ریکوڈک کا منصوبہ ، بے بس وزیراعلیٰ…..

بلوچستان شاید ہمیشہ سے ہی بدقسمت رہا ہے کیونکہ یہاں کوئی بھی حکومت ایسی نہیں رہی جس نے عوام کا مفاد پہلے سوچاہو ۔ اب جبکہ ایک بڑا منصوبہ جس کا سودا سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں ہوگیا تھا اب اس کے حوالے سے مزید نئے انکشافات اور سودے بازیاں سامنے آرہی ہیں ۔
بلوچستان میں ڈاکٹر مالک بلوچ کی منمناتی حکومت کیلئے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پر ریکوڈک جو دنیا میں کاپر (Copper)کے دس بڑے ذخائر میں شامل ہے کی فروخت اور سودے بازی میں کک بیکس (خفیہ معاہدے کے تحت رقم لینا) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جس کی وضاحت کیلئے انہوں نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے عالمی ثالثی عدالت برائے بین الاقوامی سرمایہ کاری میں کیس کی پیش رفت سے پیرس سے واپس آنے کے بعد فوری کیوں آگاہ نہ کیا گیا ۔ اور اب الزامات کے بعد اس کے بارے میں بتارہے ہیں۔ بقول ان کے یہ انتہائی اہم اور عوام کے مفاد کا منصوبہ ہے، لیکن پھر بھی انہوں نے اس کی اہمیت اور کیس کے حوالے سے عوام کو اُس وقت تک بتانا ضروری نہیں سمجھا جب تک اُن پر الزام نہ لگ گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ٹی تھیان کاپرکمپنی  بلوچستان منرلز رولز کی خلاف ورزی کی اور6کلو میٹر پر مشتمل ذخائر کی فزیبلٹی رپورٹ تاخیر سے جمع کرکے مائننگ کیلئے 90کلو میٹر کا لائسنس طلب کیا ۔گویا یہ بلوچستان ہے، جو بھی آتا ہے شاید حکومت یا بیوروکریسی کو دیکھ کر وہ فریب دھوکہ دہی اور ناجائز منافع کمانے پر جت جاتا ہے ۔دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق جس کا تذکرہ ایک نیوز چینل کے اینکر نے بھی کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر بڑے ناموں نے بھی منصوبے پر کک بیکس سے فائدہ اٹھایاجو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ۔
جبکہ ایک اور رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جیسا ارسلان افتخار نے وعدہ کیا تھا بالکل اسی طرح ان کے استعفے سے قبل کان کنی اور مالیاتی شعبہ میں سرگرم ایک آسٹریلوی ،کینڈین اور امریکی کمپنیوں کی مشترکہ کمپنی (کنسورشیم ) ریکوڈک کے سونے کی کان کیلئے نیلامی میں اپنی بولی میں تبدیلی لاکر اسے 100ارب ڈالرز تک پہنچاکر دوبارہ پیش کرنے پر غور کررہی ہے اور یہ رقم آئندہ 30سال میں ادا کی جائیگی ۔امریکی کپنی پہلے ہی ریکوڈک کے مقام سے قریب ہی ایک اورمقام پر سرگرم عمل ہے جبکہ آسٹریلوی بینک پانچ برس میں چار ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے تاکہ ریکوڈک سے سونااور تانبا نکالا جاسکے ۔
کینڈین اور چلی کی جس مشترکہ کمپنی کو سپریم کورٹ نے ریکوڈ کے پروجیکٹ سے باہر کردیا تھا اس نے پیش قیمت قدرتی ذخائر نکلنے کے بعد پچاس برسوں میں صرف 56ارب ڈالرز دینے کا وعدہ کیا تھا یہ مشترکہ کمپنی ریفائننگ کیلئے خام مال پاکستان سے باہر لیجانا چاہتی تھی۔ اس پروجیکٹ سے باہر نکالی جانے والی ان کمپنیوں نے پاکستان کیخلاف عالمی عدالت میں ثالثی کا مقدمہ بھی دائر کررکھا تھا تاہم یہ دونوں کمپنیاں مقدمہ ہار چکی ہیں ۔
اس شو میں مزید نئے رنگ سامنے آرہے ہیں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کو بچانے کے دعویدار صوبے کے وسائل بیچنے کیلئے سب کو راضی کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے ریکوڈک کا سودا طے کرلیا ہے میڈیا کو خاموش کرانے کیلئے بھی 17کروڑ مختص کیے ہیں۔ لندن میں غیر ملکی کمپنی کے دفتر میں اعلیٰ شخصیت کے بیٹے نے تمام تر معاملات طے کرلیے ہیں ۔جن کا وقت آنے پر پردہ چاک کرونگا ۔
دوسری جانب بلوچستان کے اپوزیشن لیڈر اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ ریکوڈک کا سودانہیں کرنا چاہتے تو 13دسمبر کو کو لندن کچھ غیر ضروری لوگوں کیساتھ کس مقصد کیلئے جارہے ہیں وہ اس خوش فہمی میں نہ رہیں اگر ریکوڈک کا سودا کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں ریکوڈک بچاؤ تحریک شروع کی جائے گی ۔
اِن تمام تر خدشات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ریکوڈک نے کوئٹہ میں آفس کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا اور تمام چیزیں اسلام آباد منتقل کرکے صوبے سے بھرتی ہونیوالے ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے جنہیں کہا گیا کہ ریکوڈک کو فروخت کردیا گیا ہے ۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرون خانہ بہت کچھ چل رہا ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکومتی عہدیداروں کیلئے کڑا متحان ہے۔
کہا یہ جاتا تھا کہ جس دن اِس صوبے سے سرداروں اور وڈیروں سے اقتدار ، قوم پرستوں کو منتقل ہوجائے گا تو صوبے کے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوجائیں گے مگر افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔ کیونکہ صوبے میں قوم پرست حکومت کے آنے کے باوجود امن وامان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی بم دھماکے ،مسخ شدہ لاشوں کا ملنا بدستور جاری ہے ۔ ۔۔۔ مستقبل میں کیا ہوتا ہے ؟ اِس کا اندازہ تو ہرگز نہیں مگر اُمید اچھی رکھنی چاہیے۔ لیکن یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ریکوڈک ہمارا قومی اثاثہ ہے ۔۔۔۔ ایک ایسا اثاثہ جس مستفید ہوکر ملک کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے ۔۔۔۔ اِس لیے حکمرانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اِس قومی اثاثہ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے اگرایسا ہوا تو نتائج خطرناک بھی ہوسکتے ہیں۔
میر ہزار خان بلوچ

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے…..

یہ کوئی نئی بات نہیں ۔۔۔۔ اِ س مملکت خداداد میں ایسا تو ہوتا ہی ہے ۔۔۔۔ جیسے ایک مشہور فلم کا ڈائیلاگ ہے کہ ’بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں‘۔
یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔ جب اقتدار پر قبضہ ہو توانسان سب کچھ بھول جاتا ہے ۔۔۔۔ اور جیسے ہی اقتدار ہاتھوں سے پھسلا ۔۔۔۔ یادداشت ایسے بحال ہوتی ہے جیسے گھر میں ڈیڑھ گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ کے بعد بجلی بحال ہوتی ۔
بات کو طویل کرنے کے بجائے نقطہ پر آتے ہیں ۔۔۔۔ نقطہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے سابق صدر محترم جناب پرویز مشرف کی یادشات بھی گزشتہ دنوں اِسی طرح بحال ہوئی ہے ۔ پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہکوئی پاکستانی بھی امریکہ کو قابل اعتبار اتحادی نہیں سمجھتا ۔مشرف صاحب کی جانب سے کیا جانے والا یہ انکشاف ، ایک ایسا انکشاف ہے جس پر شاید کوئی ایک بھی پاکستانی حیران نہیں ہوگا ۔۔۔۔ کیونکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے یہ قوم روز اول سے نہ صرف اچھی طرح آگاہ ہے بلکہ قرب میں بھی مبتلا ہے کہ قوم میں اِس قدر تحفظات اور نفرت کے باوجود کیونکر ہمارے حکمرانوں نے اپنا قبلہ امریکہ کی جانب کیا ہوا ہے ۔
تو اب قوم کو بتلانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے دو چہرے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ایک چہرہ وہ جب وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ دوسرا چہرہ وہ جب اُن سے زیادہ عوامی لیڈر کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ جب ہمارے حکمراں اقتدار میں ہوتے ہیں تو پھر ہر حقیقت اُن کو جھوٹ اور ہر جھوٹ اُن کو حقیقت لگتی ہے اور جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اُن کو سب ویسا ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جیسا حقیقت میں ہوتا ہے۔
چلیں آپ کو مثال بھی دیے دیتے ہیں ۔۔۔۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے نوازشریف اور اُن کی ٹیم اُس وقت کی حکومت پر عوامی مسائل حل کرنے کے لیے دباو بھی ڈالتی تھی، پھر ہر غلطی پر تنقید بھی کرتی تھی، مہنگائی اور بیروزگاری پر بُرا بھلا بھی کہتی تھی ۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھ دینے پر تنقید بھی کی جاتی تھی ۔۔۔۔ مگر اب سب کچھ اُلٹ گیا ہے ۔۔۔۔ جو تنقید نواز شریف ، پیپلزپارٹی کی حکومت پر کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ آج وہی تنقید خود اُن کی حکومت پر ہورہی ہے ۔۔۔۔ اورتنقید کرنے والے بیشمار افراد اور گروہ میں سے ایک پیپلزپارٹی بھی ہے جس پر خود یہ الزام اُس کے دورِ حکومت پر لگتے آئے ۔۔۔۔
اِس ساری بات کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب مفادات کا کھیل ہے ۔۔۔۔ مشرف صاحب نے 11 پاکستان پر حکومت کی ۔۔۔۔ اور یہی وہ دور تھا جب دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا اور پاکستان اِس کھیل میں امریکا کا صفِ اول کا اتحادی تھا ۔۔۔۔ اور اِس اتحاد پر مشرف اور اُن کی حکومت فخر محسوس کیا کرتے تھے۔
لیکن چونکہ وہ حکومت کے مزے ختم ، وہ یادگار دور ختم ۔۔۔۔ تو اب سچ بولنے میں بھلا کونسا نقصان ہے ۔۔۔۔ بلکہ اِس موقع پر سچ بولنے سے تو عوام کی حمایت حاصل کی جاسکتی ہے اور جب ہو عوام آپ کے ساتھ تو پھر آسانی سے مل سکتا ہے اقتدار۔۔۔۔
لیکن پھر بھی ۔۔۔۔ یہاں یہ سوال تو بنتا ہے کہ سرکار ، آپ اِس حقیقت سے کب آگاہ ہوئے کہ ہم یعنی پاکستانی امریکہ کو بااعتماد اتحادی نہیں سمجھتے ؟ اگر تو اِس حقیقت کا انکشاف حال ہی میں کسی خواب کے ذریعے ہوا ہے تو ہمیں آپ کی طرف سے سچ بولے جانے کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔۔۔۔ مگر آ پ جیسے بڑی شخصیت کے بارے میں یہ تصور بھی محال ہے کہ آپ اِتنی بڑی حقیقت سے ناآشنا ہوں ۔۔۔۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے کہ چونکہ آپ نے بھی ہم پر حکومت کی ہے اِسی لیے آپ کے بھی دو چہرے تھے ۔۔۔۔ ایک چہرہ وہ تھا جب آپ ہم پر حکومت کررہے تھے اور ظاہر ہے اُس دور میں آپ کے لیے سچ کو جھوٹ بولنا بنتا تھا ۔۔۔۔ اور اب آپ عوامی لیڈر بننے کی خواہش دل میں لیے بیٹھیں ہیں تو ظاہر ہے عوامی باتیں تو کرنی ہی ہونگی ۔۔۔
اِس ساری بات کے بعد خواہش تو یہی ہے کہ کاش ہمارے حکمران دو چہروں سے جان چھڑاکر ایک ہی چہرے پر گزارا کرلیں ۔۔۔۔ جس حقیقت کو وہ اقتدار کے بغیر حقیقت سمجھتے ہیں ۔۔۔۔ اگر اُسی حقیقت کو اقتدار میں بھی حقیقت سمجھ لیں تو ہمارے مسائل کا حل کچھ ہی مہینوں کے بجائے شاید کچھ ہی دنوں میں حل ہوجائیں وگرنہ ہم اِسی طرح دیر کرتے رہیں گے اور مسائل کے انبار میں دبتے رہینگے۔
فہیم پٹیل

Gaza Docter Mads Gilbert named Norway’s person of year

Mads Gilbert, 67,whose day job is head physician and anaesthesiologist as the University Hospital of North Norway, spent more than fifty days treating many of the 11,000 injured in this summer’s conflict. Gilbert was vocal in his criticism of Israel during the war, describing the country’s actions as “state terrorism at the highest levels.” Israel later banned the doctor from Gaza. The ban was officially for security reasons, but Gilbert himself claimed the ban was due to his comments about the war. Israel denied reports that the ban was for life.
He gave graphic accounts to international media of the situation in Gaza’s hospitals, describing how civilians were “maimed and torne apart”. In an open letter to the Lancet medical journal, he and a number of other doctors said they were “appalled by the military onslaught on civilians in Gaza under the guise of punishing terrorists.”Gilbert’s is a controversial figure in Norway, where he is considered to be on the far-left fringe of politics. Following the 9/11 attacks in 2001 he said he supported terror attacks against the US, saying western foreign policy justified them.
The award was the result of a vote among VG’s readers. Explaining the award, VG’s editor Torry Pedersen described Gilbert as a “self-sacrificing, engaged Norwegian doctor who again and again has risked his life, has stood in the middle of a bloodbath in Gaza, and who has just one goal: to save the lives of as many children as he can.”Accepting the prize, Gilbert said he interpreted the award as support, “not primarily for me, but for the long-suffering Palestinian people. I think that people are longing for plain speaking, to know what’s really happening in Gaza. I’m trying to fill that role as best I can.”
Who is doctor Mads Gilbert?
Born in Oslo, 1947.
Head physician specializing in anesthesiology at University Hospital of North Norway.
Over 30 years working in international conflict areas, especially Gaza.
Awards include Fritt Ords Honorary Prize (2009).
Appointed Commander to the Order of St Olaf (2013).
Received PhD at University of Iowa.

مسئلہ ملالہ یوسف زئی…..

’’عمر کے ساتھ ساتھ شاید ملالہ دین اسلام سے کنارہ کش ہوجائے‘‘۔ یہ کسی ملّا، مفتی، یا مولانا کا ارشادِ عالیہ نہیں، نہ ہی یہ کسی سازشی نظریہ کوئی شرارت ہے، نہ ہی فیس بک پر ابھرنے والی کسی ہاہاکاری کا نتیجہ ہے۔ الا ماشاء اللہ! یہ الفاظ نظریۂ الحاد کے عالمی سرخیل اور ترجمان رچرڈ ڈاکنزکی توقع ہے، امید ہے۔ رچرڈ ڈاکنز نے یہ توقع کفِ افسوس مَلتے ہوئے نہیں بلکہ فرطِ مسرت میں ظاہر کی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ رچرڈ ڈاکنز نے بذریعہ ٹوئٹس ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام کی نامزدگی پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے، جس پر رچرڈ ڈاکنزکے شاگرد چراغ پا ہوگئے کہ ایک مذہبی لڑکی کی حوصلہ افزائی کیوں کی؟
 حجاب (سر پر چادر اوڑھنے والی) کرنے والی لڑکی کوکیوں مبارک باد دی؟ جس پر رچرڈ ڈاکنز نے ملالہ کا دفاع کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’’ہاں ملالہ مذہبی ہے مگر برائے مہربانی ملالہ کو کچھ وقت دیجیے، جوں جوں وہ تعلیم یافتہ ہوتی چلی جائے گی اسلام سے کنارہ کش ہوجائے گی‘‘۔ رچرڈ ڈاکنز نے اور بھی بہت کچھ لکھا اور کہا، مگر فی الحال ملالہ سے وابستہ اُس کی یہی توقعات غور طلب ہیں۔ عقیدۂ الحاد سے وابستہ دانشور ملالہ کو کس طرح دیکھ رہے ہیں، یہ رچرڈ ڈاکنزکی توقعات میں نمایاں ہے۔ مسئلۂ ملالہ کے ایک اور زاویے کی طرف چلتے ہیں۔
دنیا بھر کی توجہ اور پذیرائی کے باوجود ملالہ تنہائی محسوس کررہی ہے۔ ملالہ اور اُس کا خاندان برطانیہ میں الگ تھلگ اجنبی زندگی سے گزر رہے ہیں۔ اب تک ملالہ ساتھی طلبہ کو دوست بنانے اور اُن میں گھلنے ملنے میں ناکام ہے۔ باوجود اس کے کہ ملالہ سترہ سال کی ہوچکی ہے، فیس بک اور موبائل فون استعمال نہیں کرتی۔ ہاں ہفتے میں ایک بار بچپن کی سہیلی سے اسکائپ پر بات کی سہولت میسر ہے۔ ملالہ کی موجودہ زندگی ’’بڑوں‘‘ کی نگاہوں میں ہے۔ یہ سب باتیں کوئی پروپیگنڈہ نہیں۔ یہ توامریکہ کے نامی گرامی اخبار نیویارک ٹائمزکی نیوز سروسز کا مضمون ہے۔Making friends in school note easy even for a Nobel Peace Prize winner, New York Tims News Service)
اس مضمون سے چند سوالات ازخود کھڑے ہوگئے۔ آخر دنیا کے سامنے فرفر شستہ انگریزی (خواہ لکھ کر دی ہوئی ہی سہی) میں فروغ تعلیم کے گراں قدر منصوبوں سے آگاہ کرنے والی ملالہ کیوں تنہائی کا شکار ہے؟ کیوں فیس بک یا موبائل فون کا استعمال نہیں کرتی؟ مضمون بتاتا ہے کہ ملالہ تعلیم میں خلل سے بچنے کے لیے ایسا کرتی ہے، مگر کیا پورے مغرب میں سترہ سالہ کوئی لڑکی اس سبب فیس بک یا موبائل فون سے پرہیز کرتی ہے؟ نہیں، عقل نہیں مانتی۔ ملالہ شٹل کاک برقع میں دقیانوسی گھرانے کی پسماندہ ذہنیت رکھنے والی لڑکی تھوڑا ہی ہے۔ ملالہ تو مُلّا و مسجد سے دور آزاد دنیا کی چہیتی ہے۔ مگر پھر بھی یہ مضمون کم و بیش ملالہ کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جسے قیمتی فریم میں شہرت کے رنگوں سے قید کردیا گیا ہو۔ ایک ایسی نوجوان لڑکی جس کے نشوونما پاتے شعور کو خاص سانچے میں دھیرے دھیرے ڈھالا جارہا ہو۔
مسئلۂ ملالہ کا ایک اور سنگین پہلو برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے’’تعاون‘‘ سے لکھی گئی آپ بیتی “I am Malala” ہے۔ دنیا بھر کے بچوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے آواز اٹھانے والی ملالہ کی آپ بیتی لکھنے والی کرسٹینا لیمب خود اسکول کی نالائق طالبہ تھی۔ کرسٹینا لیمب کی صحافتی زندگی کا پہلا بڑا کام 1987ء میں بے نظیر بھٹو کا انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو کے بعد کرسٹینا لیمب بے نظیر بھٹو کی شادی میں بھی شریک ہوئی۔ کرسٹینا لیمب بتدریج پاکستان میں غیر ملکی صحافی نمائندہ کی حیثیت سے سرگرم ہوئی۔
 کشمیر اور افغانستان کے مجاہدین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے مشکوک حرکات میں ملوث نکلی۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ رپورٹنگ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ یہاں تک کہ آئی ایس آئی نے کرسٹینا لیمب کو پاکستان سے بے دخل کردیا، جس کے بعد کرسٹینا لیمب کو ملالہ کی کتاب کے راستے پاکستان میں گھسنے کا موقع مل گیا۔ کرسٹینا لیمب کے علاقائی دوستوں میں بے نظیرکے علاوہ حامد کرزئی اہم نام ہے۔ یہ توحال ہے اس صحافی کا جس نے ملالہ کی کتاب میں ’’خاطر خواہ‘‘ حصہ ڈالا ہے۔ 
کتاب کے مواد میں موجود مسائل کی سنگینی اپنی جگہ ہے۔ اسلام پر مغرب کے پھٹے پرانے بوسیدہ پروپیگنڈے کو پھرکرسٹینا لیمب نے سترہ سالہ لڑکی کے ذریعے حیاتِ نو بخشنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی ہے۔ اس کتاب پر انگریزی ادب کے ایک پروفیسر سے یونہی تبادلہ خیال ہوا تو محترم نے تعجب سے کہا کہ ’’مغرب مسلمانوں کوکس قدر بے وقوف سمجھتا ہے؟‘‘ تضیع اوقات سے بچنے اور دلائل کی زحمت سے بچانے کے لیے محض کتاب کے متنازع موضوعات کا ذکر ہی کافی ہوگا۔ ملالہ یوسف زئی کی بزعم خود نوشت میں ملعون سلمان رشدی کے لیے اظہارِ ہمدردی کیا گیا ہے۔ 
سلمان رشدی کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کا فلسفہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی کے منہ میں ڈال کر زہرافشانی کی گئی ہے۔ کتاب کا ایک موضوع ’’ضیاء دور‘‘ پر لعن طعن ہے، وجہ اس دور میں اسلامی احکامات کی قانونی صورت گری ہے۔ ضیاء الحق کی شہادت کے تقریباً دس سال بعد پیدا ہونے والی ملالہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی قوانین کو ضیاء دور کا سیاہ کارنامہ قرار دیا ہے، جو ظاہر ہے کرسٹینا لیمب کی شرارت ہے۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ قادیانیوں کے لیے اقلیت کا اسٹیٹس بھی ملالہ کو پسند نہیں۔ ملالہ کو برقع چائے کی کیتلی معلوم ہوتا ہے۔ غرض پاکستان اور اسلام کے خلاف جتنا بھی مغربی پروپیگنڈہ ہوسکتا تھا، وہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی اور معصوم ملالہ یوسف زئی کے تعاون سے کرسٹینا لیمب نے اس کتاب میں ٹھونس دیا ہے۔ ملالہ کی آپ بیتی میں ابا حضور اورکرسٹینا لیمب جگہ جگہ چھلانگیں مارتے نظر آتے ہیں۔ اردو میں اس کتاب کا نام ’’میں ہوں جھوٹ کا پلندہ‘‘ انتہائی مناسب ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب شاید لکھی ہی مغربی بازاروں کے لیے گئی ہے جہاں صرف جھوٹ بکتا ہے، خوب بکتا ہے، اور ہزاروں کاپیاں خود ہی خرید کر اپنے ہی اخباروں میں اسے best selling کی مہر لگادی جاتی ہے جیسے گویا زیادہ بک جانا اس بات کا ثبوت ہو کہ کتاب بہت معتبر اور معیاری ہے۔ ہمارے یہاں بھی گندم فام انگریزوں کا طبقہ ایسی BEST SELLING BOOKS سے شدید متاثر ہے۔ کتاب “I AM MALALA” پاکستان میں اپنا ہدف حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہی، اسکولوں نے نہ صرف اس کتاب پر پابندی لگادی بلکہ طلبہ نے I AM NOT MALALAڈے بھی مکمل شعور کے ساتھ منایا۔
مغرب میں ملالہ کا ماڈل بھی فی الحال ایک مسئلہ ہے۔
 لیڈی گاگا سے لے کر بیانسے تک، اور اس سے آگے نہ جانے کون کون سی واہیات ہستیوں نے ملالہ کی تعریف و توصیف میں پلوں کے پُل باندھ دیے۔ مغربی دنیا میں ملالہ عورت اور تعلیم کے حقوق کے لیے مثالی نمونہ بن گئی، مگر لاکھوں پرستار لڑکیوں اور ہالی وڈ فنکاراؤں میں سے کسی ایک نے بھی ملالہ یوسف زئی کا حلیہ یا عقیدہ نہیں اپنایا، کیونکہ یہ سب اُس ملالہ کے دیوانے ہیں جس کا انتظار رچرڈ ڈاکنزکو ہے۔
مغرب کے ملالہ پراجیکٹ پر سرمایہ کاری اُس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ مسئلۂ ملالہ ناقابلِ حل صورت اختیار کرگیا۔
معصوم ملالہ ابا حضور کی اعلیٰ تعلیمات اورکرسٹینا لیمب کی مشکوک تربیت کی وجہ سے ہر سمت سے مسائل میں گھر چکی ہے۔ ملحدین کے لیے ملالہ کا مذہبی ہونا مسئلہ ہے۔ مولوی حضرات کے لیے ملالہ کی دین سے ناواقفیت مسئلہ ہے۔ اہلِ مغرب کے لیے مثالی ملالہ کا مشرقی حلیہ اور مذہبی وابستگی مسئلہ ہے۔ شہرت کی بلندیوں پر اجنبی ماحول ملالہ کے اپنے لیے مسئلہ ہے۔ مسائل میں گھری یہ ملالہ کون سے مسائل حل کرسکتی ہے؟ کس کے مسائل حل کرسکتی ہے؟ مسلمان لڑکی کے ہاتھوں مغرب جس قسم کی تعلیم کا فروغ چاہتا ہے، وہ مغرب کی اسلام سازی مہم کا اہم حصہ ہے۔
 تاہم اسلامی تہذیب کے خلاف سرگرم سرمایہ کاروں کے لیے ملالہ یوسف زئی منصوبہ سراسرگھاٹے کا سودا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ملالہ کو کسی سے بھی نہ بچاسکے، نہ اُس صورت حال سے جس میں وہ پاکستان میں رہی، اور نہ اُس حال سے جس میں آج وہ پھنس چکی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے لیے ملالہ یوسف زئی اب صرف ایک بھولی ہے جس کے شام تک لوٹ آنے کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
عمر ابراہیم

کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے؟……

پاکستان کے شہر پشاور کے ایک سکول میں پہلی سے دسویں جماعت تک کے ایک سو بتیس طلبہ اور ان کے نو اساتذہ کے بہیمانہ قتل نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے انسان نہیں بھیڑیے ہیں۔ جن کی ظالمانہ دہشت گردی کا یہ بچے نشانہ بنے ہیں۔ یہ امریکا کی ریاست کولمبیا اور نیو ٹاون کے لوگ ہوں یا ناروے میں کی جانے والی دہشت گردیکا نشانہ بننے والے معصوم لوگ۔ یا پھر اب پشاور میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ، سب کا نتیجہ ایک ہی ہے۔
 خون کا بہنا اور بے گناہوں کی جانوں کا خوفناک ضیاع۔ لیکن پشاور میں قتل و غارتگری کے مرتکب ہونے والے کسی ذہنی عارضے کا شکار لوگ نہ تھے، بلکہ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے اور شعوری طور پر اس گھناونے جرم کی منصوبہ بندی کی۔ یہ سب موت کے نمائندے تھے جنہوں نے خود کو بارود سے آڑایا یا انہیں بعد ازاں آپریش کر کے مارا گیا۔
لیکن میرے خیال میں یہ بات اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس امر کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں کہ اس سانحے اور ایسے ہی دیگر سانحات کے پیچھے موت کے کون کون سے سوداگر تھے۔ جو ان معصوم بچوں کی موت کا سبب بنے۔ طالبان جن کے اس واقعے کے پیچھے ہونے کا امکان غالب ہے کہ پاک فوج کے بارے میں وہ اپنے تحقیر آمیز خیالات سامنے لاتے رہتے ہیں اور تعلیم مخالف رجحانات کا بھی اظہار کرتے رہتے ہیں۔
تاہم ان حملوں کو پاکستان میں موجود سیاسی صورت حال کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جب عوام کی منتخب کردہ حکومت قائم ہے لیکن لوگوں کو یہ یقین دلانے سے قاصر ہے کہ ”ہاں فوج بیرکوں تک محدود ہے ۔” بلکہ اہم ترین سیاستدانوں نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کے درمیان ایک جنگ کی سی کیفیت جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان ان کی وجہ سے عملاً ان لوگوں کی وجہ سے مفلوج رہا ، جنہوں نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ان کی طرف سے تھا جنہوں نے چند ماہ سے ملک میں کنٹینر سیاست شروع کر رکھی ہے۔ وہ انتخابی عمل از سر نو چاہتے ہیں۔ 
یہ سب کچھ انتہا پسندی کے رینگ رینگ کر آگے بڑھنے، مذہبی نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے ذریعے ایک مکمل افراتفری پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے نہ ان قاتلوں کے بڑوں اور انہیں آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے والوں کو مزید سازشوں کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
اہل پاکستان کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق ہے کہ وہ ایک محفوظ اور باوقار زندگی گذار سکیں۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے بڑوں کو اپنےاختلافات ایک طرف رکھنا ہوں گے اور اپنی حب الوطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے وطن کو محفوظ بنانا ہو گا۔ لیکن نئے پاکستان کے نعرے اور گانے مفید نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ پاکستان کے ایک سینئیر بیورو کریٹ اور پاکستان کے کئی عشروں سے تلخ ماہ و سال کے عینی شاہد روئیداد خان نے دو عشرے پہلے ہی اپنی تصنیف ” ایک خواب جو تلخ ہو گیا ”لکھ دی تھی۔ پشاور میں ہونے والے تازہ سانحے نے بھی ایسی ہی صورت حال تو پیدا نہیں کر دی جس کے بعد ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ ” کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے ؟”
خالد المعینا

دنیا کے بہترین کتاب فروش (بُک اسٹورز)….

(شیکسپیئر اینڈ کمپنی ( پیرس 
فیشن اور خوش بو کی سرزمین پیرس میں ’ شیکسپیئر اینڈ کمپنی ‘ کے نام سے یہ اسٹور جارج وائٹ مین نے قائم کیا تھا۔ پیرس کے ایفل ٹاور اور دیگر خوب صورت مقامات کی طرح ’شیکپیئر اینڈ کمپنی ‘ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس اسٹور میں ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں’بی فور سن سیٹ‘ اور ’مڈنائٹ ان پیرس‘ کی عکس بندی بھی ہوچکی ہے۔ نئی اور پرانی کتابوں کی خریدوفروخت کے ساتھ یہ اسٹور انگریزی ادب کے دل داہ افراد کے لیے لائبریری کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
 El Ateneo ( بیونس آئرس، ارجنٹینا)
  سنیما گھر کی ایک تاریخی عمارت نے مطالعے کے شوقین ارجٹینی عوام کے لیے ایک عظیم الشان کتاب گھر کی شکل میں جنم لیا۔ ادب اور قدیم فن تعمیر کا خوب صورت امتزاج یہاں آنے والے ہر شخص کو اپنی خوب صورتی سے مسحور کر دیتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ El Ateneo کا شمار دنیا کے دوسرے سب سے خوب صورت بک اسٹور میں کیا جاتا ہے۔ یہ حسین بک اسٹور اپنے قیام سے اب تک 7لاکھ سے زاید کتابیں فروخت کر چکا ہے اور ہرسال دنیا بھر سے تقریباً دس لاکھ افراداس کتاب گھر کا دورہ کرتے ہیں۔ تھیٹر کے ارغوانی پردے، چھت پر نفاست سے کی گئی کندہ کاری اورمنفرد فن تعمیر نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب سے محبت پیدا کردیتی ہے۔ اس عمارت کے اندرونی حصے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور تھیٹر کی گیلریوں میں کتابوں کو بڑی نفاست سے سجایا گیا ہے۔
Libraries avant garde( نان جنگ، چین)
چین کے اس سب سے خوب صورت کتاب گھر کو ایک ایسی جگہ قائم کیا گیا ہے جو کسی زمانے میں گولہ بارود رکھنے میں استعمال کی جاتی تھی۔4ہزار اسکوائر میٹر رقبے پر محیط اس بک اسٹورز میں ہزاروں کی تعداد میں پرانی کتابیں موجود ہیں، جب کہ 300افراد کے بیٹھنے کے لیے ایک آرام دہ لائبریری بھی بنائی گئی ہے۔ یہ بک اسٹور نہ صرف سیاحوں کی دل چسپی کا محور ہے، بل کہ اسے نان جنگ یونیورسٹی کی دوسری لائبریری کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے Librairie Avant-Garde کے مالک زیان زیاؤ ہوا کا کہنا ہے کہ ’’ایک بہترین بک اسٹور میں انسانی فطرت کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو کسی بھی انسان کو مطالعے کی جانب راغب کرسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے بک اسٹور کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ یہاں آنے والا ہر فرد نہ چاہتے ہوئے بھی مطالعہ شروع کر دیتا ہے۔‘‘
Assouline Venezia (وینس، اٹلی)
اٹلی کے شہر روم میں اٹھارہویں صدی کی تاریخی عمارت میں قائم کیا گیا یہ اسٹور ہاتھ سے لکھی گئی منہگی کتابوں کی فروخت کے حوالے سے بھی مشہور ہے اور ہر سال وینس آنے والے سیاح اس کتاب گھر کا دورہ اور تحفے میں دینے کے لیے کتب کی خریداری اسی اسٹور سے کرتے ہیں۔
Livraria Lello (پرتگال)
اٹھارہویں صدی کے اس حسین ترین پبلشنگ ہاؤس کو 1906میں آرکٹیکچر انجینئر زیویئر اسٹیوز نے فن تعمیرات کا نمونہ بنادیا۔ ایک صدی بعد بھیLivraria Lello شمار دنیا کے سب سے خوب صورت کتاب گھروں میں ہوتا ہے۔ قرون وسطی دور کی تعمیرات اور جدید دور کے شیشے اور لکڑی کے کام نے اس عمارت کی خوب صورتی کو چار چاند لگادیے ہیں۔ یہ کتاب گھر پرتگال کے سب کے خوب صورت مقامات میں سے ایک ہے۔
Boekhandel Domincanen (نیدر لینڈ)
تیرہویں صدی میں گیارہ سو اسکوائر میٹر رقبے پر تعمیر ہونے والے ڈومینیکن چرچ کی عمارت کو 2006 بک اسٹور میں تبدیل کردیا گیا۔ اس قبل یہ عمارت، چرچ، آرکسٹرا اور بھیڑوں کے مذبح خانے کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔ ڈچ، انگریزی اور فرانسیسی، اسپینی اور اطالوی زبانوں میں 40 ہزار کتابوں کا ذخیرہ رکھنے والے اس کتاب گھر کی وجہ شہرت یہاں کی خوش ذائقہ کافی بھی ہے۔ اس اسٹور کے زیراہتمام سالانہ 140 سے زاید ادبی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
( پوویل سٹی آف بکس ( اوریگن
امریکی ریاست اوریگن میں واقع اس بک اسٹور کا شمار نئی اور پرانی کتابیں رکھنے والے دنیا کے سب سے بڑے کتاب گھروں میں ہوتا ہے۔ اس کثیر المنزلہ اسٹور میں ہر موضوع پر دنیا کی تقریباً ہر زبان میں چھپنے والی کتابیں موجود ہیں۔
(بک فار کک (میلبورن
اس ڈیڑھ سو سالہ کتاب گھر کی وجہ شہرت یہاں کھانا پکانے کی تراکیب پر مشتمل کتابیں ہیں۔ اس بک اسٹور پر اٹھارہویں صدی میں کھانے پکانے کی تراکیب پر لکھی گئی کتابوں کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ اس بک اسٹور کے مالک ٹم وائٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 40 ہزار سے زاید کک بک کی کیٹلاگ موجود ہے اور ان میں سے ہر کتاب کی کم از کم 30 ہزار کاپیاں ہمارے اسٹاک میں ہیں۔
(اسٹرینڈ (نیویارک
اسٹرینڈ امریکا کے قدیم کتاب گھروں میں سے ایک ہے۔ اس اسٹور میں نئی، پرانی اور نادر کتابوں کی تعداد 25 لاکھ سے زاید ہے۔ یہاں آئرش ناول نگار James Joyce کی متنازعہ کتاب Ulysses بھی موجود ہے، جس کی قیمت 45 ہزار ڈالر ہے۔ اس بک اسٹور پر ہمہ وقت نادر کتابوں کے شائق افراد اور سیاحوں کا ہجوم موجود رہتا ہے۔
(جان کے کنگ (ڈیٹرائٹ، مشی گن
 یہ کتاب گھر سیاحوں کے لیے ایک قابل دید جگہ ہے۔ دس لاکھ سے زائد نئی اور پرانی کتابوں کا ذخیرہ رکھنے والے اس اسٹور میں کچھ نایاب کتابیں بھی موجود ہیں ۔ اسٹور کے مالک جان کے کنگ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ’’بک آف مارمن‘‘ کا پہلا ایڈیشن بھی موجود ہے جس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے، جب کہ 1482میں وینس میں چھپنے والی سینٹ تھوماس ایکیوناس کی تحریروں پر مشتمل کتاب بھی ہمارے ذخیرے میں موجود ہے۔
سید بابر علی