliny the Elder, and was used throughout the Greco-Roman world. The general view holds that “Palmyra” is derived from “Tadmor” either as an alteration, which was supported by Schultens,[note  or as a translation using the Greek word for palm (“Palame”), which is supported by Jean Starcky.
Michael Patrick O’Connor argued for a Hurrian origin of both “Palmyra” and “Tadmor”, citing the incapability of explaining the alterations to the theorized roots of both names, which are represented in the adding of a -d- to “Tamar” and a -ra- to “palame”. According to this theory, “Tadmor” is derived from the Hurrian word “Tad”, meaning “to love”, + a typical Hurrian mid vowel rising (mVr) formant “Mar”. “Palmyra” is derived from the word “Pal”, meaning “to know”, + the same mVr formant “Mar”.

پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی

یہ کہانی سمندر میں لاپتہ ہونے والی تارکین وطن کی بہت سی کشتیوں میں سے ایک کی ہے۔
برما سے آنے والے ناامید تارکین وطن سے بھری یہ کشتی انڈونیشیا کے ایک گاؤں پہنچی ہے۔ اس سفر کے دوران تھائی لینڈ کے قریب بی بی سی کی ایک ٹیم کی اس کے مسافروں سے ملاقات ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق 13 مئی کو یہ کشتی جس پر 350 تارکین وطن سوار تھے اور جن میں سے زیادہ تر روہنجیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے سمندر میں تنہا رہ گئی تھی۔
انھیں کشتی کا عملہ بنا پانی اور کھانے پینے کی اشیا کے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔
اگلے ہی روز جنوبی تھائی لینڈ کے سمندر میں ملائشیا کے جزیرے لنگکاوی کے قریب ماہی گیر کے بتانے پر ایک کشتی ملی۔
بی بی سی کے جانتھن ہیڈ کو کشتی پر سوار تارکین وطن نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے یہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ان میں سے دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان میں بعض طبی امداد کے منتظر دکھائی دے رہے تھے اور وہ مدد کے لیے رو رہے تھے۔
ان میں سے بہت سے لوگوں نے پانی اور کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ بعد میں ایک تھائی ہیلی کاپٹر وہاں آیا اور کھانے کی اشیا گرائیں۔
ملائشیا اور تھائی لینڈ نے اس کشتی کو اپنی اپنی بحری حدود میں لے جانے سے انکار کیا جسے مبصرین نے ’ پنگ پانگ‘ میچ کہہ کر ان کے اس عمل کی مذمت کی۔
سنیچر کو ایک تھائی صحافی تیپ ہانی ایسترکائی کو اس وقت کشتی پر جا کر جائزہ لینے کی اجازت ملی جب فوج نے اس پر سوار ہو کر انجن کو مرمت کیا اور کشتی پر موجود چند افراد کو اسے چلانے کا طریقہ بتایا۔
بہت سے عینی شاہدین کے مطابق اس رات کشتی کو کھینچ کر بین الاقوامی پانیوں میں لے جایا گیا۔
تھائی لینڈ کا اس بات پر اصرار تھا کہ اس کشتی پر سوار افراد یہاں نہیں رہنا چاہتے جبکہ ایسترکائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ تارکین وطن کو مدد کی ضرورت تھی اور انھیں کہاں جانا چاہیے اس کا انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔
جب انھیں کھینچ کر لے جایا رہا تھا تو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملائشیا کی جانب نہیں جا رہے ہیں بلکہ وہ مزید انڈونیشیا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے لوگوں نے کھانے کے لیے کچھ مانگا
پیر کو موسمیاتی رپورٹ میں مون سون کی وجہ سے سمندر میں تلاطم کے امکان کی تنبیہ کی گئی تھی لیکن بی بی سی ٹیم کی اس خطے میں کشتی تلاش کرنے کی کوشش بے سود ثابت ہوئی۔
تاہم بدھ کے روز انڈونیشیا میں وسطی آچے کے ساحل پر اسے دیکھا گیا۔
یہ کشتی آخر کار میانمر سے نکلنے کے دس ہفتے اور پہلی بار تھائی لینڈ میں ملنے کے چھ دن بعد پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ اعلان ان تارکین وطن کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو سمندر میں ایک خطرناک سفر میں بچنے میں کامیاب ہو سکے ہیں
تارکین وطن نے انسانی حقوق کے کارکنوں کو بتایا کہ ملائشیا کے حکام انڈونیشیا تک تقریباً تمام راستے ان کے ساتھ رہے۔
  تارکین وطن کئی ہفتوں تک شدید ہولناک حالات میں رہ رہے تھے۔
پروڈیوسر ژن یان یو نے بتایا کہ جب وہ بعد میں کشتی پر گئے تو وہاں شدید بد بو تھی اور ہر طرف کپڑے، پلاسٹک کی بوتلیں اور پلیٹیں بکھری پڑی تھیں۔
آچے پہنچنے کے بعد انھیں جولاک گاؤں میں عارضی پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔