مسئلہ ملالہ یوسف زئی…..

’’عمر کے ساتھ ساتھ شاید ملالہ دین اسلام سے کنارہ کش ہوجائے‘‘۔ یہ کسی ملّا، مفتی، یا مولانا کا ارشادِ عالیہ نہیں، نہ ہی یہ کسی سازشی نظریہ کوئی شرارت ہے، نہ ہی فیس بک پر ابھرنے والی کسی ہاہاکاری کا نتیجہ ہے۔ الا ماشاء اللہ! یہ الفاظ نظریۂ الحاد کے عالمی سرخیل اور ترجمان رچرڈ ڈاکنزکی توقع ہے، امید ہے۔ رچرڈ ڈاکنز نے یہ توقع کفِ افسوس مَلتے ہوئے نہیں بلکہ فرطِ مسرت میں ظاہر کی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ رچرڈ ڈاکنز نے بذریعہ ٹوئٹس ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام کی نامزدگی پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے، جس پر رچرڈ ڈاکنزکے شاگرد چراغ پا ہوگئے کہ ایک مذہبی لڑکی کی حوصلہ افزائی کیوں کی؟
 حجاب (سر پر چادر اوڑھنے والی) کرنے والی لڑکی کوکیوں مبارک باد دی؟ جس پر رچرڈ ڈاکنز نے ملالہ کا دفاع کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’’ہاں ملالہ مذہبی ہے مگر برائے مہربانی ملالہ کو کچھ وقت دیجیے، جوں جوں وہ تعلیم یافتہ ہوتی چلی جائے گی اسلام سے کنارہ کش ہوجائے گی‘‘۔ رچرڈ ڈاکنز نے اور بھی بہت کچھ لکھا اور کہا، مگر فی الحال ملالہ سے وابستہ اُس کی یہی توقعات غور طلب ہیں۔ عقیدۂ الحاد سے وابستہ دانشور ملالہ کو کس طرح دیکھ رہے ہیں، یہ رچرڈ ڈاکنزکی توقعات میں نمایاں ہے۔ مسئلۂ ملالہ کے ایک اور زاویے کی طرف چلتے ہیں۔
دنیا بھر کی توجہ اور پذیرائی کے باوجود ملالہ تنہائی محسوس کررہی ہے۔ ملالہ اور اُس کا خاندان برطانیہ میں الگ تھلگ اجنبی زندگی سے گزر رہے ہیں۔ اب تک ملالہ ساتھی طلبہ کو دوست بنانے اور اُن میں گھلنے ملنے میں ناکام ہے۔ باوجود اس کے کہ ملالہ سترہ سال کی ہوچکی ہے، فیس بک اور موبائل فون استعمال نہیں کرتی۔ ہاں ہفتے میں ایک بار بچپن کی سہیلی سے اسکائپ پر بات کی سہولت میسر ہے۔ ملالہ کی موجودہ زندگی ’’بڑوں‘‘ کی نگاہوں میں ہے۔ یہ سب باتیں کوئی پروپیگنڈہ نہیں۔ یہ توامریکہ کے نامی گرامی اخبار نیویارک ٹائمزکی نیوز سروسز کا مضمون ہے۔Making friends in school note easy even for a Nobel Peace Prize winner, New York Tims News Service)
اس مضمون سے چند سوالات ازخود کھڑے ہوگئے۔ آخر دنیا کے سامنے فرفر شستہ انگریزی (خواہ لکھ کر دی ہوئی ہی سہی) میں فروغ تعلیم کے گراں قدر منصوبوں سے آگاہ کرنے والی ملالہ کیوں تنہائی کا شکار ہے؟ کیوں فیس بک یا موبائل فون کا استعمال نہیں کرتی؟ مضمون بتاتا ہے کہ ملالہ تعلیم میں خلل سے بچنے کے لیے ایسا کرتی ہے، مگر کیا پورے مغرب میں سترہ سالہ کوئی لڑکی اس سبب فیس بک یا موبائل فون سے پرہیز کرتی ہے؟ نہیں، عقل نہیں مانتی۔ ملالہ شٹل کاک برقع میں دقیانوسی گھرانے کی پسماندہ ذہنیت رکھنے والی لڑکی تھوڑا ہی ہے۔ ملالہ تو مُلّا و مسجد سے دور آزاد دنیا کی چہیتی ہے۔ مگر پھر بھی یہ مضمون کم و بیش ملالہ کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جسے قیمتی فریم میں شہرت کے رنگوں سے قید کردیا گیا ہو۔ ایک ایسی نوجوان لڑکی جس کے نشوونما پاتے شعور کو خاص سانچے میں دھیرے دھیرے ڈھالا جارہا ہو۔
مسئلۂ ملالہ کا ایک اور سنگین پہلو برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے’’تعاون‘‘ سے لکھی گئی آپ بیتی “I am Malala” ہے۔ دنیا بھر کے بچوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے آواز اٹھانے والی ملالہ کی آپ بیتی لکھنے والی کرسٹینا لیمب خود اسکول کی نالائق طالبہ تھی۔ کرسٹینا لیمب کی صحافتی زندگی کا پہلا بڑا کام 1987ء میں بے نظیر بھٹو کا انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو کے بعد کرسٹینا لیمب بے نظیر بھٹو کی شادی میں بھی شریک ہوئی۔ کرسٹینا لیمب بتدریج پاکستان میں غیر ملکی صحافی نمائندہ کی حیثیت سے سرگرم ہوئی۔
 کشمیر اور افغانستان کے مجاہدین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے مشکوک حرکات میں ملوث نکلی۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ رپورٹنگ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ یہاں تک کہ آئی ایس آئی نے کرسٹینا لیمب کو پاکستان سے بے دخل کردیا، جس کے بعد کرسٹینا لیمب کو ملالہ کی کتاب کے راستے پاکستان میں گھسنے کا موقع مل گیا۔ کرسٹینا لیمب کے علاقائی دوستوں میں بے نظیرکے علاوہ حامد کرزئی اہم نام ہے۔ یہ توحال ہے اس صحافی کا جس نے ملالہ کی کتاب میں ’’خاطر خواہ‘‘ حصہ ڈالا ہے۔ 
کتاب کے مواد میں موجود مسائل کی سنگینی اپنی جگہ ہے۔ اسلام پر مغرب کے پھٹے پرانے بوسیدہ پروپیگنڈے کو پھرکرسٹینا لیمب نے سترہ سالہ لڑکی کے ذریعے حیاتِ نو بخشنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی ہے۔ اس کتاب پر انگریزی ادب کے ایک پروفیسر سے یونہی تبادلہ خیال ہوا تو محترم نے تعجب سے کہا کہ ’’مغرب مسلمانوں کوکس قدر بے وقوف سمجھتا ہے؟‘‘ تضیع اوقات سے بچنے اور دلائل کی زحمت سے بچانے کے لیے محض کتاب کے متنازع موضوعات کا ذکر ہی کافی ہوگا۔ ملالہ یوسف زئی کی بزعم خود نوشت میں ملعون سلمان رشدی کے لیے اظہارِ ہمدردی کیا گیا ہے۔ 
سلمان رشدی کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کا فلسفہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی کے منہ میں ڈال کر زہرافشانی کی گئی ہے۔ کتاب کا ایک موضوع ’’ضیاء دور‘‘ پر لعن طعن ہے، وجہ اس دور میں اسلامی احکامات کی قانونی صورت گری ہے۔ ضیاء الحق کی شہادت کے تقریباً دس سال بعد پیدا ہونے والی ملالہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی قوانین کو ضیاء دور کا سیاہ کارنامہ قرار دیا ہے، جو ظاہر ہے کرسٹینا لیمب کی شرارت ہے۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ قادیانیوں کے لیے اقلیت کا اسٹیٹس بھی ملالہ کو پسند نہیں۔ ملالہ کو برقع چائے کی کیتلی معلوم ہوتا ہے۔ غرض پاکستان اور اسلام کے خلاف جتنا بھی مغربی پروپیگنڈہ ہوسکتا تھا، وہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی اور معصوم ملالہ یوسف زئی کے تعاون سے کرسٹینا لیمب نے اس کتاب میں ٹھونس دیا ہے۔ ملالہ کی آپ بیتی میں ابا حضور اورکرسٹینا لیمب جگہ جگہ چھلانگیں مارتے نظر آتے ہیں۔ اردو میں اس کتاب کا نام ’’میں ہوں جھوٹ کا پلندہ‘‘ انتہائی مناسب ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب شاید لکھی ہی مغربی بازاروں کے لیے گئی ہے جہاں صرف جھوٹ بکتا ہے، خوب بکتا ہے، اور ہزاروں کاپیاں خود ہی خرید کر اپنے ہی اخباروں میں اسے best selling کی مہر لگادی جاتی ہے جیسے گویا زیادہ بک جانا اس بات کا ثبوت ہو کہ کتاب بہت معتبر اور معیاری ہے۔ ہمارے یہاں بھی گندم فام انگریزوں کا طبقہ ایسی BEST SELLING BOOKS سے شدید متاثر ہے۔ کتاب “I AM MALALA” پاکستان میں اپنا ہدف حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہی، اسکولوں نے نہ صرف اس کتاب پر پابندی لگادی بلکہ طلبہ نے I AM NOT MALALAڈے بھی مکمل شعور کے ساتھ منایا۔
مغرب میں ملالہ کا ماڈل بھی فی الحال ایک مسئلہ ہے۔
 لیڈی گاگا سے لے کر بیانسے تک، اور اس سے آگے نہ جانے کون کون سی واہیات ہستیوں نے ملالہ کی تعریف و توصیف میں پلوں کے پُل باندھ دیے۔ مغربی دنیا میں ملالہ عورت اور تعلیم کے حقوق کے لیے مثالی نمونہ بن گئی، مگر لاکھوں پرستار لڑکیوں اور ہالی وڈ فنکاراؤں میں سے کسی ایک نے بھی ملالہ یوسف زئی کا حلیہ یا عقیدہ نہیں اپنایا، کیونکہ یہ سب اُس ملالہ کے دیوانے ہیں جس کا انتظار رچرڈ ڈاکنزکو ہے۔
مغرب کے ملالہ پراجیکٹ پر سرمایہ کاری اُس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ مسئلۂ ملالہ ناقابلِ حل صورت اختیار کرگیا۔
معصوم ملالہ ابا حضور کی اعلیٰ تعلیمات اورکرسٹینا لیمب کی مشکوک تربیت کی وجہ سے ہر سمت سے مسائل میں گھر چکی ہے۔ ملحدین کے لیے ملالہ کا مذہبی ہونا مسئلہ ہے۔ مولوی حضرات کے لیے ملالہ کی دین سے ناواقفیت مسئلہ ہے۔ اہلِ مغرب کے لیے مثالی ملالہ کا مشرقی حلیہ اور مذہبی وابستگی مسئلہ ہے۔ شہرت کی بلندیوں پر اجنبی ماحول ملالہ کے اپنے لیے مسئلہ ہے۔ مسائل میں گھری یہ ملالہ کون سے مسائل حل کرسکتی ہے؟ کس کے مسائل حل کرسکتی ہے؟ مسلمان لڑکی کے ہاتھوں مغرب جس قسم کی تعلیم کا فروغ چاہتا ہے، وہ مغرب کی اسلام سازی مہم کا اہم حصہ ہے۔
 تاہم اسلامی تہذیب کے خلاف سرگرم سرمایہ کاروں کے لیے ملالہ یوسف زئی منصوبہ سراسرگھاٹے کا سودا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ملالہ کو کسی سے بھی نہ بچاسکے، نہ اُس صورت حال سے جس میں وہ پاکستان میں رہی، اور نہ اُس حال سے جس میں آج وہ پھنس چکی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے لیے ملالہ یوسف زئی اب صرف ایک بھولی ہے جس کے شام تک لوٹ آنے کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
عمر ابراہیم

کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے؟……

پاکستان کے شہر پشاور کے ایک سکول میں پہلی سے دسویں جماعت تک کے ایک سو بتیس طلبہ اور ان کے نو اساتذہ کے بہیمانہ قتل نے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے انسان نہیں بھیڑیے ہیں۔ جن کی ظالمانہ دہشت گردی کا یہ بچے نشانہ بنے ہیں۔ یہ امریکا کی ریاست کولمبیا اور نیو ٹاون کے لوگ ہوں یا ناروے میں کی جانے والی دہشت گردیکا نشانہ بننے والے معصوم لوگ۔ یا پھر اب پشاور میں دہشت گردی کا تازہ واقعہ، سب کا نتیجہ ایک ہی ہے۔
 خون کا بہنا اور بے گناہوں کی جانوں کا خوفناک ضیاع۔ لیکن پشاور میں قتل و غارتگری کے مرتکب ہونے والے کسی ذہنی عارضے کا شکار لوگ نہ تھے، بلکہ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے اور شعوری طور پر اس گھناونے جرم کی منصوبہ بندی کی۔ یہ سب موت کے نمائندے تھے جنہوں نے خود کو بارود سے آڑایا یا انہیں بعد ازاں آپریش کر کے مارا گیا۔
لیکن میرے خیال میں یہ بات اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس امر کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں کہ اس سانحے اور ایسے ہی دیگر سانحات کے پیچھے موت کے کون کون سے سوداگر تھے۔ جو ان معصوم بچوں کی موت کا سبب بنے۔ طالبان جن کے اس واقعے کے پیچھے ہونے کا امکان غالب ہے کہ پاک فوج کے بارے میں وہ اپنے تحقیر آمیز خیالات سامنے لاتے رہتے ہیں اور تعلیم مخالف رجحانات کا بھی اظہار کرتے رہتے ہیں۔
تاہم ان حملوں کو پاکستان میں موجود سیاسی صورت حال کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جب عوام کی منتخب کردہ حکومت قائم ہے لیکن لوگوں کو یہ یقین دلانے سے قاصر ہے کہ ”ہاں فوج بیرکوں تک محدود ہے ۔” بلکہ اہم ترین سیاستدانوں نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کے درمیان ایک جنگ کی سی کیفیت جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان ان کی وجہ سے عملاً ان لوگوں کی وجہ سے مفلوج رہا ، جنہوں نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ان کی طرف سے تھا جنہوں نے چند ماہ سے ملک میں کنٹینر سیاست شروع کر رکھی ہے۔ وہ انتخابی عمل از سر نو چاہتے ہیں۔ 
یہ سب کچھ انتہا پسندی کے رینگ رینگ کر آگے بڑھنے، مذہبی نظریات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے ذریعے ایک مکمل افراتفری پیدا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے نہ ان قاتلوں کے بڑوں اور انہیں آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے والوں کو مزید سازشوں کا موقع دیا جا سکتا ہے۔
اہل پاکستان کو عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق ہے کہ وہ ایک محفوظ اور باوقار زندگی گذار سکیں۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے بڑوں کو اپنےاختلافات ایک طرف رکھنا ہوں گے اور اپنی حب الوطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے وطن کو محفوظ بنانا ہو گا۔ لیکن نئے پاکستان کے نعرے اور گانے مفید نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ پاکستان کے ایک سینئیر بیورو کریٹ اور پاکستان کے کئی عشروں سے تلخ ماہ و سال کے عینی شاہد روئیداد خان نے دو عشرے پہلے ہی اپنی تصنیف ” ایک خواب جو تلخ ہو گیا ”لکھ دی تھی۔ پشاور میں ہونے والے تازہ سانحے نے بھی ایسی ہی صورت حال تو پیدا نہیں کر دی جس کے بعد ہم یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ ” کیا پاکستان ایک تلخ خواب بن گیا ہے ؟”
خالد المعینا

دنیا کے بہترین کتاب فروش (بُک اسٹورز)….

(شیکسپیئر اینڈ کمپنی ( پیرس 
فیشن اور خوش بو کی سرزمین پیرس میں ’ شیکسپیئر اینڈ کمپنی ‘ کے نام سے یہ اسٹور جارج وائٹ مین نے قائم کیا تھا۔ پیرس کے ایفل ٹاور اور دیگر خوب صورت مقامات کی طرح ’شیکپیئر اینڈ کمپنی ‘ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس اسٹور میں ہالی وڈ کی دو مشہور فلموں’بی فور سن سیٹ‘ اور ’مڈنائٹ ان پیرس‘ کی عکس بندی بھی ہوچکی ہے۔ نئی اور پرانی کتابوں کی خریدوفروخت کے ساتھ یہ اسٹور انگریزی ادب کے دل داہ افراد کے لیے لائبریری کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
 El Ateneo ( بیونس آئرس، ارجنٹینا)
  سنیما گھر کی ایک تاریخی عمارت نے مطالعے کے شوقین ارجٹینی عوام کے لیے ایک عظیم الشان کتاب گھر کی شکل میں جنم لیا۔ ادب اور قدیم فن تعمیر کا خوب صورت امتزاج یہاں آنے والے ہر شخص کو اپنی خوب صورتی سے مسحور کر دیتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ El Ateneo کا شمار دنیا کے دوسرے سب سے خوب صورت بک اسٹور میں کیا جاتا ہے۔ یہ حسین بک اسٹور اپنے قیام سے اب تک 7لاکھ سے زاید کتابیں فروخت کر چکا ہے اور ہرسال دنیا بھر سے تقریباً دس لاکھ افراداس کتاب گھر کا دورہ کرتے ہیں۔ تھیٹر کے ارغوانی پردے، چھت پر نفاست سے کی گئی کندہ کاری اورمنفرد فن تعمیر نہ چاہتے ہوئے بھی کتاب سے محبت پیدا کردیتی ہے۔ اس عمارت کے اندرونی حصے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور تھیٹر کی گیلریوں میں کتابوں کو بڑی نفاست سے سجایا گیا ہے۔
Libraries avant garde( نان جنگ، چین)
چین کے اس سب سے خوب صورت کتاب گھر کو ایک ایسی جگہ قائم کیا گیا ہے جو کسی زمانے میں گولہ بارود رکھنے میں استعمال کی جاتی تھی۔4ہزار اسکوائر میٹر رقبے پر محیط اس بک اسٹورز میں ہزاروں کی تعداد میں پرانی کتابیں موجود ہیں، جب کہ 300افراد کے بیٹھنے کے لیے ایک آرام دہ لائبریری بھی بنائی گئی ہے۔ یہ بک اسٹور نہ صرف سیاحوں کی دل چسپی کا محور ہے، بل کہ اسے نان جنگ یونیورسٹی کی دوسری لائبریری کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے Librairie Avant-Garde کے مالک زیان زیاؤ ہوا کا کہنا ہے کہ ’’ایک بہترین بک اسٹور میں انسانی فطرت کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو کسی بھی انسان کو مطالعے کی جانب راغب کرسکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے بک اسٹور کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ یہاں آنے والا ہر فرد نہ چاہتے ہوئے بھی مطالعہ شروع کر دیتا ہے۔‘‘
Assouline Venezia (وینس، اٹلی)
اٹلی کے شہر روم میں اٹھارہویں صدی کی تاریخی عمارت میں قائم کیا گیا یہ اسٹور ہاتھ سے لکھی گئی منہگی کتابوں کی فروخت کے حوالے سے بھی مشہور ہے اور ہر سال وینس آنے والے سیاح اس کتاب گھر کا دورہ اور تحفے میں دینے کے لیے کتب کی خریداری اسی اسٹور سے کرتے ہیں۔
Livraria Lello (پرتگال)
اٹھارہویں صدی کے اس حسین ترین پبلشنگ ہاؤس کو 1906میں آرکٹیکچر انجینئر زیویئر اسٹیوز نے فن تعمیرات کا نمونہ بنادیا۔ ایک صدی بعد بھیLivraria Lello شمار دنیا کے سب سے خوب صورت کتاب گھروں میں ہوتا ہے۔ قرون وسطی دور کی تعمیرات اور جدید دور کے شیشے اور لکڑی کے کام نے اس عمارت کی خوب صورتی کو چار چاند لگادیے ہیں۔ یہ کتاب گھر پرتگال کے سب کے خوب صورت مقامات میں سے ایک ہے۔
Boekhandel Domincanen (نیدر لینڈ)
تیرہویں صدی میں گیارہ سو اسکوائر میٹر رقبے پر تعمیر ہونے والے ڈومینیکن چرچ کی عمارت کو 2006 بک اسٹور میں تبدیل کردیا گیا۔ اس قبل یہ عمارت، چرچ، آرکسٹرا اور بھیڑوں کے مذبح خانے کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی۔ ڈچ، انگریزی اور فرانسیسی، اسپینی اور اطالوی زبانوں میں 40 ہزار کتابوں کا ذخیرہ رکھنے والے اس کتاب گھر کی وجہ شہرت یہاں کی خوش ذائقہ کافی بھی ہے۔ اس اسٹور کے زیراہتمام سالانہ 140 سے زاید ادبی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔
( پوویل سٹی آف بکس ( اوریگن
امریکی ریاست اوریگن میں واقع اس بک اسٹور کا شمار نئی اور پرانی کتابیں رکھنے والے دنیا کے سب سے بڑے کتاب گھروں میں ہوتا ہے۔ اس کثیر المنزلہ اسٹور میں ہر موضوع پر دنیا کی تقریباً ہر زبان میں چھپنے والی کتابیں موجود ہیں۔
(بک فار کک (میلبورن
اس ڈیڑھ سو سالہ کتاب گھر کی وجہ شہرت یہاں کھانا پکانے کی تراکیب پر مشتمل کتابیں ہیں۔ اس بک اسٹور پر اٹھارہویں صدی میں کھانے پکانے کی تراکیب پر لکھی گئی کتابوں کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔ اس بک اسٹور کے مالک ٹم وائٹ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس 40 ہزار سے زاید کک بک کی کیٹلاگ موجود ہے اور ان میں سے ہر کتاب کی کم از کم 30 ہزار کاپیاں ہمارے اسٹاک میں ہیں۔
(اسٹرینڈ (نیویارک
اسٹرینڈ امریکا کے قدیم کتاب گھروں میں سے ایک ہے۔ اس اسٹور میں نئی، پرانی اور نادر کتابوں کی تعداد 25 لاکھ سے زاید ہے۔ یہاں آئرش ناول نگار James Joyce کی متنازعہ کتاب Ulysses بھی موجود ہے، جس کی قیمت 45 ہزار ڈالر ہے۔ اس بک اسٹور پر ہمہ وقت نادر کتابوں کے شائق افراد اور سیاحوں کا ہجوم موجود رہتا ہے۔
(جان کے کنگ (ڈیٹرائٹ، مشی گن
 یہ کتاب گھر سیاحوں کے لیے ایک قابل دید جگہ ہے۔ دس لاکھ سے زائد نئی اور پرانی کتابوں کا ذخیرہ رکھنے والے اس اسٹور میں کچھ نایاب کتابیں بھی موجود ہیں ۔ اسٹور کے مالک جان کے کنگ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ’’بک آف مارمن‘‘ کا پہلا ایڈیشن بھی موجود ہے جس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر رکھی گئی ہے، جب کہ 1482میں وینس میں چھپنے والی سینٹ تھوماس ایکیوناس کی تحریروں پر مشتمل کتاب بھی ہمارے ذخیرے میں موجود ہے۔
سید بابر علی

غلامی کی جدید اشکال…..

عالمی سطح پر انواع و اقسام کے جائزے آتے رہتے ہیں مگر ہم مغربی دنیا کی جانب سے دخل در معقولات کے ایسے اقدامات سے ہرگز ٹس سے مس نہیں ہوتے اور اپنی ہی دھن میں مست رہتے ہیں۔گزشتہ برس پہلی مرتبہ غلامی کا عالمی جائزہ یا گلوبل سلیوری انڈیکس سامنے آیا جس پر انسداد غلامی کے لئے کوشاں عالمی تنظیم ’’واک فری‘‘ نے دائرہ کار بڑھایا اور دنیا کو اس کامکروہ چہرہ دکھایا۔’’واک فری‘‘کی تازہ ترین رپورٹ جو چند روز قبل سامنے آئی اس میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تین کروڑ ساٹھ لاکھ افراد غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔آبادی کے تناسب سے دنیا کے پانچ فیصد افراد غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
اس کے مقابلے میں 2013ء میں غلاموں کی تعداد بہت کم تھی اور رواں سال اس میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا۔ یہ دراصل غلاموں کی تعداد میں اضافہ نہیں بلکہ انسانی شعور میں اضافے کا غماز ہے۔گزشتہ برس تک صرف ان افرادکو ہی غلام تصور کیا جاتا تھا جنہیں ملکیت سمجھ کر بیچا اور خریدا جاتا تھا۔لیکن رواں سال ’’واک فری‘‘ نے غلامی کی دیگر اشکال کو بھی مد نظر رکھا اور ان افراد کا بھی شمار کیا گیا جن سے جبری مشقت لی جاتی ہے،جن کی زندگیاں قرض کے عوض رہن رکھی جا چکی ہیں،جوانسانی اسمگلنگ کے باعث بازار جنس سمجھ کر بیچ دیئے جاتے ہیں،جنہیں پیسوں کے عوض جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر غلام بنانے کیلئے شادی کی آڑ لی جاتی ہے۔
غلامی کی اس نئی تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ غلام بھارت میں ہیںجہاں ایسے افراد کی تعدادایک کروڑ چالیس لاکھ ہے۔بھارت کے بعد چین دوسرے نمبر پر ہے جس کی معیشت کا انحصار کوہلو کے بیل کی طرح کام کرنے والے مزدوروں پر ہے۔چین کے بعد پاکستان اور اس کے بعد ازبکستان کا نمبر آتا ہے لیکن اگر آبادی کے تناسب سے غلاموں کی تعداد کو دیکھا جائے تو موریطانیہ سرفہرست ہے جہاں 4 فیصد افراد غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب انسان جانوروں کی طرح بازاروں میں خریدے اور فروخت کئے جاتے تھے لیکن انسانی شعور نے ارتقاء کی منازل طے کیں تو غلامی کے عنوان اور جہتیں بدل گئیں مگر محکومی و غلامی کا تصور ختم نہیں ہوا۔بلکہ اس ضمن میں میری رائے تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ غلامی کی زنجیریں خوبصورت و پرکشش مگر مضبوط و توانا ہوتی چلی گئیں ۔اس زمانے میں تو انسان کسی ایک شخص کی ملکیت ہوا کرتا تھا مگر اب اس کے پیروں میں بہت سے آقائوں کی زنجیریں ہیں۔ کارپوریٹ کلچر نے اس دور میں بہت سوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ملازمت پیشہ افراد خواہ وہ گھریلو ملازمین اور مزارع ہوں یا کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے کرتا دھرتا، یہ سب کسی نہ کسی دائرے میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
یہ بیچارے تو اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لے سکتے۔ مختلف کاروباری اداروں کے سیٹھ جونکوں کی مانند ان کا خون ہی نہیں چوستے ،اس بات کا اہتمام بھی کرتے ہیں کہ یہ غلام زنجیریں توڑ کر بھاگ نہ نکلیں۔ انہیں یہ خوش فہمی ہی نہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے ہاں کام کرنے والوں کا رزق ان کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں اپنے زر خرید غلام کو جھٹک دیتے ہیں، دھکے مار کر دفتر سے نکال دیتے ہیں، وقت پر معاوضہ نہیں دیتے، کم اجرت کے بدلے زیادہ کام لیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ غلاموں کی کیا مجال جو تنخواہ میں اضافے کی بات کریں۔صرف بھٹہ مزدور اور کھیتوں میں کام کرنے والے کمی کمین ہی غلام نہیں ہیں ،دفتروں میں بابو بن کر اپنے ماتحتوں پر رعب جھاڑتے سفید پوش بھی غلامی پر قانع ہو چکے ہیں۔
غربت و تنگدستی میں لتھڑے معاشروں میں تو غلامی کے چلتے پھرتے نمونے جابجا دکھائی دیتے ہیں۔ہمارے معاشرے کی وہ ضرورت مند خاتون جو اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے کسی ’’شریف زادے‘‘ کی ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے،اسے آپ کیا کہیں گے؟ وہ ہاری ،وہ کمی کمین جو دو وقت کی روٹی کے لئے کسی جاگیر دار کے قدموں میں زندگی گزار دیتے ہیں ،انہیں غلام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟وہ مجبور و مقہور لوگ جو کسی دھونس،دھمکی یا لالچ و حرص میں اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں ،انہیں آپ کس زمرےمیں شمار کریں گے؟ سیاسی جماعتوں کے کارکن جو اپنے رہنمائوں کو عزت مآب سمجھتے ہیں اور پیروی یا تقلید نہیں بلکہ غلامی کی حد تک پرستش کرتے ہیں ،ان کے بارے میںکیا خیال ہے؟ غلامی کے کئی روپ اور شکلیں ہیں۔ ہمارے پاکستانی بھائیوں کی ایک بہت بڑی تعداد کئی ایسے ممالک میں محنت مزدوری کرتی ہے۔
 جہاں وہ کفیل کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ اسی طرح اس کو دینا پڑتا ہے جس طرح دور غلامی میں زر خرید غلام اپنے آقا کو دیا کرتے تھے۔ یورپ میں کسی حد تک غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں اور تارکین وطن کو بھی انسانی حقوق حاصل ہیں مگر وہاں بھی لاکھوں نہیں کروڑوں انسان جو غیرقانونی تارکین کی حیثیت سے مقیم ہیں، ان کا بھرپور استحصال کیا جاتا ہے۔ آجر کو معلوم ہوتا ہے کہ کم اجرت دینے پر اجیر اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکتا اس لئے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے۔
جو آسودہ حال ہیں اور غلامی کی ان اشکال سے کوسوں دور ہیں ،وہ بھی محکومی کی زنجیروں میں جکڑے ہیں۔ ہم فخر سے دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کے غلام ہیں،کچھ خود کو اہل بیت کا غلام کہتے ہیں تو بعض صحابہؓ کا نوکر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم ایسی اعلیٰ و ارفعٰ غلامی کے لائق ہی نہیں۔ ہم میں سے بیشتر ہوس کے پجاری ہیں۔اس ہوس کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے۔مثال کے طور پر کچھ اپنی انائوں کے قیدی ہیں تو کچھ خواہشات کے غلام ۔اب آپ ہی بتائیے کہ ایسوں کی زبانوں سے محمد ﷺ کی غلامی کا دعویٰ اچھا لگتا ہے؟
تکلف برطرف ہمارے ہاں تو جورو کے غلام بھی بے تحاشا پائے جاتے ہیں ۔ہمارے ہاں مردوں نے بھی کیا خوب قسمت پائی ہے۔اگر بیوی کا ہاتھ بٹائے تو زن مرید ،نہ بٹائے تو سنگدل۔ اسے کام کرنے سے روکے تو جاہل،کام کرنے دے تو کاہل۔یہ بیچارہ گھر میں رہے تو ناکارہ اور باہر رہے تو آوارہ۔بیوی پر ہاتھ اُٹھائے یا اس سے مار کھائے دونوں صورتوں میں ذلت ہی اس کا مقدر بنتی ہے مگر کوئی اس طرز کی غلامی پر آواز نہیں اٹھاتا۔ اور اگر غلامی کی تمام محولہ بالا تمام اشکال اور صورتوں کو شامل کر نے کے بعد کوئی سروے کیا جائے تو ہمارے معاشرے میں غلاموں کی تعداد کس قدر ہو گی؟ مجھے تو لگتا ہے ہم سب ہی کسی نہ کسی انداز میں کسی نہ کسی کے غلام ہیں۔
محمد بلال غوری
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

سقوط ڈھاکہ۔ پاکستان کی تاریخ کا رستا ہوا زخم…..

قوم نے گزشتہ روز 16دسمبر کو وطن عزیز کے دولخت ہونے کا سوگ منایا، 43سال قبل آج ہی کے دن پاکستانیوں نے اپنے وطن کو دو حصوں میں تقسیم ہوتے دیکھا تھا۔ یوم سقوط ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن اور رستا ہوا زخم ہے جو شاید کبھی نہ بھر پائے گا۔ بلاشبہ اس دن کا سورج ہمیں شرمندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرتا نظر آتا ہے۔ 
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو سچے دل سے تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہا کہ کسی طرح پاکستان کو تقسیم کردے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا یہ بیان کہ ’’آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر پاکستان کا دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔‘‘ اُن کے دل میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف چھپی نفرت کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرا گاندھی نجی محفلوں میں اکثر یہ بھی کہا کرتی تھیں کہ ’’میری زندگی کا حسین ترین لمحہ وہ تھا جب میں نے پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش بنایا۔‘‘ اندرا گاندھی کے حوالے سے امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ ہنری کسنجر نے بھی اپنی کتاب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ اندرا گاندھی سقوط ڈھاکہ کے فوراًبعد مغربی پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں مگر عالمی طاقتوں کی ناراضگی اور ناسازگار حالات کے باعث وہ ایسا کرنے سے باز رہیں۔
یہ حقیقت بھی سب پر عیاں ہے کہ بھارت کی مداخلت کے بغیر پاکستان دولخت نہیں ہوسکتا تھا لیکن بھارت کی مداخلت کے لئے سازگار حالات ہمارے حکمرانوں نے خود پیدا کئے۔ہم بھارت پر یہ الزام کیوں عائد کریں کہ اُس نے یہ مذموم کھیل کھیلا، دشمن کا کام ہی دشمنی ہوتا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے حکمراں دشمن کی دشمنی کے آگے بند باندھنے کے بجائے دشمن کو ایندھن فراہم کرتے رہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اقلیت ملک توڑنے کا سبب بنتی ہے اور علیحدہ وطن کے لئے کوشاں رہتی ہےکیونکہ وہ اکثریت سے متنفر ہوتی ہے لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عجیب و غریب پہلو یہ ہے کہ اکثریت نے اقلیت سے الگ ہونے کی جدوجہد کی۔ مشرقی پاکستان کی آبادی جو ملک کی مجموعی آبادی کا 54 فیصد تھی، میں اس احساس محرومی نے جنم لیا کہ وسائل کی تقسیم میں اُن سے ناانصافی اور معاشی استحصال کیا جارہا ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ مشرقی پاکستان میں سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والوں میں سے اکثریت کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا جو بنگالی زبان سے بھی ناآشنا تھے۔
پاکستان کو دولخت کرنے میں ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے ملک سے زیادہ پارٹی یا ذاتی مفادات کو ترجیح دی اور  مارچ 1971ء کو ڈھاکہ میں بلائے جانے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی پارٹی کے ارکان کو شریک نہ ہونے کی ہدایت کی جبکہ جنرل یحییٰ خان اور مجیب الرحمٰن کی ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی کیونکہ یحییٰ خان عدم مفاہمت کی صورتحال سے فائدہ اٹھاکراپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے تھے۔بے یقینی کی ایسی صورتحال میں اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کا ملک دشمنوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئےمشرقی پاکستان کے لوگوںکو علیحدہ وطن کا جواز مہیا کیا جس کا اظہار انہوں نے 23 مارچ 1971ء کو’’یوم پاکستان‘‘ کے بجائے ’’یوم سیاہ‘‘ مناکر اور سرکاری عمارتوں پر بنگلہ دیشی پرچم لہرا کر کیا جس کے بعد فوج نے باغیوں سے نمٹنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔ اس صورتحال کا بھارت نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور فوج کے خلاف بنگالیوں کے قتل عام اور انسانیت سوز مظالم ڈھانے جیسےمنفی پروپیگنڈے شروع کردیئے۔ یہ حقیقت بھی سب جانتے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ نے 71ء کی جنگ سے بہت پہلے مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسندوں کی تنظیم مکتی باہنی کی مدد کے لئے ایک قرارداد منظور کی تھی جبکہ بھارتی فوج مکتی باہنی کے شدت پسندوں کو ٹریننگ، ہتھیار اور مدد فراہم کرنے میں پیش پیش رہی۔مکتی باہنی کے ان باغیوں نے 71ء کی جنگ سے قبل ہی پاک فوج کے خلاف اپنی گوریلا کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا اور3 دسمبر 1971ء کو جب پاک بھارت جنگ کا آغاز ہوا تو ان باغیوں جن کی تعداد تقریباً 2 لاکھ بتائی جاتی ہے، نے بھارتی فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ حمود الرحمٰن کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان میں موجود ڈیڑھ کروڑہندو وہاں انتشار پھیلانے میں سرگرم ہوگئے تھے۔
دنیا کی کوئی بھی فوج اپنے ہی عوام سے کبھی جنگ نہیں جیت سکتی، یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارتی فوج اور عوامی لیگ کا یہ پروپیگنڈہ کہ پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد شہریوں کو قتل کیا، درست نہیں کیونکہ حمود الرحمٰن کمیشن کے مطابق ان ہلاکتوں کی اصل تعداد 26 ہزار ہے جو مکتی باہنی کے علیحدگی پسند تھے اور انہی علیحدگی پسندوں نے پاکستان کی حمایت کرنے والے لاکھوں بے گناہوں کا قتل عام کیا تھا۔
بھارت کا یہ پروپیگنڈہ کہ پاکستانی جنگی قیدیوں کی تعداد 90 ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی، درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 34 ہزار تھی اور پولیس، پیرا ملٹری اور سرکاری ملازمین کو ملاکر یہ تعداد 90 ہزار بنتی تھی۔ آج انہی قیدیوں کے حوالے سے ایک واقعہ قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ان قیدیوں کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان ایک خفیہ منصوبے پر اتفاق ہوا جس کے تحت بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد بھارت نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرانے کے لئے 1972ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی۔ بھارت کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے بیشتر ارکان کی حمایت حاصل تھی اور قوی امکان تھا کہ یہ قرارداد منظور ہوجاتی اور بنگلہ دیش اقوام متحدہ کا رکن بننے کے بعد آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرتا جس کے بعد بھارت ان 90 ہزار قیدیوں کو بنگلہ دیش کے حوالے کردیتا اور پھر بنگلہ دیش ان قیدیوں پر اغواء، قتل، زنا اور جنگی جرائم کے مقدمات چلاکر انہیں سرعام پھانسی پر لٹکاتا جس کا مقصد قیدیوں میں شامل سینئر فوجی افسران و اہلکاروں کی تذلیل کرنا تھا لیکن ایسی مشکل صورتحال میں سلامتی کونسل کے رکن ملک چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور بھارتی قرارداد کو ویٹو کرکے بھارت کی گھنائونی سازش کو ناکام بنادیا جس کے بعد یہ قیدی بھارت کیلئے بوجھ بن گئے اور اس طرح کسی شرائط کے بغیر ان فوجیوں اور سویلین کی واپسی ممکن ہوئی تاہم بعد میں لاہور میں منعقدہ اسلامی کانفرنس کے موقع پر پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عدم مفاہمت اور دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ملک کو دولخت کرنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان کو دولخت کرنے میں بھٹو، یحییٰ اور مجیب، سب نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا لیکن شکست درحقیقت صرف اور صرف ملک و قوم کے حصے میں آئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا پولینڈ اور دیگر ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد کو طیش میں آکر پھاڑنا اور اجلاس کا واک آئوٹ کرنا سمجھ سے بالاتر تھا کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو یہ امید کی جارہی تھی کہ چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے دبائو میں آکر اقوام متحدہ کچھ ہی دنوں میں جنگ بندی کے احکامات جاری کردیتی تاہم قرارداد پھاڑنے کے 2 دن بعد ہی جنرل نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال دیئے اور اس طرح پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کی تاریخ کے اس سیاہ باب کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج پاکستان ایک بار پھر اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے اور دشمن طاقتیں ایک بار پھر پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں لیکن ایسے کڑے وقت میں حکمران اور سیاستدان اقتدار اور ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف عمل ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں ملکی سلامتی کی کوئی پرواء نہیں۔ افسوس کہ ہم نے سقوط ڈھاکہ سے اب تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
اشتیاق بیگ
“بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

برگیڈئیر صدیق سالک شہید کی کتاب ” میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا “سے اقتباس…..

 ان اسلام پسند اور محب وطن عناصر کو دو گرہوں میں منظم کیا گیا عمر رسیدہ افراد پر مشتمل امن کمیٹیاں قائم کی گئیں اور صحت مند نوجوانوں کو رضا کار بھرتی کرلیا گیا یہ کمیٹیاں ڈھاکہ کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی قائم کی گئیں اور ہر جگہ فوج اور مقامی لوگوں کے درمیان رابطے کا مفید ذریعہ ثابت ہوئیں ان کمیٹیوں کے چیرمین اور ارکان شرپسندوں کے غصے کا کئی بار ہدف بنے اور ان میں سے ۲۵۰ افراد ، زخمی یا اغوا ہوئے۔

رضاکاروں کی تنظیم کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ ان سے پاک فوج کی افرادی قوت میں اضافہ ہوگا اور دوسرے مقامی لوگوں میں دفاع وطن میں شرکت کا احساس پیدا ہوگا اس تنظیم کی مطلوبہ نفری ایک لاکھ تھی مگر ان میں سے بمشکل پچاس ہزار افراد کو فوجی تربیت دی جاسکی ۔ ستمبر کے مہینے میں پی پی پی کا ایک وفد ڈھاکہ گیا اور اس نے جنرل نیازی سے شکایت کی کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر مشتمل نئی فوج کھڑی کر لی ۔جنرل نیازی نے مجھے بلا کر کہا کہ آئیندہ سے رضاکاروں کو ‘ الشمس ‘ اور ‘ البدر ‘ کے نام سے پکارا کرو تاکہ پتہ چلے کہ ان کا تعلق صرف ایک پارٹی سے نہیں ۔
 میں نے تعمیل ارشاد کی ۔ البدر و الشمس رضا کاروں نے پاکستان کی سلامت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں ۔ وہ ہر وقت پاک فوج کے ہر حکم پر لبیک کہتے تھے انہیں جو کام سونپا جاتا ، وہ پوری ایمانداری اور بعض اوقات جانی قربانی سے ادا کرتے ۔ اس تعاون کی پاداش میں تقریباً پانچ ہزار رضاکاروں یا ان کے زیر کفالت نے شر پسندوں کے ہاتھوں نقصان اٹھایا ۔ ان کی بعض قربانیاں روح کو گرما دیتی تھیں مثلاً نواب گنج تھانے میں واقع ایک گاؤں گالمپور میں شر پسند وں کی سرکوبی کے لیے ایک فوجی دستہ بھیجا گیا جس کی رہنمائی کے لیے ایک رضاکار ان کے ساتھ بھیجا گیا ۔ 
مشن کامیاب رہا اور باغیوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا لیکن جب وہ واپس اپنے گھر پہنچا ‘ تو پتہ چلا کہ اس کے تینوں بیٹوں کو شہید اور اس کی اکلوتی بیٹی کو اغوا کر لیا ۔ اسی طرح گماسپور (راجشاہی) میں ایک پل کی حفاظت کے لیے ایک رضا کار تعینات تھا اسے باغیوں نے آ دبوچا اور سنگینیں مار مار کر کر مجبور کرنے لگے کہ ‘ جئے بنگلہ ‘ کا نعرہ لگاؤ مگر وہ آخر تک پاکستان زندہ باد کہتا رہا ۔ رضا کار اسلحے اور تربیت کے لحاظ سے مکتی باہنی سے کمزور تھی ان کو بمشکل دو چار ہفتوں کی ٹریننگ دی گئی تھی جبکہ مکتی باہن آٹھ ہفتوں کی بھرپور تربیت لے چکی تھی ۔
 اول الذکر کے پاس ۳۰۳ کی دقیانوسی رائفلیں تھیں جبکہ موئخر الذکر نسبتاً جدید ساز و سامان سے لیس تھی اس تفاوت کی وجہ سے رضا کار شاذ و نادر ہی شرپسندوں کا مقابلہ کرتے چنانچہ انہیں عموماً پاک فوج کے ساتھ ہی کسی مشن پر روانہ کیا جاتا اور اپنے طور پر انہیں کوئی مہم سپرد نہ کی جاتی ۔۔۔