معزز جنگی مجرم صاحبان

جب صدام حسین کو انسانیت سوز اور جنگی جرائم کی پاداش میں اکتیس دسمبر دو ہزار چار کی شب پھانسی دی گئی تو دورِ جدید کے ’’ چنگیز خان اور عرب ہٹلر ’’ کے خاتمے اور عراق کو دورِ جمہوریت سے سرفراز کرنے کے مشن کی کامیابی پر تالیاں بجانے والوں کی صفِ اول میں جارج بش اور ٹونی بلئیر سب سے نمایاں تھے۔ صدام حسین کی پھانسی سے ساڑھے تین ماہ قبل پندرہ ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے الفاظ چبائے بغیر کہا ’’ ہاں عراق پر امریکی قیادت میں حملہ غیر قانونی تھا۔ یہ اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بغیر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کیا گیا‘‘۔

حالانکہ میڈیا کئی ماہ سے ایک جنگی فضا بنانے کی وائٹ ہال اور واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ کی مرتب کردہ مہم کا دانستہ و نادانستہ آلہِ کار بنتے ہوئے صدام حسین کے ایٹمی ، کیمیاوی و حیاتیاتی ہتھیاروں کے خطرے اور ان ہتھیاروں کو پینتالیس منٹ کے اندر برطانیہ سمیت مغرب کے خلاف قابلِ استعمال تیاری کی صلاحیت پر مبنی انٹیلی جینس رپورٹوں کی بنیاد پر پھیلایا جانے والا سرکاری خوف مسلسل نشر کر رہا تھا۔ حالانکہ امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاول سلامتی کونسل میں عراقی جوہری و کیمیاوی ہتھیاروں کی موبائل لیبارٹریوں کی تصاویر دکھا دکھا کر دنیا کو صدامی عفریت سے ڈرا کر متحد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر عام آدمی ڈر کے ہی نہیں دے رہا تھا۔ دماغ پر پروپیگنڈے کی مسلسل بمباری کے باوجود دل کہہ رہا تھا  کہ دال میں بہت کچھ کالا ہے۔

چنانچہ عراق پر حملے سے ایک ماہ پہلے پندرہ فروری دو ہزار تین کو ٹوکیو سے سڈنی اور لندن سے سان فرانسسکو تک ڈیڑھ کروڑ انسان سڑکوں پر یہ بینر اٹھائے چل رہے تھے ’’ ہمارے نام پر جنگ منظور نہیں‘‘۔ سب سے بڑا جلوس لندن میں نکلا جس میں پندرہ لاکھ مرد ، عورتیں اور نوزائیدہ  بچے بھی شدید سردی کے باوجود شریک تھے۔ ( یہ خادم اور دو بچے بھی اس تاریخی مظاہرے کا حصہ تھے )۔ جب برطانوی پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں جنگ میں جانے نہ جانے کے مباحثے میں بری طرح الجھا ہوا تھا۔ اس دوران میرے پسندیدہ برطانوی لیبر رکنِ پارلیمان ٹونی بین نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا۔

’’جنگ کے بارے میں بات کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی اس کی ہولناکی کے بارے میں سمجھانا مشکل ہے۔  بالخصوص انھیں جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی۔ میں نے انیس سو چالیس میں لندن پر ہونے والی بمباری سے ڈاک لینڈ میں لگنے والی آگ میں پانچ سو افراد کو مرتے دیکھا۔ اگر ہمارے لیے یہ تباہی اتنی خوفناک تھی کہ آج تک یاد ہے تو ذرا سوچئے کہ ہم ان لاکھوں لوگوں کو اس سے کہیں زیادہ تباہی سے دوچار کرنے جا رہے ہیں کہ جن کا صدام حکومت کے جرائم سے کوئی لینا دینا نہیں ؟ آج ہم ایک ایسے احمق دور میں رہ رہے ہیں جب ہمارے لیے جنگ کی اہمیت ایک ویڈیو گیم اور چینل فور کی ہیڈ لائن سے زیادہ نہیں رہی۔ آج جس جس نے بھی جنگ میں جانے کے حق میں ووٹ دیا وہ اس جنگ کے تمام نتائج و عواقب کا بھی ساجھے دار ہوگا۔

میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ انیس سو پینتالیس میں آپ نے اقوامِ متحدہ کے جس چارٹر پر دستخط کیے، اس کی پہلی سطر ہی یہی ہے کہ ہم اقوامِ متحدہِ کے شہری عہد کرتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو ایسی جنگوں اور تباہیوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے جنہوں نے آج تک ہمیں ناقابلِ بیان مصائب میں مبتلا کیے رکھا۔ ہماری گذشتہ نسل نے یہ عہد آج کی نسل سے کیا تھا اور کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم اگلی نسل کو اس چارٹر کی دھجیاں تحفے میں دینا چاہ رہے ہیں اور یہ سب ہم عالمی برادری کے نام پر کر رہے ہیں۔کم ازکم میں اس فیصلے کا حصہ نہیں ہوں ’’.

اٹھارہ مارچ کو جنگ سے ایک دن پہلے برطانوی پارلیمنٹ نے عراق سے جنگ کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی دوسری قرار داد کا انتظار نہ کرنے کے حق میں کثرتِ رائے سے فیصلہ دے دیا اور اگلی شب بغداد پر بم گرنے شروع ہوگئے۔

اس جنگ اور جنگ کے بعد کے تباہ کن حالات کے نتیجے میں اگلے تیرہ برس کے دوران ڈیڑھ سے چھ لاکھ کے درمیان عراقی (جتنی تنظیمیں اتنے اندازے) جاں بحق ہوئے۔ چار ہزار چار سو بیالیس امریکی اور ایک سو نواسی برطانوی فوجی ہلاک ہوئے۔عراقی ریاست تحلیل ہوگئی اور بھانت بھانت کے حشرات الارض چہار جانب سے نکل نکل کر زمین پر پھیلتے چلے گئے اور چلے جا رہے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں سات برس کی محنت کے بعد برطانیہ میں شایع ہونے والی سرکاری چلکوٹ رپورٹ نے جنگ میں جانے کے اسباب پر منڈھے گئے رہے سہے جھوٹ کے کپڑے بھی اتار پھینکے۔ اس رپورٹ میں ٹونی بلئیر اور بش کی خط و کتابت بھی ہے جو جنگ سے ڈیڑھ برس پہلے شروع ہوئی اور جس میں بلئیر نے بش کو یقین دلایا کہ ’’ حالات جو بھی ہوں میں آپ کے ساتھ ہوں ‘‘۔برطانوی فوج کے میجر جنرل مائیکل لاری نے چلکوٹ کمیشن کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم اچھی طرح جانتے تھے کہ حکومت نے عراق کے وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کی بابت بڑھا چڑھا کر جو مقدمہ تیار کیا ہے۔

اس کا مقصد جنگ کی راہ ہموار کرنا ہے ‘‘۔ برطانوی انٹیلی جینس ادارے ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ میننگھم بولر نے اپنی گواہی میں کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گئی ‘‘۔ اس وقت کے نائب برطانوی وزیرِ اعظم جان پریسکوٹ نے کہا  ’’ کابینہ کو جنگ کے معاملے میں گمراہ کرکے منظوری لی گئی۔ اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ اسمتھ نے کابینہ کو زبانی طور پر تو یہ بتایا کہ یہ جنگ قانونی ہے مگر کبھی تحریری طور پر یہ رائے کابینہ کے سامنے نہیں رکھی گئی۔ میرے خیال میں جو ہوا وہ قانون کے دائرے سے باہر تھا اور میں مرتے دم تک اس دکھ کے ساتھ جئیوں گا ‘‘۔

ہمارے ہیرو ٹونی بلئیر صاحب نے اگرچہ اس رپورٹ کے آنے کے بعد یہ اعتراف ضرور کیا کہ انٹیلی جینس اطلاعات ناقص تھیں اور جنگ کی قانونی حیثیت کمزور تھی اور میں سب زمہ داری قبول کرتا ہوں مگر میں یہ نہیں مانتا کہ صدام حسین کو ہٹانے کا فیصلہ غلط تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہی خان نیٹ ورک کا پتہ چلا اور ہم لیبیا کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے میں کامیاب ہوئے ( یعنی دونوں کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے عراقی ریاست تحلیل کرنا ضروری تھا۔ سبحان اللہ )۔

ایسا بیان اگر تیسری دنیا کا کوئی لیڈر دیتا تو اسے عالمی میڈیا کامیڈی کی بہترین مثال کے طور پر پیش کرتا اور ناظرین لوٹ پوٹ ہوجاتے۔ پھر بھی غنیمت ہے کہ برطانیہ نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش تو کی۔ امریکا سے تو یہ تکلف بھی نہ ہو پایا۔ بش جونئیر آج بھی اپنی رینچ پر مچھلیاں پکڑ رہا ہے اور چھتری تلے ٹانگ پے ٹانگ دھرے  کتاب پڑھ رہا ہے۔

رہا یہ مطالبہ کہ غیر قانونی جنگ کرنے والوں نے جن جرائم کی پاداش میں صدام حسین کو پھانسی پر لٹکایا اب انھیں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کیا امر مانع ہے ؟ تو اس کا جواب ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ بھینس احتجاج کرے تو بس آئی ایم سوری کہنا کافی ہے۔ رہی یہ بات کہ اتنے مسلمان ممالک میں سے عراق سمیت کسی ایک کو چلکوٹ رپورٹ کی روشنی میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تا کہ اگر روانڈا اور بوسنیا کے جنگی مجرم انصاف کے کٹہرے میں لائے جا سکتے ہیں تو ’’ مہذب دنیا  کے مہذب مجرم ’’ کیوں نہیں ؟  مطالبہ تو بہت معقول ہے مگر شیعہ سنی جھگڑے سے زیادہ معقول تو نہیں ؟

وسعت اللہ خان

افغانستان میں بچوں کی ہلاکتیں شرمناک ہیں

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات ’خوفناک اور باعت شرم‘ ہیں اور تاریخ تمام فریقین کا فیصلہ کرے گی۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جنوری اور جون کے درمیان 1601 شہری ہلاک ہوئے جن میں بچوں کی تعداد 388 ہے۔ صرف کابل میں سنیچر کو ہزارہ برادری کی احیجاجی ریلی پر ہونے والے خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نہ قبول کی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر زید راد الحسین نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے گذشتہ چھ ماہ میں پرتشدد واقعات کا نشانہ بننے والے خاندانوں کی پانچ ہزار کہانیاں سنی جس میں ایک تہائی ہلاک یا زخمی ہونے والے بچوں سے متعلق تھیں۔

اقوام متحدہ نے جنوری 2009 سے افغانستان میں ہلاک یا زخمی ہونے والے شہریوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے۔ اور اس وقت سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں 63 ہزار 934 عام شہری زخمی یا ہلاک ہوئے جبکہ ان میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار 941 ہے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں تشدد کے واقعات میں 1601 عام شہری مارے گئے جن میں 388 بچے اور 130 خواتین شامل ہیں۔ اسی عرصے کے دوران زخمیوں کی تعداد 3 ہزار 565 ہے جن میں 1121 بچے اور 377 خواتین شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس کے ساتھ خبردار بھی کیا کہ یقیناً اعداد و شمار اندازوں سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات کا ذکر کیا ہے جس میں بچوں کا مسلح تنازع میں استعمال، بچوں پر جنسی تشدد، ارادی طور پر وکلا، کارکنوں، نمایاں خواتین، قتل کی سزا دینا اور صحت، تعلیمی مراکز پر حملے وغیرہ شامل ہیں۔

افغانیوں کو کون مار رہا ہے؟

افغانستان میں نیٹو کے انخلا کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے افغان حکومت مخالف عناصر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے 60 فیصد کے ذمہ دار ہیں جس میں خاص کر طالبان اور دولت اسلامیہ شامل ہیں تاہم رواں برس ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں سے 1180 کا تعلق حکومت کی حامی فورسز سے بیان کیا گیا ہے اور یہ تعداد بھی گذشتہ برس کے اسی عرصے سے 47 فیصد زیادہ ہے۔ افغانستان سے 2011 سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا شروع ہونے اور دسمبر 2014 میں نیٹو مشن کے اختتام کے بعد سے ملک میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی واقعات میں ہر برس اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی مشیر تادمیچی یامموتو نے کہا ہے کہ ہر ہلاکت وعدوں کی ناکامی کی نمائندگی کرتی ہے اور مصیبتیں کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ اور افغان شہریوں کی مجموعی یادداشت تمام فریقین کو اس تنازع میں ان کے اصل طرز عمل کے بارے میں فیصلہ دے گی۔

یاہو 4.83 ارب ڈالرز کے عوض فروخت، ویرائزن نے خرید لیا

دنیا کے مقبول ترین سرچ انجنز کی بات کی جائے تو گوگل کے بعد یاہو کا ذکر ضرور ہوگا اور انٹرنیٹ کی دنیا کی اس بڑی ویب سائٹ کا 22 سال تک آزادانہ کام کرنے کا عرصہ اب ختم ہوگیا ہے۔ جی ہاں ویرائزن نامی کمپنی نے یاہو کو 4.83 ارب ڈالرز (5 کھرب پاکستانی روپوں سے زائد) میں خرید لیا ہے۔ یاہو کے مستقبل کے حوالے سے کئی ماہ سے افواہیں پھیل رہی تھیں اور پیر کو ویرائزن کی جانب سے اسے خریدنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ ویرائزن نامی کمپنی نے ایک سال پہلے اے او ایل کو خرید رکھا ہے جبکہ یہ امریکا کی مقبول ترین وائرلس سروس میں سے بھی ایک ہے۔

اس کمپنی نے یاہو کے ایڈورٹائزنگ، مواد، سرچ اور موبائل ایکٹیویٹیز کو 4.83 ارب ڈالرز کے عوض خریدا ہے۔ ویرائزن کا کہنا ہے کہ یاہو کو خریدنے سے ہمیں ٹاپ گلوبل میڈیا کمپنی کی حیثت سے ابھرنے کا موقع ملے گا، جبکہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ سے ہماری آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ یاہو کے علی بابا میں اسٹیک اور یاہو جاپان اس معاہدے کا حصہ نہیں کیونکہ یہ دونوں اپنی جگہ کئی ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یاہو کے علی بابا میں 15 فیصد حصص کی مالیت 31.2 ارب ڈالرز ہیں جبکہ یاہو جاپان کی مالیت 8.3 ارب ڈالرز ہے۔ یاہو کی موجودہ سی ای او مریسا مائرز اپن جگہ برقرار رہیں گی، جن کا کہنا ہے کہ یاہو وہ کمپنی نے جس نے دنیا کو بدلا، اب ہم یہی کام زیادہ بڑی سطح پر ویرائزن اور اے او ایل کے ساتھ مل کر کریں گے۔

توقع کی جارہی ہے کہ خریداری کا عمل مکمل ہونے پر ویرائزن کی جانب سے یاہو اور اے او ایل کے بیشتر حصوں کو اکھٹا کردیا جائے گا تاکہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کی زیادہ سے زیادہ آمدنی کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ یاہو کو دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد کرتے ہیں جن میں 60 کروڑ موبائل صارف بھی شامل ہیں، اس سائٹ کے اپنے پریمیم برانڈز فنانس، نیوز اور اسپورٹس موجود ہیں۔

یہ سب کشمیر پر چُپ کیوں ہیں؟

پاکستان میں فیس بک کے ایک پیج ” نیوز فور گیٹ پاکستان” نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال پر رائے عامہ اجاگر کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں بھارتی شخصیات کی تصاویر کو ایسا دکھایا گیا ہے جیسے انہیں پیلٹ گن ( چَھرے والی پستول) سے زخمی کیا گیا ہو۔ فیس بک پر اس مہم کے لیے بنائے گئے پوسٹرز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان اور کئی دوسرے افراد شامل ہیں، یہی نہیں پوسٹرز میں فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ کی تصویر بھی شامل ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس مہم کا آغاز کراچی سے ہوا جس کے کارفرما جبران ناصر کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہم نے سنسرشپ کے حوالے سے رائے عامہ میں آگہی پیدا کرنے کے لیے فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا انتخاب کیا اور ان کی تصویر کو فوٹوشاپ کر کے ایسا دکھایا جیسے انہیں پیلٹ گن سے زخمی کیا گیا ہے لیکن فیس بُک کی حالت دیکھیں کہ وہ پیلٹ گن سے زخمی ہونے والی تصاویر اور کہانیوں کو سنسر کر رہی ہے۔

 جبران ناصر کا کہنا ہے کہ ہر شخصیت كے انتخاب کی ایک وجہ ہے جیسے مودی چونکہ وزیراعظم ہیں اس لیے ان کا نام لازمی اس کا حصہ ہونا تھا، سونیا گاندھی کا انتخاب ان کی حکومت کی جانب سے عمر عبداللہ کو وزیراعلیٰ بنانے کے فیصلے کی وجہ سے کیا گیا جنھوں نے سب سے پہلے پیلٹ گن کےاستعمال کی اجازت دی۔ چونکہ فلمی ستارے بھارت میں بہت مقبول ہیں اور لوگ انھیں پوجتے ہیں اور ماضی میں فلمی ستارے اس طرح کے ایشوز پر اپنی رائے دیتے رہے ہیں۔ ان کی فلمیں کشمیر میں بکتی بھی ہیں اور ان کی فلمبندی بھی ہوتی ہے مگر یہ سب کشمیر پرچپ کیوں ہیں؟

جبران ناصر نے اس مہم کے حوالے سے بتایا کہ اس ڈیجیٹل دور میں کشمیر کی جدوجہد کو اجاگر کرنے اور عوام میں آگہی پیدا کرنے کے لیے ہم جو بہتر کرسکتے تھے وہ کیا جس کا مقصد مظلوم کی آواز آگے پہنچانا ہے اور ہم سب ایک بات پر متفق ہیں کہ کشمیریوں کو فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔  واضح رہے کہ تحریک آزادی کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد احتجاجی لہر کے دوران قابض فوج کی بربریت کے نتیجے میں اب تک 50 سے زائد افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

طاہر عمران
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فوج کی کاروباری کمپنیوں کا جواز کیا ؟

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وزارتِ دفاع نے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ پاکستان کی فوج کے زیر انتظام 50 کاروباری کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریری جواب میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، فوجی فاؤنڈیشن اور بحریہ فاؤنڈیشن کے زیر انتظام کاروباری اداروں کی تفصیلات فراہم کیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ان کاروباری اداروں میں رہائشی سکیمیں، فارمز، کھاد، چینی اور سیمنٹ بنانے کے کارخانے، ریسٹورنٹ، بینک، انشورنس کمپنی، کپڑے بنانے کے کارخانے، بجلی گھر، گوشت پراسیسنگ یونٹ اور سکیورٹی فراہم کرنے کی کمپنیاں شامل ہیں۔

ملک کی آمدن میں سے خطیر رقم دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوج کو فراہم کی جاتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی فوج اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ مختلف کاروباری ادارے بنانے اور انھیں وسعت دینے میں دلچسپی لیتی ہے؟ پاکستان میں دفاعی اُمور کی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جہاں فوج کو مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاتے وہاں فوج کو محدود پیمانے پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن پاکستانی حکومت میں فوج کو پورے وسائل فراہم کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 50 کی دہائی میں یہ ادارے فوج سے ریٹائر ہونے والے افسران کو مراعات فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن ریٹائرڈ فوجیوں کو پینشن بھی ملتی ہے۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ ’پیشہ وارانہ افواج اپنے آپ کو کاروباری سرگرمیوں میں مصروف نہیں کرتیں اور فوج کو ملنے والے فنڈ کا آڈٹ تو ہوتا نہیں اس لیے یہ بھی نہیں معلوم کہ کیا فوج کو ملنے والا بحٹ کہیں ان نجی کاروباری اداروں میں تو استعمال نہیں ہوتا۔ یہ بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہے کہ ان میں کتنے ریٹائرڈ اور کتنے حاضر سروس افراد شامل ہیں۔‘

سابق سیکریٹری فاٹا بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے اور باقاعدہ آڈٹ بھی ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک وہ فوج ہے جو آپریشنل ہے اس کا اپنا بجٹ ہوتا ہے اور وہ حاضر سروس فوجیوں کے امور کو دیکھتی ہے، لیکن کاروباری کمپنیوں میں کوئی بھی حاضر سروس فوجی نہیں ہوتا۔ ’فوج کی آڈیٹر جنرل برانچ ایک ویلفیئر ڈائریکٹریٹ کے تحت ان کاروباری کمپنیوں کی نگرانی تو کرتی ہے لیکن اس کا اس میں اور کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ان کمپنیوں کی انتظامی صلاحیت پاکستان کے دیگر اداروں کی نسبت زیادہ اچھی ہوتی ہے۔‘ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ فوج کو کاروباری ادارے بنانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے اور اس سے خود فوج کے لیے پیشہ ورانہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ فوج کے کاروبار میں وسعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ خود مختاری چاہتے ہیں اور تمام سویلین اداروں سے اوپر رہ کر چلنا چاہتے ہیں اور اس سے سیاست اور پھر معیشت متاثر ہوتی ہے۔

تاہم بریگیڈییر(ر) محمود شاہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان تمام کاروباری کمپنیوں کے ذریعے فوج کی فلاح کے لیے کام کیا جاتا ہے، ریٹائرڈ فوجیوں کو نوکریاں ملتی ہیں، بڑے بڑے ہسپتال انھیں کی وجہ سے چل رہے ہیں۔ یہ کام حکومت نہیں کر سکتی اس لیے فوج خود یہ کام کرتی ہے۔‘ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ملک میں فوج کے ماتحت چلنے والے اداروں کے بار میں سوال اٹھایا گیا ہو یا تنقید کی گئی ہو۔ آج سے 11 برس قبل سنہ 2005 میں پاکستان کے ایوان بالا میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ہی پی پی پی کی جانب سے فوج کی کاروباری کمپنیوں کے بارے میں سوال اٹھایا تھا اور اس وقت کے وزیرِ دفاع راؤ سکندر نے فوج کی ان کاروباری کمپنیوں کی تعداد 55 بتائی تھی۔

سارہ حسن، حمیرا کنول

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کیا اردگان واقع انتقام کی آگ میں اندھے ہوچکے ہیں؟

ترکی میں فوج کی جانب سے بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سرکاری ملازمین کی معطلی، برطرفی اور گرفتاریوں نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اردگان نے بغاوت کے اگلے روز بیک جنبش قلم 2700 ججوں کو فارغ کردیا۔ اس کے بعد برطرفیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ مزید پھیلتا گیا اور اب تک کل ملا کر 50 ہزار افراد اس ردعمل کا نشانہ بنے ہیں جن میں برطرف، معطل اور گرفتار سب شامل ہیں۔ بغاوت کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر بھی اردگان اور عوام کو قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں نے باغیوں پر عوامی تشدد کو داعش کی کارروائیوں سے بھی تشبیہ دے ڈالی اور اسے انسانیت سوز قرار دے دیا۔

حالانکہ بغاوت میں زیادہ ہلاکتیں سویلین کی ہوئیں جن کو ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور یہ سب کچھ مختلف فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے، بلکہ ظلم کی انتہا تو یہ ہوئی کہ بہت سارے شہریوں کو بالکل سامنے سے گولیاں ماری گئیں جبکہ دوسری طرف سڑکوں پر پولیس گرفتار باغیوں کو عوامی غیض و غضب سے بچاتی نظر آئی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر مرنے والے عام شہریوں کے حق میں سب خاموش ہیں۔ صرف باغیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر واویلا مچایا جارہا ہے۔ انتہا تو یہ ہے کہ اردگان کے قتل کے منصوبے پر بھی سب خاموش ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ان کے نکلنے کے صرف 15 منٹ بعد ہوٹل پر فوج نے حملہ کیا؟ یہ تمام زمینی حقائق کیوں نظر انداز کیے جارہے ہیں؟ کم از کم میری تو سمجھ سے بالاتر ہے۔

اس تمام صورت حال میں مغربی میڈیا اور پاکستان کے اندر بعض حلقے اردگان کو جمہوریت کی آڑ میں آمریت کا الزام دے رہے ہیں اور ملازمین کی برطرفیوں اور پکڑ دھکڑ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ اردگان نے عوامی مطالبے پر سزائے موت متعارف کرانے کا عندیہ دیا تو یورپی یونین نے خبردار کیا کہ یہ اقدام ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ اردگان نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو جرمنی نے شہریوں کے بنیادی حقوق کا رونا روکر دبے لفظوں میں اس کی مخالفت کردی۔ حالانکہ حالیہ دنوں میں فرانس کا ایک واقعہ ہوگیا اور وہاں کے صدر نے ملک میں 6 ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ اب یہ جرمنی ہی بتا سکتا ہے کہ فرانس میں انسان نہیں بستے یا پھر وہاں کی ایمرجنسی ذرا الگ قسم کی ہوگی۔

اب آتے ہیں اُس نقطے کی طرف کہ کیا واقعی اردگان انتقامی جذبے میں حد سے گزرہے ہیں؟ کیا ترکی میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں یا اردگان جمہوریت کی آڑ میں آمر مطلق بنتے جارہے ہیں؟ ان تمام سوالات کا جواب ڈھونڈنے کیلئے ذرا ترکی کی تاریخ پر نظر ڈال کر دیکھتے ہیں۔ ترکی میں 4 مرتبہ فوج نے جمہوری حکومتوں پر شب خون مارا اور ان تمام آمروں نے عوام پر کیا کیا ستم ڈھائے اس کیلئے ایک پوری کتاب درکار ہوگی۔ اِس لیے ہم سب کا ذکر کرنے کے بجائے آخری مارشل لا کا جائزہ لیتے ہیں۔ ترک آرمی چیف کنعان ایورن نے 12 ستمبر 1980ء میں جرنیلوں کے ایک گروپ سے مل کر سلیمان ڈیمرل کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرکے ترکی میں سیاہ و سفید کے مالک بن گیا۔ ڈکٹیٹر کنعان ایورن نے ملک بھر میں کریک ڈاون شروع کردیا اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 6 لاکھ 50 ہزار افراد کو گرفتار کرلیا۔

16 لاکھ 30 ہزار افراد کو بلیک لسٹ کردیا گیا۔ 2 لاکھ 50 ہزار افراد پر مقدمات بنے اور 14 ہزار افراد سے شہریت چھین لی گئی جبکہ ہزاروں افراد 1980ء سے لیکر آج تک لاپتہ ہیں۔ پھر قیدیوں پر جیلوں میں خوفناک تشدد کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ لاتعداد قیدی جیلوں میں تشدد کے باعث ہلاک ہوگئے اور 50 افراد کو جعلی عدالتوں میں جعلی مقدمات کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی گئی۔ بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی کارکنوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ گرفتار اور ہلاک شدگان کے خاندانوں پر ظلم و ستم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس وجہ سے کنعان ایورن کا مارشل لا ترکی کی تاریخ کا خونی دور کہلاتا ہے۔

کنعان ایورن کس قدر سفاک اور ظالم تھا اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ 1984ء میں ایک تقریر کے دوران اس نے سیاسی کارکنوں کو پھانسی دیے جانے کے سوال کا فخریہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان قیدیوں کو کب تک جیلوں میں رکھیں گے۔ انہیں جلد از جلد لٹکانا چاہیے۔ پھر قانون قدرت کے عین مطابق اردگان نے اقتدار میں آکر اسی کنعان ایورن کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی اور 2015ء میں وہ قید کے دوران ہی اسپتال میں چل بسا۔

اب ذرا اردگان کے ردِعمل اور اور کنعان ایورن کے انتقام کا موازنہ کرلیں پھر بتائیں ظالم کون ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کس نے کی؟ اب اگر اردگان جمہوریت کی آڑ میں آمر بنتا جارہا ہے تو انہیں جمہور نے ہی ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اور اس کا زندہ و جاوید ثبوت حالیہ بغاوت میں سامنے آگیا ہے۔ جمہور نے اس کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے بغاوت کچل کر رکھ دی اور موجودہ ردعمل بھی جمہور کی مرضی کے مطابق ہورہا ہے۔ اگر جمہور اس ردِعمل سے مطمئن نہ ہوتے تو وہ جن سڑکوں پر اردگان کے حق میں نکلے ہیں وہیں اس کیخلاف بھی نکل سکتے ہیں۔

دوسری بات اگر مصر کی فوج منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر بغیر کسی جرم کے لاکھوں شہریوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے، ہزاروں کو ٹینکوں کے نیچے کچل دے، سیکڑوں کو سزائے موت سنا دے، ہزاروں کو لاپتہ کردے تو مہذب دنیا کو انسانی حقوق اور جمہوریت یاد نہیں رہتی بلکہ الٹا اس فوجی حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے امداد بھی دی جاتی ہے۔ اگر بنگلہ دیش کی حکومت نصف صدی قبل کے حادثے کو جواز بنا کر من گھڑت الزامات کے تحت معمر شہریوں کو پھانسیاں دیتی ہے تو بھی عالمی برادری کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اب ذرا تصور کریں اگر بغاوت کامیاب ہوجاتی تو ترک فوج اردگان اور اس کے حامیوں کا کیا حشر کرتی۔ میں تو یہ سوچ کر ہی کانپ اٹھتا ہوں۔ اور ہاں چلتے چلتے یہ تو بتائیں اگر موجودہ باغی کامیاب ہوکر کنعان ایورن کا راستہ اختیار کرلیتے تو ’’سوکالڈ‘‘ عالمی برادری کہاں کھڑی ہوتی؟ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

نورالہدیٰ شاہین

کشمیری بھائیوں معاف کرنا ہم انڈین میڈیا کے نشے میں دھت ہیں

انصار عباسی

پاکستان میں تین برسوں میں 280 ارب کے قرضے معاف

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ یہ بات وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے گئے دستاویزات میں کہی گئی ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے بینکوں سے قرضے معاف کرائے ہیں۔

 

تحریری جواب کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے کے قرضے معاف ہوئے۔ وزیر خزانہ نے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس وقت دو قوانین موجود ہیں جن کے تحت مالیاتی ادارے قرضے کی جلد وصولی کے لیے بینکنگ کورٹس میں مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ قرضے کی جلد وصولی کے لیے سٹیٹ بینک نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ان قوانین میں ترمیم تجویز کی ہے۔ یہ ترامیم قومی اسمبلی نے منظور کر لی ہیں جبکہ اب یہ ترامیم سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ ان کمپنیوں کی فہرست ہے جنھوں نے گذشتہ 30 سالوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ تحریری جواب میں وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں 400 سے زیادہ کمپنیوں نے اپنے قرضے معاف کرائے ہیں۔

لیکن گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے سے زیادہ کے قرضے معاف کیے گئے اور ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015 میں معاف کیے گئے۔ تحریری جواب کے مطابق 2013 میں چھ ارب روپے، 2014 میں 4.4 ارب اور 2015 میں 270 ارب روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں نے بینکوں سے لیےگئے قرضے معاف کرائے۔ جن بینکوں کے قرضے معاف کرائے گئے ان میں نیشنل بینک آف پاکستان نے 129 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے، حبیب بینک لمیٹڈ نے 239 اور یونائیٹڈ بینک نے 179 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے۔

رضا ہمدانی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

فیس بک کا ’اسلام و فوبیا‘ : کشمیر میں بھارتی مظالم کو سینسر کرنے پر فیس بک پر شدید تنقید

گزشتہ دنوں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد سے فیس بک نے برہان وانی سے متعلق درجنوں پوسٹوں اور اکاﺅنٹس کو ڈیلیٹ کردیا ہے۔ یہ انکشاف برطانوی روزنامے گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صحافیوں، مقامی اخبارات کے پیجز اور دیگر افراد کی جانب سے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی سے متعلق نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز پوسٹس بلکہ اکاﺅنٹس تک کو فیس بک کی جانب سے ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔

برہانی وانی کو ہندوستانی فوج نے 8 جولائی کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد سے ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک درجنوں کشمیری شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ وادی میں کرفیو نافذ ہے۔ ہندوستانی حکومت کی جانب سے موبائل فون کوریج، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز کو بھی معطل کردیا گیا تھا، جبکہ اخبارات کی اشاعت پر تین روز کے لیے پابندی عائد کی گئی جسے منگل کو اٹھا لیا گیا تاہم ایڈیٹرز نے حکومت کی جانب سے معذرت تک اخبارات کو شائع کرنے سے انکار کردیا ہے۔

کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ فیس بک کی جانب سے اس حوالے سے سنسر شپ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ گارڈین سے بات کرتے ہوئے کشمیری بلاگر زرگر یاسر نے کہا ’یہاں اب کوئی اخبار نہیں اور صرف 2 نیوز چینلز ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان کا فیس بک اکاﺅنٹ ایک ہفتے سے بلاک ہے جبکہ کچھ پوسٹوں کو ہٹا دیا گیا ہے اور یہ سب اس وقت ہوا جب انہوں نے برہانی وانی سے متعلق ایک بلاگ کا لنک پوسٹ کیا۔ انہوں نے مزید بتایا ’جب کوئی خبر نہ ہو تو عام طور پر ہم اطلاعات کے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں، اس طرح ہم کم از کم ایک دوسرے سے بات تو کرپاتے ہیں، اپنے دوستوں اور رشتے داروں کی خیریت معلوم ہوجاتی ہے، مگر فیس بک نے میرا اکاﺅنٹ بلاک کردیا ہے، اب میں کیا کروں؟‘

ایک مقامی صحافی مبشر بخاری کے مطابق ’جب میں گزشتہ روز دفتر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ فیس بک نے ایک ویڈیو ہٹا دی ہے جو ہم نے پوسٹ کی تھی، اس ویڈیو میں حریت رہنماءسید علی گیلانی کو برہانی وانی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اس سے قبل ہمارے فیس بک پیج پر کبھی کچھ ڈیلیٹ نہیں کیا گیا تھا۔‘ سوشل میڈیا کمپنیاں جیسے فیس بک پر حکومتوں کی جانب سے مخالف رائے کو محدود کرنے کا دباﺅ ہوتا ہے، تاہم جب وہ حد سے باہر نکل جاتی ہیں تو انہیں تنقید کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

ایک کشمیری رضوان ساجد کا اکاﺅنٹ اس لیے بلاک کردیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنی پروفائل فوٹو پر برہان وانی کی تصویر لگائی ’آخر صرف مسلمانوں کو ہی کیوں بلاک کیا جاتا ہے؟ فیس بک یکطرفہ طور پر ہندوستانی فوج کے مظالم کو سپورٹ کررہی ہے، دیگر افراد جو دل چاہے کہہ سکتے ہیں مگر جب مسلمان کچھ کہیں تو ہمیں بلاک کردیا جاتا ہے، یہ غیرجانبدارانہ اقدام نہیں۔‘ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی کشمیری ماہر تعلیم ہما ڈار کی فیس بک پروفائل کو بغیر کسی وارننگ کے ڈیلیٹ کردیا گیا جس کی وجہ برہان وانی کے نماز جنازہ کی تصاویر پوسٹ کرنا تھا۔

ان کا گارڈین سے بات کرنے ہوئے کہنا تھا ’جس دن برہانی وانی کو ہلاک کیا گیا، مجھے ہندوستان سے دوستوں کے پیغامات ملے تھے کہ ان کی تصاویر کو ڈیلیٹ کیا گیا، میرا خیال تھا کہ ایسا ہندوستانی حکومت کی جانب سے کیا جارہا ہے، میں فیس بک کے امریکا میں ہیڈ کوارٹرز سے صرف ڈیڑھ میل دور رہتی ہوں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔‘جب ہما ڈار نے فیس بک کو اپنے اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کرنے کے بارے میں بتایا تو جواب میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی پوسٹس ’کمیونٹی کے معیار کی خلاف ورزی‘ کررہی تھیں۔

ای میل میں کسی پوسٹ کے بارے میں واضح نہیں کیا گیا جو اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کرنے کا باعث بنی تاہم اس میں بتایا گیا ’ہماری ترجیحات میں سے ایک فیس بک استعمال کرنے والے افراد کے تحفظ اور سکون کا خیال رکھنا ہے اور ہم دیگر افراد کے لیے نقصان کا باعث بننے والے، پرتشدد تنظیموں کی حمایت یا بہت زیادہ پرتشدد مواد فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘برہانی وانی کی موت کے بارے میں پوسٹ کرنے پر ویسٹ منسٹر یونیورسٹی میں پڑھانے والے Dibyesh Anand کی پوسٹوں کو بھی ڈیلیٹ کیا گیا جبکہ دو بار چوبیس گھنٹے کے لیے فیس بک استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ’مجھے فیس بک کی جانب سے دو معذرت کے پیغامات ملے جن میں کہا گیا تھا کہ پوسٹس کو غلطی سے ڈیلیٹ کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ واضح طور پر سنسرشپ کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے لوگ کچھ بھی پوسٹ کرنے سے قبل دو بار سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے۔‘فیس بک کا اس حوالے سے ایک پیغام میں کہنا تھا ’فیس بک پر دہشت گردوں، دہشت گرد تنظیموں یا دہشت گردی کی تعریف یا حمایت پر مبنی مواد کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہم ان موضوعات پر مباحثے کو خیرمقدم کہتے ہیں تاہم ایسا پرتشدد سرگرمیوں اور تنظیموں کی مذمت کے تناظر میں ہونا چاہئے، جہاں تک حزب المجاہدین اور برہان وانی کی ستائش سے متعلق مواد اور پروفائلز کو ڈیلیٹ کرنے کی بات ہے تو ایسا ہمیں رپورٹ ہونے کے بعد کیا گیا، اس حوالے سے کچھ مواد غلطی سے بھی ڈیلیٹ ہوگیا جس بعد میں بحال کردیا گیا۔‘خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے معروف فنکار حمزہ علی عباسی کی برہانی وانی سے متعلق پوسٹ کو فیس بک نے ڈیلیٹ کردیا تھا۔