دونوں ٹانگوں سے معذور فلسطینی صہیونیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید

تقریبا 9 برس قبل غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے کے دوران اسرائیلی ڈرون طیارے سے داغے جانے والے راکٹ نے فلسطینی نوجوانوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں گروپ کے سات نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جب کہ ایک نوجوان ابراہیم ابو ثریا اپنی دونوں ٹانگیں گنوا کر زندہ رہ گیا۔
اسرائیل کی اس مجرمانہ کارروائی کے بعد غزہ کی پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں سکونت پذیر نوجوان ابراہیم اپنے پسندیدہ شوق اور پیشے یعنی مچھلیاں کے شکار کو ترک کرنے پر مجبور ہو گیا۔

ابراہیم کے گھرانے کے مالی حالات اسے پنڈلیوں سے محروم ہونے کے باوجود روزگار کی تلاش میں سڑک پر لے آئے۔ اس نے ملازمت تلاش کرنے کے لیے بڑی جدوجہد کی مگر ناکام رہا۔ آخرکار اس نے گاڑیاں دھونے کا کام شروع کر دیا۔
ابراہیم کی جانب سے گاڑی دھونے کے لیے اس کی چھت پر چڑھنے کا منظر راہ گیروں کے لیے دل چسپی کا سامان ہوتا ہے۔ غزہ کی پٹی کے اکثر مظاہروں اور سیاسی واقعات میں اس کی موجودگی نے لوگوں میں اسے ایک جانا پہچانا انسان بنا دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلانِ قُدس کے بعد غزہ پٹی میں ہونے والا کوئی ایسا احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نہیں جس میں ابراہیم شریک نہ ہوتا ہو۔
ایسا نظر آتا ہے کہ قابض حکام نے جمعے کے روز اُس شخص کے زندگی کے سفر پر روک لگانے کا فیصلہ کر لیا جو آدھے جسم کے ساتھ مزاحمت کی علامت بن گیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ابراہیم ابو ثریا کو براہ راست سر میں گولی ماری گئی تا کہ وہ اپنے اُن ساتھیوں سے جا ملے جو 9 برس قبل اسے چھوڑ کر جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

رام الله ۔ عبد الحفيظ جعوان

Advertisements

غریب اور امیر میں فرق انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے، رپورٹ

ماہرین نے دنیا میں بڑھتی عدم مساوات پر ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں پالیسیاں تبدیل ہونے کے باوجود امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ عدم مساوات میں عالمی سطح پر 1980ء سے اضافہ ہونا شروع ہوا تھا جو 2008ء کے معاشی بحرانوں کی وجہ سے 20؍ فیصد تک بڑھ گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی عالمی آمدنی بھی 50؍ فیصد تک کم ہو گئی تھی۔ چین اور بھارت میں آبادی میں اضافے سے جہاں آمدنی میں صرف 10؍ فیصد اضافہ ہوا وہیں یورپ کے مقابلے میں چین میں غریب عوام کے حالات میں بہتری نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں فی کس آمدنی 1990ء کی دہائی کے بعد بڑھی ہے۔ اس مطالعے کا مقصد حکومتوں کو اپنی پالیسیاں بہتر کرنے کی ترغیب دینا ہے تاکہ وہ ایسی پالیسیاں مرتب کریں جن سے غریب طبقے کے حالات بھی بہتر ہوں۔
گزشتہ 4؍ دہائیوں میں مختلف ملکوں کے امیر ترین افراد کی آمدنی میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ بھارت، روس اور امریکا میں زیادہ دیکھنے کو ملا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ، برازیل اور افریقی ممالک میں عدم مساوات کی شرح زیادہ ہے۔

امریکی الیکشن میں روسی دخل اندازی پر فیس بک کا اقدام

فیس بک جلد ہی اپنے صارفین کے لیے ایسا ٹول متعارف کرانے جا رہی ہے جس سے معلوم ہو گا کہ آیا انہوں نے 2016ء کے امریکی انتخابات میں روسی پروپیگنڈے کو فالو یا لائک کیا تھا یا نہیں۔ اس ٹول سے صارفین کو معلوم ہو سکے گا کہ کیا ان کا فیس بک یا انسٹاگرام کا اکاؤنٹ ’’انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی‘‘ سے رابطے میں رہا یا نہیں۔ یہ کمپنی سینٹ پیٹرس برگ میں قائم ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ روس نے امریکی انتخابات کے دوران سیاسی پیغامات عام کرنے کے لیے یہاں لوگوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ فیس بک کمپنی نے اس بارے میں اپنے اعلان میں کہا ہے ’’ یہ اہم ہے کہ عوام جانیں کہ غیرملکی عناصرنے 2016ء کے امریکی انتخابات سے پہلے اور بعد میں کس طرح فیس بک کو استعمال کر کے تقسیم کا بیج بونے اور عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کی۔‘‘

ستمبر میں فیس بک نے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر روس سے ہونے والی ایک کارروائی میں ایک لاکھ ڈالر کے اشتہارات فیصلہ کن سیاسی پیغامات عام کرنے کے لیے خرچ کیے گئے، اور اس نے ترویج کرنے والے اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کیا ہے۔ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات مختلف تنازعات کی زد میں رہے۔ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بہت متنازع بیانات سامنے آئے۔ ان پر بعد ازاں الزام لگا کہ وہ روس کے حامی ہیں اور ولادی میر پوٹن کے قریب ہیں۔انتخابی جیت کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ انہیں مبینہ طور پر روس کی حمایت حاصل رہی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جیت جائیں اور ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون امیدوار ہلیری کلنٹن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ اس پر ملک میں خاصی گہما گہمی رہی۔

ایک الزام یہ تھا کہ مخالفین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔ سوشل میڈیا کی کمپنیوں پرانگلی اٹھنے لگی کہ وہ بے بنیاد اور جھوٹی خبروں کی چھان بین نہیں کرتیں اور ان کے ذریعے سیاسی مداخلت ہوتی ہے۔ ان الزامات کی روس اورامریکی صدر ٹرمپ بھی تردید کرتے آئے ہیں۔

(تلخیص و ترجمہ: ر۔ع)

سقوط ڈھاکا : اقتدار کی رسہ کشی, ناقص حکمت عملی اور نا اہل قیادت

اقبال کے خواب دیرینہ کی تعبیر اور قائد کی انتھک محنت و جاں فشانی کا ثمر پاکستان لاکھوں مسلمانان ہند کے خون کے نذرانوں کے عوض حاصل کیا گیا، لیکن اقتدار کی رسہ کشیوں، معاشی زیادتیوں، ناقص حکمت عملی اور نا اہل قیادت کے باعث 16 دسمبر 1971 کو مشرق پاکستان ہم سے الگ ہو گیا۔ سن 1970 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اکثریتی جماعت بن کر سامنے تو آئی لیکن اسے اقتدار سے محروم رکھا گیا، انتخابات کے نتائج اور 6 نکات کی نامنظوری پر شیخ مجیب نے ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال دی تو پورے بنگال میں ہنگامے، توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ کا آغاز ہوا۔

صورت حال اس نہج پہ پہنچی کہ ایسٹ بنگال رجمنٹ اور ایسٹ پاکستان رائفلز کے باغی افسروں اور سپاہیوں نے علیحدگی پسند تنظیم مکتی باہنی قائم کر لی جس کی بھارت نے بھرپور پشت پناہی کی۔ وطن کے مشرقی بازو میں کشیدہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے 25 مارچ 1971 کو پاک فوج نے آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا، اسی دوران باغیوں کے لیے بھارتی اسلحہ و گولہ بارود ڈھاکہ پہنچنے لگا، دسمبر 1971 کے اوائل میں بھارت نے سرحد پر اہم ٹیلوں اور جنگی نقطہ نظر سے اہم کئی اہم پاکستانی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

بھارت نے تین اور چار دسمبرکی درمیانی شب ڈھاکہ ایئرپورٹ پر بھرپور حملہ کیا، جنگ کا باقاعدہ آغاز ہونے سے پہلے ہی مکار دشمن مشرقی بازو کو تین اطراف سے گھیر چکا تھا۔ ایک طرف بھارت کی 8 ڈویژن تازہ دم فوج، 80 فضائی اسکوارڈنز اور ایک لاکھ مکتی باہنی کے باغی تو دوسری جانب پاک فوج کی صرف تین انفنٹری ڈویژنز، پی اے ایف کا ایک اسکوارڈن، ایک ہوائی اڈہ، ایک ریئر ایڈمرل اور چار مسلح کشتیاں مقابل تھیں۔

پاکستان کو پے درپے جیسور، ناٹور، برہمن باڑیہ، چاند پوراور میمن سنگھ سیکٹرز میں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ چھ اور سات دسمبر کو بھارتی لڑاکا طیاروں کے ہاتھوں ڈھاکا ایئرپورٹ کے رن وے کی تباہی کے باعث پاک فضائیہ بھی ناکارہ ہو کر رہ گئی۔ بھارتی مداخلت ، جنگی سازو سامان کی کمی اور ذمہ دار قیادت کا فقدان مشرقی پاکستان کو لے ڈوبا۔ 16 دسمبر 1971 کو پاکستان ٹوٹ گیا، ایک نیا ملک بنگلا دیش بن گیا۔ 16 دسمبر کے سانحے کی تحقیقات کے لیے محمود الرحمان کمیشن قائم کیا گیا مگر مکمل رپورٹ آج تک سامنے نہیں آسکی۔

اسلامی ممالک نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک غیر معمولی ہنگامی اجلاس کے اختتام پر ایک 23 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے‘‘۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اس اجلاس کے دوران میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ اپنے خطاب میں صدر ایردوآن نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ’دہشت گرد ریاست‘ ہے جو نہتے فلسطینیوں اور خصوصاﹰ بچوں پر ظلم کرتی ہے۔ ترک صدر نے نقشے کی مدد سے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 1947ء سے قبل اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے نقشے پر ایک نقطے کی مانند تھا لیکن اب یہ بہت پھیل چکا ہے اور اسرائیلی قبضے کے سبب فلسطین اب نقشے پر ایک نقطے کی مانند رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ یروشلم مسلمانوں کے لیے ایک ’’ریڈ لائن‘‘ یا سرخ لکیر ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسرائیل کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے آج تک کسی بھی قرار داد کو نہیں مانا۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ یروشلم فلسطین کا تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا امن بات چیت میں کسی قسم کا کردار ادا کرنے کے لیے نا اہل ہو گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’’امن بات چیت میں اب امریکا کے مزید کسی کردار کو تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ اس نے اپنے تعصب کو ثابت کر دیا ہے۔‘‘ اجلا س کی خاص بات اس میں لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی شرکت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فیصلے کے خلا ف فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عام طور پر او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال نظر نہیں آتی تاہم اس مرتبہ کم از کم ایک اہم معاملے پر رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال اور اس مسئلے کے حل پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک سعودی عرب اور فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ ان کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اجلا س میں شریک ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جانا چاہیے۔

بشکریہ DW اردو

کیا فیس بک نے لوگوں کو سماج سے الگ کر دیا ہے ؟

دنیا بھر کے لوگوں کی سب سے زیادہ پسندیدہ سوشل ویب سائٹ فیس بک کے سابق نائب صدر نے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ویب سائٹ کے لیے مدد فراہم کی، جس نے لوگوں کو سماج سے الگ کر دیا۔ فیس بک کے نائب صدر چماتھ پلیہپیتیا نے اعتراف کیا کہ انہوں نے سوشل ویب سائٹ کے صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے ایسے ٹولز بنائے، جن سے زیادہ سے زیادہ لوگ ویب سائٹ کو استعمال کرنے لگے اور سماج سے بے خبر ہوتے گئے۔ اسٹین فورڈ گریجوئیٹ اسکول آف بزنس میں ایک سیمینار کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چماتھ پلیہپیتیا نے فیس بک کے لیے مدد فراہم کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی سب سے ہولناک غلطی بھی قرار دیا۔ چماتھ پلیہپیتیا نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے فیس بک صارفین کی تعداد بڑھانے کے لیے ایسے ٹولز ایجاد کیے، جن سے لوگ مصنوعی ہونے سمیت اپنے سماج سے بے خبر ہو گئے۔

سابق نائب صدر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے عام عوام کی بہتری، کسی کے ساتھ تعاون اور غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے سے متعلق کوئی کام نہیں کیا۔
ان کے مطابق یہ کہنا غلط ہے کہ روس کی جانب سے دیے گئے اشتہارات کی وجہ سےامریکی انتخابات کے نتائج میں فرق پڑا، بلکہ سوشل سائٹ کا سسٹم ہی ایسا ہے۔ فیس بک کے سابق نائب صدر کا کہنا تھا کہ نہ صرف لوگوں اور ان کے دوستوں بلکہ انہیں بھی سوشل ویب سائٹ استعمال کرتے ہوئے کئی سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ چماتھ پلیہپیتیا نے مثال دی کہ انہوں نے گزشتہ 7 سال میں صرف 2 پوسٹیں ہی کیں۔

انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ اچھا ہو گا کہ دنیا بھر کے لوگ فیس بک سے چھٹکارہ حاصل کریں۔ خیال رہے کہ چماتھ پلیہپیتیا نے 2007 میں فیس بک کو جوائن کیا تھا، سوشل میڈیا سائٹ کے صارفین میں اضافہ کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے 2007 سے 2011 تک فیس بک کے ساتھ کام کیا۔ چماتھ پلیہپیتیا کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کہ 2 ہفتے قبل ہی فیس بک کے سابق صدرسین پارکر نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس ویب سائٹ کے لیے ایسے خاص ذرائع کو اپنایا گیا ہے جو لوگوں کو اپنی ذاتی زندگیاں اس پر نچھاور کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں اورانہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

سین پارکر نے 30 نومبر کو اپنے انٹرویو میں مزید کہا تھا کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ دنیا کو دیوانہ بنا رہی ہے اور اسے ممکنہ طور پر لوگوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ فیس بک سے متعلق متعدد ایسی تحقیقات بھی سامنے آ چکی ہیں، جن میں ماہرین کی جانب سے بتایا گیا کہ سوشل سائٹ مایوسی اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔ امریکا کی ہیوسٹن یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ فیس بک کا بہت زیادہ استعمال صارفین کے اندر مایوسی کے جذبات کو بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دوستوں کی اچھی پوسٹس پر حسد محسوس کرنے لگتے ہیں۔ امریکا کی مسوری یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق کے مطابق فیس بک کا بہت زیادہ استعمال لوگوں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے جو تبدیل ہوکر مایوسی میں بدل جاتا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود فیس بک صارفین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا کو ہلا دینے والی فلسطینی بچّے کی تصویر بنانے والے نے کیا بتایا ؟

اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں 16 سالہ فلسطینی فوزی الجنیدی کی گرفتاری کی تصویر ایک عالمی علامت کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ یہ تصویر فسلطینی اسرائیلی تنازع میں اُن سنگین خلاف ورزیوں کی عکّاسی کر رہی ہے جن کا فلسطینی بچوں کو قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مذکورہ فلسطینی نو عمر لڑکے فوزی کے چچا رشاد الجنیدی سے بات چیت کی۔ رشاد نے بتایا کہ اس کا بھتیجا ابھی تک عوفر کی جیل میں زیر حراست ہے اور اب اس کے خلاف اسرائیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ رشاد کے مطابق فوزی الخلیل شہر میں گھر کا کچھ سامان خریدنے کے واسطے نکلا تھا۔ اس دوران بیت المقدس کے فیصلے پر احتجاج کرنے والے فلسطینی لڑکوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپ شروع ہو گئی۔

 اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے فوزی کو گرفتار کر لیا اور اس کو زدوکوب کیا۔ بعد ازاں اسے رام اللہ کے قریب عوفر جیل منتقل کر دیا گیا۔ فوزی ایک غریب فلسطینی گھرانے کا سب سے بڑا بیٹا ہے۔ وہ گھر کے مالی اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے تعلیم چھوڑ کر کام کرنے پر مجبور ہو گیا۔

فوزی کی گرفتاری کی مشہور ہونے والی تصویر صحافی عبدالحفیظ الہشلمون نے لی جو یورپی نیوز ایجنسی کے لیے بطور کیمرہ مین کام کر تا ہے۔ الہشلمون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ “فوزی کی گرفتاری کے وقت اسے شدید صدمہ اور تکلیف پہنچی۔ تقریبا 23 اسرائیلی فوجیوں نے اسے گرفتار اور پھر زدوکوب کیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس تصویر کو لینے میں کامیاب رہا اور اس کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔ البتہ یقین جاںیے کہ فوزی کا درد اور کرب کہیں زیادہ بڑا ہے”۔
فلسطینی لڑکے فوزی کی تصویر میں نظر آنے والی سنگ دلی اور سفاکیت کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے رواں سال کے دوران اب تک ایک ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا۔ ان میں 300 کے قریب اب بھی عوفر کی جیل میں موجود ہیں جن کے خلاف مختلف فیصلے جاری ہو چکے ہیں۔