پاکستان کو ورلڈکپ میں رہنا ہے تو تین میچ جیتنا ہونگے……

پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا رہا۔یہ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ٹاس جیتا مگر مصباح اینڈ کمپنی نے اس قدرتی انعام کو ٹھکراتے ہوئے ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی۔ ویسٹ انڈیز 310 رنز کا ایک بڑا سکور بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

 اتنے بڑے سکور بنوانے میں مصباح کی کمزور کپتانی کا بڑا عمل دخل رہا کیونکہ ایک بیٹنگ وکٹ پر ویسٹ انڈیز کو پہلے کھیلنے کی دعوت دیا ور جب پاکستان نے جلد دو وکٹ حاصل کر لیں تو مصباح نے بغیر وجہ کے اپنے سپنروں کو باؤلنگ دیدی جس سے پریشر ویسٹ انڈیز سے اُتر گیا اور خوب مار پڑی اور سونے پر سہاگہ پاکستان نے پھر ایک کمزور ٹیم میدان میں اُتاری اور پاکستان پھر 4 ریگولر باؤلروں سے کھیلا، ایک باؤلر کم کھلایا گیا۔

 یونس خان اور ناصر جمشید کو کھلا کر بیٹنگ نمبر آٹھ تک کر دی گئی مگر وہ کام نہ آ سکی۔ بقول عمران خان ہر میچ پانچ ریگولر باؤلروں سے کھیلنا چاہئے۔ آدھا باؤلر، آدھا بیٹسمین اتنی بڑی کرکٹ میں نہیں چلتا۔ یونس خان کو پھر کھلاڑیا گیا جس نے ابھی تک 8 میچ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں کھیلے ہیں اور کل 73 رنز بنائے ہیں۔ یونس خان ون ڈے کرکٹ کا کھلاڑی نہیں رہا اسے بار بار چانس دے کر پاکستانی ٹیم کا بیڑہ غرق کیا جا رہا ہے۔ 

ورلڈکپ کے پہلے میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی ایک سکور پر تین کریم وکٹ احمد شہزاد، عمر اکمل اور صہیب مقصود کی گریں جبکہ آج ویسٹ انڈیز کیخلاف ایک سکور پر احمد شہزسد، عمر اکمل، یونس خان اور ناصر جمشید یہ 4 کریم وکٹ گریں۔ ایسی صورت میں جیت تو دُور کی بات عزت کی شکست بھی ناممکن تھی۔

 پاکستان کرکٹ ٹیم نے پوری قوم کو بہت مایوس کیا ہے۔ اگر پاکستان کو ابھی بھی ورلڈکپ میں آنا ہے تو بقیہ 4 میچوں میں سے ہر صورت تین میچ جیتنے ہونگے تبھی پاکستان ورلڈکپ کی ریس میں رہ سکتا ہے اور یہ 4 میچ آئرلینڈ، زمبابوے، یو اے ای اور ساؤتھ افریقہ کیخلاف کھیلنے باقی ہیں جن میں آئرلینڈ، زمبابوے اور یو اے ای سے جیتا جا سکتا ہے اور پاکستان کو اگلے میچ میں 2 تبدیلیاں کرنا ہونگی۔ یونس خان اور ناصر جمشید کو نکال کر سرفراز احمد اور راحت علی کو ٹیم میں ڈالنا ہو گا۔

محمد صدیق

شکست درشکست،اب کیا ہوگا؟….

روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں پہلے ہی مقابلے میں شکست نے پاکستان کے کھلاڑیوں کی نفسیات پر کتنا گہرا اثر مرتب کیا، اس کا اندازہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ سے ہوگیا ہے۔ ایک ایسے میچ میں کہ جہاں پاکستان کو جیت کی سخت ضرورت تھی، اتنی ہی بدترین کارکردگی دکھائی گئی اور ٹیم عالمی کپ تاریخ کی بدترین شکست سے دوچار ہوئی۔
مسائل وہی جانے پہچانے اور پرانے، گیند باز وکٹیں لینے کے اہل نہیں، فیلڈر کیچ پکڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور بلے باز رنز کرنے کا گْر نہیں جانتے۔ اس کے مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے بہترین کھیل پیش کیا، جس کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔ بدقسمتی سے ہم پاکستان کی شکست میں حریف کی کارکردگی کو سراہنا بھول جاتے ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے ان تمام غلطیوں کا ازالہ کیا، جو اس سے آئرلینڈ کے خلاف مقابلے میں ہوئی تھیں۔ مجموعے کو ایک بار پھر 300 سے اوپر لے کر انھوں نے اپنی بیٹنگ اہلیت تو ثابت کی ہی لیکن کل باؤلنگ میں انھوں نے پاکستان کی کمزوری کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اپنے امکانات دوبارہ زندہ کردیے۔
سب سے پہلے تو پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ ’’آج‘‘ کا کھیل ہے، آپ نے ’’کل‘‘ جو کر دکھایا تھا، اس کی سوائے ریکارڈ بک کے کوئی جگہ نہیں۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست کو بھی قصہ پارینہ سمجھیں اور 23 سال پہلے 1992ء کے عالمی کپ میں ابتدائی شکستوں کے پاکستان کے سنبھلنے کی خوش فہمیوں سے بھی دامن چھڑائیں۔ اب حالات تبدیل، ورلڈ کپ فارمیٹ بدلا ہوا اور 1992ء کے مقابلے میں کرکٹ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے 60ء کی دہائی میں ہاکی پر پاکستان اور بھارت کا راج تھا، لیکن آج ان دونوں کا دور دور تک پتہ نہیں۔ اسی طرح کرکٹ بھی کافی حد تک بدل چکی ہے اور پاکستان کو جدید طور کے تقاضوں کے مطابق کھیلنا ہوگا۔
پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ورلڈ کپ ابھی ابتدائی مرحلے میں موجود ہے اس لیے فی الحال تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کون کوارٹر فائنل مرحلے تک رسائی حاصل کرے گا لیکن آئرلینڈ کی اپ سیٹ فتح اور اب پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست نے ’’گروپ آف ڈیتھ‘‘ یعنی پول ’بی‘ مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جنوبی افریقہ جس کارکردگی کا مظاہرہ کرتا آ رہا ہے، اس سے لگتا تو یہی ہے کہ وہ گروپ میں سرفہرست مقام حاصل کرے گا اور اتوار کو بھارت کے خلاف اس کا مقابلہ ممکنہ طور پر گروپ کی سرفہرست پوزیشن کا اعلان کرے گا۔ دونوں ٹیموں نے عالمی کپ میں آغاز بہترین انداز میں کیا ہے اور آیندہ مقابلوں میں بھی کوئی ان کو شکست دیتا نہیں نظر آتا یعنی دونوں کی کوارٹر فائنل نشست اس وقت تو یقینی دکھائی دیتی ہے، الا یہ کہ کچھ بہت بڑے اپ سیٹس ہوجائیں۔
اب گروپ میں صرف دو مقام بچیں گے کہ یعنی باقی 5 میں سے صرف دو ٹیمیں ہی کوارٹر فائنل میں پہنچیں گی۔ عالمی درجہ بندی دیکھیں تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کو پہنچنا چاہیے لیکن آئرلینڈ اور زمبابوے نے اپنے کھیل سے بہت متاثر کیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف آئرلینڈ کی جیت نے گروپ کے توازن کو بگاڑ دیا ہے اور اب اگر آئرلینڈ نے ایک اور اپ سیٹ کردیا تو پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمبابوے اور آئرلینڈ کے مقابلے کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اس وقت آئرلینڈ اور زمبابوے دونوں کے دو، دو پوائنٹس ہیں اور وہ آیندہ مقابلوں میں دو فتوحات حاصل کرکے اپنے امکانات روشن کرسکتے ہیں۔
 آئرلینڈ آیندہ مقابلوں میں متحدہ عرب امارات کو شکست دے سکتا ہے۔ البتہ پاکستان اور زمبابوے کے خلاف اس کے مقابلے بہت اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں جیتنے کی صورت میں اس کے پوائنٹس کی تعداد بھی 6 ہوسکتی ہے۔ زمبابوے نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے مقابلے میں جم کر کھیل پیش کیا، پھر متحدہ عرب امارات کو سخت مقابلے میں شکست دی اور اب دو پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر موجود ہے۔ بھارت، آئرلینڈ، ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے خلاف اس کے مقابلے ابھی باقی ہیں جن میں سے دو بھی جیت گیا تو گروپ پھنس جائے گا۔
متحدہ عرب امارات سے فی الحال کوئی توقع نہیں ہے کہ وہ کوئی اپ سیٹ کرے گا، لیکن کرکٹ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے اگر پاکستان، آئرلینڈ یا ویسٹ انڈیز کسی بھی ٹیم کو عرب امارات سے شکست ہوئی تو سمجھیں اس کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔
پاکستان کو یہ صورتحال درپیش ہے کہ اگر وہ باآسانی اگلے مرحلے تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے اپنے چاروں میچز جیتنے پڑیں گے، یعنی جنوبی افریقہ کو بھی ہرانا ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا تو اسے متحدہ عرب امارات، زمبابوے اور آئرلینڈ کو شکست دینے کے ساتھ دیگر نتائج کا انتظار بھی کرنا پڑے گا یعنی وہی 1992ء والی صورتحال۔
تو دل تھام کر رکھیں، پاکستان ابھی ورلڈ کپ سے باہر نہیں ہوا، حوصلے ضرور ٹوٹے ہیں، ڈریسنگ روم کا ماحول بھی بہت اداس ہوگا اور امیدیں بھی بہت کم دکھائی دے رہی ہیں۔ لیکن ابھی اپنے غصے کی لگامیں تھامیں رکھیں، پاکستان کے اب بھی آگے
فہد کیہر

Battle for Aleppo

Aleppo is the largest city in Syria and serves as the capital of Aleppo Governorate, the most populous Syrian governorate. With an official population of 2,132,100 (2004 census), it is also one of the largest cities in the Levant. For centuries, Aleppo was the Syrian region’s largest city and the Ottoman Empire’s third-largest, after Constantinople and Cairo.
Aleppo is one of the oldest continuously inhabited cities in the world; it has been inhabited since perhaps as early as the 6th millennium BC. Excavations at Tell as-Sawda and Tell al-Ansari, just south of the old city of Aleppo, show that the area was occupied since at least the latter part of the 3rd millennium BC; and this is also when Aleppo is first mentioned in cuneiform tablets unearthed in Ebla and Mesopotamia, in which it is noted for its commercial and military proficiency.[12]Such a long history is probably due to its being a strategic trading point midway between the Mediterranean Sea and Mesopotamia (i.e. modern Iraq).
The city’s significance in history has been its location at the end of the Silk Road, which passed through central Asia and Mesopotamia. When the Suez Canal was inaugurated in 1869, trade was diverted to sea and Aleppo began its slow decline. At the fall of the Ottoman Empire after World War I, Aleppo ceded its northern hinterland to modern Turkey, as well as the important railway connecting it to Mosul. Then in the 1940s it lost its main access to the sea, Antioch and Alexandretta, also to Turkey. Finally, the isolation of Syria in the past few decades further exacerbated the situation, although perhaps it is this very decline that has helped to preserve the old city of Aleppo, its medieval architecture and traditional heritage. It won the title of the “Islamic Capital of Culture 2006″, and has also witnessed a wave of successful restorations of its historic landmarks, until the start of the Syrian Civil War in 2011 and the Battle of Aleppo.

Chinese New Year – Year of the Sheep

The Chinese word yáng refers both to goats and sheep, with shānyáng specifically goats and miányáng sheep. In English, the sign (originally based on a horned animal) may be called either. The interpretation of sheep or goat depends on culture. In Vietnamese, the sign is mui, which is unambiguously goat. In Japan, on the other hand, the sign is hitsuji, sheep; while in Korea and Mongolia the sign is also sheep or ram. Within China, there may be a regional distinction with the zodiacal yáng more likely to be thought of as a goat in the south, while tending to be thought of as a sheep in the north.

پاک چین اقتصادی راہداری ۔۔۔خوشحالی کا راستہ….

پاک چین اقتصادی راہداری صرف پاکستا ن ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے خوشحالی کا پیش خیمہ ہے۔عالمی ماہرین اقتصادیا ت کے اندازے کے مطابق اس منصوبے سے چین ، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا ء کے تقریباََ تین ارب افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کی بدولت مخصوص تجارتی رہداریوں کی تعمیر سے بر اعظم ایشیا ء کی تقریباََ نصف آباد ی اس منصوبے کے مثبت اثرات سے فیض یاب ہوگی۔اس حوالے سے دیکھا جائے تو اکنامک کوریڈور کا معاہدہ پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون کی تاریخ کا سب سے زیادہ اہم معاہدہ ہے۔
تیز تر نتائج کے حامل منصوبوں کی تکمیل موجودہ حکومت کی اولیں ترجیح ہے اور اس ضمن میں اکنامک کوریڈور سر فہرست ہے۔ لہٰذاہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کی منزل اب زیادہ دور نہیں ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا ترقیاتی پروگرام ہے جس کے تحت جنوبی پاکستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنوں کے ذریعے چین کے جنو ب مغربی علاقے شن جیانگ سے مربوط کیا جا رہاہے۔پائپ لائنوں کے زریعے تیل اور گیس دونوں ملکوں کے درمیان منتقل کئے جایا کریں گے۔چین اور پاکستان کی اعلیٰ قیادتیں اس منصوبے کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لے رہی ہیں۔اس لئے اس منصوبہ پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔
اس منصوبے کی تکمیل کے بعد چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے مابین ہونے والی تجارت پاکستان کے راستے سے ہونے لگے گی اور اکنامک کوریڈور ان ممالک کی تجارت کیلئے مرکزی دروازے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ بالخصوص مڈل ایسٹ سے برآمد ہونے والا تیل گوادر کی بندر گاہ پر اترنے لگے گا کیونکہ گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دھانے پر واقع ہے۔ جبکہ اس تیل کی ترسیل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے سے چین کو ممکن ہوسکے گی ۔ اس طرح مڈل ایسٹ سے چین کوروانہ کیئے جانے والے تیل کی مسافت میں 12000کلو میٹر کی کمی واقع ہو جائے گی۔
سیاسی حلقوں کو چاہیے کہ وہ حکومت دشمنی کے چکر میں اکنامک کوریڈور کے منصوبے پر بے جا تنقید نہ کریں ۔ کیونکہ یہ منصوبہ کسی سیاسی پارٹی کا نہیں ہمارے وطن عزیز پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اور مستقبل میں ہر پارٹی اور ہر حکومت کو اس کے ہمہ جہتی ثمرات سے قوم کو خوشحال بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ امر خوش آئیند ہے کہ اس برس وفاقی حکومت نے اکنامک کوریڈور کے آغاز کیلئے اس سے وابستہ130؍ ارب روپے لاگت کی چھ ترقیاتی سکیموں کا اعلان کیا ہے۔تاکہ پاکستان جلد از جلد دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی مرکزی راہداری بن سکے۔ ریکارڈ پر ہے خلیج کے ممالک کا ساٹھ فیصدی تیل چین کو برآمد کیا جاتا ہے جو اس وقت 16000کلو میٹر کا طویل راستہ طے کرکے چینی بندرگاہوں تک پہچتا ہے۔ جبکہ اکنامک کوریڈور کی بدولت یہ فاصلہ کم ہوکر صرف 2500 کلو میٹر رہ جائے گا۔اور یہ راستہ نہ صرف مختصر بلکہ محفوظ اور آسان بھی ہوگا۔ اس طرح پاکستان کو وسائل روزگار کے حصول کے علاوہ عالمی راہداری کے طور پر خطیر زرمبادلہ کمانے کا مستقل موقع بھی میسر آجائے گا۔
عالمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اکنامک کوریڈور منصوبے سے ایشیامیں علاقائی تجارت و سرمایہ کاری کے بند دروازے کھل جائیں گے اور ایک ایسا ’’یورو ایشین اکنامک روڈ میپ‘‘ تشکیل پائے گا جس سے سلک روڈ کے اطراف میں واقع تمام ممالک کو معاشی ثمرات حاصل ہونگے اور یوں دنیا کی سب سے بڑی منڈی وجود میںآئے گی جو علاقائی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔حال ہی میں چین نے اپنے صوبہ شن جیانگ کی سرحد کو پاکستان سے منسلک کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے کی ابتدائی تحقق مکمل کی ہے۔چینی حکام کے مطابق یہ ریلوے لائن جو کہ پمیر، پلیچو اور قراقرم کے پہاڑوں میں سے گزرے گی اس کا شمار دنیا کی مشکل ترین تعمیرات میں ہوگا۔
پاکستان اپنی سرحدوں کو کاشغر کی مصنوعات کیلئے مختصر ترین رسائی اور عبوری راہداری کے طور پر پیش کرچاہتا ہے۔اس ضمن میں کراچی اور پورٹ قاسم کی بندرگاہ کے علاوہ چین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی گوادر پورٹ ایک اضافی دروازہ ہوگی۔یہ امر مزید خوش آئیند ہے کہ چین ، اپنے مغربی علاقے میں ’’کاشغر سپیشل اکنامک زون ‘‘ تشکیل دے رہا ہے جو چین کو مغربی جانب سے وسطی ایشیاکے ساتھ اور جنوب میں جنوبی ایشیا کے ساتھ بھی جوڑ دے گا۔
چین نے گوادر میں متعدد میگا پراجیکٹس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے جو دونوں ممالک کیلئے بے انتہا فائدہ مندثابت ہونگے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے اکنامک کوریڈور کے اطراف میں شنگھائی فری ٹریڈ زون کی طرز پر ایک فری زون تشکیل کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔چین ، گوادر کو پاکستان، ایران، وسطی ایشیا کی ریاستوں اور خود چین کیلئے ایک مرکزی بندرگاہ بنانے کا خواہا ں ہے ۔ 
یہی وجہ ہے کہ چین
نے گوادر کی جلد آباد کاری کیلئے سال 2017 تک مختلف پراجیکٹس کیلئے پچاس ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ان پراجیکٹس میں کوئلے،سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے بھی شامل ہیں۔پاکستان کو گوادر پورٹ کے عمل میںآنے سے کثیر وسائل روزگار کے علاوہ اربوں ڈالر کی آمد ن حاصل ہوگی۔
چین ، گوادر میں شنگھائی فری ٹریڈ زون کے ماڈل کو دہرانا چاہ رہا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اپنی اقتصادی اور سماجی اصلاحات کو آزمانے کیلئے ابتدا میں چین کے اندر بھی سب سے پہلے شنگھائی فری ٹریڈ زون کا تجربہ کیا جو کہ چین کی اقتصادی ترقی کیلئے بے حد کامیاب ثابت ہوا۔شنگھائی فری ٹریڈ زون میں مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں کیلئے متعدد رعائتیں اور سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔بیرونی سرمایہ کاروں کووہاں تین ماہ کے اندر پندرہ فیصدی سرمایہ لگانے کی شرط سے مستثنےٰ قرار دیا گیا۔
 نیز انہیں اجازت دی گئی کہ بے شک و ہ پہلے دو برسوں کے دوران پورا سرمایہ انویسٹ نہ کریں۔گوادر کے فری ٹریڈ زون میں بھی بیرونی سرمایہ کاروں کوایسی ہی رعائیتیں فراہم کی جائیں گی، جس سے گوادر بیرونی سرمایہ کار ی کا گڑھ بن جائے گا۔توقع ہے کہ سپیشل اکنامک زوون، فری ٹریڈ زون اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی تشکیل کے بعد گوادر میں پاکستان کی ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت کیلئے لاتعداد وسائل روزگار پیدا ہونگے جس سے یہاں عوام کے طرز زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔سرمایہ کاری کے چینی منصوبوں کے مطابق گوادر کی ترقیاتی سرگرمیوں38 فیصدی حصہ بلوچستان کا ہے ۔
 چینی سرمایہ کاروں نے گوادر فری زون کے آس پاس انڈسٹریل پارکس تعمیر کرنے کی غر ض سے اراضی کے حصول کی کوششیں شرو ع کردی ہیں۔انڈسٹریل پارکس کا قیام ، بلوچستا ن میں پائے جانے والے تیل ، گیس، تانبے، جیم سٹون، ماربل اور سونے جیسے قدرتی وسائل کی تلا ش اور انکے صنعتی استعمال میں بے حد ممد ومعاون ہوگا۔ایک منصوبے تحت اس ضمن میں مقامی لوگوں کو پیشہ وارانہ تربیت اور ارزاں قرضے بھی فراہم کئے جائیں گے تاکہ صوبے میں چھوٹے کاروباروں کا ایک ایسا جال بچھ سکے جو بڑی صنعتوں کیلئے وینڈر انڈسٹری کا کردار انجا م دے سکے۔
پاکستان اور چین نے گوادر میں ایک انٹرنیشنل ائر پورٹ کی تعمیر کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے ۔ علاوہ ازیں اسلام آباد سے منسلک قراقرم ہائی وے کے 1300 کلو میٹر پر محیط ایک حصے کو اپ گریڈ کرنے کا بھی معاہدہ ہو چکا ہے۔نیز چینی سرحد سے لیکر پاکستان کے شہر راولپنڈی تک ایک فائبر آپٹک کیبل بچھانے کے منصوبے پر دستخط ہوچکے ہیں۔
پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں تعاون کے علاوہ چین ، پاکستان کو سماجی مفاد کی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شعبہ میں بھی بھرپور معاونت فراہم کر رہاہے۔گزشتہ برس وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں چینی تعاون سے شروع ہونے والے گیارہ گیارہ سو (1100) میگا واٹ کے دو نیوکلیئر پاور پراجیکٹس کا افتتاح کیا۔جبکہ اس سے قبل چین نے چشمہ کے مقام پر چار سول نیوکلیئر پاورپلانٹس کی تنصیب میں بھی مدد کی تھی۔ان چار پلانٹس میں سے دو زیر تعمیر ہیں۔حکومت چین نے پاکستان کو فراہم کردہ یہ معاونت امریکی تشویش کے باوجود جاری رکھی۔
چین نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے عالمی تناظر میں رونما ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے باوجود چین پاکستان کے سا تھ روائتی دوستی کو قائم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاہدوں پر پورا اترے گا ۔ اسی طرح پاکستان بھی چین کے ساتھ دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔لیکن بدلتے ہوئے جغرافیائی اور دفاعی ماحول میں دونوں ملکوں کو متعدد علاقائی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے۔لہٰذاہ، وقت کا تقاضہ ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت پاک چین دوستی کی تاریخی روایات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں ۔ اس سلسلے میں چینی وزیر اعظم کا یہ پیغام حوصلہ افزا ء ہے کہ چینی قوم پاکستان کے ساتھ دائمی دوستی کی خواہش رکھتی ہے۔
وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے چین کیلئے کئے جانے والے بکثر ت دورے پاکستان کی ایسی ہی خواہش کا عملی اظہار ہیں۔حکومت کے سیاسی مخالفین کو چاہیے کہ وہ ملک میں سیاسی ہیجان کی فضا کو ختم کر کے حکومت کو باقی مدت اقتدار پوری کرنے دیں۔اور صرف یہ دیکھیں کہ حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے اہداف پورے کرتی ہے یا نہیں۔ اگر حکومت یہ اہداف پورے نہیں کرتی تو پھر عمران خان سمیت تمام حکومت مخالف پارٹیوں کو آئیندہ انتخابات میں اقتدار کا پانسہ اپنی طرف موڑنے کا راستہ مکمل طور پر صاف ملے گا۔

شاہ فیصل آفریدی

الخدمت فاؤنڈیشن : خدمت خلق کی ایک نمایاں تنظیم….

آئیے! آج آپ کا تعارف انسانی بہود کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی ایک ایسی این جی او سے کرائیں جو الخدمت فاؤنڈیشن کے نام سے 1990 ء سے بطورِ رجسٹرڈ N.G.O کام کر رہی ہے اور آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ، صحت، تعلیم، کفالتِ یتامیٰ، صاف پانی، روزگار پروگرام اور دیگر سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ خدمات کی اس قوسِ قزح سے ملک بھر میں ہر سال لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کو پاکستان میں خدمت خلق کی ایک نمایاں تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔خدمتِ انسانی کے مقدس مشن میں مصروفِ عمل الخدمت فاؤنڈیشن اپنی ایک قابل فخر تاریخ رکھتی ہے۔
 ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ملک بھر میں پھیلے ہزاروں بے لوث رضا کار ہیں جو صرف رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں آپ جیسے دردِ دل رکھنے والوں کا تعاون بھی حاصل ہے ۔ جو اپنے بہن بھائیوں کی تکالیف کو محسوس کرتے ہوئے کسی بھی نا گہانی آفت یا ضرورت کے وقت امدادی سامان اور رقوم ارسال کرتے ہیں۔
آیئے الخدمت فاؤنڈیشن کی بیش بہا خدمات پر ایک نظرڈالیں
آفات سے بچاؤ کے دوران کارکردگی:تجربے ، تکنیکی مہارت اور موثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں قائم کئے گئے شعبہ \’\’ آفات سے بچاؤ\’\’ کے فوائد گذشتہ برسوں آنے والے سیلاب، زلزلوں اور دہشت گردی و بدامنی کے واقعات میں فوری امداد کی صورت میں نظر آئے۔ضلعی سطح پر مقامی رضا کاروں نے نہ صرف بروقت ریسکیو اور ریلیف فراہم کر کے کئی انسانوں کی جانیں بچائیں بلکہ تعمیرِ نو کے منصوبوں کے ذریعے ہزاروں افراد کو سائبان بھی فراہم کیا۔
26,800 گھروں کی تعمیر‘1250 مساجد کی تعمیرِ نو‘175 سکولوں کی تعمیرِ نو‘30 بلاک فیکٹری‘6 ہنگامی امداد کے مراکز کا قیام‘600 رضاکاروں کی تربیت ، سالانہ۔
تعلیمی شعبہ میں خدمات:قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاؤ آنا کوئی انہونی بات نہیں البتہ جو قومیں تعلیم کی زیور سے آراستہ ہوتی ہیں وہی ترقی کے نئے اہداف سر کرتی ہیں۔الخدمت کے شعبہ تعلیم کے تحت تعلیمی وظائف کے ساتھ ساتھ غریب و نادارطلبہ میں اسٹیشنری ، اسکول بیگ اور یونیفارم کی تقسیم کی جا رہی ہے۔ جبکہ الخدمت ہاسٹلز اور تعمیرِ ملت اسکولز حصولِ علم میں آسانیاں پیدا کرتے ہوئے معاشرے میں نئی تعلیمی روایات پیدا کر رہے ہیں۔
1078 الفلاح اسکالرز شپس سالانہ‘63 سکول ‘1 چترال یوتھ ہاسٹل‘15,300 تعلیمی معاونت سالانہ
صحت:ماں اور بچے کی صحت سے متعلق پاکستان میں اکٹھے کیے گئے اعدادو شمار سنگین لا پروائی کی منظر کشی کرتے ہیں۔ الخدمت نے اس ضمن میں پاکستان کے مستقبل کی ضامن ماؤں اور بچیوں کے لئے زچہ و بچہ (MCHC) کی بہتر سہولیات مہیا کی ہیں اور ساتھ ساتھ کم قیمت اور اعلیٰ تشخیص کو ممکن بنانے کے لئے پاکستان بھر میں ڈائیگناسٹک سینٹر ز اور الخدمت بلڈبینک کا جال بھی بچھایا جا رہا ہے جبکہ ہسپتال اور ایمبولینس کی سہولیات کو بھی مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔
 ڈائیگنوسٹک سینٹر‘246 گاڑیوں پر مشتمل ایمرجنسی ایمبولینس سروس‘ الخدمت بلڈ بینک ‘171 ہسپتال اور مراکزصحت‘14 زچہ بچہ مرکزِ صحت‘69 لاکھ سالانہ مستفید افراد
صاف پانی:صاف پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق گردانا جاتا ہے مگر وطن عزیز میں ایسے علاقوں کی کمی نہیں جہاں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ الخدمت ملک بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے عملاً کوشاں ہے۔ بارانی علاقوں میں بورنگ کے ذریعے ہینڈ پمپس کی تنصیب ، دور دراز علاقوں میں کنوؤں کی کھدائی، شہری علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور واٹر اسکیم کے ذریعے پورے گاؤں میں پانی کی فراہمی الخدمت کے پروگرام کا حصہ ہیں۔
 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب‘976 کنوؤں کی کھدائی‘2784 ہینڈ پمپس کی تنصیب‘90 لاکھ مستفید افراد سالانہ
روزگار پروگرام :معاشی مسائل کے پیشِ نظر الخدمت فاؤنڈیشن معاشرے کے پریشان حال اور غریب سے تنگ افراد کے لئے روزگار پروگرام چلا رہی ہے۔ جس کے تحت محنت کشوں کو سود سے پاک اور اسلامی طریقہ کار کے مطابق قرض دیا جاتا ہے تاکہ وہ اس خراب معاشی ماحول میں اپنے لئے بہتر ذریعہ معاش کو یقینی بنا سکیں۔
تقسیم شدہ رقم 5 کروڑ 70 لاکھ‘2,110 مستفید افراد
:ٰکفالتِ یتامیٰ: رفاقتِ رسول ﷺ کی تمنا و آرزو لئے الخدمت کفالتِ یتامیٰ پروگرام والدین سے محروم یتیم بچوں کی اُن کے گھروں پر کفالت جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں آغوش الخدمت (یتیم خانے) کے ادارے بھی قائم کئے جا رہے ہیں جہاں یتامیٰ کے لئے تعلیم، صحت اور خوراک کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں اٹک، مانسہرہ، پشاور، راولپنڈی، راولاکوٹ اور باغ کے مقامات پر آغوش فعال ہیں جبکہ مری، شیخوپورہ، گجرانوالہ اور مٹھی سمیت دیگر شہروں میں منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
سماجی خدمات:الخدمت اپنے اس شعبے کے تحت پاکستان بھر میں بسنے والے کروڑوں غریب و بے سہارا افراد کے لئے زندگی کی رمق ہے۔رمضان المبارک میں راشن ، عید الفطر پر تحائف ، عیدِ قرباں کے موقع پر ضرورت مندوں میں گوشت کی تقسیم، موسم سرما میں لحاف، کمبل اور گرم کپڑوں کی تقسیم یا جیلوں میں قیدیوں کی بہبود کا کام۔ الخدمت ہر روز کروڑوں سانسوں میں اترتی اور چڑھتی ایک زندہ تنظیم ہے۔
 مساجد کی تعمیر ‘26,000 جیلوں میں کام (مستفید افراد سالانہ) ‘1,45,000خاندانوں میں قربانی کے گوشت کی تقسیم (2014) ‘692 وھیل چیئرز کی تقسیم‘31,434 رمضان پیکج کے تحت مستفیدافراد‘17634 ونٹر پیکج کے تحت مستفید افراد
بین الا قوامی خدمات:الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان، سری لنکا، لبنان، بنگلہ دیش ، برما، جاپان، افغانستان اور شام سمیت دیگر ممالک میں امدادی خدمات انجام دے چکی ہے۔ حال ہی میں الخدمت نے بنگلہ دیش کیمپوں میں موجود پناہ گزیں برمی مہاجرین کے لئے راشن، ادویات اور عید الا ضحی کے موقع پر قربانی کا گوشت پہنچانے کا اہتمام کیا۔ جبکہ شامی مہاجرین کے لئے بھی بین الا قوامی رفاہی اداروں کے ذریعہ امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ آپ اپنے ڈونیشن ایزی پیسہ ، ڈرافٹ ،چیک یا A/Cبھی بھجوا سکتے ہیں۔
اکاؤنٹ: Agosh Alkhidmat, Meezan Bank
0801-02000601595

کیا مکہ عالمی معیار کا شہر بن سکتا ہے؟….

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے مکہ معظمہ کو دنیا کا خوبصورت ترین شہر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ”مکہ، مکہ اور بس مکہ ہی میری اعلی ترین ترجیح ہے۔” شہزادہ خالد الفیصل کی طرف سے اس پختہ عزم کے اعلان پر عمل ہو جائے تو یہ ایک بڑا مثبت وعدہ ہے، یقینا نہ صرف مکہ کے حوالے سے اس وعدے پر عمل ہوگا بلکہ اس سے ملحق پوراعلاقہ بھی عالمی سطح کی سہولیات کے ساتھ جدید شہری آبادیوں میں تبدیل ہو جائے گا۔
لیکن اس طرح کے عظیم الشان منصوبے پر پورے عزم کے ساتھ عمل درآمد کے لیے ایک ہمہ گیر ماسٹرپلان کی ضرورت ہو گی۔ اسی طرح طے شدہ ٹائم فریم کے اندر اس منصوبے کی تکمیل بھی انتہائی اہم ہو گی۔ شہزادہ خالد الفیصل ایسی مثال پہلے قائم کر بھی چکے ہیں۔ لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت کے شہزادہ خالد کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔
البتہ اپنے حکومتی تجربے اور ویژن کی بنیاد پر وہ دنیا کے بہترین شہروں میں انتہائی ترقی اور جدیدیت سے خوب آگاہ ہیں۔ اس ناطے وہ میونسپلیٹی کی سطح پر درکار مستعدی اور دیگر متعلقہ خدمات سے بھی خوب باخبر ہیں کہ کس ملک میں اس حوالے سے کیا صورت حال ہے۔ تاہم اس کے باوجود ہم اس وقت تک یہ توقع نہیں باندھ سکتے جب تک حکومتی اداروں اور ٹھیکیداروں کی طرف سے بہترین تعاون اور مستعد عمل درآمد ممکن نہیں بنایا جاتا۔
مکہ کے لیے جدت اور تبدیلی کا عمل
مکہ معظمہ کو دنیا کے جدید ترین اور خوبصورت ترین شہر میں بدلنے کے لیے ہر مرد اور عورت کی مدد چاہیے ہو گی۔ اس مقصد کے لیے لاپرواہی اور نااہلی کی گنجائش نہ ہو گی کیونکہ یہ منصوبہ ایک سہل کام نہیں ہے۔ یہ آسان نہیں ہو گا کہ سالہا سال کی نظر اندازی، بدعنوانی اور لاپرواہی کی مجموعی صورت حال کو تبدیل کیا جا سکے۔ شہزادہ خالد نے اپنے پہلے دور امارت میں مکہ کو جدیدت دینے کا بیڑا اٹھایا تھا اب وہ اسے پایہ تکمیل کو پہنچانے کا موقع پا رہے ہیں۔ عوام اس مقصد کے لیے انہیں حمایت فراہم کرنے کے لیے بےتاب ہے۔ بڑی امید ہے کہ ان کی ٹیم انہیں مایوس نہیں کرے گی۔
سخت محنت اور وقت کا کچھ بھی بدل نہیں ہے۔ ماضی میں خطیر رقم اور بہت ساری محنت ضائع ہو چکی ہے۔ ہم اپنے آپ کواختیارات کے غلط استعمال سے مزید شرمندہ نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ نہ ہی بدانتظامی، کمزور کارگزاری اور غیر معیاری یا درمیانے درجے کے منصوبوں سے شرمندگی سمیٹنا چاہتے ہیں۔
شہزادہ خالد الفیصل نے اپنے ویژن کا خاکہ تیار کر لیا ہے اور اپنے اہداف کو پیشگی اعلان کر دیا ہے۔ 
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری حکام زبانی جمع خرچ سے اس تحرک کو تباہ نہ کریں۔ گڈ گورنینس اور مضبوط انتظامیہ لازما جاری رہنی چاہیے۔ گورنر مکہ کو باصلاحیت رفقاء کی ضرورت ہے۔ ایسے رفقاء کو نئے تصورات پیش کر سکتے ہوں، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل اور مخلص ہوں۔ اس سلسلے میں مکہ کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ بہترین شہری صفات کا مظاہرہ کریں اور مکہ کو دنیا خوب صورت ترین شہر بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

خالد المعینا

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو….وسعت اللہ خان

کرکٹ واحد کھیل ہے جس میں کسی ٹیم کی کامیابی و ناکامی کے پیچھے جو اسباب ڈھونڈے جاتے ہیں، ان میں سلیکشن میں میرٹ یا ڈی میرٹ ، بدنیتی و ایمانداری ، بے دلی و خوش دلی ، باڈی لینگویج ، جوش و خروش کی کمی یا زیادتی ، ایمپائر کی بے ایمانی و ایمانداری ، پچ کی سستی و تیزی ، موسم کی خرابی و جولانی ، گھاس پر نمی کی موجودگی و عدم موجودگی ، گیند کا نیا یا پرانا پن ، ہوم گراؤنڈ کی مدد یا عدم مدد ، قسمت و بدقسمتی ، نیٹ پریکٹس یا نان پریکٹس اور سٹے کا شک وغیرہ شامل ہیں۔بس کوئی دن جاتا ہے کہ کسی بھی میچ کی ہار جیت کے پیچھے یہود و ہنود ، آئی ایس آئی ، را ، سی آئی اے اور موساد کی سازش بھی دریافت ہوا چاہتی ہے۔
ایک اچھے بھارتی یا پاکستانی کی تعریف یہ ہے کہ وہ بیوی کا کوسنا،بچے کا رونا، افسر کی گالی، پولیس کی لاٹھی ، گنوار کی بدتمیزی ، چائنا کا مال ، ہمسائے کا احمق پن ، عرب کی رعونت ، لائن آف کنٹرول پے فائرنگ ، میڈیائی جہالت ، تحقیقی سرقہ ، حصولِ ویزہ کی ذلت ، وکیل کے ہاتھوں لٹائی ، اناڑی ڈاکٹر کی تشخیص، بیسوا کا طعنہ ، کٹھ ملا کی تقریر ، سیاسی دھوکا ، فوجی شکست، امریکی امداد ، بے وزن شاعری ، بری اداکاری، نوٹنکی تھیٹر ، ٹرین کا جھٹکے دار بیت الخلا ، بے سری قوالی ، چربہ فلم، صاف ستھرا ٹی وی ڈرامہ ، پانی والا گوشت ، محبوب کی بے وفائی ، پرہیز گار ماتحت، دو نمبر وعدہ، تنگ جوتا اور پھٹا ہوا موزہ تو برداشت کر سکتا ہو مگر انڈیا پاکستان کے کرکٹ میچ کی فتح و شکست سہنا اس کے بس سے باہر ہو۔
کہنے کو تو بھارت اور پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے مگر ایک عرصے سے ہاکی دونوں ممالک میں اتنی ہی پاپولر ہے جتنی مقبولیت بھارت میں راشٹر پتی پرناب مکھر جی اور پاکستان میں صدر ممنون حسین کو حاصل ہے۔یہ کرکٹ ہی ہے جس میں فتح و شکست بتاتی ہے کہ بھارتی اور پاکستانی سپوت ہونے کا دراصل معنی کیا ہے۔کبھی کبھی تو یوں لگے ہے گویا کرکٹ ہی دراصل نظریہ ِ پاکستان اور بھارتیہ سیکولر ازم کی بنیاد ہے۔اور انگریز نے آزادی ہی اس شرط پر دی تھی کہ کرکٹ کو بھی شاملِ عقیدہ رکھنا ہوگا۔
اور ممالک میں بھی کرکٹ ہوتا ہوگا پر ہمیں اس سے کیا۔ ورلڈ کپ ، ٹی ٹوئنٹی ، ون ڈے سیریز ، ٹیسٹ میچز وغیرہ تو ٹھیک ہیں لیکن انڈیا پاکستان میچ کس دن ہے ؟ یہ معلوم ہونا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہر جن بچہ اپنی اپنی بساط و اوقات کے مطابق تعریفوں اور گالیوں کا پہلے سے اسٹاک کر سکے۔ کرکٹ اور بھارت اور پاکستان کا کرکٹ میچ دو مختلف دنیائیں ہیں۔ ان دنیاؤں کے اپنے اپنے آداب ، نئیم ، پرمپرائیں ، سرحدیں اور لفظیات و مغلظات ہیں۔ہوسکتا ہے باقی اقوام کے لیے کرکٹ شدھ ہو مگر بھارت اور پاکستان کے لیے کرکٹ یدھ ہے۔میچ شروع ہونے سے کم ازکم اڑتالیس گھنٹے پہلے میڈیا کے سر پے سینگ ابھرنے لگتے ہیں جو میچ کی صبح تک بالکل ایک ہسپانوی سانڈ کی طرح نوکیلے اور تیار ہو چکے ہوتے ہیں۔ ٹاس کی رسم تک اپنی اپنی ٹیموں کی اینکرانہ رجز خوانی چلتی رہتی ہے۔
’’ آج ہمارے شاہین دشمن پر جھپٹنے کو بے تاب ہیں۔نہ اپنی جیت نئی ہے نہ ان کی ہار نئی۔ دو روایتی حریف، دو دشمن آمنے سامنے۔وکٹ سازگار ہے۔موسم بھی صاف ہے۔یہی سنہری موقع ہے پرانی شکستوں کا بدلہ لینے کا۔بیٹنگ لائن کمزور ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ ہر کھلاڑی جذبہِ ایمانی سے سرشار اور تبلیغی روح سے دوچار ہے۔اور جب مقابلہ بھارت جیسے کفر سے ہو ( محمد شامی کو چھوڑ کے ) تو پھر کون سا کھلاڑی ہوگا جس کا لہو نہ ابلے۔کروڑوں ماؤں بہنوں کی دعائیں بھی تو ٹیم کے ساتھ ہیں۔یہ میچ جیت لیا تو سمجھو ورلڈ کپ جیت لیا۔ نصرمن اللہ و فتح قریب۔۔۔۔۔نعرہِ تکبیر۔۔۔۔(ہمارے محلے کے جواں سال ڈسک جوکی نے تو ٹاس ہوتے ہی عالم ِ سرشاری میں اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو والا ترانہ چلا دیا اور پورا سنوا کے دم لیا)۔
کمنٹری بکس میں عموماً تین یا چار ماہرین سے زیادہ کی جگہ نہیں ہوتی۔لہذا باقی سوا ارب ماہرینِ کرکٹ کو اسٹیڈیم ، ٹی وی اسکرینوں کے سامنے یا پھر ریڈیو کان سے لگا کے اپنی رائے یا مشورہ دینا پڑتا ہے۔جیسے جیسے میچ آگے بڑھتا ہے رائے اور مشورہ بھی کٹیلا تر ہوتا جاتا ہے۔
’’ انڈیا اچھا کھیلا ہے مگر اب دیکھنا یونس خان کیسے ان بنیوں کا بھس بھرتا ہے۔اور اگر شاہد آفریدی پچاس تک کھڑا رھ گیا تو سمجھو نئیا پار…وٹ اے شاٹ یار…ابے یار… احمد شہزاد کو اس بال پر ہک کرنے کی کیا ضرورت تھی…او بھئیا ، یہ عمر اکمل کو کس نے پھر سے ٹیم میں رکھ لیا…اس ایمپائر کی تو ماں کی…اوئے یہ مصباح شاٹ کھیلنے کے بجائے ٹک ٹک کیوں کررہا ہے۔۔ابے رن لے نہ رن۔۔۔استاد اس بار لمبا مال لگا ہے ورنہ تین سو کا ٹارگٹ کوئی اتنا بڑا تو نہیں ہوتا… یاریہ وہ شکلیں ہی نہیں ہیں جیتنے والی…ابے بند کر ٹی وی۔۔اس سے اچھا تو ہم گلی میں کھیل لیتے ہیں…باوے تو کس دنیا میں ہے ، سب کچھ پہلے سے سیٹ ہے ماما۔انڈیا نے ورلڈ کپ سے پہلے ہی کرکٹ کونسل کو خرید لیا تھا۔۔میری جان سب فراڈ ہے…میرے تو باپ کی توبہ جو آیندہ کوئی کرکٹ میچ دیکھوں… سب آپس میں ملے ہوئے ہیں… سالے ہمیں مل کے چ بناتے ہیں بے غیرت۔۔لعنت ہو لعنت۔
ہاں آپ میں سے کچھ لوگ ضرور کہیں گے کہ کھیل کو کھیل سمجھ مشغلہِ دل نہ بنا۔ہار جیت تو کھیل کا حصہ ہوتی ہے اسے دل پے نہیں لینا چاہیے۔اسپورٹس مین اسپرٹ ہونی چاہیے۔جو آج ہار گیا کل وہ جیتا بھی تو تھا۔ابھی تو ابتدا ہے۔ آگے بہت سے میچ پڑے ہیں۔یاد نہیں کہ بانوے کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان بیشتر پول میچ ہار گیا تھا مگر پھر قسمت پلٹ گئی اور کپ اٹھا لایا۔ضروری تو نہیں کہ کوئی ٹیم مستقل فارم میںہو۔ویسے بھی کرکٹ بائی چانس ہے۔اور جنھیں آج گالیاں دے رہو اگر وہ فائنل تک پہنچ گئے تو پھر کیا اسی منہ سے ان کی تعریفیں کرو گے۔میاں یہ کھیل ہے کوئی جنگ تو نہیں۔۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔۔۔۔۔۔یہ باتیں اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عمر چالیس سال سے اوپر ہو یا جن کی گھر میں بھی نہ چلتی ہو۔
 اگر ایسے لوگوں نے میچ سے ایک دن پہلے ایل سی ڈی اسکرین والا ٹی وی پچاس ہزار میں خریدا ہوتا ، اپنے گھر کے باہر ایک شامیانہ تنوا کے اہلِ محلہ کے منورنجن کے لیے بڑی اسکرین لگوائی ہوتی ، جیت کی امید پر موٹر سائیکل کی ٹنکی فل کروا کے سائلنسر کٹوایا ہوتا ، ٹیم کی وردیاں خرید کے پہنی ہوتیں ، سبز جھنڈیاں منگوا کر کونے میں رکھی ہوتیں ، اماں کو نئی جائے نماز اور تسبیح لا کے دی ہوتی ، میچ دیکھنے کے لیے ابا کی عینک کا چٹخا ہوا عدسہ ارجنٹ بدلوایا ہوتا ، گھر میں بھرے آڑے ترچھے کزنز کے لیے بریانی کا آرڈر دیا ہوتا ، دہاڑی سے چھٹی کی ہوتی ، میچ کی وجہ سے عین وقت پر ڈیٹنگ منسوخ کرکے سلمی کی ناراضی مول لی ہوتی ، تین دوستوں سے پاکستان کی جیت پر پانچ پانچ ہزار کی شرطیں بدی ہوتیں۔تب میں ان شیانوں سے پوچھتا کہ اب بتاؤ اسپورٹس مین اسپرٹ کس جناور کا نام ہے ، کھیل کو کھیل کیسے سمجھتے ہیں اور مشغلہِ دل کیوں نہیں بناتے۔۔۔ باتیں بنوا لو کمینوں سے۔۔۔سوڈو انٹلکچوئلز کہیں کے۔۔۔ ایک تو انڈیا پاکستان کا میچ بھی برداشت کرو اور پھر ان کی نصیحتیں بھی چیک کرو۔۔۔آخ تھو۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

Adelaide – one of Australia’s best cricket stadiums

India’s Shikhar Dhawan looks at the sky from his fielding position during the Cricket World Cup match against Pakistan in Adelaide, Australia.