میں کیوں نہیں چاہتا کہ پی ایس ایل کا فائنل پاکستان میں ہو؟

آپ نے بالکل ٹھیک پڑھا، میں ہرگز نہیں چاہتا کہ پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) ٹو کا فائنل اِن حالات میں پاکستان میں منعقد ہو۔ اِس پُر فضاء ماحول میں جب اکثریت اِس بات پر خوشی منا رہی ہو کہ اب پاکستان کے میدان بھی ایک بار پھر آباد ہونے والے ہیں، اِس طرح کی منفی رائے قائم کرنا اور پھر اُس کا اظہار کرنا ہرگز آسان کام نہیں، لیکن ایسا کرنے کے لئے میرے پاس ایک نہیں بلکہ متعدد وجوہات ہیں، جن پر آگے جا کر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ جتنی خواہش آپ رکھتے ہیں کہ پاکستان میں کھیل کے میدان آباد ہونے چائیے، کم از کم اُتنی خواہش تو میری بھی ہے کہ وطنِ عزیز میں جلد سے جلد امن کا راج ہو اور ایک بار پھر ہمارے میدان ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اُٹھیں، لیکن شاید یہ سب کچھ خواہشات اور جذبات کے بہاؤ میں بہہ جانے سے ممکن نہیں۔ ہر معاملے کی طرح فائنل کے انعقاد کے حوالے سے بھی ہم تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہر معاملے کو مثبت پہلو سے دیکھنے والے بہت خوش ہیں کہ پہلی بار حکومت نے جُراتمندانہ فیصلہ کیا ہے، فائنل ہر حال میں پاکستان میں ہی ہونا چاہیئے تاکہ دشمن کو ہم یہ پیغام دے سکیں کہ ہم پاکستانی کسی سے ڈرنے والے اور دبنے والے نہیں، اور اگر خیر و عافیت سے فائنل منعقد ہوجائے تو پھر بہت جلد پاکستان میں ایک بار بین الاقوامی کھیل کا آغاز ہو جائے گا۔

دن میں تارے دیکھنے اور دِکھانے والوں کے برعکس ہر وقت بُرا سوچنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ سچ پوچھیئے تو اِس بار میرا بھی شمار ایسے ہی لوگوں میں ہو رہا ہے، لیکن شاید اِس کی وجہ منفی سوچ نہیں، بلکہ حقیقت پسندانہ موقف ہے۔ ہم سب کو بطور پاکستانی کچھ چیزیں بہت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیئں۔ جیسے کہ اگر پی ایس ایل کا فائنل بخیر و عافیت سے منعقد ہو بھی جائے تب بھی کوئی غیر ملکی ٹیم اُس وقت تک پاکستان آنے کے لئے تیار نہیں ہو گی جب تک یہاں آئے روز ہونے والے بم دھماکوں کا خاتمہ نہ ہو جائے، جب تک پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں بہترین انداز میں پیش نہ کر دیا جائے اور جب تک دنیا کو یہ باور نہ کروا دیا جائے کہ پاکستان اب ایک محفوظ ملک بن چکا ہے۔

لیکن اگر خداںخواستہ، خدانخواستہ، خدانخواستہ فائنل سے پہلے یا اُسی دن کوئی دہشتگردی کا واقعہ رونما ہوجائے تو کیا ہم اندازہ بھی کر سکتے ہیں کہ اِس قسم کی کارروائی کے نتائج کس قدر خوفناک ہو سکتے ہیں؟ اِس طرح کی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان شاید صدیوں تک بین الاقوامی کھیل کی میزبانی سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں اِس لئے کی جا رہی ہیں کہ فائنل لاہور میں منعقد کرنے والے بھی اِس وقت شدید خوف کا شکار ہیں، ابھی جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو خبر موصول ہوئی کہ قذافی اسٹیڈیم کے گِرد دکانیں، ہوٹل اور شادی ہال آج سے ہی بند کر دیے گئے ہیں، یعنی پانچ دنوں کے لئے غریب کو اُس کی روزی روٹی سے دور کر دیا گیا۔ اتنے دن تک اُن کا چولہا کون جلائے گا کسی کو خبر نہیں۔ سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لئے پورے پنجاب سے پولیس نفری لاہور منگوائی جا رہی ہے، جس سے شاید لاہور تو محفوظ ہو جائے، مگر جہاں سے نفری منگوائی جا رہی ہے، وہاں کی حفاظت کون کرے گا؟ اِس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں۔

کھیل کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ چہروں پر خوشیاں بکھیرتا ہے اور تناؤ کو کم کرتا ہے، لیکن سچ بتائیے کہ لاہور میں فائنل منعقد کرکے ماحول کو سازگار بنایا جا رہا ہے یا لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا جا رہا ہے، تناؤ کو کم کیا جا رہا ہے یا سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اگلے پانچ دن تک شہر لاہور اور پورے پنجاب کے ماحول کو کشیدہ بنایا جا رہا ہے۔ اِس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ فائنل میں پہنچنے والی دو ٹیموں میں شامل غیر ملکی کھلاڑی پاکستان آنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہیں یا نہیں۔ یہ انتہائی اہم نقطہ ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر ان کھلاڑیوں نے آنے سے انکار کردیا تو 50 دیگر کھلاڑیوں کی فہرست تیار ہے جن کو شامل کرنے کے حوالے سے ڈرافٹ کیا جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کھلاڑیوں کی اکثریت اِس قدر غیر معروف ہیں کہ جن کا ہم نے نام بھی پہلے نہیں سُنا۔ جناب معاملہ یہ ہے کہ اگر کراچی کنگز سے کرس گیل، کمار سنگاکارا اور کائرن پولارڈ کو الگ کردیا جائے تو کیا کھیل کا مزہ آئے گا؟

اگر کوئٹہ گلیڈئیٹرز سے کیون پیٹرسن اور رائلے روسو نکل جائیں تو کیا کھیل جم سکے گا؟ اگر پشاور زلمی میں ڈیرن سیمی، تمیم اقبال اور شکیب الحسن شامل نہ ہوں تو کیا آپ اور میں کھیل سے لُطف اندوز ہوسکیں گے اور اگر شین واٹسن، بریڈ ہیڈن اور ڈیون اسمتھ اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ نہیں رہے تو پی ایس ایل کا فائنل اپنے رنگ بکھیر سکے گا؟ پھر بتایا جارہا ہے کہ شاید غیر ملکی مبصرین فائنل کے لئے پاکستان نہ آئیں، اگر ایسا ہوا تو انٹرٹینمنٹ کا وہ ماحول بنایا جا سکے گا جو اب تک بنا ہوا ہے؟ اگر اِن سب کے بغیر ہی فائنل کھیلا گیا تو معاف کیجئے گا، یہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل نہیں بلکہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا فائنل کہلایا جانا چاہیئے۔

اگر مقصد یہی ہے کہ کچھ ہوجائے، بس پاکستان میں فائنل کرنا ہے تو ضرور یہ شوق پورا کیجئے، انشاءاللہ ضرور یہ کام ہو جائے گا، لیکن معاف کیجئے گا، اِس طرح سے کم از کم بین الاقوامی کرکٹ کو بحال کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوسکے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ اِس نازک موقع پر اِس طرح کے خیالات کا پرچار مناسب نہیں، لیکن شاید یہ تلخ باتیں اتنی نقصان دہ ثابت نہ ہوں، جتنا نقصان ہمیں کسی بھی غلطی کی صورت بھُگتنا پڑسکتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کی باتیں ٹھیک ثابت ہوں، لیکن یقین کیجئے، میں اِس وقت دل سے دعا کر رہا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ سب غلط ثابت ہوجائے، اور نہ صرف پی ایس ایل کا فائنل بخیر و عافیت منعقد ہوجائے بلکہ جلد از جلد غیر ملکی ٹیمیں بھی یہاں آنا شروع ہو جائیں، کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ اب بہت دل کرتا ہے کہ اپنے ہیروز کو میدان جا کر کھیلتا دیکھا جائے، اور ایک بار پھر نعرے لگائے جائیں،

’’جیتا گا بھائی جیتے گا، پاکستان جیتے گا۔‘‘

فہیم پٹیل

پانامہ لیکس کا ممکنہ فیصلہ اور اثرات

پانامہ لیکس کا مقدمہ کئی حوالوں سے تاریخی اور منفرد مقدمہ ہے جس کی مثال گزشتہ کئی صدیوں میں نہیں ملتی۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا۔ ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس انکی ملکیت ہیں۔ پانامہ لیکس کی روشنی میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے پانچ محترم باوقار، نیک نام اور سینئر ترین جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے شریف خاندان کی تین نسلوں کے اثاثوں کا جائزہ لینے کیلئے طویل، صبر آزما اور شفاف سماعت کی جس کے دوران فریقین کو اپنا مؤقف ثابت کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ کالم لکھنے سے قبل ایک سابق چیف جسٹس پاکستان ، ایک سابق سپیکر قومی اسمبلی چند ریٹائرڈ ججوں اور پاکستان کے پانچ سینئر ماہرین قانون سے مشاورت کی گئی۔ اکثریت کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیگی جو سپریم کورٹ کے ایک یا دو ججوں پر مشتمل ہو گا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات کا ٹرائیل کورٹ کی طرح جائزہ لیکر اور شہادتیں طلب کر کے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کریگا جس کی روشنی میں حتمی فیصلہ سنایا جائیگا۔ اس کمیشن کا بڑا مقصد شریف خاندان کو ایک موقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ منی ٹریل پیش کر کے اپنی صفائی پیش کر سکیں اور ثابت کریں کہ لندن فلیٹس جائز اور قانونی ہیں اور ان کو خریدنے کیلئے منی لانڈرنگ نہیں کی گئی۔

پاکستان کا کوئی ماہر قانون اس امکان کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائیگی۔ ایک ماہر قانون کی رائے ہے کہ اگر کمیشن تشکیل دیا گیا تو کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیراعظم کے اختیارات اس حد تک معطل کر دئیے جائینگے کہ وہ تحقیقاتی اداروں پر دبائو نہ ڈال سکیں۔ ایک سینئر بیرسٹر نے بڑے وثوق کے ساتھ کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ کا فیصلہ شریفانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہو گا۔ ایک نامور ریٹائرڈ جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پانامہ کیس کی سماعت ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ پانامہ لیکس کے بعد کسی تھانے میں قومی خزانے کے غبن کی ایف آئی آر درج کرا دی جاتی۔ ماہرین قانون ججوں کے ان ریمارکس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں کہ فیصلہ تاریخ ساز ہو گا اور بیس سال گزرنے کے بعد بھی اس فیصلے کی اہمیت، انفرادیت، جامعیت، شفافیت اور آئینیت کو تسلیم کیا جائیگا۔

ایک دانا اور بینا ماہر قانون کے مطابق پانامہ لیکس کے فیصلے میں قرآنی آیات، احادیث، خلیل جبران اور عالمی شہرت یافتہ ججوں کے فیصلوں کے حوالے شامل ہوں گے۔ میڈیا کیلئے یہ فیصلہ دلچسپ ہو گا اور عوام اسے پڑھ کر لطف اندوز ہونگے۔ اس فیصلے میں ایسی آبزرویشن شامل ہوں گی جن سے پی پی پی اور تحریک انصاف سیاسی فائدہ اُٹھا سکیں گی۔ پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران جو دلیرانہ ریمارکس منظر عام پر آئے انکی روشنی میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ’’منیر کورٹ‘‘، ’’ڈوگر کورٹ‘‘، ’’شریف کورٹ‘‘ کا دور ختم ہوا اور عدلیہ اب ’’پاکستان کورٹ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اقلیت کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے جج طویل سماعت کے بعد فیصلے کے بارے میں ذہن بنا چکے ہیں اور سچ تک پہنچ چکے ہیں۔ شریف خاندان کے متضاد بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اس لیے فیصلے میں ڈیکلریشن شامل ہو گا۔ الیکشن کمیشن پاکستان کو عدلیہ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم پاکستان کیخلاف آئین کے آرٹیکل نمبر 62 کے تحت کاروائی کر کے نااہلی کا فیصلہ کریگا۔

ایک جج نے سماعت کے دوران آبزرویشن دی تھی کہ ’’نیب کی وفات ہو گئی‘‘۔ اس آبزرویشن کی روشنی میں توقع کی جاتی ہے کہ تفصیلی فیصلے میں نیب کی فاتحہ پڑھی جائیگی۔ ایک محترم جج نے بے ساختہ کہا تھا ’’وہ بھی کم بخت تیرا چاہنے والا نکلا‘‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ فیصلہ متفقہ ہو گا اور سب محترم جج پاکستان، آئین اور ریاست کے چاہنے والے خوش بخت ثابت ہوں گے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ امیر ترین جنگجو سیاستدان ہیں مگر ریاست کے ادارے بشمول عدلیہ چوں کہ مضبوط ہیں اس لیے وہ صدر کے بجائے ثابت قدمی کے ساتھ امریکی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افسوس پاکستان کے ریاستی اداروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے ’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا‘‘۔ پی پی پی کے حامی بے چینی کے ساتھ پانامہ لیکس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔

عدلیہ کی افسوسناک تاریخ کی روشنی میں انکے تحفظات بے جا نہیں ہیں۔ پی پی پی کے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو نے شکستہ پاکستان کا وقار اور شکست خوردہ فوج کا اعتماد بحال کیا۔ قوم کو مایوسی سے باہر نکالا، اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کر کے عالم اسلام کو متحد کیا۔ قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا۔ عوام کی آزادی اور ملکی سلامتی کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کی مگر سپریم کورٹ کے ججوں نے ان کا ’’عدالتی قتل‘‘ کر دیا۔ جب میاں نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ اور دو سو سے زیادہ مسافروں کو موت سے ہمکنار کرنے کا سنگین الزام تھا انہوں نے شاہراہیں اور موٹرویز کی تعمیر کے علاوہ ملک کی کوئی قابل ذکر خدمت نہ کی تھی مگر امریکہ اور سعودی عرب ان کو وی آئی پی طیارے پر پاکستان سے جدہ پیلس لے گئے اور سپریم کورٹ نے آنکھیں بند رکھیں۔ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کی جان کو کوئی خطرہ نہیں وہ صرف نا اہل ہو سکتے ہیں۔ وہ اپنا جانشین کو خود نامزد کرینگے اور آصف زرداری کی طرح سیاسی اور حکومتی طاقت انکے ہاتھ میں رہے گی۔ البتہ اگلے انتخابات میں ان کو سیاسی نقصان اُٹھانا پڑیگا۔ وزیراعظم کے زیر احتساب آنے کے بعد احتساب کا بند دروازہ کھل جائیگا اور پاکستان کے بڑے لٹیرے احتساب کے شکنجے میں آ جائینگے جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے آب حیات ثابت ہو گا۔ مایوس اور بے حس عوام میں حوصلے اور اُمید کی نئی کرن پیدا ہوگی۔

سماعت کے دوران سامنے آنیوالے دلائل اور فاضل جج حضرات کے ریمارکس کے بعد بھی فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آنے سے پورے ملک میں مایوسی، نااُمیدی اور بداعتمادی کی لہر پھیل جائے گی جو ریاست کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ علیحدگی پسند، پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیاں اور دہشت گرد اس نوعیت کے فیصلے کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر ہتھیار کے طور پر استعمال کرینگے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان نے کرپشن کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کرپشن کی وجہ سے ملکی حالت مویشیوں کے باڑے جیسی ہو چکی ہے۔ ماضی میں جس فرد پر بدعنوانی کا الزام ہوتا اسکے بیٹے اور بیٹی کو کوئی رشتہ نہیں دیتا تھا۔

محترم جسٹس دوست محمد خان ایک کلرک احتشام الحق کی اپیل کی سماعت کر رہے تھے جسے ایک لاکھ 94 ہزار کی کرپشن کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا ہو چکی تھی جس میں سے وہ دو سال قید کاٹ چکا تھا اور باقی سزا کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ سے التجا کر رہا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ چھوٹے کرپٹ جیلوں میں بند ہیں جبکہ مہا کرپٹ بڑے منصبوں پر فائز ہیں۔ اب شاید عدل و انصاف کا نیا دور شروع ہونیوالا ہے۔ آئین اور قانون سب پر مساوی طور پر نافذ ہو گا اور کرپشن کرنیوالے بڑے لوگ بھی جیلوں میں بند نظر آئینگے۔ کرپشن کا زہر جسد ریاست میں پھیل چکا ہے جسے بچانے کیلئے آئینی اور قانونی آپریشن لازم ہے۔ رد کرپشن آپریشن کے بغیر ردالفساد آپریشن کی کامیابی ممکن نہیں ہو گی۔

پانامہ لیکس کی سماعت کے دوران وزیراعظم پاکستان کی اخلاقی ساکھ مجروح ہو چکی۔ فیصلہ آنے کے بعد اس پر شدید ضرب لگے گی اور حکومت مخالف جماعتیں وزیراعظم کے استعفے کیلئے تحریک چلائیں گی جو دراصل انتخابی مہم کا آغاز ہو گی۔ قومی اتحاد کی پرجوش تحریک کے دوران بھٹو نے ایک اعلیٰ سطحی حکومتی اجلاس میں اپنی عینک غصے کے ساتھ میز پر پھینکتے ہوئے کہا تم لوگوں نے میری اخلاقی ساکھ مجروح کر دی اگر وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو بلا مقابلہ منتخب نہ کرایا جاتا تو قومی اتحاد کی تحریک کبھی کامیاب نہ ہوتی۔ افسوس موجودہ وزیراعظم اخلاقی ساکھ کو اہمیت دینے کیلئے ہی تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے ہاتھ میں نئے انتخابات کرانے کا ایک آئینی پتا باقی ہے کیا وہ یہ پتا مناسب وقت پر استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاک فوج اور عدلیہ بہتر کارکردگی کی بناء پر ریاست پر کنٹرول بڑھا چکے ہیں جبکہ پارلیمنٹ اور حکومت بیڈ گورنینس کی وجہ سے اپنی رٹ محدود کربیٹھے ہیں۔

قیوم نظامی

مگر بتانے اور معلوم کرنے میں کسے دلچسپی ہے؟

یہ سنتے سنتے کان پک چکے کہ عورتیں آبادی کا نصف ہیں مگر محنت کشوں اور کارکنوں میں ان کی تعداد تئیس سے اٹھائیس فیصد تک ہے۔ گویا باقی ستر بہتر فیصد عورتیں گھروں میں بیٹھی محض روٹیاں توڑ رہی ہیں یا حکم چلا رہی ہیں اور معیشت کا پورا بوجھ مرد نے اٹھا رکھا ہے۔ یہ رونا بھی مسلسل رویا جاتا ہے کہ جو عورتیں فیکٹریوں، دفاتر، یا اسکولوں میں ملازمت کرتی ہیں، ان کی تنخواہ مردوں کے مقابلے میں کم ہے بھلے کام کی مقدار اور اہلیت برابر ہی کیوں نہ ہو۔مجھے تو ان عورتوں کی قسمت پر بھی رشک آتا ہے جو فیکٹری ، دفتر یا  اسکول میں آٹھ گھنٹے کام کرتی ہیں۔ تنخواہ بھلے مرد کارکن کے مقابلے میں آدھی پونی ہی سہی مگر ملتی تو ہے۔

اس تمہید کے بعد میں آپ کی ملاقات غلاموں سے کراتا ہوں۔ تا کہ آپ کو کچھ اندازہ ہو سکے کہ ملکی معیشت میں بلا تنخواہ غلام عورتوں کا کتنا کم یا زیادہ حصہ ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات سے رجوع کیا جائے تو فی زمانہ اسلامی نظریاتی کونسل سے لے کر محلے کی مسجد تک یہ تو سننے کو ملتا ہے کہ عورت کی حدود و قیود و فرائض کیا ہیں، پردے کے کیا احکامات ہیں، شوہر کی اطاعت، بچوں کی پرورش اور خاندان کی تربیت کے بارے میں کیا کیا ذمے داریاں ہیں۔ مگر آخری بار آپ نے کب کسی عالم سے برملا کسی سیاسی یا مذہبی جلسے یا نماز کے اجتماع میں یہ بتاتے سنا ہو کہ عورت اپنی مرضی سے تو گھریلو کام کاج کر سکتی ہے مگر یہ اس کا فرض نہیں۔ وہ شوہر سے ہر گھریلو کام کا معاوضہ طلب کر سکتی ہے حتیٰ کہ  بچے کو دودھ پلانے کا بھی۔ یہ تو اس ممتا کی ماری اور خاندان سنوارنے اور جوڑے رکھنے کی ہر دم کوشش کرنے والی کی مہربانی ہے کہ وہ اپنے اس حق پر اصرار نہیں کرتی۔ ورنہ تو معاوضے کی شکل میں اس کا حق شوہر کی پوری کمائی بھی پورا نہ کر پائے۔

یہ تو بتایا جاتا ہے کہ عورت کی پہلی زمہ داری اس کا گھر ہے اور گھر کی ذمے داری ہی اتنی بڑی اور گنجلک ہے کہ کسی اضافی بیرونی کام کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سامانِ تجارت سے لدے اونٹوں کے قافلے دمشق تک جاتے تھے اور وہ اپنے زمانے کے متمول مکی تاجروں میں شمار ہوتی تھیں۔ (کسی زمانے میں یہ مثال تعلیمی نصاب کا حصہ تھی۔ مگر یہ میری نسل تک کے نصاب کی بات ہے)۔ آئیے اب ذرا پاکستانی عورت کے معیشت میں حصے کی بات کر لیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کاغذ پر تو آپ کو سو میں سے ستتر کارکن مرد دکھائی دیں گے مگر یہ اعداد و شمار ان شعبوں کے ہیں جنھیں معیشت کے باضابطہ شعبے کہا جاتا ہے۔ ان کی آمدنی و خرچ کا ریکارڈ موجود ہے اور جو مروجہ لیبر قوانین یا کارپوریٹ ضوابط کے تابع اور ان پر عمل کے پابند ہیں اور جہاں کم از کم تنخواہ کا قانون نافذ تصور کیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے پاکستان کی کل قومی آمدنی میں سب سے بڑا حصہ زراعت سے آتا ہے یعنی چوبیس فیصد کے لگ بھگ۔ ملک میں جتنے بھی مزدور یا کارکن ہیں ان میں سے پینتالیس فیصد زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ زرعی شعبے میں صرف فصلیں ہی نہیں بلکہ مویشی بانی ، ماہی گیری اور زرعی مصنوعات سے متعلقہ صنعتیں (ایگرو بیسڈ انڈسٹری) بھی شمار ہوتی ہیں۔ اب آپ ایک کام کریں۔ کراچی سے جہاں بھی جانا چاہیں وہاں کا ٹکٹ کٹوا کے بس میں بیٹھیں اور راستے میں بغور دیکھتے جائیں کہ ہو کیا رہا ہے۔ آپ کا بیشتر سفر زرعی علاقے میں طے ہو گا۔ آپ دیکھیں گے کہ عورتیں بوائی کر رہی ہیں یا فصل کاٹ رہی ہیں یا سر پے مٹکا رکھے آ رہی ہیں جا رہی ہیں۔ بوائی کٹائی کے زمانے میں مرد کا کام کھیت میں عموماً صبح چار بجے شروع ہوتا ہے اور نو بجے تک ختم ہو جاتا ہے۔ یعنی پانچ گھنٹے۔ اس کے بعد مرد اپنی مرضی سے کوئی کام کر لے تو کر لے ورنہ اس کا بیشتر وقت غیر پیداواری مصروفیات یا میل ملاپ میں گذرتا ہے۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی گاؤں کا چائے خانہ دیکھ لیں۔ کھچا کھچ بھرا ہو گا۔

چسکی، ٹی وی چینلز اور گپ مع پان سگریٹ حقہ وغیرہ۔ اس سفر کے دوران بڑی شاہراہوں پر پڑنے والے دیہاتی ہوٹلوں میں سندھ تا پنجاب آپ کو بعض مقامات پر دو سو  ڈھائی سو مردوں اور بچوں کا جمِ غفیر چھڑکاؤ کی ہوئی زمین پر لگائی کرسیوں پر دم بخود ٹی وی کے سامنے بیٹھا بھی ٹپائی دے سکتا ہے۔ بس ہوٹل کے بیرے حرکت کرتے دکھائی دیں گے۔ اور جن کسانوں، مچھیروں یا گلہ بانوں کی ریستورانوں میں بیٹھنے کی اوقات نہیں وہ تھڑوں پر بیٹھ کر آتی جاتی گاڑیاں گنتے یا سر اور بازو کھجاتے فقرے اچھالتے یا کسی گوٹیوں والے کھیل میں مگن نظر آئیں گے۔ یعنی فل پارٹی ٹائم روزانہ۔

وجہ جاننا بہت مشکل نہیں۔ وجہ عورت ہے۔ جو صبح مرد کے ساتھ ہی چار پانچ بجے اٹھتی ہے، ناشتہ، کھانا، برتن، پانی کا اسٹاک، مویشیوں کو چارہ ڈالنا، دودھ دوہنا، فصل کی بوائی کٹائی، چھان پھٹک میں حصہ لینا، مسلسل اچھل پھاند کرتے بچوں پر چیخنا، نہلانا، دھلانا غرض جو بھی آپ سوچ سکیں۔ اس میں صحت مند اور بیمار، حاملہ اور غیر حاملہ کی کوئی قید نہیں۔ کہیں رات دس گیارہ بجے اسے چارپائی یا دری میسر آتی ہے مگر وہاں بھی نیند میں کسی نہ کسی سبب خلل پڑنے کا پورا امکان رہتا ہے۔ بچوں کی طرف سے بھی اور شوہر کی طرف سے بھی۔

کبھی تو عورت بھی تھک کے چور ہو جاتی ہو گی۔ اس دن کیا آپ نے کسی گاؤں میں مرد کو پانی کا مٹکا سر پے لاتے لے جاتے دیکھا ؟ وہ مر جائے گا مگر یہ ذلیل کام کبھی نہیں کرے گا۔ اور ہاں اٹھارہ سے بیس گھنٹے کے اس دن میں اس عورت کے مرد کو یہ شک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ اس نے کسی کو بغور دیکھ لیا، بھلے بے دھیانی میں ہی سہی۔ تیسری چوتھی بار ایسا ہونے یا محض گمان پر کوئی بھی قیامت ٹوٹ سکتی ہے۔

اگر میں اس کتھا کو فیصد میں تبدیل کروں تو زرعی سماج کا پینسٹھ فیصد بوجھ عورت نے اٹھا رکھا ہے۔ اگر اس محنت کو معاوضے میں بدلا جائے تو اس اعتبار سے عورت کا رانی اور مرد کا ہاری ہونا بنتا ہے۔ مگر زرعی سماج کی یہ عورت بہرحال ان عورتوں سے زیادہ خوش قسمت ہے جن کے خاندانوں کو غربت کے ہاتھوں شہروں کی جانب ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ اس میں کچھ آگے چل کے کامیاب کہانیاں بھی بن جاتی ہیں۔ مگر ایسے اکثر خاندانوں کی قسمت میں کسی کی خالی زمین پر بنی جھونپڑ پٹی ہوتی ہے۔ اور اس جھونپڑ پٹی کا انتظام کسی شکرے ٹائپ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے جو پولیس اور بلدیہ یا مقامی سیاسی مسٹنڈوں سے بنا کے رکھتا ہے اور وقت بے وقت ان کے کام بھی آ جاتا ہے۔ مگر ہجرت کے بعد بھی ان جھونپڑ پٹیوں میں تقسیمِ کار کا ضابطہ نہیں بدلتا۔ مرد کو مزدوری کبھی ملی کبھی نہ ملی۔ البتہ عورت اور بچیوں کو (لڑکوں کو نہیں) کوئی چھوٹ نہیں۔

یوں گھریلو کارکن کا ادارہ وجود میں آتا ہے۔ جہاں کوئی ضابطہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ حادثے اور تشدد کی صورت میں کوئی ازالہ نہیں۔ اوقاتِ کار کی کوئی گنتی نہیں۔ کئی کئی گھروں میں مجموعی طور پر سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کیا جائے تب کہیں جا کے چھ سے دس ہزار روپے تک ہاتھ میں آتے ہیں۔ اس میں پہلا حصہ مرد کے سگریٹ پانی اور خرچی کا ہوتا ہے۔ باقی پیسوں سے چولہا جلتا ہے اور اکثر سارا پیسہ ہانڈی چولہے پر ہی خرچ ہو جاتا ہے۔ کپڑے اترن کے اور دوا دارو کے نام پر اسپرین، ڈسپرین چل میرے بھائی۔ کبھی تو کوئی سروے ہو کہ ان گھریلو مزدورنیوں کی اوسط عمر کیا ہوتی ہے؟ چودہ سال کی بچی ایک پختہ عورت اور چوبیس سال کی عورت پینتالیس برس کی کیوں نظر آتی ہے؟ اب ذرا لگ بھگ پچاسی لاکھ گھریلو ملازمین ( ان میں ستر فیصد لڑکیاں اور عورتیں ہیں) کے ہاتھ میں آنے والی رقم کو قانون کے مطابق تنخواہ ، اوقاتِ کار ، انشورنس وغیرہ سے ضرب دے کے دیکھئے تو اندازہ ہوگا کہ میں کیا کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

پاکستان میں کوئی ایسا لیبر قانون نہیں جو خالصتاً گھریلو کارکنوں کے شعبے کو ریگولیٹ کرتا ہو۔ دو برس قبل عالمی ادارہِ محنت کے ایک منصوبے کے حصے کے طور پر لاہور میں گھریلو ملازمین کی پہلی یونین قائم کی گئی جس کے دو سو پینتس ممبر بن پائے۔ اللہ جانے یہ یونین زندہ ہے بھی کہ نہیں۔ بھارت میں گھریلو ملازمین کی تعداد پاکستان سے کئی گنا اور استحصال کی نوعیت بھی اسی اعتبار سے ہے۔ لیکن کم ازکم یہ تو ہوا کہ دو ہزار آٹھ سے ڈومیسٹک ورکرز ویلفئیر ایکٹ نافذ ہے۔ انیس سو اسی سے نیشنل ڈومیسٹک ورکرز موومنٹ متحرک ہے جس کے سترہ صوبوں میں دو لاکھ سے زائد ممبر ہیں۔ اس تحریک کی کوششوں کے سبب سات صوبوں میں گھریلو کارکنوں کے اوقاتِ کار اور کم ازکم تنخواہ کے معاملات بھی ضوابط کی حد تک سہی مگر کچھ نہ کچھ باقاعدہ ضرور ہوئے ہیں۔

اگر گھریلو ملازمین کی تعریف میں گھروں میں کام کرنے والی عورتوں اور بچیوں کے ساتھ ساتھ گھریلو صنعت کاری (کاٹیج انڈسٹری) سے وابستہ اور زرعی شعبے کی کارکن خواتین کو بھی شامل کر لیا جائے تو بلا شبہ پاکسان سمیت تیسری دنیا کے محنت کشوں میں آپ کو ستر فیصد عورتیں اور تیس فیصد مرد دکھائی دیں گے۔ مجھے بہت مزا آتا ہے مرد کی زبان سے اکثر یہ سن کر ’’ میں خود کماتا ہوں عورت کی کمائی نہیں کھاتا‘‘۔ اگر ان تمام عورتوں کی محنت کو قانونی معاوضے میں بدل کے دیکھا جائے تو لگ پتہ جائے گا۔ مگر پتہ کرنا کون چاہتا ہے؟

وسعت اللہ خان

کیمیکل حملے کے صرف 15 منٹ بعد کم جونگ نام ہلاک ہو گئے تھے

ملائشیا کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کم جونگ نام کی ہلاکت اعصاب شکن زہریلے مادے سے کیے جانے والے حملے کے بعد 15 سے 20 منٹ کے اندر ہوئی۔ خیال رہے کہ وی ایکس ایک غیر معمولی تباہ کن کیمیائی ہتھیار ہے اور اس کا ایک قطرہ بھی انسانی جلد پر گرنے سے انسان مر سکتا ہے۔ یہ کیمیکل جلد کے راستے انسانی جسم میں داخل ہو کر نظامِ اعصاب کو تباہ کر دیتا ہے۔

ملائشیا کے وزیرِ صحت سبرامایم سانتھاسیوم کے مطابق اس مہلک حملے کے بعد کوئی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔ شمالی کوریا کے سربراہ کے سوتیلے بھائی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار انڈونیشیا کی سیتی ایسیاہ نامی ایک خاتون نے 25 فروری حکام کو دوران تفتیش بتایا کہ وہ سمجھی تھیں کہ انھیں یہ ‘شرارت’ کرنے کے لیے صرف 90 ڈالر کی رقم دی گئی۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھیں ایک مزاحیہ ریئلٹی شو میں حصہ لینے کے لیے 90 ڈالر کم جونگ نام کے چہرے پر ‘بے بی آئل’ ملنے کے لیے دیے گئے تھے۔

ملائیشیا کے تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ دو خواتین نے اپنے ہاتھوں پر زہریلا مادہ ملا اور پھر ان ہاتھوں سے کم کا چہرہ پونچھ دیا لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ دونوں بھی اسی وقت مر چکی ہوتیں۔ اس صورتحال میں بظاہر لگتا یہی ہے کہ جس کپڑے سے کم کا چہرہ صاف کیا گیا اس پر وی ایکس کی بہت کم مقدار جو ممکنہ طور پر صرف ایک قطرہ بھی ہو سکتی ہے، موجود تھی۔ لیکن یہ کام کسی بھی طرح آسان نہیں تھا۔ مجرموں نے اس کی مشق کی ہو گی کہ قطرہ کم کو چھوئے لیکن وہ خود اس سے محفوظ رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ مجرموں نے 13 فروری سے پہلے شاپنگ مالز میں اس کام کی مشق کی ہو گی۔

کیا امریکا اور چین میں جنگ ہونے کو ہے؟

راج مینن Anne and Bernard Spitzer چیئر رکھنے والے ممتاز امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ ہیں۔ وہ سٹی یونیورسٹی نیویارک کے Powell اسکول میں بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ہیں۔ راج مینن کولمبیا یونیورسٹی کے Saltzman انسٹی ٹیوٹ آف وار اینڈ پیس کے سنیئر ریسرچ فولص بھی ہیں۔ جنگ و امن اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوع پر ان کی سات کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، جن میں ’ سوویت پاور اینڈ دی تھرڈ ورلڈ‘،’لیمٹس ٹو سوویت پاور‘،’Russia, the Caucasus, and Central Asia‘، ’انرجی اینڈ کونفلیکٹ ان سینٹرل ایشیا اینڈ دی کوکاسس‘،’دی اینڈ آف الائنسز‘، ’کونفلیکٹ ان یوکرائن؛ دی ان ونڈنگ آف دی پوسٹ کولڈ وار آرڈر‘،’دی کونسیٹ آف سی ہیومینٹرین انٹر وینشن‘ شامل ہیں۔ جنگ اور بین الاقوامی تعلقات پر ان کے مضامین اور تجزیے ممتاز اخبارات اور جرائد میں شایع ہوتے رہتے ہیں۔ زیرنظر مضمون میں انہوں نے امریکا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگ کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس کا ترجمہ قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔

چین قائم کی تو قوم پرست نقشے پر ڈیموکریشن لائن کو برقرار رکھا، جس کے تحت چین جنوبی چینی سمندر کے اہم حصوں پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس موقف پر بیجنگ کی پالیسی پر نیوی گیشن (بحری جہازوں کے گزرنے) اور اوور فلائٹ (ہوائی حدود کے استعمال) کے حقوق پر دوسرے ممالک کے تحفظات ہیں کہ کیا چین اسی وجہ سے زیادہ سے زیادہ طاقت ور ہوتا جا رہا ہے؟ یہ تحفظات بھی ہیں کہ ہر سال 5 کھرب ڈالر مالیت کا سامان جنوبی چینی سمندر سے گزرتا ہے۔ چین اور دیگر 167 ریاستوں نے 1994 میں اقوام متحدہ کے کنوینشن آن دی لا آف دی سی ( یو این سی ایل او ایس) کے تحت ہونے والے ایکسکلوزو اکنامک زون (ای زی زی) معاہدے پر دستخط کیے، تاہم اس معاہدے میں امریکا شامل نہیں تھا۔ اس معاہدے کی رو سے چین کو اپنے ساحل سے بارہ ناٹیکل میل کی حدود میں خود مختاری حاصل ہے۔ ای زی زی کے تحت چین کو ٹیریٹوریل (علاقائی) سمندر میں دو سو ناٹیکل میل تک ماہی گیری اور آبی وسائل استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ وہ دیگر ریاستوں کو زمینی اور فضائی راستہ دینے کو یقینی بنانے کا پابند ہے۔

یو این سی ایل او ایس کے تحت ریاست کو ای زی زی کنٹرول زون میں مصنوعی جزائر، تنصیبات اور تعمیرات کرنے اور استعمال کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ حق موجودہ صورت حال میں ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ ان سب کو زیادہ پیچیدہ جو بات بنا رہی ہے وہ یہ ہے کہ چینی جنوبی سمندروں میں زیادہ تر جزائر اور کھاڑیوں کو جو چین کو ای زی زی کی بنیاد پر فراہم کی گئی ان پر یو این سی ایل او ایس کے تحت دوسرے ممالک بھی دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور اسی بات نے ان جزائر پر چین کی فوجی تعمیراتی پراجیکٹس کی قانونی حیثیت پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اسی طرح توانائی کے وسائل، ماہی گیری کے حقوق اور زمینی ملکیت پر بھی دعویٰ کیے جارہے ہیں۔

اس پر بھی ہارڈ اور سافٹ دو نظریے ہیں۔ بیجنگ کا دعویٰ ہے اس نے جنوبی چینی سمندر میں بحری اور فضائی آمدورفت کو برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم یہ حق جنگی بحری اور ہوائی جہازوں کو حاصل نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں جنگی جہازوں نے اس حدود کے قریب پروازیں کی ہیں اور امریکی جنگی جہاز بھی اس خطے میں چینی حدود کے باہر پروازیں کرتے ہیں۔ 2015 میں بھی چینی جنگی جہازوں نے اسپارٹلے جزائر کے سوبی ریف میں امریکی جہاز کو وارننگ دی تھی۔ اس جزیرے پر چین اور تائیوان دونوں ہی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں بھی چینی بحریہ نے ایک زیرآب ڈرون کو پکڑلیا تھا جسے فلپائن کے ساحل کے قریب موجود امریکی جنگی جہاز Bowditch سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ تا ہم بعد میں اس جہاز کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی نوعیت کے واقعات 2000 ,2001 2002 ,2009 ,2013اور 2014 میں بھی ہوئے۔ 2001 میں ہنین جزیرے کی سات سو میل کی حدود میں چین کی جانب سے امریکی بحری جہاز کے جاسوسی پر مامور جہاز EP3 کو چین میں زبردستی ایمرجینسی لینڈنگ کرائی گئی، جس پر عملے کے 24 ارکان سوار تھے۔ اس واقعے نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی پیدا کردی تھی۔ چین نے عملے کو گیارہ دن بعد اور جہاز EP3 کو کھول کر تین ماہ بعد ٹکڑوں میں واپس کیا تھا۔

جنوبی چینی سمندر میں چین کی اجارہ داری کچھ نئی نہیں ہے۔ چین کا موقف ان پانیوں میں اپنے کم زور پڑوسیوں کے لیے بہت سخت رہا ہے۔ 1974میں اس کی افواج نے پراسیل/زیشا جزائر سے جنوبی ویت نام کی فوج کو بے دخل کر دیا تھا۔ بیجنگ ان جزائر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ابھی تک وہاں کا کنٹرول نہیں سنبھالا ہے۔ چین فضائی، بحری گشت اور سخت موقف کے ساتھ اسپارٹلے/نینشا جزائر پر بھی ملکیت کا دعوے دار ہے، جسے تائیوان، ویت نام، اور خطے کے دیگر ممالک مسترد کرتے ہیں۔ 1988 میں چین نے ویت نام کے زیرانتظام جانسن ریف پر بھی زبردستی قبضہ کر لیا تھا اور یہ اسپارٹلے جزائر میں اس کا ساتواں قبضہ تھا۔

جنوب مشرقی ممالک میں صرف ویت نام ہی چین کے برے رویے کا شکار ملک نہیں ہے۔ فلپائن اور چین دونوں ممالک فلپائن کے لوزون جزیرے سے 124 ناٹیکل میل فاصلے پر موجود Panatag (Scarborough) Shoal /Huangyang جزیرے کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ 2012 میں چین اس پر قابض ہوا، جب کہ 1995 میں بھی چین نے فلپائن کے پیلاوان جزیرے سے 129 ناٹیکل میل کے فاصلے پر موجود Panganiban (aka Mischief Reef) ریف سے فلپائن کو بے دخل کر دیا تھا۔ 2016 میں جب ہیگ کی ایک بین الاقوامی ثالثی عدالت نے Mischief Reef اور Scarborough Shoal جزیرے پر فلپائن کی حیثیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تو چین کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا، جب کہ چینی وزیراعظم ژی جن پنگ نے وزارت خارجہ کے اس بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی چینی سمندر زمانہ قدیم سے ہی چین کی ملکیت ہیں۔

چین ان جزائر پر فوجی تعمیرات میں مصروف ہے جس میں بڑے پیمانے پر مصنوعی جزائر، بندرگاہیں، فوجی ہوائی اڈے، گودام اور فوجی جہازوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہینگرز شامل ہیں، جب کہ چین نے ان میں سے کچھ جزائر پرراڈار سسٹمز، اینٹی ایئر کرافٹ میزائل اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹمٕ بھی نصب کررکھا ہے۔ اور یہی وہ پراجیکٹس ہیں جن کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ انہیں بند کر دیں گے، لیکن چین کی جنوبی چینی سمندر میں ان سرگرمیوں کو جاری رکھنے یا مستقل کرنے کے حوالے سے چین کے ارادوں کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں۔ چینی قیادت ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے بیانات اور دھمکیوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے واضح کر چکی ہے کہ ’جنوبی چینی سمندر کے تنازعے میں امریکا فریق نہیں ہے اور اسے چاہیے کہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے جنوبی چینی سمندر میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے گریز کرے۔‘

قوم پرست چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے ٹرمپ کے دعویٰ کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے نتائج بھگتنے کی دھمکی دیتے ہوئے لکھا ہے ’امریکا کے پاس جنوبی چینی سمندر پر غالب ہونے کی طاقت نہیں ہے۔ اگر ٹیلر ایک بڑی نیوکلیئر طاقت کو اس کے اپنے علاقے سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ پہلے نیوکلیئر اسٹریٹیجی کے بارے میں اچھی طرح پڑھ لیں اور کیا انتظامیہ کو فوجی کارروائی کے اس دھمکی آمیز بیان کو فالو کرنا چاہیے تھا۔‘

گلوبل ٹائمز مزید لکھتا ہے کہ ’دونوں طرف فوجی تصادم کی بھرپور تیاری ہے‘ اعلیٰ چینی قیادت یہ بات واضح کر چکی ہے کہ بیجنگ جنوبی چینی سمندر میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس تنازعے کا حل چین اور اس کے پڑوسی ممالک کو نکالنا ہے اور واشنگٹن کے بہتر یہی ہے وہ اس معاملے میں اپنی ٹانگ مت اڑائے۔ دیکھا جائے تو چین کا دفاعی بجٹ امریکا کے دفاعی بجٹ کا بہ مشکل ایک چوتھائی ہو گا جب کہ امریکا کی بحری اور فضائی افواج چین کی نسبت زیادہ جدید اور ہلاکت خیز آلات سے لیس ہیں۔ تاہم اس کے باوجود چین کی جنوبی چینی سمندر پر دعوے کی قانونی صحت اور تاریخی صداقت پر بحث واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات میں موجود تلخی کو مزید بڑھا رہی ہے۔

اس میں اسٹریٹیجکلی اہم نقطہ یہ ہے کہ یہ علاقے امریکا سے ہزاروں میل کی دوری پر ہیں۔ چین اب تک طاقت ور تاریخی اور قوم پرستی کی یادوں کے ساتھ اپنی قومی شناخت اور وقار قائم رکھے ہوئے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مغرب کے ہاتھوں دو صدیوں تک رسوا ہونے والا چین اب دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ 1990 سے اب تک چین 30 ارب ڈالر کا جدید روسی فوجی ساز و سامان خرید چکا ہے اور اپنے طور پر ایڈوانسڈ ویپنری (مختلف قسم کے ہتھیاروں کا مجموعہ) کی تعمیر اور ڈیولپمنٹ کی گنجائش رکھتا ہے۔ چین اپنی فوجی حکمت عملی سے جنوبی چینی سمندر میں ہونے والے کسی بھی تصادم میں امریکی بحریہ کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے، کیوں کہ اس کا محل وقو ع بھی اس کے اتحادی کے طور پر کام کرتا ہے۔ آخر میں بیجنگ وہاں ہار سکتا ہے، لیکن امریکا کو اس فتح کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، اور یہ ’فتح‘ کس نوعیت کی ہوگی؟

اگر ایک بار جنگ شروع ہوگئی تو پھر دونوں ممالک کے صدور کا پیچھے ہٹنا بہت مشکل ہو گا۔ ژی جن پنگ خود کو ٹرمپ کی طرح ایک مضبوط شخص قرار دیتے ہیں اور وہ اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے دشمنوں کو شکست دینے کے اہل ہیں۔ اور جب چینی سرزمین اور اس کے وقار کے دفاع کی بات ہو تو وہ پیچھے نہ ہٹ کر انہیں اپنے اس تاثر کو برقرار رکھنا ضروری سمجھیں گے۔ ژی کو اسی طرح ایک اور مسئلے کا سامنا ہے۔ قوم پرستی ملک میں ماؤازم کو بہت پہلے ایک طرف کر چکی ہے۔ اگر جن پنگ اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے چیلنجز کے سامنے پست ہمت ثابت ہوئے تو نہ صرف انہیں اپنی قانونی حیثیت کھونے کا خطرہ لاحق ہو گا، بل کہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کے امکانات بھی ہیں اور سوشل میڈیا کے دور میں ایسا بہت جلد ہو سکتا ہے۔ اور یہ چین جیسے سرکش ملک میں ایک ممنوع خیال ہے۔ یقیناً چین کی حکم راں جماعت اس خطرے کو بھی سمجھتی ہے کہ قابو سے باہر ہونے والی قوم پرستی سے اس کے اقتدار کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

چینی اخبار پیپلز ڈیلی نے حال ہی میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کی جانب سے فلپائن کے حق میں ہونے والے فیصلے پر سوشل میڈیا فورمز اور سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کی اس خلاف عقل حب الوطنی کی مذمت کی۔ خارجہ پالیسی کو پہلی بار عوامی ردعمل سے دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ مثال کے طور پر 2005 میں ملک بھر میں ہونے والے جاپان مخالف مظاہروں میں جاپانی نصابی کتب کے خلاف اشتعال انگیزی پیدا کی گئی کہ جاپان نے ان کتب میں دوسری جنگ عظیم کے دوران چین پر کیے گیے جاپانی ظلم وستم کے ناخوش گوار حصے حذف کر دیے۔ یہ مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے اور صرف شنگھائی ہی میں سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے دس ہزار سے زاید مشتعل مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔ ابتدا میں قیادت نے ان ریلیوں کی حمایت کی لیکن بعد میں وہ انہیں قابو کرنے میں ناکام رہے۔

چین کے خلاف چڑھائی کی صورت میں صدر ٹرمپ خود اسی طرح کی صورت حال کا شکار ہو سکتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی خود کو بہت مضبوط قرار دیتے ہوئے امریکا کا کھویا ہوا وقار واپس لانے اور اسے دوبارہ عظیم بنانے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ اُن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اُن کی خود پرستی اور جیت کا تصور ہے جو انہیں ٹوئٹر کے ذریعے اشتعال انگیز پیغامات بھیجنے سے روکنے میں بھی ناکام ہے۔ ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ کیسے ایک صدر اپنے قریبی اتحادی ملک آسٹریلیا کے وزیراعظم کو فون کال کر کے غیرمہذب انداز میں دھمکی آمیز رویہ اختیار کرے۔ چین اور امریکا کے درمیان ہونے والے فوجی تنازعے میں دونوں فریق بات کو بڑھاوا دینے چاہتے ہیں، جو کہ ایٹمی جنگ کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے چینی برآمدات پر 45 فی صد ٹیرف لاگو کردیا ہے اور وہ متواتر چین کی مذمت کرتے ہوئے اس پر کرنسی میں ہیر پھیر اور امریکیوں کی ملازمتیں چرانے جیسے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، ان بیانات نے بھی دنیا کے دو طاقت ور ترین ملکوں کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا کردی ہے۔

دسمبر میں تائیوانی صدرTsai Ing-wen کے ساتھ ہونے والی ٹیلے فونک گفت گو نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس نے ان کی ’ون چائنا‘ پالیسی کے بارے میں کمٹمنٹ کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں جس پر امریکا 1972 سے قائم ہے۔ چینی حکام وائٹ ہاؤس پر یہ بات بالکل واضح کرچکے تھے کہ صدر ژی کو اس وقت تک پہلی فون کال بھی نہیں کی جانی چاہیے جب تک نئے صدر ون چائنا پالیسی کے ساتھ رہنے پر متفق نہیں ہو جاتے۔ نو فروری کو چینی صدر کے ساتھ ہونے والی طویل ٹیلے فونک گفت گو کے درمیان ٹرمپ نے ژی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم نئے امریکی صدر کی سیمابی فطرت سے واقف چینی حکام ان کے بیانات اور طرزعمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جلد یا بہ دیر اگر ٹرمپ نے چین کے ساتھ تنازعے کے معاملے پر اپنے جوش خطابت پر قابو نہیں پایا تو چین کے راہ نما بھی اس بات کو بڑھائیں گے جس سے صورت حال مزید سنگین ہوگی۔

اب تک تو انہوں نے ٹرمپ کو سمجھنے کے لے خود کو روک رکھا ہے جو کہ خود امریکیوں کے لیے بھی آسان کام نہیں ہے۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھی اس بات پر بضد ہیں کہ چین وہی کرے جیسا وہ کہہ رہے ہیں۔ وہ اپنی ذات اور ملک کو ایسے پیچیدہ علاقائی مسئلے میں ملوث کررہے ہیں جو کہ امریکی ساحلوں سے بہت دور ہے۔ واشنگٹن اس گھمنڈ میں ہے کہ جیسے وہ ورلڈ آرڈر کا پاسبان ہو، لیکن مستقل اپنی خواہش کے مطابق قانون توڑ رہا ہے، چاہے وہ 2003 میں عراق پر چڑھائی ہو یا خفیہ قیدیوں کے گلوبل نیٹ ورک میں کھلے عام بدترین تشدد، اس تناظر میں امریکی طرزعمل غیرملکی طاقتوں کے سامنے عیاں ہے۔ اگرچہ یہ ٹرمپ ازم کا جز دکھائی دیتا ہے مگر اس کی جڑیں کافی پرانی ہیں۔

ٹرمپ کے جیتنے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ہونے والے تندوتیز بیانات کے تبادلے کو ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ اسلحے کے بڑے ذخائر رکھنے والی دو حریف طاقتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی بہت معنی رکھتی ہے۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد غلط معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ٹرمپ کی بدگوئی، تند مزاجی سے مرتب ہونے والے اثرات پر خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن ملکی سیاست میں ادارے اور قانون، شہری آرگنائزیشز، پریس اور عوامی احتجاج تو اپنا کام کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں بحرانی صورت حال اچانک رونما ہو سکتی ہے۔ اور امریکی صدور کے تند اور جلد بازی کے رویے پر نظر ثانی کا طریقہ ویسے بھی بہت کم زور ہے۔ وہ فوراً فوجی طاقت کے استعمال پر غور شروع کر دیتے ہیں۔ وہ اپنی سیاسی طاقت اور معلومات کے بہاؤ سے رائے عامہ کو تبدیل کر سکتے ہیں (ذرا عراق جنگ کے بارے میں سوچیں)۔ اس صورت حال میں شہریوں کی تنقید اور بڑے احتجاج غداری یا بغاوت کو دعوت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی چینی سمندر میں تصادم اور دونوں اطراف بڑھتی ہوئی دشمنی کیوبن میزائل کرائسز طرز کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جب کہ اس وقت امریکا کو جغرافیائی فائدہ بھی حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چین اور امریکا میں جنگ ممکن نہیں ہوسکتی تو یہ پھر آپ پرانے وقتوں کی بات سوچ رہے ہیں، جب کہ ایسا نہیں ہے۔

Breitbart نیوز کے سابق ایگزیکٹیو چیئرمین اسٹیفن بینن اور اب ٹرمپ کے سیاسی چیف اسٹریٹیجسٹ (فوجی حکمت عملی کے ماہر ) پرشایع ہونے والی حالیہ خبریں دیکھیں۔ انہیں قومی سلامتی کونسل اور پرنسپل کمیٹی (روزانہ کی بنیاد پر قومی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کے لیے قائم اعلیٰ ترین انٹر ایجنسی فورم) کے ہر اجلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ان خفیہ اجلاسوں میں انہیں شرکت کی اجازت ٹرمپ کی خصوصی منظوری سے دی گئی ہے۔ ان اجلاسوں کی حساس نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چیئرمین آف جوائنٹ اسٹاف اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بھی اس وقت شرکت کرتے ہیں جب ان کی ذمے داریوں یا پیشہ ورانہ مہارت پر بات کی جا رہی ہو۔ بینن نے گذشتہ مارچ میں ایک ریڈیو انٹرویو میں چین کے بارے میں کہا تھا،’ہم اگلے 5 سے دس سالوں میں جنوبی چینی سمندر میں جنگ کرنے جا رہے ہیں ناں؟ اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ وہ وہاں ایئر کرافٹ کیریئر بنا کر ان پر میزائل نصب کر رہے ہیں۔ وہ یہاں امریکا میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں اور آپ کو سمجھنا چاہیے یہ بات کتنی اہم ہے۔‘ بینن کی اس مہلک پیش گوئی کے بارے میں سوچیں۔ پھر نئے صدر کی سیمابی فطرت اور ان کی دی گئی ہدایت پر غور کریں۔ پھر اس اہم پیغام کو دیکھیں: یہ پرانا وقت نہیں ہے۔ امریکیوں کی بڑی تعداد تو جانتی بھی نہیں ہے کہ جنوبی چینی سمندر کہاں ہے۔‘

سید بابر علی / راجن مینن

سورج سے متعلق دلچسپ حقائق

سورج کے گرد نواں میں اہم سیارے گردش کرتے ہیں : عطارد ، زہرہ ، زمین ، مریخ ، مشتری ، زحل ،Uranus ، نیپچون ، اور پلوٹو (جدید تحقیق کی بنا پر پلوٹو کو 2006 میں ہمارے نظامِ شمسی سے خارج قرار دیا گیا ہے)۔

2:سورج نظام شمسی کی 99،85 ÷ کمیت پر مشتمل ہے۔

3:سائز، حرارت اور کیمیائی ساخت کی بناء پر dwarf G2 کے طور پر ایک درجہ بندی کیا گیا سورج، ایک درمیانے سائز کا ستارہ ہے۔ ایک G star تھوڑا ٹھنڈا ہوتا ہے (تقریباً 5000،6000کیلِون کے درمیان درجہ حرارت) اور پیچیدہ کیمیسٹری کا حامل ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے یہ ہیلیم سے بھاری کیمیکلز پر مشتمل ہے۔

4: ایک star G2 کی اوسط زندگی کی بنیاد پر ، سورج کی موجودہ عمر اندازے کے مطابق 4.6 ارب سال ہے.

5: ہر سیکنڈ میں سورج چار ملین ٹن ہائیڈروجن خرچ کرتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ سورج 75 فیصد ہائیڈروجن، 23 فیصد ہیلئم اور 2 فیصد بھاری عناصر پر مشتمل ہے۔

6: سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ سورج اپنی کور میں جمع شدہ ہائیڈروجن کو اگلے پانچ ارب سال تک جلانا جاری رکھے گا اور اس کے بعد ہیلئم سورج کا پرائمری ایندھن بن جائے گا۔ 7: تقریباً 109 زمین جیسے سیارے سورج کی سطح پر فٹ آسکتے ہیں جبکہ زمین جیسے دس لاکھ سے زیادہ سیارے سورج کے اندر فٹ آ سکتے ہیں۔

8: تقریبا ہر 11 سال بعد سورج مجموعی طور پر اپنی مقناطیسی polarity اْلٹتا ہے اس کا شمالی مقناطیسی قطب جنوبی قطب بن جاتا ہے جبکہ جنوبی قطب شمالی قطب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

9: سورج زمین سے ستارہ قریب ترین ستارہ ہے تقریباً 149.60 ملین کلومیٹر اور 92.96 ملین میل دورہے.

10: اس کی کور پر، سورج کا درجہ حرارت تقریباً 15 ملین ڈگری سیلسئس ہوتا ہے(تقریباً 27 ملین ڈگری فارن ہائٹ)۔

11: سورج اپنے محور پر ہر 25.38 (زمین کے) دنوں یا 609،12 گھنٹوں میں ایک چکر لگاتا ہے۔

12: 100.000.000.000  ٹن بارود سے ہر سیکنڈ میں دھماکہ کیا جائے تو سورج سے پیدا کی گئی توانائی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

13: زمین پر کسی 150 پونڈ وزنی شخص کا وزن سورج پر 4.200 پاؤنڈ ہو گا کیونکہ سورج کی کشش ثقل زمین سے28 گْنا زیادہ ہے۔

14: سورج حرارت اور چارج ذرّات کی ایک اسٹریم خارج کرتا ہے جسے شمسی ہوا کے طور پر جانا جاتا ہے، جو کہ 280 میل ( 450 کلومیٹر) فی سیکنڈ کی رفتار سے نظامِ شمسی میں سفر کرتی ہیں۔

15: flares Solar (جیٹ کی صورت میں) شمسی ذرّات ہوتے ہیں جو کہ دھماکے سے سورج سے خارج ہوتے ہیں یہ مواصلاتی رابطوں میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ 16: تمام سیارے اپنے اپنے مدار سورج کے گرد گھومتے ہیں اور ایک ہی سمت میں۔۔۔اینٹی کلاک وائز، اور ایک ہی plane پر جسے ecliptic کہا جاتا ہے۔ 17: مصر ، بھارت اور یورپی ، اورMeso امریکی ثقافت، ان تمام خطوں میں جو مذاہب پائے جاتے تھے ان سب سورج کی عبادت کی جاتی تھی۔

18: قدیم مصر میں ، سورج خدا ’’را‘‘ اعلی معبودوں میں سے اہم شخصیت تھا۔ اس نے اعلیٰ درجہ حاصل کیا کیونکہ یہ مانا جاتا تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اور آٹھ دوسرے خداؤں کو پیدا کیا ہے۔

19: ztec مذہب میں ، سورج دیوتاؤں Tezcatlipoca اور Huitzilopochtli کی طرف سے وسیع پیمانے پر انسانی قربانی کا مطالبہ تھا۔

20: جاپان میں ، سورج دیوی Amaterasu ، کو کافی اہمیت دی جاتی تھی اور اسے دنیا کی عظیم حکمران سمجھا جاتا تھا۔

21: حروف جن سے مل کر جاپان کا نام بنتا ہے، کا مطلب ہے سورج کو اصل اور اس کے پرچم میں چڑھتے سورج کو دکھایا گیا ہے۔

22: لیبیا میں ، دونوں نر اور مادہ mummies پر ٹیٹوز دریافت ہوئے ہیں جن سے سورج کی عبادت ظاہر ہوتی ہے۔

23: سولہویں صدی میں ، نیکولس کوپرنیکس کا کہنا تھا کہ یہ زمین ہے جو کہ سورج کے اردگرد گھومتی ہے۔ تاہم نظامِ شمسی کے بارے میں کوپرنیکس کے نظرئیے کو کئی سال تک قبول نہیں کیا گیا ، یہاں تک کہ نیوٹن نے حرکت کے قوانین پیش کیے جس سے کوپرنیکس کے نظرئے کو تقویت ملی۔

24: یونانی فلسفی ارسترکھس وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے۔

25: موجودہ ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمسی سرگرمیوں میں اتار چڑھاو زمین پر آب و ہوا میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ، آب و ہوا کے سائنسدانوں اور astrophysicists کی اکثریت پر اس بات پر متفق ہے کہ قدیم اور موجودہ دور میں عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کے لئے سورج ذمہ دار نہیں ہے بلکہ انسانی نسل اس کے لیے زیادہ قصور وار ہے۔

26: ایک دہائی کے دوران سورج کی کرنوں کی پیداوار میں بہت معمولی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ایک فیصد کے دسویں حصّے کے برابر ہو گئی، جو کہ اتنی بڑی تبدیلی بھی نہیں ہے کہ زمین پر درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک ناپے جانے کے قابل سگنل فراہم کر سکے۔

حماد انصاری

ملازمت میں ترقی نماز کی ادائیگی سے مشروط

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کے لیے کارکردگی کے علاوہ پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے مشروط ہو گی۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا سے سینیچر کے روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ کے ملازمین کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گی۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفر آباد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں درج ہے کہ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کا کہنا تھا کہ ‘آج کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات ہر کوئی آفیسر و اہلکار نماز کا پابند ہو گا۔ سالانہ ترقی نماز کی باقاعدگی سے مشروط ہو گی۔ دو گروپ بنائیں ایک گروپ کی امامت خود کرواؤں گا جبکہ دوسرے گروپ کی امامت امام مسجد کروائیں گے۔’ چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ طور پر چیک بھی کیا جائے گا کہ کون ملازم نماز کی پابندی نہیں کرتا۔

انھوں نے کہا کہ ‘سرکاری ملازمین اپنے فرائض منصبی پوری محنت، دیانت، خلوص نیت، لگن اور ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر سر انجام دیں علاقائی، لسانی اور گروہی تعصبات سے بالا تر ہو کر ملت اسلامیہ کے فرد کی حیثیت سے اپنے فرائض کی بجا آوری یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس ابراہیم ضیا کی جانب سے سپریم کورٹ کے ملازمین کی ترقی کارکردگی کے علاوہ نماز کے ساتھ مشروط کرنے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عام لوگوں کی رائے بھی تقسیم ہے۔

مظفرآباد سنڑل بار کے سابق سیکرٹری جنرل ناصر احمد ایڈوکیٹ نے اس بیان پر اپنے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے عقیدے کے مطابق نماز فرض ہے اگر کوئی ملازم نماز جیسے فرض کو ادا کرنے میں کوتائی کرتا ہو تو ممکن نہیں کہ وہ ملازم فرائضں منصبی بھی درست انداز میں ادا کرے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس نے ملازمین کو فرض پر عمل کرنے کو کہا ہے تو اس میں کوئی عار نہیں کیونکہ بحثیت مسلمان ہم ا س سے انکار نہیں کر سکتے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے امرالدین کا کہنا ہے ‘نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ملازم کی ترقی کارکردگی اور ایمانداری سے مشروط ہونی چاہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازم نماز پڑھے مگر وہ اپنے فرائضی منصبی دیانتداری سے ادا نہ کرے تو کیا وہ ترقی کا مستحق ہو گا۔’ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پہلی مرتبہ کسی بھی سرکاری ادارے کے سربراہ نے اس طرح کے احکامات جاری کیے ہیں جس میں سرکاری ملازم کی ترقی کے لیے کارکردگی کے ساتھ ساتھ نماز کی پابندی سے ادائیگی کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل : فلسطینی کے قتل کی سزا پتھراؤ کی سزا سے بھی کم

اسرائیل میں عدالت نے منگل کے روز ایک فوجی اہل کار ایلور ازاریا کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ فوجی نے تقریبا ایک برس پہلے مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں زخمی 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایلور کا دعوی تھا کہ فلسطینی نوجوان کارروائی کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ درحقیقت نہتّا عبدالفتاح زخمی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس دوران ایلور نے عبدالفتاح کے سر میں گولی مار کر اسے قتل کر ڈالا۔

پتھراؤ .. اور قتل

فلسطینی نوجوان کے گھرانے نے اس تخفیف شُدہ سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ایلور کو دی جانے والی سزا.. پتھراؤ کرنے والے فلسطینی بچے کو دی جانے والی سزا سے بھی کم ہے۔ اداروں کا برتاؤ چِیخ چِیخ کر کہہ رہا ہے کہ سب لوگ اس فوجی کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ایک طاقت ور نظام قانونی ادارے پر دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ ہر چیز فلسطینیوں کے خلاف اُلٹی صورت میں سامنے آ رہی ہے”۔ ادھر وزارت اطلاعات کے سکریٹری محمود خليفہ نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ اسرائیلی فوجی عدالت کی جانب سے شہید عبدالفتاح کے قاتل کو 18 ماہ کی تخفیف شدہ سزا اس امر کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کے تمام تر اداروں کو اُس دہشت گردی اور شدت پسندی کی خدمت کرنے کے لیے بھرتی کر لیا گیا ہے جو غاصب ریاستی حکام فلسطین ، اس کے اداروں اور عوام کے خلاف عمل میں لا رہے ہیں”۔

قاتل کا استقبال تالیوں کے ساتھ

محمود خلیفہ کے مطابق قاتل ایلور ازاریا کا عدالت میں تالیوں اور نسل پرستی پر مبنی نعروں کے بیچ استقبال کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام کی عدالتیں جنگی جرائم کے ارتکاب کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں”۔ دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر حنا عیسی نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ “اسرائیل کا یہ فیصلہ اسرائیلی فوجداری قانون کے تحت لاگو اقدامات کی مخالفت ہے۔ یہ قانون دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قتل کے کسی بھی جرم کی سزا تین برس یا اس سے زیادہ مدت کی قید کا متقاضی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے مقدمے کی پیروی میں فوجداری قانون کے متعین کردہ اقدامات کی پابندی بھی نہیں کی اور چند منٹوں میں سماعت مکمل کر دی”۔

اسرائیل نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی غلطیوں پر بین الاقوامی قانون کے مطابق محاسبہ کرتا ہے۔ تاہم عملی طور پر اس نے قاتل فوجی کو بین الاقوامی تحقیق یا عالمی عدالتِ جرائم میں پیش ہونے سے بچا لیا۔ اس لیے کہ عالمی عدالت ان جرائم پر نظر نہیں کرتی جن کا فیصلہ اُن ممالک میں دیا جا چکا ہوتا ہے جہاں ان جرائم کا ارتکاب ہوا۔ عدالتی فیصلے کے بعد شدت پسند یہودیوں کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایلور کو فوری طور پر آزاد کیا جائے کیوں کہ وہ ایک قومی ہیرو ہے۔

چینی خاکروب نے تعلیم کے لیے اعلیٰ مثال قائم کر دی

چین کا ایک خاکروب سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنی سخاوت اور رحم دلی کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کرچکا ہے کیونکہ اس نے گزشتہ 30 برس میں اپنی تنخواہ کا بڑا حصہ درجنوں نادار طالب علموں کو تعلیم دلوانے میں خرچ کیا ہے۔ 56 سالہ ژاؤ ینگ جیو نامی شخص گزشتہ 30 برس سے چین کی سڑکوں سے کُوڑا کرکٹ اٹھا رہا ہے اور اب تک اس نے اپنی ماہانہ تنخواہ سے 37 غریب بچوں کو بہترین اسکولوں میں تعلیم دلوائی ہے۔ وہ صبح سویرے سورج نکلنے سے بھی پہلے اٹھتا ہے اور رات کے اوقات گھر واپس آتا ہے جب کہ اس کی تنخواہ 350 ڈالر یعنی پاکستانی 35 ہزار روپے ہے جو خود اس کے لیے بھی کم ہے۔

ژاؤ ینگ جیو کا جذبہ سخاوت سب پر حاوی ہے وہ ہر ماہ اس میں سے ایک بڑا حصہ غریب بچوں کو اسکول پہنچانے میں خرچ کر رہا ہے۔ اب تک وہ 37 غریب بچوں کو اسکول میں داخل کرا چکا ہے اور وہ اس کام کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ژاؤ ینگ کے مطابق وہ 3 عشروں میں 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بچوں پر خرچ کرچکا ہے۔ ایک مرتبہ اسے بہت سے بچوں کی تعلیم کے لیے رقم درکار تھی تو اس نے فوری طور پر اپنا مکان فروخت کیا اور خود کرائے کے مکان میں منتقل ہوگیا۔ چینی سوشل میڈیا پر اس شخص کی قربانیوں اور غریب بچوں سے محبت کو بہت سراہا جا رہا ہے جب کہ لوگ اسے حقیقی ہیرو کا درجہ دے رہے ہیں۔