جماعت اسلامی کا اجتماع عام……امیر جماعت سراج الحق

امیر جماعت سراج الحق
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے 1948 ء میں اسلامیہ کالج پشاور میں فرمایا ’’ ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔‘‘ قائد کی اسی آواز پر پورے برصغیر میں ایک نعرہ گونجا ’’ پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الا اللہ ‘‘۔ لیکن قائد اعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی ہم نے تعلیم ، عدالت ، معاشرت ، معیشت اور اقتدار کے ایوانوں میں اسلام کا تجربہ تو کیا اس کا داخلہ ہی بند کر دیا ۔ نتیجہ کیا نکلا ، آج ذلت اور محتاجی ہمارا مقدر ہے ۔ آبادی کی اکثریت غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔ 
تعلیمی اداروں کا نصاب ، قومی بجٹ ، پٹرول ، بجلی ، گیس اور آٹے دال کا بھائو بھی ورلڈ بنک ، آئی ایم ایف اور امریکہ طے کر رہاہے ۔ مفاد پرست حکمرانوں نے قائد اعظم ؒ کی آزادی کو چند ٹکوں میں بیچ کر نیا طوق غلامی ہماری گردنوں میں ڈال دیا ہے ۔ بے حسی ، غیر جانبداری اور بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کی بدولت ملک میں قبرستان جیسی خاموشی کا منظر ہے ۔ بے علم اور دنیا دار تو کیا دانشور اور باعمل لوگ بھی اس مصلحت پسندی پر مطمئن رہ کر اس بحران کو سنگیں بنا رہے ہیں ۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک پر بے یقینی کے منحوس بادل منڈلا رہے ہیں ۔ معیشت تباہ و برباد ہورہی ہے ۔ پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر ہیں ۔
 قوم کو مایوسی سے نکالنے کی ضرورت ہے ، اس کے اندر یہ یقین پیدا کردیا جائے کہ ہمارے حالات بھی بد ل سکتے ہیں ۔ پاکستان بھی ترقی یافتہ ، باوقار اور بیرونی دبائو سے آزاد ہوسکتاہے ۔ اس مقصد کے لیے ہر طرح کے امتیازات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کو فروغ دیا جائے ۔ اگر قوم کے وسائل قوم پر خرچ کیے جائیںتو مسلم ، ہندو ، سکھ ، عیسائی ، پنجاب ، قبائلی ، بلوچ اور پٹھان سب برابر مستفید ہوں گے ۔ حکمرانوں کے بجائے قانوں کی حکمرانی ہو تو ہر ایک کی جان و مال عزت و آبرو محفوظ ہو سکے گی ۔ ملک بھر کے طول و عرض میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اپنے عمل سے اس مملکت کو سنوار سکتے ہیں ۔ حقیقی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور سارے اجتماعی نظام کو بدل ڈالیں ۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ تبدیلی کیسے آئے گی ؟۔ کیا جاگیردار، سرمایہ دار ، بنکوں کے سو د خور ، بھتہ خور ، ضمیر اور زمین فروش یا اپنی خاندانی بادشاہت کے لیے سیاست کرنے والے یہ تبدیلی لائیں گے ۔ ہر گز نہیں !!! قائد اعظم ؒ نے فرمایا ’’ اگر مسلمان باوقار اور لائق احترام لوگوں کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے ایک ایک ہی راستہ ہے ، پاکستان کے لیے لڑیے ، پاکستان کے لیے زندہ رہیے اور اگر ناگزیر ہو تو اصول کے لیے جان دے دیجئے ورنہ مسلمان اور اسلام تباہ ہو جائیں گے ۔‘‘ جماعت اسلامی تحریک پاکستان کے اسی جذبے کے ساتھ 21-22-23 نومبر 2014 ء (بروز جمعہ، ہفتہ ،اتوار)مینار پاکستان لاہور میں ملک گیر اجتماع عام کر رہی ہے ۔ 
وہ جماعت جس نے اسلام کے مقابلے میں الحاد سمیت تمام نظاموں کی سرکوبی کی ۔ ملی یکجہتی کو فروغ دیا ۔ امت کے علمبردار بن کر ہر محاذ پر قربانیاں دیں جس کے دامن پر سرمایہ داری ، جاگیرداری ، کرپشن اور خاندانی سیاست کا کوئی داغ نہیں ہے ۔ میں اپنی طرف سے ہر پاکستانی مرد و خواتین کو اس ملک گیر اجتماع میں شرکت کی دعوت د ے رہاہوں ۔یہ اجتماع بندگی رب اور محبت رسول ؐ میں اضافے ، منافقت کے خاتمے اور نظام میں تبدیلی کا سبب بنے گا ۔ آئیے ! تکمیل پاکستان کا ایک ایسا مرحلہ شروع کریں جو خلاف راشدہ ؓ کا نمونہ بن کر ظلم و استحصال کی ہر شکل کو مٹادے ۔ جو ہر شہری کے لیے روٹی ، کپڑا ، مکان ، علاج ،روزگار کے ساتھ ساتھ جان ، مال اور عزت و آبرو کا ضامن ہو ۔ آپ اپنے اہل و عیال ، گھر کی خواتین اور بچوں کو ساتھ لے کر آئیں ، میں مینار پاکستان پر آپ کے لیے چشم براہ ہوں گا ۔ 

Jamaat Islami Pakistan Ijtema Aam Minar-e-Pakistan Lahore

 

Spain parliament recognizes Palestine

Following the British and Irish parliaments, Spain’s parliament votes for the government to recognise Palestine.

The never-ending lightning storm

Why one area in South America sees thousands of strikes per nightThe area sees an estimated 1,176,000 electrical discharges per year, with an intensity of up to 400,000 amperes, and visible up to 400 km away.Its an environmental trend that happens where the Catatumbo River submerge with the Lake Maracaibo, in Venezuela. How does this happen? On the southwestern side of Venezuela’s massive Lake Maracaibo, a natural phenomenon continues to mystify residents.
The Relámpago del Catatumbo (relámpago means lightning, Catatumbo is a nearby river) is a lightning storm that rages most nights for eight months of every year, and has been flashing for thousands of years. As many as 40,000 lightning bolts illuminate the sky every night at a rate of 18 to 60 bolts per minute. But this disturbance happens high in the troposphere, about three miles up, so the storm raging overhead is eerily silent when viewed from the ground.

تھر جو ہم نے دیکھا!…..

تھر جو ہم نے دیکھا!
(انور غازی)
”تھرپارکر” کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ آچکی ہے۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تھر میں کوئی حقیقی قحط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کا فرمان ہے: ”تھر کے لوگ غریب نہیں، یہ 60 لاکھ مویشیوں اور سیکڑوں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات جناب شرجیل میمن نے کہا کہ میں میڈیا کو تھرپارکر لے جانے کو تیار ہوں، میڈیا میرے ساتھ چلے اور تھر کی صورت حال کا اپنی آنکھوں سے جائزہ لے۔” ہم نے اپنے یار دوستوں کے ساتھ اپنے طور پر تھر جانے کا پروگرام بنایا۔ ہمارا 5 رُکنی وفد اتوار کی صبح تھر کے لیے روانہ ہوا۔ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، چھاچھرو۔۔۔۔۔۔ تک واقعتا حالات معمول کے مطابق تھے۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی چھاچھرو سے آگے ”میٹھریو” پہنچے تو آنکھوں سے پٹی کھلنا شروع ہوگئی۔ سب ہرا ہی ہرا دِکھنا بند ہوگیا۔ روڈ ختم ہوگیا۔ عام گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ ریت کے جکھڑ جکڑنے لگے۔ مشکیزے اور مٹکے نظر آنے لگے۔ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے پانی منتقل ہوتا نظر آنے لگا۔ خال خال نظر آتے لوگوں کے چہروں پر مسکنت عیاں تھی۔
ہم ”کھیکھڑے” پر سوار ہوکر سرحد کے قریبی علاقوں پنجلائی بستی، لالوکاتڑ بستی، مٹڑیو بستی، کیتاڑی بستی، تڑاکا بستی، بہچو بستی، خیر محمد بستی، میر خان بستی، محمد علی بستی، نور محمد بستی، دریاخان بستی، فقیر بستی، خالد کی بستی، مولوی شہاب الدین بستی، میٹھل بستی۔۔۔۔۔۔ کی طرف چل پڑے۔ 2 گھنٹے لق و دق صحرا میں چلنے کے بعد ہم عصر کی نماز کے لیے پانی کو تلاش کرتے کرتے ایک قدیم کنویں پر پہنچیں۔ یہ جملانی بستی کے مضافات میں واقع تھا۔ کنویں کے اردگرد لوگوں اور جانوروں کا ایک ہجوم تھا۔ خواتین کے سروں پر مٹکے تھے۔ ننگے پاؤں بچوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنی بچیوں نے گدھوں پر چمڑے کے مشکیزے لادے ہوئے تھے۔ یہ سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ گاؤں کے نوجوان اور بوڑھے چمڑے کے ڈولوں سے بڑی محنت اور مشقت سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالنے میں مصروف تھے۔ جس طرح بیلوں کو کولہو میں یا کھیت میں ہل چلانے کے لیے پنجالی میں جوتا جاتا ہے، اسی طرح نوجوانوں کو جوتا ہوا تھا۔ وہ ڈول کھینچتے کھینچتے دور تک تقریباً ربع کلومیٹر تک جاتے اور پھر واپس آتے۔ تھر میں پانی اوسطاً 4 سو سے 6 سو فٹ نیچے ہوتا ہے۔ ہمیں پانی کے انتظار میں کھڑے کھڑے مغرب ہوچکی تھی۔ بڑی مشکل سے دو لوٹے پانی ملا۔ منہ میں ڈالا تو نمکین۔ پوچھنے پر پتا چلا یہاں پر ایسے نمکین پانی کو میٹھا پانی ہی سمجھا جاتا ہے۔
ایک بچی سے میں نے پوچھا: ”تمہارا گھر کدھر ہے؟” اس نے قطب شمالی کی طرف سے اشارہ کیا۔ وہ گھر تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بچی وہاں سے پانی لینے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ ہم نے تصویریں لینا شروع کیں تو بستی کے بوڑھے ہمارے قریب آگئے۔ ہم نے پوچھا: ”آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟” انہوں نے کہا: ”کنویں پر جنریٹر کے ذریعے موٹر لگ جائیں تو پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔” ہم نے اسٹیمیٹ لگوایا تو 90 ہزار بنتا تھا۔ الحمدللہ! ہم نے اپنے ایک دوست کو ساری صورتحال بتائی تو انہوں نے 4 کنوؤں پر موٹروں کا انتظام کردیا ہے۔ دنیا بھر میں اصول ہے کہ جب بھی کسی ملک و قوم پر مشکل وقت آتا ہے تو صرف حکومت ہی نہیں بلکہ سب مل جل کر کام کرتے ہیں۔ تھر کا قحط ایسا ہے کہ پوری قوم کو ادھر متوجہ ہونا چاہیے۔
 
 ”خیرو” نے بتایا کہ میری زندگی میں یہ دوسرا بڑا قحط ہے۔ پہلا قحط اَسّی کی دہائی میں آیا تھا۔ جب بھوک اور پیاس کے سبب ہمارے سارے جانور مرگئے تھے۔ پانی نکالنے کے لیے جب اونٹ اور گدھے بھی نہ رہے تو خواتین نے اپنی کمروں سے ڈولوں کے رَسے باندھ کر پانی نکالا تھا۔ ہم نے اپنی جان بچانے کے لیے سانگھڑ ہجرت کی تھی۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر یونہی چلے گئے تھے۔ میری 50 ایکڑ زمین ہے۔ اگر بارش ہوتی رہے تو لاکھوں کی آمدن ہوتی ہے۔ اگر 2 سال مسلسل بارش نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اور امسال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ کنوؤں میں پانی نیچے تک چلا گیا ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اور گھاس بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ایک اور بستی میں گئے۔ اس میں 100 کے قریب گھرانے آباد تھے۔ اس پورے گاؤں میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی ڈسپنسری۔ کوئی سخت بیمار ہوجائے تو کھیکھڑے میں ڈال کر 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر چھاچھرو لایا جاتا ہے۔ آئے دن سانپوں کے ڈسنے سے اموات واقع ہوتی رہتی ہیں۔ کیتاڑی بستی میں ہم نے رات گذارنے کا ارادہ کیا۔ رات کے کھانے میں باجرے کی موٹی سی روٹی تھی لال مرچ کے ساتھ اور صبح ناشتہ لسی اور روٹی تھی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں۔ جانور مررہے ہیں۔ تھر میں روزانہ بھوک پیاس اور دوائی نہ ملنے کی وجہ بیسیوں افراد مررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو امداد مل رہی ہے وہ فی کس 6 کلو گندم ہے۔ 6 کلو گندم کتنے دن چلتی ہے؟ 3ماہ سے اب تک صرف ایک دفعہ ہی 6 کلو ملی ہے۔ آپ خود سوچیں! صحراء میں سخت سردی کا موسم ہے۔ کھانے کے لیے روٹی نہیں، پینے کے لیے نمکین پانی کے چند قطرے، بیمار کے لیے دوا نہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول نہیں اور موجودہ حکومت کو سب ٹھیک اور ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے۔
”شیر محمد بستی” میں واقع جھونپڑے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ہمیں نم دیدہ کردیا۔ ”اللہ ڈنو” کے 7 بچے تھے۔ یہ صحرا میں بکریاں چراتا تھا۔ ایک رات کو زہریلے سانپ نے کاٹا۔ فرسٹ ایڈ اور زہر کا تریاق نہ ملنے کی وجہ سے 4 گھنٹے بعد ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جھگی میں مرگیا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا، وہ بھی ایک پاؤں سے معذور۔ اب 5 معصوم بچیوں اور 2 بچوں کی ذمہ داری اس معذور شخص کے ناتواں کاندھوں پر آگئی ہے۔ یہ معزور شخص صحراء میں بکریاں چراکر گذر بسر کررہا تھا کہ بارش کی وجہ سے گھاس پھوس بھی ختم ہونے لگا۔ کنوؤں سے پانی کم ہونے لگا۔ یہ معذور شخص صبح سویرے بکریاں لے کر نکلتا۔ چارے کی تلاش میں دور تک چلا جاتا۔ ڈھلتے سورج لوٹتا، بڑی مشکل سے کنویں سے پانی نکال کر بکریوں کو پلاتا۔ اس نے بکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 60 بکریوں میں سے 11 بکریاں رہ گئیں۔ باقی قحط کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔ کانٹوں کے احاطے میں ایک ہی جھگی تھی۔ اس میں 7 معصوم بچے دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ کھانے میں صرف باجرے کی روٹی تھی جو بکری کے پانی ملے دودھ کے ساتھ کھارہے تھے۔ تین بچے شلوار سے محروم تھے جبکہ کسی کے بھی پاؤں میں چپل نہ تھی۔ ٹھنڈی ریت پر یونہی بیٹھے تھے۔ سردی کی وجہ سے بچوں کی ناک بہہ رہی تھی۔ ہم سے جو کچھ ہوسکا فوری مدد کی۔ مزید کا وعدہ کرکے آگے بڑھ گئے۔
ہم نے تاریخ میں پڑھا تھا کہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے قحط کے دوران امدادی کارکنوں نے اتنے بھیانک مناظر دیکھے تھے کہ روتے روتے ان کی آنکھیں خشک ہوگئی تھیں۔ تھر کا یہ قحط اور تھری لوگوں کی حالتِ زار دیکھ کر ہماری آنکھوں کے سامنے بھوک و افلاس کے تاریخی منظر گردش کرنے لگے۔ تھر میں گھومتے پھرتے، دیکھتے ہوئے یوں لگا جیسے پتھر کے زمانے میں یہ لوگ جی رہے ہیں۔ وہی دور دور پانی کے کنویں، اونٹوں اور گدھوں پر سواری اور سامان کی منتقلی، نہ بجلی نہ گیس نہ فون، لکڑیوں اور گھاس پھوس کے تنوں سے بنے جھونپڑے۔ نہ روڈ نہ گاڑی، نہ استاذ نہ اسکول، نہ ڈاکٹر نہ دوائی۔۔۔۔۔۔ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت اور خدا کے آسرے پر ہورہا ہے۔
اس وقت تھر کے لوگوں کو چار بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ نمبر 1، پانی کی قلت ہے۔ کنوؤں سے پانی نکالنے کے لیے موٹروں اور جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ نمبر 2، کھانے کے لیے خوراک کی اَشد ضرورت ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلنے لگی ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک تقسیم کرنی چاہیے۔ نمبر 3، صحت کے سنگین مسائل ہیں۔ ادویہ اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ فرسٹ ایڈ کا سامان درکار ہے۔ نمبر 4، گرم لحافوں، کپڑوں اور جوتوں کی فوری ضرورت ہے۔ ٹھنڈی ریت میں بچے بیمار ہو ہوکر مررہے ہیں۔ تعلیم بھی ضروری ہے۔ دس دس بارہ بار سال کے بچوں نے اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔ گاؤں اور بستیوں سے شہر آنے کے لیے راستے بھی نہیں ہیں۔ سڑک اور ٹرانسپورٹ بھی لازمی ہے۔ گذشتہ ہفتے سندھ حکومت نے تھر کی صورتحال پر غور و فکر کے لیے میٹھی میں کابینہ کا اجلاس بلایا تھا۔ وزیر اعلیٰ 94 گاڑیوں کے لاؤ لشکر کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ اس ایک اجلاس پر جتنی رقم خرچ ہوئی، اتنی رقم سے تھر کے تمام کنوؤں پر جنریٹر کے ساتھ موٹریں لگائی جاسکتی تھیں۔ 215 ڈسپنسریاں اور 110 اسکول بنائے جاسکتے تھے۔ تھر کے ایک لاکھ لوگوں کو سردی کا سامان پہنچایا جاسکتا تھا۔ ایک سڑک بنوائی جاسکتی تھی۔ خوراک کا مسئلہ حل کی جاسکتا تھا۔ جناب شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میں صحافیوں کو تھر لے کر چلتا ہوں، وہ دیکھیں کہ تھر کا قحط حقیقی ہے یا سیاسی؟ میمن صاحب تو صحافیوں کا وفد نہ لے جاسکے۔ ہم اپنے طور پر ہو آئے ہیں۔ ہماری کسی بھی سیاسی جماعت سے ذرا بھی وابستگی اور ادنیٰ سا بھی تعلق نہیں ہے۔ ہم صحافیوں، وکلاء برادری، سماجی کارکنوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خرچ پر تھر جائیں۔ پتا چل جائے گا کہ تھر میں مور ناچ رہے ہیں یا موت کا رقص جاری ہے؟؟؟

پاکستانیوں کو پاکستانی سمجھا جائے…..

بیرون ملک مقیم اور دوسرے ممالک کی شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کی خدمات اور حب الوطنی بلاشبہ ملک میں بسنے والے شہریوں سے کسی طرح کم نہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں۔ وہ ملک کے لیے متفکر رہتے ہیں، ہر آڑے وقت میں ملک کی قانونی، اخلاقی و مالی امداد و تعاون میں قابل رشک خدمات سر انجام دیتے ہیں، ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ کے علاوہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور سیاسی و سماجی حیثیت سے بھی ملک و قوم کی خدمات میں پیش پیش رہتے ہیں۔
کچھ برسوں سے دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے انتخابات لڑنے کے حق کے سلسلے میں بحث و تمحیث کا سلسلہ بڑی شد و مد سے چل رہا ہے۔ 1973ء کے آئین میں انتخابات لڑنے والوں کی نااہلیت کی وجوہات کی جو فہرست درج ہے اس میں اول نمبر پر دہری شہریت والوں کی نااہلیت کا ذکر ہے۔ اس موقف کی مخالفت اور موافقت میں بہت سے دلائل دیے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچا تھا جس نے آئین و قانون کے مطابق ایسے ارکان پارلیمنٹ کو نمایندگی کے لیے نااہل قرار دیا تھا بلکہ ان کی فہرستیں طلب کر کے انھیں فارغ کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
دہری شہریت کے حامل بعض ارکان نے غیر ملکی شہریت کو ترک کر دیا، بہت سے اصل حقیقت چھپانے اور معاملے کو طول دینے کی کوششوں میں سرگرداں رہے، کچھ لوگوں نے اس پابندی کے خاتمے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ گزشتہ روز دہری شہریت رکھنے والوں کے انتخابات لڑنے پر پابندی کے خاتمے کا بل قائمہ کمیٹی نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ یہ بل متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا لیکن اس کی مخالفت میں پی پی پی، (ن) لیگ، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر جماعتیں بھی یکجا ہو گئیں حالانکہ خود پی پی پی اور (ن) لیگ میں کافی تعداد میں ایسے ارکان اسمبلی اور سینیٹ میں جو دہری شہریت کے حامل ہیں، ان پارٹیوں کو اندرونی طور بھی اس پابندی کے خاتمے کے لیے دباؤ تھا۔
غیر ملکی شہریت کے حامل افراد اس ملک کی وفاداری اور اس کے مفادات کو ہر مقصد پر مقدم رکھنے کا اور اس کے لیے ہتھیار اٹھانے کا بھی عہد کرتے ہیں۔ جب کہ ارکان پارلیمنٹ کے حلف میں بھی یہ بات شامل ہے کہ وہ پاکستان کے تشخص اور قومی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھیں گے، اس طرح یہ دونوں حلف باہم متضاد و متصادم ہو جاتے ہیں جب تک کہ کسی ایک کو ختم نہ کیا جائے۔
دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں دہری شہریت کے حصول کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا اور وہاں پر شہریوں کے اس حق پر پابندی عائد ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگر دہری شہریت کے حامل افراد میں بذریعہ اختیار و اقتدار ملک و قوم کی خدمت کرنے کا اتنا ہی جذبہ ہے تو انھیں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں دہری شہریت ترک کر کے اس بات کا عملی ثبوت فراہم کر دینا چاہیے جیسا کہ بہت سے لوگوں نے کیا بھی ہے تا کہ کسی قسم کا شک و شبہ یا رسک کے امکانات باقی نہ رہیں۔ جب کوئی شہری کسی دوسرے ملک کے آئین و قانون سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے تو وہ پاکستان کے مقابلے میں اس ملک سے وفاداری کا پابند ہو جاتا ہے۔ اس کی شہریت اس بات سے مشروط ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے بجائے اس ملک کا وفادار ہو گا۔
دہری شہریت کے حامل افراد کی حب الوطنی پر تو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کرنا چاہیے لیکن وطن دشمن عناصر سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ قانون بحال رکھا جائے تا کہ کوئی اس کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ جب دہری شہریت کے حامل شہریوں کے لیے غیر ملکی شہریت ختم کر کے انتخابات لڑنے کا اختیار موجود ہے تو انھیں اس قانون کی مخالفت کرنے کے بجائے وسیع تر قومی مفاد میں اس پابندی کا احترام کرنا چاہیے، خاص طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے اور اب اس بل کے مسترد کیے جانے کے بعد یہ ہی ایک قانونی و اخلاقی راستہ بنتا ہے۔ اثر و رسوخ اور عزائم کے حامل کچھ لوگ اس پابندی کو ختم کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تا کہ وہ اقتدار اور غیر ملکی شہریت دونوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا کہ نادرا میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں را اور موساد سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کا مذموم عمل جاری ہے، جس کے لیے مخصوص سافٹ ویئر کے حامل لیپ ٹاپ استعمال کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین نادرا سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیئرمین نادرا نے بتایا کہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث 76 اہلکاروں کو فارغ کر دیا گیا ہے، مزید اہلکاروں کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
پاکستان کی موجودہ دہشت گردی، سیاسی عدم تحفظ و خلفشار اور اندرونی و بیرونی سازشوں کی فضا میں یہ خبر کتنی تشویش ناک ہے، شاید ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے۔ اس کو ایک عام سی خبر سمجھ کر زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ را اور موساد کے لوگ پاکستان کی جعلی شہریت کسی گوشہ جنت یا سیاسی پناہ، کاروبار، ملازمت یا کسی کارخیر کی جستجو میں حاصل نہیں کر رہے بلکہ اس ملک کو عدم استحکام اور خلفشار کے ذریعے جہنم بنانے کی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں اور جو عاقبت نا اندیش لوگ چند ٹکوں کے مالی مفاد کی خاطر ملکی سالمیت دفاع اور استحکام کو داؤ پر لگا رہے ہیں وہ قومی مجرم اور ناقابل معافی ہیں۔
ان حرکتوں کے مرتکب افراد کے خلاف آئین کے تحت غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ کیا اس قسم کے قبیح قومی جرم کے مرتکب افراد کی سزا صرف یہ ہے کہ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کر کے کچھ کو محض ملازمتوں سے فارغ کرنے پر اکتفا کیا جائے۔ اس نیٹ ورک اور اس کے کرتا دھرتاؤں کو تلاش کرکے نشان عبرت بنا دینا چاہیے، جو اس درجہ ملک دشمنی میں ملوث ہیں۔
ہزاروں کی تعداد میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ گم ہو جانا اور اسمگلنگ و انسانی اسمگلنگ کے واقعات ہو چکے ہیں، گمشدہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کیسے گم ہو گئے، کس مقصد کے لیے گم کیے گئے ان کا کہاں کہاں اور کیا کیا استعمال ہوتا ہے غور طلب ہے۔ گزشتہ روز ایک پاکستانی خاتون اور اس کے دو بچوں کے جعلی پاسپورٹ پر یورپ بھیجنے والے گروہ کے افراد کو گرفتار کیا گیا جو 38 لاکھ روپے لے کر اس خاندان کو سوئیڈن پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا ایک کارندہ خاندان کی رہنمائی کے لیے اس کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا، جنھیں ترکی ایئرپورٹ پر دھر لیا گیا۔
اس انسانی اسمگلنگ میں مدد دینے والے ایف آئی اے اور امیگریشن عملے کے خلاف بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں انسانوں کی مختلف طریقوں سے اسمگلنگ کا کاروبار بھی طویل عرصے سے منظم طریقے سے جا ری ہے جس کے دوران بعض اوقات تو کنٹینر میں دم گھٹ جانے، بحری جہاز کے ٹینک میں غلطی سے پانی بھر دینے اور اسمگل کیے جانے والے بچوں کی بس میں آگ لگ جانے سے اجتماعی ہلاکتوں کے بڑے بڑے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ لیکن ہر سانحے کے بعد بیانات و دعوؤں کے سوا کچھ اقدامات دیکھنے میں نہیں آ سکے، جن سے اس مذموم کاروبار کا تدارک ہو سکے یا نمایاں کمی ہی واقع ہو سکے۔
البتہ پاکستانیوں کے لیے یہ ادارے بڑے فعال اور مستعد نظر آتے ہیں جن میں بعض کے لیے تو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، حج و عمرہ کے خواہش مند ضعیف العمر افراد تک ایسے ایسے اعتراضات لگائے جاتے ہیں جنھیں سن کر عقل حیران ہو جاتی ہے، مثلاً 70 سالہ خاتون سے شوہر اور اولاد کو پاسپورٹ جاری کرنے کے باوجود اس کا نکاح نامہ طلب کرنا، ماں، باپ کے شناختی کارڈ، ب فارم اور پیدائشی اور تعلیمی سرٹیفکیٹ کے باوجود دادا کا شناختی کارڈ طلب کرنا، تیار شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے باوجود انھیں پولیس ڈپارٹمنٹ سے انکوائری کے لیے بھیجنا جہاں رشوتوں کا بازار گرم رہتا ہے۔ حکومت، حکومتی اداروں اور انسانی حقوق کے اداروں کو اس انسانی پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
عدنان اشرف ایڈووکیٹ

ساٹھ گھنٹوں میں 42ارب کے قرضوں کا نیا بوجھ…….

وزیر خزانہ اسحاق ڈار خوشخبری لائے ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضے کی پانچویں اور چھٹی قسط جاری کررہا ہے، یوں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر حکومت کو مل جائیں گے۔ حکومت کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یقینی طور پر یہ اچھی خبر ہے، لیکن حقیقی معنوں میں عوام کی گردن پر مزید قرض کی آکاس بیل چڑھائی گئی ہے۔ ملک اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ ہر حکومت نے یہ سستا اور آسان حل نکالا ہوا ہے کہ نئی شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرض لے لیا جائے اور پھر یہی آئی ایم ایف ہمیں کشکول بھرنے کے عوض برے طریقے سے مطعون بھی کرتا ہے۔ نہ جانے ایوانِ اقتدار میں بیٹھے افراد آئی ایم ایف کو ہر دفعہ یہ موقع کیوں فراہم کرتے ہیں! بلاشبہ پاکستان کی غیر یقینی سیاسی صورت حال نے معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے اور بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کرنے سے کترا رہی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے اس معاشی اور سیاسی بحران کی طوالت ختم کرنے کے بارے میں کیا سوچا ہے؟ آئی ایم ایف قرض دے کر واپس بھی لے گا جس کے لیے وہ نج کاری پر زور دیتا ہے۔ سب سے اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی فراہم کردہ مالیاتی آکسیجن پر کب تک زندہ رہیں گے، اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کب شروع ہوگی؟
ابھی حال ہی میں وزیراعظم نوازشریف چین کے دورے سے واپس آئے اور چھ گھنٹے کے بعد جرمنی کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ بیجنگ میں تقریباً60 گھنٹے قیام کے بعد اسلام آباد واپس پہنچے تو ان کے کشکول میں 42 ارب ڈالر کا قرض تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور اس کا جواب قاری خود ہی تلاش کریں کہ احتساب بیورو کے سابق سربراہ سیف الرحمن ایک خلیجی ملک کے سربراہ کے بیٹے کے نمائندے کی حیثیت سے کیوں چین گئے اور ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے؟ سیف الرحمن اس معاہدے میں کیوں شامل ہوئے اور ماضی میں نوازشریف کے ساتھ ان کا کیا تعلق رہا؟ 
ان سب سوالات کا جواب پارلیمنٹ کو معلوم ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ چین کا معاشی نظام لازمی ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔ وہاں اصل معیشت کے ساتھ ساتھ متوازی نظام بھی موجود ہے کہ رسید لیے اور دیے بغیر کام چلائو۔ چین اسی نظام کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور چالیس سال تک وہ ان معاہدوں سے مالی منفعت حاصل کرتا رہے گا اور ہم اُس کی کمپنیوں کے لیے کنزیومر مارکیٹ کے طور پر موجود رہیں گے۔ چین نے جو معاہدے کیے ہیں ان کی بنیادی بات یہ ہے کہ یہاں پاکستان میں وہی 20 کمپنیاں کام کریں گی جنہیں چینی حکومت اجازت دے رہی ہے، لہٰذا اجارہ داری تو یہیں سامنے آگئی۔ وہ یہاں سے دل کھول کر منافع لے جائیں گی۔
وزیراعظم نوازشریف کے اس دورے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، متعدد وفاقی وزرا اور بعض صنعت کار بھی ہمراہ تھے۔ پاکستان اور چین کے مابین تاریخ ساز19 معاہدوں پر دستخط ہوئے جن میں توانائی کے34 ارب ڈالر کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ گویا ساٹھ گھنٹوں میں 42 ارب ڈالر کا قرض قوم کی قسمت میں لکھا گیا ہے اور حکومت اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان ہی کیوں دنیا اور خاص طور پر چین کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چین یہاں اپنی سرمایہ کاری محفوظ سمجھتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک یہاں کی غیر یقینی صورت حال کے باعث سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چین پاکستان میں جو سرمایہ کاری کررہا ہے اُس کے لیے مارکیٹ بھی خود ہی پیدا کررہا ہے جس کے لیے بھارت اور سارک کے دیگر ممالک اُس کا انتخاب ہیں۔ اس خطہ میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے آئی ایم ایف کے دبائو یا خود احتسابی کے باعث ریگولیٹری سسٹم بنایا ہے۔ 
اس وقت پاکستان کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے انتظامی اصلاحات کرنے والی جنوبی ایشیا کی 5 معیشتوں میں شامل ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں سے مقامی تاجروں کے لیے کم از کم ایک ریگولیٹری ریفارم کا نفاذ کرنے والے چار ممالک میں شامل ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان نے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے سرحدوں کے آر پار تجارت کو مزید آسان کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2005ء کے بعد سے خطے کی تمام معیشتوں نے کاروباری ماحول میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ اس عرصہ میں بھارت نے سب سے زیادہ ریگولیٹری ریفارمز کیں جن کی تعداد20 ہے، دوسرے نمبر پر سری لنکا ہے جس نے 16 اصلاحات کی ہیں۔ وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کے ترجمان عامر ضمیر کے بقول پاکستان چین معاہدوں میں تمام سرمایہ کاری چین کی جانب سے کی جائے گی، توانائی پراجیکٹس پر کوئی قرضہ یا امداد نہیں دی جائے گی، چینی حکومت کی اپنی کمپنیاں پاکستان میں بجلی کے چار منصوبے لگائیں گی۔ یہ تو ترجمان کا مؤقف ہے لیکن حقائق یہ ہیں کہ چین کے پاس اس وقت 2200 ارب ڈالر سرپلس پڑے ہوئے ہیں اور وہ ان پیسوں سے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کررہا ہے جس کا بنیادی مقصد طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے چینی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان کے ساتھ کیے جانے والے حالیہ معاہدے بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور یہ امداد نہیں بلکہ غیر اعلانیہ قرض ہے جو ہماری معیشت کی ہڈیوں سے وصول کیا جائے گا۔ چین کی ایک کمپنی ہواوے نے اس وقت پاکستان میں ٹیلی کام کے شعبے میں 34 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور یہ ٹیلی کام کمپنیاں صارفین کے ذریعے وصولیاں کرکے چینی کمپنی کو مالی فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ حال ہی میں بیجنگ میں ہونے والے حکومت کے ساتھ چینی کمپنیوں کے معاہدے بھی سرمایہ کاری کی شکل ہیں اور یہ پیسہ بہتر منافع کے ساتھ واپس بیجنگ جائے گا جس کی ضمانت حکومتِ پاکستان نے دی ہے۔ 
حکومت جس کی بھی ہوگی ان معاہدوں پر عمل کرنا لازم ہوگا۔ ان معاہدوں کو قانون کی نظر سے لازمی دیکھنا ہوگا، کیونکہ عالمی سرمایہ کاری کے قوانین بہت واضح ہیں۔ ایک عالمی ادارہ فیڈک کے نام سے کام کررہا ہے جس نے تمام ملکوں کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے رہنما اصول دیے ہوئے ہیں اور تمام ملک ان اصولوں پر چل رہے ہیں، پاکستان میں بھی اسی اصول کے تحت پیپرا رولز بنائے گئے ہیں۔ چین کے ساتھ ہونے والے یہ تمام معاہدے پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہیں۔ جب بھی دو ملک باہمی معاہدہ کرتے ہیں تو دو بنیادی اصول مدنظر رکھے جاتے ہیں۔ کیا یہ معاہدے حکومتوں کے مابین ہیں یا ایک جانب حکومت اور دوسری جانب نجی شعبہ ہے؟ چین کے ساتھ ہونے والے یہ معاہدے نئی طرز کے ہیں کہ چین کی حکومت اپنی کمپنیوں کو طے شدہ شرائط پر قرض دے رہی ہے جس سے یہ کمپنیاں حکومتِ پاکستان سے معاہدہ کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ بجلی کے شعبے میں ہونے والے یہ معاہدے وہی ہیں جو پیپلزپارٹی نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے تھے اور ملک میں کام کرنے والی یہ غیرملکی نجی پاور کمپنیاں ملک کی کسی عدالت، پارلیمنٹ یا حکومت کو جواب دہ نہیں ہیں، وہ اپنی مرضی سے صارفین کے لیے نرخوں کا فیصلہ کررہی ہیں اور حکومتِ پاکستان مقررہ قیمتوں کے مطابق صارفین سے پیسے وصول کرکے انہیں دے رہی ہے۔ لہٰذا ان معاہدوں کے نتیجے میں مستقبل میں کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں اس کا ایک ہلکا سا جائزہ نجی کمپنیوں کے حالیہ رویّے سے لیا جاسکتا ہے۔
اس کے مقابلے میں دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ اگر یہاں مقابلہ بازی کرائی جائے اور ٹینڈر جاری کیے جائیں تو یہاں سرمایہ کاری کرنے والے امن وامان کی صورت حال بھی دیکھیں گے اور یہ بھی جائزہ لیں گے کہ انہیں مناسب منافع مل سکے گا یا نہیں؟ چین کی حالیہ سرمایہ کاری محض اس لیے ہورہی ہے کہ وہ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ مارکیٹ سمجھتا ہے اور یہاں دوسری اقوام کا راستہ بھی روک رہا ہے۔ خطہ کی صورت حال کے باعث اسے کسی حد تک یہاں عسکری قیادت کا بھی اعتماد حاصل رہا ہے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے ’’کارخانوں‘‘ کے لیے اس کی مالی معاونت دونوں ملکوں کے لیے مفید رہی ہے لیکن عام صارف کے لیے ان معاہدوں میں کوئی اچھی خبر نہیں ہے کیونکہ چینی کمپنیاں بجلی اپنی من پسند قیمت پر واپڈا کو بیچیں گی اور واپڈا صارفین سے پیسے بٹورے گا۔ 
اس کے باوجود بھی اگر وزیراعظم کا خیال ہے کہ چین کی مدد سے ملک میں سستی بجلی آنے کے ساتھ ترقی بھی آجائے گی تو یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان معاہدوں سے دو دہائیوں سے جاری توانائی کے بحران کے حل کے لیے23 سو میگاواٹ کے قریب بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہونے کی توقع ہے، مگر یہ مہنگی بجلی خریدے گا کون؟ چین پاکستان میں دو ایٹمی بجلی گھروں کا معاہدہ بھی کرچکا ہے اور ان کی تنصیب کا آغاز ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ کا شکوہ ہے کہ ہمارے وزیراعلیٰ (کے پی کے)کو کیوں نہیں ساتھ لے جایا گیا! عمران خان کو کوئی تو سمجھائے کہ آپ بچ گئے ہیں۔ تحریک انصاف ان معاہدوں کی حقیقیت سے قوم کو آگاہ کرے تو واقعی اسے نجات دہندہ کہا جائے گا، ورنہ بے مقصد دھرنوں کی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
جس طرح کے معاہدے وزیراعظم نے بیجنگ میں کیے ہیں، ایسے ہی معاہدے گزشتہ ماہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ آصف علی زرداری کے ہمراہ چین جاکر کرچکے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت اور ملک کی دیگر اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان معاہدوں کو پارلیمنٹ میں لانے پر مجبور کریں اور پارلیمنٹ سے ہی توثیق کرانے پر زور دیں، اور پارلیمنٹ میں یہ جماعتیں قوم کی رہنمائی کے لیے اپنا نکتہ نظر بیان کریں۔
ملک میں بجلی کے علاوہ گیس کا بھی بحران ہے۔ جب سے اکبر بگٹی قتل ہوئے ہیں سوئی میں گیس فیلڈ بحران کا شکار ہے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکومت دھوکا دینے کے لیے کہہ رہی ہے کہ ملک میں گیس کی کمی ہے لہٰذا ایل این جی درآمد کرانا ضروری ہے۔ یہ ایل این جی بھی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرکے درآمد کی جارہی ہے جس کے لیے نہ بولی ہوئی اور نہ ٹینڈر جاری ہوئے۔ پہلے یہ گیس اِس سال پاکستان آنا تھی، اب کہا جارہا ہے کہ 2015ء کے آغاز میں آنا شروع ہوجائے گی۔
پاکستان میں غربت کا مسئلہ۔ایک ملک گیر سروے
حال ہی میں ایک ملک گیر سروے کیا گیا ہے جس کے نتائج بتاتے ہیں کہ ہم آج بھی معاشی ترقی کے اعتبار سے تیس سال پیچھے کھڑے ہیں۔1981ء میں پاکستان میں غربت کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 50 فیصد پاکستانیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ غریب لوگ بدقسمتی کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں۔ 40 فیصد کا خیال تھا کہ وہ غریب خاندانوں میں پیدا ہونے کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں۔ 17 فیصد کا خیال تھا کہ وہ محنتی نہیں ہوتے۔ 13 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ روزگار کے لیے بیرون ملک نہیں جاتے۔ 18 فیصد کا خیال تھا کہ وہ غیرقانونی ذرائع سے نہیں کماتے۔ 33 سال بعد انہی سوالوں پر مبنی سروے کیا گیا ہے۔ 2014ء کے سروے کے مطابق 43 فیصد لوگوں نے غریب ہونے کو بدقسمتی اور 44 فیصد نے غریب خاندانوں میں ان کی پیدائش کو غربت کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔15 فیصد نے کہا کہ وہ محنتی نہیں ہوتے۔ 9 فیصد نے کہا کہ وہ روزگار کے لیے بیرون ملک نہیں جاتے۔ 20 فیصد نے کہا کہ وہ ناجائز ذرائع سے نہیں کماتے۔11 فیصد نے ناخواندگی کو غربت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ یہ ملک گیر سروے کے نتائج ہیں۔ حقائق کا ایک رخ یہ ہے کہ ملک میںاس وقت سونے، چاندی اور دیگر دھاتوں کی 147 کانیں ہیں لیکن ان پر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ چین کی کمپنیاں سونے اور چاندی کی کانوں پر کام کررہی تھیں لیکن وہ کوئلے کے بہانے یہاں سے سونا اور چاندی اکٹھا کرکے تجزیے کے لیے لے جاتی رہیں اور کچھ معلوم نہیں کہ کیمیکل تجزیے کے نام پر یہاں سے کتنی مقدار میں سونا اور چاندی لے جایا گیا ہے۔
میاں منیر احمد
Pakistan Foreign Debts