سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے بھارتی دعوے کے بعد انڈین اسٹاک مارکیٹ کریش

کنٹرول لائن پر ہندوستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے دعوے کے بعد انڈین اسٹاک مارکیٹ 500 پوائنٹس تک کریش کرگئی.  ممبئی اسٹاک مارکیٹ میں جعمرات کے روز کاروبار کا آغاز 9 بجکر 15 منٹ پر 28ہزار 452 پوائنٹس پر ہوا جب کہ 12 بجے کے قریب جب ہندوستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر سرجیکل اسٹرائیکس کے جھوٹے دعوے پر مبنی خبریں سامنے آنا شروع ہوئیں تو ممبئی اسٹاک ایکسچینج بی ایس ای سینسیکس 27 ہزار 740 پوائنٹس تک گرگیا۔  تاہم دوپہر دو بجے تک بی ایس ای میں دوبارہ تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس 27 ہزار 902 پوائںٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرجیکل اسٹرائیکس کی جھوٹی رپورٹس سامنے آتے ہیں ہندوستانی شیئرز، بانڈز اور روپے کی قدر میں کمی واقع ہوئی اور این ایس ای انڈیکس 2.07 فیصد تک نیچے گرگیا۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے ہندوستانی دعوے کو یکسر مسترد کردیا گیا اور کہا گیا کہ ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھمبھر، کیل، تتاپانی اور لیپا سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایل او سی پر رات ڈھائی سے صبح 8 بجے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ آئی ایس پی آر نے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا فائرنگ کو سرجیکل اسٹرائیکس کا رنگ دینا ایک دھوکہ ہے۔

کشمیر میں بھارتی بربریت : چھروں سے بینائی کھونے والے کشمیری نوجوان

مقبوضہ کشمیر میں ایک اور دن ابھرا ہے اور جنت نظیر وادی کے مختلف علاقوں سے لوگ جلدی میں سری نگر میں واقع شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال (ایس ایم ایچ ایس) کا رخ کر رہے ہیں۔ امراض چشم کا وارڈ بھر چکا ہے جہاں زیادہ تر آہنی چھروں سے زخمی ہونے والے افراد موجود ہیں۔ ان زخمیوں کے چہروں اور دھڑوں پر چھروں کے زخم موجود ہیں۔ پیلٹ گن (آہنی چھرے فائر کرنے والی بندوق) کے اندھا دھند استعمال سے بینائی کا ضیاع کشمیر کے شہریوں پر ہندوستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بربریت کی ایک تصویر پیش کر رہا ہے۔ ہندوستانی پولیس یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پیلٹ گن ایک غیر مہلک ہتھیار ہے لیکن کشمیر بلائنڈ اسپاٹ کیمپین (کے بی ایس سی) کے مطابق اس گن کے استعمال کے نتیجے میں، جو کہ عام طور پر جانوروں کے شکار کے لیے مختص سمجھی جاتی ہے، 69 انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔

اگرچہ کہ یہ ہتھیار ہمیشہ جان لیوا ثابت نہ بھی ہو، مگر اپنا شکار بننے والے پر یہ ہتھیار زندگی بھر کے لیے ایک گہرا اثر چھوڑ جاتا ہے۔ ہندوستانی حکومت کے مطابق اس ہتھار سے 500 لوگ زخمی ہو چکے ہیں، ان میں زیادہ تر افراد کی آنکھوں کی ساخت کو کئی طرح سے نقصان پہنچا ہے جس کے لیے کئی سرجریز اور طویل المدت طبی علاج مطلوب ہے۔ مگر کے بی ایس سی کی اطلاعات کے مطابق چھروں سے زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 4,500 سے بھی زیادہ کے ساتھ مذکورہ تعداد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تنازعے کے ابتدائی صرف 32 دنوں میں ہی ہندوستانی فوج نے 13 لاکھ چھرے استعمال کیے تھے۔ چوں کہ پیلٹ گنز اندھے پن کی وجہ بن سکتی ہیں لہٰذا ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پیلٹ گنز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

   بشکریہ

احمر خان

روزنامہ ڈان نیوز اردو

اس وقت دنیا کا خطرناک ترین انسان کون ہے؟

کولمبیا سے تعلق رکھنے والا جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اس لیے اسے ’’دنیا کا خطرناک ترین آدمی‘‘ (The most dangerous man in the world) کے ’’اعزاز‘‘ سے نوازا گیا ہے۔ اس شخص کی گردن پر ہزاروں افراد کا خون ہے۔ اس کے کارندوں کے ہاتھوں زخمی اور معذور ہونے والوں کی تعداد شمار سے ہی باہر ہے، مگر اس کے باوجود یہ شخص لاطینی امریکا کے ملک کولمبیا میں بڑے آرام اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے۔ برطانوی جریدے ’’سنڈے مرر‘‘ نے دنیا کے اس سے بڑے مجرم کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ لاطینی امریکا کا یہ ڈون ’’بوبی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مگر اس کا اصل نام جان جائرو فالیسکوئز ہے۔ بوبی کو لاطینی امریکا کا سب سے بڑا منشیات فروش مانا جاتا ہے۔

یہ پہلے ’’بابلو اسکوبر‘‘ نامی منشیات کے سب سے بڑے اسمگلر کا ذاتی باڈی گارڈ یا اجرتی قاتل تھا۔ جب 1993ء میں اسکوبر کا انتقال ہوا، تو گروپ کی جانب سے بوبی کو اس کا جانشین مقرر کیا گیا۔ بوبی نے جب یہ ’’عہدہ‘‘ سنبھالا تو اس نے اپنے کاروبار کو بے پناہ وسعت دی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا کو کوکین 80 فیصد بوبی سپلائی کرتا ہے۔ بوبی صرف امریکا کو فراہم کردہ منشیات سے سالانہ 22 ارب ڈالر کماتا ہے۔ دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی منشیات کا دھندا اور منافع اس کے علاوہ ہے۔ بوبی نے تین سو افراد کو اپنے ہاتھوں قتل کیا ہے جبکہ مختلف وارداتوں کے دوران اس کے ہاتھوں 200 گاڑیاں جل چکی ہیں۔ بوبی اعتراف کرتا ہے کہ اس کے گروپ کی جانب سے ’’کاروبار‘‘ کو بڑھانے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا ہے، جن میں بڑے بڑے سیاست دان، پولیس افسران و اہلکار، صحافی سمیت ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

بوبی کا کہنا ہے کہ ڈان بننے سے پہلے وہ اجرتی قاتل کا کام کرتا تھا۔ اس وقت وہ فی قتل کے عوض سو ڈالر وصول کرتا تھا۔ سینکڑوں افراد بوبی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ وہ خود بھی ہر وقت درجنوں محافظوں کے حصار میں رہتا ہے۔ بوبی کی جانب سے درجنوں افراد کو اغوا کرکے تاوان بھی وصول کیا گیا ہے، جن میں کولمبیا کے صدر انڈریس باسترا بھی شامل ہیں۔ جنہیں 1998ء میں اغوا کرکے 2002ء میں رہا کیا گیا۔ بوبی کا کہنا ہے کہ مجھے کسی ایسے شخص کو ہلاک کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی، جس کا قتل کرنا ’’ضروری‘‘ ہوتا ہے۔ انسانوں کے شکار کی ابتدا بوبی نے اپنی ہی ایک گرل فرینڈ کو قتل کرکے کی تھی۔ بوبی کا اپنی سب سے بڑی کارروائی کے بارے میں کہنا تھا کہ میں نے ایک تجارتی طیارے کو بھی بم اڑایا تھا، جس میں سوار 107 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مذکورہ برطانوی جریدے کے صحافی کرسٹوفر پاکٹین کا کہنا ہے کہ میں تلاش بسیار کے بعد بوبی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس نے اپنی کہانی بغیر کسی خوف اور تردد کے مجھے تفصیل سے بتائی۔ اس دوران کرسٹوفر نے بوبی کے ساتھ ایک تصویر بھی بنائی ہے۔

(اُردو ٹرائب سے مقتبس) –

Facebook removes Jamaat-e-Islami pages over Kashmir posts

Social networking giant Facebook has taken down Jamaat-e-Islami Pakistan’s official page for publishing posts about Indian atrocities in occupied Kashmir. “That page was the second highest in terms of number of followers as it had 3.1 likes,” a post on the Jamaat’s Facebook page read. A Jamaat official said that two other pages operated by the party have been removed from the social media website in the past two days. The Islamist party further said that its women wing and Khyber Pakhtunkhwa pages was also found deleted.
“Facebook’s decision to delete our accounts is an attack on freedom of expression,” the party said. “We haven’t done anything which was in violation of Facebook’s policy,” JI Social Media Incharge maintained. This is not the first Facebook has removed or suspended accounts for allegation violation. In the recent past, Facebook suspended the account of top Pakistani actor Hamza Abbasi over his views on slain Kashmiri commander Burhan Wani. The official page of Jamaat-i-Islami Pakistan was removed by Facebook, reportedly for covering and highlighting Indian atrocities in held Kashmir, said a party statement issued on Wednesday evening.
The statement claimed that the page had more than three million ‘likes’ and it was the second most viewed page [with respect to ‘likes’] of any local political party. Social Media head of Jamat-i-Islami Shamsuddin Amjad, while talking to Dawn.com, confirmed the development that “the party’s official page was removed on Wednesday evening”. Amjad further informed that two other pages operated by the party have been removed from the social media website in the past two days. “The party pages representing Jamaat’s zonal sections Khyber Pakhtunkhwa and Women Wing were removed on Tuesday,” he said. The party’s social media head further informed that the personal accounts of around two dozen admins of the Jamaat’s official page, which was removed, were also suspended.
In the past few months, Facebook has repeatedly come under fire for suspending certain accounts on the social media platform, belonging to both native Kashmiris and foreigners present in and outside of the disputed Himalayan region. The accounts which have been suspended till date had posted comments, pictures or videos to highlight the treatment meted out to Kashmiris in the latest episode of unrest. In July, Facebook removed actor Hamza Ali Abbasi’s post in which he had praised a deceased separatist commander killed by Indian forces in Indian-held Kashmir. The social media platform had suspended Abbasi’s account following the post, but later restored the account after the post had been removed.

انڈیا کو پانی کی جنگ مہنگی پڑے گی

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں انڈین فوج پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے نیا موڑ لے لیا ہے۔ انڈین حکومت نے 65 سال پرانے اُس معاہدے کو توڑنے کا اشارہ دیا ہے، جس کے تحت کشمیری علاقوں سے بہہ کر مشرقی اور مغربی پنجاب کے میدانوں کو سیراب کرنے والے چھ دریاؤں کے استعمال کے حقوق دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں۔ 1960 میں ورلڈ بینک اور کئی مغربی ممالک نے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے درمیان اس معاہدے کی ثالثی کی اور یہ معاہدہ سندھ طاس معاہدہ یا انڈس واٹر ٹریٹی کے نام سے مشہور ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے دریائے سندھ، ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم بہتے ہیں۔ معاہدے میں ستلج، بیاس اور راوی پر انڈیا کے قدرتی حق کو تسلیم کیا گیا جبکہ پاکستان کو چناب، سندھ اور جہلم پر حقوق دیے گئے۔ اوڑی حملے کے بعد پہلے تو انڈیا میں پاکستان پر فوجی کارروائی کی باتیں ہوئیں اور بعد میں اسلام آباد کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے مشن کا آغاز ہوا۔ مسلح تصادم کی دھمکیوں یا سفارتی مورچہ بندی اپنی جگہ، لیکن اب انڈیا میں پاکستان کے خلاف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مصنف اور کالم نویس پی جی رسول کہتے ہیں کہ یہ ’غیر ضروری اور غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستان کو خصوصی رعایت نہیں دی گئی تھی بلکہ دریاؤں کے رُخ اور جغرافیائی حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ ’اگر پانی کو جنگی ہتھیار بنا کر انڈیا نے پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روکا تو کشمیر میں ہر لمحہ سیلاب آئے گا اور پھر اگر چین نے یہی حربہ استعمال کر کے تبت سے آنے والے برہم پترا دریا کا رُخ موڑا تو بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں برباد ہو جائیں گی۔

پی جی رسول کہتے ہیں کہ انڈین حکومت نے انڈس واٹر ٹریٹی پر سوال اُٹھا کر پاکستان کے اُس موقف کو خود ہی تقویت دے دی ہے جس کے تحت وہ کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا رہا ہے۔ ’اس کے علاوہ کشمیریوں کو انڈیا کے اس اقدام سے بقا کا خطرہ لاحق ہوگا اور انڈیا مخالف تحریک مزید زور پکڑے گی۔ پانی کی یہ جنگ کشمیریوں کو ہی نہیں انڈیا کو بھی مہنگی پڑے گی۔‘ آبی وسائل کے سابق انڈین وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی باتیں کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین حکومت سیاسی موقف کی خاطر ملک کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ ’یہ مہذب بات نہیں مگر میں مجبور ہوں۔ اس معاہدے کو توڑا گیا تو انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا۔ چین کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ ہفتوں کے اندر برہم پترا کا رُخ موڑ سکتا ہے، پھر تو پنجاب، ہریانہ، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں اندھیرا چھا جائے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک نے اس معاہدے کی ثالثی کر کے بھارت اور پاکستان کو ایک رحمت عطا کی ہے، جس کی قدر کرنی چاہیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر، لبنان، عراق اور ترکی جیسے عرب ممالک کے درمیان بھی دریاؤں کے پانی کی شراکت کے معاہدے ہیں۔ ناراضی اور کشیدہ تعلقات کے باوجود وہاں پانی کو جنگی ہتھیار نہیں بنایا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کشمیر کے نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ جموں کشمیر کی حکومت نریندر مودی کے کسی بھی فیصلے کی حمایت کرے گی۔

 واضح رہے حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے کشمیر کو ہر سال ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے، کیونکہ جہلم، چناب اور سندھ کے دریاؤں پر انڈیا کو بند تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تاہم اکثر اوقات کشمیر میں انڈین کنٹرول والے پن بجلی منصوبوں کی تعمیر کو لے کر پاکستان اعتراض کرتا ہے، اور بعد میں ان اعتراضات کی سماعت انڈس واٹر کمیشن میں ہوتی ہے۔ قابل ذکر یہ بات ہے کہ جموں کشمیر حکومت نے چناب اور جہلم پر بجلی کی پیداوار کے درجنوں منصوبوں کا خاکہ تیار کیا ہے لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کی اجازت نہیں مل رہی ہے۔ حکومت کا کشمیر کو ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کے سالانہ نقصان کا دعویٰ اس بنا پر کیا جاتا ہے کیونکہ بھارت یہاں کے دریاؤں پر بڑے پن بجلی کے منصوبے تعمیر نہیں کر سکتا۔ تاہم سماجی کارکن شکیل قلندر کہتے ہیں کہ کشمیر میں موجودہ بجلی کے منصوبوں پر انڈین حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اور 20 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت کے باوجود کشمیریوں کو کئی سال سے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے۔

ریاض مسرور

بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

جب ترک صدر نے پرویز مشرف کو کھری کھری سنا دیں

دنیا بھر میں جہاں جمہوریت کو پذیرائی دی جاتی ہے وہیں جمہوری حکمرانوں کے تختے الٹنے والوں پر کڑی تنقید بھی کی جاتی ہے۔ ایسی تنقید پاکستان میں حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرل مشرف کو بھی سہنا پڑی۔ کرامت اللہ غوری اپنی کتاب بارشناسائی میں لکھتے ہیں، منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پرویز مشرف نے ترکی جانے کی ٹھانی۔ اتفاق سے اس وقت ترکی کے صدر اور وزیر اعظم دونوں اپنی فوج کے ہاتھوں ڈسے ہوئے تھے۔ لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں ترک صدر سلیمان دیمرل نے پرویزمشرف کو کھری کھری سنائیں۔  نوک جوک نامی ایک بلاگ کے مطابق اس وقت کے ترک صدر سلیمان دیمرل نے مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،”جنرل! مجھے عملی سیاست میں پچاس برس سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس طویل عرصے میں جس عمل نے میرے ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا، وہ سیاست میں فوج کی مداخلت ہے۔

ہمارے جرنیلوں کے دماغ میں بھی یہ خناس تھا کہ وہ ملک کو سدھار سکتے ہیں لیکن ہر بار وہ جب اپنا تماشہ دکھا کے واپس بیرکوں میں گئے تو حالات پہلے کی نسبت اور خراب کر گئے۔ جنرل !دنیا کی کوئی فوج کسی ملک کی تقدیر نہیں سنوار سکتی۔ یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ مجھے پاکستان سے محبت ہے اور تمہیں میں اپنا چھوٹا بھائی سمجھتا ہوں۔ لہٰذا بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ یہ ہے کہ جتنی جلد ہو سکے، اقتدار سیاست دانوں کو واپس کرو اور اپنی بیرکوں کو لوٹ جاو۔“ ترک وزیراعظم نے بھی پرویز مشرف کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان تمام نقصانات کی فہرست گنوائی جو سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت سے ترکی میں پیدا ہوئے اور دنیا کے ہر اس ملک میں ہو سکتے تھے جہاں فوج زبردستی اپنی حکمرانی مسلط کرتی ہو۔