Life at Google

Google is an American multinational corporation specializing in Internet-related services and products. These include online advertising technologies, search, cloud computing, and software. Most of its profits are derived from AdWords, an online advertising service that places advertising near the list of search results. Google was founded by Larry Page and Sergey Brin while they were Ph.D. students at Stanford University. Together they own about 14 percent of its shares but control 56 percent of the stockholder voting power through supervoting stock. They incorporated Google as a privately held company on September 4, 1998. An initial public offering followed on August 19, 2004. Its mission statement from the outset was “to organize the world’s information and make it universally accessible and useful,”[11] and its unofficial slogan was “Don’t be evil.”[12][13] In 2004, Google moved to its new headquarters in Mountain View, California, nicknamed the Googleplex.

Inside Syria’s Yarmouk Refugee Camp

Yarmouk Camp is a 2.11-square-kilometre (0.81 sq mi) district of the city of Damascus, populated byPalestinians, with hospitals and schools. It is located 8 kilometres (5.0 mi) from the center of Damascus and inside the municipal boundaries but when established in 1957, it was outside the surrounding city. Yarmouk is an “unofficial” refugee camp; it was home to the largest Palestinian refugee community in Syria. As of June 2002, there were 112,550 registered refugees living in Yarmouk.
During the Syrian Civil War, Yarmouk camp became the scene of intense fighting in 2012 between the Free Syrian Army and thePFLP-GC supported by Syrian Army government forces. The camp then was consequently taken over by various factions and was deprived of supplies, resulting in hunger, diseases and a high death rate, which caused many to leave. By the end of 2014, the camp population had gone down to just 20,000 residents.
In early April 2015, most of the Yarmouk camp was overrun by the Islamic State of Iraq and the Levant, sparking armed clashes with Palestinian militia Aknaf Bait al-Maqdis, associated with Hamas and the Muslim Brotherhood. According to the Syrian Observatory of Human Rights, the ISIL attack resulted in 40 ISIL militants killed;[3] Palestinian sources reported about 12 camp residents killed,while Syrian source reported 13 killed; and independent sources also confirmed two fatalities from mortar fire in an adjacent Damascus area. It was reported that despite Palestinian militia resistance and parallel bombing by the Syrian Air Force, ISIL still controlled 90% of the camp by 6 April. The situation in the camp came to the attention of the UN Security Council, which aimed to discuss the prospects of some 18,000 residents of the occupied camp.

حسینہ واجد کا متنازعہ جنگی ٹربیونل….

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ایک اور رہنماء محمد قمر الزماں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ قمر الزماں کو 1971 ء میں جنگی جرائم کے تحت پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔اس سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے بنگلہ دیشی وقت کے مطابق رات 10 بجے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ 1971 ء کی جنگ میں جماعت اسلامی کے رہنماء قمر الزمان پر پاکستان کی حمایت کرنے کا الزام تھا ۔62 سالہ قمر الزمان پر 120 غیر مسلح کسانوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی اور گزشتہ ہفتے اٹارنی جنرل کی جانب سے اْن کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد ہوا ہے اور اس سے قبل بھی جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو اس جرم کی پاداش میں پھانسی دی جا چکی ہے
بنگلہ دیش میں 2010 سے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔2010 سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے ۔بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔
پاکستان میں جماعت اسلامی بھی بنگلہ دیش میں مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر چکی ہیں، جبکہ حکومت نے بھی ان سزاؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کا12 دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ’’فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں‘‘۔ کیا کوئی جمہوری حکومت فوج , انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے اْبھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟ لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگ کی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔
بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کریمنل ٹربیونل کا قیام گزشتہ برس عمل میں لایا گیا تھا ،تاکہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے مرتکب ہونے والے مشتبہ افراد کو عدالت کے سامنے لایا جا سکے۔ 1971 تک بنگلہ دیش کو مشرقی پاکستان کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ’’ جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔
حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا۔ آخر انہیں ووٹ لینے کے لئے اپنے ہی عوام میں آنا پڑے گا۔ کیا بنگلہ دیشی عوام ان کو اس قتل عام پر معاف کر دیں گے؟۔

ریاض احمدچودھری

پاکستان کی شان بلوچستان…..

بلوچستان پاکستان بننے سے پہلے پسماندگی، حسرت و یاس اور بے بسی کی تصویر تھا۔ نوآبادیاتی دور میں انگریزوں نے اس علاقے کے وسائل مقامی سرداروں کی مدد سے بری طرح لوٹے۔چنانچہ تحریکِ پاکستان چلی تو بلوچستان کا ہر مرد و زن مسلم لیگی جھنڈے تلے آ گیا اور خان آف قلات نے قائداعظم ؒ سے دست بستہ عرض کی کہ ہمیں بھی پاکستان میں شمولیت کا اعزاز بخشا جائے۔وہ دن اور آج کا دن، ہر بلوچ سب پاکستانیوں سے بڑھ کے پاکستانی ہے۔ ناشکرے بنگال کے برعکس بلوچستان نے اپنی پوری زمین مع معدنی و بحری وسائل وفاقی حکومت کو یہ کہہ کر بخش دیے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ خدانخواستہ مملکتِ خداداد کو کچھ ہوگیا تو ہمارے وسائل اور قدرتی دولت ہمارے بھی کس کام کی؟
چنانچہ لیاقت علی خان سے نواز شریف اور ایوب خان سے پرویز مشرف تک سب نے بلوچستان کو سر کا تاج سمجھا۔ پچھلے 68 برس کے دوران مواصلاتی جال نے ہر بلوچ گاؤں کی قسمت پلٹ دی۔ چٹیل پہاڑ پر بھی کسی بلوچ کا گھر تھا تو اخراجات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہاں تک گیس، پانی، بجلی اور سڑک پہنچائی گئی۔ ہر ضلع میں بی اے تک تعلیم مفت اور لازمی قرار پائی۔یہ واحد صوبہ ہے جہاں اگر والدین اپنے بچوں کو اسکول نہ بھیجیں تو انہیں جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ پرائمری تعلیم قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی بلوچی اور پشتو میں دی جاتی ہے جبکہ کالج کے 50 فیصد طلبا کو پانچ تا 12 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی ملتا ہے۔
یوں بلوچستان میں خواندگی کا تناسب راتوں رات 15 سے بڑھ کے ستانوے اعشاریہ اکیس فیصد تک پہنچ گیا۔ جو باقی پاکستان سے تقریباً 42 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں تو بے روزگاری کا تناسب 15 سے بیس فیصد بتایا جاتا ہے مگر بلوچستان میں محض ڈھائی فیصد نوجوان بے روزگار ہیں اور ان میں سے بھی پونے دو فیصد وہ ہیں جو نوکری کرنا ہی نہیں چاہتے۔اسی طرح بلوچستان میں صحت کا نظام بھی مثالی ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات باقی پاکستان کے مقابلے میں50 فیصد کم ہے۔ توقع ہے کہ اگلے پانچ برس میں یہ شرح 25 فیصد ہو جائے گی۔ صوبائی حکومت نے سن 2004 سے ہر خاندان کو ہیلتھ انشورنس کارڈ جاری کرنا شروع کیا جس کے سبب دل و دماغ تک کا آپریشن بھی مفت ہے۔
البتہ ڈینٹل سرجری تاحال انشورڈ نہیں۔ مثالی صحت کے اقدامات کے سبب آج بلوچستان کے عوام کی اوسط عمر بقیہ پاکستانیوں کی اوسط عمر سے 15 برس زیادہ ہے۔ پاکستانیوں کی اوسط سالانہ آمدنی 4500 ڈالر فی کس ہے لیکن بلوچستان میں فی کس آمدنی 25000 ڈالر ہے۔ کیونکہ وفاقی حکومت بلوچستان کو معدنی دولت کی رائلٹی کی مد میں ڈھائی تا تین ارب ڈالر ہر وفاقی بجٹ سے پہلے پہلے باقاعدگی سے ادا کرتی ہے۔
صوبے میں مثالی امن و امان کا سہرا پاک فوج، ایف سی اور آئی ایس آئی کے سر جاتا ہے۔ تینوں اداروں میں نوکری کا حصول ہر پڑھے لکھے بلوچ کا خواب ہے۔اہلِ بلوچستان کو بہت کم غصہ آتا ہے۔ لیکن اگر کوئی فوج، ایف سی یا آئی ایس ائی کو برا بھلا کہے تو ایک بلوچ کی غیرت کبھی برداشت نہیں کرپاتی اور ایسے ناہنجار کا فوراً سماجی بائیکاٹ کرکے اسے علاقہ بدر کردیا جاتا ہے۔ بی ایل ایف سمیت بہت سی بلوچ فلاحی تنظیمیں اور محبِ وطن حساس ادارے اپنی اپنی سطح پر اقدامات کرتے ہوئے ایک دوسرے کا مسلسل ہاتھ بٹاتے ہیں۔
بلوچستان میں بھی پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح کبھی کبھار فرقہ وارانہ کشیدگی سر اٹھاتی ہے مگر یہاں کبھی شیعہ سنی یا ذکری نمازی جھگڑا پرتشدد شکل اختیار کرنے لگے تو لشکرِ جھنگوی اور شیعہ مجلسِ وحدت المسلمین جیسی سماجی تنظیموں کے رضاکار کشیدہ علاقوں میں مشترکہ گشت کرتے ہیں۔ یوں شرپسند بیرونی عناصر کے عزائم ہر بار خاک میں مل جاتے ہیں۔دس سال پہلے تک بلوچستان کا پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا انتہائی پسماندہ تھا۔ لیکن آج یہ میڈیا بلاشبہ بدتمیزی کی حد تک بے باک ہے۔ دیگر صوبوں میں صحافیوں کو جس طرح اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کام کرنا پڑتا ہے۔ بلوچستان کے کسی بھی صحافی کو الحمداللہ ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔وہ خبر کی تلاش میں کسی بھی جیل، بیرک یا دفتر میں جب چاہے شناخت کروا کے بے دھڑک داخل ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات اس آزادی کا بے جا استعمال بھی ہوتا ہے مگر ہر حساس و غیر حساس ادارہ عدلیہ کو جوابدہی کے خوف سے آزادیِ اظہار کے آئینی حق کا مکمل احترام کرتا ہے۔
مثالی ترقی و آزادی کے اس بلوچ ماڈل کو سندھ، خیبر پختون خواہ اور پنجاب وغیرہ میں انتہائی رشک سے دیکھا جاتا ہے۔ اور کیوں نہ دیکھا جائے ،اگر فردوس بر روئے زمیں است، بلوچستان است، بلوچستان است، بلوچستان است۔۔۔پاکستانی درس گاہیں بشمول لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اور قومی ذرائع ابلاغ اگر مندرجہ بالا طرز پے بلوچستان کے حالات کا تجزیہ فرماویں تو نہ کسی محبِ وطن حساس ادارے کی کبھی دل شکنی ہو اور نہ ہی پاکستان بدنام ہو۔ پاکستان زندہ باد۔

وسعت اللہ خان

ہم نے وہ قرض اُتارے جو واجب بھی نہیں تھے…..

مال روڈ پر موسم کی رنگینیوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ معمول کی خوش گپیوں اور کراچی الیکشن کی صورت حال پر گفتگو کر رہا تھا کہ اچانک موبائل فون پر پیغام ملا کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اہم رہنما قمرالزمان کو سزائے موت دے دی گئی۔
یک لخت ایک جھٹکا لگا کہ کس جرم کی سزا ملی؟ 63 سالہ بزرگ سے کیا غلطی سرزد ہوئی؟ معلوم ہوا کہ 2010 میں حسینہ واجد کی جانب سے بنایا گیا نام نہاد انٹرنیشنل وار کرائمز ٹربیونل ہی اس کی ساری وجہ ہے۔ جس کو ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ادارے پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں کیونکہ اس کا واحد مقصد ہی اپنے سیاسی مخالفین کا صفایا کرنا ہے۔
مشرقی پاکستان ایک سازش کے تحت اور مغربی پاکستان کی غلطیوں کی وجہ سے الگ ہوا تھا جس میں ہمارے پڑوسی ملک کا بہت بڑا کردار تھا۔ مکتی باہنی کے ذریعے بنگالی پاشندوں کو پاکستان سے متنفر کیا گیا۔ پاکستان سے نفرت کا بیج ان کی دلوں میں بویا گیا اس بیج کی بیخ کنی کے لئے اِن لوگوں نے پاکستان آرمی کا ساتھ دیا۔ نوجوانوں نے قربانیاں دیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار سے زائد بنگالی نوجوانوں نے پاکستان بچانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
 
 جن لوگوں نے پاکستان کا ساتھ دیا وہ لوگ اب اُس محبت کے جرم میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ پھانسی کے پھندے کو بھی بخوشی قبول کررہے ہیں لیکن حکومت پاکستان کی جانب سے مسلسل خاموشی قابل افسوس ہے۔
Massive gathering in funeral of #Kamaruzzaman in Chittagong; Such presence testifies him as a victim of http://suppressionpic.twitter.com/cXZFAdeZa0
— Ali Ahmad Mabrur (@Mabrur00) April 13, 2015
محمد قمر الزمان کی سزائے موت پر دفتر خارجہ کی جانب سے مبہم بیان کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں داخلی صورت حال کا محتاط طور پر جائزہ لے رہے ہیں اس سزا پر عالمی تنقید بھی مد نظر ہے۔
پاکستان اس وقت اسلامی ممالک میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ دفاعی اور دیگر معاملات میں پاکستان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر حکومت کی جانب سے دفاعی موقف کا اظہار محب وطن پاکستانیوں کے لئے تکلیف کا باعث ہے۔ یہی نہیں ہزاروں پاکستانی ابھی بھی بنگلہ دیش میں محصورین کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اس بارے تو زبان خاموش ہے اور دل حکمرانوں کی بے حسی پر خون کے آنسو رو رہا ہے۔
بنگلہ دیش یعنی سابق مشرقی پاکستان میں پاکستان سے محبت کرنے والوں پر کیا گزرہی ہے یہ موجودہ پاکستان کے بے حس حکمران اندازہ نہیں کرسکتے۔۔ ڈھاکہ میں آج بھی ایک چھوٹا سا پاکستان موجود ہے۔ یہاں 50 لاکھ افغانیوں کو تو لایا جا سکتا ہے اور پناہ دی جا سکتی ہے لیکن بنگلہ بننے کے بعد 50 ہزار اصل پاکستانیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور بار بار کے وعدوں کے باوجود نہیں لایا جاتا۔ یہ دُکھ تو اپنی جگہ موجود تھا لیکن اب تو بنگلہ دیش کی متعصب، نا عاقبت اندیش اور ظالم حکومت متنازعہ ٹربیونل کے ذریعے ان پاکستانی لیڈروں کو پھانسی پر لٹکا کر مزید دکھ دے رہی ہے۔
We urge the #Bangladesh govt to stop conspiracy of killing#Kamaruzzaman @AP @BBC @CNN @AlJazeera @UN@hrw @amnesty http://pic.twitter.com/GxmYLvPgIY
— Basherkella (@basherkella) April 9, 2015
یقینی طور پر ہم بے بس ہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو نہیں بچا سکتے، نا ہی سفارتی طور پر کوئی مسئلہ حل کرسکتے ہیں، نا ہی ڈائیلاگ سے کسی کو قائل کرسکتے ہیں اور نا ہی طاقت استعمال کرسکتے ہیں اور نہ نام نہاد اقوام متحدہ کے ذریعے کوئی مسئلہ حل کرسکتے ہیں، یقینی طور پر ہم بے بس ہیں۔ مگر لائق تحسین ہیں وہ لوگ جو آج بھی حسینہ واجد کے ہر ظلم کو پاکستان سے محبت کی خاطر خوشی خوشی برداشت کررہے ہیں۔
پھانسی سے پہلے قمرالزمان کا بیان کہ وہ کسی دنیاوی عدالت میں اپیل نہیں کریں گے وہ اللہ کے ہاں اپنا مقدمہ پیش کریں گے، جو اُن کے سکون، حوصلے اور اطمینان کی علامت ہے۔ ابھی سوشل میڈیا پر قمر الزمان مرحوم کی بیٹی کی تصویر گردش کر رہی تھی جس میں وہ اپنے والد سے آخری ملاقات کے بعد گھر کی جانب روانہ ہو رہی ہیں۔ کیسا اطمینان، کیسا سکون اور انداز فاتحانہ، فتح کا نشان! یہ کوئی فتح کا موقع تو شاید نہیں لیکن ان کے لیے ایک پیغام ضرور ہے اور وہ یہ کہ جو زندگی لے کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نظریے کو شکست دی جاسکتی ہے وہ غلط سمجھتے ہیں۔
This is a death of glory, death of victory, that’s why they’ve shown ‘V’ sign. #PrayForKamaruzzaman #http://Bangladeshpic.twitter.com/SN2l2O2kGE
— #StepDownHasina (@Musafiirr) April 11, 2015
اب تو قمرزمان پھانسی پر جھول گئے، لیکن نہ کوئی پشیمانی اور نہ کوئی واویلہ، نہ ہی خاندان کا ماتم، کچھ بھی تو نہیں۔ ایک طمانیت، ایک انداز و وقار اور اپنے رب کی رضا پر راضی۔ یہ ہے وہ نظریاتی پختگی اور اپنے رب کی جنت کے وعدے پر اعتبار کی عملی مثال۔
مجھے تو افتخار عارف کے اشعار بار بار یاد آرہے ہیں جو شاید انہوں نے بنگلہ دیش میں پاکستان کی محبت کی سزا پانے والوں کے نام ہی لکھے ہیں کیوں کہ موجودہ صورت حال کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں؎
بیچ آئے سرِ قریہ زر جوہرِ پندار
جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اْتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
سید امجد حسین بخاری