جو بڑھ کر خود اُٹھا لے….محمد بلال غوری

مغربی یورپ کی حکومتوں نے عیسائیت کے مقامات مقدسہ کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کیلئے 1096ء سے 1291ء تک جو تگ و تاز کی اسے ہم صلیبی جنگوں کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان جنگوں سے متعلق جو بیشمار کتابیں لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم کتاب Memoirs of the crusader ہے جو شاہ فرانس لوئی نہم کے ہمراہ یورش کرنے والے ایک صلیبی جانباز ژے آن دوژوان ویل نے لکھی اور آج بھی اس کا حقیقی نسخہ ایوری مینس لائبریری میں موجود ہے۔ لوئی نہم تیونس میں اپنی فوج کے ہمراہ مارا گیا اور پوپ نے اسے سینٹ یا ولی کا خطاب دیا۔ ژوان ویل نے اپنی ان یادادشتوں میں نہ صرف صلیبی جنگوں کے دوران پیش آنے والے واقعات بیان کئے ہیں بلکہ اس وقت یورپ کے فکری انحطاط کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔
یہ وہ دور تھا جب لندن اور پیرس کیچڑ میں لتھڑے رہتے تھے مگر مسلمان طلیطلہ اور اشبیلیہ جیسے شہر آباد کر رہے تھے۔ یورپی باشندے مجنونانہ جوش و جذبے کے علمبردار تھے جبکہ مسلمان عقل و خرد اور علم و فن کے ہتھیاروں سے برسرپیکار تھے۔ بے تیغ یورپ دعائوں کے سہارے لڑ رہا تھا تو مسلمان دعا سے پہلے دوا کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے اور یورپ معجزوں کا منتظر تھا مگر مادی وسائل سے لیس مسلمان خود تقدیر یزداں کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ اپنی اس سرگزشت میں ژواین ویل ایک معرکے کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ایک رات جب ہم دریا پر بنائے گئے رسوں اور لکڑی کے پلوں پر پہرہ دے رہے تھے تو اچانک مسلمانوں نے منجینق نما ایک مشین لا کر کھڑی کردی اور اس سے ہم پر آگ برسانے لگے۔ ہمارا لارڈ والٹر جو ایک بہادر نائٹ تھا ،اس نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’یہ ہماری زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہے۔
اگر ہم نے اپنی جگہ نہ چھوڑی تو جل کر خاک ہوجائیں گے۔ چونکہ ہم اس جگہ کی حفاظت پر مامور کئے گئے ہیں اس لئے یہاں سے پیچھے ہٹنا بھی رسوائی ہو گی۔اس وقت ہمیں خدا ہی بچا سکتا ہے۔لہٰذا میری آپ سب کو نصیحت ہے کہ جو نہی مسلمان اس مشین سے آگ کے گولے پھینکیں،ہم سب گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے خدا کو نجات دہندہ سمجھ کر مدد کے لئے پکاریں۔ 
فرانسیسی مصنف جو خود اس فوج میں شامل تھا ،وہ لکھتا ہے کہ ہم سب نے ایسے ہی کیا۔ جب آگ کا گولہ پھینکا جاتا تو اس کی لمبی دُم کسی نیزے کی مانند محافظوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ہر بار جب حملہ ہوتا تو ہم آنکھیں بند کرلیتے اور گڑ گڑا کر خدا کو یاد کرنے لگتے۔ لیکن جب بہت سے فوجی مارے گئے تو باقی سب نے جان بچانے کے لئے دوڑ لگا دی۔
حالات نے چند سو سال بعد ہی ایسی کروٹ بدلی کہ ہمارے اوصاف حمیدہ تو یورپ نے مستعار لے لئے مگر ہم یورپ کی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ وہ جو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے قائل تھے ،فلسفہ قضاء کی جانب مائل ہو گئے۔ جنہوں نے تدبیر سے پوری دنیا فتح کی ،وہ تقدیر کی دہلیز پر سجدہ ریز ہو گئے ۔شمشیر پر بھروسہ کرنے والے محض نعرہ تکبیر پر اکتفا کرنے لگے تو فاتحین نے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ شیخ عبدالرحمٰن الجبرتی معروف تاریخ دان ہیں جو اٹھارویں صدی کے دوران قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’عجائب الاثار فی التراجم والاخبار‘‘میں چشم دید گواہ کی حیثیت سے ایسے بہت سے واقعات درج ہیں جو اس دور میں مسلمانوں کے فکری انحطاط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں جب نپولین بونا پارٹ نے مصر پر دھاوا بول دیا تو مسلم حکمراں مُراد بک نے جامعہ الازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اس حملے سے بچنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔
اس دور کے جید علماء نے یہ نسخہ تجویز کیا کہ جامعہ الازہر میں بخاری شریف کاختم شروع کرا دیتے ہیں۔چنانچہ اس مشورے پر عملدرآمد کا حکم صادر کر دیا گیا۔ابھی یہ عمل ختم بھی نہ ہوا تھا کہ نپولین کی افواج نے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں جب روسیوں نے لشکر کشی کرتے ہوئے بخارا کا محاصرہ کر لیا تو امیر بخارا نے اپنے جنگی کمانڈروں سے مل کر لڑنے کی حکمت عملی طے کرنے کے بجائے حکم جاری کر دیا کہ تمام مساجد و مدارس میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ایک طرف روسی افواج توپوں سے گولہ باری کرتے ہوئے شہر کی فصیل میں شگاف ڈال رہی تھیں تو دوسری طرف بخارا کے لوگ مسجدوں میں بیٹھے ذکر و اذکار کر رہے تھےتو اب بے عمل مسلمانوں کے لئے تائید و نصرت کیسے اترتی۔
اسی نوعیت کا ایک واقعہ محمد ہیکل نے اپنی کتاب ’’آیت اللہ کی واپسی ‘‘ میں نقل کیا ہے ۔پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانوی افواج عراق میں داخل ہو گئیں تو ہر قسم کے مظاہروں ،جلسوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ایک دن برطانوی جنرل آفیسر کمانڈنگ کو رپورٹ ملی کہ مسلمان ایک مسجد میں جمع ہیں اور اس کے میناروں سے شور بلند ہو رہا ہے۔اس جے او سی نے کمال بے نیازی سے کہا’’اگر وہ مسجدوں میں ہی رہتے ہیں اور اس کے میناروں سے آہ و بکا کرتے ہیں تو بیشک قیامت تک کرتے رہیں ،مجھے اس کی پرواء نہیں‘‘سچ تو یہ ہے کہ دعائیں بھی ان کی قبول ہوتی ہیں جو سب حجتیں ،سب اسباب فراہم کرنے کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اُٹھاتے ہیں۔ہمارے ہاں جب بھی بڑے بڑے مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں تو جھولیاں پھیلا کر رقت آمیز انداز میں دعائیں کی جاتی ہیں ،اے اللہ! کفار کی توپوں میں کیڑے ڈال دے،اسلام کے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے،انکی سازشیں ناکام بنا دے۔
اس سے ملتی جلتی دعائیں نماز جمعہ کے اجتماعات میں بھی کی جاتی ہیں۔ جب میں مسلمانوں کو مسیحیوں کی مانند اللہ کا انتظار کرتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کیا عروج تھا،کیا پستی ہے۔آج ہمارے ہاں تساہل اور کم ہمتی کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی عام آدمی سے بات کر کے دیکھ لیں ،وہ ہاتھ اوپر اٹھا کر کہے گا،اس ملک اور معاشرے کو تو اب اللہ ہی ٹھیک کر سکتا ہے۔کسی قوم کے ذہنی و فکری انحطاط کی سب سے بڑی علامت یہی ہے کہ وہ خود اپنی حالت بدلنے کے بجائے کسی مسیحا یا کسی نجات دہندہ کا انتظار کرتی رہے۔مگر میرے رب کے قوانین اٹل اور غیر متبدل ہیں۔وہ اسے نوازتا ہے جس میں پانے کی جستجو ہو،وہ اسے عطاء کرتا ہے جو متلاشی ہوتا ہے،وہ اس کی مدد کو آتا ہے جو تقدیر سے پہلے تدبیر اور دعا سے قبل دو ا کا اہتمام کرتا ہے۔شاد عظیم آبادی نے کیا خوب کہا ہے 
یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے
محمد بلال غوری

بنگلہ دیش: ماضی اور حال….

میں جب بھی بنگلہ دیش جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی ادارہ پستی کا شکار ہوا ہے۔ پچھلی بار پارلیمنٹ تھی۔ اس بار ایک معروف وکیل کے الفاظ میں عدلیہ کمزور ہوئی ہے۔
پھر بھی جو بات پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ دور بیٹھی استحصالی حکومت کے خلاف عوامی بغاوت سے وجوہ میں آنے والا ملک سابقہ حالت والا ملک بن گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج بھی بنگلہ دیش فوج کے سائے میں جی رہا ہے۔ روز مرہ معاملات میں اسکا کوئی دخل نہیں ہے۔ بلکہ بقول ایک ممتاز فوجی افسر، ’’ہم نے ایک بار حکومت کی لیکن ہم نے دیکھا کہ معاشرہ منضبط فوجی اقتدار پر الجھن میں گرفتار عوام کی حکومت کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘
آج بھی مسئلہ ذرا مختلف شکل میں وہی ہے۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ اقتدار کو اپنے آپ میں مرتکز کر رہی ہیں اور کلیدی منصوبوں پر ایسے افراد کو فائز کر رہی ہیں جو انکے وفادار ہوں۔ انہوں نے بذات خود قانون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اگرچہ یہ بات عوام کے مزاج کے خلاف ہے جو اپنی سرکشی خود مختاری کے لیے معروف ہیں۔ وزیر اعظم حسینہ کے ہاتھوں میں پارلیمنٹ کی باگ دوڑ ہے۔ بغیر سوچے سمجھے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے عوامی لیگ کے لیے جسکی قائد حسینہ ہیں۔ میدان کھلا چھوڑ دیا۔ ایک ووٹ بھی پڑنے سے پہلے انہوں نے ساٹھ فیصد سے زیادہ تشستیں جیت لیں۔ سمجھا گیا کہ ا سملک میں انتخابات کے ناٹک کے ازالے کے لیے ازسرنو انتخابات کرائے جائیں گے۔ اسکے بجائے انہیں ایسا ایوان ملا جس میں انکی پسند کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ بے چہرہ ممبران پارلیمنٹ بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ انکی مقبولیت کی وجہ سے انکا انتخاب ممبران کی حیثیت سے ہوا ہے۔
یہ بہت خراب بات ہے اور اس سے خراب تر بات برسراقتدار پارٹی میں اس سوچ کا پنپنا ہے کہ انتخاب بے کیف ، باعث زحمت اور غیر یقینی ہیں۔ عوام کی رائے کے تعین کے لیے کوئی اور طریوہ کار وضح کیا جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ بے تحاشہ اختیارات حاصل ہوجانے کے بعد مخالفت بیزار حسینہ انتخابات کو ختم کرنے پر غور کر سکتی ہیں۔ عوام سڑکوں پر اتر کر اسکی مزاحمت شاید کریں لیکن ضدی، جابرانہ انتظامیہ ایسی صورت حال پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ اس نے ماضی میں کیا ہے۔
ان حالات میں عدلیہ کی خود مختاری لازمی ہے۔ تاہم تقریبا بیس سال تک عدالتوں سے متعلق خبروں کا احاطہ کرنے والے ایک بنگلہ دیشی صحافی نے مجھے بتایا کہ بدعنوانی کی دیمک عدلیہ کے ہر گوشے کو چاٹ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ فیصلے بکتے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ ججوں کے بیٹے انہی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں جہاں انکا باپ یا چچا بخچ پر ہوتے ہیں۔ اس سے صورتحال سنگین تر ہی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے ججوں کی تقرری کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ بنگلہ دیش کا آئین کہتا ہے کہ صدر جمہوریہ وزیر اعظم کے مشورے سے ججوں کا تقرر کرے گا۔ انہوں نے لفظ مشورہ کو وسعت در کر اسے اتفاق رائے کے ہم معنی قرار دے دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ برسراقتدار عوامی لیگ کی وفاداری کا دم بھرنے والے ان وکیلوں کو بھی جج بنا دیا گیا ہے جن کے پاس مقدمے نہیں ہیں۔
فیصلوں کو مبینہ طور پر توڑا مروڑا جاتا ہے۔ ان تقرریوں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا ہے کیونکہ ایسا کرنے والے کو دشمن کا حامی ٹھہرایا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی این پی عوام کے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ پارٹی لیڈران کی بات سسنے کے لیے آنے والے لوگ اکے معتقد بھی ہوں۔ حکمرانوں کی تنقید عوام کے نزدیک خوشگوار امر ہے۔ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روز افزوں افراط زر کا بوجھ اٹھائے ہوئے دن کاٹ رہے ہیں۔
درحقیقت واحد وفادار حامی جماعت اسلامی کے حلقہ بگوش افراد ہیں۔ انکی بنیاد پرستی کی اب بھی قیمت ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں کچھ پاکستان نواز ہیں۔ ایک معتبر خبر کے مطابق ان کی تعداد تقریبا بیس فیصد ہے۔ اس پر کسی کو تردد نہیں ہو گا کہ عوام لیکب کے ٹھوس حامی اس سے بھی زیادہ یعنی 30 سے 35 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔
  افسوس کہ مجھے ان دنوں جیسی اصول پرستی اور آدرش کا مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا جب بنگلہ دیشی عوام آزادی کی لڑائی میں مصروف تھے۔ لوگ اسے اپنے لیے بہترین ساعت تصور کرتے ہیں۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش میں بدترین مظالم ڈھانے پر پاکستان کے خلاف کوئی تلخی کا 
احساس نہیں پا جاتا ہے۔  
یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن جو فعالیت مجھے اپنے گزشتہ ادوار میں نظر آئی اس بار اس کا فقدان رہا۔ گویا کہ لوگ تھک گئے ہیں۔ یہ ایک بات ہے کہ انہوں نے حکمرانوں کے جبر سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے، حسینہ نے شاید اسے بھانپ لیا ہے۔ اسی لیے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اسی طرح خاندانی حکومت دوبارہ قائم کرنے کا فیصؒہ کر لیا ہے جیسا کہ یہ شک ہے کہ بابائے قوم شیخ مجیب الرحمٰن اپنی بیٹی کے معاملے میں کر رہے تھے۔
آج انکے فرزند طاقتور ترین شخص ہیں اگرچہ وہ برائے نام امریکہ میں رہتے ہیں۔ موصوفہ نے انہیں تکنیکی میدان میں سرکاری عہدہ بھی دے رکھا ہے اور انہیں اسکی تنخواہ ملتی ہے۔ اس سے بلاشبہ خاندانی اقتدار کی بو آتی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ آنجہانی اندرا گاندھہ، راہل گاندھی خاندانی حکومت کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
فوج جو ملک کا طاقتور طبقہ ہے فائدہ اٹھا رہی ہے کیونکہ یہ کسی سیاسی جماعت سے زیادہ مقبول ہے۔ حسینہ نے فوجی افسران کو خوش کرنے اور اپنا فرفدار بنائے رکھنے کے لیے انہیں بہترین مراعات اور تنخواہیں دی ہیں۔
میں نے ایک معروف ایڈیٹر سے پوچھا کہ عوام بغاوت کر کے مسلح افواج کو ہٹا کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان تصادم ہو جانے کی صورت میں اسکا کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال ایسی ہی ہو گی کہ کڑھائی میں سے نکلے تو آگ میں گرے۔ ہو سکتا ہے کہ جماعت کے منضبط بنیاد پرست فتح مند ہو جائیں۔ یہی خیال اعتدال پسندوں کو بھی روکتا ہے جو تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس سے اس خیال کو بھی تقویت ملتی ہے کہ بنگلہ دیش کو سابقہ صورت حال کو کیوں نہیں چھیڑنا چاہیے۔
کلدیپ نائر
بہ شکریہ روزنامہ ’’راشٹریا سحارا 
Bangladesh Past and Future

مکلی میں چند مشہور مقابر…..

مقبرہ جانی بیگ اور مقبرہ غازی بیگ:جانی بیگ، ٹھٹھہ کا آخری خود مختار فرمانروا تھا اس نے شہنشاہ اکبر کے جرنیل کا بہت مردانہ وار مقابلہ کیا جو سندھ پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن وہ ناکام رہا بعد میں اس نے اطاعت قبول کرلی لہٰذا اسے بطور صوبیدار ٹھٹھہ بحال کر دیا گیا۔ وہ 1599ء میں فوت ہوا اور اس کا بیٹا غازی بیگ اس کا جانشین بنا اور صوبہ قندھار کا صوبیدار بھی مقرر کیا گیا۔ وہ 1611-12ء میں قتل ہوا۔ 
باپ اور بیٹے دونوں کی میتیں اس مقبرے میں 1613ء میں دفن کی گئیں۔ یہ ایک اونچی کرسی کے احاطہ میں ایستادہ ہے کرسی پتھر کی ہے لیکن اوپر کی عمارت مستطیل شدہ نیلی اینٹوں کی ہے۔ پتھر کے کام میں بعض خوبصورت نقاشی کے نمونے اور کتبے ہیں۔ مقبرہ نواب مرزا عیسیٰ ترجمان: یہ معزز انسان پہلے ترخان فرمانروا کا ہم نام تھا اور اسے شہنشاہ جہانگیر نے 1627ء میں جنوبی سندھ کا گورنر مقرر کیا اس نے اسی سال اپنا مقبرہ بنانا شروع کر دیا یہ 1644ء میں مکمل ہوا مقبرہ بحیثیت مجموعی پہاڑی پر سب سے زیادہ پر جلال ہے یہ ایک وسیع احاطہ میں ایستادہ ہے اور خود 70 مربع فٹ ہے پورا مقبرہ پیلے رنگ کے پتھر سے بنا ہے جس پر بہت دیدہ زیبی اور خوبصورتی سے نقاشی کی گئی ہے۔ گنبد باہر کی طرف سادہ اور سفید ہے۔ نواب مرزا طغرل بیگ:کلان کوٹ کسی وقت طغرل آباد کہلاتا تھا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کوئی مشہور کمانڈر تھا اس کا مقبرہ قدرے انحطاط میں ہے لیکن کچھ عرصہ قبل اسے مزید نقصان سے محفوظ کر دیا گیا ہے یہ قریباً سارا ہی پتھر کا ہے اس کا گنبد یا چتر پتھر کے بارہ منقش ستونوں پر ایستادہ ہے۔ 
مقبرہ دیوان مشروفہ خان: یہ مذکورہ بالا دو سفید گنبد کے مقبروں کا تضاد ہے کیونکہ اس کا گنبد باہر کی طرف نفیس ترین سرخ اینٹوں کا بنا ہوا ہے جن میں نیلی سبز مینار کاری کی قطاریں عجیب منظر پیش کرتی ہیں یہ ایک بڑے صحن میں ایک چبوترے پر ایستادہ ہے دیوان ایک ارغون تھا اور دلی سے مقرر شدہ ٹھٹھہ کے وزیر کا گورنر تھا اس کا مقبرہ اس کی زندگی میں 1638ء میں تعمیر کیا گیا۔ مقبرہ نواب امیر خلیل خان: یہ 1572ء اور 1558ء کے درمیان کہیں تعمیر ہوا اس پر ایک موثر اور بے نظیر کتبہ ہے جو بڑی بڑی گاڑھی نیلی ٹائیلوں کی ایک چوڑی پٹی پر سفید عربی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ مقبرہ عیسیٰ ترخان: یہ سندھ کا پہلا ترخان فرمانروا تھا اور اس کا مقبرہ 1573ء میں تعمیر شدہ بتایا جاتا ہے یہ متعدد چھوٹے چھوٹے مقابر کے ساتھ ایک بڑے مربع احاطے میں ایستادہ ہے۔
 جس کے اندر چھوٹے چھوٹے احاطے ہیں سب پتھر کے بنے ہوئے ہیں اور سب پر نقاشی، کندہ کاری اور کہیں کہیں برمائی بھی کی گئی ہے۔ مقبرہ جام نظام الدین:یہ پہاڑی پر سب سے پرانا مقبرہ ہے اور واضح تاریخی دلچسپی کا حامل ہے یہ 1508ء میں بنایا گیا جام نظام الدین سمہ جاموں میں آخری سے پہلا فرمانروا تھا اس کا مقبرہ ایک مربع عمارت ہے غیر مسقف اور پورا پتھر سے بنا ہوا۔ دیوار میں دو ملحقہ پتھر بھی کبھی کبھار مختلف چوڑائیوں کے ہیں اور ان پر نمونے بھی غیر مشابہ ہیں ایک ملحقہ مزار جو یقینا بعد کا ہے اندرونی طور پر فیصل شدہ ٹائیلوں سے سجایا گیا ہے۔
  پاکستان کے آثارِ قدیمہ ٭
شیخ نوید اسلم

پاکستان: بزرگ افراد کے لئے بدترین ملک…..

جہانزیب ‘والدین کی اکلوتی اولاد ، مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہونے کے باوجود بڑے لاڈ پیار سے پلا ۔بچپن سے کب لڑکپن اور پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، جہانزیب تو کیا اس کے والدین کو بھی خبر نہ ہوئی ۔والد صاحب اب بیگم کے ساتھ ، ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔خیر سے جہانزیب بھی اچھی نوکری پر اپنے قدم جما چکا ہے۔ اب والدین خصوصاً والدہ کو اپنے بیٹے کے لئے، ایک عدد دلہن درکار ہے۔ دلہن کی تلاش کے بعد‘ شادی دھوم دھام سے کر دی جاتی ہے۔ کوئی ایک آدھ سال اچھا گزر ہی جاتا ہے پھر گھر میں وہی روایتی،نوک جھونک شروع ہو جاتی ہے۔ نوک جھونک،

لڑائی جھگڑے کا روپ دھارنے کے بعد، نفرت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

 والدین سے بدسلوکیاں شروع ہو جاتی ہے۔ ماں بیچاری عارضہ قلب سے دنیا فانی سے کوچ کر جاتی ہے جبکہ والد کو جہانزیب اولڈ ہومز چھوڑ آتا ہے۔ یہ واقعہ مجھے آج لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ میری نظروں سے ایک رپورٹ گزری جس میں پاکستان کو بزرگ افراد کے حوالے سے چھٹا بد ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔لیجئے ہمارے لئے ایک اور اعزاز۔ گلوبل ایچ واچ انڈیکس 2014 ء کے مطابق بزرگ افراد کے لیے‘ بدترین ملک ایک مرتبہ پھر افغانستان کو قرار دیا گیا ہے جبکہ پاکستان اس سلسلے میں چھٹا بدترین ملک ہے جبکہ بہترین ملک ناروے قرار پایا ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2050 ء تک مشرقی یورپ کے قریباً تمام ممالک کی 30 فیصد آبادی‘ بزرگ افراد پر مشتمل ہوگی۔ یہ انڈیکس ضعیف افراد کے معاشی اور معاشرتی حالات کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے ۔ بزرگوں کے لیے بہترین ملک کے طور پر‘ ناروے نے اپنے ہمسایہ

ملک‘ سویڈن کی جگہ لی ہے جو اس سال دوسرے نمبر پر رہا ہے ۔

 تیسرے نمبر پر سوئٹزرلینڈ‘چوتھے پر کینیڈا اور پانچویں پر جرمنی ہے ۔اس فہرست میں شامل دس بہترین ممالک میں سے چھ مغربی یورپ‘دو شمالی امریکہ اور ایک ایک ایشیا اور آسٹریلیا کے براعظموں میں واقع ہیں۔اس رپورٹ میںکل96 ممالک کو آمدن کے تحفظ‘ صحتِ عامہ‘ صلاحیت و قابلیت اور معاشرتی کردار کی بنیاد پر جانچا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق بزرگ افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے حکومتوں کے ساتھ ساتھ‘ عوام کو بھی اپنے بزرگ افراد کے بارے میں اندازِ فکر تبدیل کرنے اور انہیں ٹائم دینے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان جیسا ملک ‘جہاں پہلے ہی غربت نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہوں اور 58 فیصد آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہو۔ صحت کی سہولیات ایسی ہوں کہ 32 فیصد بچوں کا وزن ‘پیدائش کے وقت اتنہائی کم ہوتا ہو اور ان بچوں کی اکثریت پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی‘ موت کی آغوش میں چلی جاتی ہو۔ 

عالمی ادارہ صحت کو بھی اس صورت حال پر تشویش لاحق ہو۔ پولیو‘ گھمبیر مسئلہ بن چکا ہو۔ اوپر سے ایک اوررپورٹ میں‘ پاکستان کو بزرگ افراد کے حوالے سے چھٹا بد ترین ملک قرار دینا‘ کوئی نیک شگون نہیں۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیںجہانزیب جیسے کردار ‘ ہر گھر میں تو نہیں پائے جاتے۔اگر ایسا ہے تو ہمیں فوری طور پر اپنی اصلاح کرنا ہو گی تاکہ ہم ملک و قوم کی مزید بدنامی کا باعث نہ بنیں۔  ٭

جماعت اسلامی کا ملک گیر اجتماع ۔ سیا سی جماعتیں سبق سیکھیں……

جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہونگے جماعت اسلامی کا ملک گیر اجتماع مینار پاکستان میں شروع ہو کر ختم ہو چکا ہو گا۔ اس سلسلے میں سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم نے جو معلومات فراہم کیں ان کے مطابق اجتماع میں اڑھائی لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنی شرکت کی اطلاع دی ہے۔ اسکے علاوہ کچھ مقامی لوگ اور وہ لوگ بھی اجتماع میں شامل ہوئے جن کی کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں ہے۔ اس طرح جماعت کے ہیڈ کوارٹر منصورہ نے تقریبٍاًٍتین لاکھ کے قریب اپنے ارکان کی میزبانی کے فرائض ادا کئے۔ پھر ایک نہیں تین دن تک کھانے پینے اور رہائش کے اخراجات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 
بہر حال جماعت چونکہ ابتدا ہی سے ایک منظم جماعت ہے اس لئے سیکریٹری اطلاعات پر عزم تھے کہ پریشانی کے باوجود کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہے ۔ جس چیز کا عزم کر لیا جائے یا پھر جو سر پر پڑ جائے وہ ہو کر ہی رہتی ہے۔جماعت یہ سہ روزہ اجتماع دراصل اپنی سماجی اور سیاسی قوت کا اندازہ لگانے کے لئے منعقد کرتی ہے۔اس سے دوسری جماعتوں کو بھی اسکی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔جماعت اسلامی بڑے سے بڑا اجتماع کرنے میں خاص شہرت رکھتی ہے کبھی ان کے جلسے ن لیگ کے سرکاری جلسوںاور تحریک انصاف کے لا ابالی جلسوںسے بھی بڑے ہوا کرتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو جو اپنے زمانے میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین تھے اور جلسے جلوس کے ماسٹر سمجھے جاتے تھے وہ بھی اسوقت کے امیرجماعت میاں طفیل کے جلسے دیکھ کر ششدر رہ جاتے تھے۔ 
میاں طفیل کو جلسے ، جلوسوں سے زیادہ رغبت نہیں تھی مگرقاضی حسین احمد نے ضیاءالحق کے آخری دور اور بے نظیر بھٹو کے ابتدائی دور میں اتنے بڑے بڑے جلسے کئے کہ وہ خود حیران رہ جایا کرتے تھے۔ایک بار ان سے ایک سینئراخبار نویس نے پوچھا کہ قاضی صاحب آپکے جلسوں میں لوگوں کا جم غفیر ہوتا ہے مگر جب بیلٹ باکس کھلتے ہیں تو اس میں سے آپکے ووٹ نہیں نکلتے، آخر اسکی کیا وجہ ہے؟ قاضی صاحب نے سادگی سے جواب دیا یہی بات تو ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔لوگ ہمارے جلسوں میں آتے ہیں تو پھر ووٹ کیوں نہیں دیتے۔ 
از راہ مذاق انہیں بتایا کہ لوگ آپ سے ڈرتے ہیں کہ آپ آ گئے تو سب کو داڑھیاں رکھا دیں گے، خواتین کو شٹل کاک برقعے اوڑھا دیں گے، شرابیوں کو اسی اسی کوڑے ماریں گے، زانیوںکو سنگسار کریں گے، جواریوں کو جیل بھجوا ئیں گے۔ شریعت نافذ ہو گی تو سزائیںتو کڑی ہوں گی۔ اس پر قاضی صاحب مسکرائے، کہنے لگے جانتا ہوں ملک میں گناہگاروں کی افراط ہے۔
مگر شریعت کے نفاذ کے لئے داڑھی اور شٹل کاک برقعے ہماری اولین ترجیح نہیں ۔دیگر جرائم کےلئے اسلامی قوانین پر عمل تو ہو گا مگر لوگ شراب نوشی اور بدکاری جیسے جرائم سرعام کیوں کرتے ہیں اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تو سزا تو ہو گی سزائیں تو ابھی بھی مقرر ہیں مگر ان پر عمل در آمد نہیں ہوتا اگر لوگ اس وجہ سے ووٹ نہیں دیتے کہ ہم گناہ گار کو سزا دےں گے تو پھر انکی مرضی نہ دیں ،سزا تو ملے گی ۔ قاضی حسین احمد کا دور جو1987سے شروع ہو کر2008میں ختم ہوایہ جماعت اسلامی کی تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز دور تھا۔ 
یہ میں نہیں کہہ رہا اس وقت کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ان کی اہلیہ اور صاحبزادی بھی خواتین کے حلقوں میں بڑی مقبول رہیںاور منصورہ اور پشاور میں اکثر محافل ِ میلاد اور دینی اجتماعات کا انعقاد کرتیں نظر آتیں ۔
دیکھا جائے تو جماعت اسلامی ، قائداعظم کی مسلم لیگ کے بعد برصغیر میں دوسری پرانی اوربڑی جماعت تھی جسکی بنیاد جیّدعالم ِ دین ، عالمی مفکر اور تفہیم ِ القرآن کے خالق مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے26اگست 1941کواسلامیہ پارک لاہور میں رکھی ۔اس لحاظ سے جماعت کو قائم ہوئے73برس ہو چکے ہیں ۔پاکستان میں اس وقت کوئی بھی مذہبی یاسیاسی جماعت اتنی لمبی تاریخ نہیں رکھتی۔ قائداعظم کی مسلم لیگ کے بھی قیام ِ پاکستان کے بعد بٹوارئے ہو گئے تھے اور اس وقت اسکا عملاً کوئی وجود نہیں۔ ابتداءمیں جماعت اسلامی کے کارکنوں کی تعداد صرف75تھی جو2003 میں 45لاکھ تک جا پہنچی اور اب11سال مزید گزرنے کے بعد باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ تعداد 60سے70لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہو گی جبکہ عمران خان جو اس وقت پاکستان کی دوسری بڑی جماعت ہونے کے دعویدار ہیں یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی کو گزشتہ انتخابات میں80لاکھ ووٹ ملے تھے اور اگر انتخابی دھاندلی نہ ہوتی تو یہ تعداد دوگنی ہوسکتی تھی۔
 یہ بہرحال ان کی خوش گمانی ہے تاہم انھوں نے اب تک جو جلسے کیے ان میں کہیں بھی شرکا کی تعداد لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے نہیں بڑھ سکی ۔مگر جماعت کے حالیہ اجتماع کو ہی دیکھ لیجئے مینار پاکستان اور گردونواح میں شرکا کےلئے جگہ کم پڑ گئی ہے ۔ ان اعداد وشمار کی روشنی میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے حجم کے لحاظ سے پی ٹی آئی سے بڑی جماعت نہ سہی اس کے ہم پلہ ضرور ہے۔ اور جہاں تک تنظیم کا تعلق ہے تو جیسا نظم و نسق جماعت کی صفوں میں نظر آتا ہے کوئی دوسری جماعت اس کی ہمسری نہیں کر سکتی ۔سوال پھر وہی اٹھتا ہے جو قاضی حسین احمد نے چند سال پہلے اٹھایا تھا کہ پھر ہمیں ووٹ کیوں نہیں ملتے جماعت کوبہرحال اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ 
ان کا منشور ایسا ہے اور یہ با ت غلط بھی نہیں کہ پاکستان ایسے کرپٹ معاشرے میں یہ منشور عام لوگوں سے ہضم نہیں ہوتا جس طرح بانیِ جماعت مولانا مودودی نے برطانوی راج کی مخالفت کی تھی اسی طرح جماعت اسلامی کا منشور ہمارے مروجہ طرز ِ زندگی میں فٹ نہیں ہوتا لیکن آفرین ہے کہ جماعت مسلسل جدو جہد کے راستے پر گامزن ہے۔ جماعت اسلامی کو کرش کرنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے کئی اقدامات کیے حتیٰ کہ جماعت کے ایک اہم رہنما نذیر احمد کو قتل کر دیا گیا جماعت کے کئی ارکان کو جیل بھجوایا گیا۔ اسلامی جمعیت طلبا کے کئی کارکنوں کونظر بند کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ بھٹو جانتے تھے جب بھی ٹف ہینڈ ملا جماعت کی طرف سے ہی ملے گا 1977 . میں انتخابی دھاندلیوں کے خلا ف پی این اے کی تحریک چلی تو جماعت اسلامی اس کی سر خیل تھی ۔بھٹو کے بعد جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو جماعت نے ان کا بھر پور ساتھ دیا ایک اس لئے کہ90دن میں انتخابات کا وعدہ تھا اور دو م اس لئے کے ضیا الحق صوم وصلواة کے پابند تھے لہذا یہ قیاس کیا گیا وہ قول و فعل کے بھی سچے ہونگے ۔
جماعت نے افغانستا ن میں سوویت جنگ کے دوران ضیا الحق کے جہاد کو سپورٹ کیا جماعت کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے اس جہاد میں حصّہ بھی لیا ،بعد میں قول و فعل کے تضاد کے باعث جماعت ضیا الحق سے الگ تھلگ رہی۔ پھر2002میں پرویز مشروف کے دور میں جماعت نے متحدہ مجلس عمل تشکیل دی جسمیں تما م مذہبی و سیاسی جماعتیں شامل ہوئیں ۔ایم ایم اے نے قومی اسمبلی میں 53نشستیں حاصل کیں ۔ایم ایم اے دہشت گردی کی امریکی جنگ اور پاکستان میں امریکی افواج اور ایجنسیوں کی موجودگی کے خلاف رہی اور پھر اس وقت کے امیر قاضی حسین احمد نے لال مسجد اور جامع حفصہ کے المناک واقعہ پر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا ۔قاضی حسین احمد کے بعد سید منور حسن جماعت کے امیر منتخب ہوئے وہ راسخ العقیدہ ، انتہائی ایماندار اور دیانتدار شخص ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خاص ذہن کے مالک تھے ان کے دور میں جماعت اسلامی نسبتا ً جمود کا شکار رہی ۔30مارچ 2014کو سراج الحق امیر جماعت بنے ان کے آنے سے جماعت ایک بار پھر متحرک ہوئی وہ جماعت اسلامی کو بلاشبہ عوامی جماعت بنانے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ وہ خیبر پختونخوا کی سینئیر وزارت سے استعفیٰ دے کر اپنی جماعت کو فعال کر نے کےلئے واپس آئے ہیں اس لیے بجا طور پر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ جماعت کو اعتدال پسندی کی طرف لائیں گے اور معاملات کو ان کی سپرٹ کے مطابق چلائیں گے انھوں نے دھرنے والوں اور حکومت کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر نے کی بھی کوشش کی اب بھی وہ دونوں فریقوں کے لئے غیر متنازعہ ہیں اس لئے کسی بھی وقت ان سے کوئی بڑا اقدام متوقع ہے ممکن ہے کہ حالیہ اجتماع میں جماعت کو فعال اور متحرک کرنے کےلئے چند اہم فیصلے کیے ہوں لیکن ایک بات ان سے عقیدت رکھنے والوں کو کھلتی ہے کہ وہ اپنی تقاریر میں بعض اوقات نیلسن منڈیلااور ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ان کے ہیرو ہوں جماعت اسلامی کے پیرو کار اور سراج الحق سے عقیدت رکھنے والے لوگ ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ نبی پاک ﷺ کے ارشادات کو فالو کریں گے اور قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق پاکستان کو ایک رفاہی اور فلاحی مملکت بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے
 ۔۔۔ انشاءاللہ ۔۔۔
محمد اکرم چوہدری

چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر…..

وہ لوگ جو آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت میں عوام کے خوابوں کو تعبیر مل سکتی ہے‘ ان کی زندگی سنور سکتی ہے‘ وہ خوشحال ہو سکتے ہیں‘ انھیں دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت‘ ریاستہائے متحدہ امریکا کے 2014ء میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں خرچ ہونے والے سرمائے اور سرمایہ فراہم کرنے والے افراد کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے۔
یہ امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے الیکشن تھے جن پر چار ارب ڈالر لاگت آئی۔ سیاست دانوں کو خریدنے اور ان کے الیکشن پر سرمایہ لگانے کی دوڑ تو پہلے ہی سے تھی لیکن 2010ء میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ کوئی بھی سرمایہ دار کسی بھی سیاسی پارٹی یا امیدوار کے الیکشن میں پیسہ دے سکتا ہے اور وہ اسے خفیہ بھی رکھ سکتا ہے اور حکومت کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پارٹیوں کے فنڈز اور اخراجات کے معاملے میں کسی بھی قسم کی کوئی تحقیق کرنے کی مجاز ہو۔
یہ فیصلہ امریکی تنظیم Citizen United کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر کیا گیا جسے ڈیوڈ بوسی (David Bossie) نے داخل کیا تھا۔ فیصلے کے بعد ہونے والے الیکشن سرمائے کی بہتات اور اراکین کانگریس کی خرید و فروخت کا بازار بن گئے۔ دنیا کے دس بڑے امیر آدمیوں میں سے دو بھائی Charls (چارلس) اور David (ڈیوڈ) ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو کوچ (Koch) برادران کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی پارٹی کے فنڈ میں 30 کروڑ ڈالر دیے اور اپنی پارٹی کے الیکشن کی مہم میں میڈیا کو 44 ہزار اشتہارات دیے۔
میڈیا اور سرمائے کے اس گٹھ جوڑ نے سینیٹ پر ریپبلکن پارٹی کا اقتدار مستحکم کر دیا۔ یہ دونوں بھائی تیل کی صنعت سے وابستہ ہیں اور ان کا سب سے بڑا مفاد اس وقت کینیڈا اور امریکا کے درمیان تیل کی ترسیل کی وہ پائپ لائن ہے جسے AL پائپ لائن کہتے ہیں۔ اس پائپ لائن پر بہت سے ماحولیاتی اعتراضات ہوئے اور بارک اوباما نے جنوری 2012ء میں اس پائپ لائن کے پراجیکٹ کو ملتوی کر دیا تھا۔
کانگریس میں ریپبلکن کی اکثریت کے بعد اب جمہوری طور پر وہ تمام اعتراضات دم توڑ جائیں گے اور اگر یہ پائپ لائن بن گئی تو دونوں بھائیوں کی آمدنی میں تیس ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا۔ کیسا سستا سودا ہے یہ جمہوریت اور جمہوری نظام۔ 30 کروڑ ڈالر خرچ کرو‘ شاندار میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈہ کرو‘ لوگوں کو صرف چند گھنٹوں کے لیے بے وقوف بنائو کہ تم ہی اصل حاکم ہو اور تیس ارب ڈالر کمائو یعنی 30 گنا زیادہ منافع۔
اسی جمہوریت اور جمہوری نظام کا ایک اور مکروہ چہرہ امریکی عوام سے کیا گیا تازہ ترین سروے ہے۔ یہ سروے ثابت کرتا ہے کہ کس طرح آپ لوگوں کے ذہنوں کو یرغمال بنا کر اکثریت کو قائل کرسکتے ہو کہ ظلم اور بربریت جائز ہے یعنی اکثریت اگر معصوم لوگوں کو قتل کرنا جائز قرار دے تو پھر چونکہ یہ ایک جمہوری فیصلہ ہے‘ اس لیے اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہ سروے Gallup Daily Tracking نے کیا ہے۔
اس کے مطابق %65 امریکی عوام نے کہا ہے کہ امریکا ان ملکوں پر ڈرون حملے کرے جہاں مشتبہ دہشت گرد موجود ہیں جب کہ 41 فیصد نے کہا کہ وہ ملک جہاں ایسے دہشت گرد بستے ہیں جو امریکی شہری ہیں تو ان پر بھی ڈرون گرائے جائیں۔ امریکا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کے حق میں 25 فیصد لوگ تھے جب کہ 13 فیصد یہاں تک حامی تھے کہ اگر کوئی مشتبہ دہشت گرد امریکی ہے اور امریکا میں ہی رہتا ہے تو اس پر بھی ڈرون سے حملہ کیا جائے۔ یہ ہے وہ نفسیات جو امریکی عوام کی بنا دی گئی ہے۔ یہ نفسیات کس نے بنائی ہے۔
یہ سروے پارٹیوں کے لیڈران کے بارے میں بتاتا ہے کہ ریپبلکن کے 79 فیصد ممبران ڈرون حملوں کے حق میں ہیں جب کہ ڈیمو کریٹس کے 55 فیصد ممبران کسی بھی ملک میں کسی بھی دہشت گرد کے خلاف ڈرون حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ حمایت کیسے پیدا ہوئی۔ یہ اجتماعی سوچ کس طرح پیدا کی گئی کہ کسی کو اس بات کا اندازہ تک نہیں کہ ان حملوں میں نوے فیصد سے زیادہ معصوم عورتیں‘ مرد اور بچے لقمہ اجل بنتے ہیں۔ ایف بی آئی (FBI) کے اسپیشل ایجنٹ کولن رائولی (Coleen Rowley) نے موجودہ امریکی جمہوری نظام کی اس شدت پسندی کا ایک شاندار نفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔
اس کا مضمون اس عنوان سے ہے کہ ’’امریکی سر قلم کرنے سے نفرت کرتے ہیں جب کہ ڈرون حملوں سے محبت کیوں؟‘‘۔ وہ حیران ہے کہ فوجی ماہرین یہ تصور کرتے ہیں کہ ڈرون حملوں سے شدت پسندی میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ سیاسی لیڈران اور جمہوریت کے نظام کی اساس‘ اس کا میڈیا عوام کو قائل کر چکا ہے کہ ڈرون حملے دنیا میں امن قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ وہ اس کی چار وجوہات بیان کرتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس جمہوری سیاست نے امریکی عوام کو یہ سکھایا ہے کہ تم اسقدر برتر اور اعلیٰ ہو کہ تم ایک جانب اور پوری انسانیت دوسری جانب۔ تمہارا ایک آدمی بھی مارا جائے تو دوسروں کے ایک لاکھ بھی مارکر انتقام لیا جا سکتا ہے۔ یہ دنیا کی بدترین نسل پرستی ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ سر قلم کرنے کی ویڈیو امریکی میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچائی جاتی ہے اور عوام کو ایک خوف کا شکار کیا جاتا ہے جب کہ آج تک کسی ڈرون حملے میں مرنے والے بچوں‘ بوڑھوں اور عورتوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے جسم دنیا اور خصوصاً امریکا کے کسی بھی میڈیا پر نہیں دکھائے گئے۔ اگر یہ ایک دفعہ دکھا دیے جائیں تو امریکی عوام ایک نفسیاتی شرمندگی کا شکار ہو جائیں۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے عملی طور پر ڈرون کو کنٹرول کیا ہے ان میں سے کئی خود کشی کی کوشش کر چکے ہیں یا پھر نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
تیسری وجہ وہ یہ بتاتا ہے کہ ڈرون حملوں کی حمایت امریکا کی امن کمیٹی ’’Peace Committee‘‘ کرتی ہے۔ اس کے ارکان ایک مقصد کے تحت برین واش کیے ہوئے ہیں‘ ان کا علم واجبی اور محدود ہے اور انھیں اندازہ تک نہیں کہ امریکا کی طرف سے لڑی جانے والی جنگوں کے نتیجے میں القاعدہ‘ طالبان اور اب داعش جیسی تنظیمیں وجود میں آئی ہیں‘ جو ان جنگوں میں ہونے والے معصوم شہریوں کے قتل عام کا ردعمل ہیں۔ چوتھی اور اہم ترین وجہ یہ ہے کہ امریکا خواہ ویت نام میں جائے یا عراق اور افغانستان میں‘ اس کے اسلحہ ساز فیکٹریوں کا کاروبار چمکنے لگتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں پر قابض ہو کر وہاں کے وسائل کو استعمال کرنے کے لیے کمپنیاں وہاں جاتی ہیں۔
اس سے امریکی معیشت میں بہتری آتی ہے‘ لوگوں کو نئی نوکریاں ملتی ہیں۔ عام امریکی کو علم تک نہیں ہوتا کہ امریکا کسقدر مقروض ہوا۔ اسے تو روز بروز بڑھتی ہوئی تنخواہ اور نئی نئی نوکریوں سے غرض ہوتی ہے۔ سرمایہ دار دن دوگنی اور رات چوگنی دولت بناتے ہیں اور پھر اس دولت کو پارٹیوں کو فنڈ دینے میں لگا کر پوری جمہوری سیاست کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ دنیا کی سب سے کامیاب جمہوریت یوں چند سرمایہ داروں کے اشارے پر ناچتی اور انسانی لاشوں سے کاروبار سیاست و معیشت چمکاتی ہے۔
اسی جمہوری نظام کا تسلسل ہمارے پڑوس میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں نظر آتا ہے۔ اس تسلسل نے وہاں امبانی، متل‘ ٹاٹا اور برلا تو پیدا کیے لیکن عام آدمی کو بیت الخلا جیسی ضرورت مہیا نہ کر سکی۔ نریندر مودی کے الیکشن کارپوریٹ سرمائے کا کھلا اظہار تھا۔ اس سرمائے کے شکنجے میں ویسے ہی نعرے پلتے ہیں ایک بھارتی مرے تو ہزار مخالف مارو‘ سبق سکھائو۔ کیا کسی کو پاکستان کی سیاست میں سرمائے کی بہتات سے آنے والے دنوں کا چہرہ نظر نہیں آ رہا۔ ایک بدترین متعصب‘ خونریز اور خون چوسنے والا کریہہ چہرہ۔ بقول اقبال۔
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

فلسطینیوں پر مظالم کب ختم ہوں گے؟….

ایک امریکی صحافی نے یروشیلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں پیش آنے والے حالیہ واقعات ،جن کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”اسرائیل میں تشدد کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟”اب ایک امریکی صحافی ہی اس طرح کا سوال کرسکتا ہے۔
کوئی بھی اور انصاف پسند اگر اس صورت حال پر سوال پوچھتا تو وہ کچھ یوں ہوتا:”فلسطینیوں پر مظالم کا کب خاتمہ ہوگا؟”
گذشتہ چند سال کے دوران نیتن یاہو کی حکومت انسانیت کے تمام بنیادی اصول وقوانین کو بھلا بیٹھی ہے اور وہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں عوام پر بدترین جبر وتشدد کی پالیسی کو بروئے کار لارہی ہے۔
نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی قیادت میں اسرائیلی حکومت نے فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے،زندہ جلایا ہے،شہریوں پر تشدد کیا ہے اور فلسطینی عوام سے غیر انسانی سلوک کیا ہے۔اس بدترین مایوسی کے عالم میں لوگ تشدد کی جانب مائل ہوئے ہیں۔ایک یہودی صومعے پر حالیہ حملہ فلسطینیوں کی اسی مایوسی کا مظہر تھا اور انھوں نے خود پر اور اپنے بچوں پر سفاکانہ حملوں کا بدلہ چکانے کے لیے یہ انتقامی اقدام کیا تھا۔
اب یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ تشدد کون چاہتا ہے؟یہ نیتن یاہو کی حکومت ہے جو بڑے منظم انداز میں مقبوضہ سرزمین کے عوام کو مایوسی میں کیے جانے والے اقدامات پر مجبور کررہی ہے تا کہ وہ بآسانی بیوقوف بنائے جانے والے امریکی عوام کو یہ باور کراسکے کہ اسرائیل جو بھی اقدامات کررہا ہے ،وہ دراصل اپنے دفاع میں کررہا ہے۔
نیتن یاہو یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ایپک اور دوسری اسرائیلی نواز لابیاں مشرق وسطیٰ میں امریکا کی خارجہ پالیسی کا تعیّن کرتی ہیں۔وہ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ امریکی ارکان کانگریس کی اکثریت کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور وہ کوئی ایک لفظ بھی ادھر سے ادھر نہیں کہتے ہیں۔وہی دراصل ان کے حامی اور مؤید ہوتے ہیں۔
یہ ایک انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ امریکا ایسی طاقت ایک روگ ریاست اسرائِیل کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔اس ریاست نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں کو پامال کیا ہے اور امریکا کی مدد سے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں جبرواستبداد کو پھیلایا ہے۔اسرائیل کو اس جبرواستبداد سے رکوانے کے لیے کوئی بین الاقوامی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔
عربوں کی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کی کوششیں اب پس منظر میں چلی گئی ہیں،اسرائیلیوں نے تاریخ کو گہنانے کی کوشش کی ہے۔ان کے پاس 2002ء میں سعودی عرب کے اس وقت ولی عہد اور اب شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے پیش کردہ عرب امن منصوبے کے مطابق عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا بہترین موقع تھا۔
بدقسمتی سے انھوں نے اس منصوبے کو پیش کیے جانے کے اگلے روز ہی رام اللہ میں مرحوم یاسرعرفات کے ہیڈکوارٹرز پر حملے سے مسترد کردیا تھا۔اب امن عمل مردہ ہوچکا ہے۔نیتن یاہو بڑے منظم انداز میں اور خاموشی سے سیکڑوں فلسطینیوں کو قتل کررہے ہیں۔
چند ایک اسرائیلی مرتے ہیں تو فاکس اور دوسرے ٹیلی ویژن چینل اُلو کی طرح واویلا شروع کردیتے ہیں:”ایک اسرائیلی ماراگیا”۔ہم ایک طویل عرصے سے یہی شوروغوغا سن رہے ہیں مگر امریکا نے ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے ہیں۔
امریکی حکومت اپنے دعوے کے بموجب کوئی دیانت دار ثالث ثابت نہیں ہوئی ہے۔اس صورت حال میں فلسطینیوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا ہے کہ وہ جوابی اقدام کریں اور جبرواستبداد کے حامل قابضین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔وہی قابضین جو ان کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ان کے وجود کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن فلسطینی موجود رہیں گے۔انھیں ہراساں کرنے کے حربے اور فوجی کارروائیاں بزدل نہیں بناسکتی ہیں یا اسرائیلی ناانصافیوں اور جبرواستبداد کے خاتمے کے لیے ان کی آوازوں کو خاموش نہیں کراسکتی ہیں۔
خالد المعینا