اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو….اوریا مقبول جان

عالمِ بالا میں آج اقبال کس قدر سکھ کا سانس لے رہے ہوں گے کہ وہ2014ء میں پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ ورنہ ان کی اس نظم پر ان پر امنِ عامہ خراب کرنے، لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے اور منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات کے تحت دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہو چکا ہوتا۔
وزراء پریس کانفرنسیں کر تے۔ تجزیہ نگار اور اینکرپرسن رات گئے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بیٹھے تبصرے کرتے، اس ملک میں جو غم و غصہ ہے، نفرت ہے، حکومت کے خلاف جو ہنگامے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے یہ نظم لکھ کر لوگوں کو اکسایا ہے۔ ایف ائی آر میں یہ اشعار تو خاص طور پر درج کیے جاتے ۔
اٹھو! میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے در و دیوار ہلا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
دنیا بھر کا مزا حمتی ادب اسی غم و غصے سے بھرا ہوا ہے اور یہ وہ ادب ہے جو دنیا بھر میں تبدیلی اور انقلاب کا راستہ متعین کرتا ہے۔ دنیا کا ہر شعلہ بیان مقرر اسی لہجے میں گفتگو کرتا ہے جو لہجہ لوگوں کے دلوں کی آواز ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کی زندگی عیش و آرام اور سکون و اطمینان سے گزر رہی ہو تو انھیں دھیمے لہجے اور ہنس مکھ باتیں کرنے والے پسند آتے ہیں۔ لیکن اگر لوگوں کے دلوں میں اپنی محرومیوں کی وجہ سے نفرتوں کے طوفان ابل رہے ہوں تو پھر وہی مقر ر زیادہ مقبول ہوتا ہے ۔
جس کا لہجہ تلخ اور زورِ بیان شعلے اگل رہا ہو۔ وہی تقریر اور شاعری عوامی پذیرائی حاصل کرتی ہے جو لوگوں کے جذبات کی عکاس ہو۔ صاحبانِ اقتدار ایسے شاعر اور ایسے مقرر سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اسی کو اپنی بادشاہت کے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، جس کے لہجے کی گونج لوگوں کو اپنی آواز محسوس ہو اور جو ان کی نفرتوں کو اپنے شعروں اور تقریر کے لہجے میں سمو دے۔ میر تقی میر سے لے کر آج کے دور تک شاعری کے محاسن اور شعری تنوع کے لحاظ سے اگر اُردو شاعری کی تاریخ مرتب کی جائے تو نقاّد اور شعری ذوق رکھنے والے حبیب جالب کا ذکر تک نہیں کرتے، لیکن جالب کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ وہ عام انسانوں کا مقبول ترین شاعر ہے۔ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں یہ اشعار پڑھتا تو لوگ جھوم اٹھتے۔
کھیت وڈیروں سے لے لو۔ ملیں لیٹروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو۔ رہے نہ کوئی عالی جاہ
پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہٰ الا اللہ
جالب تو خود ایک سیاسی جدوجہد کا نقیب بھی تھا۔ ایوب خان کے خلاف مادرِ ملت کا پرچم بردار ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو، میں نہیں مانتا، میں نے جانتا‘‘ گاتا ہوا۔ ذولفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے تشدد کے خلاف ’’لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو‘‘ پڑھتا ہوا، اور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سامنے ’’ظلمت کو ضیاء کیا کہنا‘‘ لہک لہک کر گاتا ہوا۔ اس کے دور میں کئی شاعر ادیب زندہ تھے اور خوبصورت شاعری بھی کرتے تھے، لیکن جیل کی سلاخیں اور پولیس کی لاٹھیاں صرف اور صرف حبیب جالب کا مقدر بنیں۔ اس لیے کہ حکمران طبقوں کو خوب اندازہ ہوتا ہے کہ کون سی آواز ان کے لیے خطرہ ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی1970ء کی کسان کانفرنس میں عبدالحمید بھاشانی کی صدارت میں جب فیض احمد فیض نے یہ اشعار پڑھے تو حکومت کے ایوانوں میں ہنگامہ صرف انھی اشعار پر برپا ہوا۔ حکمرانوں کا غصہ کسی دوسرے مقرر کی تقریر پر 
نہ نکلا بلکہ فیض احمد فیض مطعون ٹھہرے
ہر اک اوللامر کو صدا دو۔ کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جامِ سرفروشاں۔ پڑیں گے دار و رسن کے لالے
کوئی نہیں ہو گا کہ جو بچالے، جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی
یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر، یہیں پہ روزِ حساب ہو گا
اور پھر اس شعر نے تو وہاں آگ لگا دی۔ لوگوں کے دلوں میں یہ شعر ایسا سمایا کہ اس کے بعد آنے والے سالوں میں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا۔
اے خاکِ نشینوں اٹھ بیٹھو، وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے
سارے حکمران ایک کمزور سے شاعر یا ایک عام سے مقرر سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں؟ کیا ایک چھوٹے سے گھر میں رہنے والا، بے سر و سامان شاعر لاکھوں لوگوں کو آگ لگانے، جلانے، گھیراؤ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ کیا ایک شعلہ بیان مقرر لوگوں کو کسی ہنگامہ آرائی پر اُکسا سکتا ہے؟ یہ ہے وہ بنیادی سوال جو آج تک کسی صاحبِ اقتدار کی عقل میں نہیں آیا۔ لوگوں کو اگر کسی اسپتال سے فائدہ پہنچتا ہو، بیماروں کو وہاں سے شفا میسر ہو تو وہ اسے آگ نہیں لگائیں گے، بلکہ آگ لگانے والوں کو بھی روکیں گے۔ جس تھانے، کچہری اور سرکاری دفتر سے لوگ روز دھتکار ے جاتے ہوں، انھیں دھکے اور ٹھڈے پڑتے ہوں۔
جہاں ٹاؤٹ اور رشوت خور ان کی جیبوں سے جمع پونجی تک نکال لیتے ہوں۔ تو ایسے میں ان لوگوں کے دلوں میں ایک ہی خواہش آگ بن کر کھول رہی ہوتی ہے کہ کوئی اس دفتر کو آگ لگا دے جہاں روز میرے جیسے عام آدمی کی تذلیل ہوتی ہے۔ اس کی نفرت جب کسی شاعر کی زبان میں ڈھلتی ہے یا کسی مقرر کے لہجے میں گونجتی ہے تو پھر اس جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں بھوکے، ننگے اور اس ظالمانہ نظام تلے کچلے ہوئے لوگ ایک ایسا ہجوم بن جاتے ہیں۔
ایسا ہجوم جس نے تاریخ میں ایسے ایسے طوفان اٹھائے ہیں کہ لکھتے ہوئے قلم کانپ اٹھتا ہے۔ کیا صرف روسو اور والٹیئر کی تحریروں نے وہاں لاکھوں لوگوں کے گلے کٹوائے تھے؟ ہرگزنہیں! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور بے روزگاری نے لوگوں کے ہاتھ میں وہ تیز دھار چھرے پکڑا دیے تھے جن کو چلانے والے ہاتھ غصے اور نفرت سے ابل رہے تھے۔ شاعر اور ادیب لوگ تو بس ان جذبوں کی زبان بن جایا کرتے ہیں اور حکمرانوں کو صرف انھی کی زبانیں خاموش کرنے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ یہی تصور کر لیتے ہیں کہ اگر یہ زبان خاموش ہو گئی تو سب جگہ چین ہو جائے گا۔
گزشتہ دنوں فیروز پور روڈ لاہور کی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ایک اخباری اشتہا ر نے مجھے چونکا دیا۔ شیخ رشید کے’’ نکلو، مرو، مارو، جلاؤ گھیراؤ‘‘ کے الفاظ کے جواب میں چھپا تھا، پاکستان کے تاجر، صنعت کار، پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سیہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے‘‘ کاش یہ سب عالیٰ دماغ لوگ تاریخ پڑھ لیتے یا پھر وقت کی نبض ہی دیکھ لیتے۔ کیا کبھی تاریخ میں ستائے ہوئے عوام کے سامنے ستانے والوں کا اتحاد بھی کامیاب ہوا ہے۔ لوگوں کے ہجوم کے سامنے یہ سب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں تاجر، صنعت کا ر یا سرمایہ دار طبقات ہمیشہ ریاست کی طاقت اور پالتو غنڈوں کے ذریعے اپنی لوٹ مار سے بنائی ہوئی دولت کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔
لوگ اس اسپتال، اسکول، سرکاری دفتر، مل اور کارخانے کی حفاظت کرتے ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا ہو، جہاں ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو اور جو انھیں زندگی کی سہولیات مہیا کرتا ہو۔ ماہرینِ عمرانیات کہتے ہیں کہ ریاست سے محبت اس کے روّیے سے پیدا ہوتی ہے۔ تین اہم کام ہیں جو ریاست کرے تو اس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
بیروز گار ہوں تو روز گار فراہم کرے، ظلم ہو تو انصاف فراہم کرے اور بیمار ہوں تو علاج کروائے ۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ آپ بے روز گار ہوں اور اگر گھر والے مدد کو موجود نہ ہوں تو آپ خودکشی کر سکتے ہیں، آپ کا رشتے دار قتل ہو جائے تو تھانے میں الٹا آپ پر کیس بن جا تا ہے، چار بھائی ہوں تو بدلہ لے لیں گے، آپ بیمار ہوں تو گھر والوں کے پاس علاج کے پیسے ہیں تو ٹھیک ورنہ آپ اپنے پیاروں کی لاش اسپتال سے لائیں گے۔
ایسے میں لوگوں کی محبتیں ریاست کے بجائے گھر کی جانب منتقل ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ مصیبت میں آپ کے کام گھر آتا ہے حکومت نہیں۔ ایسے میں لوگ مین ہول کا ڈھکن، اسٹریٹ لائٹ کا لیمپ یا دفتر کی اسٹیشنری چرا کر گھر لاتے ہیں کہ کل اس گھر نے ہی تو ان کا ساتھ دینا ہے دوسری جانب حکومت و ریاست کا ہر ادارہ لوگوں کی نفرت، غصے اور ہیجان کا نشانہ بن جاتا ہے۔
اوریا مقبول جان

تحریک تکمیل پاکستان مگر کیسے؟…..

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے لاہور میں ہونے والے جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماعِ عام سے ملک بھر میں تحریک تکمیلِ پاکستان شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریک انصاف اسلام آباد میں دھرنے سے نیا پاکستان تخلیق کررہی ہے، میاں نوازشریف چین کی سرمایہ کاری کو پاکستان کے ہر درد کی دوا قرار دے رہے ہیں، پیپلزپارٹی اپنے ماضی کی بازیافت کے ذریعے قوم کو متحرک کرنا چاہتی ہے۔ لیکن سراج الحق نے ایسا کچھ کرنے کے بجائے قیام پاکستان اور اس کے مقاصد کو یاد کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک و قوم کو درپیش بحران میں تحریک پاکستان اور اس کی تکمیل ایک ایسی جماعت کے سربراہ کو یاد آئی ہے جسے اس کے حریف قیام پاکستان کی مخالف جماعت کہتے ہیں۔ تاہم سراج الحق کے مذکورہ اعلان سے ظاہر ہے کہ تحریک پاکستان اور اس کے مقاصد اگرکسی جماعت کو یاد ہیں تو وہ صرف جماعت اسلامی ہے۔ 
اس کی وجہ ہے، اور وہ یہ کہ تحریک پاکستان ایک نظریاتی تحریک تھی، پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور خود جماعت اسلامی کا خمیر بھی ایک نظریے سے اٹھا ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی سے زیادہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہوسکتی کہ پاکستان سے محبت کے حقیقی تقاضے کیا ہیں؟ پاکستان کیا تھا؟ پاکستان کیا ہوگیا ہے اور پاکستان کو کیا ہونا چاہیے؟ لیکن یہاں دو سوالات اہم ہیں۔ ایک یہ کہ تحریک پاکستان کیا تھی؟ دوسرا سوال یہ کہ قیام پاکستان کے مقاصد کیوں پورے نہیں ہوسکے اور انہیں کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے؟
بعض لوگ تحریکِ پاکستان کو ایک سیاسی تحریک سمجھتے ہیں۔ مگر تحریکِ پاکستان اول و آخر ایک نظریاتی تحریک تھی اور اس کی پشت پر اسلامی تہذیب اور تاریخ کے بڑے بڑے محرکات کام کررہے تھے۔ لیکن تحریکِ پاکستان نظریاتی تحریک تھی تو کیسے؟ برصغیر سے انگریزوں کے رخصت ہوجانے کے بعد ہندوستان کو آزاد ہوجانا تھا اور متحدہ ہندوستان ’’متحدہ قومیت‘‘ کے فلسفے کے زیراثر اپنا نیا تاریخی سفر شروع کرتا۔ متحدہ قومیت کے فلسفے کے تحت ہندو اور مسلمان ایک قوم تصور کیے جاتے۔ لیکن مسلمانوں نے متحدہ قومیت کے تصور کو رد کر دیا۔ مسلمان چاہتے تو علیحدہ قومیت کے فلسفے کی بنیاد قومیت کے عام تصور پر رکھتے اور کہتے کہ چونکہ ہماری نسل، جغرافیہ اور زبان الگ ہے اس لیے ہم ہندوئوں سے مختلف قوم ہیں۔ مگر مسلمانوں نے اس امکان سے بھی استفادہ نہ کیا۔ تحریک پاکستان سے بہت پہلے روس میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوچکا تھا اور آدھی سے زیادہ دنیا اس سے متاثر ہوچکی تھی۔ مسلمان چاہتے تو اپنی آزادی کی تحریک سوشلزم کے نظریے سے ہم آہنگ ہوکر چلاتے۔ مگر انہوں نے سوشلزم کی طرف نگاہِ غلط انداز سے بھی نہ دیکھا۔ 
انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ ہم ہندوئوں سے مختلف قوم ہیں اس لیے کہ ہمارا مذہب الگ ہے، اور چونکہ ہمارا مذہب الگ ہے اس لیے ہماری تہذیب اور تاریخ بھی جداگانہ ہے، چنانچہ ہمیں اپنے جداگانہ تشخص کے تحفظ اور دفاع کے لیے الگ ملک درکار ہے، اور یہ ملک ان تمام علاقوں پر مشتمل ہونا چاہیے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اس صورت حال نے تحریک پاکستان کو ایک خالص نظریاتی تحریک بنادیا۔ بعض عناصر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ قیام پاکستان کی وجہ مسلمانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ تھا۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو تحریکِ پاکستان کا اصل نعرہ روزگار ہوتا۔ مگر تحریک پاکستان کا مرکزی نعرہ اسلام تھا، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کا جداگانہ تشخص تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک پاکستان سیاسی تحریک نہیں تھی۔ تحریک پاکستان سیاسی تحریک تھی لیکن تحریک پاکستان کا سیاسی پہلو بھی نظریاتی پہلو کے دائرے میں تھا۔ 
اب سوال یہ ہے کہ تحریک پاکستان کے تقاضے پاکستان بننے کے باوجود کیوں پورے نہ ہوسکے؟
تحریک پاکستان اگرچہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کی تحریک تھی مگر اس تحریک کا انحصار صرف ایک شخصیت پر تھا۔ یہ شخصیت قائداعظم تھے۔ بعض لوگ قائداعظم کو صرف سیاسی رہنما سمجھتے ہیں۔ مگر قائداعظم صرف سیاسی رہنما نہیں تھے، وہ پاکستان کی علامت تھے، تحریک پاکستان کا استعارہ تھے، مسلمانوں کے ماضی کی صدا تھے، برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا مظہر تھے، مسلمانوں کی آرزوئوں کی تجسیم تھے، مسلمانوں کے باطن کی آواز تھے۔ وہ مسلمانوں کی تلوار تھے، مسلمانوں کی ڈھال تھے۔ ان کا نظریہ ’’قدیم‘‘ کی علامت تھا، ان کی شخصیت ’’جدید‘‘ کا پیکر تھی۔ اس طرح قائداعظم قدیم و جدید کا حسین امتزاج تھے۔ لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی قائداعظم اس دنیا سے رخصت ہوگئے، قوم یتیم ہوگئی اور وہ تمام چیزیں قائداعظم کے ساتھ رخصت ہوگئیں قائداعظم جن کی علامت تھے۔ 
قائداعظم کی شخصیت اتنی اہم تھی کہ لارڈ مائونٹ بیٹن سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ اگر ہمیں قائداعظم کی سنگین بیماری کا علم ہوجاتا تو ہم برصغیر کی تقسیم کے منصوبے پر کچھ عرصے کے لیے عمل درآمد ترک کردیتے۔ چنانچہ قائداعظم کے انتقال نے قیادت کا سنگین خلا پیدا کردیا۔ مسلم لیگ اگر حقیقی معنوں میں نظریاتی جماعت ہوتی تو قائداعظم کی عدم موجودگی کا کسی نہ کسی حد تک ازالہ ہوسکتا تھا۔ مگر مسلم لیگ صرف ایک سیاسی جماعت تھی اور اس پر جاگیرداروں اور مطلب پرستوں کا غلبہ تھا۔ چنانچہ وہ قائداعظم کے انتقال کے سانحے کا بوجھ نہ اٹھا سکی۔ قائداعظم کے بعد لیاقت علی خان قوم کی امیدوں کا مرکز بن کر ابھرے، لیکن ایک تو یہ کہ وہ محمد علی جناح نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ انہیں جلد ہی منظر سے ہٹا دیا گیا۔ 
چنانچہ پاکستان میں قیادت کا خلا ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آیا۔ قیادت کی موجودگی یا عدم موجودگی اتنی اہم ہے کہ قیادت موجود ہو تو ایک ناکام قوم کامیاب قوم بن جاتی ہے، اور قیادت موجود نہ ہو تو ایک کامیاب قوم بھی ناکام قوم میں ڈھل جاتی ہے۔ قائداعظم موجود تھے تو پاکستان عدم سے وجود میں آگیا، اور قائداعظم موجود نہ رہے تو پاکستان رفتہ رفتہ ایک ناکام ریاست کا تاثر خلق کرنے کا باعث بننے لگا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو تحریک ِپاکستان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کو ایک دیانت دار، مخلص، اہل اور جدید و قدیم پر حاوی قیادت فراہم کی جائے۔ اس سلسلے میںجماعت اسلامی پاکستان کی کسی بھی دوسری جماعت سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس لیے کہ جماعت اسلامی سید ابواعلیٰ مودودیؒ کی فکر اور شخصیت کی وارث ہے اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ خود جدید و قدیم کی علامت ہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی قوت اس کا نظریہ تھا۔ اس نظریے کا کمال یہ تھا کہ اس نے بھیڑ کو قوم بنادیا تھا۔ اس نے انتشار میں اتحاد پیدا کیا۔ مایوس لوگوں میں امید پیدا کی۔ جو کچھ نہیں کررہے تھے انہیں متحرک کیا۔ جو ایک گھر نہیں بنا سکتے تھے انہیںایک ملک بنانے کے کام پر لگایا۔ جو انگریزوں سے پٹ گئے تھے اور ہندوئوں سے پٹنے والے تھے انہیں انگریزوں اور ہندوئوں کے خلاف صف آراء کیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان ایک جسم تھا اور اس کا نظریہ اس کی روح تھا۔ لیکن قائداعظم کے بعد جو لوگ پاکستان کے حاکم بنے انہوں نے پاکستان کے نظریے کو فراموش کردیا۔ پاکستان کے کسی حکمران کو سیکولرازم یاد آیا، کسی کو سوشلزم۔ 
چنانچہ ملک و قوم کی نظریاتی بنیادیں کھوکھلی ہوتی چلی گئیں اور ایک قوم کئی قوموں میں بٹ گئی۔ اس صورت حال کا سب سے پہلا اثر مشرقی پاکستان میں نمایاں ہوا جہاں نظریاتی بنیادوں کی کمزوری نے بنگلہ قومیت کے تصور کو فروغ دیا۔ بعد ازاں یہ بیماری ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گئی۔ چنانچہ ملک میں لسانی اور صوبائی تعصبات اور ذات برادری کے تصورات قوی ہوگئے اور مرکز گریز رجحانات نے ہمیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو تحریکِ پاکستان کی تکمیل کی ایک صورت یہ ہے کہ پاکستان کے نظریے کو اجتماعی زندگی میں غالب کیا جائے۔ تحریکِ پاکستان اسلام کو جذبے سے شعور بنانے والی تحریک تھی اور آج اگر کوئی جماعت یہ کام کرنا چاہے تو اسے اسلام سے وابستہ جذبے کو شعور میں ڈھالنا ہوگا۔ حسنِ اتفاق سے جماعت اسلامی خود اسلام کو جذبے سے شعور میں ڈھالنے والی تحریک ہے، چنانچہ یہ کام جماعت اسلامی سے بہتر انداز میں کوئی کر ہی نہیں سکتا۔ مگر اس کا ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ خود جماعت اسلامی اپنی علمی اور تہذیبی بنیاد کو گہرا اور وسیع کرے۔
اسلامی ریاست کے دائرے میں عدل اور اہلیت کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور ہمارے حکمران طبقے نے قائداعظم کے بعد پاکستان کو عدل اور اہلیت دونوں سے محروم کردیا۔ مشرقی پاکستان کی آبادی 54 فیصد تھی مگر اُن سے کہا گیا کہ آپ کو پاکستان عزیز ہے تو اپنے وسائل کے حصے کو صرف 50 فیصد تسلیم کرو۔ 
مشرقی پاکستان کی قیادت اور لوگوں نے پاکستان کی محبت میں اپنے 54 فیصد کو 50 فیصد تسلیم کرلیا۔ مگر 50 فیصد پر بھی ایمان داری کے ساتھ عمل نہ ہوا، چنانچہ مشرقی پاکستان میں شکایات پیدا ہوئیں اور ان شکایات نے پروپیگنڈے کی آمیزش کے ساتھ ایک طوفان کی صورت اختیار کرلی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بچے کھچے پاکستان میں اہلیت کو نظرانداز کیا گیا۔ کہیں رشوت اور سفارش کو فوقیت حاصل ہوئی اور کہیں کوٹہ سسٹم کا راج ہوگیا۔ اس منظرنامے میں عدلِ اجتماعی ناممکن ہوگیا۔ حالانکہ تحریکِ پاکستان خود مسلمانوں کے لیے عدل کی تلاش اور قیام کی تحریک تھی۔ چنانچہ جماعت اسلامی پاکستان میں تحریکِ پاکستان کی تکمیل کرنا چاہتی ہے تو اسے عدل اور اہلیت کے تصورات کو اہمیت دینا ہوگی اور انہیں معاشرے کا زندہ جزو بنانا ہوگا۔
تحریکِ پاکستان اپنی اصل میں ایک عوامی تحریک تھی اور قائداعظم اور قوم کے درمیان تعلق کی نوعیت یہ تھی کہ قائداعظم قوم کی وحدت تھے اور قوم قائداعظم کی کثرت تھی۔ لیکن پاکستان 1947ء میں قائم ہوا اور 1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ لیکن جنرل ایوب کا مارشل لا پہلا اور آخری مارشل لا ثابت نہ ہوا بلکہ جنرل ایوب کے بعد قوم نے جنرل یحییٰ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف کا مارشل لا بھی بھگتا۔ مارشل لا کے تسلسل نے قوم کو دوبڑے نقصانات پہنچائے۔ ایک یہ کہ قوم میں توانا سیاسی کلچر پیدا نہ ہوسکا، اور دوسرا یہ کہ عوام امورِ مملکت میں شرکت کے احساس سے محروم ہوگئے۔ اس کا سب سے ہولناک نتیجہ مشرقی پاکستان میں سامنے آیا جہاں ایک فوجی آمر کا اقتدار ملک کے دولخت ہونے کا سبب بن گیا اور محرومی کے احساس نے عوام کو ریاست کے خلاف بغاوت پر مجبور کردیا۔ اگر چہ آخری مارشل لا کو رخصت ہوئے عرصہ ہوچکا ہے لیکن ملک میں جیسے ہی کوئی سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے نئے اور توانا مارشل لا کا خطرہ ملک و قوم کے سر پر منڈلانے لگتا ہے۔ چنانچہ تحریک پاکستان کی تکمیل کا ایک تقاضا ملک میں مارشل لا کے امکان اور فوجی بالادستی کا خاتمہ ہے۔ پاکستان قائم ہوا تھا تو وہ آزادی کی علامت تھا۔ تحریکِ پاکستان نے انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد کی تھی، ہندوئوں سے آزادی کا عَلم بلند کیا تھا، تاریخ اور قومیت کے تصورات کے جبر کے خلاف بغاوت کی تھی۔ چنانچہ پاکستان کو ہر اعتبار سے آزاد ہونا تھا۔ مگر قائداعظم کے بعد پاکستان کو جو حکمران فراہم ہوئے وہ کالے انگریز تھے، اور یہ کالے انگریز بہت جلد امریکہ اور یورپ کے غلام بن گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ غلامی کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھتی ہی چلی گئی، یہاں تک کہ امریکہ پاکستان کے لیے ایک طاغوت بن کر سامنے آگیا۔ اس تناظر میں تحریک تکمیلِ پاکستان کا مطلب طاغوت کی ہر صورت کے خلاف مزاحمت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنی تاریخ میں ہمیشہ وقت کے جابروں کو للکارا ہے۔ اس نے نہ سوشلزم اور سیکولرازم کے جبر کے آگے ہتھیار ڈالے، نہ جرنیلوں کی آمریت کو تسلیم کیا۔ چنانچہ پاکستان میں جماعت اسلامی سے بڑھ کر طاغوت کی مزاحمت کرنے والا کوئی اور نہیں ہو سکتا، اور جماعت اسلامی اس مزاحمت کے بغیر تحریک پاکستان کی تکمیل کا حق ادا نہیں کرسکتی۔
شاہنواز فاروقی
 

طیب اردگان کا عالیشان صدارتی محل….

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخر میں ترکی کے صدر طیب اردگان (جو دس سال تک ترکی کے وزیراعظم رہے ہیں) نے انقرہ کے نواحی علاقے میں اپنے ایک شاندار اور عالیشان صدارتی محل کا افتتاح کیا۔
یہ محل جو دو لاکھ اسکوائر میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اپنے اندر 1000 کمرے رکھتا ہے، اس کی لاگت پر 350 ملین ڈالرز (یعنی 35 کروڑ ڈالرز) کا خرچہ آیا ہے اس کی افتتاحی تقریب اور استقبالیے پر 2500 فیملیز کو مدعو کیا گیا ہے لیکن ترکی میں ہونے والے ایک حادثے کی وجہ سے اس کو منسوخ کردیاگیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق ماحولیاتی ماہرین نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی تھی جب کہ اپوزیشن نے بھی اس پر شدید اعتراضات کرتے ہوئے کہاکہ اس لاگت سے ترکی اپنے 3سیارے مریخ میں بھیج سکتا تھا۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اردگان نے اس محل کو بنانے کے خلاف عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی کی ۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس محل کو وائٹ ہائوس کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جب کہ محل وائٹ ہائوس برطانیہ کے برمنگھم، پیلس اور روس کے کریملن پیلس سے کہیں بڑا ہے۔ اردگان نے اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کو رد کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو وہ اس کو گرا دے۔ ترکی کی اپوزیشن جماعتیں اردگان پر ڈکٹیٹر بننے کا الزام لگا رہی ہیں۔ طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے 2002 میں ترکی کا اقتدار سنبھالا۔73 ملین مسلم آبادی والے اس ملک کی معیشت اردگان دور اقتدار میں (جو 10 سال سے زیادہ پر محیط ہے) تین گنا سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ برآمدات جو 2002 میں 36 بلین ڈالرز تھیں اب بڑھ کر 120 بلین ڈالرز ہوگئیں۔
زر مبادلہ کے ذخائر نمایاں اضافے کے ساتھ 90 ارب ڈالرز ہوگئے۔ فی کس آمدنی تین گنا بڑھ گئی۔ معاشی شرح نمو (Economic growth) کی شرح 7.5 فی صد تک پہنچ گئی، جب کہ اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ 2023 تک ترکی دنیا کی دسویں بڑی معیشت بن جائے گا۔ 2002 سے 2012 تک کے عرصے میں شرح نمو میں 64 فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، فی کس آمدنی 43 فی صد بڑھی، جب کہ اردگان کو ورثے میں 23.5 ارب ڈالرز کا بیرونی قرضہ ملا تھا۔ جو اب کم ہوکر محض 0.9 ارب ڈالرز رہ گیا، مرکزی بینک کے پاس اس وقت (جب اردگان کو اقتدار ملا) 26.5 ارب ڈالرز تھے جب کہ یہ بڑھ کر اب 92.2ارب ڈالرز ہوگئے۔
مہنگائی (Inflation) کی شرح 32 فی صد سے کم ہوکر 9 فی صد ہوگئی۔ سرکاری قرضوں میں نمایاں کمی ہوئی اور وہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 74 فی صد سے کم ہوکر 39 فی صد تک آگئے۔ اور اب ترکی یورپی یونین (EU) کے 27 میں سے 21 ممالک کے مقابلے میں کم سرکاری قرضے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جب کہ اس کا بجٹ خسارہ ان میں سے 23 ملکوں سے کم ہے، تعلیمی بجٹ کو 7.5 بلین لیرا (ترکی کرنسی) سے بڑھ کر 39 بلین لیرا ہوگیا۔ یونیورسٹیوں کی تعداد 2002 میں 98 تھیں اب 186 سے زائد ہیں۔
 
ترکی کی سفارتی اور سیاسی اہمیت میں دنیا بھر میں اضافہ دیکھنے میں آیا جوکہ اردگان کی بہتر خارجہ پالیسیوں کا ثمر تھا۔ مضبوط ہوتی ہوئی معیشت نے اردگان کے قد میں مسلسل اضافہ کیا، اردگان نے مسلسل ترکی کے وقار میں اضافہ کیا اور مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اس کی واضح مثال امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی طرف سے اردگان پر کی جانے والی تنقید کے بعد اپنا بیان واپس لینے اور معافی کی وضاحت جاری کی گئی۔
یہ وضاحت کچھ عرصے پہلے ہی میڈیا کی خبروں کی زینت بنی جس میں جوبائیڈن نے (اردگان کے ایک بیان جو شام اور عراق کے بارے میں دیا گیا تھا) ترکی پر شدید تنقید کی اور پھر اردگان حکومت کے اعتراض کے بعد اس تنقید کو واپس لیا۔ چوں کہ ترکی کے آئین میں تیسری دفعہ وزیر اعظم بننے کی گنجائش موجود نہیں لہٰذا اردگان نے اس دفعہ صدارتی الیکشن میں حصہ لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ یہ اردگان کی مثالی پرفارمنس پر وہاں کے عوام کا اعتماد ہی تھا کہ وہ صدارتی الیکشن جیت کر اقتدار کے ایوانوں تک ایک دفعہ پھر پہنچ گئے۔
اقتدار میں آنے کے بعد اردگان کو بھی شروع میں بے پناہ مسائل کا سامنا تھا لیکن مستقل محنت، مستقل مزاجی اور مربوط منصوبہ بندی نے اردگان کو فقید المثال کامیابی سے نوازا۔ جوکہ پوری امت مسلمہ کے لیے اور خاص کر حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ اگر آج اردگان اپنی تمام تر کامیابیوں اور فتوحات کے باوجود اپنے عالیشان محل کی تعمیر پر تنقید سہہ رہے ہیں تو یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
کیوں کہ شہرت اور مقبولیت کسی کی میراث نہیں ہوتی اس کو کمایا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے لیے اس میں ایک بڑا سبق موجود ہے۔ اگر آج جو لوگ ہمارے حکمرانوں کی بیش قیمت گھڑیوں، عالیشان محل اور سیاست دانوں کے پروٹوکول، بینک اکائونٹس اور پرائیویٹ جیٹ طیاروں پر اعتراض کرتے ہیں تو ان کو اس کا برا نہیں منانا چاہیے۔ کیوں کہ ان کے پاس تو اتنی بڑی کامیابی کا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں جس کو وہ قوم کے سامنے رکھ کر فخر کا اظہار کرسکیں۔اگر پوری قوم خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو اور ملک میں ہر طرف ترقی کی مسافتیں طے ہورہی ہوں تو پھر ان ذاتی اثاثوں پر تنقید بے جا معلوم ہوگی لیکن اس کے بغیر تو قوم یہ جاننے کا حق رکھتی ہے کہ آپ کی زندگی میں تو خوشیاں ہی خوشیاں۔ لیکن قوم مفلسی اور مسائل کے چنگل میں پھنسی ہو۔
کیا ہمارے حکمران طیب اردگان کی پرفارمنس کو قابل تقلید بنائیںگے اور اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو مثبت انداز میں لے کر آگے بڑھنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر چلانے کے لیے جد وجہد کریںگے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کا انتظار ہر پاکستانی شہری کو ہے۔ کاش کہ ہمارے حکمران بھی اپنا طرز حکومت بھی طیب اردگان کی طرح تبدیل کرکے تاریخ میں اپنے آپ کو امر بنالیں اور ہمیشہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں گھر کر جائیں، پورا پاکستان اپنے لیے ایک طیب اردگان کی تلاش میں ہے۔
عبد الوارث

 

جماعت اسلامی اور اس کی کامیابیاں؟…..

کیا جماعت اسلامی ایک ناکام جماعت ہے جو اپنی تنظیمی زندگی کے 74 سال مکمل کرنے کے باوجود قابل ذکر پارلیمانی قوت نہیں بن سکی؟ اگر کامیابی و ناکامی کو محض اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی عددی قوت کے پیمانے پر جانچا جائے تو جماعت اسلامی کو واقعی ایک ناکام سیاسی جماعت قرار دیا جا سکتا ہے اور کیونکہ سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی کی جانچ پرکھ کے لیے ان کا ووٹ بینک اور پارلیمانی عددی قوت ہی پیمانہ ہوا کرتا ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض اس پیمانے پر کرنا انتہائی زیادتی ہوگی کیونکہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر، فکری، نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے۔ سیاسی جدوجہد اس کی ہمہ جہت سرگرمیوں کا ایک جزو ہے، کُل نہیں۔ جماعت اسلامی اسلامی نظریۂ حیات کی ترویج، نظام اسلامی کے نفاذ اور ملک میں عادلانہ، منصفانہ اسلامی و جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کی طویل ترین تاریخ کی حامل ایک نظریاتی تحریک ہے اور اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ اس کی فکری و نظریاتی جدوجہد کے تناظر میں ہی لیا جا سکتا ہے، نہ کہ صرف ووٹ بینک کے محدود پیمانے پر۔
بانیٔ جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جب گزشتہ صدی کے نصف اوّل میں اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے امت کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اسلام محض پوجا پاٹ کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی کے تمام دائروں پر محیط ہے، جس میں حکومت و ریاست کے معاملات، معیشت و تجارت کے مسائل، صلح و جنگ کے اصول، آئین و قانون کے نکات اور تہذیب و ثقافت کی ساری نشریحات شامل ہیں، تو عوام الناس تو کُجا بڑے بڑے علمائے کرام دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ جاتے تھے اور پوچھتے تھے کہ بھلا اسلام کا ان ’’بکھیڑوں‘‘ سے کیا تعلق؟ یہ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی جماعت اسلامی ہے جس نے مسلمانوں میں اس قدر شعور پیدا کردیا ہے کہ آج بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی اسلام کو عیسائیت، بدھ مت یا ہندومت کی طرح محض پوجاپاٹ کا مذہب نہیں سمجھتا، بلکہ مکمل نظام حیات سمجھتا ہے، اور اسلامی نظام کا نفاذ اب اچنبھے کی بات نہیں سمجھی جاتی۔
قیام پاکستان کے بعد ملک کی دستوری بنیادیں اٹھانے کا مرحلہ درپیش ہوا تو سید مودودیؒ نے ملک بھر کے دینی حلقوں کو جمع کرکے اسلامی دستور کی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی جس کی رو سے اسلام اس ریاست کا سرکاری دین قرار پایا اور قرآن و سنت کو دستور سازی اور قانون سازی کی اساس کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس طرح ملک کی نظریاتی جہت ہمیشہ کے لیے متعین ہوگئی جسے بعد کے مختلف ادوار میں بدل کر سیکولر بنانے کی کوششیں ہوئیں، لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔ اسی قراردادِ مقاصد کی روشنی میں 1956ئکا دستور ترتیب دیا گیا لیکن ملکی تاریخ کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر نے اسے منسوخ کرکے 1962ء کا مارشل لائی دستور نافذ کیا، لیکن ڈکٹیٹر کی رخصتی کے ساتھ اُس کا دستور بھی دفن ہوگیا۔ بعد میں قراردادِ مقاصد ہی کی بنیاد پر 1973ء کا دستور نافذ ہوا جو ریاست پاکستان کی متفقہ آئینی دستاویز ہے۔ قراردادِ مقاصد دستورِ پاکستان میں دفعہ 2-A کے طور پر شامل ہے۔
قراردادِ مقاصد کی منظوری سے ملک کی نظریاتی جہت تو متعین ہوگئی لیکن سیکولر حلقوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا کہ ملک میں کئی فرقے ہیں جو اسلام کے حوالے سے اپنا اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ اس طرح اسلام کے بارے میں کس فرقے کی تشریح معتبر ہوگی اور مختلف فرقوں کو اسلام کی تعبیر و تشریح پر کس طرح متفق کیا جائے گا؟ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور جماعت اسلامی نے سیکولر حلقوں کا یہ چیلنج بھی اس طور پر قبول کیا کہ ملک بھر کے جملہ مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام کو اسلام کی توضیح و تشریح کے حوالے سے 22 نکات پر متفق کردیا جس کے نتیجے میں فرقہ واریت کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوگیا۔ علمائے کرام کے 22 نکات ملتِ اسلامیہ پاکستان کے اجماع امت کی حیثیت رکھتے ہیں اور اتحادِ بین المسلمین کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
وطن عزیز کی تاریخ کی ابتدائی تین دہائیوں میں دو چیلنج ابھر کر سامنے آئے جنہوں نے ملتِ اسلامیہ پاکستان کی نئی نسل کے ذہنوں میں اسلامی نظریے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کردئیے۔ یہ دو چیلنج قادیانیت اور سوشلزم تھے۔ جماعت اسلامی نے علمی و فکری محاذ پر ان دونوں فتنوں کا مقابلہ کیا اور ان قوتوں کی طرف سے نوجوان نسل کے ذہنوں میں بوئے جانے والے شکوک و شبہات کو رفع کرکے انہیں اسلامی نظام حیات کو شعوری طور پر سمجھنے اور اپنانے پر آمادہ کیا۔ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل اُس وقت ٹھونکی گئی جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کی اسٹوڈنٹس یونین کی قیادت میں طلبہ کا ایک قافلہ ربوہ ریلوے اسٹیشن سے گزرا تو اس پر قادیانی غنڈوں نے حملہ کردیا اور طلبہ پر تشدد کیا۔ اس واقعہ کے خلاف پورے ملک میں تحریک ختم نبوت برپا ہوئی اور بالآخر وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا۔ قبل ازیں 1950 کی دہائی میں ’’قادیانی مسئلہ‘‘ نامی کتاب لکھنے پر وقت کی مارشل لا عدالت نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو سزائے موت دئیے جانے کا فیصلہ بھی کیا تھا جسے بعد میں ملتِ اسلامیہ پاکستان اور عالم اسلام کے شدید دبائو پر منسوخ کیا گیا۔ اس طویل تحریک کے نتیجے میں قادیانی ناسور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جسدِ ملّی سے کاٹ کر الگ کردیا گیا۔
سوشلزم اور کمیونزم کے الحادی نظریات نے وطن عزیز کی نوجوان نسل کو اسلام سے برگشتہ کررکھا تھا۔ سوشلزم محض معاشی یا سیاسی نظام نہیں بلکہ اسلام کے مدمقابل ایک مکمل نظریۂ حیات تھا جس میں خدا، رسول، ایمانیات، اخلاقیات وغیرہ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ کمیونسٹ راہنما ان اصطلاحات کو سرمایہ داروں کے استحصالی ہتھیار قرار دے کر ان مبادیاتِ اسلام کے خلاف مورچہ زن تھے۔ اسلامی دستور کے مطالبے اور قادیانیت کے خلاف جدوجہد میں وطنِ عزیز کی دیگر اسلامی قوتوں نے بھی جماعت اسلامی کا بڑی حد تک ساتھ دیا تھا، لیکن سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف نظریاتی جنگ جماعت اسلامی کو تنہا لڑنی پڑی۔ جماعت اسلامی سے وابستہ مصنفین، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے میدان میں اسلامی نظریے کی جنگ لڑی۔ حتیٰ کہ 1980 کی دہائی میں سوشلزم افغانستان میں اسلامی تحریک اور مجاہدینِ افغانستان کے ہاتھوں پاش پاش ہوگیا اور نتیجتاً خود روس نے اس کمیونزم کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ کمیونزم جیسے الحادی نظریے کی شکست جماعت اسلامی کا ایک بڑا کارنامہ ہے جس کا آج کی نوجوان نسل اندازہ نہیں کرسکتی۔
مشرقی پاکستان میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کے تحفظ کے لیے وہاں کی جماعت نے 1971ء میں جو ایمان افروز کردار ادا کیا وہاں کے قائدین آج تک اس کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں جماعت اسلامی کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمیں زندگی کے ہر شعبے میں فکری و نظریاتی جدوجہد، افراد کی کردار سازی اور قومی زندگی میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کررہی ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور وطن عزیز پاکستان دونوں 1947ء کے جڑواں ہیں۔ کسی شاعر کے بقول
اک ٹہنی پہ دو پھول کھلے ہیں، پاکستان اور میں
ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہے ہیں، پاکستان اور میں
اسلامی جمعیت طلبہ گزشتہ 67 سال سے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں نظریۂ پاکستان کی جنگ لڑنے کے ساتھ طلبہ کے سیرت و کردار کی تعمیر کی جدوجہد بھی کررہی ہے۔ جماعت اسلامی سے وابستہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلامی جمعیت طالبات، تنظیم اساتذہ پاکستان، جمعیت طلبہ عربیہ، شباب ملّی، مزدوروں اور کسانوں کی تنظیمیں اور دیگر سینکڑوں تنظیمات اور ادارے اپنے اپنے میدان میں قوم کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ جماعت اسلامی کا شعبہ خدمتِ خلق ’’الخدمت فائونڈیشن‘‘ کے نام سے سیلاب، زلزلے اور دیگر آفاتِ سماوی کا شکار دکھی انسانیت کی خدمت کررہا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت خدمت کے میدان میں جماعت اسلامی کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ کشمیر اور خیبر پختون خوا میں 2005ء میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہو یا وطن عزیز کے بڑے حصے کو غرقاب کرنے والا خوفناک سیلاب، یا صحرائے تھر میں خوفناک قحط سالی کا شکار سسکتی اور دم توڑتی انسانیت… جماعت اسلامی اور الخدمت کے کارکنان ہر دکھ درد میں قوم کے ساتھ رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے قائدین نے بیرون ملک تو کیا اندرون ملک بھی کوئی جائدادیں نہیں بنائیں۔ ان کی جائداد وہ فقرو درویشی ہے جس کے مقابلے میں دنیا بھر کے خزانے بھی ہیچ ہیں۔ ان کا فقر ’مجبوری کا نام شکریہ‘ نہیں بلکہ نبی آخرالزماںؐ اور خلفائے راشدینؓ کے طرزِ زندگی کا پرتو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کرپشن کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھو سکتے تھے بلکہ انہوں نے مال و دولت کو تج کر بے لوث خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے۔ جماعت سے وابستہ سینکڑوں افراد ماضی قریب میں وفاقی و صوبائی وزرائ، ارکانِ سینیٹ، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی، میئر اور ناظمین وغیرہ رہے ہیں۔ چاہتے تو دولت کی دیوی ان پر بھی مہربان ہوسکتی تھی۔ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کی بھی جائدادیں بن سکتی تھیں۔ دنیا بھر کے بینکوں میں ان کے سرمائے کی بھی ریل پیل ہوسکتی تھی۔ لیکن جماعت اسلامی کے لوگ لگتا ہے اِس دنیا کی مخلوق ہی نہیں ہیں۔ یہ واقعی ہوس پرستی کی اس دنیا کی مخلوق نہیں ہیں بلکہ اسلاف کے نقشِ قدم پر چل کر وطن عزیز کو مدینے کی طرز کی اسلامی ریاست بنانے کے عَلم بردار ہیں، اور یہ کام وہی کرسکتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا ؎
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدر، فقرِ بوذر، صدقِ سلمانی
پھر اس پہلو سے بھی غور فرمائیے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں ہیں ہی کہاں؟ یہ تو جاگیریں ہیں یا گدیاں، جو وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔ کارکن ہمیشہ کارکن رہتا ہے اور اس کا کام نعرے لگانا، پنڈال بنانا، اسٹیج سجانا، بینر آویزاں کرنا اور لیڈر (جس کی ’’تخلیق‘‘ یا ’’انتخاب‘‘ میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا) کو اپنے کندھے پر اٹھا کر مسندِ اقتدار تک پہنچانا ہوتا ہے۔ کارکن کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، اور لیڈر کبھی کارکن نہیں رہا ہوتا۔ یہ ذات پات اور چھوت چھات کا نظام کم و بیش تمام ہی سیاسی جماعتوں میں موجود ہے، لیکن جماعت اسلامی اس میدان میں بھی منفرد ہے جس نے اپنے قیام سے اب تک اپنی تنظیم کو مکمل جمہوری اور شورائی بنیادوں پر قائم رکھا ہے اور اس تسلسل میں ایک دن کا وقفہ بھی نہیں آنے دیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعد ارکانِ جماعت نے بالترتیب میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ، سید منور حسن اور سراج الحق کو یکے بعد دیگرے امیر جماعت منتخب کیا۔ ان میں سے کوئی بھی امیر خدانخواستہ بے اولاد نہ تھا بلکہ ان کی اولادیں ہمارے روایتی سیاسی قائدین کی اولادوں کی نسبت زیادہ پڑھی لکھی، تربیت یافتہ اور تہذیب یافتہ تھیں اور ہیں، لیکن ارکانِ جماعت اپنی آزاد مرضی سے جس کارکن کو امارت کی ذمہ داری کے لیے منتخب کرتے ہیں، وہی امیر جماعت بن جاتا ہے۔ نہ کوئی کھینچا تانی، نہ قیادت کے حصول کے لیے چھینا جھپٹی، نہ عہدوں اور مناصب کی بندر بانٹ اور نہ عزیزوں اور حواریوں کو نوازنے کی روش۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی ہیئت اور اس کا جمہوری ڈھانچہ سیاسیات کے طالب علموں کے لیے تحقیق کا ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کیا اس قسم کی سیاسی جماعت کا وجود بجائے خود ایک معجزہ نہیں؟
جماعت اسلامی محض روایتی مذہبی طبقے کے افراد پر مشتمل نہیں، بلکہ جدید تعلیم یافتہ اور قدیم و جدید علوم پر دسترس رکھنے والے ماہرین کی بڑی تعداد اس جماعت کی صفوں میں موجود ہے، جن میں پی ایچ ڈی حضرات، علمائے کرام، ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ معاشیات، ماہرینِ قانون، ڈاکٹرز، انجینئرز، صحافی، ادیب، دانشور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین شامل ہے، اور یہ حقیقت میں تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی نمائندہ جماعت ہے۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اگر ملک کی باگ ڈور آجائے تو کیا یہ ملک اور قوم کی خوش قسمتی نہیں ہوگی؟
قومی زندگی کے اس نازک ترین مرحلے پر جبکہ کرپشن نے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے، سیاسی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کے باعث ملک خوفناک کھینچا تانی کا شکار ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی طالع آزما وطن عزیز کو خوفناک حادثے سے دوچار کرسکتا ہے، جماعت اسلامی کا وجود امید کی کرن ہے۔ اب کی بار جماعت نے لگ بھگ ایک عشرے کے بعد ملک بھر سے اپنے کارکنوں، بہی خواہوں، ملک و ملت کے غمگساروں، سیاسی و دینی قائدین، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ افراد کو 21 تا 23 نومبر کو مینارِ پاکستان پر جمع کرتے ہوئے ایک قومی ایجنڈا دینے کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں نے دھرنے بھی دیکھے ہیں اور لانگ مارچ بھی… کنونشن بھی دیکھے ہیں اور سیاسی جلسے بھی… قوم یہ دیکھے گی کہ جس طرح جماعت اسلامی دیگر جماعتوں سے مختلف ہے، اِس طرح اُس کا اجتماع بھی دیگر سیاسی اجتماعات، دھرنوں اور جلسوں سے منفرد ہے۔ ویسے اب قوم کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔ قوم اور جماعت دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگا، ورنہ جماعت کا خسارہ تو شاید کوئی نہیں، قوم کا خسارہ ناقابلِ تلافی ہے اور قوم کا خسارہ ہی دراصل جماعت کا خسارہ بھی ہے۔
سید سلیم گردیزی